حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کا عالم اسلام
یہ سنہ ۲۲ ہجری ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کا نواں سال۔
خلافت اسلامیہ جو "اللہ کی زمین پر اللہ کا نظام" کے منشور کے تحت وجود میں آئی تھی اب مشرق میں سطح مرتفع پامیر، مغرب میں افریقہ کے صحرائے اعظم، شمال میں بحیرہ کیسپیئن اور جنوب میں بحر ہند تک وسیع ہوچکی ہے، مجموعی طور پر ساڑھے بائیس لاکھ مربع میل (۵۶ لاکھ ۳۱ ہزار مربع کلومیٹر) میں شرعی قانون نافذ ہے۔ اسلام کے غلبے کے نیچے جاگتے مناظر نے قرآن مجید کے وعدوں اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کو پورا کر دکھایا ہے۔
دنیا کی تاریخ میں پہلی بار اتنے وسیع رقبے پر ایک ایسی عظیم الشان مملکت قائم ہوچکی ہے، جس میں اللہ کا وہ ابدی دین نافذ ہے جو بندوں کے لیے سراسر ہدایت، رحمت اور امن و سلامتی کی ضمانت ہے۔ پہلی بار اللہ کے بندوں کو اس کی زمین پر پورے اطمینان، سکون اور امن کے ساتھ جینے کا موقع ملا ہے، انہیں بھر پور مواقع میسر آئے ہیں کہ وہ رب کی رضا حاصل کریں۔ اس وسیع و عریض مملکت میں کوئی بھوکا نہیں سوتا، کوئی غربت و افلاس کی وجہ سے خودکشی نہیں کرتا، کسی کو لاقانونیت اور بے انصافی کی شکایت نہیں، کوئی کسی پر ظلم کرنے کی جرأت نہیں کر پاتا۔ اگر زیور سے لدی ہوئی کوئی عورت اس سلطنت کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک تنہا سفر پر نکل جائے تو اسے ذرا بھی اندیشہ نہیں ہوتا کہ کوئی اس کی طرف میلی نگاہ سے دیکھے گا۔ انصاف کے تقاضوں کے سامنے امیر و غریب، سپاہی اور افسر، بادشاہ اور غلام، مسلم اور غیر مسلم سب برابر ہیں۔
مسلمانوں کا کوئی بادشاہ ہے، نہ شہزادہ اور شاہی خانوادہ۔ ان کا سربراہ صرف امیر المومنین ہے جو کسی پہرے کے بغیر سفر کرتا ہے، جس کے دروازے پر کوئی دربان نہیں، جو پیوند زدہ کپڑے پہنتا اور روکھی سوکھی کھاتا ہے۔ جس کے دل میں ایک طرف مخلوق کی ہمدردی اور خدمت گزاری کا جذبہ موجزن رہتا ہے اور دوسری طرف آخرت میں جوابدہی کے احساس سے وہ کانپ اٹھتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرتا ہے کہ اکثر کہتا ہے، کاش، میں کوئی گھاس کا تنکا ہوتا، کاش میں آزمائش و ابتلا کی اس نگری میں پیدا ہی نہ ہوا ہوتا۔
جب وہ نماز پڑھاتا ہے تو تلاوت کے وقت اس کے رونے کی آواز کئی صفوں تک جاتی ہے۔ میدانِ حشر، حساب کتاب اور اللہ کے عذاب کا ذکر سن کر وہ بعض اوقات غش کھا کر گر پڑتا ہے۔
یہ امیر المومنین کا قائم کردہ نظامِ حکومت ہے جس میں تمام اہم فیصلے مشورے کے تحت ہوتے ہیں۔ شورائیت کا یہ نظام قرآن و سنت سے ماخوذ ہونے کے ساتھ ساتھ عربوں کے قبائلی تمدن سے ہم آہنگ بھی ہے اور انسانی فطرت اور معاشرتی اصولوں سے قریب تر بھی۔ شوریٰ کے قبائلی رواج کو حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے ایک باقاعدہ ادارے کی شکل دے دی ہے جس میں حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر بن عوام، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت حذیفہ بن یمان، حضرت معاذ بن جبل، حضرت ابی بن کعب، حضرت زید بن ثابت، حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم اجمعین جیسے مدبرین زمانہ شامل ہیں۔
امیر المومنین کا کوئی محل ہے نہ کوئی دربار۔ مسجد نبوی ہی ان کا مرکز ہے، جہاں وہ نمازیں بھی خود پڑھاتے ہیں اور مسلمانوں سے ملتے ملاتے ہیں، خاص فیصلے شوریٰ میں کھلی بحث کے بعد ہوتے ہیں اور دلیل کی روشنی میں کسی بھی معاملے کو پرکھا جاتا ہے۔
عام مسلمانوں کو کسی معاملے میں اعتماد میں لینے یا رائے عامہ کو ہموار کرنے یا کوئی خاص ہدایت دینے کے لیے امیر المومنین بسا اوقات خود مسجد نبوی میں لوگوں سے خطاب کرتے ہیں، آزادی رائے اور احتساب کی روایت اتنی پختہ کر دی گئی ہے کہ کوئی بھی آدمی برسرعام حکمرانِ وقت کے لباس، آمدن و خرچ اور دیگر امور کے بارے میں باز پرس کرلیتا ہے اور امیر المومنین اسے مطمئن کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ رعایا کی ضروریات کے لیے سربراہ حکومت خود راتوں کو گشت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ راستے میں کوئی معمر خاتون ڈانٹ بھی دیتی ہیں تو بُرا نہیں مانتے۔
عرب کا نظامِ حکومت اب تک بہت سادہ چلا آ رہا تھا جبکہ عجم اور روم کی سلطنتوں میں عہدوں اور شعبوں کی کثرت نے طرح طرح کی پیچیدگیاں پیدا کر رکھی تھیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سلطنت کی وسعت کے ساتھ ساتھ حکومتی نظام کو بہتر بنانے پر بھی پوری توجہ دے کر انتظامیہ کا مثالی نمونہ پیش کر دیا ہے۔
انہوں نے عالمِ اسلام کو آٹھ صوبوں میں تقسیم کر دیا ہے: مکہ، مدینہ، کوفہ، بصرہ، شام، الجزیرہ، فلسطین اور مصر۔ پھر ہر صوبے کے الگ الگ اضلاع مقرر کر رکھے ہیں۔ ہر جگہ پوری جانچ پڑتال کے ساتھ چن چن کر بہترین اور قابل افراد کا تقرر کیا ہے جن کی معقول تنخواہیں مقرر ہیں، اس لیے وہ فکرِ معاش سے بے نیاز ہو کر دین وملت کی خدمت میں شب و روز منہمک رہتے ہیں۔ مکہ معظمہ میں حضرت خالد بن العاص، کوفہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص، بصرہ میں حضرت ابوموسیٰ اشعری، شام میں حضرت معاویہ، الجزیرہ میں حضرت عیاض بن غنم اور یمن میں حضرت یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہم خلیفہ کے نائب ہیں۔ احتساب اور شہری نظم و نسق کا شعبہ (جسے آج کل پولیس کہا جاتا ہے) "اَحداث" کے نام سے قائم ہے جس کے اعلیٰ افسران میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جیسے عالم فاضل صحابی شامل ہیں۔
ان گورنروں، افسروں اور عہدیداروں پر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی کڑی نگاہ رہتی ہے اور کسی بھی ضابطے کی خلاف ورزی پر انہیں دربارِ خلافت کی طرف سے پوچھ گچھ اور تادیب کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے پہلی بار "بیت المال" کی باقاعدہ بنیاد رکھ کر حکومتِ اسلامیہ کی آمدن اور اخراجات کی حفاظت کا نظام بنادیا ہے تا کہ یہ مال مسلمانوں کی ضروریات میں ٹھیک ٹھیک خرچ ہوتا رہے۔ ہر صوبے کے بیت المال کے لیے وسیع اور مستحکم عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں تا کہ ہر چیز اور ہر جنس اپنی جگہ پر محفوظ رہے۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے "رفاہ عام" کے شعبے کی بنیاد بھی رکھ دی ہے (جسے آج کل "بلدیہ" کہا جاتا ہے) جس کے تحت عالمِ اسلام کے ہر صوبے اور ضلع میں سرکاری عمارتوں کی تعمیر، نہروں کی کھدائی، سڑکیں اور پل بنانے اور ہسپتال قائم کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ مدینہ طیبہ سے مکہ مکرمہ تک کی شاہراہ کو خاص طور پر محفوظ بنا کر اس پر جگہ جگہ چوکیاں، مسافر خانے اور پانی کے تالاب بنا دیے گئے ہیں۔ ہر صوبے کے صدر مقام میں سرکاری حسابات کے دفاتر، بیت المال اور سرکاری مہمانوں کے لیے گیسٹ ہاؤس کی الگ الگ عمارتیں ہیں۔
اگرچہ جرائم کی شرح بہت کم ہے مگر مستقبل کے مسائل کے پیش نظر مجرموں کو سزا دینے کے لیے قید خانے بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
عراق میں کوفہ، بصرہ اور موصل، اور مصر میں "فسطاط" اور "جیزہ" جیسے نئے شہر بسائے گئے ہیں، جن کی رونق اور ترقی روز افزوں ہے۔
مملکت کی باقاعدہ مردم شماری کی جا چکی ہے، تمام بالغ مسلمانوں کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصے کو باقاعدہ فوج کی حیثیت دے کر ان کی تنخواہیں مقرر کر دی گئی ہیں، جبکہ دوسری قسم کے لوگ تعلیم، تجارت، صنعت اور زراعت جیسے امور میں مشغول رہنے کے باوجود بہر حال رضا کار فوج کے زمرے میں آتے ہیں، جنہیں کسی بھی وقت محاذ پر طلب کیا جاسکتا ہے۔ ان کو "مُطَوِّعَہ" کہا جاتا ہے اور یہ بھی سالانہ تنخواہیں پاتے ہیں۔ ان کے علاوہ مملکت کے ہر معزز یا ضرورت مند شہری، یہاں تک کہ خواتین کا سرکاری وظیفہ بھی مقرر ہے۔ شیر خوار بچوں کا وظیفہ کم از کم ایک سو درہم (آج کل کے حساب سے تقریباً دو سو ڈالریا بیس ہزار روپے) ہے۔ جن شہریوں کو اعزازی وظائف جاری کیے گئے ہیں، ان میں اعزاز صرف دینی نسبت اور قومی خدمات کو مانا گیا نہ کہ دنیوی مراتب کو۔
مدینہ، کوفہ، بصرہ، موصل، فسطاط، دمشق اور حمص میں بڑی بڑی چھاؤنیاں تعمیر کر دی گئی ہیں جن میں مجاہدین کی رہائش کے لیے مکانات بھی ہیں۔عمدہ نسل کے گھوڑوں کی پرورش کے لیے اصطبل اور جنگلات میں چراگاہیں مختص کر دی گئی ہیں۔ ایک ایک اصطبل میں چار چار ہزار گھوڑے ہر وقت تیار رکھے جاتے ہیں۔
اپنوں اور غیروں کے حالات سے آگاہ رہنے کے لیے خبر رسانی کا محکمہ بھی کام کر رہا ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ میں رہتے ہوئے لاکھوں مر بع میل کے اندرونی حالات سے بھی واقف ہیں اور حریف طاقتوں کی تیاریاں بھی ان کے علم میں رہتی ہیں۔
پورے عالم اسلام میں مذہبی اور علمی سرگرمیاں دن بدن فروغ پا رہی ہیں، مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں توسیع کر دی گئی ہے، نئی جامع مساجد تعمیر کرائی جا رہی ہیں، جن میں پانچ وقتہ نمازوں اور ذکر و تلاوت کے علاوہ دعوت دین اور علم کی اشاعت کا بھر پور اہتمام دکھائی دیتا ہے۔ نمازوں کے اوقات میں تل دھرنے کی جگہ نہیں ملتی، کوئی شخص نماز باجماعت سے پیچھے نہیں رہتا، اگر کوئی اکا دکا شخص یہ حرکت کرتا نظر آئے تو لوگوں کو اس کے منافق ہونے کا شک ہوتا ہے۔
اس معاشرے میں صحابہ کرام پیشوا اور رہنما ہیں جو علم و عمل کے پیکر ہیں۔ ان کے حلقوں میں قرآن و سنت، حکمت و معرفت اور فکر آخرت کی دولت بانٹی جاتی ہے۔ شام میں حضرت ابو درداء، حضرت عبادہ بن صامت اور حضرت معاویہ بن ابی سفیان، بصرہ میں حضرت مَعقِل بن یسار، حضرت عبداللہ بن مُغَفَّل، حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت عمران بن حُصَین، اور کوفہ میں عبداللہ بن مسعود اور ان کے ساتھ ستر بدری صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن و حدیث اور فقہ کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ درس کے ایک ایک حلقے میں سینکڑوں طلبہ بیٹھتے ہیں، حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے حلقۂ درس کے شرکاء سولہ سو سے زائد ہیں۔
مسلمان ہی نہیں غیر مسلم شہریوں (ذمیوں) کے حقوق بھی پوری طرح محفوظ ہیں، ان کی جان و مال، کاروبار، عزت و آبرو اور مذہبی آزادی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں، ان کی جان و مال کو مسلمانوں کی جان و مال کے برابر قرار دیا گیا ہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ رعایا کی خبر گیری میں مسلم و غیر مسلم کا فرق نہیں فرماتے۔ ایک خستہ حال بوڑھے کو دیکھ کر اس کی مزاج پرسی کرتے ہیں، پتا چلتا ہے کہ وہ یہودی ہے۔ اس کے مسائل پوچھتے ہیں۔ وہ کہتا ہے: "جزیے سے معافی، مفلسی اور بڑھاپا"۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسے ساتھ لے جا کر اس کی تمام ضروریات پوری کر دیتے ہیں۔ پھر بیت المال کے خازن کو کہتے ہیں: "اس جیسے لوگوں کو تلاش کر کے ان کی ضروریات پوری کرو۔"
پھر اسی وقت مفلس غیرمسلموں سے جزیہ معاف کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"یہ انصاف نہیں کہ ہم ان کی جوانی کا جزیہ لیتے رہیں اور بڑھاپے میں انہیں بے یارو مددگار چھوڑ دیں۔"
غیر مسلموں پر کوئی زیادتی ہو جاتی ہے تو فوری انصاف مہیا کیا جاتا ہے۔مصر کا ایک قبطی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مراسلہ بھیج کر فریاد کرتا ہے کہ مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے اسے پیٹا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مدعی اور مدعی علیہ کو مدینہ بلا لیتے ہیں اور زیادتی ثابت ہونے پر اپنے سامنے بدلہ دلواتے ہیں۔
صحابہ کرام غیر مسلموں کی عیادت کے لیے بھی جاتے ہیں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بکری ذبح کراتے ہیں اور اس کا گوشت اپنے یہودی پڑوسی کو بڑے اہتمام سے بھیجتے ہیں اور کسی کے اعتراض پر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑوسیوں کا خیال رکھنے کی اتنی تاکید کی تھی کہ ہمیں خیال ہوا کہ وراثت میں بھی ان کا حصہ ہو جائے گا۔
غرض ہر طرف امن و سکون ہے، لوگ جیتے جی گویا ایک جنت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ انہیں کسی بیرونی حملے کا خوف ہے نہ اندرونی خلفشار کا ڈر، مگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو یہ فکر اب بھی لاحق ہے کہ کہیں کسی کا حق نہ مارا جا رہا ہو، مملکت کے کسی خطے میں ایسا کوئی مظلوم نہ ہو جو مجھ تک نہ پہنچ سکتا ہو۔

