نقشوں کو تم نہ جانچو لوگوں سے مل کے دیکھو
ایک وقت تھا کہ مسلمان تعداد کے اعتبار سے بہت تھوڑے تھے، مگر عزائم اور ایمانی قوت کے لحاظ سے پوری دنیا پر چھائے ہوئے تھے۔ بڑے بڑے طوفان بھی ان کی راہ میں حائل نہ ہو سکے؛ ہنگامے بپا ہوئے، مخالفوں کا شور اٹھا، بائیکاٹ ہوا، محاصرے کیے گئے اور سماجی و اقتصادی ناکہ بندی کی گئی، مگر انہوں نے کبھی کسی مادی فائدے کے لیے اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا۔ وہ کانٹوں سے الجھے، طوفانوں سے ٹکرائے، صعوبتیں برداشت کیں، فاقے سہے اور کلفتوں کی زندگی گزاری۔ دشمن نے ان کی لاشوں کے پرخچے اڑا دیے، اعضاء کاٹ کر اپنی آتشِ غضب کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی، بیویوں نے شوہروں کی جدائی سہی، جوان بیٹوں کی شہادتیں دیکھیں، بوڑھے والدین سے علیحدگی اور وطن سے ہجرت کی داستانیں رقم ہوئیں، انہوں نے سب کچھ برداشت کیا مگر ان کی صلاحیتِ ایمانی مزید مضبوط و مستحکم ہی ہوتی رہی۔ کئی کئی روز تک ان کے گھروں میں چولہا نہیں جلتا تھا، پیوند لگا لباس زیبِ تن کرتے، بٹنوں کی جگہ ببول کے کانٹے استعمال کر لیتے اور جب اس فانی دنیا سے کوچ کرتے تو بقدرِ ضرورت کفن بھی میسر نہیں ہوتا تھا!
لیکن تاریخ شاہد ہے کہ وقت کے بڑے بڑے فراعنہ اور جبابرہ بھی ان کو سلامی دینے پر مجبور ہو گئے۔ کائنات کی ہر شے نے جھک کر ان کا استقبال و خیر مقدم کیا۔
بیت المقدس—جو آج پھر بدترین صیہونی ظلم و ستم کا نشانہ بنا ہوا ہے—امیر المومنین سیدنا عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں بغیر کسی خونی معرکے کے اس شان سے فتح ہوا کہ جب فاتحِ مصر حضرت عمرو بن عاصؓ وہاں پہنچے تو عیسائی اور یہودی علماء نے کہا:
"آپ بیت المقدس فتح نہیں کر سکتے، کیونکہ جو نشانیاں ہماری کتبِ سابقہ میں فاتح کی بیان کی گئی ہیں، وہ آپ پر منطبق نہیں ہوتیں"۔
جب حضرت عمر فاروقؓ خود تشریف لائے، تو ان علماء نے آپ کی سادگی، رعب اور جلال کو دیکھتے ہی فوراً دروازے کھول دیے اور پکار اٹھے: "خدا کی قسم! یہ وہی ہستی ہے"۔
ارم، شام، مصر، اسکندریہ، حلب، ہواز اور آذربائیجان ۲۲ھ تک فتح ہو چکے تھے، اور ایک وقت آیا کہ روئے زمین پر کوئی طاقت ایسی باقی نہ رہی تھی جو مسلمانوں کے سامنے ٹک سکے۔
کثرتِ تعداد اور حقیقت سے خالی نقوش
اگر آج کے دور کا جائزہ لیا جائے تو دنیا کے نقشے پر ستاون (57) کے قریب مسلم ممالک موجود ہیں۔ یہ ممالک اپنے عروج و ارتقاء، اسباب و وسائل، مادیات کی ریل پیل اور مال و زر کی بہتات کے اعتبار سے انتہائی مضبوط ہیں۔ معدنی ذخائر، ذر و جواہر کی کانیں اور تیل کے سیال خزانے انہی کی سرزمین سے ابل رہے ہیں یہ خدا کی قدرت ہے کہ جہاں بھی دنیا کے سب سے بڑے مادی خزانے ہیں، وہاں مسلم حکومتیں قائم ہیں۔ تعداد کے اعتبار سے بھی آج مسلمان دو ارب کے ہندسے کو چھو رہے ہیں۔
مگر افسوس! یہ ساری بہتات اور کثرتِ تعداد اب صرف "نقوش" بن کر رہ گئی ہے۔ حقیقت کی روح فنا ہو چکی ہے، اور بغیر حقیقت کے صرف بے جان نقوش سے کبھی کوئی انقلاب برپا نہیں ہوتا۔ ملتِ اسلامیہ کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ ظواہر اور نقوش میں گم ہو کر رہ گئی ہے۔ ہماری عبادت و ریاضت، تعلیم و تربیت، کانفرنسیں اور سیمینار ہر جگہ صرف بیرونی ڈھانچے (نقوش) باقی ہیں، حقیقت سے دامن خالی ہے۔
علامہ اقبال مرحوم نے اسی المیے کا نوحہ پڑھتے ہوئے فرمایا تھا:
حقیقت خرافات میں کھو گئی
یہ امت روایات میں کھو گئی
رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا تلقینِ غزالی نہ رہی
اور مغربی تہذیب کے نبض شناس اکبر الہ آبادی نے سچ ہی کہا تھا:
نقشوں کو تم نہ جانچو لوگوں سے مل کے دیکھو
کیا چیز جی رہی ہے کیا چیز مر رہی ہے
موجودہ سنگین حالات اور ہماری مدہوشی
ہماری یہ کثیر تعداد مادی اعتبار سے تو بہت طاقتور دکھائی دیتی ہے، مگر اس کا ایک بڑا حصہ عملی طور پر اللہ کا نافرمان ہو چکا ہے۔ اسلاف زمین پر پیشانی رگڑتے تو زمین ہل جاتی تھی، وہ نعرۂ تکبیر بلند کرتے تو آسمان سے فرشتوں کا نزول ہو جاتا تھا، اور آج ہمارا حال یہ ہے کہ ہمارے سامنے شعائرِ اسلام کی نیلامی ہو رہی ہے۔
موجودہ دور کے حالات تو اس سے بھی زیادہ دلدوز اور المناک ہو چکے ہیں۔ غزہ اور فلسطین کی سرزمین گزشتہ کئی مہینوں سے معصوم بچوں، ماؤں اور بوڑھوں کے خون سے رنگین ہے۔ پورا غزہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے، اسپتال، مساجد، مکاتب اور پناہ گزین کیمپ تک بمباری کی زد میں ہیں، اور بیت المقدس کی مسماری کی مہم عروج پر ہے۔ امتِ مسلمہ کے دو ارب نفوس، ستاون مسلم ممالک، جدید ترین افواج اور ہتھیاروں کے ہوتے ہوئے بھی ایک چھوٹی سی صیہونی طاقت کے سامنے بے بس نظر آ رہے ہیں۔ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی ہزیمت، ذلت اور شکست ہو سکتی ہے؟
عراق کی پامالی، سقوطِ بغداد کی المناک تاریخ، لبنان کی تباہی، دنیا بھر میں اسلامو فوبیا کی لہر، اسلامی تشخص کی اہانت، مساجد و مدارس پر کڑی نظریں، اور انسانیت کے قزاقوں کے خونی جبڑوں میں پستی ہوئی مظلوم انسانیت کی تصاویر روزانہ اخبارات اور سوشل میڈیا پر ایک فلم کی طرح چل رہی ہیں۔ اس سب کے باوجود ہم پر مدہوشی، بے حسی اور خوابِ غفلت کا ایسا نشہ طاری ہے کہ اترنے کا نام ہی نہیں لیتا۔ ہماری غیرتِ ایمانی کو جیسے فالج مار گیا ہو!
جہالت کا اندھیرا اور باہمی انتشار
دوسری طرف یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ آج مسلمانوں کی اکثریت دینِ اسلام کی بنیادی معلومات سے بھی نابلد ہے۔ مادی دنیا کی ڈگریاں تو ہمارے پاس ہیں، مگر دین و ایمان کا ہمیں علم ہی نہیں۔ ایمان صرف شناختی کارڈ کے خانوں یا حروف کی حد تک رہ گیا ہے، اس کی حقیقی مٹھاس کا ہمیں اندازہ ہی نہیں۔
آج بھی ہمارے بہت سے دیہات، قصبے اور غریب مسلم آبادیاں ایسی ہیں جہاں نہ مساجد ہیں اور نہ بچوں کی دینی تربیت کے لیے مکاتب کا کوئی انتظام۔ والدین پیٹ کی خاطر دن بھر مزدوری کرتے ہیں اور معصوم بچے گلیوں میں آوارہ گھومتے اور شور مچاتے پھرتے ہیں، جنہیں کوئی کلمہ سکھانے والا بھی نہیں۔ جہاں تھوڑا بہت دینی انتظام ہے بھی، وہاں آپسی مسلکی اختلافات، حسد اور انتشار کی اتنی گہری خلیج ہے کہ لوگ ایک دوسرے کی شکل دیکھنا پسند نہیں کرتے۔ کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جہاں دنیا کی ہر نعمت اور دکانیں موجود ہیں، مگر دین کی صحیح بات بتانے والا کوئی ایک مخلص انسان موجود نہیں۔ انہیں نہ دین کی پرواہ ہے اور نہ ایمان سے کوئی حقیقی رشتہ!
دعوتِ فکر اور اصلاح کی ضرورت
ملتِ اسلامیہ کی اس ناگفتہ بہ حالت کو آخر کون محسوس کرے گا؟ اس کی اصلاح کی فکر کرنے والے تو اب عنقاء (نایاب) ہو چکے ہیں۔ عہدوں کی ہوس، نام و نمود کی چاہ اور ذاتی مفادات نے ہمارے ذہن و دماغ کو اس قدر مفلوج کر دیا ہے کہ ہم اجتماعی نقصان کا سوچتے ہی نہیں۔ ہر شخص نے اپنے چھوٹے سے دائرے کو ہی دین کا سب سے بڑا کام سمجھ رکھا ہے اور امت کی بڑی کشتی میں ہونے والے سوراخوں سے سب بے فکر ہیں۔
خدارا...! اب بھی وقت ہے کہ ہم اس سنگین صورتحال کی طرف متوجہ ہوں۔ اپنی غفلت کی چادر کو جھٹکیں، سر جوڑ کر بیٹھیں، غور و فکر کریں اور تمام ذاتی، مسلکی اور سیاسی رقابتوں سے اونچا اٹھ کر دین کی بنیادوں کو بچانے کے کام کو گلے لگائیں۔ اگر آج بھی ہم نہ جاگے، تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔
اللہ تبارک و تعالیٰ ہم سب کو اپنی اصلاح کرنے اور امتِ مسلمہ کے لیے مخلصانہ کام کرنے کی توفیق اور قبولیت عطا فرمائے۔ آمین۔

