حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد عالم اسلام کی صورت حال پر ایک نظر
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت سے عالم اسلام کا مرکز لرز کر رہ گیا تھا۔ اس عظیم سانحے نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ مسلمانوں کی وحدت اور ملت کی اساس شدید خطرے کی زد میں ہے۔ وہ اس عظیم فتنے کی لپیٹ میں آ چکے ہیں جس کے بارے میں متعدد احادیث میں پیش گوئی کر دی گئی تھی۔ یہ مسلمانوں کی صفوں میں پہلا انتشار تھا جو ان کے متفقہ، عادل اور امین خلیفہ اور ان کے رفقاء کی کردار کشی کے نتیجے میں دیکھنا پڑا تھا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ مصر اور مدینہ منورہ کے سوا، باقی شہروں میں حالات معمول پر تھے۔ اندرونی طور پر کسی عام بغاوت کا کوئی خطرہ نہ تھا نہ غیر ملکی طاقتیں مسلمانوں پر غالب آ سکتی تھیں۔ مگر اصل خطرناک اور سنگین مسئلہ یہ تھا کہ خود مسلمانوں کے اندر ٹوٹ پھوٹ کا آغاز ہو چکا تھا۔
اگر چہ خلیفہ ثالث کے گھر کا محاصرہ اور استعفے کا مطالبہ کرنے والا ایک چھوٹا سا گروہ تھا مگر اس واردات سے یہ خطرہ عیاں ہو گیا تھا کہ مسلمانوں کو اگر بروقت سنبھالا نہ گیا تو ان کی یہ دوسری نسل کج فکری، گمراہی اور راہ حق سے اعراض کا شکار ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ثابت ہو گیا کہ ایک مثالی معاشرہ ہونے کے باوجود عالم اسلام بہر حال دیگر معاشروں کی طرح انسانوں ہی پر مشتمل ہے جن میں فطری طور پر بشری کمزوریاں موجود ہیں اور اگر کوئی شر پسند گروہ چاہے تو ان میں کجی اشتعال انگیزی اور افراتفری کو ہوا دے سکتا ہے۔
باغیوں کا اس تحریک میں پورے جوش و خروش سے شرکت کرنا بتا رہا تھا کہ دوسرے انسانی معاشروں کی طرح اسلامی معاشرے میں بھی اصلاح، انقلاب، حقوق، تجدید اور انصاف کی بالا دستی کے نعرے لگا کر لوگوں کو اس حد تک عمل پر ضرور ابھارا جا سکتا ہے کہ معاشرے میں ہر وقت ہلچل مچی رہے، حکومت مستکحم نہ ہو سکے اور امن و امان کی فضا قائم نہ ہونے پائے۔ یہ بھی حقیقت تھی کہ جن لوگوں نے تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا، ان میں بدنام اور بد کردار افراد کے ساتھ صلحاء اور شرفاء بھی شامل تھے، جنہیں تحریک کو نیک نام کرنے کے لئے آگے آگے رکھا گیا تھا جو محض نادانی اور غلط فہمی کا شکار ہوئے تھے۔
باغیوں کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے بعد نہ صرف ان کے گھر بلکہ بیت المال سے مسلمانوں کے اجتماعی اثاثوں کو لوٹ لینا، اس بات کا کھلا ثبوت تھا کہ ان کا مقصد محض فساد اور انتقام تھا۔ اب جبکہ یہ مقاصد پورے ہوئے تھے، انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کریں؟ انہیں بہر حال اپنے معاشرے، اپنے محلے اور اپنے قبائلی نظام میں واپس جا کر کوفہ، بصرہ اور مصر کے لوگوں کے سامنے جوابدہ ہونا تھا کہ وہ کونسا انقلاب برپا کرنے گئے تھے اور کیا کر کے آئے۔
یہ تو عام باغیوں کا حال تھا کہ وہ پریشان، نادم اور مضطرب تھے۔ مگر سازش کے سرغنوں کا مقصد لوٹ مار اور انتقام نہیں، امت کو لڑانا تھا۔ اس لیے انہوں نے اپنے چیلوں کے تینوں گروہوں کو الگ الگ سمت متحرک کر دیا کہ وہ مدینہ میں موجود تین بزرگ ترین صحابہ کو ایک بار پھر مسجد نبوی کی طرف لانے کی کوشش کریں تاکہ کسی طرح نئی کشمکش شروع ہو جائے۔ اب بصرہ کے باغی حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے، کوفہ والے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے اور مصر کے لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے خلیفہ بننے کی درخواست کرنے لگے مگر ان میں سے ہر ایک نے صاف انکار کر دیا۔ باغیوں نے مایوس ہو کر حضرت سعد بن ابی وقاص اور پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ہاتھ پر بیعت کی کوشش کی۔ مگر وہ بھی آمادہ نہ ہوئے۔
یوں سازشی سرغنوں کی چال ایک بار پھر ناکام ہو گئی۔ ثابت ہو گیا کہ اکابر میں سے کوئی بھی خلافت کا خواہش مند نہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی خلافت کے واحد حق دار کیوں؟
مرکزیت اسلام کو بچانے اور اسلامی وحدت کے خلاف سازش کو ناکام بنانے کے لیے اکابر صحابہ حرکت میں آئے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنانے کا تہیہ کر لیا۔ مدینہ کے باقی شہری بھی ان پر متفق تھے۔ تاہم سبائی ذرائع ابلاغ نے جعلی خطوط کے ذریعے جن اکابر کو باغی تحریک کا سرپرست مشہور کر دیا تھا، ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا نام بھی تھا۔ غالباً سازشی سرغنے طے کر چکے تھے کہ ان میں سے جو بھی مسند خلافت پر بیٹھے گا، اس کے خلاف یہی مشہور کیا جائے گا کہ اسی نے سابق خلیفہ کو قتل کرا کے اپنے لئے اقتدار کی راہ صاف کی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی اس سازش کا پورا اندازہ تھا، اس لیے وہ منصب خلافت قبول کرنے میں پس و پیش کرتے رہے۔
تاہم امت میں اس وقت حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے بلند مرتبہ ہستی اور کوئی نہ تھی، ان کی افضلیت، لیاقت اور دین میں کسی کو شبہ نہ تھا۔ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی تھے۔ بچپن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہے تھے، سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں شامل تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے جو خاص محبت تھی اس کا اظہار اکثر و بیشتر خلق رسالت سے ہوتا رہتا تھا۔ ایک موقع پر فرمایا: "جس کا میں دوست، اس کا علی دوست۔"
ایک موقع پر انہیں مخاطب کر کے ارشاد ہوا: "اَنْتَ مِنِّی وَ اَنَا مِنْکَ" (تم مجھ سے ہو اور میں تم سے)
ایک مرتبہ فرمایا: "علی میرے ہیں اور میں ان کا۔"
ایک بار فرمایا: "علی! تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔"
بارگاہِ ربوبیت سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آنے والے فتنوں کے تناظر میں یہ بتا دیا گیا تھا کہ کچھ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دشمنی اختیار کریں گے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا:
"علی سے ہر ایمان والا محبت کرے گا اور ان سے منافق ہی بغض رکھے گا۔"
دامادِ مصطفیٰ کے علمی مقام کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک فرمایا:
"میں دار الحکمت ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں۔"
شمع رسالت سے اس قدر گہرے تعلق کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کے شب و روز حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے کھلی کتاب کی مانند تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ صحابہ کرام کے حلقے میں بے حد محبوب اور ہر دل عزیز تھے۔ سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کا آپ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں ہونا بیتِ نبوی سے آپ کے رشتے کو مزید پختہ کرتا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں اپنی جانثاری کا ثبوت پیش کیا تھا۔ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نائب کی حیثیت سے مدینہ منورہ کا انتظام سنبھالا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی عمر لگ بھگ تینتیس (33) سال تھی اور وہ ایک شمشیر زن سپاہی سے زیادہ ایک مفکر، قائد، مشیر اور وزیر کی صلاحیتوں کے حامل ہو چکے تھے اس لئے حضرت ابوبکرصدیق، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے دورِ خلافت کے پچیس برسوں میں آپ مدینہ منورہ میں ایوانِ خلافت کی مرکزی شوریٰ کے اہم ترین رکن اور قاضی رہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خلیفہ کے انتخاب کے لیے جو چھ رکنی کمیٹی بنائی تھی، اس کا فیصلہ دو عظیم ترین شخصیات میں سے ایک کو خلافت دینے کا تھا۔ ایک حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، دوسرے حضرت علی رضی اللہ عنہ۔ آخری فیصلہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہوا۔ ان کی شہادت کے بعد اب بلا شبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی مستحق خلافت تھے۔
صحابہ کرام کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا آخری ایام میں بھیجا ہوا یہ پیغام بھی یاد تھا کہ: "حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہیں کہ لوگوں کا معاملہ اب آپ کے حوالے ہے۔ آپ وہی کریں جو اللہ تعالیٰ آپ کے دل میں ڈالیں۔"
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آخری ایام میں یہ بھی واضح فرما چکے تھے کہ ان کے نزدیک منصب خلافت کے لیے سب سے موزوں ترین شخصیت حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس مقام و مرتبے کے پیش نظر مدینہ کے اکثر مہاجرین و انصار انہیں کو خلیفہ بنانا چاہتے تھے۔ عام باغی بھی اب انہی کے دامن میں پناہ لینا چاہتے تھے۔ ان کا گروہ مدینہ منورہ میں شدید بدامنی کا ارتکاب کرنے کے باوجود اس قابل نہ تھا کہ من مانی کر کے کسی کو خلیفہ بنا دیتا۔ فیصلہ اکابر صحابہ کی رائے پر ہی ہو سکتا تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت خلافت کس طرح منعقد ہوئی؟
آخر حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما سمیت مہاجرین و انصار حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ایک بار پھر یہ ذمہ داری سنبھالنے کی درخواست کی۔ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تحریک پیش کرنے والوں میں سے تھے۔ وہ بار بار کہتے رہے: "ابوالحسن! آئیے ہم آپ سے بیعت کرتے ہیں۔"
آخر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کا اصرار دیکھ کر کھلے دل کے ساتھ کہا: "چاہو تو تم میری بیعت کر لو، چاہو تو میں تم میں سے کسی ایک کی بیعت کر لوں۔" دونوں نے کہا: "ہم آپ کی بیعت کرتے ہیں۔"
یہی دونوں حضرات سب سے پہلے بیعت کرنے والوں میں سے تھے۔
بیعت اور پہلا خطبہ:
اکابر امت کی گزارشات اور مسلمانوں کے عظیم تر مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے ۲۴ ذوالحجہ سن ۳۵ ہجری کو حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں منبرِ رسول پر رونق افروز ہو کر اس عظیم ذمہ داری کو اپنے سر لیا اور عوام و خواص سے بیعتِ خلافت لی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
''لوگو! میں تمہاری اس ذمہ داری کو قبول کرنا پسند نہیں کرتا تھا مگر تم مجھے منتخب کیے بغیر نہ مانے۔ آگاہ رہو کہ مجھے تمہارے بغیر کسی معاملے کا اختیار نہیں ہے۔ ہاں تمہارے (بیت المال کے) اموال کی چابیاں میرے ہاتھ میں ہوں گی۔ تاہم یہ یاد رکھنا کہ میں تمہاری اجازت کے بغیر ان سے ایک درہم بھی نہیں لے سکوں گا۔ کیا تم اس پر راضی ہو؟''
سب نے کہا: ''ہم راضی ہیں۔'' تب آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے بیعت لی۔
قصاصِ عثمان رضی اللہ عنہ کا مسئلہ:
عام ذہن کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ کو سب سے پہلے ان فسادیوں کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے تھی جو بغاوت میں ملوث تھے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے اس وقت سب سے اہم چیز خود دینِ اسلام کی حفاظت تھی۔ آپ کی دور رس نگاہ دیکھ رہی تھی کہ خود مذہبِ اسلام کا صحیح تشخص خطرے میں ہے، کیوں کہ اسلام کا تعارف، اس کی سند اور اس کی پہچان اصحابِ رسول ہیں اور اس وقت حالات ایسے تھے کہ خود اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ صرف اخلاص و کردار بلکہ ان میں سے بعض کے ایمان کے بارے میں بھی شبہات پیدا کر دیے گئے تھے۔ خلیفہ ثالث کو سبائی گروہ نے ''کافر'' تک مشہور کر دیا تھا (جیسا کہ اس گروہ سے متاثر کچھ شیعہ مؤرخین نے ایسی روایات قبول کی ہیں)۔
ایسے میں سب سے زیادہ ضروری کام یہ تھا کہ اصحابِ رسول کی اسلام کے لئے بنیادی و اساسی حیثیت کو مجروح نہ ہونے دیا جائے، یہی چیز اس سے پہلے سیدنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پیش نظر تھی۔ چنانچہ انہوں نے گالم گلوچ سے لے کر تیز دھار ہتھیاروں کی ضربیں تک برداشت کر ڈالیں مگر آخر دم تک کسی کو یہ غلط فہمی پھیلانے کا موقع نہ دیا کہ نبی کے نائب نے مسلمانوں کے خون میں ہاتھ رنگے ہیں۔ یہی چیز اس سے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل میں تھی کہ آپ نے عبداللہ بن ابی کے نفاق، اسلام دشمنی اور غداری کے بارے میں پوری آگاہی اور متعدد تلخ تجربات کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کا سر قلم کرنے کی اجازت نہ دی تاکہ اسلامی اقدار کے بارے میں دنیا والے کسی غلط فہمی میں نہ پڑ جائیں اور فرمایا: ''کہیں لوگ یہ نہ کہنے لگیں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کرا دیتا ہے۔''
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس باریک نکتے کو سمجھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی اس سے پوری طرح آگاہ تھے، اسی لئے انہوں نے جو حکمتِ عملی اپنائی اصلاحِ احوال اور وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اس کا پہلا قدم دفاع تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کوشش تھی کہ اکابر صحابہ اور عمالِ حکومت سمیت کسی سے بھی جوش کی بناء پر کوئی ایسی بات سرزد نہ ہونے پائے جو شریعت کے دائرے سے باہر ہو یا جو مزید افتراق کا سبب بن جائے اور دنیا یہ سمجھے کہ مسلمان اقتدار کے لیے خانہ جنگی، اختلافات اور تنازعات میں مبتلا ہیں، بلکہ اس وقت سب ہی کلمہ گو ایک صف میں ایک موقف کے ساتھ کھڑے نظر آئیں۔ آپ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ جو لوگ معمولی باتوں کو حالتِ امن میں بھی طوفان بنا دیتے ہیں، وہ حالتِ فتنہ میں کیا کچھ نہیں کر سکتے۔ اس لئے آپ کے نزدیک ضروری تھا کہ سب سے پہلے ''دفاع و استحکام'' کیا جائے جس کے لئے حالتِ امن اور حالتِ سکون کا قیام شرط تھا، یعنی یہ ضروری تھا کہ پہلے امت کے دلوں کو جوڑا جاتا، مسلمان کے حقوق، کلمے کی قدر اور ایک دوسرے کا احترام یاد دلایا جاتا، سب کو اپنی اصل یعنی قرآن مجید کے پیغام کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دی جاتی، چنانچہ بیعت کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
''اللہ نے اپنی کتاب کو ذریعہ ہدایت بنایا ہے جو خیر و شر کو واضح کرتی ہے، پس خیر کو اختیار کرو، شر کو چھوڑ دو، اللہ نے جن چیزوں کی حرمت کھول کر بیان کی ہے، ان میں مسلمان کی حرمت سب سے زیادہ ہے۔ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ دین و شریعت کے تقاضے کے تحت کسی مسلمان کا احتساب کیا جائے۔ مسلمان کو اذیت دینا حلال نہیں سوائے اس کے کہ اس پر شریعت کے تحت سزا واجب ہو۔ اللہ کے بندوں اور ان کے وطن کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہو، جانوروں اور زمین تک کے حق کا تم سے سوال ہو گا۔''
اس دل سوز و حکمت آمیز خطبے نے نادانی سے باغی تحریک کا حصہ بن جانے والوں کی سب سے بڑی غلطی پر چوٹ لگائی تھی۔ حرمتِ مسلم کا لحاظ نہ رکھنا اور اہل ایمان کو ایذا دینا اس سارے فساد میں قدم قدم پر نظر آتا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ بتانا چاہتے تھے کہ اصلاح کا نعرہ لگانے والی کسی بھی تحریک کے جعلی اور بے حقیقت ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ بندوں کے حقوق کو نظر انداز کرتی ہو۔
