دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس میں کوئی شک نہیں کہ مدارس اسلامیہ امت مسلمہ کے آہنی قلعے، شعائرِ اسلام کی حفاظت وصیانت، اسلامی تشخص، قومی تہذیب وتمدن، دینی دردو فکر، اسلامی طرز و روایات، مذہبی اخلاق واقدار، قوم وملت کی شناخت، تعلیم وتربیت، تہذیب وثقافت، پاکیزہ شعور و ادراک، عمدہ سیرت وکردار، مکمل ضابطۂ حیات اور انسانی ہمدردی و خیرخواہی جیسے اوصاف کے امین و پاسباں ہیں، کسی دانشور کا قول ہے کہ اگر ہندوستان اور پورے عالمِ اسلام میں ان مدارس کا یہ مربوط جال بچھایا ہوا نہ ہوتا تو یہ ملت کبھی کی مر چکی ہوتی۔
آج جو بھی کچھ اسلامی بود و باش، مذہبی رنگ وآہنگ اور دینی واسلامی ماحول زندہ وباقی ہے، وہ انہیں مدارس کی برکت ہے، پنج وقتہ نمازوں اور جنازہ وجمعہ وعیدین کی نمازوں کیلئے ائمہ حضرات کا دستیاب ہو جانا یہ سب انہی مدارس کا فیض ہے اور انہی مدارس میں ان بوریوں پر بیٹھنے والے علماء کرام نے اس ملک کی حریت، قانون، تہذیب، سنسکرتی اور تقدس کی حفاظت کی ہے۔
تاریخ کے وہ دردناک واقعات کوئی زیادہ دور نہیں کہ جب یہاں کا اک اک باشندہ غلامی کی زندگی گذار رہا تھا، سب سے پہلے مکار و غدار انگریزوں کے خلاف جذبۂ جہاد کا نعرہ بلند کرنے والے انہی مدارس کے بوریا نشین حضرات تھے، جنہوں نے قید وبند کی سختیاں، تیغ وتفنگ کی ہولناکیاں، قید و زنداں کی زیادتیاں اور خنجر وسنان کی گھن گرج سب کچھ برداشت کیا، مگر ان کی صلابتِ ایمانی میں کوئی جنبش پیدا نہ ہو سکی، یہ سب انہی افلاس و غربت میں زندگی گذارنے والے مدارس ومکاتب کا فیضانِ نظر تھا، یہ ایک حقیقت ہے کہ امت مسلمہ اپنی پوری پہچان وشناخت کے ساتھ اپنے وجود کی بقا میں ان مدارس کی ہمیشہ مرہونِ منت رہے گی۔
آج جبکہ پورے عالمِ اسلام میں ان مسلمانوں کو ان گنت اور نت نئے مسائل وچیلنجز کا سامنا ہے، مذہب کی آبرو، ایمان وعقیدہ، عصمت و عفت، جان ومال اور سارے اسبابِ معیشت تنگ کرنے کی پلاننگ ہر دن تیز تر ہو رہی ہے، اسی طرح ان مدارس کا تقدس وبقا بھی خطرہ میں پڑا ہوا ہے، ان کو لا تعداد خارجی و داخلی مسائل کا سامنا ہے، ان مدارس کی مخالفت عالمی سطح پر ہو رہی ہے، امریکہ ان کو دہشت گردی کی چھاؤنیاں قرار دیتا ہے، بین الاقوامی کانفرنسوں میں ان کے خلاف تجاویز پاس ہوتی ہیں، ہندوستانی ایوانوں میں بھی ان کی مخالفت پر ایڑی چوٹی کا زور صرف کیا جاتا ہے، یہاں کی قانونی بالا دستیاں بھی ان پر خوب دانت بھیچ بھیچ کر بھپتیاں کستی ہیں، جہاد کا ایک خونخوارانہ تصور پیدا کر کے ان کے بے داغ کردار کو مشکوک کرنے کی مذموم سازشیں رچی جاتی ہیں۔ یہ مخالفتیں تو ہوتی رہی ہیں اور ہوتی رہیں گی، ان سے نہ کوئی زیادہ خوف کی ضرورت ہے اور نہ ان سے کوئی شکوہ و گلہ، یہ مخالفتیں تو مردِ مومن کی بلند پرواز کے لئے ضروری ہوا کرتی ہیں، اقبال مرحوم نے کیا خوب کہا تھا:
تندیِ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے
ان بیگانوں سے ہم کو بھلا کیا شکایت ہوسکتی ہے؟ ان کا خمیر تو اٹھا ہی ہے اسلام دشمنی کے لئے اور یہ تو ان کی فطرت کا تقاضا بھی ہے، ان کا نصب العین ہی عصبیت اور تنگ نظری ہے اور ان کا مسلک و مشرب ہی اسلام مخالفت ہے، وہ اپنا کام کر رہے ہیں سو کرتے رہیں گے، ان کی سازشوں سے تو ہم کو مزید سنبھلنے کا موقع ملے گا۔
مگر افسوس تو یہ ہے کہ باڑ ہی کھیت کو کھا رہی ہے، پاسباں ہی رہزنی کرنے لگے، گھر کو گھر کے چراغ ہی سے آگ لگنے لگی اور قلب وجگر خود دل کے پھپھولوں سے جل اٹھے ہیں ۔
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
دکھ اور اضطراب تو اس وقت ہوتا ہے جب سنتے ہیں کہ مسلمان نوجوان اور جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی ان مدارس کے خلاف خوب جی کھول کر تقریریں کرتا ہے، قلب وجگر اس وقت چھلنی ہوتا ہے جب معلوم ہوتا ہے کہ مدارس کے خلاف آرٹیکل لکھنے والا کوئی مسلم نوجوان تھا، تعجب ہے اپنے ان بھائیوں پر جو موقع ملنے پر پوری ڈھٹائی کے ساتھ اپنی زبان اور اپنے قلم کا استعمال مدارس کے خلاف کرتے ہیں اور بیباکانہ انداز میں علماء کو خوب لتاڑتے ہیں اور ان مدارس کو چلانے والوں پر شب و روز طعن کا پورا بازار گرم کر دیتے ہیں، بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ ان مدارس کو کسی طرح کی دستکاری سے بھی جوڑنا چاہئے اور ان کی دریدہ دہنی کی اس وقت انتہا ہو جاتی ہے جب وہ کہتے ہیں کہ ان ملاؤں نے بھکاری اور گداگری کے اڈے کھول رکھے ہیں جو ان میں پڑھا ہے وہ بھی چندہ ہی کریں گے، چونکہ ان کے پاس ذریعۂ معاش نہیں ہے اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ یہ مولوی لوگ قوم کے بچوں کو بھکاری بنا رہے ہیں۔
ان کے اس عمل سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سارے جہاں کا درد انہی کے جگر میں ہے اور جب جب بھی ان کو کسی سیاسی اسٹیج سے گلا پھاڑنے کا موقع ملتا ہے وہ ہی ایک مدارس کی مخالفت کا پہلو اختیار کر کے اپنے اندر کا زہر اگلتے ہیں، اور اپنے آپ کو قوم وملت کا سب سے بڑا ہمدرد اور سب سے بڑا مسیحا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔
سماج میں وہ بظاہر بڑے لکھے تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس تعلیم اور معلومات کی بہت گہری کمی ہوتی ہے، لباس و پوشاک کے اعتبار سے وہ پروفیسر لگتے ہیں مگر ان کے پاس علم و مطالعہ اور تاریخی واقفیت کا زبردست فقدان ہوتا ہے، اس لیے وہ پڑھے لکھے ہوتے ہوئے بھی بالکل جاہل ہوتے ہیں، اور ان کا یہ فتنہ نری جہالت سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، اس لئے کہنا چاہئے کہ آج تعلیم یافتہ جہالت کا دور ہے اور اس وقت بہت بڑا خطرہ انہی لوگوں سے ہے چونکہ دراصل ان کی بنیادی تعلیم ایسے اسکولوں اور مشنری اداروں میں ہوئی ہے جہاں اسلام دشمنی، بغض وعناد، مسلمانوں کی تحقیر و تذلیل ان کے اغراض ومقاصد کا ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پھر ان کا مقصدِ حصولِ علم صرف دنیاوی منافع اور مادی ترقیات ہوتی ہیں اور مدارس و مکاتب سے تنخواہ پانے والے مولویوں سے بغض وعناد شاید ان کا اولین مطمحِ نظر ہوتا ہے۔
چند ٹکڑوں کی خاطر ایمان و عقیدہ کا سودا کرنے والوں کی سمجھ میں یہ بات بھلا کس طرح سے آسکتی ہے؟ ان سے کوئی پوچھے کہ آپ مدارس میں پڑھنے والے ان دو چار فیصد بچوں کے بارے میں تو اس قدر متفکر اور پریشان ہو اور ۹۸ فیصد کے لئے آپ کی ہمدردیوں کے سوتے بالکل خشک ہیں، آپ ان دو فیصد کی روزی روٹی کے لئے اس قدر پریشان ہیں کہ آسمان سر پر اٹھا رکھا ہے، دو فیصد جو مدارس والوں کے پاس ہیں آپ بھی انہیں پر اپنا نظام ٹھونسنا چاہتے ہیں اور ۹۸ فیصد کی کوئی پرواہ نہیں، کیا حقیقت میں آپ ملت کے نبض شناس اور کشتیِ امت کے کھیون ہار بننا چاہتے ہیں تو آئیے پہلے ان بچوں کی فکر کیجئے جو ۹۸ فیصد ہیں، مدارس میں مسلمانوں کے صرف دو چار فیصد ہی بچے آتے ہیں، اور ۹۸ فیصد کچھ اسکولوں میں جاتے ہیں اور باقی گلی کوچوں میں بھٹکتے پھرتے ہیں اور ایک کثیر تعداد وہ ہے کہ غربت و افلاس کی وجہ سے ان کے والدین ابتداء ہی سے ان کو مزدوری پر لگا دیتے ہیں، کیا ان کو دیکھ کر کبھی آپ کا دل پسیجتا ہے؟
ہائے افسوس۔۔۔۔۔۔ صدا فسوس آپ کو اپنے علماء اور مدارس و مکاتب کے تقدس کی پامالی اور کھلواڑ کی تو فرصت ہے جو نہ جانے کس کس طرح فقر وفاقہ میں دن گزارتے ہیں آپ صرف ان ۹۸ فیصد بچوں پر محنت کیجئے، اپنے طریقے پر کچھ بھی نظامِ تعلیم وتربیت مرتب کیجئے، مگر خدارا یہ مدارس ومکاتب جو بڑی یکسوئی کے ساتھ اپنے کاموں میں مشغول ہیں اپنے مفید مشوروں کو ان سے دور رکھئے، جب ان کو آپ کی ضرورت پڑے اور یہ آواز لگائیں، ہو سکے تو مثبت انداز میں ان کا تعاون کر دیجئے۔
ان حالات میں اربابِ مدارس کو خوب محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا نظامِ تعلیم وتربیت بہت ٹھوس ہونا چاہئے، اپنے ان بھائیوں کی غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے بحث ومباحثہ کی ضرورت نہیں بلکہ مثبت انداز میں اپنی بات صاف اور واضح بیان کر کے اپنے کام میں اسی یکسوئی کے ساتھ منہمک ہو جانے کی ضرورت ہے، باری تعالی اس کے لئے ہم سب کو قبول فرمائے، آمین۔
ستیـزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بو لـہـبی
بحوالہ : متاعِ لوح و قلم (صفحہ:۷۰)

