جنگ جمل اور اس کا پس منظر
حضرت زبیرؓ اور حضرت طلحہؓ کی عراق کی طرف روانگی اگرچہ حضرت علیؓ کی حکومت ختم کرنے کے لیے نہیں بلکہ انصاف کے حصول کے لیے تھی اور ان کی تمام تر کوششیں مکمل نیک نیتی اور ایمانی جذبے پر مبنی تھیں۔ حضرت علی المرتضیٰؓ کو بھی حضرت زبیرؓ اور حضرت طلحہؓ کے اخلاص کا یقین تھا اور ان کا مقام و مرتبہ بھی وہ ہرگز فراموش نہیں کر سکتے تھے۔ ان حضرات سے ان کی دلی محبت والفت بھی کچھ کم نہ تھی۔ مگر حضرت علیؓ کی رائے میں حصول انصاف کے لیے ایک شہر کو مرکز بنا کر مسلح قوت جمع کرنے اور مجرموں کو از خود کیفر کردار تک پہنچانے کا فیصلہ کر لینا حکومتی نظام میں خلل اندازی اور اتحادِ امت کو ٹھیس پہنچنے کا باعث بن سکتا تھا۔ آپ چاہتے تھے کہ ان حضرات کو اپنے ساتھ شامل کر کے متفقہ لائحہ عمل اختیار کریں۔
حضرت عائشہ صدیقہؓ کا بصرہ میں:
حضرت عائشہ صدیقہؓ کا قافلہ بصرہ کے قریب "خفیر" کے مقام پر جا کر ٹھہر گیا۔ اندازہ ہے کہ آپ نے محرم ۳۶ھ کے آخری عشرے میں سفر شروع کیا۔ آپ ۷۶۷ میل (۳۸ منازل یا ۱۲۳۳ کلومیٹر) طے کر کے ربیع الاول کے اواخر میں بصرہ کے قریب پہنچیں۔ ۲۶ دن گفت وشنید اور مذاکرات میں گزارے، پہلے بصرہ کے ارباب حل وعقد کے نام مکتوب لکھ کر انہیں اپنے عزائم اور مقاصد سے آگاہ کیا تا کہ وہ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں۔ حاکم بصرہ حضرت عثمان بن حنیفؓ نے عمران بن حصینؓ اور ابوالاسود دوئلی کو ام المؤمنین کے پاس بھیجا۔ ام المؤمنینؓ نے ان سے جو گفتگو فرمائی اس کے حرف حرف سے اخلاص، خیر خواہی اور دردمندی عیاں ہوتی ہے۔ فرمایا:
"مجھ جیسی خاتون کسی خفیہ مقصد کے لیے سفر نہیں کرتی، نہ ہی اپنی اولاد سے حقیقت حال کو چھپایا جاتا ہے، شہروں کے اوباش لوگوں اور قبائل کے آوارہ گردوں نے مدینۃ الرسول پر چڑھائی کی، اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت کے حق دار بنے، پھر مسلمانوں کے حکمران کو کسی جرم اور وجہ کے بغیر شہید کیا، ان کا ناحق خون بہایا، مال لوٹا، وہ لوگوں کے گھروں میں اس طرح ٹھہرے رہے کہ لوگ ان کے قیام سے تنگ، پریشان اور مصیبت میں تھے، نہ وہ اپنا دفاع کر سکتے تھے، نہ ان کو امن میسر تھا۔ آخر کار میں مسلمانوں کو بتانے نکل کھڑی ہوئی کہ ان شر پسندوں نے کیا آفت ڈھائی ہے اور ہمارے پیچھے عوام کا کیا حال ہے اور اب لوگوں کو
اصلاح احوال کے لیے کیا کرنا چاہیے۔
لَا خَیْرَ فِیْ کَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰھُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَۃٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍ بَیْنَ النَّاسِ
وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللّٰہِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْہِ اَجْرًا عَظِیْمًا۔
(ان لوگوں کے بہت سے مشورے اچھے نہیں ہاں (اُس شخص کا مشورہ اچھا ہے) جو خیرات یا نیکی یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام اللہ کی خوشنودی کے لیے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے۔)
ہم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق، اصلاح قوم کے لیے کھڑے ہوئے ہیں۔ تمہیں نیکی کا حکم دیتے اور اس پر آمادہ کرتے ہیں، گناہوں سے روکتے ہیں اور اس کے خاتمے کے ترغیب دیتے ہیں۔"
بصرہ کے ان نمائندوں نے حضرت طلحہ و حضرت زبیرؓ سے بھی ملاقات کی اور ان کا موقف جاننے کے بعد انہیں یاد دلایا کہ وہ حضرت علیؓ سے بیعت کر چکے ہیں۔ دونوں حضرات کا جواب تھا:
"اگر حضرت علیؓ ہمارے اور قاتلین عثمان کے درمیان حائل نہ ہوں تو ہم اپنی بیعت پر قائم ہیں۔"
ادھر حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ کا موقف سننے کے لیے عوام کا جم غفیر شہر سے باہر نکل کھڑا ہوا۔ جس میدان میں قافلۂ مکہ ٹھہرا تھا وہاں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ یہاں حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ نے پُر جوش تقریر کیں اور آخر فرمایا: "خلیفہ مظلوم کا قصاص لینا، اللہ کی حدود میں سے ایک حد ہے، اسے قائم کرنے سے آپ کا نظام بحال ہو جائے گا، اسے ترک کیا تو آپ کی قوت واقتدار خاک میں مل جائے گی، اور کوئی نظام حکومت باقی نہیں رہے گا۔"
آخر میں ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے خطاب فرماتے ہوئے کہا:
"لوگ حضرت عثمانؓ پر الزام لگاتے اور ان کے عمال کی کردار کشی کرتے رہے، وہ مدینہ آکر ہم سے اس بارے میں گفت وشنید کرتے رہے، ہم نے دیکھا بھالا تو عثمانؓ کو بے قصور، نیکوکار اور عہد کا پابند پایا اور ان لوگوں کا بدکردار اور دروغ گو ہونا معلوم ہوا۔ جب ان لوگوں کو کثرت قوت حاصل ہو گئی تو خلیفہ کے گھر کو گھیر کر قتل ناحق کا ارتکاب کیا۔ اب جو کام کرنا ضروری ہے اور اس کے سوا کچھ اور کرنا مناسب نہیں، وہ ہے قاتلین عثمان کی گرفتاری اور کتاب اللہ کے حکم کا قائم کرنا۔"
ان تقاریر کے جواب میں اہل بصرہ کی بڑی تعداد نے ان کی حمایت کا اعلان کیا، شہر کے عام لوگ اس تحریک کے پرجوش حامی بن گئے۔ بصرہ کے گورنر عثمان بن حنیف کا حالات پر قابو ختم ہو چکا تھا تاہم ایک گروہ یہ کہہ کر ان کے ساتھ رہا کہ طلحہ اور زبیرؓ حضرت علیؓ سے بیعت کر چکنے کے بعد ایسی تحریک چلانے کا حق نہیں رکھتے۔
حضرت طلحہ و زبیرؓ کی مخالفت کرنے والوں میں سے بہت سے لوگ صلحاء و شرفاء تھے جو اس اصول کی بناء پر ان کا ساتھ دینے سے گریز کر رہے تھے کہ خلیفہ کی اطاعت لازم ہے اور قانون ہاتھ میں لینا غلط۔
مگر مخالفین میں خاصی تعداد ان سبائیوں کی بھی تھی جو حضرت عثمانؓ کی مخالف تحریک کا حصہ تھے۔ حضرت عثمانؓ کا محاصرہ کرنے والوں میں سے ایک گروہ بصرہ سے گیا تھا جس کے سربراہ حُکیم بن جبلہ اور حُرقوص بن زُہیر تھے۔ حضرت علیؓ سے بیعت کرنے کے بعد یہ لوگ واپس بصرہ آگئے تھے اور یہاں بلا وجہ اشتعال انگیزی کو ہوا دے کر اپنا سیاسی قد کاٹھ اونچا کرنے کی کوشش کرر ہے تھے۔ یہ لوگ صحابہ کرام خصوصاً ام المؤمنینؓ کے خلاف زبان درازی کر کے یہ تاثر دے رہے تھے کہ حضرت علیؓ کے وفادار بس ہم ہی ہیں۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ حکیم بن جبلہ ایسے لوگوں کو اکٹھا کر کے حضرت طلحہ اور زبیرؓ کے خلاف جنگ کی تیاری کرنے لگا۔
ان بدقماشوں نے یہاں تک لن ترانیاں ہان کیں کہ وہ نعوذ باللہ ام المؤمنین کو یرغمال بنائیں گے۔
بصرہ کے شرفاء نے اس بے ہودہ گوئی کو برداشت نہ کیا اور احتجاج کرتے ہوئے کہا:
"کیا تم خلیفۃ المسلمین حضرت عثمانؓ کو قتل کر کے بھی مطمئن نہیں۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ کے خلاف اسلحہ اٹھا رہے ہو؟ صرف اس بات پر کہ وہ تمہیں حق کا حکم دیتی ہیں، بس اس لیے تم انہیں اور اکابر صحابہ کو قتل کرنا چاہتے ہو؟" مگر ان سنگ دلوں پر ایسی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ نے کوفہ کے عمائد کے نام اپنے مراسلے میں ان حالات کا نقشہ یوں کھینچتی ہیں:
"صالح لوگوں نے ہماری دعوت قبول کی مگر جن لوگوں میں خیر کی کوئی رمق نہیں تھی، انہوں نے اسلحہ لے کر ہمارا سامنا کیا اور کہنے لگے: ہم تمہیں بھی عثمان کے پیچھے روانہ کرتے ہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو مزید معطل کرتے رہیں انہوں نے دشمنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں کافر قرار دیا اور ہمارے بارے میں بے ہودہ گوئی کی، جب ہم نے کہا:
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتٰبِ اللّٰہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَھُمْ ثُمَّ یَتَوَلٰی فَرِیْقٌ مِّنھُمْ وَھُمْ مُّعْرِضُوْنَ
(کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب کا علم دیا گیا اور وہ کتاب اللہ کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کر دے تو ایک فریق ان میں سے لا پرواہی کے ساتھ منہ پھیر لیتا ہے۔)
تو ان میں سے کچھ لوگوں نے میری بات پر یقین کیا اور ان میں باہم تنازع ہو گیا۔ ہم نے انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا، مگر اس سلوک کے باوجود ان کا پہلا گروہ میرے ساتھیوں پر ہتھیار اٹھانے سے باز نہیں رہا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے داؤ کو انہی پر موڑ دیا، ہم چوبیس دنوں تک انہیں کتاب اللہ اور حدود اللہ کے قیام کی دعوت دیتے رہے مگر انہوں نے انکار ہی کیا۔"
بصرہ کا فیصلہ کن معرکہ: سبائیوں سے انتقام:
حکیم بن جبلہ جیسے سبائیوں کی شر انگیزی کی وجہ سے ۲۴ اور ۲۵ ربیع الآخر سن ۳۶ ہجری کو بصرہ میں کاروان مکہ اور مفسدین بصرہ میں یکے بعد دیگرے دو معرکے ہوئے۔ قاتلین عثمان اور سبائیوں کے علاوہ قبیلہ عبدالقیس اور ربیعہ کے کچھ لوگ بھی نادانی میں فسادیوں کے ہم رکاب ہو گئے تھے۔
پہلے دن حکیم بن جبلہ اپنے گھڑ سواروں کو لے کر حضرت عائشہ صدیقہؓ کی رہائش گاہ کی طرف نکلا جو بصرہ کی آبادی میں مسجد کے قریب تھی۔ قافلہ مکہ نے گھڑ سواروں کو چڑھائی کرتے دیکھا تب بھی از خود لڑائی نہ کی بلکہ نیزے تان کر دفاعی ہیئت اختیار کر لی مگر حکیم بن جبلہ اپنے گھڑ سواروں کو جوش دلا کر آگے بڑھاتا رہا۔ اس نے ام المؤمنین کے جانثاروں کو صرف مدافعت پر اکتفا کرتے دیکھا تو شیخی میں آ کر چلایا:
"آج قریش اپنی بزدلی اور غصے کے سبب ہلاک ہو کر رہیں گے۔"
اس طرح وہ حضرت عائشہ صدیقہؓ کے جانثاروں کو طیش دلا کر کھلے میدان میں لڑنے پر آمادہ کرنا چاہتا تھا مگر انہوں نے فراست سے کام لیتے ہوئے اس محفوظ ہیئت کو برقرار رکھا۔ جامع مسجد والی گلی کے نکڑ پر لڑائی ہوتی رہی اور پھتراؤ بھی ہوا۔ دشمن آگے بڑھنے کے لیے زور لگاتا رہا۔
ام المؤمنینؓ اہل کوفہ کے نام اپنے مراسلے میں تحریر فرماتی ہیں:
"صبح منہ اندھیرے انہوں نے حملہ کیا تاکہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو قتل کر دیں۔ وہ میری رہائش گاہ کی دہلیز تک آن پہنچے۔ ان کے ساتھ ایک رہنما تھا جو انہیں میری نشان دہی کرا رہا تھا۔ مگر میرے دروازے پر انہوں نے کچھ افراد کو مستعد پایا، اب لڑائی کی چکی گھومی اور مسلمانوں نے ان کو گھیرنا اور مارنا شروع کیا۔"
اس اچانک مگر ناکام حملے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ بصرہ میں موجود سبائی ام المؤمنین اور ان کے ساتھیوں کی جان کے درپے ہیں اور موقع ملتے ہی وہ دوبارہ حملہ کریں گے جو زیادہ منظم اور شدید ہو گا، چنانچہ اسی رات حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ نے مقامی لوگوں کے مشورے سے اپنا پڑاؤ تبدیل کر کے سرکاری غلہ گودام کے پاس ڈیرے ڈال دیے، جہاں سامنے کھلا میدان تھا۔ رات بھر وہ متو قع جنگ کی تیاری میں مصروف رہے اور شہر سے ام المؤمنین کے جانثار آ کر ان کی صفوں میں شامل ہوتے رہے۔
حکیم بن جبلہ کے گرد قاتلین عثمان کے گروہ کے علاوہ زیادہ تر مختلف قبیلوں کے آوارہ اور دھتکارے ہوئے لوگ جمع تھے۔ یہ سب جانتے تھے کہ اگر انہوں نے قوت نہ دکھائی تو بصرہ میں ان کا رہنا دوبھر ہو جائے گا۔
دوسرے دن حکیم بن جبلہ صبح ہی صبح سبائیوں کی قیادت کرتے ہوئے نیزہ تانے باہر نکلا۔ وہ ام المؤمنین کی شان میں کھلے عام ایسی گستاخیاں کر رہا تھا کہ جس کے کانوں میں آواز پڑتی وہ لرز جاتا۔ ایک شخص سے برداشت نہ ہوا، اس نے سامنے آ کر للکارا: "کس کو گالی دے رہے ہو؟" حکیم بن جبلہ نے نیزے کا وار کر کے اسے مار ڈالا۔
اب اسی کے قبیلے عبد القیس کی ایک خاتون اس کی گستاخانہ باتوں سے بپھر کر آگے بڑھی اور بولی:
"ارے ناپاک عورت کی اولاد! تو مسلمانوں کی ماں کو گالی دے رہا ہے۔ تو خود ان گالیوں کا حق دار ہے۔"
حکیم بن جبلہ نے اسے بھی نیزے کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ اس کا خیال تھا کہ اس دہشت گردی کا مظاہرہ کر کے وہ ان مقامی لوگوں کو مرعوب کر دے گا جو حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ کی صف میں جمع ہو چکے تھے۔ مگر سبا کی اس مظاہرے سے خود اسی کے قبیلے عبد القیس کے بہت سے لوگ جو اس کے جتھے میں شامل تھے، ناراض ہو کر اس کا ساتھ چھوڑ گئے۔ وہ کہہ رہے تھے: "تجھ سے اللہ خود انتقام لے گا۔"
چونکہ سبائیوں کے علاوہ بہت سے عام مسلمان محض گورنر عثمان بن حنیفؓ کی حمایت کے خیال سے اس لڑائی میں شامل ہو گئے تھے، اس لیے شروع میں قافلۂ مکہ نے محتاط انداز اختیار کیا۔ ام المؤمنینؓ نے جانثاروں کو حکم دیا: "جو تم سے لڑے بس اسی سے لڑنا۔" یہ سن کر جانثاروں نے اعلان کیا: "جو شخص قاتلین عثمان میں شامل نہیں، وہ ہاتھ روک لے، ہم صرف ان قاتلوں سے بدلہ لینا چاہتے ہیں، ہم خود کسی سے لڑنے کی ابتدا نہیں کریں گے۔"
حضرت عائشہ صدیقہؓ مسلمانوں کو خون ریزی سے بچانے کے لیے مسلسل اعلان کرواتی رہیں کہ حریف کی صف میں شامل عام لوگ ہاتھ روک لیں مگر حکیم بن جبلہ کے ٹولے نے ایک نہ سنی۔ ان کی خودسری سے پیدا شدہ اس صورتحال نے حضرت طلحہ و زبیرؓ کو موقع دے دیا کہ وہ کھل کر ظالموں سے بدلہ لے سکیں۔ انہوں نے دعا کی:
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ جَمَعَ لَنَا ثَارَنَا مِنْ اَھْلِ الْبَصْرَۃِ ، اَللّٰھُمَّ لَا تُبْقِ مِنْھُمْ اَحَدًا ، وَ اَیْدِ مِنْھُمْ الْیَوْمَ فَاَقْتُلْھُمْ۔
(سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، جس نے بصرہ میں قاتلین عثمان سے قصاص کا موقع فراہم کر دیا۔
اے اللہ! ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑ۔ ان سے آج قصاص لے لے اور انہیں قتل کر دے۔)
اب ام المؤمنین کے جانثاروں نے پوری شدت سے جوابی حملہ کیا، صبح سے ظہر تک جنگ ہوتی رہی۔ قاتلین عثمان کے چار سرغنے: حکیم بن جبلہ، ذُریح بن عبّاد، ابن المُحترِش اور حُرقوص بن زُہیر اپنے گروہوں کی کمان کر رہے تھے۔ قافلۂ مکہ میں سے حضرت طلحہؓ نے حکیم کا، حضرت زبیرؓ نے ذُریح بن عبّاد کا، عبد الرحمن بن عتابؓ نے ابن المُحترِش کا اور حضرت عبدالرحمن بن الحارثؓ نے حرقوص کے گروہ کا سامنا کیا۔
حکیم تین سو سبائیوں کو لے کر حضرت طلحہؓ کے سامنے آیا۔ انہوں نے عبد اللہ بن زبیرؓ کو اس کے مقابلے میں بھیجا۔ وہ اپنے جانباروں کے ساتھ اس شدت سے حملہ آور ہوئے کہ فریق مخالف کی لاشوں کے ڈھیر لگتے چلے گئے۔ حکیم بن جبلہ کا بھائی رِغل، بیٹا اشرف اور ایک سبائی لیڈر حنظلہ مارے گئے۔ خود حکیم کا پاؤں کٹ گیا اور وہ ادھ مرا ہو کر گر پڑا، پاس سے گزرنے والے ایک مجاہد نے اسے کہا: "اے خبیث! اللہ کے انتقام کا مزہ چکھ لے۔" کچھ دیر بعد ضُخیم نامی ایک مجاہد نے وار کر کے اس کا سر اڑا دیا۔
قافلہ مکہ میں سے صرف ایک صحابی حضرت مجاشع بن مسعودؓ شہید ہوئے۔
غلہ گودام کا میدان دشمنوں کی لاشوں سے پٹ گیا۔ ذریح بھی اپنے گروہ سمیت مارا گیا، صرف سبائی لیڈر حرقوص بن زُہیر اپنے چند ساتھیوں سمیت زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوا۔ باقی ماندہ لوگوں نے گھبرا کر صلح کی پیش کش کی۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ بھی بلا وجہ خوں ریزی ناپسند کرتے تھے اس لیے پیش کش قبول کر لی گئی۔
لڑائی اس معاہدے پر ختم ہوئی کہ حدود اللہ کو جاری کیا جائے گا، قاتلین عثمان سے بدلہ لینے میں کوئی شخص رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔
یہ بھی طے کیا گیا تھا کہ بصرہ کا دارالامارۃ (گورنر ہاؤس)، جامع مسجد اور بیت المال حضرت علیؓ کے نامزد گورنر حضرت عثمان بن حنیفؓ کی تحویل میں رہیں گے۔ کاروان مکہ کو بصرہ میں کسی بھی مقام پر ٹھہرنے کا اختیار ہو گا۔ حضرت علیؓ کی آمد تک دونوں فریق آپس میں کسی بھی قسم کی کشیدگی اور تصادم سے گریز کریں گے۔
جو سبائی اب بھی بچ کر ادھر ادھر چھپ گئے تھے، شہری ان سے بیزار تھے، انہیں پناہ دینے کے لیے اب کوئی تیار نہ تھا۔ حضرت طلحہ و حضرت زبیرؓ نے بصرہ میں اعلان کرا دیا کہ اگر کسی قبیلے میں ایسے افراد موجود ہیں، جو مدینہ میں قتل وغارت میں ملوث رہے تو انہیں ہمارے سپرد کر دیا جائے۔ مشہور شر پسندوں کے نام لکھ کر مشتہر کر دیے گئے۔ چنانچہ اہل بصرہ کئی افراد کو کتوں کی طرح گھسیٹ کر لائے، جنہیں حضرت عثمانؓ کے قتل کی پاداش میں سزائے موت دے دی گئی۔
اس فتح اور مفسدین کے عبرت ناک انجام سے اہل ایمان کے دل ٹھنڈے ہوئے۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیرؓ نے خوشخبری پر مبنی خطوط عالم اسلام کے مختلف شہروں میں روانہ کیے۔ جن میں تحریر تھا:
"ہم جنگ کے خاتمے اور تمام طبقات میں کتاب اللہ کے احکام کے نفاذ کے لیے نکلے۔ بصرہ کے نیک اور معزز افراد نے اس مقصد کے لیے ہم سے بیعت کی، جبکہ شر پسندوں اور اوباشوں نے مخالفت کی اور ہتھیار اٹھا لیے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں مسلمانوں کی روش پر لوٹ آنے کے بار بار مواقع دیے، جب ان کے پاس کوئی بہانہ اور عذر نہ بچا تو حضرت عثمانؓ کے قاتل پھر بگڑ گئے اور خود اپنی قتل گاہ کی طرف چلے آئے۔ ان میں سے حرقوص بن زہیر کے سوا کوئی بچ کر نہ نکل سکا۔ اللہ پاک اس سے بھی انتقام لے گا۔ ہم اللہ کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ آپ بھی ہماری طرح اٹھ کھڑے ہوں تاکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوتے وقت ہمارے پاس بخشش کا کوئی بہانہ موجود ہو اور ہم اپنے ذمے سے فریضہ ادا کر چکے ہوں۔"
بصرہ کے حالات اب قافلہ مکہ کے قابو میں تھے۔ البتہ ایک تشویش باقی تھی، وہ یہ کہ جنگ سے بچ نکلنے والا حرقوص بن زُہیر جس کا تعلق بنو سعد سے تھا، اپنے قبیلے کو جاہلی عصبیت کا اشتعال دلانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ اسی طرح حکیم بن جبلہ کے قبیلے عبدالقیس کے بہت سے لوگ جنگ بصرہ میں اپنے لوگوں کے قتل پر برافروختہ تھے، حالاں کہ پہلے وہ خود ام المؤمنین کے موقف کی حمایت کر رہے تھے مگر اب ان کے بعض ہم قبیلہ لوگوں کو اپنی سرکشی کی سزا ملی تو ان کی قبائلی عصبیت بھڑک اٹھی۔ وہ بصرہ چھوڑ کر چلے گئے۔

