فریقین میں صلح
مصر پر حضرت معاویہؓ کے قبضے اور سرحدی جھڑپوں کے باوجود حضرت علیؓ کی اہل شام سے کشادہ روئی اور نرم خوئی بدستور برقرار رہی۔ یہ ثابت نہیں کہ حضرت علیؓ نے شام کی سمت دوبارہ لشکر کشی کا عزم کیا ہو، حالانکہ جزیرۃ العرب پر اہل شام کے حملے اور مصر پر ان کا قبضہ ایک نئی جنگ چھیڑنے کے لیے مضبوط وجہ جواز بن سکتا تھا۔
حضرت علیؓ جہاں داری کے اس رمز سے خوب آشنا تھے کہ حکمرانی کا معنی ملک پر ایسی گرفت ہے کہ احکام کا نفاذ اختیار میں ہو۔ جہاں یہ اختیار قطعی طور پر ختم ہو جائے وہاں حکمرانی بھی باقی نہیں رہتی۔ پس اگر کوئی گروہ غیر معمولی طور پر طاقتور ہو کر اپنی مقبوضہ حدود میں سرکاری احکام کے نفاذ کی ہر کوشش کو بزور شمشیر ناکام بنا دے اور یہ معاملہ طول پکڑتا جائے تو ایسے میں معاملہ خروج سے ہٹ کر الگ ریاست کے قیام کی طرف جانے لگتا ہے، حکومت اور باغی گروہ کے بجائے یہ دو ریاستوں اور دو حکمرانوں کی کشمکش کا مسئلہ بننے لگتا ہے۔ پس اگر فریق ثانی اہل عدل و تقویٰ ہو تو اس سے بلاوجہ جنگ کی ضرورت نہیں۔ ہاں اپنی موجودہ سرحدوں کا دفاع بہر حال حکمران کی ذمہ داری رہے گی۔
اہل شام کے ساتھ حضرت علیؓ کی پالیسی کے خطوط:
غور کریں تو ان سالوں میں حضرت علیؓ کی سیاسی حکمت عملی درج ذیل خطوط پر استوار دکھائی دے گی:
۱۔ حضرت علیؓ نے مصر پر اہل شام کے قبضے کے خلاف کوئی سخت ردعمل ظاہر نہیں کیا کیوں کہ وہ علاقہ واقعی ان کی استطاعت سے باہر ہو چلا تھا۔
۲۔ حضرت علیؓ نے شام پر دوبارہ حملے کا خیال ترک کر دیا کیوں کہ معاملہ اہل عدل کی ایک الگ ریاست بننے کی طرف جا رہا تھا۔
۳۔ ہاں اب تک اس ریاست سے کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا، اور سرحدی جھڑپیں ہوتی رہتی تھیں۔ حضرت علیؓ نے اپنی سرحدوں کا دفاع کیا اور اہل شام کی مداخلت کو کہیں بھی کامیاب نہیں ہونے دیا۔
۴۔ اگر حضرت علیؓ چاہتے تو اہل شام سے ایک فیصلہ کن جنگ لڑ سکتے تھے مگر صفین میں ہونے والے غیر معمولی افرادی نقصان سے وہ بڑے دل گرفتہ تھے جیسا کہ جنگ کے دوران بھی انہوں نے اس کرب کا اظہار فرمایا تھا۔
حضرت علیؓ ایسے کسی المیے کا اعادہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے ان کا رویہ صبر و تحمل پر مبنی رہا۔
۵۔ ایسا لگتا ہے کہ حضرت علیؓ کی دور بین نگاہوں، غیر معمولی فقاہت و بصیرت اور عاقبت اندیش ذکاوت نے جنگ صفین سے کوفہ لوٹتے وقت ہی یہ بھانپ لیا تھا کہ فریقین میں زاویہ نگاہ کا اختلاف طول کھینچے گا اور اس وقت قدرتی طور پر عالم اسلام میں دو متوازی حکومتیں قائم ہو جائیں گی۔
حضرت علیؓ کو حضرت معاویہؓ کے حکمران بننے کا اندازہ اور اس کے لیے کشادہ دلی:
حضرت علیؓ کو حضرت معاویہؓ کے ایمان و اخلاص، کردار و سیرت اور ان کی قائدانہ صلاحیتوں کے بارے میں کوئی شک و شبہ نہیں تھا۔ چنانچہ قرائن بتاتے ہیں کہ وہ صفین کے بعد ہی طے کر چکے تھے کہ حضرت معاویہؓ کی متوازی امارت سے وہ اب از خود کوئی تعرض نہیں کریں گے اور صلح و مفاہمت کو ترجیح دیں گے۔ گویا انہوں نے حضرت معاویہؓ کو ان کی اجتہادی خطا میں معذور تصور کر لیا تھا۔
مگر حضرت علیؓ کے وفادار اور مخلص حامیوں کی رائے اس حد تک وسیع نگاہی اور کشادہ دلی پر مبنی نہیں تھی، کیوں کہ صفین میں ان کے ہزاروں عزیز اور احباب اہل شام کے ہاتھوں قتل ہوئے تھے۔ فطری بات تھی کہ ان صدمات کے زخم اتنی جلد مندمل نہیں ہو سکتے تھے۔ حضرت علیؓ حکیمانہ انداز میں اپنے رفقاء کے دلوں پر مرہم لگانے اور ان کے اذہان میں لچک پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ ان کے مصاحبین کا کہنا ہے کہ حضرت علیؓ صفین سے واپسی پر اپنے ساتھیوں سے ایسی باتیں کہنے لگے تھے جو پہلے کبھی نہیں کہتے تھے، آپ فرماتے تھے:
"معاویہ کی حکمرانی کو نا گوار مت سمجھو۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر معاویہ تم سے رخصت ہو گئے، تو تم لوگوں کے سروں کو حنظل کے پھلوں کی طرح کندھوں سے کٹ کٹ کر گرتا دیکھو گے۔"
حضرت علیؓ کا یہ بیان سرسری نہیں بلکہ حالات پر ان کی وسیع نگاہ اور عواقب بینی کا مظہر تھا۔ وہ جان چکے تھے کہ شام میں قبائلی تعصب ابھرنے کے باوجود وہاں حضرت معاویہؓ اپنے مناقب اور خصائل کے لحاظ سے سب سے معتدل شخصیت ہیں اور ان کے بعد کوئی شامی سیاست دان ان جیسی رواداری اور برد باری کا مظاہرہ نہیں کر سکے گا۔ لہٰذا ان کے بعد خانہ جنگی میں شدت آ سکتی ہے۔ وہ یہ بھی محسوس کر چکے تھے کہ اہل عراق کے طبعی انتشار و افتراق کے مقابلے میں حضرت معاویہؓ نے اہل شام کو جس طرح منظم کر رکھا ہے، اس کا نتیجہ عموماً سیاسی غلبے کی شکل میں ہی نکلتا ہے، لہٰذا مستقبل میں امت کا اقتدار انہی کے ہاتھوں میں چلے جانا کوئی بعید نہیں۔ حضرت علیؓ ان تمام پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے، اپنے مصاحبین کا یہ ذہن بنانا چاہتے تھے کہ اگر کبھی ایسی صورت حال بن جائے تو اہل عراق اسے اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں اور ایک قابل آدمی کو حکمران مان کر حالات سے سمجھوتا کر لیں۔
مجلس تحکیم کے بے نتیجہ ہونے کے بعد جب ذوالقعدہ ۳۷ھ میں حضرت معاویہؓ نے شام کے مستقل حکمران کے طور پر بیعت لی تو شام کا ایک الگ ریاست و حکومت کے طور پر تشخص مزید ابھر آیا۔
اُدھر حضرت علیؓ ان اور ان کے رائے عامہ کو کسی ایسے معاہدے کے لیے ہموار کرتے رہے جو دونوں ریاستوں کے لیے مستقل امن کا ضامن ہوتا ہے۔ جو لوگ شام پر حملہ کرنے کے لیے اصرار کر رہے تھے، آپؓ ان کی رائے کو مسترد کر کے خوارج کے سد باب کو ضروری قرار دیتے تھے۔ آپ فرماتے تھے: "کیا تم معاویہ اور اہل شام کی طرف پیش قدمی کرو گے اور ان دشمنوں کو اپنے اہل وعیال اور مال و دولت پر مسلط چھوڑ جاؤ گے؟"
سرحدوں کے احترام کا معاہدہ:
اگرچہ حضرت علیؓ کی اس نرمی اور تحمل کے جواب میں اہل شام کی طرف سے مسلسل سرحدی جارحیت کا ارتکاب ہوتا رہا حتیٰ کہ حضرت علیؓ کی حیات مبارک کے آخری سال ۴۰ ہجری میں بسر بن ارطاۃؓ کی قیادت میں شامی لشکر نے حجاز سے گزر کر یمن تک یلغار کی مگر حضرت علیؓ نے صرف اپنے علاقے کے دفاع اور شامی لشکر کو پسپا کرنے پر اکتفا کیا۔ اس کے کچھ دنوں بعد حضرت معاویہؓ کی جانب سے حضرت علیؓ کو درج ذیل مراسلہ پہنچا:
"اما بعد! اگر آپ پسند کریں تو عراق آپ کے پاس رہے اور شام میرے پاس، تا کہ امت کے درمیان تلوار چلنا بند ہو جائے اور مسلمانوں کا خون نہ بہے۔"
مدعا یہ تھا کہ فریقین ایک دوسرے کی حدود میں مداخلت نہ کریں۔ جس کے پاس جو علاقہ ہے وہ اسی کے پاس رہے۔ حضرت علیؓ جب صفین کے بعد اسی حکمت عملی پر کاربند تھے اور تب سے اب تک انہوں نے ایک بار بھی شامی سرحد پر کوئی فوج نہیں بھیجی تھی۔
جب حضرت معاویہؓ نے بھی اسی تدبیر کو اپنانے پر آمادگی ظاہر کی تو حضرت علیؓ نے اسے بخوشی قبول کر لیا۔
یوں سرحدوں کے احترام کا معاہدہ ہو گیا۔ حضرت علیؓ اپنے علاقے کے محصولات وصول کر کے اپنے ملک پر اور حضرت معاویہؓ اپنی پیداوار سے اپنے ملک پر خرچ کرتے رہے۔ حضرت علیؓ کی خلافت کے آخری مہینوں میں دونوں طرف امن و امان رہا۔ حضرت علیؓ کی شہادت تک فریقین میں دوبارہ کوئی جھڑپ نہ ہوئی۔
امیر المؤمنین اور امیر شام:
اس دور میں شام کے سب سے بڑے عالم حضرت سعید بن عبدالعزیز تنوخیؒ عراق اور شام کی ان دو متوازی اسلامی حکومتوں کے مابین تعلقات کی نوعیت کو مختصر الفاظ میں یوں بیان کرتے ہیں:
"حضرت علیؓ کو عراق میں امیر المؤمنین کہا جاتا تھا اور حضرت معاویہؓ کو شام میں (صرف) "امیر" جب حضرت علیؓ کی شہادت ہو گئی تب حضرت معاویہؓ کو امیر المؤمنین کہہ کر پکارا گیا۔"
قیصر روم کی دھمکی اور حضرت معاویہؓ کا جواب:
حضرت معاویہؓ اور امیر المؤمنین حضرت علی المرتضیٰؓ کے درمیان سیاسی اختلافات اپنی جگہ تھے مگر امت کی خیر خواہی اور دفاع کو دونوں ہر چیز پر ترجیح دیتے تھے اور اس موقف پر دونوں حضرات متفق تھے۔
اس سلسلے میں صلح سے پہلے کا یہ واقعہ قابلِ غور ہے کہ قیصر روم عالم اسلام پر حملے کے لیے موقع کی تلاش میں تھا۔ جب اس نے دیکھا کہ اسلامی ریاست دو ٹکڑوں میں بٹ چکی ہے تو اس نے ایک بہت بڑا لشکر لے کر شام کی سرحدوں کی طرف پیش قدمی شروع کر دی۔ حضرت معاویہؓ کو پتا چلا تو اسے ایک دھمکی آمیز مراسلہ لکھا جس میں تحریر تھا:
"اے ملعون! اگر تو واپس نہ لوٹا تو اللہ کی قسم! میں اور میرا چچا زاد بھائی علی تیرے خلاف متحد ہو کر برسرِ پیکار ہوں گے، ہم تجھے تیری تمام سلطنت سے بھی نکال باہر کریں گے اور زمین کی وسعتوں کو تجھ پر تنگ کر کے دم لیں گے۔"
شاہِ روم یہ خط پڑھ کر کانپ گیا۔ وہ سمجھ گیا کہ مسلمان قائدین درحقیقت اغیار کے مقابلے میں اب بھی سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں، چنانچہ وہ فوراً حضرت معاویہؓ کو صلح کا پیغام دے کر اپنے لاؤ لشکر سمیت واپس ہو گیا۔
اسلامی سیاست کے ایک اہم اصول کی بنیاد:
حضرت علیؓ آخر تک حضرت معاویہؓ کے بارے میں مصالحانہ پالیسی پر قائم رہے۔ آپؓ کا یہ مبارک فقیہانہ فیصلہ بعد میں عالم اسلام کی دیگر خلافتوں کے لیے یہ گنجائش پیدا کر گیا کہ اگر کسی علاقے کا کوئی مسلم حاکم، اربابِ خلافت سے اختلافِ رائے کی بنا پر الگ ہو کر خود مختار حکومت قائم کر لے تو خلیفہ پر یہ واجب نہیں کہ وہ اس سے بہر صورت جنگ کرے۔ اگر مسلمانوں کی مصلحت اس میں ہو کہ اس کی خود مختارانہ حیثیت کو ایک زمینی حقیقت کے طور پر قبول کر لیا جائے اور عدم تعرض کی پالیسی اپنائی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
خلافت بنو عباس اور خلافتِ عثمانیہ کے دور میں اکثر خود مختار مسلم سلاطین اسی شرعی گنجائش کے تحت برسرِ اقتدار رہے ہیں۔ عباسی اور عثمانی دور کی آزاد مسلم ریاستوں کی وفاداریاں عموماً مرکزِ خلافت سے قائم رہتی تھیں۔ مختلف ریاستوں کے آپس میں بھی معاہدے ہوتے تھے۔ حالات تبھی خراب ہوتے تھے جب مسلم حکمران باہم لڑ پڑتے تھے۔
اگر متحد مسلم ریاستیں ایک مرکزی وفاقی ادارے کے تحت اتحاد و اتفاق کی شکل قائم کر کے اپنا اندرونی نظام قرآن و سنت کے عادلانہ اصولوں پر چلائیں اور ہمسایہ مسلم ریاستوں سے برادرانہ تعلق رکھیں تو فقط ریاستوں کا متعدد ہونا مسلمانوں کے سیاسی نظام میں کسی بڑے بحران کا باعث نہیں بن سکتا۔ ہاں جو حکامِ خلافت سے از خود ٹکرائیں یا جو ریاستیں اپنے غلط نظریات دوسروں پر مسلط کرنے، ہمسایوں کی سرحدات کو روندنے، بے گناہ لوگوں پر ظلم و ستم ڈھانے اور شرعی حدود پامال کرنے کی مرتکب ہوں ان کا معاملہ الگ ہے۔ انہیں سیدھی راہ پر لانے کی کوشش کرنا ضروری ہے۔
حضرت علیؓ کی فقہی رائے پر اجماع
بتایا جا چکا ہے کہ حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت کرنے والوں میں سے کچھ وہ تھے جنہوں نے گھر میں داخل ہو کر قاتلانہ وار کیا تھا۔ دوسرے وہ تھے جو صرف شورش میں شریک ہوئے تھے۔ ان میں زیادہ تر نادان اور جوشیلے لوگ تھے جو بہکاوے میں آ کر فساد میں شامل ہو گئے تھے۔ اصل قاتل چند افراد تھے۔ یہ مجرم جو حضرت علیؓ سمیت تمام صحابہ کے نزدیک قابل قصاص تھے، حضرت علیؓ کے حلقے میں شامل نہ تھے بلکہ واردات کے فوراً بعد دور دراز کے علاقوں کی طرف فرار ہو کر روپوش ہو گئے تھے۔ اب متنازع مسئلہ ان باغیوں کا تھا جو قتل میں شریک نہ تھے اور بیعت کر کے حضرت علیؓ کے حلقے میں شامل ہو چکے تھے۔ ان سے معاملہ کرنے میں اختلاف فقہی بھی تھا اور انتظامی بھی۔
اہلِ جمل اور اہل شام کا مطالبہ یہ تھا کہ ان سب سے بھی قصاص لینا ضروری ہے۔ حضرت علیؓ کے سامنے جو شرعی دلائل تھے ان سے یہ ثابت ہوتا تھا کہ باغی ہتھیار ڈالنے کے بعد مامون ہو جاتے ہیں۔ اس بارے میں واضح ترین دلیل ڈاکوؤں اور باغیوں کے متعلق قرآن مجید کا یہ حکم تھا:
﴿اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهِمْ فَاغْلَمُوْا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ﴾
"سوائے ان کے جو توبہ کر لیں اس سے پہلے کہ تم ان کے اوپر قابو پالو،
تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا، رحم کرنے والا"
ایک مو قع پر حارث بن بدر نامی ایک باغی پکڑے جانے سے پہلے ہتھیار ڈال کر حاضر ہوا تو حضرت علیؓ نے اسے امان دیتے ہوئے یہی آیت پڑھی تھی۔
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ کے نزدیک امان کا یہ حکم ہر قسم کے باغیوں کے لیے تھا۔ مگر احتیاطاً آپ دیکھنا چاہتے تھے کہ آیا کوئی ایسی دلیل مل سکتی ہے جس سے امان کا یہ حکم فقط ان باغیوں کے لیے مخصوص ثابت ہو جو مجتہد اور متأول ہیں نہ کہ ہر طرح کے باغیوں کے لیے۔ غالباً اسی لیے آپ لوگوں کو مسئلہ قصاص کے متعلق صبر اور انتظار کی تاکید کرتے رہے اور اسی لیے آپ نے حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت کرنے والوں پر کوئی سزا جاری نہیں کی۔
تاریخی قرائن شہادت دیتے ہیں کہ تأمل کا یہ دور جنگ صفین اور تحکیم تک تھا۔ اس وقت تک اہل شام کی طرف سے ان سب لوگوں سے قصاص لیے جانے کا مطالبہ ہوتا رہا جو مدینہ میں شورش کے لیے گئے تھے اور حضرت علیؓ یا ان کے کسی نمائندے کی جانب سے کبھی یہ موقف پیش کرنا منقول نہیں کہ شریعت میں اس کی گنجائش نہیں نکلتی۔
مگر یہ بھی طے ہے کہ آخر کار یہ تأمل ختم ہو گیا تھا اور آخر میں اجماعِ امت اسی بات پر ہوا کہ ہتھیار رکھنے والے باغی چاہے مجتہد ہوں یا نہ ہوں، ان کے لیے امان ثابت ہے اور وہ قابل قصاص و ضمان نہیں۔
اس تمام گفتگو کی دلیل کوئی تاریخی روایت نہیں بلکہ فقہاء کی عبارات ہیں۔ امام ابوحنیفہؒ سے ان کے شاگرد ابومطیعؒ نے اصول دین اور عقائد کے متعلق جو سوالات پوچھے، ان کے جوابات کا مجموعہ "الفقہ الابسط" اسلامی عقائد کا قدیم ترین اور معتبر ترین مآخذ ہے۔ اس کی درج ذیل عبارت ملاحظہ ہو:
قلت: الخوارج اذا خرجوا وحاربوا واغاروا، لم صالحوا، هل يتبعون بما فعلوا، قال: لاهرامة عليهم بعد سكون الحرب ولاحد عليهم والدم كذلك لا قصاص فيه، قلت: ولم ذلك؟ قال: للحدیث الذی جاء انه لما وقعت الفتنة بين الناس في قتل عثمانؓ فاجتمعت الصحابة رضى الله عنهم على ان من اصاب دماً فلا قود عليه، ومن اصاب فرجاً حراماً بتأويل فلا حد عليه، ومن اصاب مالاً بتأویل فلا تباعة عليه الا ان يوجد المال بعينه فيرد الى صاحبه.
"میں نے پوچھا، باغی جب خروج کریں، لڑیں اور لوٹ مار کریں، پھر صلح کر لیں تو کیا ان کے افعال کا مؤاخذہ کیا جائے گا؟ امام ابوحنیفہؒ نے فرمایا: 'جنگ ختم ہو جانے کے بعد ان پر کوئی تاوان ہے نہ کوئی حد۔ اسی طرح کسی خون کا کوئی قصاص بھی ان پر نہیں۔ میں نے عرض کیا: یہ کیوں؟ فرمایا: 'اس حدیث کی وجہ سے جس میں یہ وارد ہے کہ جب حضرت عثمانؓ کے قتل پر لوگوں میں فتنہ برپا ہوا تو صحابہؓ نے اس بات پر اجماع کیا کہ جس نے کوئی خون بہایا ہو اس پر قصاص نہیں، جس نے تاویل کی وجہ سے عصمت دری کی ہو اس پر حد نہیں، اور جس نے تاویل کی وجہ سے مال لوٹا ہو اس پر کوئی جرمانہ نہیں۔ سوائے اس صورت کے کہ وہ اپنا مال بعینہ پالے تو وہ مالک کو لوٹا دیا جائے گا۔' (الفقہ الابسط، ص ۲۰)"
باغیوں سے متعلق حضرت علیؓ کی رائے پر اجماع کے نتائج:
اس اجماع سے یہ ثابت ہو گیا کہ حضرت علیؓ کا مدینہ میں شورش برپا کرنے والوں سے قصاص نہ لینا بالکل درست تھا اور شرعاً بھی ان پر لازم تھا کہ وہ مسئلے کی حتمی تحقیق و تنقیح تک اس بارے میں کوئی فیصلہ کرنے میں توقف کرتے۔ اور امیر المومنین نے ایسا ہی کیا۔ یہ محض سیاسی مصلحت کا تقاضا نہ تھا بلکہ دینی، شرعی اور علمی ذمہ داری بھی یہی تھی۔
چونکہ حضرت علیؓ قضاء کے مسائل کے سب سے زیادہ ماہر تھے اس لیے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس اجماع اور اجتہاد کے سربراہ وہی تھے۔ اور چونکہ حضرت علیؓ کا عمل اس اجماع سے پہلے ہی احتیاطی پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے قصاص میں تاخیر پر مبنی چلا آرہا تھا، اس لیے یہ کہنا درست ہوگا کہ ان کی رائے شروع سے اسی طرف جا رہی تھی کہ ہر طرح کے باغی ہتھیار ڈالنے کے بعد مامون ہوتے ہیں، مگر اس کی توثیق کے لیے صحابہ کا اجماع درکار تھا جس کے لیے حالات کا پُر سکون ہونا اور جذبات کا ٹھنڈا ہونا ضروری تھا۔ کیوں کہ جذبات کی حالت میں صحیح فتویٰ صادر نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی امکان ہے کہ حضرت علیؓ کو مفسد و غیر مجتہد باغیوں کے بارے میں اپنی رائے پر شروع سے پوری طرح شرحِ صدر ہو، مگر انہیں خدشہ ہو کہ عام لوگوں میں ابھی یہ بات سننے اور ماننے کی استعداد موجود نہیں۔ ابھی سے مسئلہ واضح کرنے سے بات بڑھ جائے گی اور مشتعل عوام شرعی دلائل کو سمجھے بغیر اس قسم کے فیصلے کو قصاصِ عثمان کی تحریک کے خلاف ایک سازش تصور کر لیں گے۔ ہو سکتا ہے کہ حضرت علیؓ اسی لیے حالات کے پُر سکون ہونے اور جذبات کے ٹھنڈا ہونے کا انتظار کر رہے ہوں۔
بہر کیف آخر میں حضرت علیؓ کی اس فقہی رائے اور احتیاطی تدبیر کی سبھی نے اعلانیہ توثیق کر دی جو آپؓ نے مدینہ منورہ میں برپا ہونے والی شورش کے بارے میں پہلے دن سے عملاً اختیار کر رکھی تھی اور جس کی وجہ سے آپ کے نزدیک قابل قصاص محض وہی لوگ تھے جنہوں نے حضرت عثمانؓ کے گھر میں داخل ہو کر قتل کیا تھا۔
حضرت معاویہؓ بھی اپنے دورِ اقتدار میں حضرت علیؓ کے اجتہاد سے متفق:
تاریخی لحاظ سے یہ ثابت ہے کہ حضرت معاویہؓ بھی اپنے دورِ اقتدار میں اس اجماعی فیصلے میں ہم رائے ہو گئے تھے کیوں کہ جب ان کی خلافت قائم ہوئی تو انہوں نے بھی حضرت علیؓ کے اجتہاد کی من وعن پیروی کی اور اپنے بیس سالہ دور میں صرف دو چار ایسے افراد سے قصاص لیا جو براہِ راست حضرت عثمانؓ کے قتل ناحق میں شامل تھے۔ اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی تھی کہ حضرت معاویہؓ کا اجتہاد تبدیل ہو چکا تھا اور تمام مفسدین کو قتل کرانے کی شرعی گنجائش اب وہ بھی نہیں مانتے تھے۔
یہی وجہ تھی کہ حضرت عثمانؓ سے بغاوت میں ملوث دو مشہور افراد: عمیر الضا بئی ۵۰ ھ تک اور کمیل بن زیاد ۸۳ ھ تک عراق میں زندہ رہے۔ آخر حجاج بن یوسف نے انہیں اپنی صوابدید پر قتل کیا۔
ظاہر ہے نہ تو حجاج حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ سے زیادہ انصاف پسند تھا اور نہ ہی یہ حضرات عدل اور اتباع شریعت میں کسی سے کم تھے، اس لیے جو حضرت علیؓ نے کیا اور جسے حضرت معاویہؓ نے بعد میں اختیار کیا وہی شرعی طریقہ تھا۔ پس حضرت علیؓ کی جانب سے حضرت معاویہؓ کا مطالبہ قبول نہ کرنے اور باغیوں کے خلاف کارروائی نہ کرنے کی بنیادی وجہ شرعی تھی اور وہ یہ کہ اکثر باغی براہِ راست سابق خلیفہ کے قتل میں ملوث نہ تھے۔ نیز وہ بیعت کر کے پُر امن شہری بن گئے تھے، ان پر از روئے شرع قصاص کی سزا لاگو نہیں ہو سکتی تھی۔
اگرچہ سیاسی مجبوریاں، قوت کی کمی، عدمِ یک جہتی اور حالات کی ہنگامہ خیزی بھی یقیناً سدِ راہ تھیں۔ لیکن اگر انہی چیزوں کو توقف کا اصل سبب قرار دیتے ہوئے شرعی مجبوری کو بالکل نظر انداز کر دیا جائے تو حضرت علیؓ پر قاتلوں اور مجرموں سے دلی ہمدردی رکھنے کا جھوٹا الزام، پوری طرح دور نہیں ہو پاتا۔ یہ وسوسہ کسی نہ کسی گوشے میں باقی رہ جاتا ہے کہ جو حکمران اہل شام اور اہل نہروان کے زبردست لشکر سے لڑ سکتا تھا وہ دو تین ہزار افراد کو تہ تیغ کیوں نہ کر سکا۔

