کبھی اے نوجوانِ مسلم تدبر بھی کیا تو نے
ایک شور برپا ہے کہ مسلمان نابود ہو گئے، ان کی معیشت واقتصادیت کو تاراج کر دیا گیا اور ان کی آنے والی نسلوں کی نسل کشی کی منصوبہ بند پلاننگ پر ساری یہودی لابیوں اور اسلام دشمن تحریکات نے سر جوڑ کر اپنے آپسی اختلافات کو فراموش کر کے عمل شروع کر دیا ہے، اور یہ حقیقت بھی ہے کہ جو کچھ سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل پیشینگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں اسلام دشمن لوگ مسلمانوں پر بھوکے بھیڑیے کی طرح ٹوٹ پڑیں گے، سوال کیا گیا کیا اس وقت ہماری تعداد کم ہو جائے گی، فرمایا نہیں، تعداد تو کثیر ہوگی، مگر تمہارے اعمال بگڑ جائیں گے، اور ویسے ہی حکمران تمہارے اوپر مسلط کر دیئے جائیں گے، اور تمہارے قلوب میں جبن (بزدلی) پیدا کر دیا جائے گا، اسی کو شاعرِ مشرق علامہ اقبال نے فرمایا تھا:
قوتِ فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے
تب کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے
یہ حقیقت ہے، اس حدیثِ مبارکہ کی پوری پوری منظرکشی اس وقت ہماری آنکھوں کے سامنے ہے کہ جہاں جہاں بھی اسلامی مملکت ہے، ساری اسلام دشمن طاقتیں یکے بعد دیگرے ان پر طرح طرح کے الزامات لگا کر نہ صرف ان کی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہی ہیں بلکہ اقوامِ عالم کی نظروں میں ان کو تشدد پسند، خونخوار، ظالم و جابر اور انسانیت دشمنی کا لیبل چسپاں کر کے ذلیل و خوار کر رہی ہیں۔
پوری دنیا نے دیکھا کہ اسی عنوان سے افغانستان کو تباہ کیا گیا تھا، امریکی افواج نے نہ صرف اسلامی شناخت کے چہرے کو نوچنے کی کوشش کی بلکہ اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی، ایران کو آئے دن جنگ میں دھکیلتے رہتے ہیں، فلسطین کو پوری دنیا کی نظروں میں دنیا کے لئے سب سے بڑا خطرہ بتا کر اس کو تاراج کرنے کی خفیہ پلاننگ چل رہی ہے۔ گذشتہ سالوں میں روہنگیا میں مذہب کے نام پر، امن پرست نوبل یافتہ شخصیات کی قیادت میں مسلمانوں کا قتلِ عام کیا گیا، پھر ان کی پیٹھ تھپتھپائی گئی، انہیں انسانیت کی بنیاد پر ظالم قراردئیے جانے کے بجائے ہیرو تسلیم کیا جانے لگا۔
یہ بھی عجیب طرح کا تماشہ ہے کہ جہاں بھی اور جو بھی مسلمانوں پر جس قدر بھی ظلم کریں اسلام دشمن لوگوں میں وہ اتناہی بڑا ہیرو قرار دیا جاتا ہے، ان کے ساتھ ٹی پارٹیاں ہوتی ہیں، سارے شیطانی ایجنٹ مسلمانوں پہ ہونے والی اس بربریت پر تالیاں بجاتے اور قہقہے لگاتے ہیں۔
ہمارے اندرونِ ملک کے حالات بھی اسی نوعیت کے ہیں، مسلمانوں کو خوف و ہراس میں مبتلا کر کے ان کی قوتِ ادراک کو مفلوج اور اسلامی تشخص کو پامال کرنے کی کوششیں ہیں۔ ہمارے آپسی اختلافات نے ان تمام طاقتوں کو مزید ہمارے اوپر جری کیا ہے، مسلکوں و مشربوں کی عصبیتوں کو ہوا دیدی گئی ہے، شیعہ سنی، دیوبندی، بریلوی، مقلد اور غیر مقلد کو خونخوار درندوں کی طرح ایک دوسرے کے مدِ مقابل کر کے مسلمانوں کے سر کو انہیں کے جوتے سے پیٹے جانے کے مرادف ہورہا ہیں، اور وہ ایک دوسرے پر کافر بلکہ زندیق و ملحد ہونے کے فتوی جاری کرنے میں مصروف ہیں ، جب کہ اغیار کی نظروں میں ان کا تعارف صرف اور صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام ہونے کی حیثیت سے ہے۔
اس سارے ڈرامے کے پسِ پردہ یہودیت کے پراگندہ افکار کارفرما ہیں، چونکہ انہیں معلوم ہے کہ مسلمانوں کا آپسی اتحاد ہی سالمیت کے لئے خطرہ ہے، اسی وجہ سے فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے، سوشیل میڈیا کے اس ترقی یافتہ دور میں کسی سے مخفی نہیں ہے، صرف مسلمانوں کے نام پہ اس قدر ظلم و بربریت؟ وہ جلی کٹی لاشیں،بلبلاتے بچے، اپنے معصوموں کی لاشوں پر آہ و بکا کرتی اور دہائیاں دیتی مائیں، کراہتے بوڑھے، خوف و ہراس کا شکار، بھاگے دوڑتے نوجوان قیامت کا ہولناک منظر پیش کرتے ہیں، جس کو دیکھ کر انسانیت کا ادنیٰ درد رکھنے والا انسان بھی تڑپ اٹھتا ہے، درد و کرب اور اضطراب و بے چینی کے ساتھ کلیجہ مسوس کر رہ جاتا ہے، یہ درندگی و بہیمیت، بھیمیت کی مثالیں تاریخی صفحات پر یقیناً خال خال نظر آتی ہیں، مگر اس وقت ملت اسلامیہ جس انارکی و تشتت اور بدنظمی کا شکار ہے وہ ایک زبردست المیہ اور اربابِ فکر کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔
اس سے بھی زائد تشویشناک حالت یہ ہے کہ عمومی طور پر مسلمانوں کو نہ تو اپنی اس غارت گری پر کچھ زیادہ احساس ہے اور نہ وہ اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، مسلم نوجوان جو صالح انقلاب کا پیش خیمہ ہے اس کی زندگی واہی تباہی کا شکار ہے، وہ عیش و سرمستی کا دلدادہ اور طرب و سرور کا شیدائی ہے، سوشل میڈیا سے اس کی وابستگی جنون کی حد تک ہے، وہ راتوں رات جاگ کر گزار دیتا ہے، جس سے قیمتی اثاثہ بھی تباہ ہو رہا ہے اور بیش بہا جوانی بھی برباد ہو رہی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ زندگی بالکل بے مقصد گزار رہا ہے، سامانِ زندگی جمع کرنے کی خاطر تھوڑی کچھ بھاگ دوڑ اور بس۔۔۔۔۔۔ وہ غفلت و مدہوشی کی چادر اوڑھے عیش میں مست ہے، دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی اندوہناک واقعہ پیش آ جائے تو نہ اسے غیرت آتی ہے نہ اس کی حمیت جاگتی ہے، جس سے اس کے ایمانی ضعف کا اندازہ ہوتا ہے، چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے کہ اگر مشرق میں رہنے والے کسی مسلمان کے پیر میں کانٹا بھی چبھتا ہے اور مغرب میں رہنے والا مسلمان اس کی کسک اپنے قلب میں محسوس نہیں کرتا تو وہ کامل مومن ہرگز نہیں ہو سکتا۔
ملت کے غیور اور دانشور علماء و صلحاء اپنی سی ہر چند کوشش کرتے رہتے ہیں، اپنے محدود اسباب و وسائل بلکہ عسر و تنگی کے باوجود اصلاحی پروگرام منعقد کرتے ہیں، اصلاحِ معاشرہ کے عنوان سے اپنے اپنے علاقوں میں کام کرنے والے کام بھی کر رہے ہیں، دعوت و ارشاد کے عنوان سے بھی ہر ممکن کوشش ہو رہی ہے، مساجد میں صبح و شام کی تعلیم اور تفاسیر کے حلقے بھی جاری ہیں، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان میں شرکت کرنے والے ہر سماج کے صرف اور صرف بمشکل دو فیصد لوگ ہوتے ہیں، باقی ۹۸ فیصد مسلمان وہ ہیں جو صرف سالانہ نمازی یا ہفتہ واری، پھر مساجد و مدارس کی چار دیواری سے باہر ان کی زندگی وہ ایک طرفہ تماشہ ہے کہ گویا کہ دین تو صرف نماز پڑھنے تک ہی محدود ہے، بیع و شراء، اور شادی بیاہ کی تقریبات کے مواقع پر تو دین کو مسجدو مدرسے کے کسی کونے میں محصور خیال کرتے ہیں۔
آخرکیا ہو گا ایسی قوم کا جس کے نوجوانوں کا اکثریتی طبقہ لا ابالی پن کی زندگی گزار رہا ہے یا صرف سامانِ لہو و لعب میں مصروف ہے، ہوائے نفس کی اس نے ایسی غلامی اختیار کر لی ہے، اسے یہ نہیں معلوم کہ یہ دین کتنی قربانیوں اور مجاہدات کے بعد تم تک پہنچا ہے، اس کی عظمت و سر بلندی کی خاطر اس درِ یتیم، محسنِ انسانیت، محبوب رب العالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے جاں نثار صحابہ نے کتنی قربانیاں دی ہیں، یہ ملت جو آج اغیار کے لئے تختۂ مشق بنی ہوئی ہے، اس کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکۃ المکرمہ میں عکاظ و ذوالمجنۃ کے بازاروں میں طعن و تشنیع کے تیر سہے، طائف میں تاک تاک کر ٹخنوں پر پتھر مار مار کر لہولہان کردیا تھا، جو راتوں کو سوتا نہیں تھا، جس کو ایک ہی تڑپ تھی کہ انسانیت ہدایت اختیار کر لے۔
بس ایک تڑپ تھی کیسی تڑپ
کہ انسان ہدایت پاجائے
آج اسی کے جوانوں کا یہ حال ہے کہ اس کی اسلامی غیرت وحمیت کو مغربی تہذیب و تمدن کے جراثیم چاٹ گئے ہیں اور وہ چاٹ ہی رہے ہیں، کاش کر اسے معلوم ہوتا کہ اس کے پرکھوں نے دریاؤں میں گھوڑے دوڑائے تھے، بادِ مخالف کے آوارہ تھپیڑوں کی بھٹی میں بلکہ جنگل کے موذی درندوں نے بھی ان کی راہ روکنے کے بجائے انہیں سلامی دی تھی، جب اس کی رگوں میں جوشِ ایمانی باقی تھا اس کی مدد و نصرت کے لئے آسمان سے فرشتوں کا نزول ہوتا تھا، جب اس کا بھروسہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی ذات پر کامل تھا تو اغیار کو اس کے نام ہی سے پسینہ چھوٹتا تھا، بپھر ے طوفان بھی اس کی راہ میں حائل نہ ہوئے تھے۔
اس لئے آج کے مسلم نوجوانوں کو اپنی حالتِ زار کا ماتم کرنے کے بجائے اپنے آپ کو اور اپنے احوال کو بدلنے کی اشد ضرورت ہے، کسی سے شکوہ کرنے کے بجائے اپنا مقصدِ زندگی جو خداوندِ تعالیٰ نے متعین فرما کر اس دنیائے دوں کی خلافت و نیابت عطا فرمائی ہے، اس کو سمجھ کر عمل کرنے کی ضرورت ہے، ورنہ ہم حالات کا رونا روتے رہیں گے، اور اغیار ہماری اس احساسِ کمتری سے فائدہ اٹھا کر ہماری اور ہماری نسلوں کی تباہی کے سامان جمع کرتے رہیں گے، اس لئے خوابِ غفلت سے بیدار ہو کر اپنی دنیا آپ پیدا کرنے کی ضرورت ہے، اپنے اس درد و کرب کا اظہار کرتے ہوئے شاعرِ اسلام ڈاکٹر علامہ اقبال مرحوم نے فرمایا تھا:
کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے
وہ کیا گردوں تھا جس کا ہے تو ایک ٹوٹا ہوا تارا
تجھے اس قوم نے پالا ہے آغوشِ محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سرِ دارا
صالح انقلاب ہمیشہ خونِ جگر پیش کرنے کے بعد آتا ہے، مسلمان اگر اس پوری دنیا میں انقلابِ عظیم بپا کرنا چاہتے ہیں اور ذلت و رسوائی کے قعرِ مذلت سے نکل کر عظمت و شوکت کا تاج محل تعمیر کرنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ہم دوسری اقوام و ملل کے بالمقابل اپنی اس موروثی عظمت و بلندی اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزاریں تو صرف اور صرف ایک ہی نسخہ ہے، دنیا کے تمام حکماء و اطباء اور ماہرینِ فن کے پاس اس سے بڑھ کر نہ کوئی نسخہ اکسیر ہے اور نہ ہی اس مسئلہ کا ان کے پاس کوئی حل۔
ایک ہی علاج ہے کہ مسلمان اپنے تقدس کو پہچانے اور گفتار کے غازی بننے کے بجائے کردار کا غازی بننے کی کوشش کرے، فرائض و واجبات کی ادائیگی صد فیصد اس کا مزاج بن جائے، دین و شریعت اس کے رگ و ریشہ میں سرایت کر جائے، سنتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ اس کے فکر و ادراک اور ذہن و دماغ پر سوار ہو جائے، منہیات سے نہ صرف بعد و دوری بلکہ تنفر ہو جائے، ورنہ معدودے لوگوں کے معمولی اعمالِ صالحہ سے خداوندِ تعالیٰ کا قہر و غضب وقتی طور پر تو رک سکتا ہے، مگر صالح انقلاب عمومی عمل سے بپا ہوتا ہے، جب تک سماج و معاشرہ صد فیصد اسلامی رنگ و آہنگ کے سانچے میں نہیں ڈھلے گا، اس وقت تک یہ ملت اسی طرح ذلت و نکبت کا شکار رہے گی، ہر بندۂ مومن کو اپنی ایمانی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے خود کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
پھر اس کے اندر وہ ایمانی حرارت بیدار ہوگی جو کفر کے نیستان کو جلا کر خاکستر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس کو اپنے اسلامی لباس، دینی معاشرت پر بھرپور افتخار حاصل ہوگا، وہ مغربی دنیا کو للچائی نظروں سے دیکھنے کے بجائے اس سے دور بھاگے گا، اور اس کا اعلان ہوگا :
چڑھ جائے سر تیرا نیزے کی نوک پر
باطل کی اطاعت ہرگز نہ کر قبول
یہی وجہ تھی کہ آج سے ساڑھے چودہ سو سال قبل محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری دنیا میں ایک انقلابِ عظیم برپا کیا تھا اور اس کے نتیجے میں جو معاشرہ وجود میں آیا تھا، وہ ایسا تھا کہ دنیا کی آنکھوں نے اس سے قبل دیکھا نہیں تھا، کسی نے اس کا تصور تک نہیں کیا تھا۔
اس زمانہ میں اسلام کی سطح اتنی بلند تھی کہ مسلمان ہو اور نماز نہ پڑھے، روزہ نہ رکھے، غرض کہ اوامر پر عدم اطاعت اور منہیات کے عدم ترک کا تصور ہی نہیں تھا، جب مسلمانوں کی تعداد پچاس تھی تو پچاس کے پچاس نمازی تھے، جب مسلمانوں کی تعداد اس سے زائد ہوئی تو سب کے سب نمازی تھے، مسلمان ہو اور نماز نہ پڑھے اس کا تصور نہیں تھا، تب ہی تو ساری دنیا ان کو سلامی دینے پر مجبور تھی۔
اور آج ہمارا سماج جس کی حالت بہت ہی ناگفتہ بہ ہے، بھلا اس کا موردِ الزام کس کو قرار دیں گے کہ پانچ وقتہ نمازوں میں مسجدیں خالی پڑی ہیں، خداوندِ تعالیٰ کی جانب سے پکارنے والی صدائے فوز و فلاح کی ذرا بھی پرواہ نہیں ہے، بس معدودے حضرات ہیں جو نمازی کہلائے جاتے ہیں، نماز کی اصل حقیقت اور اصل روح سے تو وہ لوگ بھی ناواقف و نابلد ہیں، چونکہ قرآن تو اعلان کرتا ہے:
’اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ‘
اور برسوں سے نماز ادا کرنے والے بھی فواحش و منکرات کے ارتکاب میں مشغول و مصروف ہیں، قرآنی صداقت تو جھوٹی نہیں ہوسکتی، جس سے معلوم ہوا کہ ان لوگوں کی نماز صحیح معنی میں نماز بنی ہی نہیں، نمازی ہو اور معاملات درست نہ ہوں، نمازی ہو اور زنا و سرقہ کا صدور ہو، نمازی ہو اور کذب و بہتان پایا جائے ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا۔
معلوم ہوا کہ نماز کو اس کی حقیقت کے ساتھ ادا کرنے کی ضرورت ہے، جس کے اندر غایت درجہ خلوص ہو تب ہی وہ احسان کے درجہ کو پہنچے گی۔ پھر نہ جانے کتنے نوجوان ہیں جو پان مسالہ اور گٹکھا کھا کر ماحول بھی پراگندہ کرتے ہیں اور اپنی صحت کی تباہی کے ساتھ ساتھ اپنا قیمتی اثاثہ بھی برباد کرتے ہیں، کونسا قانون ہے جو لوگوں کو یہ سب کچھ کرنے پر مجبور کرتا ہے؟
ہم عملِ صالح کرنے کے بجائے ہر وقت شکوہ کناں رہتے ہیں کہ اغیار کی حکومت ہے، آئے دن مسلم مخالف قوانین کے نفاذ کی پلاننگ ہوتی رہتی ہے، بھلا نماز پڑھنے، دینی کام کرنے اور پورے خلوصِ دل کے ساتھ اپنے رب کو پکارنے سے کونسی حکومت روکتی ہے؟ ہم لوگ اگر یقیناً سچائی کے ساتھ غازی بننے کے بجائے کردار کے غازی بن جائیں تو دنیا کی ساری شوکتیں ہمارے قدموں میں ڈھیر ہو جائیں، اور ساری اسلام مخالف حکومتیں ان سے ہرگز کوئی تعرض نہ کریں، مگر کیا کیا جائے، اس بدعملی پر کتنا ماتم کیا جائے۔
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیٔ داماں بھی ہے

