Qisas-e-Usman aur Sahaba ke 4 Giroh: Hazrat Ali ki Hikmat-e-Amli

قصاصِ عثمان کے متعلق صحابہ کرام کے چار طبقے:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ کے تدبر اور تحمل میں اس وقت وہی حالت تھی جو وفاتِ نبوی پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی تھی۔ باقی سب جذبات سے بے حال تھے جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ٹھوس چٹان کی مانند اٹل تھے۔ وہ جذبات سے بالا تر ہو کر شریعت اور عقل و تدبیر کی باگ تھامے ہوئے تھے، ان کی حکمتِ عملی باریک بینی اور دور اندیشی پر مبنی تھی۔ دیگر حضرات کا رد عمل جذبات کی شدت کا تھا، اس لیے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حکمتِ عملی کو سمجھ نہ پائے۔


        پھر ان میں سے ایک طبقے نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بات مان لی، ایک طبقے نے  بیعت کر کے عزلت نشینی اختیار کر لی، ایک نے  بیعت کے باوجود انصاف کے لیے مسلح راستہ اختیار کر لیا اور ایک نے بیعت کو ملتوی کر دیا۔ اس طرح صحابہ کرام کے چار طبقات بن گئے۔ ہر ایک امت کا خیر خواہ اور مخلص تھا۔ کسی کے پیش نظر ذاتی مفادات نہ تھے۔

        (1) پہلا طبقہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کی پالیسی سے مکمل اتفاق کرنے والے حضرات کا تھا، جو قصاص لینے کی اہمیت کو تسلیم کرتے تھے مگر اس سے پہلے مسئلہ قصاص کی پوری تحقیق، حکومت کے استحکام اور مسلمانوں کے یکجا ہونے کو لازمی قرار دیتے تھے۔ ان میں حضرت عمار بن یاسر، حضرت عثمان بن حُنیف، حضرت سہل بن حنیف، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت حسن، حضرت حسین، اور حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہم جیسے اکابر شامل تھے۔

        (2) دوسرا طبقہ ان حضرات کا تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے  بیعت کر چکے تھے مگر ان کی رائے یہ تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فوری طور پر تمام باغیوں سے قصاص لینا چاہیے۔ اور اگر وہ اس میں معذور ہیں تو ہم خود ان مجرموں سے انتقام لیں گے۔ یہ حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہم کا خیال تھا۔

        (3) تیسرے طبقے کے نزدیک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قصاص بیعت سے بھی مقدم تھا۔ ان کے نزدیک تمام باغیوں سے قصاص لیے بغیر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اپنی پوزیشن مشکوک تھی۔ اس لیے ان کا مطالبہ تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ قصاص لیں گے تو ان سے  بیعت کی جائے گی، ورنہ نہیں۔ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور اہلِ شام کی رائے تھی۔

        (4) چوتھا طبقہ وہ تھا جس نے مسلمانوں کے باہمی سیاسی جھگڑوں اور مناقشوں سے یکسو رہنے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنی زبان اور ہاتھ سے دوسروں کو تکلیف دینے کی نوبت نہ آئے۔ عشرہ مبشرہ میں سے حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہما، نیز حضرت عبداللہ بن عمر اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سمیت بکثرت اصحاب یہی رائے رکھتے تھے۔

        ان حضرات کے سامنے فتنوں سے متعلق حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ احادیث تھیں جن میں ایسے حالات میں خاموشی اور علیحدگی اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ جیسے نامور شمشیر زن ان دنوں اپنی تلوار توڑ کر مدینہ سے دور "ربذہ" کے دیہات میں خیمہ لگا کر گوشہ نشین ہو گئے تھے۔ اگر کوئی انہیں کہتا کہ لوگوں کو جا کر سمجھائیں بجھائیں  تو فرماتے: "نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا تھا کہ جب افتراق، فتنے اور اختلاف کا وقت ہو تو اپنی تلوار توڑ دینا، تیر توڑ دینا، ان کی تانت کاٹ دینا اور گھر میں بیٹھ جانا، میں نے ایسا ہی کیا ہے۔"

        چونکہ کتب تاریخ میں غیر سیاسی لوگ عموماً مذکور نہیں ہوتے، اس لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد تاریخ میں اکابر صحابہ کے اس طبقے کا ذکر کمیاب ہو گیا حالانکہ یہ حضرات اس کے بعد برسوں حیات رہے۔ ان کا وقت زیادہ تر علمی مصروفیات، ذکر و عبادت اور دینی خدمات میں گزرتا تھا۔ اسی لیے ذخیرہ حدیث و فقہ میں ان کا نام زندہ رہا۔ یہی مشیت الہی تھی کہ ایک جماعت شریعت کو محفوظ رکھنے کے لیے وقف رہے اور یہ سلسلہ تاقیامت چلتا رہے۔

حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کی بے چینی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مشورہ:

        مدینہ کے اکابر صحابہ خصوصاً حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کر چکنے کے باوجود مسئلہ قصاص میں ان کے تامل اور توقف سے سخت پریشان تھے۔ وہ ان کی مجبوریوں کو سمجھ نہیں پا رہے تھے۔ آخر وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور باغیوں کی کھلی چھوٹ ملی رہنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ امیر المومنین نے حکیمانہ انداز میں فرمایا: "دیکھو! یہ وہی ہیں جن کے ساتھ لوگوں کے غلام اور دیہاتی بھی شامل ہوئے اور انہوں نے تم کو جیسے چاہا دق کر کے رکھا، تو بتاؤ جس بات کا تم مطالبہ کر رہے ہو، اس پر کچھ قدرت بھی موجود پاتے ہو؟"

        دونوں حضرات نے نفی میں جواب دیا تو امیر المومنین نے انہیں اطمینان دلاتے ہوئے کہا:

        "اللہ کی قسم! مجھے اس کا ایک حل دکھائی دیتا ہے، جسے تم ان شاء اللہ جان لو گے۔"

        آپ رضی اللہ عنہ نے اشارہ دیتے ہوئے فرمایا: "اس قصاص والی بات کو اگر ابھی چھیڑا گیا تو لوگ تین طبقوں میں بٹ جائیں گے۔ کچھ لوگ تمہاری رائے کے مطابق ہوں گے، کچھ مخالف ہو جائیں گے اور کچھ نہ تمہارا ساتھ دیں گے نہ مخالفین کا۔ لوگوں کو ٹھنڈا ہونے دو اور دلوں کو قرار آنے دو۔"

        مطلب یہ تھا کہ ابھی ہنگامی حالات ہیں، لوگوں کے کان نت نئی خبروں پر لگے ہوئے ہیں، ایسے میں کوئی بھی قدم اٹھایا گیا تو اہلِ فتنہ پہلے کی طرح افواہوں، پروپیگنڈے اور ملمع کاری کے ذریعے فساد کی آگ بھڑکا دیں گے، حالات معمول پر ہوں تو فتنہ انگیزی اتنی آسان نہیں ہوگی۔ تاریخ گواہ ہے کہ امیر المومنین کا یہ خدشہ حرف بہ حرف درست نکلا۔

بلوائیوں اور موالیوں کا مدینہ سے اخراج:

        مدینہ منورہ میں جمع ہونے والے مفسدین میں خاصی تعداد اُن سادہ لوح گنواروں، جاہلوں اور غلاموں کی تھی جو فساد مچانے اور لوٹ مار میں حصہ ملنے کی امید پر مدینہ آگئے تھے۔ حالات کو معمول پر لانے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں فوراً مدینہ سے چلے جانے کا حکم دے دیا۔ آپ نے ان پر کوئی فردِ جرم عائد نہیں کی، تاکہ وہ بے فکر ہو کر اپنی جتھہ بندی توڑ دیں چنانچہ ان کی ایک بڑی تعداد اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ گئی۔ کوفہ، بصرہ اور مصر کے باغی بھی اکثر واپس چلے گئے، صرف سبائیوں کا ایک جتھہ مدینہ میں رہ گیا جو حبِ سادات کا خصوصی دعوے دار تھا۔

حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کا عراق سے فوج بلوانے کا مشورہ:

        انہی ایام میں حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اور مشورے بھی ہوئے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے بصرہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے کوفہ جانے کی اجازت مانگی تاکہ وہاں سے افواج لا کر مسند خلافت کے پایے مضبوط اور اہل فتنہ کو مرعوب کیا جائے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اجازت دی نہ انکار کیا۔ بس اتنا فرمایا: "سوچ کر بتاؤں گا"۔

        دراصل کوفہ اور بصرہ سے وقتی طور پر فوج طلب کرنا آپ رضی اللہ عنہ کے نزدیک مسئلے کا حل نہیں تھا۔ اگر مدینہ منورہ میں مستقل فوج رکھی جاتی تو یہ شہر چھاؤنی بن جاتا۔ اس طرح اہلِ مدینہ کو فوج کی ضروریات اور سہولیات کے لیے بہت سی پابندیوں اور اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس بناء پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے شامی فوج کو مدینہ میں متعین کرنے کی تجویز مسترد کر دی تھی اور یہی حقیقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے بھی تھی۔

عراق منتقل ہونے کا فیصلہ کیوں کیا؟

        حضرت علی رضی اللہ عنہ اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ مدینہ میں فوج رکھنے کے بجائے کسی فوجی مرکز کی طرف کوچ کر کے اُسی کو دارالخلافہ بنانا مناسب ہے۔ اس کے لیے موزوں ترین جگہ عراق تھی جہاں دو مراکز: بصرہ اور کوفہ قریب قریب تھے۔

        عراق منتقل ہونے کا فیصلہ کرنے میں یہ خیال بھی کارفرما تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف شورش جیسی کوئی احتجاجی تحریک اگر آئندہ پھوٹی اور اس کا مظاہرہ مدینہ میں ہوا تو اس مقدس شہر کی حرمت کہیں دوبارہ پامال نہ ہو۔ اس شہر کے تقدس، احترام اور اعزاز کا تقاضا یہ تھا کہ اسے مکمل طور پر ایک "مذہبی مرکز" رہنے دیا جائے اور اسے سیاسی معاملات سے جو کبھی بھی جنگ و جدل کی صورت اختیار کر سکتے ہیں، الگ کر دیا جائے۔

        اس فیصلے میں یہ حکمت بھی تھی کہ دور دراز کے محاذوں پر اسلامی لشکروں کی تشکیلات اور ان سے رابطے میں آسانی رہتی۔ ایک عالمگیر خلافت کے سیاسی ڈھانچے اور نظم ونسق کی ترقی کے لیے یقیناً یہ زیادہ مفید تھا کہ مدینہ جیسے صحرائی اور الگ تھلگ مقام کے بجائے کوفہ جیسا عسکری، سیاسی اور اقتصادی مقام مرکز قرار پائے۔ مگر کوفہ منتقل ہونے کا ارادہ ظاہر کرنے کے لیے آپ رضی اللہ عنہ مناسب موقع کا انتظار کر رہے تھے۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے باغیوں کو مناصب کیوں دیے؟

        حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ بھی چاہتے تھے کہ جو لوگ مدینہ میں فساد مچانے میں ملوث رہے تھے، کسی اور شورش کا حصہ نہ بن پائیں۔ اس کا طریقہ یہی ہوسکتا تھا کہ انہیں قومی دھارے میں منسلک رکھا جاتا، شرعی گنجائش کی حد تک ان کے ماضی سے چشم پوشی کی جاتی، انہیں مہمات میں شریک کیا جاتا اور ذمہ داریاں سونپ کر ان پر اظہارِ اعتماد کیا جاتا۔ ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اگلی ہر مہم میں یہ تدبیر کارفرما رہنے کے ٹھوس شواہد ملتے ہیں۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عمال کو معزول کیوں کیا؟

        حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک اور اہم مسئلہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور کے حکام کو معزول کرنے یا برقرار رکھنے کا تھا۔ اس بارے میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے آپ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: "آپ حضرت معاویہ، حضرت عبداللہ بن عامر اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے باقی گورنروں کو ان کے عہدوں پر باقی رہنے دیں۔ جب ان کی اور ان کی افواج کی طرف سے بیعت کا عہد و پیمان ہو جائے تو پھر آپ چاہیں تو ان کو تبدیل کر دیں، چاہیں تو باقی رکھیں۔" حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اب بھی انکار کیا نہ اقرار۔ اتنا فرمایا: "سوچوں گا"۔

        بعد میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی ایسا ہی مشورہ دیا مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قبول نہ کیا۔

        حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کا مشورہ اپنی جگہ بالکل درست اور مصلحت کے مطابق تھا کیوں کہ کسی ادارے میں ایسا نہیں ہوتا کہ نیا سربراہ آتے ہی سابقہ تمام اعلی افسران کو معزول کر دے۔ اس کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں معزول کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ حالات و واقعات کے پس منظر پر غور کیا جائے تو اس فیصلے کی درج ذیل وجوہ سمجھ آتی ہیں:

        (1) ہر حکومت کی طرح خلافتِ راشدہ کو قائم رکھنے کے لیے بھی اس وقت افرادی قوت اور عوامی اعتماد کی ضرورت تھی۔ خصوصاً ان لوگوں کا بھروسہ قائم رکھنا بہت ضروری تھا جو پہلی بار بنو ہاشم کا اقتدار قائم ہونے پر خوش تھے۔ ان میں سے کچھ سردار ایسے بھی تھے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گورنروں سے عہدے چھین کر خود حاصل کرنا چاہتے تھے، کیوں کہ یہ گورنران کی حرصِ مال و جاہ کی تکمیل میں رکاوٹ بنتے آرہے تھے۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کی چالوں کو سمجھتے تھے مگر انہیں آگاہی کا تاثر نہیں دینا چاہتے تھے۔ چنانچہ آپ نے ایک درمیانی راہ اختیار کی وہ یہ کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عاملین کو معزول کر کے ان کی جگہ دوسرے صحابہ کا تقرر فرما دیا۔ اس طرح یہ قبائلی سردار بھی ایک حد تک مطمئن ہو گئے کہ ان کی بات مانی جا رہی ہے۔ دوسری طرف حکومتی نظام صحابہ ہی کے ہاتھوں میں رہا اور اعلیٰ عہدوں پر دیانت دار افراد ہی فائز رہے۔

        
        (2) آپ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گورنروں سے خدشہ تھا کہ وہ سابق خلیفہ سے غیر معمولی محبت اور ان کی مظلومانہ شہادت پر ناقابلِ تحمل رنج و غم کی وجہ سے کہیں کوئی جذباتی فیصلہ یا عاجلانہ اقدام نہ کر بیٹھیں، جس کے نتیجے میں شرعی حدود سے تجاوز ہو جائے، یا کچھ گناہ گار بننے والے مجرم تو مارے جائیں مگر اصل مجرم مزید پسِ پردہ چلے جائیں۔

        (3) شر پسندوں نے جھوٹی شہادتیں دے کر یہ مشہور کر دیا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا پورا حصہ ہے۔ مختلف صوبوں کے گورنر جو جائے واردات سے بہت دور تھے، ان افواہوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ ایسے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ سابقہ حکومت کے گورنروں کا مرکز پر اعتماد بحال نہیں ہو سکے گا اور حکومت چلانا محال ہو جائے گا۔ لہٰذا آپ نے شام اور عراق کے تمام موجود گورنروں کی برطرفی کے احکام جاری کر کے نئے لوگوں کا تقرر کر دیا جنہیں آپ پر اعتماد تھا۔ اس میں سابقہ گورنروں کی جانچ بھی تھی کہ وہ آپ کے وفادار ہیں یا نہیں۔ اگر وہ جانچ میں پورے اترتے تو انہیں متبادل ذمہ داریاں دی جا سکتی تھیں۔

        مگر آپ کا اندیشہ درست نکلا۔ گورنروں کی برطرفی کے احکام پہنچنے سے پہلے ہی شام، مصر اور عراق میں افواہوں کا بازار گرم ہو چکا تھا۔ بہت سے لوگ یقین کر چکے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ قاتلینِ عثمان کے سر پرست اور قائد ہیں اور مدینہ میں برپا ہونے والی شورش انہی کے ایماء پر تھی۔ ان دنوں افواہوں کا زور کتنا تھا، اس کا اندازہ صرف اس سے لگایئے کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو جو مکہ میں تھیں، ایک شخص نے آ کر اطلاع دی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے محاصرہ کرنے والے مصر کے لوگوں کو قتل کروا دیا ہے (جبکہ حقیقت بالکل برعکس تھی) حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس خبر سے بڑی حیران ہوئیں۔ تاہم کچھ دیر بعد انہیں دوسرے ذرائع سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع مل گئی۔ تب ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: "عجیب آدمی ہے، مقتول پر قاتل ہونے کا الزام لگاتا ہے۔"

سازشی گروہ کی چال کا کامیاب:

        افواہیں پھیلانے والے وہی لوگ تھے جنہیں اسلام اور مسلمانوں کے افتراق ہی میں اپنی کامیابی نظر آتی تھی۔ وہ بات کو بڑھا کر مسلمانوں میں خانہ جنگی کرانا اور خلافت کو دو لخت کرنا چاہتے تھے۔ اب تک اکابر صحابہ نے ایسی ہر چال کو ناکام بنا دیا تھا اور امت کسی بڑے نقصان سے دوچار نہیں ہوئی تھی۔ مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کے ذریعے سازشی عناصر کو ایک ایسا بہانہ ہاتھ آ گیا جس کے متعلق اشتعال انگیز افواہیں پھیلا کر وہ مسلمانوں کو لڑانے میں کامیاب ہو گئے۔ عراق، شام اور مصر کے صحابہ و تابعین اپنے مقام اور مرتبے کے باوجود عالم الغیب نہیں تھے کہ دور بیٹھے ہر جگہ کے حقائق سے آگاہ ہو سکتے۔ چنانچہ وہاں شکوک و شبہات کی فضا قائم ہو گئی اور رائے یہ بن گئی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی افضلیت کے باوجود ان پر اعتماد اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا جب تک وہ قتلِ عثمان سے اپنی برأت کا ثبوت  پیش نہ کریں اور یہ ثبوت صرف اس طرح دیا جا سکتا ہے کہ وہ جلد از جلد تمام باغیوں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔

        نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بھیجے ہوئے حکام کو شام اور کوفہ سے ناکام واپس آنا پڑا جبکہ مصر کے نئے گورنر حضرت قیس بن سعد رضی اللہ عنہ کو کچھ مشکل کے بعد وہاں ذمہ داریاں انجام دینے کا موقع مل گیا کیوں کہ کچھ لوگ ان کے حامی تھے اور کچھ مخالف۔ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے کسی رکاوٹ کے بغیر بصرہ پہنچ کر حکومت سنبھال لی، مگر عوامی آراء یہاں بھی متضاد تھیں۔

حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے گفتگو اور سفرِ عمرہ کی اجازت:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کو بلایا اور فرمایا:

        "میں جس بات کا اندیشہ ظاہر کر رہا تھا وہ سامنے آگئی۔ فتنے کی مثال آگ کی سی ہے، جتنا بھڑکاؤ بھڑکتی ہے۔"

        مطلب یہ تھا کہ مرکز سے لوگوں کو برگشتہ کرنے کا جو خدشہ تھا، وہ حقیقت بن گیا ہے۔ ایسے میں قصاص لینے کی کوئی عاجلانہ کارروائی کی گئی تو یہ فتنے کی آگ کو مزید بھڑکانے کے مترادف ہوگا۔ مگر حضرت طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہما مطمئن نہ ہو سکے اور آپ سے اس مسئلے کو اپنے طور پر حل کرنے کی اجازت طلب کرنے لگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

        "جب تک ممکن ہو گا میں اس بارے میں تحمل اختیار کروں گا۔ ہاں کوئی چارہ نہ ہوا تو داغنا آخری علاج ہے۔"

        آخر میں حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے سفرِ عمرہ کی اجازت طلب کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں نہ روکا۔


اہل شام سے  بیعت لینے کی ایک اور کوشش:

        اس دوران حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قاصد بھیج کر اہل شام سے  بیعت لینے کی ایک اور کوشش کی۔ انہوں نے جواب میں جو لفافہ بھیجا اس میں سادہ کاغذ تھا، یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ وہ کسی معاملے میں پہل نہیں کرنا چاہتے۔ ان کے قاصد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ اہل شام حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ قاصد کے الفاظ تھے: "میں ساٹھ ہزار افراد کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خون آلود قمیص کے پاس روتا چھوڑ آیا ہوں، جو شہید کے خون کا بدلہ لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔"

        قاصد کی گفتگو سے ظاہر تھا کہ شام میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قاتلینِ عثمان کے سرپرست ہونے کی افواہ یقین کا درجہ حاصل کر چکی ہے، لہٰذا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسی وقت اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے اس گھناؤنے جرم سے اپنی برأت ظاہر کی اور فرمایا: "الہی میں تیرے سامنے عثمان کے خون سے اپنی برأت ظاہر کرتا ہوں۔"

        مگر شام والوں کی تسلی نہ ہوئی ۔ وہاں ایک جذباتی کیفیت طاری تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا خون آلود کرتا اور حضرت نائلہ رضی اللہ عنہا کی کٹی ہوئی انگلیاں جامع مسجد دمشق میں آویزاں تھیں اور لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ لینے کے لیے تلواریں تیز کر رہے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پورے اخلاص اور آخرت میں جواب دہی کے احساس کے ساتھ یہ سمجھتے تھے کہ قاتلین عثمان سے بدلہ لیے بغیر امت اپنی ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہوسکتی۔ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری زیادہ محسوس کرتے تھے ایک تو اس لیے کہ وہ شہید مظلوم کے قریبی رشتہ دار اور بنو امیہ کے خاندانی رئیس تھے۔ دوسرے اس لیے کہ اپنے پاس موجود قوت و شوکت کے ہوتے ہوئے وہ محسوس کرتے تھے کہ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ قصاص نہیں لے رہے تو جن مسلمانوں کو عسکری و سیاسی قوت حاصل ہے، انہیں چاہیے کہ وہ اس کام کا ذمہ اٹھائیں۔

        کچھ ایسے ہی حالات مکہ مکرمہ میں تھے، جہاں حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما پہنچ چکے تھے اور پورے دردِ دل کے ساتھ قاتلین عثمان سے نمٹنے کے لیے مشورے کر رہے تھے۔ انہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سکوت اور تامل پر مبنی تدبیر سے اتفاق نہیں تھا۔ ان کا خیال تھا کہ جتنی دیر ہوتی جائے گی، مجرم ہاتھ سے نکلتے چلے جائیں گے۔ افواہیں پھیلانے والوں نے ان حضرات کے سامنے یہ افواہ بھی اڑائی تھی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل پر رضامند تھے۔ ایسی حالت میں ان حضرات کے لیے قصاص کا قضیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر چھوڑنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔

        ان حضرات کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت پر ایسا شدید صدمہ تھا جس کی تاب لانا پہاڑوں کے لیے بھی ممکن نہ تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرے کے وقت یہ ان کی کماحقہ نصرت نہیں کر پائے تھے۔ شاید اس وقت حالات کے تلاطم میں انہیں کوئی فیصلہ کرنا مشکل لگ رہا تھا اور خاص کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہاتھ روکنے کی تاکید کے بعد انہیں کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔ مگر اب انہیں سخت قلق تھا کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دفاع کے لیے کچھ نہ کر پائے۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: "ہم عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے میں (باغیوں کے خلاف) سکوت سے کام لیتے رہے، مگر اب ضروری ہے کہ ہم سختی اختیار کریں۔" کبھی فرماتے تھے: "عثمان رضی اللہ عنہ کے معاملے میں تلافی کا ذریعہ اس کے سوا کچھ سمجھ نہیں آتا کہ ان کے قصاص کی کوشش میں میرا خون بہہ جائے۔"

        کبھی کہتے: "الہی! کیا میرے بدن کا سارا لہو، عثمان کے ایک قطرہ خون کا بدلہ بن سکے گا۔"

        یہی کیفیت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی تھی جنہیں حج سے واپسی پر مدینہ جاتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع ملی تھی، وہ مکہ لوٹ آئی تھیں، وہ اس حادثے سے سخت کبیدہ خاطر تھیں۔ وہ حضرات طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کی فکر و تدبیر میں شریک ہو گئیں اور مسجد الحرام کے صحن میں پردہ لگوا کر مسلمانوں کے اجتماع سے خطاب کیا، جس میں قاتلین عثمان پر شدید تنقید کرتے ہوئے فرمایا:

        "جب ان لوگوں کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف کوئی بہانہ اور دلیل نہ رہی تو مکمل ظلم و ستم پر اتر آئے اور عثمان رضی اللہ عنہ کا خون بہادیا، حرم مدینہ کی حرمت پامال کی، ناجائز لوٹ مار کی، ذی الحجہ کے محترم مہینے کی بے حرمتی کی۔ اللہ کی قسم! ان جیسے لوگوں سے ساری دنیا بھر جائے، تب بھی عثمان رضی اللہ عنہ کی ایک انگلی ان سے افضل ہے۔ نجات کا راستہ یہی ہے کہ ان کے خلاف متحد ہو کر انہیں دوسروں کے لیے نشان عبرت بنا دو۔"

        اس پر اثر تقریر نے مکہ مکرمہ میں قصاص کی تحریک کو تقویت دی، حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اس تحریک کی سرپرست تھیں، جبکہ اصل قائد حضرت طلحہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہما تھے۔ حضرت طلحہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہما نے طے کیا کہ کوفہ یا بصرہ جا کر وہاں اپنے عقیدت مندوں اور ہم فکر ساتھیوں کو جمع کیا جائے۔

        ان حضرات کا مقصد عوامی ذہن سازی اور عسکری اجتماعیت کے ذریعے ایسا ماحول  پیدا کرنا تھا جس سے فتنہ پرور لوگوں کے حوصلے پست ہو جائیں اور ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اگرچہ اس قسم کی جدوجہد میں کسی مرحلے پر حکام سے تصادم کی نوبت آجانا ہرگز بعید نہ تھا، تاہم حضرت طلحہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہما حتی الامکان حکومت سے ٹکرانا نہیں چاہتے تھے۔ وہ اب بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو نہ صرف مسلمانوں کا شرعی امیر مانتے تھے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی تاکید کر رہے تھے۔ بصرہ کے رئیس حضرت احنف بن قیس جب حضرت طلحہ و حضرت زبیر رضی اللہ عنہما اور پھر حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ملے اور پوچھا: "کس سے  بیعت کروں؟" تو تینوں نے ایک ہی جواب دیا: "علی رضی اللہ عنہ سے۔"

        مکہ مکرمہ میں سعید بن العاص، ولید بن عقبہ، یمن کے سابق گورنر یعلیٰ بن امیہ اور بصرہ کے سابق گورنر عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہم اس لائحہ عمل پر متفق ہو گئے۔ اور یہ قافلہ جس میں چھ سو افراد تھے، مکہ سے عراق روانہ ہو گیا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شام روانگی ملتوی، عراق جانے کا فیصلہ:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ اہل شام کے خلاف لشکر کشی کا اعلان کر چکے تھے، اس بارے میں انہوں نے اپنے قریبی ساتھیوں کی مخالفت کو بھی نظر انداز کر دیا تھا مگر اس لشکر کشی کی کوئی خاص تیاری نہ ہوسکی اور کوچ میں تاخیر ہوتی رہی، یہاں تک کہ مکہ سے حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما کے بصرہ کی طرف کوچ کی خبر آئی۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کا تعاقب کر کے انہیں روکنے کا ارادہ ظاہر کیا اور شام کے بجائے مکہ جانے والی شاہراہ کی طرف نکلے۔ رفقاء اس اقدام سے روکتے رہے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے بھی خدشات کا اظہار کیا اور رائے دی کہ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما کو قاتلین عثمان سے نمٹ لینے دیا جائے۔

        حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے گھوڑے کی لگام پکڑ کر کہا: "امیر المومنین! یہاں سے مت جائیے، اگر آپ گئے تو یہاں مسلمانوں کا حکمران پھر کبھی نہیں لوٹے گا۔" مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کسی کی بات نہ مانی۔

        مدینہ منورہ سے نکل کر آپ رضی اللہ عنہ مکہ جانے والی شاہراہ پر تین میل (پونے پانچ کلومیٹر) دور جا کر "ربذہ" میں ٹھہر گئے۔ پانچ، چھ دن بعد جب پتا چلا کہ مکی قافلہ بصرہ کی طرف نکل گیا ہے تو آپ رضی اللہ عنہ نے سیدھے کوفہ جانے کا ارادہ کر لیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے وہاں جانے پر خدشات کا اظہار کیا مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کے خدشات کا وزن ماننے کے باوجود کوفہ جانا بہتر قرار دیا، کیوں کہ عراق کے حالات اس حد تک پہنچ گئے تھے کہ مدینہ میں بیٹھ کر انہیں کنٹرول کرنا ممکن نہیں تھا۔ مکہ جانے والے قافلے کی حکمتِ عملی کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا:

        "ان حضرات نے یہی طرز اختیار کیا تو مسلمانوں کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔"

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic