سیرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چند قابل توجہ پہلو
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بہت سیدھے سادھے اور بھولے بھالے انسان تھے، ان میں ہوشیاری، معاملہ فہمی اور قوت فیصلہ جیسی صفات نہیں تھیں، غلطیوں پر کسی کو روکنے ٹوکنے کی ہمت نہیں رکھتے تھے، عمال کو تنبیہ کرنے سے گھبراتے تھے، ان سے دب جاتے تھے، جو بھی پٹی پڑ ھا دیتا تھا آپ مان لیتے تھے، جس کے نتیجے میں نظام حکومت کی باگیں ڈھیلی پڑ گئیں اور فسادیوں کو اپنا کھیل پوری طرح کھیلنے کا مو قع مل گیا۔ مگر یہ تأثر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا سرسری جائزہ لینے اور حقائق کو نظر انداز کر دینے کا نتیجہ ہے۔
اگر خلیفہ سوم رضی اللہ عنہ کے کردار کا عمیق مطالعہ کیا جائے تو ثابت ہوگا کہ آپ کی نرمی اور عفو و درگزر کے معاملات اپنی ذات کی حد تک تھے، آپ کی شرم و حیا طبیعی تھی مگر عقل پر غالب نہ تھی، انتظامی اور شرعی امور میں آپ بے ضابطگیوں کو کبھی برداشت نہیں کرتے تھے۔ کسی بڑی سے بڑی شخصیت کی عبقریت بھی آپ کے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوسکی تھی۔ جب کوئی مسئلہ یا معاملہ آپ کے نزدیک مذہبی یا قومی وملکی لحاظ سے ضروری ہوتا تو آپ اس بارے میں کسی کی ناراضی کی پروا نہیں کرتے تھے بلکہ بعض اوقات تو بات بہت معمولی محسوس ہوتی تھی، مگر آپ اس کے عواقب کا صیح اندازہ لگا کر فوری حکم جاری فرما دیتے تھے۔ آپ کی پالیسی نرم خوئی کی تھی مگر یہ ریشمی ڈوری کی طرح مضبوط تھی۔
گورنروں کی معزولی کے اٹل فیصلے:
جب آپ رضی اللہ عنہ کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جیسے عظیم المرتبت صحابی کا کوفہ کی حکومت پر برقرار رہنا بعض وجوہ سے خلافِ احتیاط محسوس ہوا تو آپ نے فوراً انہیں معزول کر دیا۔ آپ نے فیصلے میں ان کی ذاتی وجاہت اور عظمت کا لحاظ نہیں کیا، بلکہ قومی وملکی مفاد کو ترجیح دی۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بصرہ اور عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ کو مصر کی حکومتوں سے معزول کرتے ہوئے آپ ان حضرات کی بزرگی اور مرتبے سے مرعوب نہیں ہوئے، مسلمانوں کی بہتری کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ تبدیلیاں کسی شش و پنج کے بغیر کر دیں۔
ضرورت کے مطابق سزا میں بھی جاری فرماتے تھے:
شرپسندوں اور فسادیوں کو سزائیں دینے میں آپ رضی اللہ عنہ ماتحت حکام کو احتیاط اور درگزر کی تاکید ضرور کرتے تھے تا کہ کسی غلط فہمی کے باعث کج روی اختیار کرنے والے لوگوں پر زیادہ سخت سزا جاری نہ ہو جائے یا بے گناہ افراد لپیٹ میں نہ آجائیں، مگر جب کسی کا شروفساد ثابت ہو جاتا تو آپ اسلامی آئین اور شرع کے مطابق تعزیرات اور سزائیں جاری کرنے میں تاخیر نہیں کرتے تھے، چنانچہ آپ کے حکم سے ضابیٔ شاعر کو شرفاء کی ہجو کے جرم میں جیل میں ڈالا گیا تھا۔ کوفہ کے کئی شرپسندوں کو شہر بدر کیا گیا۔
مسجد الحرام کی توسیع میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو سزا:
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد الحرام کی کوئی چار دیواری نہیں تھی۔ چاروں طرف مکانات تھے، جن کی عقبی دیواروں نے مسجد کو گھیرا ہوا تھا۔ مسجد میں داخل ہونے کے لیے دروازے تھے جو گلیوں میں کھلتے تھے۔ حج کے دنوں میں گلیاں نہایت تنگ پڑ جاتی تھیں اور بڑی پریشانی ہوتی تھی۔ مسئلے کا واحد حل یہی تھا کہ گرد و نواح کے مکانات لے لیے جائیں، چاہے مالکان راضی ہوں یا ناراض، کیوں کہ مسجد الحرام کی تنگی کے باعث روزانہ ہزاروں لوگوں کو شدید دقت ہو رہی تھی جس کا کوئی اور متبادل حل نہیں تھا، جبکہ مقامی لوگ کہیں اور بھی رہ سکتے تھے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد الحرام کی توسیع شروع کرائی۔ جن لوگوں کے مکانات توسیعی منصوبے کی زد میں تھے، انہیں معاوضہ پیش کیا گیا مگر بعض نے مکان فروخت کرنے ہی سے انکار کر دیا۔ چونکہ یہ ایک قومی اور اجتماعی منصوبہ تھا اس لیے انکار کی پروا کیے بغیر ان کے مکانات ڈھا کر معاوضہ پیش کر دیا گیا مگر انہوں نے ناراضی کی وجہ سے رقم لینے سے انکار کر دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ رقم ”خزانہ الکعبہ“ میں جمع کر دی جو کعبہ کے مصارف کی ایک خاص مد تھی۔ بعد میں ناراض لوگ نرم پڑ گئے اور قیمت لینا چاہی تو انہیں ”خزانہ الکعبہ“ سے رقم دے دی گئی۔ اس توسیع میں مسجد اور اس کے آس پاس کے ماحول کو کشادہ کر دیا گیا اور مسجد کے گرد تقریباً پانچ فٹ بلند ایک چار دیواری بھی بنوائی گئی۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں زائرین کی کثرت کی وجہ سے یہ توسیع بھی تنگ پڑنے لگی تو سن ۲۶ ہجری میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ارد گرد کے مزید مکانات خرید کر مسجد کی توسیع کا حکم دیا۔ اس بار بھی کچھ لوگوں نے مکانات کی قیمت لے لی اور کچھ نے کسی بھی قیمت پر مکان دینے سے انکار کیا۔ چنانچہ ان کے مکانات جبراً مسجد الحرام میں شامل کر دیے گئے۔ ان ناراض لوگوں نے اس پر احتجاج کیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہیں میری نرمی نے احتجاج کرنے پر ابھارا ہے۔ یہی کام حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا مگر اس وقت کسی ایک نے بھی شور نہیں مچایا تھا۔“
چونکہ توسیع کی ضرورت آئندہ بھی پڑ سکتی تھی اور ہر موقع پر کچھ لوگوں کے غل غپاڑا کرنے کا امکان تھا، اس لیے آپ نے ایسے قومی منصوبوں میں رکاوٹ کی روش توڑنے کے لیے احتجاج کرنے والوں کو سزا دینا مناسب سمجھا اور انہیں جیل بھیج دیا۔ بعد میں بعض شرفائے مکہ کی سفارش پر انہیں چھوڑ دیا۔
اہل مدینہ کو تنبیہ:
مدینہ منورہ میں کچھ شہریوں کے حدود سے تجاوز کرنے کی اطلاع ملی تو مجمع عام میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ”مدینہ والو! تم اسلام کی اساس ہو، تم بگڑے تو سب بگڑ جائیں گے، تم سدھرے رہے تو سب سدھر جائیں گے۔ اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، مجھے اب تم میں سے کسی کی گڑبڑی کی اطلاع ملی تو اسے شہر بدر کر دوں گا۔“ چنانچہ اس کے بعد جو شہری نازیبا و ناشائستہ امور کے مرتکب ہوتے آپ انہیں شہر بدر کر دیتے۔
قوتِ کلام:
جہاں تک قوتِ کلام اور منطق و بیان کا تعلق ہے، اس کا اندازہ آپ رضی اللہ عنہ کے ان ملفوظات، مباحثوں اور خطبات سے لگایا جا سکتا ہے جو تاریخ کے اوراق پر نقش ہیں، جن کا ایک ایک حرف بتا رہا ہے کہ آپ کوئی گم صم درویش نہیں تھے... ہاں اتنی بات ہے کہ آپ فضول گوئی سے بچ کر مختصر اور جامع کلام فرماتے تھے، اشتر نخعی نے مذاکرات کے دوران دباؤ ڈالا کہ آپ حکومت چھوڑ دیں یا مرنے کے لیے تیار ہو جائیں تو آپ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میری گردن کاٹ دی جائے، یہ مجھے زیادہ پسند ہے بجائے اس کے کہ میں امت محمدیہ کو آپس میں دست و گریبان چھوڑ دوں۔“
سادات کی بے ادبی برداشت نہ کرتے تھے:
آپ رضی اللہ عنہ کو اصحابِ رسول خصوصاً سادات کے مقام و مرتبے کا غیر معمولی خیال رہتا تھا اور اس بارے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرتے تھے۔ کسی شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے بدتمیزی کی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے سزا دی اور پٹائی کی، لوگوں نے اس سختی کی وجہ پوچھی تو فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جن کا ادب کرتے تھے، میں ان کے احترام میں کوتاہی کی گنجائش کیسے دے سکتا ہوں۔“
حالات سے پوری طرح باخبر رہتے تھے:
عوام کے حالات سے باخبر رہنے کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ کوفہ میں کعب بن ذی الحبکہ نامی ایک شخص جادو ٹونا اور سفلی عملیات کرنے لگا تب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے حاکم حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو مراسلہ موصول ہوا کہ اس شخص کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کرو، جرم ثابت ہو جائے تو سزا دو۔ حضرت ولید رضی اللہ عنہ نے حکم کے مطابق ملزم کو پکڑ کر تفتیش کے بعد سزا دی۔ کوفہ کے لوگ تعجب کر رہے تھے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں کی خبر کیسے رہتی ہے۔
منکرات کے ازالے کی فکر:
نئے ابھرنے والے منکرات اور برائیوں سے چوکنا رہتے تھے اور انہیں ختم کرنے کی پوری کوشش فرماتے تھے۔ فتوحات کی وجہ سے اہل مدینہ کی دولت و ثروت اور فارغ البالی میں اضافہ ہوا تو بعض افراد کو فضول مشاغل سوجھنے لگے۔ چنانچہ کچھ لوگ کبوتر بازی اور غلیلوں سے نشانہ بازی میں مصروف رہنے لگے۔ بعض لوگ اس طرح کی نبیذ پینے لگے جس سے نشہ پیدا ہونے کا خطرہ تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے ذمہ لگایا کہ وہ لاٹھی لے کر شہر میں گشت کرتا رہے اور اس قسم کی برائیوں پر روک ٹوک کرے۔
بڑھاپے کے باوجود کمزور اور لاچار نہ تھے:
بڑھاپے کے باوجود قوت و توانائی اتنی تھی کہ آخر تک نفل نماز میں قرآن مجید کی لمبی لمبی سورتیں پڑھتے تھے۔ طویل قیام کرتے اور روزے رکھتے تھے۔
بلند ہمتی:
بلند ہمتی قیاس سے بالا تر تھی، ہر حال میں اطمینانِ قلبی اور بشاشت سے مالا مال رہتے تھے۔ جب آپ کو مخبروں نے اطلاع دی کہ باغی مدینہ میں گھس کر آپ کو معزول یا قتل کرنے کی کوشش کریں گے تو آپ بے ساختہ ہنس پڑے۔ پھر ان شرپسندوں کے لیے ہدایت کی دعا فرمائی۔ حالانکہ ایسے مواقع پر بڑے سے بڑوں کے پسینے چھوٹ جاتے ہیں اور منہ سے بددعاؤں کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ آخری وقت میں خون کے پیاسے دشمنوں کے انتظار میں دروازہ کھلا چھوڑ کر تن تنہا تلاوت میں مشغول رہنا، آپ کی ایمانی طاقت، استقلال و عزیمت اور خالق و مالک سے جان و دل کے گہرے تعلق کا پتا دیتا ہے۔
رضی اللہ عنہ وارضاہ

