حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت کی اصل حیثیت
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت کی جو تصویر ہم نے معتبر روایات کی روشنی میں پیش کی ہے اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان کا دورِ حکومت بھی شریعت کی پابندی، عدل و انصاف، قومی ہمدردی، خدا ترسی، عوامی حقوق کی پاسداری اور ملت کی نگہبانی کے اعتبار سے ہمارے لیے قابلِ رشک ہے۔ یہ تصور درست نہیں کہ حضرات خلفائے راشدین کے دور کے تیس سال ختم ہونے پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت آتے ہی یکدم عدل کی جگہ ظلم، نیکی کی جگہ فسق و فجور، ایثار کی جگہ خود غرضی اور ہمدردی کی جگہ اقرباء پروری نے لے لی۔
تاہم ہمارا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان کا دور بالکل خلفائے راشدین کے دور کے مطابق تھا اور اس میں خیر و برکت، ایثار و قربانی اور سادگی و قناعت کا وہی معیار تھا جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں تھا بلکہ زمانے کے تغیر، حالات کی تبدیلی، لوگوں کی معاشی حیثیت میں ترقی، نو مسلم آبادی کی کثرت، اکابر صحابہ کی رخصتی اور زمانہ نبوت سے بُعد سمیت متعدد وجوہ سے نہ تو اسلامی معاشرہ بالکل اسی معیار پر تھا نہ نظام حکومت۔
یہ تغیر و تبدل بالکل فطری اور قدرتی تھا۔ چونکہ اس دور میں گزشتہ زمانے جیسی اعلیٰ ترین مراتب والی شخصیات نہ تھیں اس لیے سابقہ خیر و برکت کی توقع بھی اس دور میں نہیں کی جاسکتی تھی۔
گزشتہ دور سے اس دور کا یہ فرق نہ صرف قابلِ قبول تھا بلکہ بعد والوں کے لیے اس کا معیار قابلِ رشک اور اس کی برابری کرنا مشکل تھا۔ ہاں جن لوگوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کے ورع و تقویٰ اور امانت و احتیاط کا مشاہدہ کیا تھا انہیں کمی ضرور محسوس ہوتی تھی اور بعض اوقات وہ اس تغیر پر ناگواری کا اظہار بھی کر دیتے تھے تاہم جو بھی تبدیلی تھی وہ زمانے کا فطری تقاضا تھی اور حدِ جواز کے اندر ہی تھی۔
تبدیلی کی ایک بڑی وجہ:
ہماری نگاہ میں تبدیلی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے ساتھ ہی جو فتنے کا دور شروع ہوا، اس سے ملکی سیاست بُری طرح درہم برہم ہوئی، عقائد و نظریات کی دنیا میں بھی خلفشار پیدا ہوا اور مسلمانوں میں باہم تلوار بھی چلی۔ ہمارے خیال میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان حالات سے نمٹنے کے لیے جو کچھ کیا، غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے نزدیک اس بحرانی حالت پر عام طریقے (نارمل پروسس) سے قابو نہیں پایا جا سکتا تھا۔ انہوں نے اُمت کے عام معمول اور شورائی طرزِ سیاست سے ہٹ کر جو غیر معمولی اقدامات کیے تھے، اس کا پس منظر کچھ ایسا ہی تھا۔
دورِ حاضر میں ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی جمہوری ملک میں سیاست بحران کا شکار ہو جاتی ہے تو ایسے میں کوئی فوج جرنیل برسرِ اقتدار آ کر مارشل لاء لگا دیتا ہے اور ملک میں چند سالوں کے لیے ایمرجنسی نافذ ہو جاتی ہے، بعض حقوق بھی معطل ہو جاتے ہیں۔ دنیا کی بڑی بڑی جمہوری مملکتوں میں ایسا بارہا ہوا ہے اور اکثر لوگ مارشل لاء کو پسند نہ کرنے کے باوجود قومی سلامتی کے لیے اسے قبول کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات حالات واقعی ایسے ہوتے ہیں کہ مارشل لاء ملک کی بقاء کے لیے ناگزیر ہو جاتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے دور میں حالات واقعی ایسے تھے یا نہیں؟ یہ الگ بحث ہے مگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حالات کو اسی زاویے سے دیکھ رہے تھے اور ان کے "ایمرجنسی" اقدامات کے پیچھے بلاشبہ بقائے ملک وملت کی مثبت سوچ کارفرما تھی۔ پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ باوقار معاہدے کے ذریعے اقتدار میں آئے، اس لیے وہ آمر تھے نہ ان کا دور حکومت ڈکٹیٹر شپ تھا۔ بلاشبہ یہ عادلانہ خلافت تھی جس میں بڑی حد تک گزشتہ خلفاء کے محاسن موجود تھے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کو خلافتِ راشدہ میں کیوں شمار نہیں کیا جاتا؟
رہی یہ بات کہ ان خوبیوں کے باوجود ان کے دور کو خلافتِ راشدہ کیوں نہیں کہا جاتا، تو اس کی چار وجوہ ہیں:
❶ خلافتِ راشدہ ایک اصطلاح ہے، اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ پائے کی وہ نیابت ہے جو آپ کے قریب ترین مہاجر رفقاء نے انجام دی ہو۔ پہلے چاروں خلفاء صفِ اوّل کے مہاجر صحابہ تھے، اس لیے ان کا دور خلافتِ راشدہ کہلایا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس صف میں نہیں تھے، اس لیے خلافتِ راشدہ کی اصطلاح ان پر منطبق نہیں ہوئی۔
❷ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا برسرِ اقتدار آنا، خلافتِ راشدہ میں انتقالِ اقتدار کے "پروسس" سے مختلف تھا۔ خلفائے راشدین اپنی رغبت کے بغیر جمہورِ اکابر اُمت کی رضا سے حکمران بنائے گئے، جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کوشش اور سعی کے ذریعے حکمران بنے۔ اکابر اُمت کا اتفاقِ رائے ہونے سے پہلے وہ اس کے لیے کوشاں تھے۔ بلاشبہ وہ اس کوشش میں نیک نیت اور اُمت کے خیر خواہ تھے مگر انتقالِ اقتدار کے "پروسس" کا یہ نمایاں فرق ان کے دور کو خلافتِ راشدہ سے الگ کر دیتا ہے۔ علامہ ابنِ خلدون اس بنیادی فرق کی وضاحت یوں فرماتے ہیں:
"حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں خلافت غلبے کی کوشش کے ذریعے حاصل کی گئی تھی، جس کی وجہ ان کے دور میں ابھرنے والی وہ گروہ بندی تھی جس کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ جبکہ اس سے قبل خلافت رضامندی اور اجتماع کے ساتھ تھی، اس لیے علماء نے دونوں حالتوں میں فرق کر دیا۔ پس معاویہ رضی اللہ عنہ غلبے کی کوشش اور گروہ بندی کی بناء پر بننے والے پہلے خلیفہ تھے۔"
❸ خلفائے اربعہ نے اپنی اولاد کے لیے جانشینی کا طریقہ رائج نہیں کیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کا آغاز فرمایا۔ یہ اقدام اگرچہ حدِ جواز میں تھا مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کا اعلیٰ نمونہ نہیں تھا بلکہ یہ طرزِ بادشاہت سے مشابہ تھا۔
❹ صحیح احادیث میں وارد ہے: ”خِلَافَةُ النُّبُوَّةِ ثَلَاثُونَ سَنَةً۔“ خلافتِ نبوت تیس سال ہوگی۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تیس سال بعد والی حکومت اپنی حیثیت اور معیار کے لحاظ سے الگ ہوگی۔
خلافتِ راشدہ کی اصطلاح کو چاروں خلفاء تک محدود رکھنے کی یہ چار اہم ترین وجوہ ہیں۔
مگر یاد رہے "خلافتِ راشدہ" ایک اصطلاح ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ خلافتِ راشدہ کے علاوہ ہر خلافت یا ہر حکومت گمراہی پر مبنی ہوگی۔ لغوی اعتبار سے ہر نیک سیرت خلیفہ کو راشد اور اس کے دور کو خلافتِ راشدہ کہا جاسکتا ہے۔
مگر چونکہ جمہور علمائے اُمت کے ہاں لفظ "خلافتِ راشدہ" عقائد میں بطور ایک اصطلاح کے رائج چلی آ رہا ہے اور اس میں تبدیلی کی کوشش اُمت میں انتشار کا باعث بنے گی، لہٰذا ایسی کسی کوشش کو درست نہیں سمجھا جاسکتا۔
خلافتِ راشدہ اور خلافتِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین فرق کے متعلق اکابر علماء کے ارشادات
امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ خلافتِ راشدہ اور خلافتِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے مابین فرق کو یوں واضح فرماتے ہیں:
"اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے کا موازنہ بعد والوں سے کیا جائے تو نہ کوئی مسلمان حکمران ان سے بہتر گزرا، نہ عوام کسی زمانے میں اتنے بہتر رہے۔ ہاں اگر ان کا موازنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے سے کیا جائے تو مراتبِ فضیلت کا فرق ظاہر ہو جائے گا۔"
علامہ عبدالعزیز فرہاری ملتانی رحمہ اللہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت کی حیثیت کی وضاحت یوں فرماتے ہیں:
"اہلِ خیر کے درجات مختلف ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت ہوتی ہے۔ ہر درجہ اپنے سے بلند درجے کے لحاظ سے قابلِ اعتراض بن جاتا ہے، اسی لیے مقولہ مشہور ہے کہ "نیک لوگوں کی نیکیاں مقرب حضرات کی برائیاں شمار ہوتی ہیں"۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ارشاد منقول ہے کہ "میں روزانہ ستر بار استغفار کرتا ہوں" تو اس کی تشریح بعض اکابر نے اس طرح فرمائی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درجات میں ہر آن ترقی ہوتی رہتی تھی اور آپ جب بھی ترقی کا کوئی اگلا درجہ پاتے تو (گزشتہ درجہ اس کی بہ نسبت کمی کوتاہی پر مشتمل محسوس ہوتا لہٰذا اس) گزشتہ درجے پر استغفار کرتے۔ جب یہ بات واضح ہوگئی تو ہم کہتے ہیں کہ خلفائے راشدین نے مباحات میں توسع سے کام نہیں لیا۔ ان کی سیرتِ رنگِ عیشی اور مجاہدے کے لحاظ سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے مشابہ تھی۔
جہاں تک حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے اگرچہ انہوں نے کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا لیکن مباحات میں توسع اختیار کیا۔ حقوقِ خلافت کی ادائیگی میں وہ خلفائے راشدین کے درجے کے نہیں تھے۔ تاہم ان حضرات کی برابری نہ کر سکنا ان کے لیے کسی اعتراض کا سبب نہیں۔"
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ اس بحث کا خلاصہ نہایت جامعیت کے ساتھ یوں پیش کرتے ہیں:
"حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور خلفائے راشدین کے عہد حکومت میں فرق تو بے شک تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت اس معیار کی نہیں تھی، جو خلفائے راشدین کو حاصل تھا، لیکن جمہور امت کے نزدیک یہ فرق اتنا بڑا نہیں تھا کہ ایک طرف تقویٰ ہو، دوسری طرف فسق و فجور، یا ایک طرف عدل ہو، اور دوسری طرف ظلم و جور، بلکہ یہ فرق عزیمت و رخصت کا، تقویٰ اور مباحات کا، احتیاط اور توسع کا، اور اصابتِ رائے اور قصورِ اجتہاد کا فرق تھا۔"
"حضرات خلفائے راشدین احتیاط، تقویٰ اور احساسِ ذمہ داری کے جس بلند معیار پر فائز تھے، بعد میں وہ معیار باقی نہ رہا۔ خلفائے راشدین عزیمت پر عامل تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے رخصتوں میں توسع سے کام لیا۔ وہ حضرات اپنی عمومی زندگی میں تقویٰ اور احتیاط پر عمل کرتے تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مباحات کی حد تک خلافِ احتیاط باتوں کو بھی گوارا کر لیتے تھے۔ مثلاً خلفائے راشدین نے عزیمت اور احتیاط پر عمل کرتے ہوئے اپنے بیٹے کو ولی عہد نہیں بنایا باوجودیکہ ان کے صاحبزادوں میں خلافت کی شرائط پائی جاتی تھیں، اس کے برخلاف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے رخصت پر عمل کرتے ہوئے بیٹے کو ولی عہد بنا دیا۔ خلفائے راشدین نے عزیمت اور احتیاط کے تحت اپنا طرزِ معیشت نہایت فقیرانہ بنایا ہوا تھا مگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے رخصت و اباحت پر عمل کیا اور ان کے مقابلے میں نسبتاً فراخیِ عیش اختیار فرمائی۔ خلفائے راشدین کے احساسِ ذمہ داری کا یہ عالم تھا کہ وہ عوام کے ایک ایک فرد کی خبر گیری اس کے گھر جاجا کر کیا کرتے تھے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسی کوئی بات مروی نہیں۔ خلفائے راشدین کی اصابتِ رائے اور صحتِ اجتہاد کا یہ عالم تھا کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اتباع کے ساتھ ان کے اتباع کا حکم فرمایا لیکن حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں جمہور امت کا عقیدہ یہ ہے کہ ان سے متعدد اجتہادی غلطیاں سرزد ہوئیں۔"
حاصلِ کلام یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا دورِ حکومت اپنی جگہ بہترین اور قابلِ تعریف تھا۔ اگر اس کا موازنہ خلفائے راشدین کے دور سے کیا جائے تو یقیناً یہ اس پائے کا نہیں تھا جیسا کہ خود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا مقام ان حضرات سے کم ہے لیکن بعد والوں کی بہ نسبت یہ دور بہت اعلیٰ و ارفع تھا۔

.webp)