اسباقِ تاریخ
❶ اسلام کے سیاسی نظام میں انتقالِ اقتدار سے لے کر حکومت چلانے تک ایک ایسی روح کارفرما ہے جو حکام کی آمریت کی راہ مسدود کرتی ہے۔ یہ اسلامی روح عوامی نمائندگی، شورائیت، عوام و حکام کے باہم اعتماد اور حکام کی عوام کے سامنے جواب دہی پر مبنی ہے۔ عوام کو امیر کی اطاعت کا درس دیا گیا ہے مگر ساتھ ہی اسلامی طرزِ حکومت عوام کو حکام کے بارے میں اظہارِ رائے کا ایک متوازن موقع ضرور دیتا ہے اور اختلافِ آراء کا حق ان سے سلب نہیں کرتا۔ یہ اختلافِ رائے حزبِ اختلاف کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے، یعنی حکام سے اختلافِ رائے کرنے والے لوگ مجتمع ہو کر ایک تنظیم بن جائیں۔
❷ صحابہ کرام کی موجودگی میں مسلمانوں کے درمیان ایسے اختلافات پیدا ہونا اور بعض موا قع پر کشت و خون بھی ہو جانا اگرچہ رنج و غم کا باعث ہے مگر اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی ایک بہت بڑی حکمت صاف نظر آتی ہے اور وہ یہ کہ اس طرح مسلمانوں کو باہمی اختلافات، سیاسی تنازعات اور آپس کی جنگوں تک کے لیے عملی طور پر ایک ضابطہ اخلاق اور معیار مل گیا، اسی لیے حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے:
"اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ (اپنے مسلم مخالفین سے) جنگ کے لیے نہ جاتے تو کسی کو یہ علم حاصل نہ ہوتا کہ مسلمانوں کے بارے میں ایسے قضایا میں عملی نمونہ کیا ہے؟"
❸ ان مشاجرات کے باعث نہ صرف خانہ جنگی کے دوران باغیوں سے برتاؤ بلکہ دو مسلم حکمرانوں کے درمیان ناچاقی اور تنازعات کے لیے بھی ایک ضابطہ اخلاق ہمارے سامنے آ گیا جب کہ غیر مسلم دنیا میں اس کے بعد بھی صدیوں تک ایسے قوانین کا کوئی تصور سامنے نہ آیا جو خانہ جنگی کے نقصانات کو محدود کر سکیں۔ اگر آج کل اس بارے میں کچھ آئین سازی ہے تو اکثر اس کا اثر کاغذوں تک ہی محدود رہتا ہے۔
❹ اختلافِ معاشرے کا ایک فطری عمل ہے، اسلام اس پر قدغن نہیں لگاتا بلکہ جیسا اسلام کا انداز ہے وہ جذبات کی ہر فطری لہر کو کچھ حدود و قیود کا پابند کر کے معاشرے کے لیے اسے مثبت اور مفید عنصر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ حزبِ اختلاف بھی ہر ملک، ہر قوم، ہر محلے اور ہر ادارے کا ایک فطری عنصر ہے۔ اگر اسے خیر خواہی پر مبنی رہنے دیا جائے تو یہ اکثر بہت فائدہ مند ثابت ہوتا ہے، یہ پیش آمدہ مسائل اور صورتِ احوال کے دوسرے پہلو سامنے لاتا ہے، غلطیوں کا احساس دلاتا ہے، ایسا نہ ہو تو حکام کے پاس صرف خوشامدی اور جی حضوری لوگ رہ جاتے ہیں اور محاسبہ ناممکن ہو جاتا ہے۔ اس لیے خلفائے راشدین نے اسلامی تعلیمات کے مطابق حزبِ اختلاف کے وجود کو قبول کیا۔
❺ اسلام نے حکمران کو مختلف قسم کے مخالف گروہوں سے نمٹنے کے لیے کچھ اصول و قواعد دیے ہیں جبکہ اکثر معاملات میں حکمران کے لیے صوابدیدی اختیارات کے استعمال کی گنجائش رکھی ہے۔
اسلامی معاشرے میں ایسے گروہوں کی پانچ شکلیں ہو سکتی ہیں:
❶ ایک وہ جس میں کافر مسلمانوں کا لبادہ اوڑھ کر سرگرم ہوں، اس کی مثال منافقین ہیں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ظاہر ہوئے۔ یہ شکل بعد کے زمانوں میں بھی ہو سکتی ہے مگر ایسے مسلمان نما کفار پر مشتمل گروہ کب کب اور کہاں کہاں پایا جا رہا ہے، اس کا یقینی علم بہت مشکل ہے، کیوں کہ کسی کلمہ گو پر اعتقادی نفاق کا حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ ایسی جماعت اگرچہ نہایت ضرر رساں ہے مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عام حالات میں اسے بھی برداشت کیا، سوائے اس کے کہ کسی خاص فرد نے کھلم کھلا حد سے تجاوز کیا تو اسے سزا دی گئی۔ اب بھی جرم کا ثبوت ملنے پر ہی ایسے لوگوں پر سزا جاری کی جاسکتی ہے۔
❷ ایسے گروہ کی دوسری شکل یہ ہے کہ اس میں شامل اکثر لوگ کلمہ گو ہوں مگر باطل کے لیے استعمال ہو رہے ہوں اور اپنی نادانی سے حکومت کے خلاف غلط فہمیوں میں مبتلا ہو گئے ہوں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ایسی ہی حزبِ اختلاف کا سامنا کرنا پڑا جس میں ان کے طرزِ عمل نے اسلامی روح کے عین مطابق دنیا کو یہ درس دیا کہ ایسی حزبِ اختلاف کو اپنا موقف سنانے کا موقع دیا جائے اور اُن کی غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی جائے، خصوصاً ایسے حالات میں جب حزبِ اختلاف کا مطالبہ صرف خلیفہ یا اس کے عمال کی معزولی ہو، یعنی تحریک حکومت کے خلاف ہو، ریاست کے خلاف نہیں۔ ایسے میں حکومت ہتھیار اُٹھانے کا آغاز نہ کرے اور حتی الامکان خانہ جنگی کو ٹالنے کی تدبیر اختیار کرے۔ عمائد قوم حکومت سے مطمئن ہوں تو حکومتی ڈھانچے اور نظام کو فریقِ مخالف کے مطالبے پر تحلیل بھی نہیں کیا جائے گا بلکہ کوئی تیسری راہ نکالنے کی تگ و دو کی جائے گی اور حزبِ اختلاف کو برداشت کیا جائے گا۔
چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حزبِ مخالف کے مقابلے میں حد درجے نرم رویہ اختیار کرتے ہیں، اس بارے میں اہل شوریٰ کے مشورے سنتے ضرور ہیں مگر ان کو قبول نہیں کرتے، کیوں کہ یہ اسلام میں پہلی حکومت مخالف تحریک تھی، اسے سختی سے کچلا جاتا تو بعد والے حکام کو مخالفین پر ہر قسم کے ظلم و تشدد کا بہانہ مل جاتا۔
مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا تحمل بہر حال صوابدیدی تھا، خود ان کے ارد گرد موجود اکثر صحابہ کی رائے مختلف تھی اور وہ ایسے موقع پر تلوار اٹھانا بہتر سمجھتے تھے۔ اس لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سیرت کو دیکھ کر بعد والے ہر حکمران پر یہ لازم نہیں ہو جاتا تھا کہ وہ حزبِ اختلاف سے نرمی ہی برتے بلکہ بعض حالات میں وہ سختی کر سکتا ہے جیسا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے طاقت بھی استعمال کی اور جیسا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خلاف حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی اٹھنے والی مخالفانہ تحریک کو سختی سے کچلا تاکہ کہیں شہادتِ عثمان جیسا کوئی اور سانحہ پھر رونما نہ ہو۔
❸ مخالف گروہ کی تیسری شکل صالح اور مخلص افراد کی ہے جو نظام کی اصلاح اور حصولِ عدل کے لیے کھڑے ہوں، دوسری طرف وہ حاکم بھی قوم کا خیر خواہ اور عادل ہو جس سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ مثال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت طلحہ و زبیر رضی اللہ عنہما کی ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں حصولِ انصاف کے لیے مسلح طور پر کھڑے ہوئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس تحریک کو گفت و شنید سے ٹھنڈا کرنے کی کوشش فرمائی۔ اس دوران غلط فہمی کی بناء پر جنگ بھی چھڑ گئی جو جلد ختم ہوگئی جس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اہل صلاح و تقویٰ کے ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کیا اور عمرو بن حزم جیسے شرپسندوں کو دھتکارا اور ڈانٹا۔
❹ چوتھی صورت یہ ہے کہ کوئی نیک و صالح اور صحیح العقیدہ قائد تاویل کے ساتھ کسی جائز مطالبے کو منوانے کے لیے کسی عادل حکمران کی اطاعت سے آزاد ہو جائے اور زمینی حقیقت کے طور پر ایک علاقے کا خود مختار حاکم بن جائے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اصولی واجتہادی اختلاف اسی قسم کا تھا۔ وہ اپنے حامیوں کے ذریعے قصاصِ عثمان کے لیے دباؤ ڈالتے رہے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک طرف طاقت کے اظہار کے ساتھ انہیں مطیع کرنے کی کوشش کر کے یہ ثابت کر دیا کہ طاقت کا استعمال بھی جائز ہے۔ دوسری طرف مذاکرات بھی کیے۔ حتیٰ کہ عین جنگ کے دوران مذاکرات کی پیش کش کو مان کر جنگ بندی کر دی، مخالف قائدین کی کردار کشی نہیں کی۔ ان پر فسق و نفاق کے الزامات نہیں لگائے۔
❺ پانچویں صورت یہ ہے کہ عادل حاکم کے خلاف ایسا گروہ مسلح ہو کر اٹھ کھڑا ہو جو الگ عقیدے اور نظریے کی طرف دعوت دے رہا ہو اور عام مسلمانوں کا خون حلال تصور کرتا ہو۔ یہ مثال خوارج جیسوں کی ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں کھڑے ہوئے۔ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے طرزِ عمل نے بتایا کہ ایسے گروہ کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا اور ان کے خلاف پوری ریاستی طاقت استعمال کی جائے گی۔
❻ شہادتِ عثمان سے شروع ہونے والے اس دورِ فتن میں صحابہ کرام کا طرزِ عمل ہمارے لیے نمونہ ہے کہ اہل اسلام کے مابین اختلافات میں بہترین طرزِ عمل کیا ہوسکتا ہے۔
❼ جنگِ صفین و تحکیم کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے رویہ ثابت کرتا ہے کہ خلیفہ پر لازم نہیں کہ وہ مسلمانوں کے تمام ملکوں پر قبضہ کرے۔ اگرچہ افضل صورت تو یہی ہے کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک حکمران کے تحت رہیں تاکہ اتحاد و اتفاق قائم رہے لیکن اگر سب کو ایک حکومت کے تحت لانے کی کوشش سے اتحاد و اتفاق پارہ پارہ ہوتا ہو، خوں ریزی بڑھتی ہو، اور بلا وجہ جانیں رائیگاں جاتی ہوں تو متوازی مسلم حکومت کو قبول کرنے کی بھی گنجائش ہے۔
❽ صحابہ میں سے ہر ایک اپنے ان فیصلوں اور اقدامات میں امت کا خیر خواہ، مخلص اور اجر و ثواب کا حق دار تھا، کوئی بھی شر کا خواہاں نہیں تھا۔ ہاں معلومات اور فیصلوں میں ان سے غلطی ہو سکتی تھی، کیوں کہ وہ عالم الغیب نہ تھے۔
❾ ان واقعات میں امت کے ہر حکمران، قائد، سپہ سالار اور افسر کے لیے سبق ہے۔ اگر متنازعہ سیاسی و عسکری معاملات میں وہ مخلصانہ طور پر شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے، پورے غور و فکر، مشاورت اور حکمت کے ساتھ کوئی اقدام کرے تو پرامید رہے کہ وہ ماجور ہوگا۔ پھر اگر نتیجہ غلط بھی نکلے تو وہ گناہ گار نہیں ہوگا کہ بندہ اپنی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں، ہاں اپنی سکت بھر کوشش میں جو کوتاہی کرے گا وہ عند اللہ قابلِ الزام ہوگا۔
❿ چونکہ دورِ صحابہ کے ان اختلافات کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تکمیلِ شریعت کی حکمت کارفرما تھی، اس لیے مختلف حالات میں بعض صحابہ عزیمت پر عمل پیرا رہے اور بعض حضرات رخصت پر۔ اس طرح اُمت کے سامنے شرعی حدود اچھی طرح واضح ہوگئیں کہ کون سی صورت اعلیٰ، افضل اور عین مطلوب ہے اور کون سی صرف جائز اور مصلحتاً قابلِ برداشت ہے۔ مثلاً حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعض فیصلے سیاستِ شرعیہ کے لحاظ سے عزیمت پر مبنی نہ تھے، محض جواز کی حد میں تھے۔ لیکن اس طرح اُمت کو ناگزیر حالات میں حدِ جواز پر عمل کرنے کی گنجائش مل گئی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو قیامت تک ہر مسلم حکمران اور قائد کے لیے بہر صورت عزیمت پر عمل کرنا واجب ہوتا، اور کسی کے لیے رخصت پر عمل کی کوئی صورت نہ رہتی، حالاں کہ بعض اوقات انسان اس پر مجبور ہوتا ہے۔
رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
اے رب ہمارے! بخش دے ہمیں، اور ان کو بھی کہ جنہوں نے سبقت کی ہم سے ایمان میں اور ہمارے دلوں میں کوئی کجی نہ رکھو ان لوگوں کے لئے جو کہ ایمان لائے۔
اے ہمارے رب! بلاشبہ تو بہت مہربان ہے اور رحم کرنے والا ہے۔
(سورۃ الحشر، آیت: ١٠)

