Khilafat e Ali aur Qasase Usman ka Masla: Aik Ilmi Tajzia

نیا سال ۳۶ ہجری

        نیا سال سن ۳۶ھ شروع ہوا تو مدینہ منورہ میں صورتِ حال اس لحاظ سے سازگار نظر آتی تھی کہ نہ صرف تمام صحابہ کرام اور اہلِ مدینہ بلکہ باغیوں نے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی تھی مگر اس کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے ایسی کڑی آزمائشیں تھیں جن کا سامنا ان سے پہلے کسی خلیفہ کو نہیں کرنا پڑا تھا۔ تینوں خلفائے راشدین نے حالتِ امن و اتحاد میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالی تھیں مگر یہاں خود دارالخلافہ کا امن لٹ چکا تھا، خلیفہ کو شہید کیا گیا تھا اور مسلمانوں کے اتحاد کی کڑیاں ٹوٹ رہی تھیں۔ غرض یہ خلافت پھولوں کی سیج نہیں، ایک راہِ خاردار تھی۔


        حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت بلا شبہ شورائیت کے ذریعے تشکیل پائی تھی۔ مدینہ میں موجود تمام اکابر مہاجرین و انصار نے  بیعت کر لی تھی۔ سابقہ تینوں خلفاء کی خلافت کے انعقاد کے لیے بھی اہل مدینہ کی بیعت کافی سمجھی گئی تھی، اسی طرح اب بھی یہی کافی تھا۔ چنانچہ خلافتِ علویہ، خلفائے ثلاثہ کی خلافت کی طرح مضبوط دلائل سے ثابت ہو گئی۔ دور دراز کے شہریوں کے لیے بھی اب حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خلیفہ تسلیم کر لینا واجب ہو گیا تھا۔

        اگر چہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے شاہی رفقاء نے  بیعت نہیں کی تھی مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے استحقاقِ خلافت سے انہیں بھی انکار نہیں تھا جس کی تفصیل آگے آئے گی۔ مگر خلافتِ مدینہ میں تقریباً سبھی صحابہ نے  بیعت کر لی تھی،اسی لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی  بیعت جمہورِ علماء کے نزدیک اجماعی ہے۔ کتبِ عقائد میں یہی لکھا ہے۔

        صحیح روایات سے ثابت ہے کہ جمہورِ مہاجرین و انصار نے بیعت کر لی تھی۔

باغیوں سے بیعت کیوں لی؟

        حضرت علی رضی اللہ عنہ کا باغیوں سے بیعت لینا محض سیاسی مصلحت نہیں تھی، بلکہ قرآنِ مجید کی تعلیم بھی تھی:

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهِمْ فاعْلَمُوْا اَنَّ اللهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ
(ہاں وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو تمہارے ان پر قابو پانے سے پہلے توبہ ہی کر لیں تو ایسی صورت میں جان رکھو کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔)

        اس میں ہدایت ہے کہ اگر کوئی فسادی گروہ زیر ہونے سے پہلے پہلے ہتھیار ڈال کر حاکم کی اطاعت اختیار کر لے، تو وہ قابلِ معافی ہے۔

        مدینہ میں فساد پھیلانے والے لوگوں کی اکثریت، بغاوت کے اصل مقاصد سے لاعلم تھی اور صرف نادانی یا جوش میں مدینہ منورہ چلی آئی تھی۔ ان میں سے کچھ لوگ اپنے علاقوں کے رئیس تھے جن کے پیچھے قبائل اور خاندانوں کی بڑی حمایت تھی۔ اگر ان کی  بیعت قبول نہ کی جاتی تو اول  یہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی۔ دوسرے ایسی صورت حال میں  یہ لوگ اپنی حفاظت کے لیے مزاحمت کا راستہ اختیار کرتے۔ اور یوں ایک کی جگہ کئی باغی گروہ وجود میں آ جاتے، اور وہی خانہ جنگی شروع ہو جاتی جسے روکنے کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی جان دی تھی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا یہ موقف کہ عام باغی بیعت کر کے مرکزِ خلافت کی وفاداری کا اقرار کر لیں، عین شرعی حکم اور حکمت پر مبنی تھا۔ بیعت کے بعد وہی خلیفہ جس پر سب اعتماد ظاہر کرچکے ہوں، اصل مجرموں کو سزا دیتا تو کسی کو اعتراض کا حق نہ رہتا۔

        حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما دونوں شرعی دلائل کے تحت اسلامی سیاست میں ایک حد کے اندر حزبِ اختلاف کی سرگرمیوں کو برداشت کرنے کے قائل تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مزید یہ کیا کہ ان میں سے محمد بن ابی بکر اور مالک بن اشتر نخعی جیسے چند افراد کو ان کی صلاحیتوں کے مطابق عہدے بھی دے دیے۔ یہ وسعتِ ظرفی اسلامی سیاست اور خلافتِ راشدہ کا خاص امتیاز تھا جو تہذیبِ نو کی مدعی دنیا میں آج بھی کم یاب ہے۔

قاتلینِ عثمان پر گرفت میں تاخیر کی وجہ : باغیوں کی پانچ قسمیں:

        یہ بات طے ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے افراد گنے چنے تھے، باقی لوگ محاصرے اور شورش میں شریک تھے۔ بیعت ہو جانے کے بعد ان کو سزا دینا، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی فقہی نگاہ میں غلط یا کم از کم قابلِ غور مسئلہ تھا۔ دراصل حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بغاوت کرنے والے پانچ طرح کے افراد تھے:

        (۱) کچھ ہمیشہ پسِ پردہ رہتے تھے اور کوئی ثبوت یا سراغ نہیں چھوڑتے تھے جیسے عبداللہ بن سبا۔ ثبوت اور سراغ کے بغیر ایسوں کو سزا کیسے دی جا سکتی تھی؟

        (۲) کچھ لوگ غلط طور پر قاتل مشہور کر دیے گئے تھے جیسے حضرت عمر بن الحمق اور عبد الرحمن بن عدیس رضی اللہ عنہما۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کی بے گناہی سے واقف تھے، اس لیے افواہوں کی بناء پر بھلا ان سے قصاص کیوں لیتے؟

        (۳) کچھ قاتل موقع واردات پر مارے گئے تھے جیسے کلثوم بن نجیب، سودان بن حمران قتیرہ  بن حمران۔

        (۴) جو قاتل باقی بچے، وہ فرار ہو چکے تھے، سالوں بعد پتا چلا کہ وہ شام و مصر کے سرحدی کوہستان میں چھپے رہے جہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا مکمل کنٹرول کبھی نہ ہو سکا۔ ہم جس دور کی بات کر رہے ہیں، اس وقت تو ان کا ادنیٰ سراغ بھی نہ تھا۔

        (۵) باقی لوگ فقط بلوائی تھے نہ کہ قاتل۔ بغاوت میں شریک ضرور ہوئے مگر اب از سرِ نو خلیفہ کی بیعت کر چکے تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نزدیک ان پر بلا تامل قصاص جاری نہیں کیا جا سکتا تھا۔

        اسی لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اجتماعی رائے قائم ہونے تک انہیں قومی دھارے میں شامل رہنے کا موقع دیا تھا۔

مطالبہ قصاص میں حضرات طلحہ و زبیر، عائشہ صدیقہ اور معاویہ رضی اللہ عنہم کا فقہی نقطہ نظر کیا تھا؟

        دوسری طرف حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب یہ رائے قائم کر چکے تھے کہ مدینہ منورہ میں شورش برپا کرنے اور دارِ عثمان کو گھیرنے والے بھی افراد بغاوت، قتل اور اعانتِ قتل کے مجرم ہیں اور ان سب کو قصاص میں قتل کرنا واجب ہے۔

        یہ ان حضرات کی اجتہادی رائے تھی جسے حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت بھی خلافِ تحقیق سمجھتے تھے۔ اگرچہ چند سال بعد اس بارے میں صحیح شرعی لائحہ عمل پر صحابہ کا اجماع ہو گیا۔ مگر اس سے پہلے یہ فقہی اختلاف سیاسی نزاع کی وجہ بنا رہا۔

صحابہ کرام مختلف الرائے کیوں ہوئے؟

        اس مسئلے میں صحابہ کرام کا مختلف الرائے ہونا، بلا وجہ نہیں تھا، بلکہ اس کی تین اہم وجوہ تھیں:

        (1) قصاص عثمان ایک  پیچیدہ مسئلہ تھا۔ یہاں قتلِ عمد اور بغاوت کا قضیہ باہم مرکب ہو گئے تھے۔ باریک بینی سے اس کا تجزیہ کرنا مشکل ہو گیا تھا کہ بغاوت کی حدود کہاں تک تھیں اور قتلِ عمد کا اطلاق کن کن حرکات پر ہوگا؟

        (2) اختلافِ رائے کی دوسری بڑی وجہ اس بارے میں کسی سابقہ نظیر کا نہ ہونا تھا۔ مفتی، قاضی اور جج حضرات اچھی طرح جانتے ہیں کہ جب بھی کوئی استفتا، کیس یا مقدمہ سامنے آتا ہے تو ان کے لیے سب سے زیادہ سہولت کی بات یہی ہوتی ہے کہ اس جیسے مسئلے پر کوئی سابقہ فتویٰ یا فیصلہ سامنے ہو۔ اس طرح غلطی کا امکان کم ہوتا ہے اور فیصلہ سنانے میں وقت بھی کم لگتا ہے۔ لیکن اگر  معاملے کی نوعیت بالکل نئی ہو تو مفتیوں، قاضیوں اور ججوں کو بڑی مشکل پیش آتی ہے۔ ایسے میں کوئی بعید نہیں ہوتا کہ منصف پوری نیک نیتی، دیانت اور سعی کے باوجود غلط رائے قائم کر لے۔ یہاں بھی ایسی ہی صورت حال تھی۔

        (3) تیسری وجہ یہ تھی کہ صحابہ کرام کی بہت بڑی تعداد جذبات کے تلاطم سے دوچار تھی۔ شہادتِ عثمان جس قدر دردناک انداز میں ہوئی تھی، اسے نقل کرتے ہوئے آج بھی قلم تھرتھراتا ہے اور سنگ دلوں کے بھی آنسو بہہ پڑتے ہیں۔ ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو حد درجہ رقیق القلب تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کی محبت اولاد کی باپ سے محبت جیسی تھی۔ یہ واقعات ان کی زندگی میں پیش آیا تھا اور ان کے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ چکے تھے۔

        مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ مسئلے کی نزاکت اور پیچیدگی دیکھتے ہوئے، جذبات کو بالکل ایک طرف رکھ کر بڑی بردباری اور سنجیدگی سے شرعی دلائل پر غور کر رہے تھے۔ قضاء کے مسائل میں شریعت کی تعلیم یہی ہے۔ ارشادِ نبوی ہے: "لا يقضى الحكم بين اثنين وهو غضبان" (کوئی قاضی غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے مابین بھی فیصلہ نہ کرے۔)

        پس قصاصِ عثمان کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ صحیح رائے قائم کرنے میں کامیاب ہوئے کیوں کہ وہ علم فقاہت اور اجتہاد کے ساتھ ساتھ ضبط و تحمل کا دامن بھی تھامے رہے۔

عدالتی کارروائی میں پیچیدگیاں:

        جہاں اس نئے قضیے کی تحقیق کے لیے اجتہاد کرنا کوئی آسان نہ تھا، وہاں عدالتی کارروائی کا مرحلہ مزید پیچیدہ تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ قاتلوں سے قصاص لینے کی ذمہ داری ہرگز نہیں بھولے تھے مگر یہ کام مشکل اس لحاظ سے تھا کہ:

        (1) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں سے کچھ موقعہ واردات پر مارے گئے تھے۔ باقی مجرم جو شام اور مصر کے تھے، واردات کر کے کسی نامعلوم سمت فرار ہو گئے تھے۔ اب قاتلوں میں سے کوئی بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حلقے میں نہ تھا کہ اسے فوراً گرفتار کر کے شناخت کے لیے پیش کیا جا سکتا۔

        (2) قاتلوں کی شناخت، گرفتاری اور سزا کے اجراء کے لیے شرعی گواہی مطلوب تھی۔ قتل کی چشم دید گواہی اُن کی اہلیہ حضرت نائلہ دے سکتی تھیں یا ان کے غلام۔ کیوں کہ شہادت کے وقت یہی افراد موقع پر موجود تھے۔ مگر غلام تو لڑتے لڑتے اپنے آقا پر قربان ہو گئے تھے اور حضرت نائلہ حملے کے وقت حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اوندھی گر گئی تھیں، لہٰذا وہ مہلک وار کرنے والوں کی نشاندہی سے قاصر تھیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جب ان سے قاتلوں کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے ان کے  یقینی تعین  سے معذوری ظاہر کی۔ فقط اتنا بتایا کہ "محمد بن ابی بکر قاتلوں کو ساتھ لائے تھے۔

        " یعنی شاہدین میں ایک ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے غلام کنانہ شامل تھے، مگر ان کا بیان صرف یہ ظاہر کرتا تھا کہ قاتل محمد بن ابی بکر نہیں، ایک سیاہ فام مصری شخص تھا جس کا نام حمار تھا۔

        اس  بیان سے جہاں محمد بن ابی بکر کی برأت ثابت ہوتی تھی وہیں اصل قاتل مزید مبہم ہو جاتا تھا، کیوں کہ حمار نامی شخص وہاں کوئی نہ تھا۔ جو نام لیے جا رہے تھے وہ مشہور تو ہو گئے تھے مگر ان افراد کے بارے میں شرعی گواہی ناپید تھی۔

        یہ بھی ممکن ہے کہ قاتل نقاب پہن کر اندر آئے ہوں، اسی لیے شناخت مشکل ہو رہی ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حمار وغیرہ علامتی نام ہوں، اصل نام کچھ اور ہوں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قاتلوں نے نام دوسرے لوگوں کے ناموں پر رکھ لیے ہوں تاکہ واردات کے بعد اُن بے گناہوں ہی سے پوچھ گچھ ہو اور کوئی سراپا ہاتھ نہ آئے۔

        (3) زمانۂ رسالت سے اسلامی سیاست کا اصول یہ چلا آ رہا تھا کہ مجرم پر کتنا ہی شک کیوں نہ ہو، اسے تشدد کے ذریعے جرم قبول کرنے پر آمادہ کیا جا سکتا ہے نہ ماورائے عدالت انتقام و سزا کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے، اگرچہ اس اصول کی پاسداری کے باعث خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو منافقین سے اور بعد میں صحابہ کرام کو غداروں کے ہاتھوں بہت سے صدمات سہنا پڑے، مگر قانونِ شریعت کی بالادستی کو ریاستی مفادات پر ہمیشہ ترجیح دی گئی۔ اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ چاہتے تو تشدد کر کے کچھ مشکوک لوگوں سے اقرار جرم کرا سکتے تھے۔ مگر انہوں نے شرع کی پاسداری کرتے ہوئے یہ راستہ اختیار نہیں کیا۔ یہ دورِ صحابہ کی اسلامی سیاست کا ایک طرہ امتیاز ہے جس میں کسی اور آئین کو ماننے والی کوئی تہذیب شاید ہی ہمسری کر سکے۔

        (4) مدینہ فوجی چھاؤنی بننے کے لیے موزوں نہ تھا لہٰذا یہاں فوج نہیں رکھی جاتی تھی اور یہی وجہ تھی کہ دارِ عثمان کے محاصرے کے وقت دفاع کے لیے چند سو سے زائد مسلح افراد نہ تھے اور اب بھی ان میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان چند سو افراد کے ساتھ مدینہ میں یقیناً ایسی قوت حاصل نہ تھی کہ وہ قاتلینِ عثمان کا فتنہ فرو کر سکتے۔

        (5) اگر بالفرض حضرت علی رضی اللہ عنہ دو چار افراد کو پکڑ کر قصاصاً قتل کر بھی دیتے تو عبث تھا کیوں کہ قصاص کا مطالبہ کرنے والے مسلمان محاصرے میں شریک سبھی افراد کو قابلِ سزا تصور کرتے تھے، اتنی کارروائی پر قطعاً مطمئن نہ ہوتے۔

انتظامی و سیاسی مشکلات:

        اس قسم کی کارروائی انتظامی و سیاسی لحاظ سے بھی مشکل تھی۔ ایسی کسی فوری کارروائی سے چار بڑے نقصان ہوتے:

        (1) حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں قتلِ عمد اور بغاوت سے مرکب یہ قضیہ ایک قابلِ غور اور نازک مسئلہ تھا۔ اس میں دلائلِ شرعیہ کی مزید تحقیق اور اُمت کے اہل فتویٰ کے اجماع کی ضرورت تھی۔ اگر بلا تامل سب باغیوں کو قتل کر دیا جاتا تو شرعی حدود سے تجاوز کا خطرہ تھا۔

        (2) وہ لوگ جو ابھی ابھی بیعت کر کے بہ شکل پُر امن ہوئے تھے، مصیبت کے جوش میں آ کر اپنے ان مجرم ساتھیوں پر سزا کے اجراء میں رکاوٹ ڈالتے جس سے کشیدگی بڑھتی اور ملکی امن وامان سخت متاثر ہوتا۔

        (3) اس وقت سابق باغیوں میں سے اشتر نخعی کا کوفہ میں، حکیم بن جبلہ کا بصرہ میں اور محمد بن ابوحذیفہ کا مصر میں بہت اثر ورسوخ تھا۔ ان میں سے بعض سردار حضرت علی رضی اللہ عنہ سے  بیعت کر کے اپنے علاقوں کو لوٹ گئے تھے، ان پر قابو پانا یا میدان سیاست سے انہیں بے دخل کرنا اتنا آسان نہ تھا۔ اس کوشش میں خود مسند خلافت بھی الٹ سکتی تھی اور پورا عالم اسلام ایک نئے بحران کی زد میں آ سکتا تھا۔

        (4) جلد قصاص لیا جاتا تو دوسروں کے آلہ کار بن کر ہتھیار اٹھانے والے چند افراد ہی کارروائی کی زد میں ضرور آتے مگر فتنہ پھیلانے والے اصل مجرم مزید زیرِ زمین چلے جاتے اور بعد میں کسی اور شکل میں فساد پھیلاتے۔

        غرض حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قصاص میں جلد بازی سے کام لینا نہ صرف شرعی و قانونی احتیاط کے خلاف اور انتظامی و سیاسی لحاظ سے خطرناک تھا بلکہ ایسا کرنا خود شہیدِ مظلوم کے مقصد اور ہدف کے خلاف ہوتا، اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ قصاص ایسے وقت اور ایسے ماحول میں لیا جائے جب اصل مجرموں کے روپوش ہونے کی گنجائش نہ ہو نہ سرکاری و عدالتی فیصلے کے سامنے کسی کو انکار کی جرات۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ انسانی نفسیات سے خوب اچھی طرح واقف تھے اور یہ جانتے تھے کہ ایسی تحریکوں، انقلابات اور جوش و خروش کے بے ہدف مظاہروں کا ابال وقتی ہوتا ہے۔ اس دوران اگر دوسرا فریق جذباتی رویے میں حکمت کے خلاف کوئی اقدام کر گزرے تو فتنہ پرور عناصر اس اقدام کو نیا بہانہ بنا کر مزید شر پھیلانے لگتے ہیں۔ لیکن اگر مصلحت سے کام لے کر مناسب وقت کا انتظار کیا جائے تو نادان عوام کا وقتی جوش ٹھنڈا پڑ جاتا ہے اور وہ کھوکھلے نعروں پر جمع ہونے والے منتشر ہو جاتے ہیں۔ ان کی حالتِ اجتماع کے بجائے حالتِ انتشار کا انتظار کر کے ان پر ہاتھ ڈالنا آسان بھی ہوتا ہے اور اس میں بقائے امن عامہ کی ضمانت بھی زیادہ ہوتی ہے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic