Hazrat Ameer Muawia Ke Ahdaaf aur Intizami Hukumat

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اہداف

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے اوپر عائد ہونے والی اس ذمہ داری کا پوری طرح احساس تھا جو انہوں نے حکومت حاصل کر کے اپنے سر لی تھی۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ عالمِ اسلام کو جو بنو ہاشم کی عظیم قربانی اور مسلمانوں کے اجتماعی شعور کے باعث متحد ہو چکا تھا، ایک مستحکم، پرامن اور ناقابلِ تسخیر طاقت بنا دیں۔ اس ضمن میں انہوں نے خلفائے راشدین کی سیرت کو سامنے رکھنے کے علاوہ دنیا کے مروجہ حکومتی نظاموں سے بھی فائدہ اٹھایا اور ہر وہ صورتِ عمل میں لائے، جس سے دولتِ امویہ ایک مسلم ریاست کے طور پر مضبوط تر ہو اور کوئی دشمن طاقت اس میں تزلزل  پیدا نہ کر سکے۔




        ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے ان کے سامنے اہم ترین کام یہ تھے:

        1۔ شریعت کی بالادستی برقرار رکھنا

        2۔ عرب قیادت کی تنظیم

        3۔ بیرونی طاقتوں سے عالمِ اسلام کا دفاع اور نئی فتوحات

        4۔ امن و امان کا قیام اور عدل و انصاف کی فراہمی

        5۔ ملکی انتظامات کو بہتر اور جدید شکل دینا

        6۔ بغاوتوں اور سازشوں کی اندرونی تحریکوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانا

        حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے سے لے کر وفات تک آپ رضی اللہ عنہ کی توجہ انہی اہداف کی تکمیل کی طرف مرکوز رہی۔

        آئیے ان اہداف کے لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اقدامات پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔


1۔ شریعت کی بالادستی برقرار رکھنا

        شریعت کی بالادستی جس طرح گزشتہ خلفاء کی زندگی کا منشور تھا، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بھی اس کے قائل تھے۔ اس لیے آپ نے کبھی قصدًا شریعت کے دائرے سے قدم باہر نہیں رکھا۔ آپ رضی اللہ عنہ کے زیرِ سایہ عالمِ اسلام کے ہر شہر میں کتاب و سنت ہی کو آئینی حیثیت حاصل تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین پر سر جھکا دیتے تھے۔


نصیحت پر فوراً عمل:

        تین خلفائے راشدین پر قاتلانہ حملوں کے تجربات کے پیشِ نظر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے لیے پہرہ لگوایا کرتے تھے، اس وجہ سے ہر وقت ہر کوئی آپ سے نہیں مل سکتا تھا۔ یہ دیکھ کر ایک بار ایک صحابی ابومریم الازدی رضی اللہ عنہ آپ کے پاس گئے اور فرمایا: "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جس شخص کو اللہ لوگوں کا ذمہ دار بنائے اور پھر وہ اپنے اور مسلمانوں کی ضروریات اور مسائل کے درمیان پردے حائل کر لے تو اللہ اس کے مسائل اور اس کی ضروریات کے درمیان پردے حائل کر دے گا۔" حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ سنتے ہی ایک شخص کو مقرر کر دیا کہ وہ لوگوں کی ضروریات اور مسائل ان تک پہنچاتا رہے۔

قضیۂ قصاص میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اجتہاد کی طرف رجوع:

        شریعت کی بالادستی برقرار رکھنے کے ضمن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دلائل پر غور کرتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اسی اجتہاد اور طرزِ عمل کی  پیروی کی جو انہوں نے مسئلۂ قصاص میں اختیار کیا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مخالف تحریک کے کارکنوں پر کوئی سزا جاری نہ کی بلکہ ان کے ساتھ عام معافی کا معاملہ کیا۔ اس طرح یہ اجتہاد ہر لحاظ سے اجماع کی صورت اختیار کر گیا۔

        آپ کے  بیس سالہ دور میں ان تمام لوگوں کو جان و مال کا تحفظ حاصل رہا جو کسی سابقہ حکومت کے خلاف بغاوت میں شریک رہے تھے مگر موجودہ حکومت کی   بیعت کر چکے تھے۔ یہی شرعی مسئلہ تھا اور یہی حکمتِ عملی اور مصلحت بینی کا تقاضا تھا جسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس سے قبل خانہ جنگی کے جذباتی ماحول کے باعث سمجھ نہ پائے۔ مگر اب پورے عالمِ اسلام کی زمامِ اقتدار سنبھالنے کے بعد وہی چیز ان کے لیے ایک جیتی جاگتی حقیقت بن گئی۔

        منصبِ خلافت پر ان کا تقرر حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور ان کے حامیوں سے صلح اور اس وعدے کے ساتھ ہوا تھا کہ لوگ (گزشتہ جنگوں میں) اہلِ عراق کے ہاتھوں قتل ہوئے یا جو مالِ غنیمت ان کے ہاتھ آیا، اس کا بدلہ نہیں لیا جائے گا۔ اہلِ عراق اس سے قبل ایک مدت تک اہلِ شام کے نزدیک باغی شمار ہوتے رہے تھے اور یہی وہ واحد شرعی وجہ تھی جس کی بناء پر اہلِ شام اہلِ عراق کے خلاف اسلحہ استعمال کرنا جائز سمجھ رہے تھے۔

        مگر مسندِ خلافت پر تقرر اور بیعتِ عامہ کے وقت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ گنجائش ماننا پڑی کہ سابقہ باغیوں سے رعایت کا معاملہ سیاسی مصلحت کا تقاضا بھی ہے اور شرعاً بھی درست ہے۔ بصورتِ دیگر وہ اپنے سے متحارب ان لوگوں کی جان بخشی کا معاہدہ کبھی نہیں کر سکتے تھے جن کے متعلق انہیں اچھی طرح معلوم تھا کہ ان میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بغاوت کرنے والے افراد بھی شامل ہیں۔

        اب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی سمجھ گئے کہ جس طرح اب وہ عراق کے ان لوگوں کو باغی نہیں کہہ سکتے جو اس سے پہلے اہلِ شام سے برسرِ   پیکار رہے بلکہ اب ان کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری بن گئی ہے، بالکل اسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے باغیوں کو  بیعت کے بعد تحفظ دینے کے پابند تھے، اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے وہ باغی چاہے آج بھی اہلِ عراق میں موجود ہوں، وہ اپنی سابقہ بغاوت کے باوجود شرعاً اسی طرح مامون ہیں جس طرح عراق کے وہ متحارب لوگ مامون مان لیے گئے ہیں جو اہلِ شام کے مقابل آئے۔

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس فقہی لحاظ سے کوئی وجہِ فرق نہیں تھی کہ ایک طرف وہ اس عراقی لشکر کو قابلِ معافی سمجھتے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کی قیادت میں اہلِ شام سے لڑا تھا۔ مگر دوسری طرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے باغیوں کو قابلِ سزا گردانتے۔ اگر وہ صفین میں اپنے خلاف لڑنے والوں کو جنہیں وہ اس وقت باغی سمجھتے ہوئے اپنی تلواروں کی زد میں لائے، اب بھی قابلِ معافی تصور کرتے تو انہیں صلح اور مفاہمت کی پالیسی کو ترک کر کے ایک بہت بڑے گروہ کو عدالتی کٹہرے میں لانا پڑتا جو عملاً ناممکن تھا۔ اگر ایسی کوشش کی جاتی تو یقیناً تمام مشرقی صوبے ان کی مخالفت میں اٹھ کھڑے ہوتے اور جس خانہ جنگی سے بچنے کے لیے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے مذاکرات کیے گئے تھے، اس کے شعلے نئی شدت کے ساتھ بھڑک اٹھتے۔ اس کے نتیجے میں امتِ نا قابلِ تحمل نقصانات سے دوچار ہوتی۔

        چنانچہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے امنِ عامہ کی ضرورت اور شرعی دلائل پر غور کرتے ہوئے، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تجویز کردہ اسی پالیسی کو اختیار کر لیا کہ سابق باغی جو بھی ہوں، وہ  بیعت کے بعد مامون ہیں۔


        وہ یہ بھی سمجھ گئے کہ قصاص کا مسئلہ، بغاوت کے قضیے سے الگ ہے اور اس میں بھی صرف وہی لوگ قابلِ سزا ہوں گے جن کا مقتول پر مہلک وار کرنا ثابت ہو جائے۔ اس پالیسی کو اختیار کرنے کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنوں کی شکایات کا سامنا بھی کرنا پڑا؛ کیوں کہ عثمانی تحریک کے اکثر لوگ قصاصِ عثمان کے لیے بے تاب تھے اور تحریک کے سابقہ منشور کے مطابق وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے بغاوت کرنے والے ہر شخص کو واجب القتل سمجھتے تھے۔ مگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کسی بڑی سے بڑی شخصیت کی جذباتی دلیل کی اب کوئی پروا نہ کی۔

        حکومت سنبھالنے کے بعد جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پہلی مرتبہ مدینہ منورہ گئے تو وہاں شہر کی گلیوں سے گزرتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر سے آوازیں سنیں: "یا امیر المؤمنیناہ! ۰۰۰۰۰۰ یا امیر المؤمنیناہ!"

        یہ خلیفۂ ثالث کی صاحبزادی تھیں جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری پر اپنے والدِ ماجد کے قتل اور تحریکِ قصاص کے سانحات کو یاد کر کے رو رہی تھیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا:

        "میری بھتیجی! لوگوں نے ناگواری کے باوجود ہماری اطاعت قبول کی ہے اور ہم نے بھی اپنے غصے کو دبا کر ان سے بردباری کا معاملہ کر لیا ہے۔ اگر ہم تحمل چھوڑ دیں تو وہ بھی ہماری اطاعت ترک کر دیں گے۔ دیکھو! تمہارا امیر المؤمنین کی بیٹی بن کر رہنا بہر حال اس سے بہتر ہے کہ تم عام معمولی لوگوں میں سے ایک ہو جاؤ۔ پس آج کے بعد میں تمہیں حضرت عثمان کا ذکر کرتے ہرگز نہ سنوں۔"

        مطلب یہ تھا کہ ہماری حکومت میں تم بنو امیہ کی شہزادی ہو۔ اگر ہماری سخت پالیسی کے باعث حکومت ہی گر جائے تو تمہاری کیا حیثیت رہ جائے گی۔

        اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مطالبۂ قصاص پر کمر بستہ لوگوں کو موقع بموقع سمجھاتے رہتے تھے۔ جو جس طرح قائل ہوسکتا تھا، اسے اسی طرح مطمئن کرنے کی کوشش کرتے تھے اور حتی الامکان دائرۂ شرع سے قدم باہر نہیں نکالتے تھے۔

۲ عرب قیادت کی ازسرنو تنظیم

        حضرت معاویہؓ کا ایک بہت بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنے دور میں عربوں کو اسلام کی محافظ قوم کے طور پر ازسرنو منظم کر دیا۔ انہوں نے اہل عجم کی طرف میلان نہیں رکھا بلکہ عربوں ہی کو قیادت و سیادت کا ذمہ دار بنایا۔

حضرت معاویہؓ اور حضرت علیؓ کے انتظامی نقطہ نظر میں فرق:

        حضرت معاویہؓ اور حضرت علیؓ کے انتظامی نقطہ نظر میں یہ واضح فرق تھا کہ حضرت علیؓ اسلام کو ایک بین الاقوامی نظام کے طور پر آگے بڑھاتے ہوئے نو مفتوحہ اقوام کے لیے حکومت و سیاست کے دروازے کھول دینا چاہتے تھے، تا کہ اسلام پر صرف عربیت کی چھاپ نہ لگنے پائے بلکہ یہ ایک بین الاقوامی دین کے طور پر متعارف ہو۔

        اسلام کی اس عالمگیریت کو سامنے رکھتے ہوئے وہ عربوں کے مرکز حجاز کو چھوڑ کر کوفہ میں آباد ہوئے جو دیارِ عجم میں واقع تھا تا ہم جزیرۃ العرب سے بھی زیادہ دور نہ تھا۔ بلاشبہ حضرت علیؓ کا یہ مقصد اور ہدف نہایت اعلیٰ و ارفع اور دین کی روح کے قریب تھا جس میں کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت نہیں مگر تقدیر کی بات کہ حضرت علیؓ جن لوگوں سے یہ کام لینا چاہتے تھے، وہ بین الاقوامی طور پر تو کجا مقامی لحاظ سے بھی منظم ہونے کے قابل نہ تھے بلکہ ان میں افتراق واختلاف کا مادہ شدت سے سرایت کیے ہوئے تھا۔

         ان تجربات کو دیکھ کر حضرت معاویہؓ کی انتظامی حکمتِ عملی  یہ رہی کہ عربوں ہی کو اس عالمی دین کے داعی اور محافظ کے طور پر متعارف ہونا چاہیے۔ ان کا خیال تھا کہ بین الاقوامی طور پر غلبہ اسلام کے لیے ضروری ہے کہ یہ کام کرنے والی جماعت نہایت منظم، متحرک اور فعال ہو۔ یہ خوبیاں عربوں میں سب سے زیادہ تھیں۔ پھر اس وقت کے اکابرِ امت یعنی صحابہ اور تابعین کی بڑی تعداد عربی النسل تھی۔ انہیں مجتمع رکھنا تمام کامیابیوں کی کلید تھا۔

        اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے دور میں نو مسلموں کی حق تلفی ہوتی رہی اور انہیں استحصال کا نشانہ بنایا گیا۔ ہرگز نہیں۔ نو مسلم تو کیا غیر مسلم یعنی ذمی بھی اسلام کے دیے ہوئے تمام حقوق سے مستفیض ہو رہے تھے اور قابلیت کے لحاظ سے ان پر معیشت و تجارت اور ملازمت کے دروازے بھی کھلے ہوئے تھے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت امیر معاویہؓ کا کاتب (سیکرٹری) ”سرجون“ ایک نصرانی تھا۔ مگر عمومی طور پر حکمت عملی یہ رہی کہ سیاسی و عسکری امور میں عربوں پر ہی بھروسہ کیا جائے۔


عرب قیادت کی تنظیم کا موجودہ عرب نیشنل ازم سے فرق:

        حضرت معاویہؓ کا عربوں پر اعتماد اور ان کی تنظیم نو ایک انتظامی پالیسی تھی۔ یہ عرب قومیت یا عرب نیشنل ازم کا موجودہ فلسفہ نہ تھا جس میں دین کو پسِ پشت ڈال کر فقط عرب ہونے کو قابلِ فخر سمجھا جاتا ہے۔ حضرت معاویہؓ اسلامی ریاست کو محفوظ رکھنے اور دین کو عام کرنے کے لیے ہی عربوں کو متحد اور منظم کرنا چاہتے تھے۔ وہ عرب سرداروں کو اس کی یاد دہانی کراتے رہتے تھے، آپ فرماتے تھے:

        ”اے قبائل عرب! اللہ کی قسم ! جس دینِ مبین  کو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم  لے کر آئے ہیں، اگر تم اس پر کاربند نہ رہو گے، تو بھلا دوسروں سے کیا اُمید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ اس دین کو سنبھال لیں؟“

بنو امیہ کی اجارہ داری: ایک ناگزیر صورتحال:

        حضرت معاویہؓ کے دور میں عرب قیادت کے منظم ہونے کے ساتھ ساتھ بنو امیہ ناگزیر طور پر مزید ابھر کر سامنے آئے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں تھی کیوں کہ حضرت معاویہؓ عربوں کے اتحاد کو جنگی مہمات اور فتوحات کے لیے استعمال کر رہے تھے اور یہ بات شک و شبہے سے بالاتر ہے کہ جنگی قیادت میں بنو امیہ ہمیشہ سے  پیش پیش تھے، غزوات اور اکثر جہادی مہمات میں وہ خود کو شمشیر کا دھنی ثابت کر چکے تھے۔ حضرت معاویہؓ خود بھی اموی تھے اور ان کے کئی خاص رفقاء بھی۔ پس اس دور میں بنو امیہ کا رِیاست میں غالب آ جانا ایک فطری سی بات تھی۔

        حضرت معاویہؓ کی یہ انتظامی پالیسی اتنی کارگر رہی کہ بنو امیہ نے ساٹھ ستر سال تک اسے کامیابی سے برتا۔ تاہم پھر بدلتے ہوئے حالات میں یہ پالیسی کارآمد نہ رہی جس کی وجہ سے مخالفین کو ابھرنے کا موقع مل گیا۔ بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے زمانے کے لحاظ سے حضرت معاویہؓ کی پالیسی موزوں تھی جس پر اس دور کی عظیم الشان فتوحات گواہ ہیں۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic