Daur e Muawiyah Me Khariji Aur Sabai Fitno Ki Sarkobi: Mukammal Tarikh

(٦) بغاوتوں اور سازشوں کی سرکوبی

        فتوحات اور ملکی انتظامات کے ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اندرونی سازشوں سے بھی پالا پڑا۔ ان فتنوں کی سرکوبی آپ کے اہداف میں اہم حیثیت رکھتی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تمام شورشوں اور سازشوں پر بڑی خوبی کے ساتھ قابو پایا۔


        شورش پسند عناصر تقریباً وہی تھے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف متحرک ہوئے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور اُن کے ساتھیوں کے اتفاق رائے سے خلیفہ مقرر ہوئے تھے اس لیے حجاز، شام، مصر اور دیگر شہروں سمیت سارے عالم اسلام میں امن وامان اور سکون تھا، تاہم عراق کے دونوں بڑے شہر: کوفہ اور بصرہ بظاہر پرامن ہونے کے باوجود ابھی تک باغی جماعتوں کے خفیہ کارکنوں کی آماجگاہ تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی ان دونوں شہروں پر خاص نگاہ تھی اور وہاں امن و امان کے قیام کو آپ عالم اسلام کی مشرقی سرحدوں کے تحفظ کی ضمانت سمجھتے تھے۔ اس لیے آپ نے وہاں باغیوں کو بالکل  پنپنے نہ دیا۔

         حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کو زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ پہلے کوفہ اور پھر بصرہ کے باغی گروہ اپنی طاقت کے ساتھ منظر عام پر آگئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوری مستعدی سے ان دونوں شہروں کو فتنوں کا مرکز بننے سے بچایا جس کی تفصیل پیش خدمت ہے:

کوفہ میں خوارج کی بغاوتیں

        سب سے پہلے کوفہ میں خارجی گروہ نے بدامنی کی۔ یہ گروہ چپکے چپکے رکن سازی کے ذریعے سینکڑوں افراد جمع کر چکا تھا چنانچہ ان کے کئی سردار یکے بعد دیگرے سرکاری افواج سے لڑنے نکلے۔ کئی خونریز جنگیں ہوئیں جن میں خوارج کے نامور سردار فروہ بن نوفل، عبداللہ بن ابی الحوساء اور حوثرہ بن ذِراع  مارے گئے۔ مگر یہ لوگ ایک سردار کے مرتے ہی دوسرے کو امیر بنا کر پھر برسرپیکار ہو جاتے۔

        ان کی بڑھتی ہوئی شورش دیکھ کر آخر کار حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مشہور صحابی حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا حاکم بنا کر بھیجا جن کی شجاعت، فراست اور سیاست کو سارا عرب مانتا تھا۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے بڑی حکمت اور تدبیر کے ساتھ خوارج کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔ خوارج شبیب بن بَجرہ، معین بن عبداللہ، ابو مریم اور ابو لیلیٰ جیسے سرداروں کی قیادت میں جمع ہو ہو کر ٹکرائے مگر آخر کار ایک سال کے اندر اندر ان کا زور ٹوٹ گیا اور وہ تتر بتر ہو گئے۔

        دو سال بعد سن ٤٣ ہجری میں خارجی گروہ مستورِد بن علقمہ نامی سردار کی قیادت میں پھر منظم ہو گیا۔ مستورد نے طے کیا کہ یکم شوال ٤٣ ہجری کو جب شہر کے لوگ نماز عید کے لیے باہر جائیں تو اچانک حملہ کر کے شہر پر قبضہ کر لیا جائے مگر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو بروقت یہ اطلاع مل گئی۔ انہوں نے اس گھر پر جو سازش کا مرکز تھا، چھاپہ مارا۔ مستورِد فرار ہو گیا۔ اس کی جماعت کے کچھ اہم لوگ پکڑے گئے۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ کوفہ والوں میں اب بھی خارجیت اور سبائیت کے اثرات موجود ہیں اور انہی میں سے کچھ لوگوں کی خفیہ حمایت سے شورش پسند لوگ  پنپ رہے ہیں۔ ایسے لوگ حکمرانوں کی نرمی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں اور عوام کے لیے مصائب کا باعث بنتے ہیں۔ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کی کوشش تھی کہ خون ریزی کے بغیر  یہ فتنہ ختم ہو جائے اور شر پسند لوگ باز آجائیں۔

        حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ کے لوگوں کو جمع کر کے فرمایا:

        "لوگو! میں تمہارے لیے امن پسند کرتا ہوں، تکالیف اور مصائب سے تمہیں بچانا چاہتا ہوں مگر مجھے خطرہ ہے کہ میرے سلوک سے شر پسند لوگ بگڑ نہ جائیں۔ ڈرتا ہوں کہ کہیں جاہلوں کے ساتھ شریف اور بھلے مانس بھی میری گرفت میں نہ آ جائیں، لہٰذا اس سے پہلے کہ تمہارے خلاف کوئی عام کارروائی کرنی پڑے، تم اپنے جاہلوں کو روک لو۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ کچھ لوگ جہالت اور منافقت کا  بیج بورہے ہیں۔ اللہ کی قسم! ایسے لوگ چاہے عرب کے کسی قبیلے میں بھی ہوں میں انہیں مار ڈالوں گا اور انہیں بعد والوں کے لیے عبرت کا نمونہ بنا دوں گا۔"

        اس دھمکی سے لوگ ڈر گئے اور ان کے سرداروں نے اپنے اپنے قبیلوں کی ضمانت دی کہ وہ کسی بغاوت کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اس وعدے کے مطابق جب سرداروں نے اپنے ماتحت لوگوں کو باغی ذہنیت سے باز رکھنے کی کوشش کی تو خارجیوں کی دال گلنا بند ہو گئی۔ ان کا امیر مستورد اپنے خاص حامیوں کو لے کر علاقے سے دور نکل گیا۔

        حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے لیے اب مناسب موقع تھا۔ انہوں نے معقل بن قیس رضی اللہ عنہ کو اس کے تعاقب میں بھیج دیا۔ کئی خون ریز لڑائیوں کے بعد آخر کار خارجیوں کی بڑی تعداد ماری گئی۔ آخری جھڑپ میں مستورد نے آواز لگا کر مَعقِل بن قیس کو طاقت آزمائی کی دعوت دی۔ وہ شمشیر سونت کر نکلے۔ مستورد نے معقل رضی اللہ عنہ کو نیزہ گھونپ کر شہید کر دیا مگر گرنے سے پہلے معقل رضی اللہ عنہ اپنی تلوار مستورد کی کھوپڑی میں اتار چکے تھے۔ مستورد کی موت کے ساتھ ہی خارجی شکست کھا کر منتشر ہو گئے اور عراق کا امن و امان بحال ہو گیا۔

سبائی ٹولے کی سرگرمیاں

        اندرونی شورشوں میں خارجی تو بالکل ناکام رہے، کیوں کہ ان کا طریقہ کار سازشی نہیں، کھلم کھلا انقلابی تھا، پہلے وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور میں یکدم اُٹھے اور مارے گئے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں بھی چند لڑائیوں کے بعد ان کا زور ٹوٹ گیا، مگر سبائی ٹولہ جو زیر زمین سازشوں کا عادی تھا، اندر ہی اندر کام کر رہا تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ان لوگوں نے تقریباً دس برس تک زیر زمین سرگرمیاں جاری رکھیں۔ اس دوران ان کا بڑا ہدف یہی تھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ، ان کے نائبین اور ان کے خصوصی رفقاء کو جھوٹے الزامات کے ذریعے بدنام کیا جائے۔

        یہ بالکل وہی طریقہ واردات تھا جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلاف اپنایا گیا تھا۔ یہاں بھی بعض حقیقی واقعات کو زہریلے اضافوں سے آلودہ کیا گیا۔ بعض جعلی قصے گھڑے گئے۔ بعد میں انہی جعلی روایات کو اس گروہ کے اہل قلم نے تاریخ میں شامل کر دیا۔

بصرہ اور کوفہ میں زیاد بن ابی سفیان کا تقرر

        زیاد طائف کی ایک لونڈی سمیہ کا بیٹا تھا۔ اس کے والد حضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ تھے مگر انہوں نے سمیہ سے خفیہ نکاح کیا تھا، اس لیے یہ بات مشہور نہ تھی۔ بہرحال زیاد بن ابی سفیان حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا باپ شریک بھائی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  کی وفات کے وقت اس کی عمر دس، گیارہ برس تھی، تاہم اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم  کی زیارت کا شرف ملنا ثابت نہیں لہٰذا اس کو صحابی شمار نہیں کیا جاتا۔

         ذہانت، عقل و فہم، حسن انتظام، قوت فیصلہ، زور خطابت، انشاء پردازی اور ہمت و جواں مردی میں وہ ممتاز تھا۔ دفتری امور، خط و کتابت اور حساب و کتاب کا ماہر تھا، نوجوانی کا زمانہ حضرت ابو موسیٰ اشعری، حضرت مغیرہ بن شعبہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم جیسے صحابہ کی خدمت میں گزارا اور ان کا کاتب (سیکرٹری) رہا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اس کو بصرہ کا محصل زکوٰۃ بنایا، جہاں سے سرحدی علاقوں: شمالی و جنوبی افغانستان اور خراسان کی نگرانی کی جاتی تھی۔

        سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اختلاف کے دنوں میں  یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور ان کی جانب سے فارس کا گورنر رہا۔ زیاد کی کوششوں سے وہاں باغیانہ سرگرمیاں ختم گئیں اور امن و امان ہو گیا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے جب خلافت حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سپرد کی تو زیاد ایک سال تک فارس کے کسی قلعے میں محصور رہا اور بیعت نہ کی۔ ایک سال تک توقف کے بعد زیاد نے اظہارِ اطاعت کیا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس شام چلا آیا۔

زیاد کی اصلاحات اور کارنامے:

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ٤٥ھ میں اسے بصرہ کا گورنر بنا دیا۔ اس وقت بصرہ کی انتظامی صورت حال غیر مستحکم تھی، زیاد نے حاکم بن کر کے یہاں کا نظم و نسق قابل رشک بنا دیا۔ خراسان کو چار ضلعوں میں تقسیم کر کے الگ الگ نائب مقرر کیے۔

        اس نے خبر رسانی کا نظام تیز ترین بنا دیا۔ بصرہ چونکہ خوارج اور سبائیوں کا مرکز رہا تھا جو اب بھی زیر زمین موجود تھے اور ان کی شورش کا خطرہ تھا، اس لیے زیاد نے رات کا کرفیو نافذ کر دیا جو عشاء کی نماز کے دو گھنٹے بعد سے فجر تک جاری رہتا۔ اس دوران لوگوں کے باہر نکلنے پر سخت پابندی تھی۔ اس سے علاقے میں اتنا امن ہو گیا کہ کسی کی کوئی چیز راستے میں گر جاتی تو مدت تک کوئی نہ اٹھاتا۔ تنہا خاتون رات کو گھر کی کنڈی لگائے بغیر بے فکری سے سو جاتی۔ زیاد کا کہنا تھا کہ خراسان میں کسی کی رسی بھی گم جائے تو میں  پتا لگا سکتا ہوں کس نے اٹھائی ہے۔

        زیاد نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اعلیٰ مناصب دیے۔ حضرت عمران بن حصین، حضرت انس بن مالک، حضرت حکم بن عمرو، حضرت سمرہ بن جندب اور حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہم کو کلیدی عہدوں پر مقرر کیا۔ شہر کے نظم و نسق کے لیے چار ہزار پولیس بھرتی کی۔ سرکاری محافظ پانچ سو رکھے۔ یوں بصرہ میں مکمل امن ہو گیا۔

        سن ٥٠ ھ میں کوفہ کے گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے زیاد کو بصرہ کے ساتھ ساتھ کوفہ کا گورنر بھی بنا دیا۔ اس طرح پہلی بار کسی امیر کو ان دو شہروں کی ولایت ایک ساتھ ملی۔ زیاد نے  بیک وقت ان دونوں اہم شہروں کے انتظامات اس طرح سنبھالے کہ موسم سرما بصرہ میں گزارتا اور گرما کوفہ میں۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic