یزدگرد کی آخری کوشش۔ معرکۂ نَہاوَند
عراق اور فارس سے ساسانیوں کی بساط لپیٹ دی گئی تھی، مگر یزدگرد ابھی زندہ تھا۔ رے، اصفہان، کرمان اور دوسرے مقامات پر از سر نو قوت جمع کرنے کی ناکام کوششوں کے بعد آخر کار اسے خراسان کے مرکزی شہر "مرو" میں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ آتش کدہ ایران سے سلگائی ہوئی آگ وہ ہر جگہ ساتھ لیے پھر رہا تھا۔ مرو میں ایک عظیم الشان آتش کدہ تعمیر کر کے اس نے ایک بار پھر مجوسیت کے نام پر لوگوں کو مشتعل کیا اور ساسانی سلطنت کے ماتحت رہنے والے دور دراز کے علاقوں میں منادی کرا دی کہ آتش پرستی کی بقا، آلِ ساسان کے تحفظ اور اپنے وطن کی عزت کی خاطر ایک پرچم تلے جمع ہو جائیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ہر طرف ایک غل مچ گیا اور اصفہان و طبرستان سے لے کر مکران اور سندھ کے ریگزاروں تک سے لوگ جوق در جوق اس کے گرد جمع ہونے لگے، یہاں تک کہ ڈیڑھ لاکھ کا لشکر تیار ہو گیا جسے آلِ ساسان کے نامور شہزادے مردان شاہ بن ہرمز کی کمان میں دے کر اس طرح روانہ کیا گیا کہ ایرانیوں کے نزدیک مقدس پرچم "درفشِ کاویانی" سپہ سالار کے سر پر لہرا رہا تھا۔ یہ لشکر نہاوند میں آ کر خیمہ زن ہوا جس سے دور دور تک دہشت پھیل گئی۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یزدگرد کی ان غیر معمولی تیاریوں کی اطلاعات نے اتنا فکر مند کیا کہ مجلس شوریٰ بلا کر رائے طلب کی۔ قادسیہ کی طرح ایک بار پھر کئی صحابہ کرام نے رائے دی کہ امیر المؤمنین کو اس فیصلہ کن جنگ میں خود کمان کرنا چاہیے، مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ امیر المؤمنین مرکز میں رہیں اور ہر محاذ سے ایک تہائی فوج کو ایرانیوں کے خلاف لڑنے کے لیے بھیج دیں۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس رائے کو مانتے ہوئے قیادت کے لیے حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کا نام لیا جو کوفہ میں تھے۔ امیر المؤمنین کا حکم ملتے ہی وہ تیس ہزار مجاہدین کو لے کر نہاوند کی طرف بڑھے مسلمانوں کی ایک فوج نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تاکید پر فارس سے ایرانیوں کی کمک کا راستہ بند کر دیا تھا، اس طرح کوفہ کا اسلامی لشکر کسی مزاحمت کا سامنا کیے بغیر نہاوند تک جا پہنچا۔ اسلامی لشکر میں حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت مغیرہ بن شعبہ، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت عمرو بن معدی کرب اور حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہم جیسے نامی گرامی حضرات موجود تھے، ان میں سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے سفیر بن کر ایرانی سپہ سالار مردان سے گفتگو کی مگر بات چیت بے نتیجہ رہی۔
آخر دونوں فوجیں آمنے سامنے صف آرا ہوئیں۔ حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نے فوج کے ہر اول دستوں پر اپنے بھائی حضرت نعیم رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا، دائیں اور بائیں کی کمان حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ اور اپنے دوسرے بھائی حضرت سوید رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دی۔
ایرانیوں نے اس بار جنگ کے لیے بڑی عجیب منصوبہ بندی کی تھی۔ وہ خندقیں کھود کر ان میں اتر گئے تھے اور تیر و پیکان سنبھالے بیٹھے تھے۔ خندقوں کے سامنے انہوں نے دور دور تک "خسک" (کانٹے دار گولے) بچھا دیے تھے جن کی وجہ سے مسلمانوں کا آگے بڑھ کر حملہ کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔ ایرانی جب چاہتے اپنی خندقوں سے سر ابھار کر مسلمانوں پر تیروں کی بارش کرتے اور پھر خندقوں میں چھپ کر مسلمانوں کی جوابی تیر اندازی سے محفوظ ہو جاتے۔
کئی دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ مسلمان انہیں کسی بھی طرح ان کی محفوظ پناہ گاہوں سے باہر نکالنے میں کامیاب نہ ہوئے۔ آخر سب سر جوڑ کر بیٹھے۔ کئی تجاویز سامنے آئیں مگر کوئی قابلِ عمل نہ لگی۔ آخر طلیحہ بن خویلد نے کہا:
"آج تک دشمن نے ہمیں پشت پھیر کر بھاگتے نہیں دیکھا، میری رائے ہے کہ ہماری گھڑ سوار فوج ان پر ایک بار حملہ کر کے فرار ہو جائے تاکہ وہ بے فکر ہو کر ان کے پیچھے کھلے میدان میں نکل آئیں تو ہم ان کی خبر لیں۔"
حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نے اس تجویز کو سراہتے ہوئے حضرت قعقاع بن عمرو رضی اللہ عنہ کو یہ ذمہ داری سونپ دی۔ وہ گھڑ سواروں کو لے کر ایرانیوں کی خندقوں کے قریب جہاں تک پہنچنا ممکن تھا، چلے گئے اور ان پر زبردست تیر اندازی کی۔ جواب میں ایرانیوں نے تیر چلائے تو یہ یکدم میدان سے بھاگ نکلے۔ ایرانی یہ سمجھے کہ مسلمان شکست کھا گئے ہیں اور جان بچا کر بھاگ رہے ہیں۔ وہ خندقوں سے نکل کر ان کے پیچھے دوڑے، سات سات زرہ پوش ایک ایک زنجیر میں پروئے ہوئے پہاڑ کی طرح آگے بڑھ رہے تھے۔ مردان شاہ نے سپاہیوں کو مزید جوش دلانے کے لیے ان کے پیچھے پورے میدان میں کانٹے دار گولے پھیلا دیے تاکہ ایرانی اپنے دشمن کو نمٹا کر ہی دم لیں اور فرار ہو کر دوبارہ خندقوں میں چھپنے کا خیال بھی دل میں نہ لائیں۔ حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ کے گھڑ سوار دور تک پسپا ہوتے چلے گئے اور ایرانی تیر برساتے ہوئے ان کا تعاقب کرتے رہے۔ میدان کے دوسرے سرے پر حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ اپنی اصل فوج کے ساتھ موجود تھے۔ اپنے ساتھیوں کے اصرار کے باوجود دوپہر تک انہوں نے جوابی حملے کی اجازت نہیں دی۔
نماز ظہر ادا کر کے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ گھوڑے پر سوار ہوئے، فوج کو مرتب کیا اور دعا کی: "الہی! آج اپنے بندوں کی مدد فرما، اسلام کو فتح مند کر کے میری آنکھیں ٹھنڈی کر اور مجھے شہادت کی موت عطا فرما۔"
پھر ساتھیوں سے کہا: "میں شہید ہو جاؤں تو حذیفہ بن یمان امیر ہوں گے۔"
یہ کہہ کر مسلمانوں کے دستورِ جنگ کے مطابق یکے بعد دیگرے تین تکبیریں کہیں اور دشمن پر پوری شدت سے حملہ کر دیا۔ ایرانی جو اپنی خندقوں سے خاصی دور نکل آئے تھے، اب کھلے میدان میں لڑنے پر مجبور ہو گئے، شام تک فریقین جان توڑ لڑائی لڑتے رہے۔ لوہے سے لوہا ٹکرانے کی آوازیں میلوں دور تک سنائی دے رہی تھیں، بے تحاشہ خون بہنے سے میدان میں ایسا کیچڑ ہو گیا کہ گھوڑے پھسل پھسل کر گر رہے تھے۔
اس دوران امیر لشکر حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کو ایک تیر لگا، ساتھ ہی گھوڑا پھسلا اور وہ زمین پر آ گرے، مگر اسی حالت میں پکار کر کہا: "کوئی مسلمان جنگ سے ہٹ کر میری طرف متوجہ نہ ہو، میں شہید ہو جاؤں تو پرواہ مت کرنا۔"
ادھر ان کے بھائی حضرت نعیم بن مقرن رضی اللہ عنہ نے ان سے پرچم لے کر فوراً حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دے دیا۔ لڑائی برابر جاری رہی، کسی کو پتا نہ چلا کہ مسلمانوں کا امیر جاں بلب ہے۔
رات کے وقت ایرانیوں کی ہمت جواب دے گئی اور وہ میدان سے پسپا ہونے لگے مگر خندقوں میں جانے کا راستہ کانٹے دار گولوں نے بند کر دیا تھا، ایرانی کانٹوں سے زخمی ہو کر گرتے رہے اور مسلمان انہیں ٹھکانے لگاتے رہے۔ اس طرح لگ بھگ ایک لاکھ ایرانی مارے گئے۔
حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کا دم لبوں پر تھا کہ انہیں فتح کی خوشخبری دی گئی۔ وہ بولے:
"اللہ کا شکر و احسان ہے، حضرت عمر فاروق کو یہ اطلاع دے دینا۔" یہ کہہ کر جان خالقِ حقیقی کے سپرد کر دی۔
حضرت قعقاع رضی اللہ عنہ نے نہاوند کے بچ نکلنے والے ایرانیوں کا "ہمدان" تک تعاقب کیا اور اسے فتح کر کے واپس آئے۔ یہ تاریخی معرکہ ۲۱ھ میں لڑا گیا۔ نہاوند میں شکست کے بعد آلِ ساسان کی طاقت ہمیشہ کے لیے فنا ہوگئی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس معرکہ کی اتنی فکر تھی کہ دن رات بے تابانہ دعائیں کرتے تھے۔ جب انہیں فتح کی بشارت کے ساتھ ہی حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر دی گئی تو زار و قطار رو دیے۔
پھر قاصد سے پوچھا: "اور کون کون حضرات شہید ہوئے ہیں؟" قاصد نے چند مشہور افراد کے نام بتائے اور کہا: "ان کے علاوہ بہت سے لوگ شہید ہوئے ہیں جن سے آپ واقف نہیں۔" حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے ایک بار پھر آنسو بہہ پڑے اور فرمایا: "اگر عمر ان لوگوں کو نہیں جانتا تو کیا ہوا، اللہ تو انہیں جانتا ہے، جس نے انہیں شہادت کا اعزاز بخشا ہے، پس عمر کے جاننے نہ جاننے سے انہیں کیا فرق پڑتاہے۔"
یزدگرد روپوش:
جنگ نہاوند کے اسباب پر غور کرنے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ اچھی طرح سمجھ گئے تھے کہ جب تک آلِ ساسان اور ان کے حکمران یزدگرد کو پورے فارس و خراسان سے بے دخل نہیں کر دیا جاتا تب تک ایرانیوں کی بغاوتیں ختم ہونے میں نہیں آئیں گی، اسی لیے سن ۲۱ ہجری میں آپ نے مشرق کی طرف عمومی یلغار کی منصوبہ بندی کی اور کئی افواج ترتیب دے کر انہیں مختلف خطوط پر روانہ کر دیا، اس ترتیب کے مطابق حضرت احنف بن قیس نے خراسان،حضرت ساریہ بن زنیم نے کرمان،حضرت عاصم بن عمرو نے سیستان(جنوبی افغانستان)، حضرت حکم بن عمیرتغلبی نے مکران و بلوچستان کا رخ کیا، حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت عتبہ بن فرقد رضی اللہ عنہما نے آذربائیجان کی طرف پیش قدمی کی اور مختصر مدت میں یہ تمام علاقہ فتح کر لیا۔ ان کے علاوہ حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ نے طبرستان اور حضرت علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ نے خلیج فارس کے ساحلی علاقوں پر اسلام کا پرچم لہرا دیا۔
یزدگرد سے آخری معرکہ خراسان میں مرو کے نزدیک دریائے مُرغاب کے کنارے ہوا۔ مسلمانوں کے امیر حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ تھے، یہاں یزدگرد کی مدد کے لیے خاقان چین خود فوج لے کر آیا تھا، مگر یزدگرد میدان میں موجود نہیں تھا۔ خاقان چین عام جنگ سے انفرادی مقابلوں میں مسلمانوں کی بہادری کا مظاہرہ دیکھ کر بددل ہو گیا اور فیصلہ کن لڑائی سے پہلے ہی میدان سے نکل بھاگا، تب یزدگرد بھی انتہائی مایوسی کی حالت میں ساسانیوں کے خزانے کو لاد کر خاقان کی پناہ میں جانے کے لیے خراسان سے ترکستان روانہ ہوا، مگر راستے میں درباریوں نے یہ کہہ کر سارا خزانہ اس سے چھین لیا کہ ہم ایرانیوں کی دولت، ترکستان نہیں لے جانے دیں گے۔
یزدگرد بمشکل جان بچا کر خاقانِ چین کے دارالحکومت فرغانہ پہنچا اور ایک پناہ گزین کی طرح برسوں وہیں روپوش رہا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو اس کے انجام کی خبر ملی تو ایک تاریخی خطبہ دیا جس میں فرمایا:
"یاد رکھو! مجوسیوں کی بادشاہت کا خاتمہ ہوگیا۔ اب وہ اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی زمین، دولت اور شہروں کا مالک تمہیں بنا دیا ہے تاکہ وہ عمل میں تمہیں آزمائے، لیکن اگر تم نے اپنا کردار بدل دیا تو اللہ حکومت تم سے چھین کر دوسروں کو عطا کر دے گا۔"
لشکر اسلام کی پیش قدمی مکران پر روک دی گئی:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے آخری سالوں تک فارس سے ملحقہ علاقے اور بلوچستان کے بعض اضلاع فتح ہوچکے تھے۔ اس کے بعد مکران اور قندابیل کا علاقہ تھا۔ لشکر مالِ غنیمت لے کر واپس آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے علاقے کا حال پوچھا۔ سالار لشکر صحار العبدی نے فصیح و بلیغ انداز میں جواب دیا: "وہاں کا پانی قلیل، کھجور بدمزہ اور راہزن دلیر ہیں۔ اگر زیادہ فوج بھیجیں تو بھوکی مر جائے، کم بھیجیں تو ماری جائے۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر مزید پیش قدمی مؤخر کر دی۔

