حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری ایام اور وفات
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی عمر مبارک اسی (80) برس سے اوپر ہوچکی تھی۔ پیرانہ سالی میں حکومتی کاموں کی مشقت نے آپ کو نڈھال کر دیا تھا اور آپ قاصد اجل کے قدموں کی چاپ محسوس کرچکے تھے۔ ایک دن خطبے میں فرمایا:
”اے لوگو! میں کاٹی جانے والی فصل کا ایک حصہ ہوں، میں تمہارا ذمہ دار بنا، میرے بعد بھی حکمران آئیں گے۔ میں ان سے بہتر ہوں، جیسا کہ جو مجھ سے پہلے گزرے وہ مجھ سے بہتر تھے۔ (حدیث میں) کہا گیا ہے کہ جو اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے۔ اے اللہ! میں تیری ملاقات کو محبوب رکھتا ہوں تو بھی مجھ سے ملاقات کو پسند فرما اور اس میں برکت عطا کر۔“
آپ اتنے کمزور ہوگئے تھے کہ کلائیاں سوکھی ٹہنی جیسی معلوم ہوتی تھیں۔ فرماتے تھے: ”بس دنیا اس سے زیادہ کچھ نہیں جو ہم نے چکھ لی اور برت لی۔ اللہ کی قسم! مجھے اختیار دیا جائے تو تین دن سے زیادہ تمہارے درمیان نہ رہوں۔“
آپ رضی اللہ عنہ کو کھانسی میں خون آنے لگا تھا۔ آخری دنوں میں بستر پر لگ گئے تھے۔ آپ کی دو صاحبزادیاں آپ کو کروٹ دیتی تھیں اور آپ فرماتے تھے: ”یہ اس شخص کو الٹ پلٹ رہی ہیں جو دنیا کو الٹنے پلٹنے میں ماہر تھا۔“
مرض کی اتنی شدت کے باوجود حکمرانی کا رعب داب قائم رکھنے کا اتنا خیال تھا کہ عام لوگوں پر اپنے صاحب فراش ہونے کو بالکل ظاہر نہ ہونے دیا۔ جب لوگ تیمارداری کے لیے آئے تو گھر والوں سے کہا: ”مجھے سرمہ اور تیل لگا کر گاؤ تکیے کے سہارے بٹھا دو۔ کوئی آنے والا بیٹھنے نہ پائے۔ کھڑے کھڑے سلام کر کے چلا جائے۔“
لوگ اندر آئے، سلام کیا اور آپ کو ہشاش بشاش پا کر یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ امیر المؤمنین ٹھیک ٹھاک ہیں۔
ان کے جانے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے:
وَتَجَلُّدِي لِلشَّامِتِينَ أُرِيهِمُ أَنِّي لِرَيْبِ الدَّهْرِ لَا أَتَضَعْضَعُ
بدخواہوں کے سامنے میں توانا بنا رہتا ہوں تا کہ انہیں دکھاؤں کہ زمانے کی اذیت کے باوجود میں کمزور نہیں پڑا۔
وَإِذَا الْمَنِيَّةُ أَنْشَبَتْ أَظْفَارَهَا أَلْفَيْتَ كُلَّ تَمِيمَةٍ لَا تَنْفَعُ
مگر جب موت اپنے پنجے گاڑ دے....... تو پھر تم ہر قسم کے تعویذ کو بے فائدہ پاؤ گے۔
ایک سچے مؤمن کی طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت وعقیدت آپ کے رگ و ریشے میں بسی تھی۔ مرض الموت میں اہل خانہ سے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کرتا پہنایا تھا وہ میں نے سنبھال کر رکھا ہے۔ ایک بار میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناخن مبارک تراشے تھے وہ بھی ایک شیشی میں محفوظ رکھے ہیں، میں مرجاؤں تو اسی کرتے میں مجھے کفن دینا اور وہ کٹے ہوئے ناخن پیس کر میری آنکھوں اور منہ پر چھڑک دینا۔ اُمید ہے اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے مجھ پر رحم کرے۔“
خدا خوفی کا یہ عالم تھا کہ وفات سے پہلے آپ رضی اللہ عنہ نے اپنا نصف مال بیت المال میں داخل کردینے کا حکم دیا تا کہ اگر نادانستہ بیت المال کی رقم میں کوئی کمی بیشی سرزد ہوگئی ہو تو اس کی تلافی ہو جائے۔ آخری لمحات میں ورثاء سے کہا: ”اللہ بزرگ و برتر سے ڈرتے رہنا۔ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ اس کی حفاظت کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرے اسے کوئی بچانے والا نہیں۔“ کچھ دیر بعد آپ کی روح جسد خاکی کا ساتھ چھوڑ گئی۔
حضرت ضحاک بن قیس فہری رضی اللہ عنہ نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ رضی اللہ عنہ دمشق ہی میں دفن ہوئے۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ
آپ رضی اللہ عنہ نے بیس برس تک گورنری اور پھر بیس سال تک خلافت کی ذمہ داریاں انجام دی تھیں۔
ایک قول کے مطابق حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کا سانحہ جمعرات ۲۲ رجب ۶۰ھ کو پیش آیا۔
جبکہ راجح قول کے مطابق تاریخ وفات ۴ رجب ہے۔

