سیرتِ علوی کے چند روشن پہلو
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ذات والا صفات بے شمار خوبیوں کا مر قع تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت پر عمل کیا کرتے تھے، رعایا پروری، پرہیزگاری اور خدا خوفی میں آپ اپنے تینوں سابق خلفائے راشدین کے نقشِ قدم پر چلتے رہے۔ آپ ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے۔ روزے کثرت سے رکھتے۔ قرآن مجید کی تلاوت آپ رضی اللہ عنہ کا محبوب مشغلہ تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی فرمائش پر آپ کے ایک رفیق نے آپ کی سیرت کا نقشہ یوں کھینچا ہے:
"ان کی نگاہ دور رس تھی، قوٰی بہت مضبوط تھے، دو ٹوک اور صاف بات کیا کرتے تھے۔ عدل وانصاف کے عین مطابق فیصلے فرماتے تھے۔۔۔ ان کی ہستی سے علم کے چشمے جاری ہوتے تھے۔ دنیا اور اس کی رنگینیوں سے بے زار رہتے تھے۔ رات کے اندھیرے میں اُن کا دل لگتا تھا۔ اللہ کی قسم! رات کو عبادت میں ان کے آنسو رکنے میں نہیں آتے تھے۔۔۔ دیر تک سوچ بچار میں غرق رہتے، اپنی ہتھیلیوں کو پلٹ پلٹ کر خود سے باتیں کرتے۔۔۔۔ معمولی سا بوسیدہ لباس پہنتے، بے تکلف اور عام لوگوں کی طرح رہتے۔۔۔۔ مگر ہمیں اُن کے رعب کی وجہ سے ان کے سامنے بولنے کی ہمت نہ ہوتی تھی۔۔۔۔ مسکراتے تو دانت سفید موتی کی لڑی کی طرح چمکتے، دینداروں کی عزت کرتے، غریبوں سے محبت کرتے۔ کوئی طاقتور ترین انسان بھی ناحق بات میں ان کی تائید کی امید نہیں رکھ سکتا تھا اور کوئی کمزور آدمی ان کے انصاف سے مایوس نہیں ہوسکتا تھا۔
میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان کی راتوں کے چند مناظر دیکھے ہیں، رات نے اپنی سیاہ چادر پھیلائی ہے، تارے ڈوبنے لگے ہیں اور سیدنا علی مسجد کی محراب میں اپنی داڑھی اپنے ہاتھ سے پکڑے ایک درد سے بے کل انسان کی طرح رو رہے ہیں، یوں تڑپ رہے ہیں جیسے انھیں سانپ یا بچھو نے ڈس لیا ہو۔ میرے کانوں میں آج بھی ان کی آواز گونج رہی ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں: اے دنیا! کیا تو مجھ سے چھیڑ چھاڑ کرتی ہے؟ کیا مجھ سے کوئی توقع رکھتی ہے؟ جا میرے سوا کسی اور کو دھوکہ دے، میں تجھے تین طلاقیں دے چکا ہوں، جس کے بعد دوبارہ تعلق کی کوئی گنجائش نہیں۔۔۔۔ تیری عمر مختصر ہے۔۔۔۔ تیری دی ہوئی کامیابی حقیر، تیرے خطرات بڑے بھیا نک، ہائے !سامانِ سفر کتنا تھوڑا، سفر کتنا طویل اور راستہ کتنا سنسان!"
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ یہ سن کر زار و قطار رو دیے۔
ایک بار کوئی گورنر آپ کے پاس حاضر ہوا، کھانے کا وقت ہوا تو آپ نے مٹی کی ہانڈی منگوائی جس میں صرف ستو تھا، آپ نے پانی ملا کر خود بھی اسے نوش کیا اور گورنر کو بھی کھلایا۔ وہ حیرت سے بولا:
"امیر المؤمنین! آپ عراق میں رہ کر بھی یہ کھاتے ہیں، جبکہ یہاں کے عوام کا کھانا اس سے کہیں بہتر ہے؟"
فرمایا: "میں پسند نہیں کرتا کہ میرے پیٹ میں حلال کے سوا کچھ اور جائے۔"
علمی شان ایسی تھی کہ بڑے بڑے صحابہ کرام آپ کے فتووں پر اعتماد کرتے تھے۔ ام المؤمنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: "حضرت علی سے پوچھو، وہ یہ مسئلہ میری بنسبت زیادہ جانتے ہیں کیوں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر پر جایا کرتے تھے۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود عظیم ترین فقیہ ہونے کے باوجود فرمایا کرتے تھے: "ہم میں سب سے اچھے مُنصِف علی ہیں۔"
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سیاسی اختلافات کے باوجود فتاویٰ کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ پر اعتماد کرتے تھے، چنانچہ ایک شخص نے آکر ان سے کوئی مسئلہ دریافت کیا تو فرمایا: "حضرت علی سے جا کر پوچھو، وہ زیادہ جانتے ہیں۔"
حضرت علی رضی اللہ عنہ مشکل معاملات کو مثالوں اور قصوں کے ذریعے سمجھایا کرتے تھے۔ اشعار اور عربی حکایات کا اچھا خاصا ذخیرہ آپ رضی اللہ عنہ کے حافظے میں موجود تھا۔۔۔۔ گزشتہ خلفاء کا ذکر بڑے ادب سے کرتے اور ان سے جدائی پر رنج وافسوس ظاہر کرتے۔ ایک بار آپ جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ کچھ لوگوں نے ہنگامہ آرائی کی۔ آپ رضی اللہ عنہ گھر تشریف لائے تو ساتھیوں سے فرمایا: "واقعی مجھے تو اسی دن کھا لیا گیا تھا جس دن سفید بیل کو کھایا گیا تھا۔"
لوگوں کی حیرانی سے محظوظ ہوتے ہوئے آپ رضی اللہ عنہ نے بات آگے بڑھائی اور فرمایا:
"کسی جنگل میں تین بیل تھے: ایک سفید، ایک سرخ اور ایک سیاہ۔ تینوں میں بہت اتفاق تھا۔ ایک شیر ان پر حملہ کرنے کی کوشش میں لگا رہتا مگر تینوں مل کر اسے بھگا دیتے۔۔۔۔۔ آخر ایک دن شیر نے سرخ اور کالے بیل کو کہا: 'اس جنگل میں ہمارے جھگڑے کا سبب یہ سفید بیل ہے، تم بیچ میں نہ آؤ اور مجھے اس سے نمٹنے دو۔ میں اس کو کھاؤں گا اور پھر ہم اور تم اس جنگل میں اتفاق سے رہیں گے کہ میرا اور تمہارا رنگ ملتا جلتا ہے۔ پس شیر نے سفید بیل پر حملہ کر کے اسے مار دیا۔ اس کے بعد وہ دوسرے دونوں بیلوں پر حملے کی کوشش کرنے لگا مگر وہ دونوں مل کر اسے بھگا دیتے آخر ایک دن اس نے سرخ بیل سے کہا: 'اس جنگل میں ہمارے جھگڑے کی بنیاد یہ کالا بیل ہے۔ تم اس کا ساتھ دینا چھوڑ دو تاکہ میں اسے کھا جاؤں۔ پھر ہم اور تم اتفاق سے رہیں گے کہ ہمارا اور تمہارا رنگ ایک سا ہے۔
سرخ بیل نے کالے بیل کا ساتھ چھوڑا تو شیر اسے ہڑپ کر گیا۔ پھر جب تک اللہ نے چاہا شیر آرام سے رہا۔ مگر پھر ایک دن وہ سرخ بیل پر حملہ کرنے آگیا۔۔۔۔۔ سرخ بیل نے کہا: 'تم مجھے کھاؤ گے؟' شیر نے کہا: 'ہاں۔' سرخ بیل نے کہا: 'اچھا مگر پہلے مجھے تین بار ایک اعلان کرنے دو' شیر نے کہا: 'کرلو۔' سرخ بیل نے آواز لگائی: 'سن لو مجھے اسی دن کھا لیا گیا تھا جس دن سفید بیل کو کھایا گیا تھا'۔"
یہ حکایت سنا کر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"سن لو میں اسی دن سے کمزور ہو گیا تھا جس دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تھا۔"
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا تعزیتی خطاب اور جانشینی:
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے اگلے دن سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے مجمع عام میں ایک تقریر کی جس میں فرمایا:
"لوگو! کل تم سے ایسا شخص جدا ہو گیا جو علم میں پہلوں سے بڑھ کر تھا اور بعد والے اس کے مقام تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ ۔۔۔۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں جب بھی پرچم دے کر کسی مہم پر بھیجتے تو وہ فتح یاب ہو کر ہی واپس آتے۔ یہ شخص دنیا سے اس حال میں گیا ہے کہ اس کے پاس سونا تھا، نہ چاندی۔۔۔۔ ہاں، سات سو درہم تھے جو اپنے گھریلو خادموں کے لیے الگ جمع کر کے رکھے تھے۔"
مشہور ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خود حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا، مگر اس دعوے کی کوئی دلیل نہیں۔ تمام کتبِ تاریخ یہی بتاتی ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ امت پر چھوڑ دیا تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے تاثرات:
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع ملی تو بے اختیار رو پڑے اور انـا لِلّـہِ وَاِنـا اِلَـیْـہِ رَاجِـعُـوْنَ پڑھ کر بولے: "لوگوں نے آج علم وفضل اور خیر میں سے بہت کچھ کھو دیا ہے۔" اہلیہ محترمہ نے کہا: "آپ ان سے جنگ کر چکے ہیں، مگر اب رو رہے ہیں۔" فرمایا: "تمہیں کیا پتا! آج علم وفضل کا کتنا بڑا سرمایہ کھو گیا ہے۔"
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل ومناقب کو تسلیم کرتے تھے اور ان کی رائے خلیفۂ رابع کے بارے میں وہ نہ تھی جوشام کے ان شدت پسندوں کی تھی جو ان کے بعد مروانی یا ناصبی کہلائے۔ بعض لوگ اس قسم کے کلمات کو محض دوغلی پالیسی اور سیاسی بیان کی حیثیت دیتے ہیں۔ مگر ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ یہ معاملہ عام سیاست دانوں کا نہیں صحابہ کرام کا ہے۔ ان کے اخلاص وللہیت پر یقین کرنا پڑے گا جو قرآن مجید سے ثابت ہے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر تبصرہ، ان اخلاقِ کریمانہ کے تناظر میں دیکھا جائے جو صحابہ کرام کا مایۂ امتیاز تھے تو اچنبھے کی کوئی بات نہیں رہتی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کشمکش کے پیچھے ان غلط اطلاعات اور جھوٹی گواہیوں کا بڑا دخل تھا جنہیں شرپسندوں نے شام میں پھیلایا تھا جو آج بھی ضعیف اسناد کے ساتھ کتبِ تاریخ میں موجود ہیں اور ناسمجھ حضرات آج بھی ان پر قطعیت کے ساتھ یقین کرتے ہیں۔
یہ بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حیثیت اہل شام کے سیاسی قائد کی تھی اور سیاسی میدان میں پیش آنے والے معاملات بڑے نازک، پیچیدہ اور کثیر الجہت ہوتے ہیں۔ انسان بہت سوچ سمجھ کر ایک پہلو سے درست رائے قائم کرتا ہے مگر دوسری جہت سے اس کے اثرات منفی نکل آتے ہیں۔اکثر اوقات سیاست دان اپنی رائے میں پوری طرح آزاد نہیں ہوتا بلکہ پیش آمدہ گمبھیر حالات، خصوصاً بحرانی دور کی صورتحال اس کے لیے قدم قدم پر فیصلوں کا دائرہ تنگ کرتی رہتی ہے۔ وہ رائے عامہ کا خیال رکھنے پر مجبور ہوتا ہے۔ اسے عوامی جذباتی لہر اور حاشیہ برداروں کی آراء سے مغلوب ہو جانے کی نوبت بھی آتی ہے۔ بسا اوقات اسے اپنی ذاتی رائے یا طبعی رجحان کو بالکل ایک طرف رکھنا پڑتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ شامی عوام وسپاہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اشارے کو بھی حکم کا درجہ دیتے تھے مگر اس کے باوجود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فیصلے کرتے ہوئے اپنے گرد و پیش کی فضا، امراء کی آراء اور عوامی رجحانات کو بالکل نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔
نیز شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کے صدمے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں دی گئی جھوٹی شہادتوں نے خواہمخواہ بھی ایک جذباتی کیفیت سے دوچار کیے رکھا۔غلط فہمیوں کی حقیقت پوشیدہ فضا، شرپسندوں کی خفیہ سازشوں اور شدت پسندوں کی غیر معتدل آراء نے انہیں امیر المؤمنین سے حالتِ محاربہ کی طرف دھکیل دیا تھا۔ ان پہلوؤں کو سامنے رکھا جائے تو ان کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محاربہ اور ساتھ ہی ان کے فضائل ومناقب کا اعتراف ہرگز نا قابل فہم نہیں رہتا۔ انہوں نے جو کچھ کیا، دین وایمان کا تقاضا سمجھ کر قصاص کے حکمِ قرآنی کو نافذ کرنے کے لیے کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان سے اس اجتہاد میں خطا ہو گئی۔
ایک شبہ اور اس کا جواب حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی زبانی:
اگر روایاتِ حدیث میں فضائل ومناقب کے ابواب دیکھے جائیں تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مناقب (نہ کہ افضلیت) کی روایات تمام صحابہ کرام حتیٰ کہ شیخین حضرت ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے فضائل کی روایات سے بھی زیادہ محسوس ہوں گی۔ اس سے بعض لوگوں کو یہ دھوکا لگ جاتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ شیخین سے بھی افضل تھے۔ حالاں کہ شیخین کے فضائل ومناقب کی روایات کے کم ہونے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق ایسی روایات کی کثرت کی ایک خاص وجہ تھی، جس پر روشنی ڈالتے ہوئے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"صحابہ میں سے کسی کے حق میں مضبوط سندوں کے ساتھ اتنی احادیث مروی نہیں جتنی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق وارد ہوئی ہیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ وہ آخر میں تھے اور ان کے زمانے میں اختلاف پڑ گیا اور بغاوت کرنے والوں نے ان کے خلاف بغاوت کی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مخالفین کی تردید کے لیے صحابہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ان مناقب کو بکثرت پھیلایا جو ان کے پاس محفوظ تھے۔ پس لوگ دو فرقے بن گئے۔ مگر ان میں بدعتی کم تھے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو کچھ ہوا، سو ہوا۔ پس ایک اور گروہ ظاہر ہوا، جس نے ان سے جنگ کی۔ پھر معاملہ مزید گمبھیر ہو گیا۔ پس یہ لوگ ان کی تنقیص کرنے لگے اور منبروں پر ان کی لعنت کو رسم بنالیا۔ اور خوارج نے بھی بغض کی وجہ سے ان لوگوں کا ساتھ دیا، اور مزید یہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کافر کہنے لگے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی اس حکم میں ملالیا۔
پس حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق لوگوں کے تین گروہ بن گئے: اہل سنت۔ اور بدعتی خوارج میں سے۔ اور ان لوگوں میں سے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے آمادۂ پیکار ہوئے یعنی بنو امیہ اور ان کے متبعین (میں سے ناصبی گروہ) پس اہل سنت نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے فضائل کی اشاعت کی ضرورت محسوس کی، اسی وجہ سے ان کے فضائل کرنے والے بکثرت ہو گئے کیوں کہ ان کے مخالفین بھی بکثرت تھے۔ ورنہ حقیقت میں خلفائے اربعہ میں سے ہر ایک کے فضائل اتنے ہیں کہ اگر انہیں انصاف کے ترازو کے ساتھ نقل کیا جائے تو اہل سنت کے عقیدے سے ہٹ کر کوئی بات ثابت نہیں ہوگی۔"
کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک ناکام حکمران تھے؟
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ ان کا دورِ خلافت ناکامیوں کا دور تھا اور وہ اپنے مقاصد کی تکمیل میں ناکام رہے، وہ قاتلینِ عثمان سے قصاص لے سکے نہ امت کو متحد کر پائے۔ مگر یہ ایک بالکل سطحی تجزیہ ہے۔ دراصل آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے مسئلہ صرف قصاصِ عثمان لینے کا نہیں، پوری شریعت کی پیروی اور خلافتِ راشدہ کی بقا کا تھا، جسے سازشی عناصر داؤ پر لگانے کے لیے سرگرم تھے اور بدقسمتی سے اہل شام اور بہت سے عراقی ان کے جھانسے میں آگئے تھے، یوں سبائی اپنی سازش میں کامیاب ہو گئے۔ مگر اس کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نے بہترین سیاسی حکمت عملی اور ہر قسم کے شرپسند عناصر سمیت اسلام دشمن طاقتوں کی خفیہ جنگ کا نہایت فراست، تدبر اور پامردی سے مقابلہ کیا اور ان کو رفتہ رفتہ کمزور کیا۔ سبائیت کے مسلح بازو خارجیت کو نہروان میں خون کا غسل دے کر ایسے ہزاروں بدبختوں کو جہنم تک پہنچایا جو باقی رہتے تو شاید پوری امت کو کسی اور ہی ڈگر پر چلا کر چھوڑتے۔
یہ درست ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کے دور میں قاتلینِ عثمان کو بر وقت عدالتی کٹہرے میں لا کر ان پر مقدمہ نہ چلایا جا سکا مگر یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے قصاص کے معاملے کو ترک کر کے قاتلوں کو اپنے گرد جمع کیے رکھا۔ درحقیقت قتل میں براہ راست شریک کسی ایک شخص کے متعلق بھی کوئی تاریخی گواہی نہیں ملتی کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں ہو۔
ہم بتا چکے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف فتنہ برپا کرنے والے باغی پانچ قسم کے تھے:
کچھ عبداللہ بن سبا کی طرح پسِ پردہ تھے جن کے خلاف کوئی ثبوت یا سراغ نہ تھا۔ بغیر ثبوت کے ان پر سزا کیسے جاری کی جاتی؟
کچھ لوگ عمر وبن الحَمِق رضی اللہ عنہ کی طرح غلط طور پر قاتل مشہور کر دیے گئے تھے۔
کچھ قاتل مو قع پر مارے گئے تھے جیسے سودان بن حمران، کلثوم بن تُجیب اور قُتیرہ۔
کچھ قاتل زندہ مگر مفرور تھے، وہ شام و مصر کے سرحدی کوہستان میں روپوش رہے۔ ایک مدت تک ان کی کوئی اطلاع بھی نہ تھی۔ وہاں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا کامل کنٹرول بھی نہ تھا بلکہ بہت جلد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنی عمل داری میں شامل کر لیا۔ اس لیے مصر کے قاتلینِ عثمان کا معاملہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ذمے نہیں رہتا۔
ممکن ہے کہ کچھ قاتل بصرہ اور کوفہ کے بھی ہوں مگر ان کا ذکر کہیں نہیں ملتا، ہو سکتا ہے کہ ان میں سے کچھ حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہما سے جنگ بصرہ میں قتل ہو کر اپنے انجام کو پہنچ گئے ہوں اور کچھ مجرم خوارج میں شامل ہو کر جنگ نہروان میں قتل ہو گئے ہوں۔ بہر کیف حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر بلکہ تمام حدودِ مملکت میں بھی کسی ایسے شخص کی موجودگی جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر قاتلانہ وار کے ملزم کے طور پر نامزد ہو، کسی ضعیف روایت میں بھی منقول نہیں۔
پانچویں قسم کے لوگ عام شورش پسند تھے۔ ان میں سبائی بھی تھے اور دوسرے جہلا بھی۔ یہ براہِ راست قاتل نہ تھے۔ تعصب یا حماقت کے باعث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت میں شریک ہوئے مگر پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیعت کر کے شرعاً مامون ہو گئے۔ اہل شام ان سب کو قابلِ قصاص سمجھتے تھے اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو الزام دیتے رہے۔ حالانکہ انہیں ساتھ ملائے رکھنے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ پر شرعاً کوئی الزام نہیں آسکتا۔
سیاسی حکمت اور احتیاط کے تحت آپ رضی اللہ عنہ نے ایک مدت تک سبائیوں کی پردہ پوشی ضرور کی مگر نہروان میں ان کے عسکری بازو کو ٹھکانے لگانے کے بعد آپ نے بلا دھڑک ان کی بدعقیدگی کا غلاف چاک کر ڈالا اور ابنِ سبا سمیت تمام بدعقیدہ لوگوں سے کھل کر بیزاری کا اظہار کیا۔ انہیں باز رہنے کی بار بار تاکید کی۔ بعض مواقع پر ایسے زندیقوں اور بد دینوں کو سزاے موت دے کر نشانِ عبرت بھی بنایا۔
حکمران کی اصل کامیابی کیا ہے؟
رہی یہ بات کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سبائیوں اور خارجیوں کو بالکل ختم کیوں نہ کر سکے اور ان کی شرانگیزیاں بعد میں بھی کیوں جاری رہیں؟ تو دراصل حضرت علی رضی اللہ عنہ یا کسی بھی قائد سے ایسی اُمیدیں وابستہ کرنا ایک محال کام کی توقع کرنے کے مترادف ہے۔ سبائیت ہو یا خارجیت، یہ سب نظریاتی فتنوں کی شکلیں ہیں جو زمانے کے لحاظ سے بدلتی رہتی ہیں۔ دنیا کے ہر معاشرے میں ایسی تنظیمیں یا تحریکیں ہر دور میں موجود چلی آئی ہیں۔ ان سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پانا ایسا ہی مشکل ہے جیسے گندم میں گھن پیدا ہونے کو روکنا۔ جہاں کھیت ہے وہاں کچھ موذی کیڑے مکوڑے ضرور ہوں گے۔ ان چیزوں کو بھی کھاد کی ایک حد تک برداشت بھی کرنا پڑتا ہے۔ جہاں ٹھنڈا سایہ ہو وہاں کچھ فاصلے پر کڑی دھوپ بھی ہوتی ہے اور گلاب اپنی لطافت و نزاکت کے باوجود کانٹوں کے درمیان نظر آتا ہے۔
ایک حکمران کے لیے اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ ہر حال میں آئین اور قانون کا پابند ہو، ملکی سلامتی و امن و امان کے لیے کوشاں رہے، رعایا کے حقوق ادا کرتا رہے اور مخالفین کے بارے میں بھی آئین سے تجاوز نہ کرے۔
سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے شرع کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاست یا جنگ میں جو کامیابیاں حاصل کیں وہ کم نہ تھیں۔۔۔۔۔ مگر جہاں عام آدمی کو ان کامیابیوں کا گراف بڑھانے کے لیے شریعت، اسوۂ رسول اور اسلامی آئین کے دائرے سے باہر قدم نکالنے میں مصلحت نظر آتی تھی وہاں آپ رضی اللہ عنہ مصلحت کو ترک کر کے شرع کی پاسداری کو اہم سمجھتے تھے۔ یہ بات قانون سے ناواقف لوگوں یا اس کی اہمیت نہ سمجھنے والوں کی نگاہ میں چاہے کم درجے کی سیاست ہو مگر ایک مثالی حکمران کے لیے یہی کامیابی کی معراج ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قانون و آئینِ شرع کی پابندی کرتے ہوئے اور فتوحات کے بعض مواقع سے دست کش ہوتے ہوئے بھی جو کامیابیاں حاصل کی تھیں، ان مخدوش ترین حالات میں کوئی بہتر سے بہتر حکمران بھی اس سے زیادہ حاصل نہیں کر سکتا تھا۔
اگر کوئی کہے کہ آپ رضی اللہ عنہ امت کو متحد نہ کر سکے تو ہم کہیں گے کہ اس کی ذمہ داری آپ پر نہیں، بلکہ ان پر ہے جو فتنہ و فساد پھیلانے میں سرگرم رہے۔ آپ رضی اللہ عنہ پر جس قدر کوشش اور سعی کی ذمہ داری تھی، وہ آپ نے بخوبی انجام دی۔ امت کو سیاسی طور پر متحد نہ کر سکنے کے باوجود آپ رضی اللہ عنہ نے اتحاد کی بنیاد یعنی صحیح عقیدے اور شریعت کو ضرور بچالیا تھا۔ آپ نے ایک طرف اسلام کے خلاف چھیڑی گئی نظریاتی و اعتقادی جنگ کا حکمت و جرات سے سامنا کیا اور دوسری طرف شامی بھائیوں سے سیاسی اختلاف کے باوجود آپ نے امت کی اکثریت کو راہِ حق سے بھٹکنے نہیں دیا۔ ایک اقلیت کے سوا پورے عالمِ اسلام میں لوگوں کا عقیدہ اور مسلک ومشرب وہی رہا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور اکابر صحابہ کرام کا تھا۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مذہب ومسلک کے لیے گزشتہ خلفاء کو معیار بنایا اور انہیں اپنا پیشرو قرار دیا۔ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم سے محبت کرنے والوں اور ان سے نفرت کرنے والوں میں ایک خطِ امتیاز آپ رضی اللہ عنہ ہی کے دور میں کھینچا گیا اور آپ نے متعدد مواقع پر خود کو ان گزشتہ خلفاء کا مداح قرار دے کر بتا دیا کہ آپ کن کے ساتھ ہیں اور اہل حق کون ہیں۔ چنانچہ اہل شام سیاسی اختلافات کے باوجود اعتقاد میں آپ سے الگ نہ تھے۔ سیاسی عدم اتحاد کے باوجود مسلک ومشرب کے معاملے میں آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو دنیا و آخرت کے لحاظ سے اپنے زمرے میں شامل قرار دیا، چنانچہ جمل کے تمام مقتولین کی نمازِ جنازہ آپ نے خود پڑھائی۔ صفین کے شہداء کے بارے میں فرمایا: "قتلانا وقتلاهم في الجنة." "ہمارے اور ان کے مقتولین جنت میں ہیں۔"
عقیدے اور نظریے کے بارے میں آپ رضی اللہ عنہ کی اس دوٹوک حکمتِ عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ چند برس الگ الگ راہوں پر چلنے کے بعد پورا عالمِ اسلام ایک ہی سچے دین کا اس کی اصل حالت میں پیروکار رہا اور آپ کے بعد جلد ہی تمام مسلمان ایک بار پھر متحد ہو گئے اور ان کے سوا دورِ اعظم میں کوئی نظریاتی امتیاز زیادہ مدت تک پنپ نہ سکا۔
اس بحث کو ہم علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ کے نہایت معتدل اور حقیقت پسندانہ تبصرے پر ختم کرتے ہیں:
"جب حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے مابین فتنے نے سر اٹھایا، جو عصبیت کا لازمی نتیجہ تھا، تو اس میں بھی صحابہ کرام کا طریقۂ حق واجتہاد کا تھا۔ ان کی باہمی جنگ کسی دنیاوی غرض سے یا باطل کو ترجیح دینے کے لیے یا نفرت وعداوت کی وجہ سے نہیں تھی جیسا کہ بے ادب اور وہمی تباہی لوگ گمان کرتے ہیں اور بے دین وملحد لوگ بھی یہی رائے قائم کر لیتے ہیں۔ در حقیقت حق میں ان کا اجتہاد مختلف تھا۔ اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق ہر کوئی دوسرے کو غلطی پر سمجھتا تھا اور وہ حق ہی کے لیے لڑتے تھے۔ اگرچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا اجتہاد صحیح اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اجتہاد غلط تھا، تاہم جنگ پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی باطل کے ارادے سے قائم نہ تھے، بلکہ حق کی نیت سے قائم تھے۔ یہی حال اس زمانے کے عام مسلمانوں کا تھا کہ اپنی اپنی رائے کے مطابق سب حق پر قائم تھے، باطل کی طرف جھکا ہوا کوئی بھی نہ تھا۔ فرق اتنا تھا کہ کسی کا اجتہاد صحیح تھا اور کسی کا غلط۔ اور مجتہد کو غلطی پر بھی ثواب ملتا ہے۔"

