(۲) یزید کی ولی عہدی
ہر دور اندیش حکمران کی طرح حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی چاہتے تھے کہ ملک اندرونی اور بیرونی طور پر مضبوط و مستحکم ہو۔ اس لیے وہ نظام میں ایسی تبدیلیاں لانا ضروری سمجھتے تھے جن سے خانہ جنگی کا خطرہ ختم ہو جائے۔ اسی لیے انہوں نے عربوں کی سیادت و قیادت کو منظم اور مستحکم کیا تھا اور اپنی قبائلی طاقت پر زیادہ اعتماد کیا جس کے باعث ناگزیر طور پر بنوامیہ کی بالادستی قائم ہوئی۔ چونکہ عموماً انتقال اقتدار کا مرحلہ خانہ جنگی کا محرک بنتا تھا، اس لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خطرہ تھا کہ ان کی وفات پر کہیں پھر کوئی بحران نہ پیدا ہو جائے۔ وہ انتقال اقتدار کو ایسے جھمیلوں سے دور رکھنا چاہتے تھے جو آراء کے تضاد اور مرکز گریز ی کا سبب بنیں۔وہ دوسری مملکتوں کے انداز واطوار میں سے بعض چیزیں نظریۂ ضرورت کے تحت اختیار کرنے کے بھی قائل تھے اور اس کی شرعی گنجائش بھی تھی۔
دریں حالات اپنی حکومت کے سولہویں سال (۵۶ ہجری میں) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک غیر معمولی قدم اٹھایا اور اپنے بیٹے یزید کو اپنا جانشین نامزد کر دیا۔ اگرچہ صحابہ کرام جیسی افضل شخصیات کی موجودگی میں ایک کم تر فرد کو جانشین بنانا عجیب تھا مگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ دیکھ رہے تھے کہ ان کی حکومت کا اکثر دار و مدار بنوامیہ اور اہل شام کی طاقت پر ہے۔ پس اگر خاندان سے باہر کے کسی افضل شخص کو ولی عہد بنا دیا گیا تو یہ لوگ قبائلی عصبیت کی بناء پر اسے برداشت نہیں کریں گے اور اُمت خانہ جنگی میں مبتلا ہو جائے گی۔
جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس اقدام کے دو پہلو تھے:
ایک اپنے بعد کے لیے جانشین مقرر کردینا تا کہ امت متحد اور متفق رہے۔ یہ بالکل درست تھا۔
دوسرا پہلو تھا اپنے بیٹے کو جانشین بنانا۔اس دوسرے پہلو میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے خطائے اجتہادی ہوئی، انتظامی رائے اور سیاسی تدبیر کے درجے میں یہ فیصلہ درست ثابت نہیں ہوا۔ تاہم وہ اپنے اس فعل میں نیک نیت، مخلص اور امت کے خیر خواہ تھے۔ ان کے پاس ایسے دلائل ضرور تھے جن کی بنا پر انہوں نے یہ قدم اٹھایا اور ان کا یہ فیصلہ بہرحال شرعی جواز کی حدود میں تھا۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں اگلے خلیفہ کا اہل شام کے نزدیک مقبول ہونا بہت ضروری تھا ورنہ مرکز میں انتشار پیدا ہوتا اور پورا عالم اسلام متاثر ہوتا۔ لہٰذا انہوں نے انتقال اقتدار کا اختیار اپنے پاس رکھا اور اپنے رفقاء کی مشاورت سے اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد مقرر کر دیا۔ اگرچہ اس طرح بات ملوکیت یا موروثی حکومت کی طرف جارہی تھی مگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سمجھتے تھے کہ اگر اصل مقصد یعنی شریعت کی بالا دستی قائم رہے تو موروثی حکومت کی گنجائش ہے کیوں کہ اس کی ممانعت پر قرآن وسنت کی کوئی قطعی اور صریح نص موجود نہیں بلکہ ’اِنَّ اللّٰہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوْتَ مَلِکًا‘ اور ’وَوَرِثَ سُلَیْمٰنُ دَاوٗدَ‘ جیسی قرآنی نصوص سے فی نفسہ ملوکیت اور موروثی حکومت کی رخصت ثابت ہوتی ہے۔
علامہ ابن خلدون رحمہ اللہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے کی وجوہ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
”جو چیز حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو دوسروں کی جگہ یزید کو ولی عہد بنانے کا محرک بنی، وہ امت کے اتحاد و اتفاق کی مصلحت تھی۔ بنو اُمیہ کے اربابِ حل وعقد اس پر متفق تھے۔ اس وقت وہ اپنے علاوہ کسی پر راضی نہیں تھے۔ وہ قریش کا سب سے مضبوط گروہ تھے اور اہل ملت کی اکثریت انہی سے تعلق رکھتی تھی، اس لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو ترجیح دی اور افضل کی جگہ غیر افضل کو چنا، یہ اتحاد اور اتفاق رائے کے لیے ہی کیا جس کی شریعت میں بہت اہمیت ہے۔“
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ یزید خلافت کا اہل ہے۔ باپ کی بیٹے سے شدید طبعی محبت کے ساتھ ساتھ یزید کی دنیوی شرافت، اس میں شہزادوں جیسی خصوصیات، عسکری امور سے واقفیت، حکومتی نظم و نسق چلانے کی قابلیت اور اس کی ذمہ داری سنبھالنے کی صلاحیت کی وجہ سے ان کی یہ رائے بنی ...... اور ان کا گمان تھا کہ صحابہ کرام کے فرزندوں میں سے کوئی اس انداز سے ملکی انتظام نہیں سنبھال سکے گا۔“
یزید کو ولی عہد بنانے کی وجوہ:
غالباً شروع میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ذہن میں یزید کی جانشینی کا کوئی خیال نہ تھا۔ ایک بار حاکمِ عراق زیاد نے حضرت قَبیصہ بن جابر کو کسی کام سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق بھیجا۔ انہوں نے دورانِ گفتگو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”آپ کے بعد خلافت کی ذمہ داری کون سنبھالے گا؟“
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”معاملہ مسلمانوں کی جماعت کے درمیان رکھا جائے گا، یہ لوگ چن لیں گے قریش کے شریف النفس آدمی سعید بن العاص کو، یا حیاء و پرہیز گاری اور سخاوت میں قریش کے جوان عبداللہ بن عامر کو، یا شریف پیشوا حسن بن علی کو، یا قاریٔ قرآن، عالم دین اور حدودِ شریعہ کے سخت پابند مروان بن حکم کو، یا مرد فقیہ عبداللہ بن عمر کو، یا ذہین و ہوشیار انسان عبداللہ بن زبیر کو۔“
یہ واقعہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کی زندگی (یعنی سن ۴۹ ھ یا اس سے پہلے) کا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے تک حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ذہن میں بھی امرِ خلافت کو شورائیت سے طے کرنے کے سوا کوئی اور بات نہیں تھی، اور ان کے نزدیک خلافت کے حق دار دوسرے حضرات ہی تھے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو یزید کی جانشینی کا خیال حالات کی تبدیلی کے ساتھ بعد میں آیا، جسے غور وخوض کے بعد انہوں نے عملی جامہ پہنایا۔ غالباً سوچ بچار کا یہ وقت سن ۴۹ ہجری سے ۵۶ ہجری تک تھا۔ اس دوران حضرت حسن رضی اللہ عنہ دنیا سے رخصت ہوئے، ان سے محبت کے دعوے داران کی پالیسی کے برخلاف شورش پسندی کی طرف مائل ہوئے۔ کوفہ میں بغاوت کا خطرہ ہوا اور ۵۱ ھ میں حضرت حُجر بن عدی رضی اللہ عنہ جیسے بزرگ کی قیمتی جان اس کی نذر ہوئی۔ شاید ان حالات کے باعث حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت کا معاملہ مسلمانوں کی شوریٰ کے سپرد کرنے پر اطمینان نہ رہا۔
اس دوران ۵۰ ھ میں یزید نے قُسطنطینیہ کی مہم کی کمان کی اور ۵۱ ھ میں امارتِ حج کی ذمہ داری نبھائی جس سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اطمینان ہو گیا کہ بیٹے میں قیادت کی صلاحیت ہے۔ ان پہلوؤں کو سامنے رکھ کر انہوں نے یزید کو جانشین بنانے کا فیصلہ کر لیا اور اس بارے میں بعض امراء سے مشورہ بھی کیا۔
طبری کی روایت ہے:
”جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کے لیے بیعت لینے کا ارادہ کیا تو زیاد کو خط لکھ کر مشورہ مانگا۔ زیاد نے عُبید بن کعب کو بلوا کر یہ ماجرا سنایا اور کہا: ’امیر المومنین کو اس معاملے میں لوگوں کی مخالفت کا اندیشہ ہے اور وہ ان کی تائید چاہتے ہیں اور مجھ سے مشورہ مانگ رہے ہیں۔ یہ اسلام کا مسئلہ اور بڑی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ یزید میں کچھ لا ابالی پن ہے اور وہ شکار کا بھی بہت شوقین ہے۔ تم امیر المومنین سے جا کر میری طرف سے یزید کے مشاغل سے آگاہ کرو اور کہہ دو کہ وہ اس معاملے میں جلدی نہ کریں۔‘ عبید نے کہا: ’امیر المومنین کو اپنے بیٹے سے بددل کرنا مناسب نہیں، میں یزید سے جا کر ملتا ہوں، اسے بتاؤں گا کہ امیر المومنین اسے ولی عہد بنانے کا مشورہ کر رہے ہیں۔ وہ ایسے مشاغل کو چھوڑ دے تا کہ لوگوں کو حرف گیری اور مخالفت کا بہانہ نہ ملے۔ زیاد نے اس رائے کی تائید کی اور عبید کو یزید کے پاس روانہ کر دیا۔ عبید کے سمجھانے سے یزید نے اپنے بہت سے معمولات ترک کر دیے۔“
اکابر مدینہ کے یزید کی ولی عہدی پر تحفظات:
اکابرِ مدینہ کا عالم اسلام کی سیاست میں اہم ترین کردار تھا۔ اس لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ہم آہنگ بنانے کی پوری کوشش کی۔ انہوں نے خاص طور پر عراق کے گورنر زیاد کو مدینہ منورہ بھیجا تا کہ وہ اہل مدینہ کو قائل کرے۔ زیاد نے تقریر کر کے لوگوں کو ہم نوا بنانے کی کوشش کی مگر حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور بولے:
”اے بنو امیہ! تم ہماری تین باتوں میں سے کسی کو اختیار کر لو: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی یا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سنت کو لے لو۔ یہ معاملہ ان سب کو پیش آیا تھا۔ ان میں سے ہر ایک کے گھرانے میں اس منصب کے اہل موجود تھے مگر انہوں نے معاملہ مسلمانوں کی جماعت کے سپرد کر دیا۔ تم قیصری نظام لانا چاہتے ہو کہ جب ایک قیصر مرے تو دوسرا مسلط ہو جائے۔“
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کچھ مدت بعد یہی کام مروان کو سونپا جسے ۵۴ ھ میں دوسری بار مدینہ کا گورنر بنایا گیا تھا۔
مروان نے یزید کی ولی عہدی کے حق میں دلیل دیتے ہوئے کہا: ”یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی سنت راشدہ ہے۔“
عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے پھر اعتراض کیا اور کہا: ”یہ قیصر و ہرقل کا طریقہ ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر اور برادری کو بھی چھوڑ کر بنو عدی کے ایک شخص (حضرت عمر رضی اللہ عنہ) کو فقط یہ دیکھ کر منتخب کیا کہ وہ اس کام کا اہل ہے۔“
یزید کی بیعت سے اکابر مدینہ کی لاتعلقی:
عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے علاوہ عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر اور حسین بن علی رضی اللہ عنہم نے بھی یزید کی ولی عہدی سے بے رغبتی ظاہر کی۔ اُمت کے افضل ترین افراد یعنی عشرہ مبشرہ کے آخری دو بزرگوں: سعید بن زید اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما کی رائے بہت اہم تھی۔ خلافتِ راشدہ میں نافذ کردہ ایک ضابطے کے مطابق ان کے بغیر امرِ خلافت طے ہی نہیں ہوسکتا تھا۔ مگر ان دونوں اکابر نے بیعت میں قطعاً کوئی دلچسپی نہ لی۔ مروان خاصی دیر سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا منتظر رہا۔ آخر ایک شامی سپاہی انہیں بلانے گیا۔ انہوں نے ”عن قریب آؤں گا“ کہہ کر بات ٹالنے کی کوشش کی۔ شامی سپاہی نے دھمکی دی کہ ”تم چلو ورنہ تمہاری گردن مار دوں گا۔“ مگر سعید بن زید رضی اللہ عنہ مرعوب نہ ہوئے اور مروان کے پاس نہ گئے۔ اسی طرح حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بھی گوشہ نشین رہے۔
بیعت سے اعراض کرنے والے اکابر کے دلائل:
ان اکابر کا یزید کی ولی عہدی قبول کرنے سے گریز کرنا بلاوجہ نہ تھا۔ ان کے نزدیک انتقال اقتدار کا یہ طرز درست نہیں تھا، اگرچہ اولاد کو حکومت کا وارث بنانے کی ممانعت پر کوئی نص قطعی موجود نہ تھی مگر بعض شرعی احکام سے اس طرز کے نامناسب ہونے کا واضح اشارہ ملتا ہے مثلاً کسی عدالتی قضیے میں باپ کی گواہی بیٹے کے حق میں قبول نہیں کی جاسکتی، پس اُمت کے معاملے میں باپ کی طرف سے بیٹے کی قابلیت پر گواہی مشکوک ہوگی۔ باپ بیٹے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا کیوں کہ اس پر اُمت کے فقراء کا حق ہے، پس امت کی قیادت بھی امانت ہے جو بیٹے کو سونپ دینا کم از کم مشکوک ضرور ہوگا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ایسا کوئی عمل حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سے ثابت نہ تھا بلکہ ان حضرات نے اپنی اولاد اور اقارب کو مناسب میں پیچھے اور قربانیوں میں آگے رکھا۔ یہ نیا طرز بادشاہت کے مشابہ تھا جس میں موروثی حکومت چلتی ہے اور اہلیت کا لحاظ کیے بغیر اقتدار نسل در نسل منتقل ہوتا ہے، لہٰذا خطرہ تھا کہ آگے چل کر اسلامی نظامِ سیاست پر بھی بادشاہت کی چھاپ نہ لگ جائے اور اُمت کی سیادت و قیادت پر نااہل لوگ مسلط نہ ہو جائیں۔
علاوہ ازیں یزید کا کردار بھی اس درجے کا نہ تھا کہ اُمت کا اعلیٰ ترین منصب اسے بلا تامل سپرد کر دیا جاتا جیسا کہ خود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دست راست زیاد کی بھی ذاتی رائے یہی تھی کہ یزید خلافت سنبھالنے کے قابل نہیں۔
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ العالی یزید کی ولی عہدی کے متعلق فرماتے ہیں:
”اگر اس ماحول کو پیش نظر رکھا جائے جس میں یہ خلافت منعقد ہو رہی تھی تو بلاشبہ یہ رائے قائم کرنے کی بھی پوری گنجائش تھی کہ وہ موجودہ حالات میں خلافت کا اہل نہیں۔ ظاہر ہے جس ماحول میں حضرت حسین، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہم وغیرہم جیسے جلیل القدر صحابہ صلحائے امت اور مدبرین موجود ہوں، اس ماحول میں یزید کو خلافت کے لیے نااہل یا غیر موزوں سمجھنا کچھ بعید نہیں۔“
ان حضرات کے اختلافِ رائے کے پیش نظر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خود مل کر انہیں حکمت و تدبیر کے ساتھ قائل کرنے کی کوشش کی۔ ۵۶ھ میں وہ حج کے ارادے سے حجاز تشریف لے گئے۔ اس وقت تک حضرت سعید بن زید اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہما دونوں وفات پا چکے تھے۔ اس لیے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی توجہ دیگر حضرات کی طرف تھی جن میں عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر اور عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہم اہم ترین تھے، مگر یہ تینوں یزید کی بیعت سے بچنے کے لیے مسجد الحرام میں پناہ لینے مکہ روانہ ہو گئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے پیچھے مکہ پہنچے، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور فرمایا: ”ابن عمر! آپ کہا کرتے تھے کہ آپ کو ایک رات بھی کسی حکمران کے بغیر گزارنا پسند نہیں۔ دیکھئے! اب آپ کہیں کچھ ایسا نہ کر بیٹھیں کہ مسلمانوں میں انتشار اور فتنہ و فساد پیدا ہو جائے۔“
انہوں نے جواب دیا: ”بیٹے گزشتہ خلفاء کے بھی تھے، آپ کا بیٹا ان سے بڑھ کر نہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹوں کے لیے وہ نہ سوچا جو آپ اپنے بیٹے کے لیے سوچ چکے ہیں، جہاں تک مسلمانوں میں انتشار اور فساد پھیلانے کی بات ہے تو میں ایسا کرنے والا نہیں۔ جب لوگ ایک فیصلے پر متفق ہو جائیں گے تو میں بھی ان میں شامل ہو جاؤں گا۔“
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے کہا: ”ایک ہی وقت میں دو، دو افراد کی بیعت کیسے ہو سکتی ہے۔ آپ خود ہی تو یہ حدیث روایت کرتے ہیں کہ جب دو خلیفوں کی بیعت ہو تو دوسرے کو قتل کر دیا جائے۔“
حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی اس فیصلے کے خلاف تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی ان سے بھی گفتگو ہوئی مگر کوئی ایک دوسرے کو قائل نہ کر سکا۔ اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ان حضرات کو ان کے حال پر چھوڑ کر شام تشریف لے گئے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا قول ہے: ”حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت حسین بن علی، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں یزید کی بیعت نہیں کی تھی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں چھوڑ دیا تھا۔“
عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی وفات:
عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شام واپسی کے بعد مکہ سے مدینہ روانہ ہوئے مگر مکہ سے دس میل (۱۶ کلومیٹر) دور ”کوہِ حُبشی“ میں وفات پا گئے، انہیں مکہ لے جا کر دفنا دیا گیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اگلے سال حج پر تشریف لائیں تو قبر پر آ کر کہا: ”اگر میں ہوتی تو جہاں یہ فوت ہوئے تھے وہیں دفن کراتی۔“
پھر یہ اشعار پڑھے:
وَكُنَّا كَنَدْمَانَىْ جَذِيْمَةَ حِقْبَةً ... مِنَ الدَّهْرِ حَتّٰى قِيْلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا
ہم جذیمہ کے دو رفیقوں کی طرح ایک طویل زمانے تک ساتھ رہے
یہاں تک کہ کہا جانے لگا کہ یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے
فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّيْ وَمَالِكًا ... لِطُوْلِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعًا
مگر جب ہم جدا ہوئے تو گویا میں اور (میرا رفیق)، مالک
طویل مدت کے ساتھ رہنے کے باوجود گویا ایک رات بھی ساتھ نہیں رہے تھے۔
عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کا اختلاف رائے، نصیحت اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا جواب:
دیگر حضرات کو بھی یزید کی ولی عہدی پر تحفظات تھے۔ مثلاً حضرت عمرو بن حزم انصاری رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے دمشق جا کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے یزید کی ولی عہدی کے بارے میں صاف صاف باتیں کیں، ان کا زور اس پر تھا کہ یزید کو ولی عہد نہ بنایا جائے۔ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث سنائی:
”اللہ نے بندے کو جن کی ذمہ داری سونپی ہو، ان کے بارے میں وہ قیامت کے دن اس سے ضرور پوچھے گا۔“
یہ کہہ کر حضرت عمرو بن حزم انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”معاویہ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ اچھی طرح سوچ لیں، اپنے بعد کس کو امت محمدیہ کا نگران بنا کر جا رہے ہیں۔“
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ قیامت کے دن کی جواب دہی کے خیال سے سرد موسم میں بھی پسینہ پسینہ ہو گئے۔ پھر اللہ کی حمد و ثنا کر کے فرمایا: ”آپ خیر خواہ انسان ہیں، اپنی رائے کا اظہار کر دیا اور خوب کھل کر کیا۔ اصل میں بات یہ ہے کہ اس وقت یا تو میرا بیٹا موجود ہے یا دیگر صحابہ کے بیٹے۔ اور میرا بیٹا ان کے بیٹوں سے زیادہ اہل ہے۔“
اس کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں انعام و اکرام دے کر رخصت کیا۔
مدبرِ عراق، احنف بن قیس کی رائے:
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اختلاف رائے کی قدر کرتے تھے، تاہم اپنے طور پر وہ سمجھتے تھے کہ یزید کی تقرری میں بہتری ہے۔ آخر میں انہوں نے سرکاری عمائد کو دمشق بلا کر ان سے بات کی۔ خراسان کے فاتح اور عراق کے مدبر اعظم احنف بن قیس رضی اللہ عنہ بھی یزید کی ولی عہدی سے متفق نہ تھے، جب ان سے رائے لی گئی تو ان کا جواب تھا: ”یزید کے شب و روز اور ظاہر و باطن سے آپ زیادہ واقف ہیں۔ ہمارا کام ہے سننا اور ماننا۔ آپ کا کام ہے اُمت کی خیر خواہی کرنا۔“
بہرحال دمشق میں مدعو کیے گئے شرکائے مجلس نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر سر تسلیم خم کر دیا اور پورے عالم اسلام میں گورنروں کے ذریعے یزید کی ولی عہدی کی بیعت لے لی گئی۔
یزید کی ولی عہدی اور جمہور علماء کا مسلک:
یزید کی ولی عہدی کے بارے میں جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ اس مسئلے میں انہی حضرات کی رائے زیادہ درست اور زیادہ مناسب تھی جو یزید کو ولی عہد بنانے کے مخالف تھے۔ اگرچہ وقتی حالات کے تحت انعقاد خلافت اس طرح بھی ہو جاتا ہے جیسے یزید کے معاملے میں ہوا۔ قاضی ابوبکر ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”یقیناً افضل یہ تھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس قضیے کو شوریٰ کے سپرد کر دیتے اور اپنے کسی رشتہ دار کو بھی اس کے لیے مقرر نہ کرتے چہ جائے کہ بیٹے کو ...... لیکن انہوں نے افضل صورت کو ترک کر دیا۔“
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب جمہور کے موقف کے دلائل پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
•حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے تو بے شک اپنے بیٹے کو نیک نیتی کے ساتھ خلافت کا اہل سمجھ کر ولی عہد بنایا تھا لیکن ان کا عمل ایک ایسی نظیر بن گیا جس سے بعد کے لوگوں نے نہایت ہی ناجائز فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے اس کی آڑ لے کر خلافت کے مطلوبہ نظام شوریٰ کو درہم برہم کر ڈالا اور مسلمانوں کی خلافت بھی شاہی خانوادے میں تبدیل ہو کر رہ گئی۔
• بلاشبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں یزید کا فسق و فجور کسی قابل اعتماد روایت سے ثابت نہیں، اس لیے اس کو خلافت کا اہل تو سمجھا جا سکتا تھا لیکن امت میں ایسے حضرات کی کمی نہیں تھی جو نہ صرف دیانت و تقویٰ بلکہ ملکی انتظام اور سیاسی بصیرت کے اعتبار سے بھی یزید کے مقابلے میں بدرجہا بلند مقام رکھتے تھے۔
اگر خلافت کی ذمہ داری ان کو سونپی جاتی تو بلاشبہ وہ اس سے کہیں بہتر طریقے پر اہل ثابت ہوتے۔ یہ درست ہے کہ افضل کی موجودگی میں غیر افضل کو خلیفہ بنانا شرعاً جائز ہے (بشرطیکہ اس میں شرائط خلافت موجود ہوں) لیکن افضل یہی ہے کہ خلیفہ ایسے شخص کو بنایا جائے جو تمام امت میں اس منصب کا سب سے زیادہ لائق ہو۔
• نیک نیتی کے ساتھ بیٹے کو ولی عہد بنانا شرعاً جائز تو ہے لیکن ایک طرف موضع تہمت ہونے کی وجہ سے اس سے بچنا ہی بہتر ہے اور شدید ضرورت کے بغیر ایسا کرنا اپنے آپ کو ایک سخت آزمائش میں ڈالنا ہے۔ اس لیے تمام خلفائے راشدین نے اس سے پرہیز کیا۔“
ذاتی کردار کے لحاظ سے یزید کی اہلیت ......!
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے سے متفق ہو کر جن لوگوں نے یزید کی ولی عہدی کو قبول کیا، ان کا موقف بھی شرعی حدود سے باہر نہیں تھا۔ ولی عہدی کی شرائط کے لحاظ سے دیکھا جائے تو یزید کا عاقل، بالغ، مسلمان، تندرست اور قریشی ہونا ایسے حقائق ہیں جن پر کسی دلیل کی ضرورت نہیں۔ وہ ایک جہادی مہم کا قائد اور امیرِ حج بھی رہ چکا تھا جس سے اس میں جنگجوئی اور انتظام کی کسی نہ کسی درجے میں صلاحیت ثابت ہوتی تھی۔ پس اس کے ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے یہ مان لینے کی گنجائش بھی موجود تھی کہ وہ خلافت کا اہل ہے۔
جہاں تک یزید کے شراب نوشی اور دوسری بدکاریوں میں ملوث ہونے کا سوال ہے، تو جو روایات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ان حرکتوں کا عادی تھا وہ ضعیف اور درایتاً مشکوک ہیں۔
ہاں اس میں شک نہیں کہ وہ قائدانہ لیاقت اور دینی تصلب میں اس دور کے دیگر قابل اور صالح لوگوں سے خاصا پیچھے تھا۔ اس میں تدبر کی بھی کمی تھی۔ طبیعت میں عجلت پسندی، غیر مستقل مزاجی اور لا ابالی پن واضح تھا، جیسا کہ خلیفہ بننے کے بعد اس کے متعدد فیصلوں نے ثابت کیا۔ نیز وہ تفریحی مشاغل میں محتاط حد سے زیادہ مشغول رہتا تھا۔
اگر یہ کردار کسی عام آدمی کا ہوتا تو شاید اس پر کسی کو بھی اعتراض نہ ہوتا، مگر چونکہ یزید کو مستقبل کے خلیفہ کی حیثیت سے دیکھا جا رہا تھا اس لیے یہ عیوب بہت گراں محسوس ہوتے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی اپنی صف میں شامل خواص جیسے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ ، احنف بن قیس رضی اللہ عنہ اور زیاد بن ابی سفیان کا یزید کی ولی عہدی سے ذاتی طور پر متفق نہ ہونا غالباً یزید کے کردار میں اسی قسم کی کمی کی وجہ سے تھا۔ جبکہ اکابر مدینہ کا اعراض اس وجہ سے بھی تھا کہ وہ اسلامی شورائیت و محدود تر اور مسلمانوں کے سیاسی نظام کو موروثی حکومت میں تبدیل ہوتا دیکھ رہے تھے۔
ظاہر ہے کہ یزید کی کمزوریاں یقیناً امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوشیدہ نہیں ہوں گی مگر انہیں امید ہوگی کہ ذمہ داری کا بوجھ پڑنے کے بعد ان عیوب کا ازالہ ہو جائے گا۔ انہیں یہ بھی یقین ہوگا کہ نظام مملکت میں شامل اعلیٰ صلاحیتوں کے امراء اور مشیروں کی رہنمائی یزید کو ہر قدم پر حاصل رہے گی جس کی وجہ سے وہ غلط اقدامات سے محفوظ رہے گا۔
اس کے ساتھ ساتھ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خود بھی یزید کو اپنے تجارب کی روشنی میں ایسی وصیتیں اور نصیحتیں کرتے رہتے تھے جن کو پیش نظر رکھ کر وہ ایک کامیاب حکمران بن سکتا تھا۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی دعا اور استخارہ:
آپ رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں استخارے اور دعاؤں کا اہتمام بھی کیا تھا۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے جمعے کے دن منبر پر یہ دعا کی تھی: ”یا اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یزید کو اس کی اہلیت کی وجہ سے ولی عہد بنایا ہے تو اس منصب کی تکمیل کر دے جو میں نے اسے دیا ہے۔ اور اگر میں نے اسے اپنی محبت کی وجہ سے ولی عہد بنایا ہے تو اس کے لیے اس منصب کی تکمیل نہ فرما جو میں نے اسے دیا ہے۔“
اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پورے اخلاص سے اور امت کی خیر خواہی کے تحت یزید کی ولی عہدی کا فیصلہ کیا تھا اور انہیں یزید کی کمزوریوں کے علم کے باوجود اطمینان تھا کہ وہ صحیح حکومت کرے گا جس کے لیے وہ ضروری انتظامات کرتے ہوئے اسے دعاؤں، گراں قدر نصائح اور قابل رفقاء کا توشہ دے کر جا رہے تھے۔ بہر حال عالم الغیب نہ تھے کہ بعد کے المناک حالات کو دیکھ لیتے اور اپنے فیصلے کو تبدیل کر دیتے۔
یزید کی ولی عہدی ، ایک ٹیسٹ کیس:
در حقیقت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا یزید کو ولی عہد بنانا ایک تجربہ یا ایک "ٹیسٹ کیس" تھا جس کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ بعد کے نتائج سے ہوسکتا تھا۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس تجربے کو دیکھنے کے لیے زندہ نہیں رہے تھے۔ تجربے کو ناکام کہا جاسکتا ہے مگر اس کی بناء پر امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی نیت پر شک کرنا، شرافت اور انصاف سے بعید ہے۔
بلاشبہ یہ تجربہ ناکام ہوا۔ اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس وقت زندہ ہوتے تو یقیناً اس قضیے کو وہیں ختم کر دیتے۔ اور یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ انہی کے پوتے معاویہ بن یزید نے ایسا ہی کیا اور موروثی حکومت کے تجربے کو وہیں ختم کر کے اقتدار امت کی شوریٰ کو سونپ دیا۔ (جس کی تفصیل آگے آ رہی ہے)
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی نور اللہ مرقدہ "مذہب امیر معاویہ درباره خلافت" کے عنوان کے تحت تحریر فرماتے ہیں:
"حضرت امیر معاویہ کا نظریہ خلافت کے متعلق یہ تھا کہ جس کسی کو مملکت کے انتظام کا سلیقہ دوسروں سے زیادہ ہو، گو اس سے افضل ہوں، تو دوسروں سے اس کا خلیفہ بنانا افضل ہے۔ اس بات پر نظر رکھتے ہوئے یزید کو انہوں نے دوسروں سے افضل جانا۔ اور اگر بالفرض دوسروں سے افضل نہ بھی جانا جاتا تو بھی اس سے زیادہ بات آگے نہیں بڑھتی کہ انہوں نے افضل کو چھوڑ دیا، جیسا کہ گزشتہ مقدمات میں واضح ہو گیا ہے کہ افضل کا خلیفہ بنانا افضل ہے نہ کہ واجب۔ لیکن اتنی بات کے باعثِ ترک افضل کا گناہ ان پر نہیں تھوپا جاسکتا کہ امیر معاویہ کے ساتھ گالم گلوچ سے ہم پیش آئیں۔"
اس دور کے دو بڑے سانحے
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں دو ایسی عظیم شخصیات کی رحلت کے سانحے پیش آئے جن سے حدیث کا بہت بڑا ذخیرہ امت تک پہنچا، یعنی: ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ دنیا سے رخصت ہو گئے۔
① سانحہ وفات ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا:
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی سن ۵۸ ھ میں دنیا سے رحلت ہوئی۔ آخری سالوں میں آپ اکثر لبید بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھا کرتیں:
ذَهَبَ الَّذِينَ يُعَاشُ فِي أَكْنَافِهِمْ ...... وَبَقِيْتُ فِي خَلْفٍ كَجِلْدِ الْأَجْرَبِ
"ایسے لوگ گزر گئے جن کے زیر سایہ زندگی بسر ہوتی تھی۔ میں بعد کے لوگوں میں خارش اونٹ کی طرح باقی ہوں۔"
پھر فرماتیں: "اللہ لبید پر رحمت کرے اگر وہ ہمارے زمانے کا حال دیکھ لیتے تو کیا کہتے ۔"
ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا یہ قول ایک ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا۔ اسلاف نسل در نسل نقل کرتے رہے۔ ہر ایک یہ کہتا تھا کہ اگر وہ حضرات ہمارے دور کو دیکھتے تو کیا فرماتے ۔
۵۸ ھ میں ام المؤمنین رضی اللہ عنہا بیمار ہوئیں اور مرض شدت اختیار کر گیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم عیادت کے لیے آئے۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا پر خوف کی کیفیت طاری تھی۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے تسلی دیتے ہوئے کہا: "آپ دنیا کے مصائب سے نکل کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنے پیاروں کے پاس جا رہی ہیں۔ آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندیدہ ہیں اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پسندہ بہترین ہی ہوسکتی ہے۔ جب آپ کا ہار گم ہوا، اس کی تلاش میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رکے اور قافلے کو پانی کی نایابی سے پریشانی ہوئی تو اللہ نے تیمم کی سہولت نصیب فرمادی۔ آپ کی پاکیزگی اور بے گناہی کا ثبوت اللہ نے عرش سے نازل فرما دیا۔ کوئی مسجد نہیں جہاں آپ کے تقدس کی آیات تلاوت نہ کی جاتی ہوں۔"
ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بے اختیار فرمایا:
"ابن عباس! ان باتوں کو چھوڑ دیجیے۔ میں تو چاہتی ہوں کہ کاش! میں بھولی بسری ہو جاتی۔"
۱۷ رمضان المبارک کو تراویح اور وتر کی نماز ادا کرنے کے بعد آپ دنیائے فانی سے رحلت فرما گئیں۔ جہاں جہاں یہ خبر پہنچی لوگ دوڑے چلے آئے۔ بلا تاخیر نماز جنازہ کی تیاری کر لی گئی۔ بے پناہ ہجوم تھا۔ نماز جنازہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے پڑھائی اور جنت البقیع میں تدفین ہوئی۔ وفات کے بارے میں ۵۸ ھ کا قول راجح ہے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی رحلت پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بے ساختہ فرمایا:
"اللہ کی قسم! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے بعد وہی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی سب سے زیادہ پسندیدہ تھیں۔"
② سانحہ وفات حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ:
۵۹ ھ میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بھی وفات پاگئے۔ آپ صحابہ کرام میں سب سے زیادہ احادیث بیان کرنے والے عالم تھے۔ آپ سے منقولہ روایات کی تعداد ۵۳۷۴ ہے۔ آپ کا تعلق یمن کے قبیلہ دوس سے تھا۔
۸ ھ میں غزوۂ خیبر کے موقع پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور خود کو ارشادات نبوی کی حفاظت کے لیے وقف کر دیا تھا۔ ۵۹ ھ میں بیمار ہوئے اور کچھ دنوں بعد وفات پاگئے۔ عمر ۷۸ برس تھی۔
امت کے حق میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی یزید کو وصیت
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنے بعد امت کی بہت فکر تھی۔ آپ چاہتے تھے کہ یزید امت مسلمہ کے لیے ایک مثالی حکمران ثابت ہو، امت اس پر متفق رہے، ہر طرف امن و امان ہو۔ کسی پر کوئی زیادتی ہو نہ حق تلفی۔ چونکہ اس بارے میں سب سے زیادہ ذمہ داری یزید ہی پر عائد ہوتی تھی، اس لیے آپ نے اسے بہت سی اہم وصیتیں کیں جن کا ہر جملہ سنہرے الفاظ میں نقل کرنے کے قابل ہے۔ یہ وصیتیں آپ کی حزم و احتیاط، فکر و نظر کی گہرائی، سیاسی تجربہ کاری اور امت کی خیر خواہی کی بہترین دلیل ہیں۔
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید سے کہا:
* اللہ سے ڈرتے رہنا۔ میں نے تمہارے لیے یہ امر خلافت طے کر دیا ہے۔ تم اس کے ذمہ دار بنا دیے گئے ہو۔
* اگر بھلائی سے رہو گے تو یہ میری سعادت ہوگی۔ اگر ایسا نہ کرو گے تو یہ تمہاری بدبختی ہوگی۔
* لوگوں سے نرمی کا معاملہ کرنا۔
* تمہیں اپنی توہین و تنقیص کی جو باتیں پہنچیں انہیں نظر انداز کر دینا۔
* ا شرفاء کے ساتھ سختی نہ برتنا۔ ان کی ہتکِ عزت سے بہت بچنا۔ انہیں اپنے قریب رکھنا۔
* جب بھی کوئی اہم معاملہ پیش آئے تو عمر رسیدہ، تجربہ کار، نیک اور پرہیز گار افراد سے مشورہ لینا۔ ان کی رائے کی مخالفت نہ کرنا۔
* اپنی رائے پر کبھی اصرار نہ کرنا، کیوں کہ صرف ایک ذہن میں آنے والی رائے صحیح نہیں ہوا کرتی۔
* اپنے نفس کی اصلاح کا اہتمام کرنا، لوگ بھی تمہارے ساتھ درست چلیں گے۔
* لوگوں کو کبھی کسی اعتراض کا موقع مت دینا کہ لوگ بری بات کو تیزی سے پھیلایا کرتے ہیں۔
* نماز باجماعت کی پابندی کرتے رہنا۔
اگر ان نصیحتوں پر عمل کرو گے تو لوگ اپنے اوپر تمہارا حق سمجھیں گے اور تمہاری حکومت طاقتور رہے گی۔

