Fateh-e-Misr aur Darya-e-Neel ka Waqia: Hazrat Umar (R.A) ke Daur ki Azeem Fatah

مصر کی فتح

        حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کی مہمات میں مصر کی فتح کو خاص اہمیت حاصل ہے جو دنیا کی قدیم ترین تہذیب کا حامل اور حضرت یوسف، حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہ السلام جیسے پیغمبروں کا مسکن ہونے کا اعزاز رکھتا ہے۔ اس زمانے میں بھی یہ تجارت وزراعت کا بہت بڑا مرکز تھا۔

        مسلمان جب  بیت المقدس فتح کر چکے تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصر کی طرف  پیش قدمی کا خیال آیا۔ وہ تجارت  پیشہ ہونے کی وجہ سے اسلام سے پہلے مصر کا سفر کر چکے تھے اور اس کی عسکری، اقتصادی اور سیاسی اہمیت سے خوب واقف تھے۔ مصر کا زیادہ تر علاقہ ریتیلا تھا۔ صرف دریائے نیل اور بحیرہ روم کے ساحل پر آباد دو تین بڑے شہروں کو فتح کرنے سے پورا ملک قبضے میں آ سکتا تھا۔


        یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ مصر کے قبطی پادری حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ذات کے بارے میں رومیوں کے عقائد سے اختلافات رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ قیصر روم سے ان کی بے زاری کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ مصر کا حکمران مقوقس رومیوں کو خوش کرنے کے لیے مقامی باشندوں (قبطیوں) کو اذیتیں دیتا رہتا تھا، اس لیے اہل مصر کسی نجات دہندہ کے شدت سے منتظر تھے۔ مصر کو فتح کرنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ قیصر روم مقوقس کو ساتھ ملا کر کسی بھی وقت نہ صرف شام کی سرحدوں پر دھاوا بول سکتا تھا بلکہ مفتوحہ علاقوں میں بغاوت بھی برپا کروا سکتا تھا لہٰذا قیصر کی طاقت کا قلع قمع کرنے اور شام کا دفاع مستحکم رکھنے کے لیے مصر کو زیر نگیں کیے بغیر چارہ نہیں تھا۔

        غرض حالات خود مسلمانوں کو فوج کشی کی دعوت دے رہے تھے جن کے  پیش نظر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اصرار کر کے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس مہم کی اجازت طلب کی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس مہم کے بارے میں تردد تھا۔ قحط اور طاعون عمواس نے حجاز اور شام کے مسلمانوں کو خاصا مضمحل کر دیا تھا، اس کے علاوہ ابھی تک ایران کے محاذ پر سخت جنگیں لڑی جا رہی تھیں اور کسی نئی مہم کا خطرہ مول لینا احتیاط کے خلاف تھا، تاہم حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے اصرار پر آپ نے لکھ بھیجا کہ فوج کشی کرو لیکن مصر کی سرحدوں میں داخل ہونے سے پہلے میرا دوسرا خط مل جائے تو واپس آ جانا۔

        حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو اجازت ملتے ہی چار ہزار مجاہدین کو لے کر شام سے مصر کی طرف روانہ ہو گئے۔ یہ سن ۱۹ ہجری کا واقعہ ہے۔ چند دنوں کے سفر کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا حکم نامہ ملا کہ لوٹ آؤ۔ لیکن اس وقت تک حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مصر کی سرحد عبور کر کے سرحدی بستی "عَریش" کے قریب پہنچ چکے تھے اور انہیں پورا اطمینان تھا کہ مصر کی مہم میں کامیابی ہو گی۔ 

        آپ کو اہل مصر کے ساتھ حسن سلوک کی وہ نصیحت یاد تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی، کیوں کہ اہل مصر سے مسلمانوں کی قرابت داری بھی تھی۔ عرب مستعربہ کے جدا مجد حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ ہاجرہ علیہا السلام مصر سے تعلق رکھتی تھیں۔ اس کے علاوہ مصر کے مقامی باشندوں یعنی قبطیوں کی ایک خاتون حضرت ماریہ رضی اللہ عنہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی باندی اور آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی والدہ تھیں۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ یہ بھی جانتے تھے کہ مصر کے بادشاہ مقوقس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دعوتی  پیغام کی تکریم و تعظیم کی تھی، لہٰذا انہوں نے بڑی احتیاط سے کام لیا اور مقامی باشندوں کے دلوں کو اپنے عمدہ برتاؤ سے جیت لیا۔ مصر کے بڑے پادری ابومریم نے جو سرحد پر فوج لے کر ان کے مقابلے پر آیا تھا، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی باتیں اور اہل مصر کے بارے میں نیک برتاؤ کی حدیث سن کر بے اختیار کہا: "اتنی دور درازی کی رشتہ داری کا لحاظ تو پیغمبر ہی رکھا کرتے ہیں۔"

        آخر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ عریش اور بلبیس کے سرحدی قلعوں کو فتح کرتے ہوئے دریائے نیل کے کنارے مصریوں کے پایہ تخت تک پہنچ گئے جسے "بابلیون" کہا جاتا تھا، شاہِ مصر مقوقس یہیں قلعہ بند تھا۔ وہ مسلمانوں سے صلح کرنا چاہتا تھا مگر یورپ سے قیصر کا حکم آیا کہ جنگ جاری رکھو۔ مصر کے مقامی باشندے بھی صلح کرنا چاہتے تھے مگر رومیوں کے دباؤ کے باعث خاموش تھے۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے شہر کا محاصرہ کیا جو پورے سات ماہ تک جاری رہا۔ آپ کا بڑا خیمہ جسے عربی میں "فسطاط" کہا جاتا ہے مصر کے قلعے کے سامنے نصب تھا، اتنی مدت تک یہاں خیمہ لگا رہنے کی وجہ سے اس کی کڑیوں میں ایک کبوتر نے گھونسلہ بنا لیا تھا۔ ادھر لڑائی وقتاً فوقتاً جاری تھی قلعے کی مضبوطی اور بلندی کی وجہ سے کامیابی بے حد مشکل ہو گئی تھی۔ آخر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کمک کے لیے جمادی الآخرہ ۱۹ ہجری میں بارہ ہزار کا لشکر تیار کر کے بھیجا جس کی قیادت حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہم جیسے صحابہ کرام کے ہاتھ میں تھی۔

        ایک دن حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کچھ جانبازوں کے ساتھ سیڑھی لگا کر تنہا فصیل پر چڑھ گئے اور لڑتے بھڑتے اندر اتر کر دروازہ کھول دیا۔ اس طرح ربیع الآخر ۲۰ ہجری، مطابق ۶۴۱ء میں فرعونوں کا یہ طلسماتی مرکز اسلام کے سامنے سرنگوں ہو گیا۔ مقوقس سمیت یہاں تمام قبطیوں اور رومیوں کو امان دے دی گئی۔

        مقوقس سیدھا اسکندریہ جا کر قلعہ بند ہو گیا جو بحیرہ روم کے کنارے مملکت مصر کا سب سے بڑا شہر تھا۔ جسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے سوا تین سو سال قبل اسکندر اعظم نے آباد کیا تھا۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اب اسے فتح کرنا چاہتے تھے۔ قیصر نے مسلمانوں کا ارادہ بھانپ کر فوراً اسکندریہ کے دفاع کے لیے ایک بھاری بھرکم فوج بھیج دی۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے جب اسکندریہ کی طرف کوچ کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ خیمے میں کبوتر نے گھونسلہ بنا کر انڈے دے رکھے ہیں، آپ نے خیمے کو جوں کا توں رہنے دیا اور فوج لے کر اسکندریہ پہنچے۔

        شہر کا محاصرہ جاری تھا کہ قیصر روم ہرقل کا قسطنطنیہ میں انتقال ہو گیا۔ اس کی جگہ اس کا پوتا قسطنطین قیصر بنا جو کم تجربہ کار اور کم عمر تھا اس لیے شاہ مصر مقوقس نے اس کی مرضی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قبطیوں کی رائے کے مطابق مسلمانوں سے صلح کر لی اور اسکندریہ ان کے حوالے کر دیا۔ اس موقع پر صلح کا جو معاہدہ ہوا اس میں عیسائیوں اور یہودیوں کو جزیہ ادا کرنے کی شرط پر جان و مال اور عبادت گاہوں کے تحفظ اور مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی، یہ بھی طے ہوا کہ رومیوں کا بحری بیڑا اور سپاہی اسکندریہ سے واپس چلے جائیں گے اور آئندہ مصری انہیں اپنے ملک میں داخل نہیں ہونے دیں گے۔ قیصر قسطنطین کو بھی بادل نخواستہ یہ معاہدہ مان کر اپنی فوجوں اور بحری بیڑے کو واپس بلانا پڑا۔

        قیصر اور اس کے نائب مقوقس کی مذہبی سخت گیری، ناروا ٹیکسوں اور بے انصافی کی وجہ سے مصر کے مقامی لوگ ایک عذاب میں گرفتار تھے۔ یہ ایک غیر معمولی استعماری طاقت کا چنگل تھا، جس میں قبطی صدیوں سے جکڑے ہوئے تھے۔ مسلمانوں نے انہیں نجات دلا کر عدل و انصاف کا بول بالا کر دیا۔

        اسکندریہ کی فتح سے ایک طرف تو ایشیائے کوچک کے سوا باقی پورے براعظم ایشیا سے رومیوں کا مکمل دخل ختم ہو گیا اور ان کی طاقت پر کاری ضرب لگی، دوسری طرف شام میں مسلمانوں کی پشت مضبوط ہوگئی۔

         اسکندریہ کے بعد مصر کے باقی قلعے بھی معمولی مزاحمتوں کے بعد فتح ہوتے چلے گئے۔ حضرت معاویہ بن حُدیج رضی اللہ عنہ جب مصر کی فتح کی خوشخبری لے کر مدینہ منورہ پہنچے تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سجدہ شکر میں گر گئے۔ اس کے بعد منادی کرا کے تمام اہل مدینہ کو جمع کیا اور حضرت معاویہ بن حُدیج رضی اللہ عنہ کی زبانی فتح کے حالات ان کو سنائے۔

        مصر کی فتح میں ہزاروں رومی اور قبطی گرفتار ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان قیدیوں کے بارے میں عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ہدایت کی کہ سب کو جمع کر کے اختیار دے دو، جو چاہے اسلام قبول کر کے ہمارا بھائی بن جائے اور جو چاہے سابقہ مذاہب پر برقرار رہ کر آزاد شہری کی حیثیت سے زندگی گزارے، صرف اسے جزیہ دینا ہوگا جو ذمیوں پر لازم ہے۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس حکم پر عمل کیا، چنانچہ ایک ہی دن میں بکثرت قیدی مسلمان ہو گئے جس کی مسلمانوں نے بڑی خوشی منائی۔

        حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ ان فتوحات سے فارغ ہو کر فرعونوں کے پایہ تخت "بابلیون" واپس آئے تو ان کا خیمہ اب بھی قلعے کے سامنے اسی طرح گڑا ہوا تھا جسے کبوتر کی خاطر چھوڑ دیا گیا تھا۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس میدان میں زمین کے قطعات ناپ کر مسلمانوں میں تقسیم کیے، چنانچہ جلد ہی لوگوں نے اس جگہ کچے پکے مکان بنا لیے اور یہ آبادی خیمے کے نام پر "فسطاط" کہلانے لگی۔ آگے چل کر مصر کے دارالحکومت کا یہی نام پڑ گیا۔ کچھ دنوں بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مصر کے محصولات کا خصوصی انتظام کرتے ہوئے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو جنوبی حصے کا والی برقرار رکھتے ہوئے، شمالی علاقے کا والی حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو مقرر فرما دیا۔

نیل کی دلہن

        انہی ایام میں مصر میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے تاریخ میں اسلام کی حقانیت، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی جلالت اور مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت کو زمانے بھر کے لیے آشکار کر دیا۔ مصر میں یہ دستور تھا کہ قبطی مہینہ بؤنہ کی بارہ تاریخ (۲۵ مئی) کو ایک کنواری لڑکی کو دلہن کی طرح عمدہ کپڑوں اور زیورات سے سجا کر دریائے نیل میں پھینک دیتے تھے۔ مقامی باشندوں کا کہنا تھا کہ اس رسم کو انجام نہ دیا جائے تو دریائے  نیل کا پانی خشک ہو جاتا ہے۔

        انہوں نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر درخواست کی کہ انہیں یہ رسم انجام دینے کی اجازت دی جائے۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے سختی سے انہیں منع کر دیا اور فرمایا:

         "اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔" اللہ کو مسلمانوں کی آزمائش منظور تھی، اس لیے جب رسم کو انجام نہ دیا گیا تو دریائے نیل کا پانی واقعی خشک ہونے لگا۔ جون اور جولائی گزر کر اگست شروع ہو گیا مگر دریا میں پانی رواں نہ ہوا۔ نہریں بھی خشک اور کھیت بنجر ہو گئے اور مقامی لوگوں نے تنگ آ کر ملک سے نقل مکانی کی تیاریاں شروع کر دیں۔

        حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ صورت حال حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجی۔ انہوں نے جواب میں لکھا:

        "تم نے جو کیا بالکل درست کیا، میرے اس خط کے ساتھ ایک پرچہ ہے، اسے دریائے نیل میں پھینک دینا۔"

        حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے وہ پرچہ دیکھا تو اس میں تحریر تھا:

        "اللہ کے بندے امیر المؤمنین کی طرف سے مصر والوں کے دریائے نیل کے نام! اے نیل! اگر تو اپنی مرضی سے بہتا ہے تو ہمیں تیری کوئی ضرورت نہیں اور اگر تو اللہ واحد و قہار کے حکم سے بہتا ہے تو ہم اللہ ہی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ تیرا پانی جاری کر دے۔"

        حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے رات کے وقت وہ پرچہ دریائے نیل میں پھینک کر لوٹ آئے۔ مقامی لوگ نقل مکانی کرنے کے لیے اپنا ساز و سامان باندھ چکے تھے مگر جب صبح ہوئی تو انہوں نے دیکھا کہ دریا میں پانی موجیں مار رہا ہے۔ ناپ کر دیکھا گیا تو چوبیس فٹ پانی تھا۔ اس دن سے لے کر آج تک دریائے نیل کا پانی خشک نہیں ہوا۔ فرعونوں کی یہ رسمِ بد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی قوت ایمانی کی بدولت ایسی مٹی کہ اب صرف تاریخ کے اوراق ہی میں باقی رہ گئی ہے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic