Hazrat Ali Ka Dor e Khilafat: Istahkam, Futuhat Aur Intizam o Inshiram

استحکام کی کاوشیں اور فتوحات

        عام طور پر مؤرخین کے  بیانات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا سارا زمانہ ہنگامے، فساد اور فتنوں میں گزر گیا اور ہر طرف بدامنی کا دور دورہ رہا، حالاں کہ یہ تأثر علی الاطلاق درست نہیں۔ سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں عالمِ اسلام اندرونی طور پر سیاسی بحران کا شکار ضرور رہا مگر عام حالات امن وامان ہی کے تھے۔


        اس دوران بڑی مہمات صرف تین ہی ہوئیں جن میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بذاتِ خود جانا پڑا، یعنی جمل، صفین اور نہروان۔ جمل ایک وقتی ہنگامہ تھا، اس کے سفر میں ڈیڑھ دو ماہ لگے اور لڑائی اتفاقیہ تھی جو ایک ہی دن میں ختم ہو گئی۔

        صفین کی مہم میں آپ رضی اللہ عنہ کے تقریباً چار ماہ صرف ہوئے، جبکہ نہروان کی مہم میں چند دن لگے اور لڑائی چند گھنٹوں سے زیادہ نہ ہوئی۔ ان چند مہینوں کے علاوہ حالات معمول کے مطابق رہے، ایسا نہ تھا کہ ڈاکو دن رات قافلوں کو لوٹ رہے ہوں، بیرونی حملہ آور ہر وقت سرحدوں کو عبور کر رہے ہوں اور لوگ اپنے گھروں میں غیر محفوظ ہو گئے ہوں۔

        گزشتہ خلفائے راشدین کی طرح اس دور میں بھی سرحدوں کی نگرانی، کفار کے حملوں کی روک تھام، مفتوحہ علاقوں میں بغاوتوں کی سرکوبی اور اسلام کی شان وشوکت کی دھاک بٹھائے رکھنے کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ الگ بات ہے کہ دوسرے بڑے حوادث کے شور وغل میں یہ پہلو زیادہ نمایاں نہ ہو سکے۔ خلافتِ اسلامیہ تقسیم ہو جانے کے باوجود  یمن، حجاز، عراق، ایران، خراسان اور مشرق کے وسیع علاقے پر محیط تھی اور اپنا وقار برقرار رکھنے کے لیے مستعد تھی۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کے صوبے دار:

        نظامِ حکومت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور ان کے بھائی عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کا بھرپور تعاون میسر تھا۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بصرہ کے گورنر تھے۔ عبید اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ یمن کے اور قثم رضی اللہ عنہ حجاز کے، جبکہ خراسان کا وسیع وعریض صوبہ عبد الرحمن ابن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کے زیرِ نگرانی تھا۔ ان کے علاوہ درجنوں اکابر صحابہ اور ان گنت تابعین آپ کے جاں نثار تھے۔

فارس و کرمان اور پہاڑی علاقوں کی مہمات:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وفاداروں میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے باپ شریک بھائی زیاد کا نام بھی نمایاں تھا۔ اہل شام سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اختلافات کے دنوں میں اہلِ فارس و کرمان نے خراج دینا بند کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے زیاد بن ابی سفیان نے چار ہزار سپاہیوں کے ساتھ اس مہم پر جا کر شورش پسندوں کی گوشمالی کی۔ اسی طرح بعض پہاڑی علاقوں کے قبائل نے معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور خراج دینے سے انکار کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے بصرہ کے حاکم حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جا کر ان کو زیرِ نگیں کیا۔

مَرو کی مہم:

        جنگ جمل کے بعد (۳۶ھ) میں مَرو کا فارسی نژاد حاکم ماہوَیہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اپنی وفاداریاں  پیش کر کے تقرری کا پروانہ طلب کیا۔ آپ نے اس علاقے کے دہقانوں اور جنگ جوؤں کے نام رقعہ لکھ دیا جس میں بتایا گیا تھا کہ ماہویہ کو خلافتِ اسلامیہ کی طرف سے ان کا ذمہ دار مقرر کیا گیا ہے۔

        کچھ دنوں بعد مَرو کے لوگوں نے بغاوت کر دی۔ حضرت علی نے خُلید بن قُرہ (ابن طریف یربوعی) کو وہاں بھیجا جنہوں نے حالات پر قابو پالیا۔

نیشاپور کی مہم:

        جنگ صفین سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی واپسی کے کچھ دنوں بعد (۳۷ھ میں) مجوسیوں نے ایک بار پھر سر اٹھایا؛ کیوں کہ کسریٰ کے خاندان کی ایک شہزادی کابل سے خراسان کے اہم شہر نیشاپور آئی تھی اور مجوسی اس کے گرد جمع ہو گئے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے افسرِ فوج خلید بن کأس نے فوراً جا کر اس بغاوت کو فرو کیا اور باغیوں کو تہہ تیغ کر دیا جبکہ شہزادی گرفتار ہو گئی۔

قیدی شہزادی کی تکریم:

        شہزادی کو کوئی گزند پہنچائے بغیر کوفہ لایا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا:

        "کیا تم میرے بیٹے حسن سے نکاح کرنا پسند کرو گی؟"

        کہنے لگی: "میں ایسے کسی شخص سے نکاح نہیں کروں گی جو کسی کا ماتحت ہو۔"

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی خوبیاں  بیان کیں مگر اس نے کہا:

        "میں فقط آپ سے نکاح پر راضی ہوں۔" حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انکار کرتے ہوئے کہا: "میں تو عمر رسیدہ ہوں۔"

        شہزادی کسی اور سے نکاح پر رضامند نہ ہوئی۔ یہ دیکھ کر حاضرین میں سے ایک فارسی کہنے لگا:

        "امیر المؤمنین! میں اس کا رشتہ دار ہوں، یہ لڑکی میرے نکاح میں دے دیجیے۔"

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "یہ لڑکی اپنے فیصلے کی خود مالک ہے۔"

        پھر شہزادی کو یہ کہہ کر عزت سے رخصت کر دیا:

        "جہاں چاہو چلی جاؤ، جس سے مرضی نکاح کر لو۔ تم پر کوئی آنچ نہیں آ سکتی۔"

 تلامذہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پرچم تلے مشرکین سے جہاد:

        حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے تلامذہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خاص جاں نثار تھے۔ وہ اہلِ شام سے لڑنا نہیں چاہتے تھے اور کسی دوسرے محاذ پر اپنی وفاداری کا مظاہرہ کرنے کے خواہش مند تھے۔ ان کی تمنا تھی کہ انہیں کفار سے جہاد کا موقع دیا جائے۔ ان کے  پیشرو حضرت علقمہ ہمدانی نے حضرت علی سے عرض کیا:
        "امیر المؤمنین! آپ کی فضیلت کے اعتراف کے باوجود ہمیں اس (اہلِ شام سے) قتال کے معاملے میں تردد ہے۔ دوسری طرف آپ اور مسلمانوں کے لیے مشرکین سے جہاد بھی ناگزیر ہے۔ پس آپ ہمیں کفار کی سرحدوں پر تعینات کر دیں تاکہ ہم ان سے جہاد کرتے رہیں۔"

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ربیع بن خُثَیم کو امیر بنا کر ان حضرات کو قزوین اور 'رے' کی سرحدوں پر بھیج دیا، اس لشکر کی روانگی کے لیے خصوصی طور پر جھنڈا تیار کیا گیا۔

مرتدین سے جہاد:

        خلافتِ اسلامیہ کے ایک علاقے کے لوگوں نے مرتد ہو کر اپنے آبائی مذہب نصرانیت کو دوبارہ اختیار کر لیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت مَعقِل بن قیسؒ کو بھیجا، جنہوں نے زبردست جنگ لڑ کر ان مرتدین پر قابو پایا اور ان کے بہت سے افراد کو گرفتار کر لائے۔

بلوچستان اور سندھ میں  پیش قدمی:

        سن ۳۹ ہجری کے آغاز میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بلوچستان اور سندھ میں مزید پیش قدمی ہوئی؛ کیوں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے تک مکران کا علاقہ فتح ہو چکا تھا۔ اس کے بعد 'قندابیل' کا علاقہ تھا۔ علاقے میں پانی اور غذا کی قلت اور دیگر مشکلات کے سبب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مزید  پیش قدمی مؤخر کر دی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں دوعشروں کے وقفے کے بعد اس مہم کو آگے بڑھایا۔

قندابیل اور قیقان کی مہم:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حکم سے حارث بن مرۃ العبدی رضی اللہ عنہ مکران سے آگے بڑھ کر 'قندابیل' کی حدود میں داخل ہو گئے، اور قیقان کے پہاڑوں میں یلغار کرتے چلے گئے۔ انہیں فتح نصیب ہوئی۔ ان کا بھیجا ہوا مالِ غنیمت کوفہ پہنچا تو وہ اتنا تھا کہ ایک ہی دن میں ایک ہزار غلام تقسیم کیے گئے۔ حارث رضی اللہ عنہ اس مہم سے واپس آ رہے تھے کہ دشمن نے ایک گھاٹی میں ناکہ بندی کر کے انہیں گھیر لیا۔ حارث رضی اللہ عنہ اپنے ہمراہیوں سمیت لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔

اندرونی لڑائیوں میں نصرانیوں کا کردار:

        حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت سے لے کر حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دور تک بہت سے فتنوں کے پسِ پردہ مقامی نصرانیوں کا ہاتھ بھی تھا۔ یہ لوگ زیادہ تر عراق اور شام کی عرب سے متصل سرحدوں پر آباد تھے۔ ان کے کچھ سازشی افراد  بیرونی عیسائی طاقتوں کی پشت پناہی کے ساتھ خلافتِ اسلامیہ اور اتحادِ مسلمین کے خلاف کھڑی ہونے والی تحریک میں حصہ ڈالتے اور ایسی ہر جماعت کی مدد کرتے۔

خِرّیت بن راشد کی سازشیں:

        اس ضمن میں خریت بن راشد کا تذکرہ اہم ہے جو قبیلہ بنو ناجیہ کا رئیس تھا اور جنگ جمل سے جنگ نہروان تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہم رکاب تھا، مگر اس کے بعد سن ۳۸ ہجری میں اس نے اچانک حضرت علی رضی اللہ عنہ پر بے دینی اور ملت فروشی کے الزامات عائد کرتے ہوئے علمِ بغاوت بلند کر دیا۔ وہ مسیلمہ کذاب ہی کی طرح بڑا عیار سیاست دان تھا، ہر ایک سے اس کی مرضی کے مطابق بات کرتا تھا۔ خوارج سے کہتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تحکیم کو درست مان کر ناجائز کام کیا ہے۔ عام مسلمانوں سے کہتا کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فیصلوں کو مانتا ہوں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے شہید اور مظلوم ہونے کا بھی اقرار کرتا۔ جو لوگ حکومت سے باغی بن کر محصول  دینا بند کرتے ان کو بھی شاباش دیتا اور جو مرتد ہو جاتے ان کی بھی حوصلہ افزائی کرتا۔

خریت بن راشد کے خلاف مہم:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ اور خریت بن راشد کے درمیان طویل خط و کتابت ہوتی رہی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ عراق اور خلیج کے نصرانی اس کے پشت پناہ بن گئے۔ اس کی قوم بنو ناجیہ کے  بیشتر لوگ جو نصرانیت سے اسلام میں داخل ہوئے تھے دوبارہ نصرانی بن گئے۔ اَہواز کے عجمی قبائل بھی اس کے گرد جمع ہو گئے، اس کے علاوہ چوروں اور ڈاکوؤں کے گروہ بھی اس سے جا ملے۔ آخر کار حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت مَعقِل بن سِنان رضی اللہ عنہ کو ایک زبردست لشکر دے کر اس کی سرکوبی کے لیے بھیجا۔

        اس جنگ میں حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ بھی تھے، وہ یہ واقعہ اس طرح سناتے ہیں:

        "میں اس لشکر میں تھا جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بنو ناجیہ کے خلاف بھیجا تھا۔ جب ہم ان لوگوں تک پہنچے تو دیکھا کہ وہ لوگ تین گروہوں میں بٹ چکے ہیں۔ ہمارے امیر نے ایک گروہ سے پوچھا: 'تم کون ہو؟' کہنے لگے: 'ہم نصرانی تھے، پھر مسلمان ہو گئے اور اب بھی اسلام پر قائم ہیں۔' امیر نے کہا: 'تم ایک طرف ہو جاؤ۔' پھر دوسرے گروہ سے پوچھا: 'تم کون ہو؟' کہنے لگے: 'ہم نصرانی تھے اور اب بھی نصرانیت پر قائم ہیں۔' امیر نے تیسرے گروہ سے پوچھا: 'تم کون ہو؟' کہنے لگے: 'ہم نصرانی تھے، پھر مسلمان ہو گئے، پھر ہم نے دیکھا کہ نصرانیت سے بہتر دین کوئی نہیں، تو ہم دوبارہ نصرانی ہو گئے۔'

        امیر نے کہا: 'اسلام قبول کر لو۔' انہوں نے انکار کر دیا۔ اس پر امیر نے اپنے ساتھیوں سے کہا:

        'میں تین بار سر پر ہاتھ پھیروں گا۔ (جب تیسری بار ہاتھ پھیروں تو) تم حملہ کر دینا۔'

        پس مسلمانوں نے ایسا ہی کیا، ان کے جنگ جوؤں کو قتل کر دیا، عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا۔"

        یہ لڑائی نہایت خونریز تھی جس میں دشمنوں کا سرغنہ خریت بن راشد فرار ہو کر روپوش ہو گیا اور اس کے ساتھ ملنے والا باقی گروہ  تتر بتر ہو گیا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic