Hazrat Ali aur Ahl-e-Shaam ke Naza ki Wujoohaat

حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اہل شام کے نزاع کی وجوہ

        جنگِ جمل کے المناک  نتیجے، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کی تحریک کے خاتمے اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے صلح وصفائی نے اہل شام کی رائے پر کوئی اثر نہیں ڈالا تھا۔ وہاں غلط رنگ میں خبروں اور افواہوں کا زور تھا۔ کچھ لوگ سمجھ رہے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سرکش لوگوں کے ہاتھوں میں یرغمال اور خود کچھ کرنے سے عاجز ہیں۔ کچھ لوگ اس سے بھی کہیں بڑھ کر یہ یقین کر چکے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں ملوث اور مجرموں کے پشت پناہ ہیں اور ان کی خلافت بھی اسی شرپسند گروہ کے بل بوتے پر قائم ہوئی ہے۔


اہل شام کے سامنے جھوٹی گواہیاں:

        شام کی فضا کو اس قدر ہیجان انگیز بنانے میں شرپسندوں کا بہت بڑا ہاتھ تھا، جنہوں نے قسمیں کھا کر وہاں بے سروپا باتیں پھیلائیں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں:

        "کچھ لوگوں نے اہل شام کے سامنے جھوٹی گواہیاں دیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں شریک ہیں۔ اسی چیز نے اہل شام کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی  بیعت ترک کرنے پر آمادہ کیا، کیوں کہ وہ یہ یقین کر چکے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ظالم ہیں اور وہ قتلِ عثمان میں شریک تھے اور انہوں نے قاتلوں کو پناہ دی ہے کیوں کہ وہ اس قتل میں مجرموں کے ساتھ تھے۔"

        اگرچہ ان شبہات کے برعکس حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک عادل اور بااختیار حکمران اور قتلِ عثمان رضی اللہ عنہ سے بالکل بری تھے۔ مگر پیش آمدہ حالات میں اہل شام کا غلط فہمی میں مبتلا ہو جانا کوئی عجیب نہ تھا جس کے تین بڑے اسباب تھے:

        شہادت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی غیر معمولی الم انگیزی نے ماحول میں جذباتی تلاطم  پیدا کر دیا تھا، لازمی بات ہے کہ ایسے میں بعض سنجیدہ حقائق نگاہوں سے اوجھل ہو جاتے ہیں اور بعض شبہات یقین کا درجہ حاصل کر لیتے ہیں۔

        اہل شام اس مقام سے بہت دور تھے جہاں فتنہ برپا ہوا تھا۔ موجودہ دور میں جبکہ ہر قسم کے ذرائع ابلاغ میسر ہیں اور مغرب میں بیٹھا شخص مشرق کے حالات براہ راست اسکرین پر دیکھ لیتا ہے، پھر بھی جائے واردات پر موجودگی اور عدم موجودگی کا فرق بہر حال رہتا ہے۔ حتیٰ کہ ایک ہی شہر کے کسی محلے میں پیش آنے والے کسی حادثے کو جس گہرائی سے اہل محلہ جانتے اور سمجھتے ہیں، دوسرے محلے والا اس سے قاصر ہوتا ہے۔

        پس مدینہ میں برپا ہونے والی شورش اور عراق میں ہونے والے کشت وخون کے متعلق اہل شام کا کسی غلط فہمی میں پڑنا قطعاً بعید نہ تھا اور ایسا ہی ہوا۔

        شہادت عثمان اور جنگ جمل سے فائدہ اٹھا کر شرپسند عناصر نے شامی عوام میں عصبیت کو ابھار دیا تھا۔ اگرچہ وہاں موجود صحابہ کی نیک نیتی شک وشبہے سے بالاتر ہے مگر عوام میں تعصب ابھر آنے کا انکار بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اس صورت حال نے افہام وتفہیم کا راستہ بند کر دیا اور جنگ ناگزیر ہوگئی۔

اہل شام کا موقف:

        اہل شام حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل عثمان میں ملوث یا قاتلین عثمان کا پشت  پناہ تصور کرنے کی وجہ سے، ان سے  بیعت کو مسترد کر چکے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب کا انکار نہیں کرتے تھے مگر اس تحریک کے سربراہ کی حیثیت سے ان کا یہ مطالبہ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خونِ عثمان سے برأت ثابت کرنے کے لیے قاتلین عثمان کے گروہ سے قصاص لیں یا انہیں اہل شام کے حوالے کر دیں، اس کے بغیر انہیں اہل شام کا اعتماد حاصل ہو سکتا ہے نہ ہی ان کی خلافت منعقد سمجھی جا سکتی ہے، بلکہ ان کی حیثیت اس گروہ کے سربراہ کی رہے گی جس پر سابق خلیفہ کو شہید کرنے کا الزام ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا مطالبہ تھا کہ پہلے حصول اعتماد کی لازمی شرط "قصاص عثمان" کو پورا کیا جائے، پھر ہمیں بیعت کی دعوت دی جائے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ برملا فرمایا کرتے تھے:

        "میری حضرت علی سے لڑائی صرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے معاملے پر ہے۔"

        مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں اہل شام کے خدشات بے بنیاد تھے اور معاملے کا حل یہ تھا کہ اہل شام ان سے  بیعت کر کے خلافت کو مضبوط کرتے، ان کی اجتہادی رائے پر غور کرنے کے مسئلے کی تنقیح وتحقیق کا عمل مکمل کرتے جس کے بعد شرعی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے تمام مسائل پر قابو پانا آسان ہو جاتا؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں خلفائے راشدین کی ممتاز ترین صفات کو گنواتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نمایاں ترین خوبی "وَأَقْضَاهُمْ عَلِيٌّ" بیان فرمائی تھی یعنی قضا کے معاملات کو سمجھنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ تمام صحابہ میں سب سے اعلیٰ ہیں، پس وہ اس قابل تھے کہ ان کے اجتہاد کو قبول کیا جاتا۔

         یہی وجہ ہے کہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی  بیعت میں اہل شام کے پس وپیش کو غلط قرار دیتے ہوئے تحریر فرمایا ہے:

        "بلکہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قاتلین عثمان پر قدرت ہوتی، اور فرض کر لیا جائے کہ انہوں نے اس واجب کو چاہے کسی تاویل کی وجہ سے، یا گناہ کرتے ہوئے ترک کیا ہوا تھا، جب بھی یہ صورتِ حال مسلمانوں میں تفریق کا سبب نہیں ہونی چاہیے تھی، بلکہ ہر حال میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لینا، بیعت ترک کرنے کے مقابلے میں دینی مصلحت کے زیادہ مناسب، مسلمانوں کے لیے زیادہ فائدہ مند اور اللہ اور اس کے رسول کی زیادہ اطاعت والا کام ہوتا۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تم سے تین باتیں چاہتا ہے، ایک یہ کہ اس کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور یہ کہ تم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں افتراق نہ کرو۔ اور یہ کہ تم اپنے حکام کی خیر خواہی کرو۔

        صحیح حدیث میں یہ بھی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان شخص پر لازم ہے کہ وہ (حکام کی بات) سنے اور اطاعت کرے، چاہے خوشحالی ہو یا بدحالی، خوشی ہو یا ناگواری اور چاہے اس پر دوسروں کو ترجیح دی جائے، جب تک کہ اسے گناہ کا حکم نہ دیا جائے۔ جب گناہ کا حکم دیا جائے تو پھر نہ سننا ہے نہ ہی ماننا۔"

شبہات کے ازالے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی پیش کش:

        بہر کیف جب اہل شام کے شبہات دور نہ ہوئے تو ان کے ازالے کی ممکنہ کوشش کے طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جامع مسجد کوفہ کے منبر پر اعلان کیا: "اے بنو امیہ! جو چاہے مجھے حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑا کر کے قسم لے لے کہ میں نے نہ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کیا ہے، نہ اس میں شرکت کی ہے۔"

        تاہم بنو امیہ نے اس قسم پر بھی یقین نہ کیا۔

صلح کرانے کے خواہش مند حضرات:

        شام میں بھی بہت سے با رسوخ صحابہ کرام غیر جانبدار تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حتی الامکان کوشش کی کہ انہیں اپنے ساتھ ملائیں۔ چنانچہ انہوں نے اشعث بن قیس اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو جریر بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا جو غیر جانبدار طبقے میں تھے اور شام وعراق کے سرحدی علاقے قَرقیسیا میں رہائش پذیر تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وفد نے انہیں کہا: "امیر المؤمنین آپ کو سلام کہہ رہے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اللہ نے آپ کے دل میں اچھی بات ڈالی کہ آپ معاویہ رضی اللہ عنہ سے الگ ہو گئے۔ میرے نزدیک آپ کا وہی مقام ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو دیا تھا۔"

        حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے جواب فرمایا: "مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا تھا کہ میں وہاں کے لوگوں سے قتال کروں اور انہیں لا الہ الا اللہ کی دعوت دوں، یہ کہہ کر ان کی جان ومال محفوظ ہو جائے گی، اب میں کسی لا الہ الا اللہ کے قائل سے نہیں لڑوں گا۔" حضرت جریر رضی اللہ عنہ کا جواب سن کر اشعث بن قیس اور عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما واپس چلے آئے۔

        تاہم کچھ دنوں بعد حضرت جریر رضی اللہ عنہ فریقین کے مابین صلح کی بات چیت کرانے کی نیت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آگئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو بیعت کی دعوت دیتے ہوئے حضرت جریر رضی اللہ عنہ کو اپنا سفیر بنا کر شام بھیجا، مگر یہ کوشش بھی کامیاب نہ ہوئی۔

کشیدگی بڑھانے والے لوگ:

        کچھ لوگ اس دوران کشیدگی بڑھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اشتر نخعی نے حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی سفارت کے ناکام واپس آنے پر حضرت جریر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کو طعنے دیے اور خود شام جا کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بات کرنے کا عزم ظاہر کیا، اس نے کہا: "امیر المؤمنین اگر مجھے شام بھیجتے تو میں معاویہ کے سامنے گنگ نہ ہوتا، میں ان کے ہوش گم کر دیتا۔" پھر حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: "اگر امیر المؤمنین میری بات مانیں تو تم جیسے لوگوں کو اس وقت تک جیل میں قید رکھنا چاہیے جب تک یہ قضیہ حل نہیں ہو جاتا۔"

        اشتر نخعی جیسے لوگوں کی بدتمیزی سے ناراض ہو کر آخر کار حضرت جریر رضی اللہ عنہ شام چلے گئے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اگرچہ یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے فریقین کی کسی جنگ میں حصہ لیا ہو۔

ابو مسلم خولانی رحمتہ اللہ کی سفارت:

        کچھ بزرگ اب بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے کوشاں تھے، چنانچہ ابو مسلم خولانی رحمتہ اللہ ایک وفد کے ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گئے اور پوچھا:

        "آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں؟ کیا وہ آپ کے ہم مرتبہ ہیں؟"

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "بالکل نہیں، اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ بلاشبہ وہ مجھ سے افضل ہیں اور خلافت کے مجھ سے زیادہ حق دار ہیں، لیکن کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مظلومانہ حالت میں قتل کیے گئے ہیں۔ پس آپ حضرت علی سے جا کر کہیں کہ وہ قاتلین عثمان کو میرے حوالے کر دیں۔ میں ان کا تابع دار بن جاؤں گا۔"

        حضرت ابو مسلم خولانی رحمتہ اللہ کا وفد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا یہ مطالبہ لے کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے موجود شرعی دلائل اور زمینی حقائق کے پیش نظر  یہ مطالبہ ہرگز قابل قبول نہیں تھا۔ اس لیے معاملہ جوں کا توں رہا۔

ریاستی طاقت کے استعمال کا اختیار:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور شام کے دیگر صحابہ وتابعین کی نیک نیتی، حسن کردار اور اعلیٰ صلاحیتوں میں کوئی شبہ نہیں تھا، مگر شام سے آپ کے بھیجے ہوئے گورنر واپس کر دیے گئے تھے، مرکزِ خلافت کا وہاں کوئی اختیار نہیں رہا تھا۔ اس طرح اسلامی مملکت انتظامی طور پر دو لخت ہوگئی تھی۔ اس لیے تمام سفارتی کوششیں رائیگاں جانے کے بعد آخر کار حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شام کا قضیہ حل کرنے کے لیے ریاستی قوت استعمال کرنے کا فیصلہ کرنا پڑا۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے اس اختیار کی دلیل دیتے ہوئے فرماتے تھے: "اگر کوئی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت توڑتا تو ہم اس سے لڑتے اور اگر کوئی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بیعت توڑتا تو ہم اس سے بھی لڑتے۔"

        علامہ ابن حزم ظاہری فرماتے ہیں:

        "حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے قتال اس وجہ سے نہ تھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان کی بیعت سے رک گئے تھے، کیوں کہ اس بات کی ان کے لیے بھی گنجائش تھی جس کی گنجائش عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور دوسرے (بیعت نہ کرنے والے حضرات) کے لیے تھی۔ مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے قتال اس لیے تھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے احکام کو پوری سرزمینِ شام میں نافذ ہونے سے روک دیا تھا۔ حالانکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ خلیفہ تھے، جن کی اطاعت واجب تھی۔ پس (حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے قتال کے) اس قضیے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے درست تھی۔"

شام پر فوج کشی کی تیاریاں اور افواج کی ترتیب:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں ایک لشکر ترتیب دیا جو جنگ جمل میں شامل لشکر سے بہت بڑا تھا؛ کیوں کہ بصرہ اور کوفہ کے علاوہ مدائن اور موصل کے قبائلی بھی اب فوج میں شامل تھے۔ حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ بھی جو جنگ جمل کے مو قع پر غیر جانبدار رہے تھے، اس بار اپنے سپاہیوں کے ساتھ ہم رکاب تھے۔ قبیلہ نخع کا رئیس اشتر نخعی شروع میں صفین جانے میں پس وپیش کر رہا تھا اور اپنے قبیلے کو بھی شک میں ڈال رہا تھا۔ بعد میں وہ اپنے جتھے سمیت لشکر میں مل گیا اور ہراول دستے کی کمان اسی کو دی گئی۔


شام پر فوج کشی کا مقصد:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مقصد جنگ نہیں تھا بلکہ مملکت کو یکجا اور امت کو متحد کرنا تھا۔ بڑی فوج جمع کرنے کا مطلب یہ نہ تھا کہ اہل شام کو ملیا میٹ کر دیا جائے بلکہ اس میں  یہ حکمت ملحوظ تھی کہ حریف پر جنگ سے پہلے ہی دباؤ پڑ جائے اور جنگ کے بغیر یا معمولی لڑائی سے معاملہ حل ہو جائے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اتحاد و اتفاق کے اتنے حامی تھے جیسا کہ آپ کے نائب حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ نے لشکر کی روانگی کے وقت جامع مسجد کوفہ میں لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

        "لوگو! (اس مہم کے لیے) نکل پڑو۔ جو نکلے گا، مامون رہے گا۔ ہم اس بات کو عافیت کا ذریعہ سمجھتے ہیں کہ اللہ امت محمدیہ میں صلح کرا دے اور ان کی محبت والفت کا رشتہ جوڑ دے۔"

اہل عراق اور اہل شام کے مزاج اور تربیت کا فرق، عراقیوں کی اُفتادِ طبع:

        ایک ہی دین وشریعت کے  پیروکار ہونے کے باوجود عراقی اور شامی لشکروں میں شامل سپاہیوں، عام افسرانِ فوج اور قبائلی رؤسا کے مزاج وافتاد میں بڑا فرق تھا۔ 

        حضرت علی رضی اللہ عنہ کے  پیروکار زیادہ تر وہ لوگ تھے جو عرب کے مشرقی علاقوں میں آباد تھے، جن کے قبائل شروع سے آزاد طبع اور خود مختار چلے آئے تھے، اس پر مستزاد یہ کہ ایک طویل مدت تک ان پر ایرانی شہنشاہیت کا سایہ پڑتا رہا تھا جو عقیدے اور نظریے سے لے کر سیاست اور تہذیب وتمدن تک میں انتشار، تنوع اور خود رائی کا شکار تھی۔ اس سلطنت کے آخری چالیس، پچاس سال نہایت افراتفری کی حالت میں گزرے تھے اور حکمرانوں کی مسلسل تبدیلیوں، بغاوتوں اور  محلاتی سازشوں نے عوام کو اجتماعی نظم وضبط سے آزاد رہنے کا عادی بنا دیا تھا۔ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں یہاں خصوصاً کوفہ اور بصرہ میں مشرقی عرب کے ایسے لوگ آکر آباد ہوئے جن کے آباؤ اجداد کھلے، بے روک ٹوک اور آزاد ماحول کے عادی چلے آ رہے تھے۔

        اگرچہ اسلامی عقیدے اور نفاذِ شریعت نے کوفہ وبصرہ اور گرد ونواح کو کفر و شرک، بد اخلاقی اور فحاشی سے پاک رکھا تھا مگر یہاں کے قدیم باشندوں اور نئے آنے والے عربوں کی طبیعت میں بے باکی اور بہادری کی خوبیوں کے ساتھ خود سری اسی طرح باقی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی برسوں سے اس علاقے میں سبائی گروہ سرگرم تھا جس نے بعض لوگوں کو خفیہ طور پر بد عقیدہ بنا ڈالا تھا اور بہت سوں کو حکومت کی اطاعت اور اکابر کے ادب واحترام کے جذبات سے محروم کر دیا تھا۔ ایسے لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں بھی شامل تھے۔ ان کی موجودگی میں ہر وقت بد نظمی اور فتنہ انگیزی کا خطرہ منڈلاتا رہتا تھا۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے لشکر کا کسی ایک لائحہ عمل پر اتفاق مشکل ہو جاتا تھا۔ ایسے لوگوں کی قیادت کر کے مقاصد کو حاصل کرنا بڑا مشکل کام تھا۔

اہل شام کا مزاج:

        دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت شام کا علاقہ صدیوں تک روم کی بادشاہت کے زیر انتظام رہا جو اپنی اعتقادی وعملی خرابیوں کے باوجود نظم وضبط کے لحاظ سے ایک کامیاب سلطنت مانی جاتی تھی۔ اسے فتح کرنے اور یہاں آباد ہونے والے مسلمان بھی زیادہ تر عرب کے مغرب اور شمالی قبائل سے تعلق رکھتے تھے جو شروع سے نسبتاً تہذیب یافتہ اور منظم زندگی گزارنے کے عادی تھے۔ پھر شام میں گزشتہ چوبیس پچیس سال سے بنو امیہ کا ایک ہی خاندان انتظام سنبھالے ہوئے تھا۔ حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے بعد ان کے چھوٹے بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یہاں کے گورنر چلے آ رہے تھے۔ انہیں یہاں حکومت وسیاست میں بیس سالہ تجربہ تھا، ذاتی طور پر وہ نہایت بااخلاق، صاحب تدبیر اور معاملہ فہم انسان تھے۔ بنو امیہ کی سیاسی وعسکری خوبیوں کی انتہا ان پر ہوتی تھی۔ لوگوں کو حسن سلوک، داد و دہش اور انعام واکرام کے ذریعے خوش رکھتے تھے۔ ان تمام وجوہ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا لشکر اطاعت وفرماں برداری اور نظم وضبط کے بہترین سانچے میں ڈھلا ہوا تھا۔

دونوں لشکروں میں نظم وضبط کا فرق:

        دونوں لشکروں میں نظم وضبط کی کیفیت کا بھی واضح فرق تھا جس کا اندازہ ایک واقعے سے لگایا جا سکتا ہے۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں لشکر تیار کرتے وقت آخری تنبیہ کرنے کے لیے اپنا سفیر شام بھیجا جس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خبردار کیا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ لشکر کشی کی تیاری کر رہے ہیں۔

         حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نماز کے بعد مسجد میں مجمع عام کو یہ حالات بتا کر ان سے رائے مانگی۔ سب نے سر جھکا لیے، صرف ایک امیر نے کہا: "جو آپ کی رائے وہی ہماری، آپ حکم دیں، ہمارا کام اطاعت کرنا ہے۔" یہ سن کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی لشکر تیار کرنے کا حکم دیا۔

        سفیر  یہ دیکھ کر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لوٹ آیا، انہوں نے بھی نماز کے بعد مسجد میں لوگوں سے خطاب کیا اور اہل شام کی جنگی تیاریوں کی اطلاع دے کر رائے مانگی۔ یہ سنتے ہی ہر شخص چلانے لگا: "یا امیر! ایسا کریں۔ امیر المؤمنین! ویسا کریں۔" شور وغوغا کی وجہ سے کسی ایک کی بات بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر "انا للہ وانا الیہ راجعون" پڑھتے ہوئے منبر سے نیچے اتر گئے۔

دریائے فرات سے صفین تک:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے صلاح مشورے کے بعد خود لشکر کی قیادت کا فیصلہ کیا اور کوفہ میں حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کو نائب بنا کر شمال مغرب کی طرف سفر کرتے ہوئے تقریباً سات سو میل (1127 کلو میٹر) طے کر کے دریائے فرات کے کنارے پہنچ گئے، جو شام کی سرحد سمجھا جاتا تھا۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے لشکر اور سامانِ رسد سمیت رَقّہ کے مقام سے دریا عبور کیا اور ذوالحجہ 36 ہجری کے ابتدائی دنوں میں لشکر کے ساتھ دریائے فرات کے پار صفین پہنچ گئے۔ شامی لشکر پہلے سے وہاں خیمہ زن تھا۔

        حالات کی گردش اور اپنے اپنے موقف پر غیر متزلزل یقین نے عالم اسلام کے ان دونوں بڑے رہنماؤں کو مسلح افواج کے ساتھ میدان جنگ میں ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کر دیا تھا۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic