جنگِ صفین
صفین کے میدان میں دونوں لشکر دو ماہ سے زائد مدت تک آمنے سامنے پڑاؤ ڈالے رہے۔ باقاعدہ جنگ سے قبل دونوں لشکروں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں اور فریقین کے نامور جرنیلوں کے مابین اکا دکا مقابلے بھی منقول ہیں۔ تاہم یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ روایت نگاروں نے بعض جگہ مبالغہ آمیزی سے کام لیا ہے۔
پانی کی بندش کی حقیقت:
اس کی ایک مثال وہ روایات ہیں جن میں منقول ہے کہ حضرت معاویہؓ نے حضرت علیؓ کے لشکر کے لیے پانی بند کر دیا تھا اور عراقی لشکر کو خاص تگ و دو اور کشت و خون کے بعد پانی تک رسائی ہوئی۔ جبکہ صحیح روایت کے مطابق اس واقعے کی حقیقت اتنی تھی کہ فریقین نے پانی کی کسی قریبی نہر کو اپنے اپنے سپاہیوں کے لیے خاص کرنے کی کوشش کی تھی۔ مگر اصح روایت سے ثابت ہے کہ وہاں کوئی بڑی جھڑپ نہیں ہوئی تھی بلکہ حضرت معاویہؓ کے فوجی اس جگہ پہلے پہنچ گئے تھے اس لیے وہ اپنا حق جتا رہے تھے۔ جب حضرت علیؓ کے نمائندے نے جگہ دینے کا مطالبہ کیا تو حضرت معاویہؓ نے بخوشی اجازت دے دی۔ روایت یہ ہے:
"ابو صلت سلیم الحضرمی (صفین میں حضرت معاویہؓ کے سپاہی) بیان کرتے ہیں کہ ہم اہلِ عراق اور پانی کے درمیان حائل ہو گئے۔ اتنے میں ایک گھڑ سوار آیا، وہ اشعث بن قیسؓ تھے۔ انہوں نے آواز لگائی: 'معاویہ! اللہ سے ڈریں، امت کے حق میں اللہ سے ڈریں۔ سوچیں اگر آپ نے عراقیوں کو قتل کر دیا تو ان کی اولاد کا کفیل کون ہو گا۔ اور بالفرض ہم نے آپ سب کو قتل کر دیا تو آپ کے اہل و عیال کا سہارا کون ہوگا؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاِنْ طَاۗىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا
(اگر مومنوں میں سے دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان دونوں کے درمیان صلح کرا دو)'۔"
حضرت معاویہؓ نے فرمایا: "آپ کیا چاہتے ہیں؟" وہ بولے: "ہمارے لیے پانی کا راستہ چھوڑ دیجئے۔"
حضرت معاویہؓ نے ابوالاعور سے کہا: "ہمارے بھائیوں کے لیے پانی کا راستہ خالی چھوڑ دو۔"
معلوم ہوا کہ پانی لینے کے لیے جگہ کے استحقاق پر اختلاف ہوا تھا مگر تلوار چلنے کی نوبت نہیں آئی تھی۔ صفین کے واقعے میں ضعیف اور کذاب راویوں نے ایسے واقعات بکثرت درج کیے ہیں جن میں مبالغہ آرائی اور تعصب کا پہلو جھلکتا ہے۔ بعض روایات حضرت علیؓ کو ایسے سخت گیر آمر کے روپ میں پیش کرتی ہیں جو فریق مخالف کو بے ایمان تصور کرتے ہوئے ہر قیمت پر جنگ چاہتا ہو۔ بعض روایات حضرت معاویہؓ کو ایسے فسادی کے طور پر سامنے لاتی ہیں جو منافقت کے طور پر مسلمان بن کر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کے لیے کوشاں ہو۔ ایسی روایات یقیناً قابل ترک ہیں۔
میدانِ جنگ میں مصالحت کی کوششیں:
معتبر روایات سے یہ حقیقت ثابت ہے کہ جنگِ جمل کی طرح جنگِ صفین کے وقت بھی مصالحت کی کوششیں دونوں جانب سے ہوتی رہیں اور مذاکرات کا سلسلہ چلتا رہا۔ حافظ ابن کثیرؒ نے ابن دِیزیل کی سند سے روایت نقل کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صفین کے میدان میں عراق اور شام کے لشکروں میں شامل قراء حضرات نے جن کی تعداد تیس ہزار تھی، اپنا الگ کیمپ لگا رکھا تھا۔ ان میں حضرت عَبِیدہ سُلمانی، حضرت علقمہ بن قیس، حضرت عبداللہ بن عتبہ بن مسعود اور حضرت عامر بن عبدقیس جیسے حضرات شامل تھے۔ان قراء حضرات نے فریقین کے مابین سفارت کاری کا کام اپنے ذمہ لے لیا۔ اس ضمن میں وہ فریقین کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس سفارت کاری کے دوران حضرت معاویہؓ نے کہلوایا کہ میں حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے نکلا ہوں۔ حضرت علیؓ نے جواب میں کہلوایا کہ میرا اس خون میں کوئی حصہ نہیں۔ حضرت معاویہؓ اصرار کرتے رہے کہ حضرت علیؓ اس دعوے میں سچائی کا ثبوت دینے کے لیے قاتلینِ عثمان کو ہمارے حوالے کر دیں۔
حضرت علیؓ دعوت دیتے رہے کہ مہاجرین و انصار نے جب میری بیعت کر لی تو اہل شام کو بھی ان کی پیروی کرنی چاہیے۔ حضرت معاویہؓ کہلواتے کہ مہاجرین و انصار تو ہمارے ساتھ بھی ہیں جو حضرت علیؓ سے اب تک بیعت نہیں ہوئے۔ غرض یہ گفت و شنید قراء حضرات کی وساطت سے جاری تھی۔ دوسرا کام قراء نے یہ کیا کہ جب بھی دونوں لشکروں میں جھڑپ شروع ہونے کا ماحول بنتا تو یہ فورا بیچ میں آ جاتے اور فریقین کو سمجھا بجھا کر واپس بھیج دیتے۔ ذی الحجہ کے آغاز سے صفر تک دونوں لشکر آمنے سامنے پڑے رہے اور ان مہینوں میں پچاسی (۸۵) بار لوگ افرا تفری کے عالم میں ایک دوسرے کی طرف لپکے، مگر ہر بار قراء کی اس جماعت نے جن میں حضرت علیؓ کے اصحاب بھی تھے اور حضرت معاویہؓ کے پیروکار بھی، بیچ بچاؤ کرا دیا۔
جنگ کا آغاز:
صلح کی ان تمام کوششوں کی ناکامی کے بعد آخر کار منگل، ۷ صفر، سن ۳۷ ہجری میں دونوں لشکروں میں باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوا۔ حضرت علیؓ کا یہاں بھی اپنی صف بستہ فوج کو یہی حکم تھا کہ وہ حملے میں پہل نہ کرے۔ آپ جنگ کی ہر مڈ بھیڑ سے پہلے افواج کو یہ خطبہ دیتے:
"اس وقت تک جنگ ہرگز نہ کرو جب تک حریف پہل نہ کرے۔ اللہ عزوجل کا شکر ہے کہ تم حق پر ہو اور تمہاری طرف سے جنگ کی ابتدا نہ ہونا تمہارے حق پر ہونے کی دوسری دلیل ہے۔ جب تم جنگ کر کے انہیں پسپا کر چکو تو کسی بھاگنے والے کو قتل نہ کرو۔ کسی زخمی پر حملہ نہ کرو اور نہ کسی مقتول کے جسم کی بے حرمتی کرو۔ اگر تم حریف کی خیمہ گاہ تک پہنچ جاؤ تو ان کے خیموں کے پردے چاک نہ کرنا۔ بلا اجازت ان میں داخل مت ہونا۔ ان کے اموال میں سے اس شے کے سوا کچھ نہ اٹھانا جو تمہیں میدانِ جنگ میں ملے۔ خواتین کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچانا خواہ وہ تمہاری بے عزتی کریں یا تمہارے سرداروں اور نیک لوگوں کو برا بھلا کہیں کہ خواتین جسم اور دل کے لحاظ سے کمزور ہوتی ہیں۔"
صحیح روایات کے مطابق جنگ تین دن تک جاری رہی۔ ان دنوں میں فریقین پوری قوت سے میدان میں نکلے اور نہایت شد و مد سے تلواریں چلتی رہیں۔
علوی لشکر کے مشاہیر:
دونوں لشکروں میں صحابہ و تابعین موجود تھے۔ تاہم حضرت علیؓ کے لشکر کو اس لحاظ سے فوقیت حاصل تھی کہ اس میں متعدد بدری صحابہ بھی تھے اور بیعت رضوان سے مشرف بہت سے بزرگ بھی۔ لشکرِ علوی میں صف بندی کی ترتیب اس طرح تھی کہ علم بردار ہاشم بن عتبہؓ تھے۔ دایاں بازو اشعث بن قیسؓ اور بایاں بازو عبداللہ بن عباسؓ کی کمان میں تھا۔ عمار بن یاسرؓ گھڑ سواروں اور سلیمان بن صُردؓ پیادوں کے سالار تھے۔عبداللہ بن جعفرؓ قریش کے امیر تھے ۔ عمرو بن الَحِمق، عدی بن حاتم، حُجر بن عدی اور جاریہ بن قُدامہ سعدی کے علاوہ رِفاعہ بن شداد، حارث بن مرہ، احنف بن قیس، اور صعصعہ بن صوحانؒ بھی مختلف قبائل کے قائد تھے۔ اشتر نخعی کے پاس قبیلہ مَذ حج کی کمان تھی۔
شامی لشکر کی قیادت:
دوسری طرف شامی لشکر کے علم بردار عبدالرحمن بن خالد بن ولیدؓ تھے۔ گھڑ سواروں کے امیر عبید اللہ بن عمرؓ تھے۔ دایاں بازو عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ اور بایاں بازو حبیب بن مسلمہؓ کی کمان میں تھا۔ ان کے علاوہ، ابوالاعور سلمی ذوالکلاع حِمیَری، مَسلمہ بن مُخلد اور بُسر بن ابی ارطاة رضی اللہ عنھم الگ الگ دستوں کے امیر تھے۔
جنگ کا منظر:
دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں اور صفِ اول کے مردانِ کاری مقابل آتے تو نیزے آپس میں گتھ جاتے۔ نیزوں کی کثرت کا یہ عالم ہوتا کہ ایک عینی شاہد کے بقول ان پر چلنا پھرنا بھی ممکن نہ تھا۔ حضرت علیؓ خود بھی بارہا میدانِ جنگ میں اترے اور اپنی مشہور شمشیر ذوالفقار اس زور و شور سے چلائی کہ وہ مڑ گئی۔ میدانِ جنگ کی یہ حالت تھی کہ سپاہیوں کی کثرت کی وجہ سے دونوں طرف کی صفوں کے آخری سرے دکھائی نہیں دیتے تھے۔ دونوں جانب سے بیک وقت تکبیر کے نعرے لگتے اور کلمہ طیبہ کی صدائیں بلند ہوتیں جس سے فضا گونج گونج جاتی تھی۔
دونوں طرف کے بہادروں میں صحابہ اور بزرگ تابعین کثرت سے تھے جو مادی فوائد کے تصورات سے بالاتر ہوکر صرف اللہ کی رضا، جنت کے حصول اور اسلام کی بقا کے لیے لڑ رہے تھے۔ حضرت علیؓ کے لشکر کے پیادہ سپاہیوں میں اویس قرنیؒ جیسے بزرگ موجود تھے جو اس لڑائی میں حملہ کرتے ہوئے شہید ہوئے۔ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سید التابعین (تابعین کے سردار) کا لقب عطا کیا تھا۔
ان میں عبداللہ بن مسعودؓ کی فقہی میراث کے امین علقمہ بن قیسؒ بھی شامل تھے۔ ان کے جانشین ابراہیم نخعیؒ بتایا کرتے تھے کہ ہمارے استاد نے میدانِ جنگ میں اتر کر اپنی شمشیر پوری توانائی سے استعمال کی۔
یہ جون کا مہینہ تھا مگر لشکرِ عراق میں شامل بدری صحابی ابوعمرہ انصاریؓ اس حالت میں بھی نفل روزے رکھ رہے تھے۔ ایک دن گرمی سے بے حال ہوئے تو غلام سے کہا: "مجھ پر پانی چھڑکو۔" پھر تین تیر چلائے جو کمزوری کی وجہ سے زیادہ دور نہ گئے۔ یہ دیکھ کر انہوں نے فرمایا: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے جو اللہ کی راہ میں تیر چلائے، چاہے وہ لگے یا نہ لگے، اسے تیر کے بدلے قیامت میں ایک روشنی عطا ہو گی۔" ابوعمرہ انصاریؓ اس دن شام سے پہلے شہید ہو گئے۔
جنگ میں شرکت سے احتیاط کرنے والے:
مگر بعض لوگ ایسے بھی تھے جو عین وقت پر تذبذب میں پڑ گئے اور کسی کے خون میں ہاتھ رنگنے سے احتراز کرتے ہوئے میدانِ جنگ سے نکل آئے۔ حضرت معاویہؓ کے لشکر کے ایک اہم ستون حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کا یہ حال تھا کہ وہ آخر تک مخالفین پر ہتھیار اٹھانے سے کتراتے رہے۔ وہ صفین میں اس عہد کے ساتھ آئے کہ جنگ میں عملی شرکت نہیں کریں گے۔ ان کے والد حضرت عمرو بن العاصؓ بڑے اصرار سے انہیں ساتھ لائے تھے۔ جنگ کے بعد حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ برملا کہا کرتے تھے: "بھلا میرا صفین سے کیا واسطہ! مسلمانوں سے لڑنے سے بھلا مجھے کیا سروکار! اچھا ہوتا کہ میں اس سے دس سال پہلے مر گیا ہوتا۔"
غرض بہت سے حضرات وہاں موجود ہو کر بھی جنگ میں شرکت کے متعلق تذبذب میں تھے۔ اس کے باوجود اکثریت میدان میں ڈٹی رہی اور جنگ ہوتی رہی۔
فریقین میں شرافت و دیانت کی اعلیٰ مثالیں:
جنگِ صفین اس لحاظ سے تاریخ میں ایک بالکل نئی طرز کی جنگ تھی کہ اس میں قتل و قتال کی ہولناکیوں کے ساتھ ساتھ دونوں طرف سے اخلاق، مروت، شرافت اور کشادہ دلی کی بہترین مثالیں سامنے آتی رہیں۔ فتنہ پرور سپاہیوں اور شدت پسندوں کے ایک گروہ کو چھوڑ کر اکثریت کامل ایمان والوں کی تھی۔ یہ بنو امیہ یا بنو ہاشم کی نہیں اصول کی جنگ تھی۔ یہ دنیا کی تاریخ میں اندرونِ مملکت لڑی جانے والی کسی باقاعدہ جنگ کی پہلی مثال تھی جس میں جنگی قوانین کی مکمل پاسداری اور مخالف فریق سے شریفانہ برتاؤ کی بابت ایک معیار دیا گیا تھا۔ اور ایسا کیوں نہ ہوتا جب کہ دونوں طرف کی قیادت نامور صحابہ کرام کے ہاتھ میں تھی جن کا مقصد حیات، اللہ کے رسول کی پیروی تھا۔ چنانچہ تلواریں نیاموں میں ڈالتے ہی وہ بھائی بھائی نظر آتے، وہ ایک ہی جگہ سے پانی لیتے، رش کے باوجود کوئی کسی دوسرے کو ذرا بھی اذیت نہ دیتا۔ ایک دوسرے کی چیز مل جاتی تو امانت سمجھ کر اس کی حفاظت کرتا اور واپس پہنچانے کی پوری کوشش کرتا۔
حضرت علیؓ کی یہ حالت تھی کہ جنگ کے ہنگاموں کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کا پورا لحاظ تھا، یہاں تک کہ رات کو ۳۳ بار سبحان اللہ، ۳۳ بار الحمد للہ اور ۳۴ بار اللہ اکبر کی تسبیح کرنے کا جو معمول تھا، اسے کبھی ضائع نہیں ہونے دیا۔ جنگِ جمل کی طرح یہاں بھی فریقین نہ کسی زخمی کی جان لینے کی کوشش کرتے، نہ کسی بھاگنے والے پر حملہ کرتے، نہ کسی لاش سے اسلحہ اور سامان اتارتے۔
حضرت علیؓ کی رحم دلی:
حضرت علیؓ کے پاس اہل شام کا کوئی سپاہی گرفتار کر کے لایا جاتا تو آپ فرماتے: "میں تمہیں ہرگز قتل نہ کروں گا، میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔" آپ یہ وعدہ لے کر اسے چھوڑ دیتے کہ وہ دوبارہ ان کے خلاف جنگ میں شرکت نہیں کرے گا اور اسے چار درہم دے کر رخصت کرتے۔
حالتِ جنگ کے باوجود حضرت علیؓ کی وسعتِ قلبی کا یہ عالم تھا کہ ان کے سامنے کسی نے آواز لگا دی:
"الٰہی! اہل شام والوں پر لعنت فرما۔" حضرت علیؓ نے فوراً منع کیا اور فرمایا: "شام والوں کو برا مت کہو۔ ان میں ابدال (جلیل القدر اولیاء) موجود ہیں۔"
حضرت علیؓ کی یہ حالت تھی کہ ایک عینی شاہد کے بیان کے مطابق رات کے وقت انہیں دیکھا گیا کہ اہلِ شام کے پڑاؤ کی طرف دیکھ رہے ہیں اور زبان پر یہ الفاظ ہیں: "اللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِیْ وَ لَھُمْ" (اے اللہ! میری بھی مغفرت فرما دے اور ان کی بھی)۔
جب جنگ کے دوران کھانے پینے، آرام، شہداء کی تدفین اور نمازِ جنازہ کے لیے وقفہ ہوتا تو دونوں طرف کے لوگ ایک دوسرے کے پاس آتے جاتے اور بے تکلف ملتے تھے۔ دونوں طرف نمازوں کا پورا اہتمام کیا جاتا تھا۔ دونوں لشکروں کے پڑاؤ میں اذانیں گونجتیں، اقامت ہوتی اور نمازیں جماعت سے ادا کی جاتی تھیں۔ حضرت علیؓ کے سپاہی بلا تکلف حضرت معاویہؓ کے افسران کے پیچھے نمازیں ادا کرتے تھے۔ حضرت علیؓ نے اس کی کھلے دل سے اجازت دی تھی۔ حضرت عمار بن یاسرؓ شہید ہوئے تو دونوں فوجوں نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھی۔ یہ شرافت، اخلاق اور کلمہ گوئی کی وہ تاریخی مثالیں تھیں جو "احترامِ انسانیت" کا کھوکھلا نعرہ لگانے اور انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والی مغربی دنیا اب بھی پیش کرنے سے قاصر ہے۔
حضرت عمار بن یاسرؓ کی شہادت:
جنگ کے تیسرے دن حضرت عمار بن یاسرؓ کے قتل کا سانحہ پیش آیا جو عراقی لشکر کے اکابر اور اسلام لانے والے اولین چند صحابہ میں سے تھے۔ اس وقت وہ بہت ضعیف ہو چکے تھے، عمر ۹۳ برس تھی۔ اپنے موقف کی درستگی پر انہیں اتنا یقین تھا کہ فرما رہے تھے: "اللہ کی قسم! اگر اہل شام ہمیں مار مار کر کھجور کی چوٹیوں تک بھی دھکیل دیں تب بھی مجھے اپنے حق پر ہونے اور مخالفین کی غلطی کا یقین رہے گا۔" مگر اس موقف کے باوجود حریف کو اپنے جیسا مسلمان ہی تصور کرتے تھے، چنانچہ جب کسی شخص نے کہا: "شام والے کافر ہو گئے ہیں، تو حضرت عمارؓ نے تردید کرتے ہوئے فرمایا: "ہمارا اور ان کا رسول ایک ہے، قبلہ ایک ہے، مگر وہ لوگ فتنے کا شکار ہو کر صحیح روش سے ہٹ گئے ہیں، جب تک وہ باز نہیں آتے، ہمارا ان سے لڑنا لازم ہے۔" اعتدال کا اس سے بڑھ کر نمونہ اور کیا ہوگا کہ دورانِ جنگ میں بھی مخالف کے متعلق انصاف کی بات کی جائے۔ جنگ کی تیسری شام کو عمارؓ نے افطار کے لیے دودھ منگوایا اور فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا تم آخری چیز جو دنیا میں پیو گے، وہ دودھ کا ایک گھونٹ ہوگا۔" افطار کر کے وہ جنگ میں شریک ہوئے اور شہید ہو گئے۔
حضرت عمار بن یاسرؓ کو کس نے قتل کیا؟
حضرت عمار بن یاسرؓ کو شامی فوج کے ایک مشہور فرد ابوغادیہ الجہنی نے قتل کیا تھا۔ اس لیے شامی فوج کے سپہ سالار عمرو بن العاصؓ بھی تسلیم کرتے تھے کہ حضرت عمارؓ کو ہماری فوج نے قتل کیا ہے۔ امام نسائیؒ سند سے روایت کرتے ہیں کہ ایک بار عمرو بن العاصؓ فرمانے لگے: "میں نہیں سمجھتا کہ جس شخص سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات تک محبت کرتے رہے، اسے اللہ جہنم میں داخل کرے گا۔" لوگ کہنے لگے: "ہمارا خیال ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ سے محبت تھی جب آپ کو افسر بناتے تھے۔" عمرو بن العاصؓ کہنے لگے: "اللہ بہتر جانتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو مجھ سے محبت تھی یا میری دلداری کرتے تھے مگر ہم سمجھتے ہیں کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کو ایک شخص سے یقیناً محبت تھی۔" لوگوں نے پوچھا: "وہ کون؟" عمرو بن العاصؓ نے فرمایا: "عمار بن یاسرؓ۔" لوگوں نے کہا: "وہ تو صفین میں آپ ہی کے لوگوں نے قتل کیے تھے۔" عمرو بن العاصؓ نے فرمایا: "بے شک، اللہ کی قسم! ہم نے ہی انہیں قتل کیا تھا۔"
عمارؓ کے بارے میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد تھا: "تقتلہ الفئة الباغیة" "انہیں باغی گروہ قتل کرے گا۔" لہٰذا ان کی شہادت کے بعد ان لوگوں کو بھی اہل شام سے لڑنے میں تردد نہ رہا جو اب تک جنگ میں شرکت سے احتیاط برت رہے تھے۔ یوں اہل عراق کی طرف سے حملے میں غیر معمولی شدت آگئی۔ خزیمہ بن ثابتؓ تلوار نیام میں کیے ہوئے تھے۔ انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث سنی تھی، اس لیے کہہ رہے تھے: "جب تک عمارؓ قتل نہ ہوں، میں نہیں لڑوں گا"۔ عمارؓ قتل ہوئے تو انہوں نے بھی تلوار سونتی اور لڑتے ہوئے جان دے دی۔
حضرت عمار بن یاسرؓ کا قتل حضرت معاویہؓ کے لشکر کے لیے بھی ایک سوالیہ نشان چھوڑ گیا اور بعض اہم شخصیات شامی لشکر سے نکل کر حضرت علیؓ کے لشکر میں شامل ہوگئیں جن میں حضرت زبید بن عبدالحولانیؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کے آزاد کردہ غلام حضرت ہُنیؓ نمایاں تھے۔
حضرت عمرو بن حزمؓ نے فوراً آکر یہ اطلاع حضرت عمرو بن العاصؓ کو دی۔ وہ گھبرائے ہوئے حضرت معاویہؓ کے پاس گئے اور حضرت عمار بن یاسرؓ کے قتل کی خبر کے ساتھ ساتھ "الفئة الباغیة" والی حدیث یاد دلائی جو یہ ثابت کر رہی تھی کہ حضرت علیؓ اپنے اجتہاد میں حق پر ہیں اور حضرت معاویہؓ خطا پر۔ مگر حضرت معاویہؓ کو یقین تھا کہ ہم "الفئة الباغیة" کا مصداق نہیں ہو سکتے، ہم تو حضرت عثمانؓ کے قصاص کی خاطر لڑ رہے ہیں۔ شاید ان کے پیش نظر وہ حدیث تھی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کے بارے میں فرمایا تھا: "ان کے قدموں کے نیچے (یعنی ان کے بعد) ایک فتنہ ظاہر ہوگا اور اس مو قع پر ان کے پیروکار ہدایت پر ہوں گے۔"
چنانچہ حضرت معاویہؓ نے اصل مطلب کو نظر انداز کر کے عمرو بن العاصؓ سے کہا:
"اَوَ نَحْنُ قَتَلْنَاہُ؟ اِنَّمَا قَتَلَہٗ عَلِیٌّ وَّاَصْحَابُہٗ جَائُوْا بِہٖ حَتّٰی اَلْقَوْہُ بَیْنَ رِمَاحِنَا"
(کیا عمار کو ہم نے قتل کیا ہے؟ انہیں تو حضرت علی اور ان کے ساتھیوں نے قتل کرایا ہے جو ان کو لے کر آئے اور ہمارے نیزوں کی زد میں ڈال دیا۔"
ظاہر ہے حضرت امیر معاویہؓ کی یہ توجیہ درحقیقت درست نہیں تھی مگر اس سے قتلِ عمارؓ پر ان کی اور حضرت عمرو بن العاصؓ کی شدید پریشانی نمایاں ہو رہی تھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایک بار عمار بن یاسرؓ نے سخت بیماری کی حالت میں فرمایا تھا: "میں اس بیماری میں نہیں مروں گا۔ مجھے میرے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم بتا گئے تھے کہ میری موت دو مؤمن جماعتوں کے درمیان قتل کیے جانے سے ہوگی۔" اس سے ثابت ہوتا ہے کہ صفین میں دونوں متحارب فریق بہر حال اہل ایمان اور مخلص تھے۔

