خوارج سے کش مکش
خوار ج، بنیادی طور پر ایسے لوگوں کا گروہ تھا جو شریعت پر عمل میں تشدد کے عادی تھے اور اپنی عبادت و ریاضت پر گھمنڈ میں مبتلا تھے۔ ان کی نگاہ میں اکابر صحابہ کا مقام بھی عام انسانوں سے کچھ زیادہ بلند نہیں تھا۔ وہ قرآن کریم کے لفظی معنی پر جوں کا توں عمل کرنے کو ہی اعلیٰ دین داری سمجھتے تھے۔ انہیں ایک لمحے کے لیے بھی یہ خیال نہیں آتا تھا کہ قرآن کریم کا مطلب ان کی سمجھ سے ہٹ کر بھی ہو سکتا ہے۔ ان کی جامد عقل احکام کی باریکیوں کو سمجھنے سے قاصر تھی۔
خوارج میں عام طور پر جوشیلے، جذباتی اور سخت مزاج لوگ شامل تھے۔ خوارج کے بعض سرداروں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت بھی پائی تھی مگر اپنی بے ادبی کی وجہ سے کچھ فیض حاصل نہ کر پائے۔ ایک بار ان کا سردار "ذوالخویصرۃ" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں موجود تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم حاضرین میں رقم تقسیم کر رہے تھے۔ اس بد بخت نے اعتراض کرتے ہوئے کہا: "اللہ سے ڈریں، انصاف سے کام لیں۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراض ہو کر فرمایا: "اگر میں انصاف نہ کروں تو پھر کون کرے گا۔"
حضرت عمرؓ نے اجازت مانگی کہ اس بدتمیز کا سر قلم کر دیا جائے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع کر دیا اور فرمایا: "اس کے کچھ ساتھی ہوں گے جن کی نمازیں روزے دیکھ کر تمھیں اپنی نمازیں روزے کم لگیں گے ، مگر یہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانے سے پار نکل جاتا ہے۔"
خوار ج کے بعض لیڈر وہ تھے جن کا پہلے کسی فتنے سے تعلق نہیں رہا تھا جیسے عبد اللہ بن وہب اور عروہ بن اُدیّہ ۔
ان کے بعض رئیس غلط فہمی اور نادانی کا شکار ہو کر اس تحریک میں شامل ہوئے اور بعد میں تائب ہو گئے جیسے شَبث بن ربعی۔ بعض پکے سبائی تھے جیسے حُر قوص ابن زہیر اور عبد اللہ بن الکواء۔ خارجیوں میں سبائیت کے اثرات کا ایک ثبوت یہ بھی تھا کہ وہ حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر فاروق اور دیگر صحابہ کرام کو برا بھلا کہتے تھے۔
خوارج میں شامل کچھ لوگ وہی تھے جو جنگ جمل کے بعد ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ اور ان کے ساتھیوں کو قیدی بنانے پر اصرار کرتے ہوئے کہہ رہے تھے:
"جن کے خون ہمارے لیے حلال ہیں ان کے اموال اور ان کے بیوی بچے ہمارے لیے ممنوع کیوں؟"
حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت میں بھی یہ لوگ شامل تھے۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ کے سامنے خوارج کا ذکر آیا تو فرمایا: "میں نے انہیں کہا تھا حضرت عثمان کو قتل مت کرنا ، مگر وہ نہ مانے۔"
یہ لوگ حضرت علی اور حضرت معاویہؓ کے درمیان جنگ بندی اور صلح کو مسترد کر کے انہیں کافر قرار دینے لگے۔
اپنے نظریات پر انہیں اتنا اصرار تھا کہ وہ اختلاف رکھنے والے ہر شخص کا خون بہانا درست سمجھتے تھے۔
اب تک مسلمانوں کا نعرہ تکبیر چلا آ رہا تھا۔ خوارج نے "لا حکم الا اللہ" (اللہ کے سوا حاکمیت کسی کی نہیں) کو نعرہ بنالیا۔ اسے "نعرہ تحکیم" کہا جاتا تھا۔
یہ نعرہ سب سے پہلے خارجی سردار عروہ بن اُدَیہ نے صفین کے میدان میں جنگ بندی کے وقت لگایا تھا اور پھر یہی ان کی پہچان بن گیا۔
خوارج حروراء میں:
حضرت علی المرتضیٰؓ جب صفین سے واپس روانہ ہوئے تو خوارج نے جو کہ اب تک لشکر میں شامل تھے، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروقؓ کی شان میں نازیبا باتیں شروع کر دیں۔ حضرت علیؓ یہ برداشت نہ کر سکے اور سختی سے ان لوگوں کی بد گوئی پر تنقید کی۔ اس پر خارجی بپھر گئے اور باقی لشکر سے الگ ہوگئے۔
یہ دونوں قافلے الگ الگ چلتے رہے، جب حضرت علیؓ کوفہ میں داخل ہوئے تو خوارج نے شہر سے دور "حروراء" نامی مقام پر پڑاؤ ڈال دیا۔
ان کی تعداد آٹھ ہزار تھی۔ وہ یہی چرچا کر رہے تھے کہ حضرت علیؓ نے اللہ کے دین میں انسانوں کی حاکمیت قبول کر لی ہے، حالاں کہ حاکمیت تو صرف اللہ کی ہے۔ اس کے سوا کسی کو حق نہیں کہ کسی معاملے میں کوئی فیصلہ کرے۔
خوارج کی تردید: حضرت علیؓ کا حکیمانہ طرز استدلال
حضرت علیؓ نے ان کے پروپیگنڈے کی تردید کے لیے اعلان کرایا کہ لوگ قرآن مجید کے نسخے لے کر ان کے پاس جمع ہوں۔ پھر آپؓ نے خود کلام پاک کا ایک بڑا نسخہ سامنے رکھ کر اسے تھپتھپایا اور آواز لگائی:
"اے کلام پاک! لوگوں سے بات کر"
لوگ حیران ہو کر کہنے لگے : "امیر المومنین! یہ تو کاغذ اور سیاہی کا مجموعہ ہے، اس سے کیا پوچھ رہے ہیں؟"
آپؓ نے فرمایا: "باغیوں اور میرے درمیان بھی کتاب اللہ کا فیصلہ طے ہے، اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے:
وَ إِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا اِنْ يُرِيْدَا اِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللہُ بَيْنَهُمَا.
(اگر شوہر اور بیوی کے درمیان تمھیں جدائی کا خدشہ ہو تو ایک ثالث اس مرد کے اور ایک ثالث اُس عورت کے خاندان سے بھیجو۔ اگر دونوں ثالث صلح چاہیں گے تو اللہ تعالیٰ فریقین میں اتفاق کرادے گا۔)
تو کیا امت محمدیہ کے خون کا مسئلہ، ایک مرد اور عورت کے مسئلے سے بھی کم اہمیت رکھتا ہے!"
لوگ قائل ہو گئے کہ حضرت علیؓ نے تحکیم کا فیصلہ درست کیا تھا۔ اب آپؓ نے عبداللہ بن عباسؓ کو خارجیوں سے بات چیت کرنے بھیجا۔ خارجیوں کے ایک رئیس عبداللہ بن الکواء نے ان کا استقبال کر کے کارکنوں کو ان کی بات سننے پر آمادہ کیا۔ تین دن گفت و شنید ہوئی۔ مگر وہ لوگ نہ مانے۔
حضرت علیؓ کے کچھ اور سفیر بھی گئے مگر خوارج نے بدتمیزی کی اور سفیر کی سواری کو زخمی کر دیا۔
جب یہ لوگ کسی طرح قائل نہ ہوئے تو حضرت علیؓ خود تشریف لے گئے اور انہیں سمجھایا۔
خوارج سے معاہدہ:
حضرت علیؓ نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا کہ اگر وہ حکومت کے تابع دار رہیں تو:
انہیں مساجد میں آنے اور ذکر و عبادت سے نہیں روکا جائے گا۔
مالِ غنیمت اور بیت المال سے انہیں حصہ دیا جائے گا۔
ان سے جنگ میں پہل نہیں کی جائے گی۔
اس معاہدے کے مطابق حضرت علیؓ نے اسلامی معاشرے میں ایک پُر امن مخالف گروہ (اپوزیشن) کے وجود کی گنجائش رکھی اور ان کے شہری حقوق کو تسلیم کیا۔
اکثر خوارج بغاوت پر اصرار ترک کر کے ان کے ساتھ کوفہ آگئے ۔ یہ یکم شوال سنہ ۳۷ ہجری کا واقعہ ہے۔
تاہم چار ہزار خارجی اس کے بعد بھی اپنی ضد پر اڑے رہے۔
چونکہ ایک مسلح جماعت کا ملکی حدود میں اس طرح آزاد پھرنا بہر حال خطرے کا باعث تھا اور خدشہ تھا کہ یہ لوگ اپنی بد عقیدگی کی اشاعت کے لیے طاقت کے نشے میں ملک کا امن وامان تہہ وبالا نہ کریں ؛ لہذا حضرت علیؓ نے انہیں یہ پیغام بھیجا: "ہمارے اور تمہارے درمیان یہ طے ہے کہ تم ناجائز خونریزی نہیں کرو گے ، قافلوں کو نہیں لوٹو گے، کسی ذمی پر ظلم نہیں کرو گے، اگر ان میں سے کوئی بھی حرکت کی تو پھر اعلانیہ جنگ ہوگی۔"
خوارج کوفہ میں:
کوفہ واپس آنے کے بعد بھی خارجی خاموش نہ رہے۔ انہوں نے صرف ساتھ رہنے پر اتفاق کیا تھا، نظریے تبدیل نہیں کیے تھے۔ انہیں یہ غلط فہمی بھی ہو گئی تھی کہ حضرت علیؓ ان کے موقف کو مان گئے ہیں، چنانچہ کوفہ واپس آتے ہی انہوں نے مشہور کر دیا کہ حضرت علیؓ کے پاس دوبارہ اس لیے چلے آئے ہیں کہ انہوں نے اپنے کفر سے توبہ کر لی ہے۔ ایک شخص نے آ کر حضرت علیؓ سے براہ راست پوچھ لیا:
"لوگ کہہ رہے ہیں کہ آپ نے اپنے کفر سے رجوع کر لیا ہے؟"
حضرت علیؓ نے ان افواہوں کی تردید کے لیے اسی روز ظہر کی نماز کے مو قع پر لوگوں سے خطاب کیا، جس میں خارجیوں پر سخت تنقید کی۔ خارجی جو مسجد میں موجود تھے، برداشت نہ کر سکے اور ہنگامہ شروع کر دیا۔ ان میں سے ایک شخص اپنے کانوں میں انگلیاں ٹھونستے حضرت علیؓ کے سامنے آیا اور حلق پھاڑ کر یہ آیت پڑھنے لگا:
وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ.
(اور البتہ وحی کی گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور آپ سے پہلوں کی طرف کہ اگر آپ نے شرک کیا تو آپ کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں گے اور آپ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔)
حضرت علیؓ نے بھی جواب میں آیت پڑھی:
فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ.
(پس آپ صبر کریں، بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یقین نہ کرنے والے آپ کو ہرگز ہلکا نہ محسوس کرنے پائیں۔)
نعرۂ تحکیم کا مسکت جواب
حضرت علیؓ خطبہ دینے کھڑے ہوئے تو خارجی تحکیم کے نعرے لگاتے ہوئے کہنے لگے:
"علی! تو نے اللہ کے دین میں انسانوں کو شریک کر ڈالا۔" پھر نعرے لگائے: "لَا حُكْمَ إِلَّا الله"
حضرت علیؓ نے جواب میں فرمایا: "ہاں ، ہاں، لَا حُكْمَ إِلَّا الله مگر كَلِمَةُ حَقٍّ أُرِيْدَ بِهَا الْبَاطِلُ."
( یہ حق بات ہے جس سے باطل مراد لیا جارہا ہے)۔ اللہ کا حکم تمہارا منتظر ہے۔
حکمران کی ضرورت پر حضرت علیؓ کا ارشاد:
خارجی حکومتی نظام کے قائل نہ تھے نہ حکمران کے۔ ان کے خیال میں یہ اللہ کی حاکمیتِ اعلیٰ اور اسلامی مساوات کے خلاف تھا۔ حضرت علیؓ نے اس خیال کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:
"یہ لوگ کہتے ہیں کہ کوئی حکومت نہیں ہونی چاہیے ، حالاں کہ لوگوں کے لیے حاکم کا ہونا ضروری ہے چاہے وہ نیک ہو یا فاسق۔ تاکہ اس کی حکومت میں مؤمن اپنا عمل کرے اور کافر اپنے طور پر فائدہ اٹھائے۔"
لوگ کہنے لگے: " نیک حاکم کی بات تو ٹھیک ہے ، فاسق حاکم کا کیا مطلب؟"
آپ نے فرمایا: "اس کی حکومت کی وجہ سے تمہاری سڑکیں تو کھلی رہیں گی، بازار تو بحال رہیں گے۔"
خارجی چند دن کوفہ میں سیدنا حضرت علیؓ کے ساتھ رہے ، اس دوران انہوں نے کوشش کی کہ حضرت علیؓ کو حضرت معاویہؓ کے خلاف جنگ کے لیے آمادہ کر لیں مگر حضرت علیؓ نے اس سے صاف انکار کر دیا۔
خوارج کی حضرت علیؓ سے بدتمیزی:
ایک بار خوارج کے سرغنہ حرقوص بن زہیر اور زُرعہ بن بُرْج آپؓ کے پاس آئے۔ حرقوص نے کہا:
"اپنی خطا سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرلیں، اور ہمارے ساتھ دشمن کی طرف پیش قدمی کریں تاکہ ہم ان سے اس وقت تک جنگ کریں جب تک ہم اللہ سے نہ جاملیں۔"
حضرت علیؓ نے فرمایا: "ہمارے اور ان کے درمیان تحریری معاہدہ ہو چکا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کا حکم ہے:
وَأَوْفُوا بِعَهْدِ اللَّهِ إِذَا عَاهَدْتُمْ وَلَا تَنْقُضُوا الْأَيْمَانَ بَعْدَ تَوْكِيدِهَا.
(اللہ کے نام کا عہد و پیمان پورا کرو جب تم عہد کرچکو۔)
حرقوص نے کہا: "مگر یہ معاہدہ تو گناہ ہے، اس سے آپ کو توبہ کرنی چاہیے۔"
حضرت علیؓ نے فرمایا: "یہ کوئی گناہ نہیں ہے۔"
زرعہ بن بُرج نے کہا: "خبردار علی! اللہ کی قسم! اگر تم اللہ کی کتاب کے بارے میں بندوں کو فیصلے کا اختیار دینے سے باز نہیں آئے تو میں تم سے اللہ کی رضا کے لیے لڑوں گا۔"
حضرت علیؓ نے فرمایا: "بد بخت! مجھے لگتا ہے تو اس طرح مرے گا کہ آندھی تیرے ٹکڑے اڑالے جائے گی۔"
وہ بولا: "مجھے بھی پسند ہے کہ ایسا ہی ہو۔"
خوارج کی دعوت اور عوام کی ذہن سازی:
جب خارجیوں نے دیکھا کہ حضرت علیؓ کسی طرح بھی ان کے نظریات اور عزائم کا ساتھ دینے پر تیار نہیں تو انہوں نے حتمی طور پر الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا۔ ایک متوازی طاقت بننے کے لیے ضروری تھا کہ شہر سے نکل کر ایسی جگہ مرکز بنایا جائے جہاں حکومتی اثر و رسوخ کم سے کم ہو۔ اب تک ان کا کوئی باقاعدہ امیر بھی مقرر نہیں ہوا تھا کیوں کہ وہ خود "حکومت" اور "حاکم" کے تصور کی نفی کر کے صرف اور صرف ایک اللہ کی حاکمیت کا نعرہ لگاتے تھے۔ مگر اب جب تنظیم کو فعال بنانے کا ہدف سامنے آیا تو قواعد وضوابط بنانے اور اہم فیصلے کرنے کے لیے ایک بااختیار امیر کی ضرورت انہیں خود بھی آگئی ، لہٰذا بڑی لے دے کے بعد عبد اللہ بن وہب کو امیر بنالیا گیا۔ یہ ۱۰ شوال سن ۳۷ ہجری کا واقعہ ہے۔
جماعت کے طے کردہ اہداف کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا:
"ہمارا ہدف دنیا والوں سے اللہ رحمن و رحیم کی اطاعت کرانا ہوگا...... لوگوں نے خواہشات نفس کی پیروی کی ہے اور کتاب اللہ کے حکم کو ٹھکرایا ہے، لہٰذا ان سے جہاد کرنا اہلِ ایمان پر فرض ہے۔ اب ان کی کھوپڑیوں پر تلواریں چلائیے...... اگر آپ کامیاب ہو گئے اور اللہ کی اطاعت کی جانے لگی تو یہی آپ کا ہدف ہے اور اللہ اجر عظیم دے گا، اور آپ مارے گئے تو اللہ کی رضا اور جنت سے بڑھ کر اور کیا چیز ہو سکتی ہے۔"
طے کیا گیا کہ مدائن کے قریب نہر "چوخا" کے پار عسکری کیمپ لگایا جائے اور گرد و نواح کے شہریوں اور آبادیوں سے افرادی طاقت جمع کر کے حکومت سے کھلے میدان میں ٹکر لی جائے۔
خوارج کوفہ سے خفیہ طور پر نکلتے ہیں:
اکثر خوار ج کوفہ کے مختلف محلوں میں برسوں سے رہائش پذیر تھے۔ یکدم نکلنے میں سرکاری پکڑ دھکڑ کے علاوہ برادری کی روک ٹوک کا اندیشہ بھی تھا، اس لیے وہ ایک ایک، دو دو کر کے شہر سے نکلتے گئے۔ ساتھ ہی مختلف شہروں میں خطوط اور دعوت نامے بھی پھیلا دیے کہ حق کے غلبے کے لیے ہمارا ساتھ دیں۔
خارجی جن کی تعداد حضرت علیؓ سے الگ ہوتے وقت آٹھ ہزار تھی، بڑھتے بڑھتے سولہ ہزار تک پہنچ گئی۔
یہ ایسا فتنہ تھا جس میں صرف وہی لوگ ثابت قدم رہ سکتے تھے جن کو اسلاف پر اعتماد تھا، ورنہ بڑے بڑے عابدوں اور زاہدوں کا رجحان خوارج کی طرف ہورہا تھا۔
ایک جلیل القدر تابعی ابو العالیہ زِیادیؓ فرماتے تھے: "اللہ تعالیٰ کی دو نعمتیں مجھ پر ایسی ہیں کہ سمجھ نہیں آتا کون سی زیادہ بڑی ہے : ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی توفیق دی۔ دوسری یہ کہ اللہ نے خارجی بننے سے بچایا۔"
خوارج کی خون ریزی:
خوارج نے نہر "چوخا" کے پار عسکری چھاؤنی لگانے کے بعد گرد و نواح میں غارت گری کا طوفان برپا کر دیا۔ ایک طرف وہ اس قدر پر ہیز گار تھے کہ کسی کا ایک دانہ بھی اس کی اجازت کے بغیر نہیں لیتے تھے، دوسری طرف اتنے نڈر تھے کہ جو ان کے موقف اور نظریے سے اختلاف کرتا اس کا خون بہانے سے بھی در یغ نہیں کرتے تھے۔
خوارج کے ہاتھوں عبداللہ بن خبابؓ کا قتل:
بصرہ کے قریب ایک دیہات میں انہوں نے خباب بن الارتؓ کے عالم فاضل بیٹے عبداللہ بن خبابؓ کو پکڑ لیا اور بڑی سختی سے پوچھا: "کون ہو تم ؟"
وہ بولے: "عبداللہ بن خباب، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی کا بیٹا ۔"
خارجیوں کے امیر نے کہا: "شاید ہم نے آپ کو ڈرا دیا ہے۔" وہ بولے: "ہاں، واقعی۔"
خارجی بولے: "آپ کو ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنا دیں جو آپ نے اپنے والد سے سنی ہو۔"
وہ بولے: "جی ہاں، میں نے اپنے والد سے یہ حدیث سنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ایک ایسا فتنہ آئے گا جس میں بیٹھنے والا کھڑے ہونے والے سے بہتر ہوگا اور کھڑا رہنے والا متحرک آدمی سے بہتر ہوگا اور متحرک آدمی دوزخ کی آگ میں جلے گا، جب اس فتنے میں مبتلا لوگوں سے سامنا ہو تو اللہ کا مقتول بندہ بن جانا، قاتل مت بننا۔"
خوارج کہنے لگے: ہاں، ہم یہی حدیث معلوم کرنا چاہتے تھے ۔ اچھا آپ حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟"
انہوں نے جواب میں تعریفی کلمات کہے تو وہ بولے: "اچھا حضرت عثمانؓ کے ابتدائی دو سالہ حکومت اور ان کی حکومت کے آخری زمانے کے بارے میں کیا خیال ہے؟"
حضرت عبداللہ بن خبابؓ نے جواب دیا: "وہ ابتدا میں بھی برحق تھے اور آخر میں بھی۔"
وہ بولے: "اچھا علی کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ وہ تحکیم سے پہلے کیسے تھے اور بعد میں کیسے ہیں؟"
فرمایا: "وہ اللہ کے دین کو زیادہ جاننے والے، دین کے بارے میں زیادہ محتاط اور اسے زیادہ نافذ کرنے والے ہیں۔"
خوارج یہ سن کر بپھر گئے ، کہنے لگے : "ارے تم نے خواہش نفس کی پیروی کی، تم نے شخصیات کے ناموں کو معیار بنالیا، ان کے کاموں کو نظر انداز کر دیا۔ اللہ کی قسم ! تمہیں تو ہم ایسے قتل کریں گے جیسے کسی کو آج تک قتل نہیں کیا ہو گا۔"
اب یہ بد بخت انہیں اور ان کی بیوی کو پکڑ کر نہر کے کنارے کنارے چلے ، اس دوران دو عجیب واقعات ہوئے۔ ایک یہ کہ قریب سے کسی غیر مسلم شہری کا خنزیر گزرا اور ایک خارجی نے تلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا۔ یہ دیکھ کر اس کے ساتھی غصے سے بے حال ہو گئے ، کہنے لگے: "غیر مسلم شہریوں کے خنزیر کو کیوں قتل کیا؟"
خنزیر کا مالک آیا تو خارجیوں نے قیمت دے کر اس کی شکایت دور کر دی۔
یہ دیکھ کر حضرت عبداللہ بن خبابؓ کو ان سے کچھ انسانیت کی توقع ہوئی اور وہ بولے:
"میں تمہیں بتاؤں کہ اس خنزیر سے زیادہ کس کی اہمیت ہے؟"
خوارج بولے: "کس کی؟"
فرمایا: "میری۔ میں نے کبھی نماز قضا نہیں کی، کبھی کوئی گناہ نہیں کیا۔"
خارجی مہر بلب رہے۔ آگے چلے تو نہر کے کنارے ایک کھجور کا درخت نظر آیا. صحابی رسول کے فرزند کو اس سے باندھ دیا گیا۔ اس دوران ایک خارجی نے اس درخت سے گرا ہوا کھجور کا ایک دانہ اٹھا کر منہ میں رکھ لیا۔ یہ دیکھ کر دوسرے خارجی اس پر برس پڑے اور بولے: "تم نے ذمی کی کھجور کیوں لی، قیمت ادا کیے بغیر اسے کیسے حلال سمجھ لیا؟" اسے کھجور منہ سے پھینکنا پڑی۔
درخت سے بندھے عبداللہ بن خبابؓ یہ منظر دیکھ کر بول اٹھے:
"اگر واقعی ایسے پر ہیز گار ہو جیسے تمہیں میں نے دیکھا ہے تو اس کے بعد مجھے تم سے کوئی خدشہ نہیں ۔"
مگر خارجیوں کا ارادہ بدلا نہیں تھا، وہ آگے بڑھے ، انہیں پکڑ کر نہر کے کنارے لٹایا اور جانور کی طرح ذبح کر دیا خون کی دھار پھوٹ کر نہر میں گری اور کچھ دیر تک وہاں خون کا ایک دائرہ سا بنا رہا۔
اب وہ خاتون کی طرف لپکے۔ وہ چلائیں : "تم اللہ سے نہیں ڈرتے۔ میں تو ایک عورت ہوں۔"
مگر ان ظالموں نے پیٹ چیر کر انہیں بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ حضرت عبداللہ بن خبابؓاور ان کی بیوی کے بہتے خون سے نہر کا کنارہ سرخ ہو گیا۔ ظالموں نے ان کی لاشیں آگ میں جھونک دیں۔
قبیلہ عبد القیس کا ایک خارجی جو اس موقع پر موجود تھا، یہ دل فگار منظر دیکھ کر سخت بد دل ہوا۔ وہ ان کا ساتھ چھوڑ کر چپکے سے بھاگ گیا اور لوگوں کو یہ واقعہ سنایا۔
خوارج کو آخری تنبیہ:
سیدنا حضرت علیؓ اب تک خارجیوں کے خلاف سخت کارروائی سے اس لیے رکے ہوئے تھے کہ کسی کا نظریاتی اختلاف فوجی کارروائی کے لیے وجہ جواز نہیں بن سکتا تھا۔ انہیں جب خوارج کے خلاف مسلح کارروائی کا مشورہ دیا گیا تھا تو انہوں نے کہا تھا: "اس وقت تک ایسا نہیں کیا جائے گا جب تک وہ خونریزی، رہزنی اور بد امنی کا ارتکاب نہ کریں۔"
مگر اب خوارج مسلمانوں کے خون میں عملی طور پر ہاتھ رنگنے لگے تھے جس کی روک تھام کے لیے مسلح کارروائی ضروری تھی۔ حضرت علی المرتضیٰؓ نے اعلان جنگ سے پہلے خارجیوں کو پیغام بھیج کر مسلمانوں کے خون میں ملوث افراد کی سپردگی کا مطالبہ کیا تا کہ ان سے قصاص لیا جا سکے۔ خارجیوں نے اسے مسترد کرتے ہوئے جواب دیا:
"قتل کرنے میں ہم سب شریک ہیں، ہم قصاص کیسے دیں؟"
حضرت علیؓ نے پھر دریافت کیا: "کیا تم سب نے انہیں قتل کیا ہے؟"
جواب آیا: "ہاں، بالکل"
حضرت علیؓ نے بے ساختہ کہا: "اللہ اکبر" اب آپؓ نے خارجیوں سے جنگ کا حتمی فیصلہ کر لیا۔
خوارج کے خلاف جنگ کی دعوت
حضرت علیؓ کو شام کی طرف سے یہ اطمینان تھا کہ وہاں متوازی ہی سہی مگر ایک اسلامی حکومت قائم ہے جو شریعت کے نفاذ کی پابند اور صحیح العقیدہ ہے مگر خوارج کا معاملہ بہت مختلف تھا۔ یہ لوگ بے گناہ انسانوں کا بے در یغ خون بہا کر اپنے لیے مہلت کی گنجائش ختم کر چکے تھے۔ ظاہری عبادت وریاضت کے ساتھ ان کی بے رحمی اور درندگی سے اسلام کا نام بدنام ہورہا تھا۔ انہی خوارج میں حضرت عثمانؓ سے بغاوت کرنے والے بہت سے لوگ شامل تھے جن کے خلاف ثبوت مہیا ہونے کا ماحول نہیں بن سکا تھا۔ عدالتی طور پر ان سے قصاص لینا خلاف شرع ہوتا ۔ مگر اب مسلح بغاوت کے ذریعے انہوں نے خود ہی اپنا خون حلال کر دیا تھا۔
بعض لوگوں کو یہ شبہ تھا کہ ایسے عابد وزاہد لوگوں سے جنگ کیسے جائز ہوسکتی ہے؟ کچھ لوگ جو حضرت معاویہؓ کی حکومت کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے ، سوچ رہے تھے کہ حضرت علیؓ ایک طاقتور سیاسی حریف کو کیوں نظر انداز کر رہے ہیں، وہ شام پر حملہ کیوں نہیں کرتے؟ حضرت علیؓ نے اپنے مختلف خطابات میں ان تمام شکوک وشبہات کو دور کرنے کی کوشش کی ، آپؓ نے خوارج سے فوری طور پر لڑنے کی ضرورت ثابت کرتے ہوئے فرمایا:
"ان لوگوں نے ناحق خون بہایا ہے، لوگوں کی معاش پر ڈاکا ڈالا ہے۔ یہ تمہارے قریب کے دشمن ہیں، اگر تم کسی دوسرے دشمن سے لڑنے جاؤ گے تو خطرہ ہے کہ یہ خوارج تمہاری پشت پر حملہ آور ہوں گے۔"
پھر حضرت علیؓ نے خوارج کی ظاہری درویشی کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا:
"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ میری امت میں ایک جماعت ظاہر ہو گی کہ تمہاری تلاوت ان کی تلاوت کے آگے کچھ نہیں ہوگی، تمہاری نمازیں ان کی نمازوں کے سامنے بے حیثیت ہوں گی، تمہارے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں ماند پڑ جائیں گے۔ یہ لوگ قرآن مجید پڑھتے ہوئے اسے اپنے حق میں تصور کریں گے جب کہ وہ ان کے خلاف دلیل ہو گا ۔ وہ اسلام سے یوں نکل جائیں گے جیسے تیر نشانے سے پار ہو جاتا ہے۔"
حضرت علیؓ نے یہ بھی فرمایا: "اللہ کی قسم ! اگر ان سے نمٹنے والے سپاہیوں کو معلوم ہو جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے ان کے لیے کن کن بشارتوں کا وعدہ ہوا ہے تو وہ اس کارروائی میں شرکت سے ذرا بھی کوتاہی نہ کریں۔"
پھر حضرت علیؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ایک ایسی خاص نشانی بتائی جس کی موجودگی سے یہ یقین ہو جاتا کہ احادیث میں بیان کی گئی نشانیوں سے یہی خارجی فرقہ مراد ہے۔ آپؓ نے حدیث کے الفاظ دہرائے :
"ان میں ایک ایسا شخص ہے جس کا بازو تو ہے مگر کلائی نہیں، بازو کے آخر میں تھن جیسی چیز ہے جس پر سفید بال آگے ہیں۔"
پھر پورے یقین سے فرمایا: "اللہ کی قسم! مجھے توقع ہے کہ یہ وہی قوم ہے... پس اللہ کا نام لے کر کوچ کرو۔"
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا خوارج سے مناظرہ:
خوارج کے لشکر میں بھی چوبیس ہزار افراد شامل ہو چکے تھے۔ اس سے پہلے کہ سیدنا حضرت علیؓ ان سے فیصلہ کن جنگ شروع کرتے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے حضرت علیؓ سے ان کی لشکر گاہ میں جانے کی اجازت مانگی۔ اس میں یہ مصلحت بھی تھی کہ اس طرح اگر ان کے کچھ لوگ الگ ہو گئے تو باقی ماندہ پر قابو پانا نسبتاً آسان ہو جائے گا۔ حضرت علیؓ نے کہا: "ڈر ہے کہ وہ تمہیں نقصان نہ پہنچائیں"۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے کہا: "ان شاء اللہ تعالیٰ، ایسا ہر گز نہیں ہوگا"۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے اپنا بہترین یمنی جوڑا پہنا اور تپتی دوپہر میں تن تنہا خوارج کی خیمہ گاہ میں جا پہنچے۔ وہاں ہر طرف سجدوں کے نشانات سے آراستہ پیشانیاں دکھائی دیں۔ ان لوگوں نے خوش آمدید کہہ کر آمد کا مقصد پوچھا۔ حضرت ابن عباسؓ نے فرمایا: "میں اس لیے آیا ہوں تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا موقف بیان کروں کیوں کہ وحی ان حضرات کی موجودگی میں نازل ہوئی تھی ، تو وہی اس کی مراد بہتر سمجھتے ہیں"۔
یہ سن کر خوارج میں تکرار شروع ہوگئی، کچھ کہہ رہے تھے: "انہیں بولنے کا موقع نہ دیا جائے"۔
مگر دوسروں نے کہا: "ان کی بات ضرور سنی جائے گی"۔
لوگ چپ ہوئے تو حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فرمایا: "مجھے یہ بتائیے کہ آپ حضرات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد (علیؓ) میں کیا غلطی نظر آتی ہے؟"
وہ بولے: "ان کی تین غلطیاں ہیں"۔ آپؓ نے پوچھا: "وہ کیا؟"
بولے: "پہلی یہ کہ انہوں نے اللہ کے دین کے معاملے میں انسانوں کو فیصلے کا مجاز بنادیا... جبکہ اللہ کا ارشاد ہے: ﴿ اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلّٰہِ ﴾ حاکمیت صرف اللہ کی ہے"۔
حضرت ابن عباسؓ نے پوچھا: "دوسری غلطی کون سی ہے؟"
بولے: "علیؓ نے حضرت عائشہ اور حضرت معاویہؓ سے جنگ تو کی مگر کسی کو قیدی بنانے کی اجازت دی نہ مالِ غنیمت لوٹنے کی۔ اگر یہ حریف کافر تھے تو پھر (جانوروں کی طرح) ان کا مال و متاع لوٹنا بھی حلال تھا۔ اور اگر یہ حریف اہلِ ایمان تھے تو علیؓ کے لیے ان کا خون بہانا بھی ناجائز تھا"۔
حضرت ابن عباسؓ نے پوچھا: "اور کچھ!!"
بولے: "علیؓ نے اپنے نام سے امیر المومنین کا لفظ کیوں ہٹایا؟ اگر وہ امیر المومنین نہیں تو پھر امیر الکافرین ہی ہوں گے۔"
حضرت ابن عباسؓ نے ان کے تینوں اعتراضات ٹھنڈے دل سے سننے کے بعد فرمایا:
"یہ بتائیے کہ اگر میں اللہ کی سچی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت سے آپ کے سامنے ایسی باتیں پیش کروں جن سے آپ کو انکار نہ ہو سکے تو کیا پھر آپ اپنے موقف سے دستبردار ہوجائیں گے؟"
وہ بولے: "ہاں، بالکل"
حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے پہلے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرمایا:
"آپ نے کہا کہ اللہ کے دین کے معاملے میں بندوں کو فیصلے کا مجاز بنانا غلط تھا، تو مجھے یہ بتائیے کہ اللہ تعالیٰ تو خود قرآن مجید میں حالتِ احرام میں شکار کے متعلق فرماتے ہیں:
يٰۤاَيُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْتُلُوا الصَّیْدَ وَ اَنْتُمْ حُرُمٌ ؕ وَ مَنْ قَتَلَهٗ مِنْكُمْ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ یَحْكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدْلٍ مِّنْكُمْ.
"ایمان والو! احرام کی حالت میں شکار مت کرو، اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر شکار کو قتل کر دے تو اس کا فدیہ قتل کیے گئے جانور کی مثل ہوگا ، جس کا فیصلہ تم میں سے دو دیانت دار آدمی کریں گے۔ (کہ فدیے میں کیا اور کتنا دیا جائے)۔"
اور اللہ تعالیٰ بیوی اور خاوند (کے جھگڑے) کے بارے میں فرماتے ہیں:
وَ اِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَیْنِهِمَا فَابْعَثُوْا حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهٖ وَ حَكَمًا مِّنْ اَهْلِهَا ۚ اِنْ یُّرِیْدَاۤ اِصْلَاحًا یُّوَفِّقِ اللّٰهُ بَیْنَهُمَا ؕ.
"اگر تمہیں ان کے درمیان جدائی کا خوف ہو تو ایک نمائندہ مرد کے خاندان سے
اور ایک عورت کے خاندان سے بھیجو۔"
اب میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں لوگوں کی جانوں کی حفاظت اور ان کے درمیان صلح و صفائی کی اہمیت زیادہ ہے یا ایک خرگوش کی جان کی جس کی قیمت چار درہم ہوتی ہے۔"
وہ بولے: "اللہ کی قسم! انسانی جانوں کی حفاظت اور ان کے درمیان صلح زیادہ اہم ہے"۔
اس طرح ثابت ہوگیا کہ مسلمانوں کی جانوں کو محفوظ رکھنے کے لیے حضرت علیؓ نے حضرت معاویہؓ کی طرف سے تحکیم بنانے کی پیشکش قبول کر کے کوئی غلطی نہیں کی۔ ابن عباسؓ نے تصدیق کے لیے پوچھا:
"بتائیے میں نے یہ اعتراض دور کردیا؟"
وہ بولے: "جی ہاں، بالکل"
اب آپؓ نے فرمایا: "رہی یہ بات کہ حضرت علیؓ نے جنگ تو کی مگر کسی کو قیدی نہیں بنایا اور مال نہیں لوٹا تو یہ بتاؤ کہ کیا تم اپنی ماں حضرت عائشہ صدیقہؓ کو قیدی بناتے؟ کیا ان کے بارے میں وہ حلال سمجھتے جو کسی اور کے بارے میں حلال تصور کرتے ہو۔ اگر تم ایسا سمجھتے ہو تو تم کافر ہو؛ کیوں کہ قرآن مجید میں ہے:
حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ.
"تمہاری مائیں تم پر حرام کردی گئیں۔"
اور اگر تم یہ کہو کہ ہم حضرت عائشہؓ کو ماں نہیں مانتے ہی نہیں تب بھی تم کفر کروگے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ خود فرمارہا ہے:
اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَ اَزْوَاجُهٗۤ اُمَّهٰتُهُمْ ؕ.
"نبی اہلِ ایمان سے ان کی جانوں کی بہ نسبت زیادہ حق دار ہیں اور نبی کی بیویاں اہلِ ایمان کی مائیں ہیں۔"
اب تم دو گمراہیوں کے درمیان لٹکے ہوئے ہو۔ جسے چاہو پسند کرلو"۔
خارجی ہکا بکا ہو کر یہ باتیں سن رہے تھے۔
آپ نے فرمایا: "میں نے یہ اعتراض دور کردیا کہ نہیں؟"
وہ بولے: "جی بالکل!"
فرمایا: "اچھا! اب رہا حضرت علیؓ کا معاہدے میں اپنے نام سے امیر المومنین مٹانے کا مسئلہ؛ تو دیکھو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو حدیبیہ کے موقع پر باہمی تحریری معاہدے کی دعوت دی...... اور یوں لکھوایا...... یہ وہ فیصلہ ہے جو محمد رسول اللہ نے کیا۔ اس پر قریش کہنے لگے: اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے تو آپ کو بیت اللہ سے ہرگز نہ روکتے، آپ سے جنگ نہ کرتے...... یہاں محمد بن عبداللہ لکھوائیے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے علی! یہاں محمد بن عبداللہ لکھ دو۔ تو غور کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو حضرت علیؓ سے افضل ہیں۔ (وہ فریق مخالف کے اعتراض پر معاہدے سے منصب رسالت کا ذکر حذف کرا دیتے ہیں تو حضرت علیؓ نے منصب خلافت کا ذکر چھوڑ کر کون سا گناہ کر دیا؟)
یہ مثال دے کر حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے پوچھا: "بتائیے میں نے یہ اعتراض دور کردیا؟"
وہ بولے: "جی بالکل"
خوارج کی اکثریت نادم ہو چکی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان کا حجم غفیر منتشر ہونے لگا۔ ان میں سے بیس ہزار افراد جو ( زیادہ ےتر بعد میں شامل ہوئے تھے) وہاں سے نکل گئے ، صرف چار ہزار افراد پیچھے رہ گئے۔
معرکۂ نہروان:
نہروان کی خیمہ گاہ میں اب وہی خارجی رہ گئے تھے جو اپنے عقیدے کے لیے مرنے مارنے پر تیار تھے، وہ اپنے قائد عبداللہ بن وہب راسبی کی کمان میں اپنے پڑاؤ سے نکل کر نہر پر بنے "دیز جان" نامی پُل کے پار آگئے ۔
خوارج نے طے کر لیا تھا کہ مزید کوئی گفت وشنید نہیں ہوگی، تلوار دونوں گروہوں کی قسمت کا فیصلہ کرے گی۔
تاہم حضرت علیؓ یکے بعد دیگرے ان کی طرف سفیر بھیج کر انہیں سمجھانے کی پوری کوشش کرتے رہے مگر وہ نہ مانے اور آخر کار حضرت علیؓ کے سفیر کو ہی قتل کر ڈالا۔ تب حضرت علیؓ نے فوج کو حملے کی اجازت دی۔
دونوں لشکر قریب آئے تو عبداللہ بن وہب نے حکم دیا: "نیزے پھینک دو اور تلواریں سونت لو۔"
ادھر حضرت علیؓ کے سوار نیزے تان کر ان پر پل پڑے۔ خوارج بڑی بے جگری سے لڑے مگر جلد ہی ان کا زور ٹوٹ گیا اور تقریباً سب کے سب وہیں مارے گئے۔ حضرت علیؓ کے ساتھیوں میں سے صرف دو افراد شہید ہوئے۔
مرنے والے خارجیوں میں بہت سے افراد وہ تھے جو حضرت عثمانؓ کے خلاف مدینہ منورہ میں فساد مچانے گئے تھے۔ ان میں سے بعض لوگ اس فتنے کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے جیسے حرقوص بن زہیر۔ اس طرح حضرت علیؓ کو یہ سعادت بھی نصیب ہوگئی کہ ان کی شمشیرِ آبدار نے شرعی حدود میں رہتے ہوئے نہروان کے میدان میں ایسے بہت سے بد بختوں کا بھی صفایا کر دیا جو حضرت عثمانؓ کے خلاف فتنہ برپا کرنے میں پیش پیش تھے۔
عجیب الخلقت آدمی کی تلاش:
جنگ کا ہنگامہ تھمتے ہی حضرت علیؓ نے اعلان کیا: "لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایسے گروہ کی خبر دی تھی جو دین سے یوں نکل جائے گا جیسے تیر نشانے سے پار ہو جائے۔ اس گروہ کی ایک نشانی یہ بتائی تھی کہ ان میں ایک سیاہ فام شخص ہوگا جس کی کلائی تھن کی طرح پھولی ہوئی ہوگی، اسے ڈھونڈو۔ وہ انہی میں ہوگا۔"
آپؓ نے یہ بھی کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ وہ مجھ سے مقابلے میں قتل ہوگا۔
لوگوں نے تلاش کیا مگر ناکام رہے تو بعض نادانوں کے منہ سے نکل گیا: "ابن ابی طالب ہمیں ہمارے بھائیوں کے بارے میں دھوکہ دیتے رہے اور آخر کار ہم نے ان بے چاروں کو قتل کر ڈالا۔"
یہ سن کر حضرت علیؓ رونے لگے، پھر فرمایا: "تم اسے ڈھونڈو! اللہ کی قسم! نہ تو میں نے جھوٹ بولا تھا نہ مجھے جھوٹی بات بتائی گئی تھی۔" لوگوں نے پھر تلاش کیا مگر ایسا آدمی نہ ملا۔ آخر کار آپؓ نے اپنا سفید خچر منگوایا اور خود اس شخص کی لاش تلاش کرنے لگے۔
نہر کے کنارے ایک کھائی میں کھجور کے درخت تلے لاشوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔ حضرت علیؓ یہاں خود لاشوں کو الٹتے پلٹتے رہے، آخر ان میں سے اُس عجیب الخلقت شخص کی لاش نکل آئی، جسے دیکھتے ہی حضرت علیؓ نے تکبیر کا نعرہ بلند کیا اور فرمایا: "اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔"
لوگوں کے شکوک دور ہو گئے اور انہیں اپنی لڑائی پر اجر و ثواب ملنے کا یقین ہو گیا۔
جمل، صفین اور نہروان کے شرکاء میں واضح فرق:
جنگ جمل اور صفین کے برخلاف یہاں حضرت علیؓ واضح طور پر اعلان فرمارہے تھے کہ ہمارے مقتولین جنت میں اور ان کے دوزخ میں ہوں گے۔
جبکہ صفین کے اختتام پر آپؓ نے فرمایا تھا:
" قَتْلَانَا وَ قَتْلَاهُمْ فِي الْجَنَّةِ. (ہمارے اور ان کے مقتولین جنت میں ہوں گے۔)
خوارج سے یہ جنگ شعبان سن ۳۸ ہجری میں ہوئی تھی۔ یہ سردی کا موسم تھا۔ صحیح روایت کے مطابق حضرت علیؓ اس مہم کے بعد کوفہ واپس چلے گئے اور اعلان فرمایا کہ اس سال مزید کوئی لشکر کشی نہیں کی جائے گی۔
حضرت علیؓ کی معتدل مزاجی:
حضرت علی المرتضیٰؓ کی معتدل مزاجی کا یہ عالم تھا کہ خوارج جیسے خون خوار دشمنوں کو بھی کافر یا منافق قرار نہیں دیا۔ کسی نے پوچھا: "کیا یہ لوگ مشرک تھے؟" فرمایا: "شرک ہی سے تو وہ بچ کر بھاگے تھے۔"
پوچھا گیا: "تو کیا انہیں منافق سمجھا جائے؟"
فرمایا: "منافق تو اللہ کا ذکر بہت تھوڑا کیا کرتے ہیں۔" (جبکہ خوارج ذکر و عبادت میں ممتاز تھے)۔
سوال ہوا: "تو پھر انہیں کیا سمجھا جائے؟" فرمایا: "یہ لوگ ہمارے خلاف بغاوت کے مرتکب ہوئے تھے۔"
اس طرح ایک بار کسی نے خوارج کا ذکر چھیڑنے پر انہیں گالیاں دیں تو حضرت علیؓ نے فرمایا:
"ایسے لوگوں کو گالی مت دو۔ ہاں اگر وہ عادل حکمران کے خلاف بغاوت کریں تو ان سے لڑو۔"
اہلِ عراق اور اہل شام دونوں ایمان والے اور دین دار:
خوارج کے خلاف حضرت علیؓ کی یہ کارروائی ان کے خلیفۂ برحق ہونے کی بہت بڑی دلیل تھی ، کیوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "قیامت قائم نہ ہوگی جب تک دو مسلمانوں کے دو بڑے گروہ آپس میں جنگ نہ کریں جن کا موقف یکساں ہوگا، ان کے درمیان سے ایک گمراہ فرقہ نکلے گا جسے دونوں گروہوں میں سے وہ قتل کرے گا جو حق کے زیادہ قریب ہوگا"۔
اس روایت سے جہاں سیدنا حضرت علی بن ابی طالبؓ کی جماعت کی افضلیت اور ممتاز امور میں ان کے اجتہاد کی صحت ثابت ہوتی ہے وہیں سیدنا معاویہ بن ابی سفیانؓ اور ان کی جماعت کا اہلِ ایمان و تقویٰ میں ہونا بھی ظاہر ہوتا ہے، کیوں کہ روایت میں دونوں گروہوں کو حق پر یعنی دین دار کہا گیا ہے۔ ہاں، حضرت علیؓ کو "حق سے قریب ترین" کہہ کر ترجیح دی گئی۔ مطلب یہ ہوا کہ حضرت معاویہؓ کی جماعت بھی دین دار تھی۔
اس حدیث سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ حضرت علی اور حضرت معاویہؓ دونوں کا مقصد ایک ہی تھا، یعنی حق کو سربلند کرنا۔ البتہ فقہی و اجتہادی اختلاف اور شر پسندوں کی پھیلائی ہوئی غلط فہمیوں کی وجہ سے وہ متفق نہ ہو سکے۔

