سیرتِ مصطفیٰؐ کا پیغام
مفکرِ اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ
"اگر مسلمان صرف تجارت کے لیے پیدا کیے جا رہے تھے تو مکہ کے ان تاجروں کو جو شام و یمن کا تجارتی سفر کیا کرتے تھے اور مدینہ کے ان بڑے یہودیوں، سوداگروں کو یہ پوچھنے کا حق تھا کہ اس خدمت کے لیے ایک نئی اُمّت کیوں پیدا کی جارہی ہے؟
اگر زراعت مقصود تھی تو مدینہ اور خیبر کے، طائف اور نجد کے، شام، یمن اور عراق کے کاشتکاروں اور زراعت پیشہ آبادی کو یہ پوچھنے کا حق تھا کہ کاشت کاری اور زراعت میں ہم محنت و کوشش کا کون سا دقیقہ اٹھا رکھتے ہیں کہ جس کے لیے ایک نئی اُمّت کی بعثت ہو رہی ہے؟
اگر دنیا کی چلتی ہوئی مشینری میں صرف فٹ ہونا تھا اور حکومتوں کے نظم و نسق اور دفتری کاروبار کو معاوضہ لے کر چلانا تھا تو روم و ایران کے کارپردازانِ سلطنت کو یہ کہنے کا حق تھا کہ اس فرض کی انجام دہی کے لیے ہم بہت ہیں اور ہمارے بہت سے بھائی بیروزگار ہیں، اس کے لیے نئے امیدواروں کی کیا ضرورت ہے؟
لیکن در حقیقت مسلمان بالکل ہی ایک نئے اور ایسے کام کے لیے پیدا کیے جا رہے تھے، جو دنیا میں نہ کوئی اور انجام دے رہا تھا اور نہ دے سکتا تھا اور اس کے لیے ایک نئی اُمّت ہی کی بعثت کی ضرورت تھی۔
چنانچہ فرمایا:
"تم بہترین اُمّت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی، بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔"
اسی مقصد کی خاطر لوگ وطن سے بے وطن ہوئے، اپنے کاروبار کو نقصان پہنچایا، اپنی عمر بھر کا اندوختہ لٹایا، اپنی جمی جمائی عمارتوں پر پانی پھیرا، اپنی کھیتی باڑی اور باغات کو ویران کیا، اپنے عیش و تنعم کو خیر باد کہا، دنیا کی تمام کامیابیوں اور خوش حالیوں سے آنکھیں بند کرلیں اور زریں موقعے کھو دیئے، پانی کی طرح اپنا خون بہایا اور اپنے بچوں کو یتیم اور اپنی عورتوں کو بیوہ کیا۔
آج مسلمان جن مقاصد و مشاغل پر قانع نظر آتے ہیں ان کے لیے اس ہنگامہ آرائی اور اس محشر خیزی کی ضرورت نہ تھی، اس کے حصول کا راستہ تو بالکل بے خطر اور ہموار تھا۔ اگر مسلمان کو اسی سطح پر آ جانا تھا جس پر زمانہ بعثت کی تمام اُمّتیں تھیں اور اس وقت بھی دنیا کی تمام غیر مسلم آبادی ہے اور اگر اسے زندگی کے انہی مشاغل میں منہمک اور سرتا پا غرق ہو جانا تھا، جن میں اہلِ مغرب اور رومی و ایرانی ڈوبے ہوئے تھے اور انہی کامیابیوں کو اپنا انتہائے زندگی بنانا تھا جن کو ان کے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بہترین موقع پر رد کر چکے تھے تو یہ اسلام کی ابتدائی تاریخ پر پانی پھیر دینے کے مترادف ہے اور اس بات کا اعلان ہے کہ انسانوں کا وہ بیش قیمت خون جو بدر و حنین و احزاب اور قادسیہ و یرموک میں بہایا گیا، بے ضرورت بہایا گیا۔
آج اگر سردارانِ قریش کو کچھ بولنے کی طاقت ہو تو وہ مسلمانوں کو خطاب کر کے یہ کہہ سکتے ہیں کہ تم جن چیزوں کے پیچھے سرگرداں ہو اور جن چیزوں کو تم نے اپنا حاصلِ زندگی سمجھ رکھا ہے انہی چیزوں کو ہم گناہ گاروں نے تمہارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سامنے پیش کیا تھا، وہ تمام چیزیں خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر حاصل ہوسکتی تھیں تو کیا ساری جدوجہد کا حاصل اور ان تمام قربانیوں کی قیمت وہ طرزِ زندگی ہے جس کو تم نے اختیار کیا ہے، اور کیا ان کاوشوں کا بدلہ زندگی و اخلاق کی وہی سطح ہے جس پر تم نے قناعت کر لی ہے؟؟ اگر ان سردارانِ قریش میں سے جو اسلام کے حریف تھے، کسی کو یہ جرح کرنے کا موقع ملے تو آج ہمارا کوئی بڑے سے بڑا لائق وکیل بھی اس کا تشفی بخش جواب نہیں دے سکتا اور انفعال کے لیے اس پر شرمندہ ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلمانوں کے متعلق یہ خطرہ تھا کہ وہ دنیا میں پڑ کر اپنا اصل مقصد نہ بھول جائیں اور دنیا کی عام سطح پر نہ آ جائیں، آپؐ نے وفات کے قریب جو تقریر فرمائی اس میں مسلمانوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا:
"مجھے تمہارے بارے میں کچھ فقر و افلاس کا خطرہ نہیں ہے۔ مجھے تو اس کا اندیشہ ہے کہ کہیں دنیا میں تم کو بھی وہی کشائش نہ حاصل ہو جائے جیسی تم سے پہلے لوگوں کو حاصل ہوئی تو تم بھی اسی طرح اس میں حرص و مقابلہ کرو جیسے انہوں نے کیا، پھر تمہیں بھی ہلاک کر دیا جائے جیسے ان کو ہلاک کر دیا گیا۔"
مسلمانوں کی اصل شناخت یہی ہے کہ یا تو اسلام کی دعوت اور عملی جدوجہد میں مشغول ہوں یا اس دعوت و عملی جدوجہد میں مشغول ہونے والوں کے لیے پشت پناہ اور مددگار ہوں، اس کے ساتھ عملی جدوجہد میں حصہ لینے کا عزم اور شوق ہو۔ مطمئن شہری اور محض کاروباری زندگی اسلامی زندگی نہیں اور کسی طرح بھی یہ ایک مسلمان کا مقصودِ حیات نہیں ہوسکتا۔ سیرتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ سب سے بڑا پیغام ہے، جو خالص مسلمانوں کے نام ہے۔"

