Saneha e Shahadat: Syedna Hazrat Ali Par Qatilana Hamla Aur Wasiyat

سانحۂ شہادت

        سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ اب ترسیٹھ (63) برس کے ہو چکے تھے۔ انہیں عالم اسلام کی زمامِ اقتدار جن حالات میں ملی تھی، وہ ان کی فقاہت، استقامت، تدبیر، اولوالعزمی، توکل اور اخلاص کا بہت بڑا امتحان تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق سے ان سخت ترین آزمائشوں سے نہایت حزم و احتیاط کے ساتھ پار ہوئے تھے۔


        سن ۴۰  ہجری کے ایام تیزی سے گزرتے جا رہے تھے، سیدنا حضرت علی رضی اللہ عنہ محسوس کر رہے تھے کہ ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود معاشرے میں فساد کا عنصر باقی ہے اور خود ان کے  پیروکاروں میں ایسے لوگ موجود ہیں جو شریعت پر ان کی استقامت، ذاتی مفادات کی بار بار قربانی اور سیاسی مخالفین کے لیے وسعتِ ظرفی سے نالاں ہیں۔ عراق و کوفہ میں آباد یہ طبقہ قیصر و کسریٰ کی طرح مادی شان و شوکت والے حکمرانوں ہی سے مرعوب ہوتا تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سادگی اور بے تکلفی ان کی نگاہ میں ایک عیب تھی۔ آپ کو اس بات کا بھی احساس تھا کہ اندرونی دشمن آپ کی تاک میں ہیں اور کسی بھی وقت قاتلانہ وار کر سکتے ہیں۔

        انہی دنوں، بنومراد کے ایک شخص نے آپ کو اطلاع دیتے ہوئے کہا:

        "اپنے لیے پہرے کا انتظام کر لیں، بنومراد کے کچھ لوگ آپ کو قتل کرنے کے درپے ہیں۔"

        آپ رضی اللہ عنہ نے اطمینان کے ساتھ جواب دیا: "ہر آدمی کے ساتھ دو محافظ فرشتے ہوتے ہیں، جو اسے آفات سے بچاتے ہیں مگر جب مقدر کا لکھا آ پڑتا ہے تو دونوں الگ ہو جاتے ہیں، بے شک موت خود ہی ایک زبردست ڈھال ہے۔"

دنیا سے بیزاری اور شہادت کی آرزو:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ پہلے بھی دنیا کی دلچسپیوں سے لا تعلق تھے۔ اب جہانِ فانی سے اور زیادہ بیزار ہو چکے تھے۔ اپنی حیات کے آخری ایام میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا:

        "اے اللہ! میں ان لوگوں سے اکتا گیا ہوں اور یہ مجھ سے اکتا گئے ہیں۔ میں ان سے نالاں ہوں اور یہ مجھ سے نالاں ہیں۔ تو مجھے ان سے دور کر کے آرام دے اور انہیں مجھ سے آزاد کر کے راحت دے۔"

        پھر اپنی داڑھی پر ہاتھ رکھ کر فرمایا:

        "تم میں سے سب سے بدبخت کون ہوگا جو میری داڑھی کو خون سے رنگین کر دے۔"

        انہی دنوں مشیروں نے تجویز دی کہ آپ اپنا جانشین مقرر کر دیں مگر آپ نے فرمایا: "نہیں، بلکہ میں تمہیں اس طرح چھوڑ کر جاؤں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (کوئی باضابطہ نائب مقرر کیے بغیر امت کو) چھوڑ گئے تھے۔"

        رفقا کو ڈر تھا کہ اس طرح مزید انتشار پھیل سکتا ہے، اس لیے عرض کیا:

        "اس حال میں ہم اپنے رب کے پاس جائیں گے تو کیا جواب دیں گے؟"

        فرمایا: "یہی کہوں گا اے میرے رب! آپ نے مجھے جب تک مناسب سمجھا ان لوگوں میں باقی رکھا، پھر جب آپ نے مجھے اٹھا لیا تو آپ ہی ان کے ذمہ دار ہیں، چاہیں تو انہیں سدھار دیں چاہیں تو بگڑنے دیں۔"

خوارج قتل کی سازش تیار کرتے ہیں:

        نہروان کی جنگ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خوارج کی عسکری طاقت فنا کر دی تھی مگر خارجی ذہنیت کے بہت سے لوگ مسلم معاشرے میں موجود تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت اہم سیاسی مناصب پر فائز صحابہ سے شدید نفرت کرتے تھے۔ ان کے خیال میں یہی اکابر صحابہ تمام خانہ جنگی کے ذمہ دار تھے اور انہیں قتل کر کے ہی اسلامی معاشرے کو محفوظ بنایا جاسکتا تھا۔ ان کے تین افراد: عبدالرحمن بن ملجم مرادی، برک بن عبداللہ تمیمی اور عمرو بن بکر آمادہ ہو گئے کہ اسلامی سیاست کی تین اہم شخصیات کو ایک ہی وقت میں شہید کر دیا جائے۔

        انہوں نے اپنی تلواروں کو زہر آلود کیا اور سترہ رمضان المبارک کو تینوں اسلامی شخصیات پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ عبدالرحمن بن ملجَم کوفہ روانہ ہو گیا تاکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کرے۔ برک بن عبداللہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر حملے کے لیے شام کی طرف نکل گیا اور عمرو بن بکر نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو ختم کرنے کے لیے مصر کا رخ کیا۔

        ۱۷ رمضان المبارک کی صبح تینوں نے اپنے ہدف پر حملہ کیا، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے مگر بچ گئے۔ حملہ آور پکڑا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے اس دن  بیماری کی وجہ سے حضرت خارجہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو نماز فجر پڑھانے بھیج دیا تھا۔ وہ عمرو بن بکر کی زہر آلود تلوار کی زد میں آ کر شہید ہو گئے، قاتل یہاں بھی پکڑا کر قتل کر دیا گیا۔

عبدالرحمن بن ملجم اور شَبِیب بن بَجرہ:

        عبدالرحمن بن ملجم کو خلیفۂ مسلمین پر حملہ کرنا تھا۔ عبدالرحمن بذات خود نہایت عبادت گزار اور پرہیزگار انسان تھا، قرآن مجید کا حافظ و قاری تھا مگر بعد میں گمراہ ہو کر خوارج کا سرگرم کارکن بن گیا تھا۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے کا عزم کر کے وہ سیدھا کوفہ پہنچا۔ وہاں ایک اور خارجی شبیب بن بجرہ کو بھی ساتھ ملا لیا۔

        سترہ رمضان المبارک کی شب، شبِ جمعہ تھی۔ دونوں مسجد میں سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کی تاک میں بیٹھ گئے۔

قاتلانہ حملہ اور شہادت:

        امیر المؤمنین سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سحری سے فارغ ہو کر صبح کی نماز کے لیے منہ اندھیرے مسجد میں تشریف لائے۔ جنوری کا مہینہ تھا۔ کوفہ میں سخت سردی پڑ رہی تھی۔ آپ حسبِ معمول لوگوں کو نماز کے لیے بلاتے ہوئے آ رہے تھے، آپ کے لبوں پر یہ صدا تھی: "اَلصَّلٰوۃُ۔۔۔۔۔ اَلصَّلٰوۃُ۔۔۔۔۔"

        آپ مسجد کی دہلیز پر پہنچے تھے کہ عبدالرحمن اور شبیب تلواریں سونتنے آپ کی طرف لپکے اور نعرۂ تحکیم لگایا:

        "اِنِ الْحُکْمُ اِلَّا لِلہِ۔۔۔۔۔"

        پھر چلائے: "حاکمیت اللہ ہی کی ہے، اے علی! نہ تیری ہے نہ تیرے حامیوں کی"۔

        یہ کہہ کر پہلے شبیب نے تلوار چلائی مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ بچ گئے۔ اتنے میں دوسری جانب سے عبدالرحمن نے سر پر زور دار وار کیا، تلوار  پیشانی میں اتری، آپ رضی اللہ عنہ لہولہان ہو گئے۔

        آپ رضی اللہ عنہ نے اسی حالت میں آواز لگائی: "یہ بھاگنے نہ پائیں۔"

        لوگ دوڑ کر آئے تو عبدالرحمن ابن ملجم اور شبیب ان پر حملہ آور ہوئے تاکہ راستہ بنا کر نکل جائیں۔ شبیب تو بھاگ نکلا، البتہ ابن ملجم پکڑا گیا۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسے بلوایا اور پوچھا: "تجھے کس بات نے اس حرکت پر آمادہ کیا؟"

        وہ اس سوال کو نظر انداز کر کے فخر سے بولا:

        "ہزار کی تلوار خرید کر اس پر ہزار کا زہر لگایا۔ چالیس دن تک اس تلوار کو تیز کرتا رہا اور دعا کرتا رہا کہ اس سے بدترین انسان قتل ہو۔ اگر پورے شہر کے لوگ اس کے وار کے نیچے آتے تو اللہ کی قسم! ان میں سے ایک بھی نہ بچتا۔"

ملزم سے حسن سلوک کی تاکید:

        لوگ اس بدبخت کو مار ڈالنا چاہتے تھے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کے قضیے کو ملتوی کرنے کا حکم دیا اور فرمایا:

        "اسے کھلاؤ پلاؤ، نرم بستر دو، قید میں اچھی طرح رکھو۔ اگر میں بچ گیا تو چاہوں گا تو معاف کر دوں گا، چاہوں گا تو بدلہ لوں گا۔ اور اگر میں مر گیا تو تم اسے بس تلوار کے ایک وار سے قتل کر دینا، اس کی لاش کو نقصان نہ پہنچانا، میں کل اللہ کی بارگاہ میں اس پر دعویٰ کروں گا۔"

        زہر لی تلوار کے زخم سے پورے جسم میں زہر پھیل رہا تھا اور آپ رضی اللہ عنہ کے بچنے کی امید نہ رہی تھی۔

آخری وصیت:

        آخری وقت میں اولاد کو کئی اہم نصیحتیں کیں، فرمایا:

        "حسن! میں تمہیں اور اپنے سارے بچوں کو اللہ سے ڈرتے رہنے کی وصیت کرتا ہوں۔ مرتے دم تک اسلام پر ثابت قدم رہنا۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوط تھامے رہنا، منتشر مت ہونا۔ رشتہ داروں سے صلہ رحمی کا برتاؤ کرنا۔۔۔۔۔ یتیموں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا۔۔۔۔۔ پڑوسیوں کا خیال رکھنا، قرآن مجید پر عمل کرنے میں بڑھ چڑھ کر کوشش کرنا۔۔۔۔۔ نماز کا بہت اہتمام کرنا کہ یہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری وصیت تھی۔۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں سے جہاد کرتے رہنا۔۔۔۔۔ زکوٰۃ ادا کرنا کہ یہ رب کے غصے کو ٹھنڈا کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا لحاظ کرنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں یہی تاکید فرمائی ہے۔ فقیروں، مسکینوں، غلاموں اور باندیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرنا۔ لوگوں سے شائستہ کلامی برتنا، نیکی کا حکم دیتے رہنا اور برائی سے روکتے رہنا، نیکیوں میں باہم تعاون کرنا اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ساتھ مت دینا۔"

        آخری وقت میں آپ کے رفقا نے پوچھا: "اگر آپ شہید ہو جائیں تو کیا ہم حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لیں؟"

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: "میں نہ تو اس کا حکم دیتا ہوں، نہ اس سے منع کرتا ہوں"۔

شہادت اور تدفین:

        اس کے بعد آپ رضی اللہ عنہ مسلسل "لا الہ الا اللہ" کا ورد کرتے رہے یہاں تک کہ روح جسدِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ ابھی ۱۷  رمضان المبارک کا سورج طلوع نہیں ہونے پایا تھا کہ ایمان و ایقان، علم و حکمت، جہاد و سیاست اور شجاعت و عزیمت کا یہ آفتابِ عالم تاب دنیا کو تاریک چھوڑ کر چلا گیا۔

اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

        تدفین دارالامارہ کی عمارت کے اندر ہی کی گئی، کیوں کہ خدشہ تھا کہ خوارج مو قع پا کر کہیں لاش کی بے حرمتی نہ کریں۔ نمازِ جنازہ صاحبزادے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے پڑھائی تھی۔ خلافت کی مدت چار سال نو ماہ تھی۔

رضی اللہ عنہ وارضاہ

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic