Fateh-e-Baitul Muqaddas aur Khilafat-e-Farooqi ke Aham Waqiat

شمالی شام میں

        جن دنوں قادسیہ اور مدائن میں ساسانیوں کے تاج و تخت الٹے جا رہے تھے، شام میں بازنطینیوں کا سورج بھی غروب ہورہا تھا۔ جنگ یرموک کے بعد سنہ ۱۵ ہجری میں حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ نے تیزی سے شمال کی طرف  پیش قدمی کی اور حضرت خالد بن ولیدؓ کو "قِنّسرین" پر یلغار کا حکم دیا جہاں قیصر ہرقل کا نائب السلطنت میناس خود موجود تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے کھلے میدان میں رومیوں کو شکست دے کر میناس کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور قنّسرین کو زیرِ نگین کر کے قیصر کی تلاش میں شام کی آخری حدود تک بڑھتے چلے گئے۔مگر قیصر شام کو ہمیشہ کے لیے الوداع کہہ کر قسطنطنیہ جاچکا تھا۔اس کے بعد رومیوں نے بھی بڑے بڑے قلعے خالی کردیے اور شہروں سے فوجیں نکال لیں۔حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ نے کسی خاص مزاحمت کا سامنا کیے بغیر اسی سال شام کے شمالی صوبوں حلب اور انطاکیہ کو بھی فتح کر لیا۔


فتح  بیت المقدس:

        غرض حضرت عمر فاروقؓ کی خلافت کو ابھی تین سال بھی پورے نہیں ہوئے تھے کہ شام میں حمص، دمشق، حلب، انطاکیہ اور قنّسرین جیسے بڑے بڑے شہر فتح ہو چکے تھے۔ تاہم بیت المقدس کے محل وقوع اور اس کی مذہبی و تاریخی اہمیت کے پیش نظر اس کی فتح کو مؤخر کیا جاتا رہا تاکہ یہاں کشت و خون کے بغیر قبضہ کیا جاسکے۔

        شام میں مسلمانوں کے سپہ سالارِ اعلیٰ حضرت ابو عبیدہؓ کے ماتحت سالاروں میں حضرت عمرو بن العاصؓ بھی تھے جو حضرت ابو بکر صدیقؓ کے دور سے فلسطین کے محاذ پر تعینات تھے۔ جب قبلہ اول کی بازیابی کے لیے یلغار کا فیصلہ ہوا تو حضرت ابو عبیدہؓ حمص سے خود حضرت عمرو بن العاصؓ کے پاس فلسطین چلے آئے۔ حضرت خالد بن ولید، حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ جیسے صحابہ کرام بھی اس محاذ پر جمع ہو گئے۔

        سنہ ۱۶ ہجری میں اس مقدس شہر کا محاصرہ کر لیا گیا، مقامی عیسائیوں نے مقابلہ بے سود سمجھتے ہوئے صلح کی شرائط پیش کر دیں۔ چونکہ یہ مقام عیسائیوں، یہودیوں اور مسلمانوں تینوں کے لیے انتہائی مقدس حیثیت رکھتا تھا اس لیے شہر کے عمائد نے خواہش ظاہر کی کہ مسلمانوں کے سربراہ خود تشریف لا کر یہاں صلح کے معاہدے کی منظوری دیں تاکہ بعد میں مختلف اقوام کے درمیان کوئی غلط فہمی  پیدا ہونے نہ پائے۔ مسلمان خود بھی اس بابرکت شہر میں خون ریزی نہیں چاہتے تھے، اس لیے فوراً حضرت عمرؓ کی طرف قاصد دوڑایا، آپ نے صحابہ کرامؓ سے مشورہ کیا کیوں کہ اس میں یہ احتمال بھی تھا کہ صرف ایک شہر کی فتح کے لیے مسلمان سربراہ کا خود چل کر آنا منصبِ خلافت کے رعب و داب کو متاثر نہ کرے، مگر حضرت علیؓ کی رائے پر فیصلہ ہوا جو امیر المومنین کے  بیت المقدس تشریف لے جانے کو بہتر بتا رہے تھے۔

        آخر جب سنہ ۱۶  ہجری میں حضرت عمر فاروقؓ، حضرت علیؓ کو اپنا نائب بنا کر مدینہ طیبہ سے اس طرح  بیت المقدس روانہ ہوئے کہ تنہا ایک اونٹ پر سوار تھے، کوئی محافظ دستہ ساتھ نہ تھا نہ درباریوں اور خادموں کی فوج۔ کوئی چیز تھی نہ عمامہ، صحرائے عرب میں آپ اس طرح سفر کرتے رہے کہ سورج کی تیز شعاعیں بدن کو جھلسائے  دیتی تھیں۔ آرام کے وقت آپ اونٹ کی زین اتارتے اور اسے تکیہ بنا لیتے، اپنی اونی چادر بچھا کر اس پر سو جاتے۔

        شام کی سرحدوں میں داخل ہونے تک آپ کی قمیص میلی ہو چکی تھی بلکہ پھٹ بھی گئی تھی۔ شام کے امرائے فوج کو طے شدہ دن میں دمشق کے قریب "جابیہ" کے مقام پر آپؓ سے ملاقات کے لیے جمع ہونے کی ہدایت بھیج دی گئی تھی۔ آپ  بیت المقدس کو بائیں ہاتھ پر چھوڑتے ہوئے شمال کا سفر کرتے ہوئے سیدھا "جابیہ" کی طرف جا رہے تھے۔ دمشق کی خوشنما آبادیاں، باغ اور مکانات دیکھے تو بے ساختہ یہ آیات تلاوت فرمائیں:

﴿كَمْ تَرَكُوْا مِنْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ ◌ وَّ زُرُوْعٍ وَّ مَقَامٍ كَرِيْمٍ ◌ وَّ نَعْمَةٍ كَانُوْا فِيْهَا فٰكِهِيْنَ ◌ كَذٰلِكَ وَ اَوْرَثْنٰهَا قَوْمًا اٰخَرِيْنَ﴾
(وہ لوگ چھوڑ گئے کتنے ہی باغ اور چشمے، اور کھیتیاں اور عمدہ مکانات، اور آرام کے سامان جن میں 
وہ خوش رہا کرتے تھے اسی طرح ہوا اور ہم نے ایک دوسری قوم کو اس کا وارث بنا دیا)۔

        راستے میں ایک یہودی نے اچانک آپ کو دیکھا اور غالباً اپنی مذہبی روایات کی بنا پر فوراً پہچان لیا اور بولا:

        "اے فاروق! تم ہی بیت المقدس کے فاتح ہو۔"

        حضرت عمر فاروقؓ جب شام پہنچے تو مسلمان سپاہی آپ کے منتظر تھے، آپ صرف ایک چادر پہنے، عمامہ اور موزے پہنے اپنے اونٹ کی لگام تھامے پانی کے چشموں اور تالابوں سے گزر کر ان کی طرف آ رہے تھے۔ کسی نے کہا:

        "امیر المؤمنین! یہاں شام کی افواج اور عیسائی پادری آپ کے استقبال کے لیے کھڑے ہیں اور آپ کی یہ حالت؟

        " آپ نے فرمایا: "اِنَّا قَوْمٌ اَعَزَّنَا اللهُ بِالْاِسْلَامِ فَلَنْ نَبْتَغِی الْعِزَّةَ بِغَیْرِهٖ"
"ہم وہ قوم ہیں جسے اللہ نے عزت اسلام کی وجہ سے دی،
 پس ہم عزت کسی اور چیز میں تلاش نہیں کریں گے۔"

        جابیہ پہنچے تو مسلمان آپ کے لیے بے چینی سے منتظر تھے۔ حضرت ابو عبیدہ، حضرت خالد بن ولید اور حضرت یزید بن ابی سفیانؓ نے آپ کا استقبال کیا۔ آپ نے یہاں سالاران فوج سے ایک مؤثر خطاب کیا جس میں فرمایا:

        "اپنے دل کو درست رکھو، ظاہر بھی درست ہو جائے گا۔ ہر کام آخرت کی نیت سے کرو، دنیا بھی سنور جائے گی۔ جو جنت میں جانے کی تمنا رکھے وہ مسلمانوں کی اجتماعیت میں گزارے کہ اکیلے کے ساتھ شیطان شریک ہو جاتا ہے۔"

        جابیہ ہی میں  بیت المقدس کے نصرانی عمائد بات چیت کے لیے آئے، چونکہ حضرت عمرؓ کا لباس اور سواری بہت معمولی تھے، اس لیے سالارانِ فوج نے چاہا کہ آپ موقع کے مطابق گھوڑے پر سوار ہوں اور عمدہ پوشاک پہن کر ان لوگوں کے سامنے جائیں مگر آپؓ نے سختی سے منع کر دیا اور فرمایا:

        "اللہ تعالیٰ نے ہمیں اسلام کی بدولت جو عزت دی ہے ہمارے لیے وہی کافی ہے۔"

        حضرت عمرؓ نے ان حضرات کی دی ہوئی پوشاک صرف تھوڑی دیر کے لیے پہنی وہ بھی صرف اس لیے کہ اس دوران آپ کی قمیص کو دھویا گیا اور اس کی پھٹن پر پیوند لگائے گئے، پھر آپ نے وہی  پیوند لگی قمیص پہن لی۔

        اس سادہ وضع قطع میں بیت المقدس کے عمائد سے گفتگو کی، صلح کے امور طے پائے اور درج ذیل معاہدے پر دستخط کیے گئے:

        "اللہ کے بندے امیر المؤمنین عمر کی طرف سے ایلیاء (بیت المقدس) والوں کے لیے جان و مال کی امان ہے۔ ان کے گرجے، صلیبیں اور پوری قوم سب مامون ہیں۔ ان کی عبادت گاہوں کو نہ کوئی رہائش گاہ بنائے گا نہ ان کو منہدم کیا جائے گا، نہ ان کی تعمیرات اور احاطے میں کمی کی جائے گی، نہ ان کی صلیبیں اور اموال چھینے جائیں گے، دین بدلنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا، کسی کو کچھ نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ بیت المقدس کے باشندوں پر لازم ہوگا کہ وہ دوسرے شہر والوں کی طرح جزیہ ادا کریں۔ ان پر یہ بھی لازم ہے کہ رومی (سپاہیوں اور عملے) کو شہر سے نکال دیں۔"

        معاہدے کے مطابق مقامی باشندوں نے تین دن کے اندر رومی سپاہیوں کو شہر سے نکال دیا اور حضرت عمرؓ قبلہ اول کی زیارت کے لیے تشریف لے چلے۔ راستے میں ایک نہر آئی تو آپ نے موزے اتار کر ہاتھ میں لیے اور اونٹ سے اتر کر  پیدل اسے پار کرلیا۔ حضرت ابو عبیدہؓ نے حیران ہوکر فرمایا:

        "آپ کا اس طرح کرنا مقامی لوگوں کی نگاہوں میں بہت معیوب ہوگا۔"

        آپؓ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: "ابو عبیدہ! ایسی بات تم کہہ رہے ہے! بھول گئے تم لوگ دنیا میں سب سے بے قدر، کمزور اور گرے ہوئے تھے، اللہ نے صرف اسلام کی بدولت تمہیں عزت دی ہے۔ پس اب تم جب بھی اسلام کو چھوڑ کر کسی چیز میں عزت ڈھونڈو گے اللہ تمہیں پھر ذلیل کر دے گا۔"

        آپ نے مسجد میں جا کر محرابِ داؤد کے پاس دو رکعت تحیۃ المسجد ادا کی۔

        قبلہ اول یعنی صخرۂ مقدسہ کو رومیوں نے گندگی اور نجاست کا ڈھیر  بنا رکھا تھا،وجہ صرف یہ تھی کہ یہ یہودیوں کا قبلہ تھا، عیسائی یہودیوں کو جلانے کے لیے یہ حرکت کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ صخرہ مقدسہ کو تلاش کرنے لگے تو حضرت کعب احبار نے جو ایک یہودی عالم تھے اور ابھی ابھی مسلمان ہوئے تھے، آپ کو اشارے سے بتایا کہ صخرہ مقدسہ  یہاں ہے۔ ساتھ ہی یہ تجویز  پیش کی کہ یہاں نئی مسجد اس طرح تعمیر کرائیں کہ محراب صخرہ کے پیچھے ہو تا کہ ایک ہی وقت میں  یہاں کے نمازی کعبہ کے ساتھ ساتھ قبلہ اول کا رخ بھی کر سکیں مگر حضرت عمرؓ نے اسے ناپسند کیا اور مقدس چٹان کے آگے اس طرح مسجد بنانے کا حکم دیا کہ نمازیوں کا رخ کعبہ کی طرف اور پشت صخرہ مقدسہ کی طرف رہے تا کہ یہودیوں سے مشابہت کا کوئی ذرا سا بھی امکان نہ رہے۔

        حضرت عمرؓ کے حکم سے صخرہ مقدسہ سے کوڑا کرکٹ ہٹایا جانے لگا۔ ابتدا آپ نے خود کی، اپنی چادر پھیلا کر اس میں کچرا اٹھانے لگے، دوسرے حضرات بھی لپکے۔ یوں اس جگہ کو پاک صاف کیا گیا اور سامنے مسجد تعمیر کی گئی جو آج تک "مسجدِ عمر" کے نام سے مشہور ہے۔ اسی کو مسجد اقصیٰ کہا جاتا ہے۔

        حضرت عمرؓ کچھ دن شام ٹھہرے اور پھر سنہ ۱۷ ہجری کے آغاز میں واپس مدینہ منورہ تشریف لے آئے۔

قیصر کی آخری کوشش:

        بیت المقدس کی فتح کے بعد رومیوں کی ساری امیدیں خاک میں مل گئی تھیں۔ خود قیصر ہرقل شام میں دوبارہ مداخلت سے مایوس تھا مگر سنہ ۱۷ ہجری میں الجزیرہ کے حکام اور باشندوں نے اسے اپنے تعاون کا یقین دلا کر ازسرِ نو مسلمانوں سے لڑنے پر ابھارا۔ چنانچہ قیصر نے اپنے ایشیائی دارالحکومت حمص کو واپس لینے کے لیے آخری کوشش کے طور پر ایک عظیم الشان لشکر روانہ کیا جس نے حمص کا محاصرہ کر لیا۔ الجزیرہ کے نصرانی بھی تیس ہزار کا لشکر لے کر ان کی مدد کو نکل پڑے۔ یوں شام میں مسلمانوں کے مفتوحہ علاقے سخت خطرے کی زد میں آ گئے۔

        حضرت عمرؓ نے اس نئے طوفان کے مقابلے کے لیے ایک طرف تو الجزیرہ کی شاہراہوں پر فوج تعینات کرکے وہاں سے نکلنے والے تیس ہزار رومیوں کی کمک کو روک دیا۔ ساتھ ہی عراق سے کمک منگوا کر شام کے دفاع کو مضبوط کیا اور خود سفر کر کے دمشق تشریف لے گئے تاکہ مسلمانوں کے حوصلے بلند رہیں، ان ہمہ جہت تدابیر کی بدولت رومی کمزور پڑ گئے اور آخر میں حضرت ابو عبیدہؓ نے حمص کا محاصرہ کرنے والے عیسائی لشکر کو کھلے میدان میں شکست دے کر مار بھگایا۔ اس کے بعد شام میں عیسائیوں کو دوبارہ کبھی شورش برپا کرنے کی ہمت نہیں ہوئی، چونکہ اس شورش کی بنیاد الجزیرہ کے شر پسندوں نے رکھی تھی اس لیے اس کے بعد مسلمانوں نے بھی الجزیرہ اور پھر آرمینیا کی طرف قدم بڑھانے میں دیر نہ کی۔ مہمات کے اسی سلسلے میں تکرِیت اور قَیصاریہ فتح ہوئے۔ یہ ۱۹ھ کے واقعات ہیں۔ قیصاریہ حضرت معاویہؓ کے ہاتھوں فتح ہوا تھا۔

حضرت خالد بن ولیدؓ کی معزولی اور اس کی اصل وجہ:

        بیت المقدس کی فتح کے کچھ عرصے بعد سنہ ۱۷ ہجری میں حضرت عمرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو سالاری کے عہدے سے معزول کر دیا۔ بعض مؤرخین کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ حضرت عمرؓ نے خلیفہ بنتے ہی سنہ ۱۳ ہجری میں حضرت خالدؓ کو معزول کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ بعض کا گمان ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ حضرت خالدؓ کے شروع سے مخالف تھے یا انہیں نااہل تصور کرتے تھے، حالانکہ یہ باتیں سراسر غلط ہیں۔ نہ حضرت عمرؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کو سالاری سے فوراً معزول کیا تھا، نہ وہ ان کے مخالف تھے، نہ ہی ان کی اہلیت اور قابلیت میں انہیں کوئی شبہ تھا۔ شبہ ہو بھی کیسے سکتا تھا جبکہ خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالدؓ کو "سیف من سیوف اللہ" (اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار) کا خطاب عطا فرمایا تھا۔

        اس معاملے میں پہلی بات جو سمجھنے کے قابل ہے، یہ ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے سنہ ۱۳  ہجری میں خلیفہ بننے کے فوراً بعد حضرت خالد بن ولیدؓ کی جگہ حضرت ابو عبیدہؓ کو سپہ سالارِ اعلیٰ بنانے کا جو حکم جاری کیا تھا اس میں حضرت خالدؓ کے معزول ہونے کا کوئی سوال ہی  پیدا نہیں ہوتا تھا، کیوں کہ حضرت خالدؓ سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ کے نامزد کردہ کئی سالاران لشکر کی طرح ایک لشکر کے امیر تھے، یہ سب لشکر الگ الگ امراء کے تحت شام میں لڑ رہے تھے۔ جب جنگ اجنادین میں رومیوں کی کثرت کے باعث مسلمانوں کے سب لشکر ایک جگہ جمع ہوئے تو سوال اٹھا کہ سب سالار اب کس کے ماتحت ہوں گے؟ اس موقع پر سب کے اتفاق سے وقتی ضرورت کے  پیش نظر حضرت خالد بن ولیدؓ کو سالارِ اعظم مان لیا گیا۔ یہ ترتیب اگرچہ وقتی تھی مگر یرموک کی پہلی لڑائی میں بھی اس کو برقرار رکھا گیا۔ اس دوران حضرت عمرؓ خلیفہ بنے تو انہوں نے ضرورت محسوس کی کہ شام کے محاذ کی مختلف اسلامی افواج کا ایک سالارِ اعظم دربارِ خلافت کی طرف سے طے ہونا چاہیے۔ اس کے لیے انہوں نے حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ کو مقرر کیا۔ حضرت خالدؓ چونکہ عارضی یا عبوری سپہ سالار تھے جو دربارِ خلافت کے مستقل سالارِ اعظم کی تقرری تک کے لیے طے کیے گئے تھے، اس لیے جوں ہی یہ حکم نامہ آیا تو وہ فوراً حضرت ابو عبیدہؓ کی کمان میں آگئے اور اپنی سابقہ حیثیت یعنی ایک خاص فوج کے سالار کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

        ہاں، یہ درست ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے بعد میں حضرت خالد بن ولیدؓ کو معزول کیا تھا یہ خلافت فاروقی کے چوتھے سال سنہ ۱۷ ہجری کا واقعہ ہے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ حضرت عمر فاروقؓ نے دیکھا کہ حضرت خالدؓ جس بھی جنگ میں شرکت کرتے ہیں مسلمان فتح یاب ہوتے ہیں، چنانچہ عام ذہن یہ بن گیا تھا کہ ان کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کو شکست نہیں ہوسکتی۔ حضرت عمرؓ کو مسلمانوں کے نہ صرف عقائد و نظریات بلکہ خیالات اور رجحانات کو بھی درست رکھنے کا بڑا خیال رہتا تھا۔ آپ بد اعتقادی کا باعث بننے والی کسی معمولی سے شے کو بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔ جب آپ نے یہ خطرہ محسوس کیا کہ حضرت خالد بن ولیدؓ کی یہ شہرت ابتداء میں شخصیت پرستی اور بعد میں بد عقیدگی کا سبب بن سکتی ہے تو آپ نے حضرت خالدؓ کی عبقری شخصیت سے اسلام کو خاصا فائدہ پہنچانے کے بعد ایک موقع پر یہ فیصلہ کر لیا کہ اب "سیف اللہ" کو معزول کردینے میں کوئی حرج نہیں۔ اس اسلام کے بے لوث سپاہی نے بے مثال اطاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس فیصلے کو قبول کر لیا اور بعد میں ایک عام سپاہی کی طرح لڑتے رہے۔

        بعض مؤرخین نے معزولی کی ایک وجہ یہ بیان کی ہے کہ حضرت خالد بن ولیدؓ نے ایک شاعر کا قصیدہ سن کر اسے انعام میں ایک ہزار درہم دے ڈالے تھے، حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا تو ناراض ہو کر کہا:

        "اگر انہوں نے  بیت المال سے دیے ہیں تو یہ بدعنوانی ہے، اپنی جیب سے دیے ہیں تو فضول خرچی ہے۔"

        مگر اسی روایت میں آگے یہ وضاحت بھی ہے کہ تحقیق سے معاملہ واضح ہو گیا تھا کہ حضرت خالدؓ نے یہ رقم اپنی جیب سے دی ہے۔ ظاہر ہے یہ کوئی گناہ نہیں تھا۔ ہاں حضرت عمر فاروقؓ نے اسے پسند نہیں فرمایا تھا کیوں کہ ان کا مزاج بہت محتاط تھا مگر اس سے حضرت خالدؓ پر کوئی الزام عائد نہیں ہوتا۔ پھر کمال یہ ہے کہ حضرت خالدؓ نے اس نامناسب خرچ کی تلافی کے لیے  بیت المال میں اتنی ہی رقم جمع کرا دی جس سے حضرت عمرؓ بہت خوش ہوئے۔ سب سے آخری بات جو تمام شکوک کا ازالہ کرتی ہے وہ معزولی کے فیصلے کے بعد حضرت عمرؓ کے یہ الفاظ ہیں:

        "اے خالد! تم میرے نزدیک بڑے معزز ہو۔ تم میرے  پیارے دوست ہو۔"

        یہی نہیں بلکہ حضرت عمرؓ نے مسلمانوں کو حضرت خالد بن ولیدؓ کے کردار کے بارے میں شکوک و شبہات سے بچانے کے لیے پوری مملکت میں یہ اعلان کرایا:

        "میں نے خالد کو کسی ناراضگی یا بدعنوانی کی وجہ سے معزول نہیں کیا بلکہ بات یہ ہے کہ لوگ ان کے گرویدہ اور ان پر فریفتہ ہو رہے تھے۔ مجھے خوف محسوس ہوا کہ لوگ انہی پر بھروسہ کرنے لگیں گے، پس میں نے چاہا کہ لوگ یہ جان لیں کہ سب کچھ کرنے والی ذات صرف اور صرف اللہ کی ہے اور میں نے چاہا کہ لوگ کسی فتنےمیں مبتلا ہونے سے بچ جائیں۔"

قحط سالی:

        فتوحات اور برکات کے اس امنگوں بھرے زمانے میں امت مسلمہ کو دو قدرتی آفات کا سامنا کرنا پڑا، یہ اللہ کی طرف سے مسلمانوں کی ہمت و فراست کی آزمائش اور ان کے صبر و تحمل کا امتحان تھا۔ پہلی آزمائش سنہ ۱۸ ہجری میں پڑنے والی شدید قحط سالی تھی، جس کی وجہ سے جزیرۃ العرب کے باشندوں کی زندگیاں داؤ پر لگ گئیں، بارشیں بالکل بند ہوگئیں اور ہر طرف خاک اڑنے لگی۔ حضرت عمرؓ قحط زدگان کے لیے اتنے فکر مند تھے کہ جب تک خشک سالی رہی آپ نے گھی، دودھ یا گوشت چکھا تک نہیں۔ بھوک کی وجہ سے لوگوں کی یہ حالت تھی کہ چہروں کے رنگ راکھ جیسے ہو گئے تھے، اس لیے اس سال کو عام الرمادہ (راکھ والا سال) کہا جاتا ہے۔ آخر حضرت عمرؓ نے لوگوں کو جمع کر کے مشورہ کیا اور اس کے مطابق شام اور عراق کے گورنرز کو خطوط بھیج کر غلے کے قافلے منگوائے، حضرت ابو عبیدہؓ نے چار ہزار اونٹ اناج سے لدے ہوئے روانہ کیے۔

        ان دنوں قبیلہ مُزینہ کے ایک دیہاتی نے بھوک سے تنگ آ کر اپنی پالتو بکری کو جو دیکھنے میں بھی بہت کمزور تھی ذبح کیا، مگر جب کھال اتاری تو اندر سے صرف ہڈیاں نکلیں۔ یہ دیکھ کر وہ دیہاتی کے منہ سے چیخ نکلی "ہائے محمد صلی اللہ علیہ وسلم" (وہ ہوتے تو ایسا نہ ہوتا)۔ جب وہ سویا تو خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی زیارت ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

        "عمر کو میرا سلام کہو اور ان سے کہو کہ تم عہد کے پابند اور بات کے پکے آدمی ہو، تمہیں کیا ہو گیا، عقلمندی اختیار کرو۔"

        وہ دیہاتی حضرت عمرؓ کے دروازے پر پہنچا اور ان کے غلام سے کہا:

        "میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کا قاصد ہوں، مجھے اندر جانے کی اجازت دو۔" حضرت عمرؓ سے مل کر اس نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کا  پیغام سنایا تو حضرت عمرؓ سمجھ گئے کہ یہ نمازِ استسقاء کی سنت کو تازہ کرنے کی طرف اشارہ ہے۔

        آپ صلی اللہ علیہ وسلم  کی سنت کے مطابق نمازِ استسقاء کے لیے مدینہ منورہ کی آبادی کو لے کر جنگل میں نکل گئے، حضرت عباس بن عبدالمطلبؓ کو اپنے ساتھ رکھا اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر بڑی عاجزی سے دعا کی۔

        تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ افق پر سے بادل نمودار ہوئے جن میں گرج چمک کے ساتھ یہ آواز گونج رہی تھی:

آتَاکَ الْغَوْثُ اَبَا حَفْصٍ
 (ابو حفص تمہارے پاس مدد آگئی)۔

        حضرت عمر فاروقؓ ابھی مدینہ طیبہ کی آبادی میں داخل نہیں ہوئے تھے کہ زور دار مینہ برسنے لگا۔ تمام تالاب اور حوض پانی سے بھر گئے، پورے عرب کی خشک سالی دور ہو گئی، ادھر شام و عراق سے غلے کے قافلے بھی آن پہنچے اور مسلمانوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔


طاعونِ عمواس:

        دوسری مصیبت اور آزمائش طاعون کی وہ وبائی تھی جو شام کے علاقے میں پھیلی اس کا آغاز سنہ ۱۷ ہجری کے اواخر میں  بیت المقدس کی نواحی بستی "عمواس" سے ہوا اور کئی ماہ تک لوگ اس کی لپیٹ میں رہے۔ مسلمانوں کا عسکری کیمپ بھی جو اس علاقے میں تھا وبا کی زد میں رہا، روزانہ کئی کئی جنازے اٹھ رہے تھے۔ مسلمانوں کے سپہ سالارِ اعلیٰ حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ بڑی استقامت کے ساتھ اس علاقے میں مقیم رہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے بعض ارشادات سے طاعون زدہ علاقے سے فرار کی ممانعت معلوم ہوتی ہے۔

        حضرت عمرؓ کو وبا سے متاثرہ لوگوں کی اتنی فکر تھی کہ خود شام جا کر اسلامی فوج کو کسی دوسرے علاقے میں منتقل کرنے کی تاکید کی مگر حضرت ابو عبیدہؓ نے اس سے معذرت کی کہ یہ تو تقدیر سے بھاگنے کے مترادف ہے۔

        حضرت عمرؓ نے حضرت ابو عبیدہؓ کو طاعون زدہ علاقے سے نکالنا چاہتے تھے اس لیے انہیں مراسلے میں لکھا:

        "مجھے ایک ضرورت  پیش آ گئی ہے جس کے بارے میں زبانی بات کرنا چاہتا ہوں لہٰذا تاکید کے ساتھ کہتا ہوں کہ جونہی میرا یہ خط دیکھیں تو اسے ہاتھ سے رکھتے ہی فوراً میری طرف روانہ ہو جائیں۔"

        حضرت ابو عبیدہؓ سمجھ گئے کہ حضرت عمرؓ نے یہ ضرورت جس کے لیے مجھے مدینہ منورہ بلوارہے ہیں یہی ہے کہ وہ مجھے طاعون زدہ علاقے سے نکالنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ ساتھیوں سے فرمایا:

        "میں امیر المؤمنین کی ضرورت سمجھ گیا ہوں وہ ایک ایسے شخص کو باقی رکھنا چاہتے ہیں جو باقی رہنے والا نہیں۔"

        یہ کہہ کر جوابی خط میں لکھا: "امیر المؤمنین! آپ نے جس ضرورت کے لیے بلایا ہے وہ مجھے معلوم ہے۔ میں ایسے لشکر کے درمیان بیٹھا ہوں جس سے دل کو مفر نہیں۔ میں انہیں چھوڑ کر اس وقت تک آنا نہیں چاہتا جب تک اللہ تعالیٰ میرے اور ان کے بارے میں تقدیر کا فیصلہ نہ فرما دے لہٰذا مجھے حکم کی تعمیل سے معذور سمجھیں اور لشکر میں رہنے دیں۔"

        حضرت عمرؓ نے خط پڑھا تو آنکھیں بھیگ گئیں۔ ہم نشینوں نے انہیں آبدیدہ دیکھ کر پوچھا: "کیا ابو عبیدہ کی وفات ہوگئی؟" فرمایا: "ہوئی تو نہیں لیکن لگتا ہے کہ ہونے والی ہے۔"

        پھر حضرت عمرؓ نے ابو عبیدہؓ کو دوسرا خط لکھا: "آپ نے لوگوں کو ایسی زمین میں رکھا ہوا ہے جو نشیب میں ہے اب انہیں کسی بلند جگہ پر لے جائیے جس کی ہوا صاف ستھری ہو۔"

        جب یہ خط حضرت ابو عبیدہؓ کو پہنچا تو انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو بلا کر کہا:

        "امیر المؤمنین کا یہ خط آیا ہے۔ اب آپ ایسی جگہ تلاش کیجئے جہاں لے جا کر لشکر کو ٹھہرایا جا سکے۔"

        حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ جگہ کی تلاش میں نکلنے کے لیے پہلے گھر  پہنچے تو دیکھا کہ اہلیہ طاعون میں مبتلا ہیں، انہوں نے واپس آ کر حضرت ابو عبیدہؓ کو بتایا۔ یہ سن کر انہوں نے خود تلاش میں جانے کا ارادہ کیا اور اپنے اونٹ پر کجاوہ کسوا لیا۔ ابھی انہوں نے اس کی رکاب میں پاؤں رکھا ہی تھا کہ ان پر بھی طاعون کا حملہ ہو گیا، اسی حال میں وہ فوج کو جابیہ کی طرف لے گئے۔ تب تک ہزاروں لوگ  بیمار پڑ چکے تھے۔ حضرت ابو عبیدہؓ اسی بیماری میں واصلِ بحق ہوئے۔ ان کے بعد حضرت معاذ بن جبل، حضرت یزید بن ابی سفیان، حضرت حارث بن ہشام، حضرت سہیل بن عمرو، حضرت عقبہ بن سہیل اور حضرت عامر بن غیلانؓ جیسے بزرگ اس وبا میں مبتلا ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے۔ ان میں سے ہر ایک امت مسلمہ کے استحکام کے لیے ایک ستون کی مانند تھا۔

        حضرت عمرو بن العاصؓ نے جب یہ حالت دیکھی تو اس طرح آفت زدہ مقام میں پڑے رہنے کو درست نہ سمجھا اور فوج کو سمجھا بجھا کر صحت بخش آب و ہوا والے پہاڑی علاقے میں لے گئے، یہاں اللہ نے مسلمانوں کو اس وبا سے نجات عطا فرمائی، تاہم اس وقت تک پچیس ہزار کے لگ بھگ مسلمان جاں بحق ہو چکے تھے۔ اس قدرتی آفت سے شام کے محاذ پر مسلمانوں کی افرادی طاقت کو زبردست دھچکا لگا اور ایک مدت تک وہ اپنے علاقے کے دفاع سے زیادہ کچھ کرنے کے قابل نہ رہے۔

        حضرت عمر فاروقؓ کچھ دنوں بعد اپنے غلام یَرفاہ کو ساتھ لیے ایک اونٹنی پر سوار ہو کر ان مصیبت زدگان کی تسلی کے لیے شام روانہ ہوئے۔ راستے بھر کبھی حضرت عمرؓ اونٹنی پر سوار ہوتے کبھی غلام۔

        آیلہ (شام) پہنچے تو لوگوں کو پوچھنا پڑا کہ امیر المؤمنین کون سے ہیں؟ حضرت عمرؓ اس وقت اونٹنی کی نکیل پکڑے ہوئے تھے۔ یرفاہ سوار تھا، آپ نے تعارف کرایا تو لوگ حیران رہ گئے۔ حضرت عمر فاروقؓ کچھ دنوں وہاں ٹھہرے۔ مرحومین کے ورثاء اور مریضوں کو تسلی دی۔ حضرت بلالؓ بھی اس لشکر میں تھے، حضرت عمرؓ کے کہنے سے ایک دن انہوں نے اذان دی۔ لوگ ویسے ہی طاعون کے زخم کھا کر دل گرفتہ تھے، اس حالت میں یکدم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کا سماں بندھا تو سب بے اختیار رو دیے۔ سب سے زیادہ گریہ حضرت عمر فاروقؓ پر طاری تھا جو ہچکیاں لے لے کر رو رہے تھے۔

        یہیں حضرت عمرؓ نے شام کے عسکری و سیاسی انتظامات کی ازسرِنو تنظیم کی۔ حضرت شرجیل بن حسنہؓ کو اردن کا والی بنایا۔ طاعون میں حضرت یزید بن ابی سفیانؓ کی وفات کے بعد دمشق اور نواحی علاقوں کے لیے ایک موزوں ترین آدمی درکار تھا۔ حضرت عمر فاروقؓ نے انہی کے چھوٹے بھائی حضرت معاویہ بن ابی سفیانؓ کو یہ عہدہ سونپ دیا۔ اس کے بعد ۴۲ سال تک دمشق انہی کے ماتحت رہا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic