واقعۂ شہادت
سنہ 23 ہجری اختتام پذیر ہونے کو تھا۔ فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے طے کر لیا تھا کہ اگلے سال پوری مملکت اسلامیہ کا دورہ کریں گے۔ ایک ایک صوبے میں دو دو ماہ قیام کر کے کھلی کچہری لگائیں گے تاکہ اگر کسی بھی شہری کو کوئی تکلیف ہو تو وہ بلا جھجھک بیان کر سکے۔ آپ فرماتے تھے: ’’اگر اللہ نے مجھے سلامت رکھا تو میں عراق کے مساکین کے لیے ایسا انتظام کر جاؤں گا کہ انہیں میرے بعد کبھی کسی کی ضرورت نہیں رہے گی۔‘‘
یہ وہ دن تھے جب شمشیر اسلام مشرق و مغرب سے خراج وصول کر رہی تھی، حق کا بول بالا ہو گیا تھا، دینِ مبین نے ہر طرف امانت و دیانت، عدل و انصاف، اخوت اور ہمدردی کے پھول کھلا دیے تھے۔ بدی کی ظلمتیں منہ چھپا کر منظرِ عام سے غائب ہوگئی تھیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو پھلتا، پھولتا دیکھ کر مطمئن تھے۔ اب ان کی دو ہی خواہشیں رہ گئی تھیں: ایک اللہ کے راستے میں شہید ہونے کی، دوسری اپنے آقا و مولا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں دفن ہونے کی۔
خلیفہ کی دُعا:
سنہ 23 ہجری میں حج کے لیے تشریف لے گئے۔ واپسی میں وادی ابطح میں ٹھہرے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی:
’’الٰہی! میں عمر رسیدہ ہو گیا ہوں، میری قوت کمزوری میں تبدیل ہو رہی ہے، میری رعایا دور دور پھیل گئی ہے، ڈرتا ہوں کہ اب کہیں ان کے حقوق میں کوتاہی نہ ہو جائے۔‘‘
پھر انہوں نے بارگاہ الٰہی میں اپنی دونوں تمنائیں ایک ساتھ پیش کر دیں:
’’اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ شَھَادَۃً فِیْ سَبِیْلِکَ وَ مَوْتًا فِیْ بَلَدِ رَسُوْلِکَ۔‘‘
’’یا اللہ! میں تیری راہ میں شہادت اور تیرے رسول کے شہر میں موت کی التجا کرتا ہوں۔‘‘
بظاہر یہ دونوں باتیں ایک ساتھ واقع ہونا مشکل تھا۔ شہادت اور وہ بھی مدینہ میں!! کیسے ممکن تھا؟ اب مدینہ طیبہ پر کسی بیرونی طاقت کے حملے کا کوئی خطرہ نہ تھا، وہاں جنگ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ دوسری طرف خلافت کی بھاری ذمہ داریوں کے پیشِ نظر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خود کسی محاذ پر جا کر لڑنا بھی مشکل تھا۔ اور اگر وہ باہر کسی محاذ پر جاکر لڑتے اور شہید ہو بھی جاتے تو اس صورت میں ان کی مدینہ طیبہ میں وفات یا تدفین نہ ہوتی، کیوں کہ مردے کو تدفین کے لیے دوسرے علاقے میں منتقل کرنا اسلامی شرع میں نامناسب ہے۔
مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لیے یہ دونوں سعادتیں طے کر دیں اور ان کی دعا کو قبول کر لیا۔ اس کے بعد جو پیش آیا وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے لیے سراسر سعادت تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ امت کے لیے وہ ایک ایسا سانحہ تھا جس کا شدید اثر کم و بیش نصف صدی تک رہا جب کہ اس کے ضمنی اثرات آج تک محسوس ہوتے ہیں۔
زیرِ زمین سازشیں:
دورِ فاروقی کے آخری برسوں میں مسلمانوں کی فتوحات کی دھاک چہار سو بیٹھ چکی تھی۔ کسریٰ کی بادشاہت ایک بھولا بسرا افسانہ بن گئی تھی۔ قیصر بھی ایشیائی سلطنت کے اکثر حصے سے محروم ہو چکا تھا۔ ایران میں مجوسیت کے آتش کدے ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔ یہودی جزیرۃ العرب سے مکمل طور پر جلا وطن کر دیے گئےتھے۔ شام اور مصر سے تثلیث کے اثرات مٹتے جا رہے تھے۔ ان مفتوحہ علاقوں میں کسی ایک فرد کو بھی جبراً مسلمان نہیں کیا گیا تھا۔ اکثر لوگ جو سابقہ ادوار میں مظلومیت کی زندگی بسر کر رہے تھے، مسلمانوں کے اخلاق اوراسلام کی تعلیمات سے متاثر ہو کر اپنی رغبت سے مسلمان ہوئے تھے۔ بہت سے لوگ وہ تھے جو سابقہ مذاہب پر قائم رہتے ہوئے بھی مسلمانوں کے وفادار تھے۔
بہر حال آبائی دین پر باقی رہنے والوں میں ایک طبقہ ایسا تھا جس کی ضد اور حسد کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا، یہ لوگ اسلام سے صرف اس لیے نفرت کرتے تھے کہ اس دین نے ان کی آبائی سلطنتوں کو مٹایا تھا اور ان پر نفس پرستی کے دروازے بند کر دیے تھے لہٰذا ان کو خلافت اسلامیہ کا عروج ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ ان میں سے کچھ عیاروں نے مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لیے زبانی کلمہ بھی پڑھ لیا تھا اور بظاہر پرامن شہریوں کی طرح زندگی بسر کر رہے تھے مگر اندرونی طور پر مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے موقع کی تلاش میں تھے۔ چونکہ ہر طبقہ گومعاشرے میں قانونی طور پر مسلمان شہری مانا جاتا تھا، اس لیے کوئی مؤرخ یقینی طور پر نہیں بتاسکتا کہ ایسے غدار کون تھے جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کی جڑیں کاٹنے پر تلے ہوئے تھے مگر تاریخ میں ایک دو افراد کا ذکر ضرور ملتا ہے، جن کا کردار اس حوالے سے مشتبہ ہے۔
قاتلانہ حملہ۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔ کیسے؟
ان میں سے ایک شخص ہرمزان تھا جو کسریٰ یزدگرد کا قریبی رشتہ دار تھا اور مدینہ منورہ میں رہائش پذیر تھا۔ آج چودہ صدیاں بعد اس شخص کے اسلام میں مخلص ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا ممکن نہیں کیوں کہ دلوں کے بھید اللہ تعالیٰ جانتا ہے مگر ظاہری قرائن سے اس شخص کے احوال مشکوک ضرور ہیں۔ عین ممکن ہے کہ ایسے لوگوں کے یزد گرد سے روابط باقی ہوں جو اس وقت تک زندہ تھا۔ اپنی کھوئی ہوئی سلطنت کی بازیابی سے مایوس ہوکر وہ کوئی بھی انتقامی حربہ آزما سکتا تھا۔ یہ بات ہرگز بعید از قیاس نہیں کہ مجوسی سیاست دان عالم اسلام میں رہنے والے اپنے کارندوں کو استعمال کر کے مسلمانوں کو ان کے عظیم المرتبت خلیفہ سے محروم کر دینے کا منصوبہ بنا رہے ہوں۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ حج سے واپس آکر حسبِ معمول سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی میں مشغول ہو گئے۔ مورخین بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں ایک مجوسی غلام فیروز ابولؤلؤ رہائش پذیر تھا۔ وہ دو سال پہلے (سنہ ۲۱ ہجری کے دوران) فارس کی آخری حدود میں برپا ہونے والی تاریخی معرکہ نہاوند میں گرفتار ہوا تھا اور غلام بن کر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے حصے میں آیا تھا۔ یہ بیک وقت بڑھئی، مصور اور لوہار تھا۔ مختلف قسم کی چیزیں بنانے میں بہت مشہور تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مدینہ میں بالغ غیر مسلم غلاموں کو رہنے کی منظوری نہیں دیتے تھے مگر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی اس سفارش پر کہ اس غلام کی ہنرمندی سے اہلِ مدینہ کو فائدہ ہو گا فیروز کو رہائش کی اجازت دے دی۔
اس دور میں یہ دستور تھا کہ ایسے ہنرمند غلاموں سے ذاتی خدمات لینے کی بجائے انہیں صنعت و حرفت کا موقع دیا جاتا تھا۔ جو آمدن ہوتی اس میں سے ایک طے شدہ حصہ آقا وصول کر لیتا جسے ’’خراج‘‘ کہا جاتا تھا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فیروز کی آمدن سے یومیہ دو درہم (تقریباً دو سو روپے) وصول کرتے تھے کیوں کہ اس کا کاروبار خوب چل نکلا تھا۔ فیروز کو اتنی رقم کی ادائیگی گراں گزرتی تھی، اس لیے ایک دن حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر شکایت کی کہ ’’میرے آقا مجھ سے بہت زیادہ خراج وصول کرتے ہیں۔‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ’’کتنا وصول کرتے ہیں؟‘‘ بولا: ’’روزانہ دو درہم۔‘‘
آپ نے دریافت کیا: ’’تم کون کون سے ہنر سے کماتے ہو؟‘‘ بولا: ’’بڑھئی، لوہار اور نقاشی کے کام سے۔‘‘
یہ سن کر آپ نے فرمایا: ’’ان کاموں کی آمدن کے لحاظ سے تو وصول کی جانے والی رقم زیادہ نہیں ہے۔‘‘
فیروز یہ کہتے ہوئے چلا گیا: ’’ان کا عدل میرے سوا سب کے لیے کشادہ ہے۔‘‘
تاہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک سوالی مایوس ہو، اس لیے دل میں سوچ لیا تھا کہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے خراج کم کرنے کی سفارش ضرور کریں گے۔ آپ نے دو چار دن بعد فیروز کو کہیں سے گزرتے دیکھا تو اس کی دل بستگی کے لیے فرمایا: ’’سنا ہے تم پَوَن چکی اچھی بنا سکتے ہو۔ مجھے بنا دو گے۔‘‘
وہ عجیب سے لہجے میں بولا: ’’ایسی بنا دوں گا کہ مشرق و مغرب والے دیکھتے رہ جائیں گے۔‘‘
فہم و فراست کے پیکر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے سرد لہجے میں چھپی انتقام کی چنگاریاں محسوس کرلیں، ساتھیوں سے فرمایا: ’’سنو! یہ غلام مجھے دھمکی دے گیا ہے۔‘‘ اس کے باوجود آپ نے اسے گرفتار کرنے کی کوشش نہیں کی۔ آپ قانون کی بالادستی کے قائل تھے۔ جانتے تھے کہ جرم ثابت ہوئے بغیر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی اور اب تک فیروز کا کوئی جرم ثابت نہیں تھا۔ حاکم کو اختیار نہیں تھا کہ اپنے شک اور اندازے کی بنا پر کسی کے خلاف ریاستی طاقت استعمال کرے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا قتل وقتی اشتعال کا نتیجہ تھا یا کوئی سازش؟:
عام طور پر مورخین اس واقعے کو اس طرح نقل کرتے ہیں کہ گویا فیروز کو غصہ اسی بات پر آیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی فریاد رسی نہیں کی، چنانچہ مشتعل ہو کر اس نے خلیفہ کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
اس واقعے کے پسِ پردہ امکانات کا جائزہ لینے کی ضرورت نہیں محسوس کی گئی اور اگر کسی کا ذہن اس طرف گیا بھی ہے تو اسے دلچسپی سے تحقیق کرنے کا موقع نہیں ملا، حالانکہ اس معاملے کے تمام پہلوؤں کو اچھی طرح دیکھنے بھالنے کی ضرورت ہے۔ خصوصاً اس پہلو کی کہ کیا واقعی قاتل نے اتنا بڑا اقدام صرف چند درہموں کی کمی بیشی کے لیے کیا؟
ممکن تو ہے کہ بات اتنی ہی ہو مگر تاریخ، فلسفۂ عمرانیات اور انسانی نفسیات خصوصاً شہری رویوں اور ذہنی تبدیلی کے مرحلوں سے واقف شخص یہاں مطمئن نہیں ہو پاتا۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایک عام آدمی اپنے ہی جیسے کسی دوسرے شخص سے ایسی کسی معمولی بات پر جھگڑ پڑے، لیکن اپنے سے کسی بلند مرتبہ فرد سے بحث و تکرار وہ تب ہی کرے گا جب اس کی جان پر بن جائے یا اس پر ناقابلِ برداشت ظلم ہوا ہو، کیوں کہ اسے ایسے جھگڑے کے عواقب کا پتا ہوتا ہے، وہ سارے خطرات سامنے رکھ کر ہی ایسی جرات دکھاتا ہے۔ یہاں مشتعل شخص کا معاملہ کسی افسر سے نہیں تھا۔ یہ ایک غلام اور ساڑھے بائیس لاکھ مر بع میل (36 لاکھ 21 ہزار مر بع کلومیٹر) کے بے تاج حکمران کے درمیان کش مکش تھی۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی بڑی طاقت اور اختیارات کے مالک سے صرف اتنی معمولی بات پر دشمنی پال لی جائے۔
نفسیاتِ انسانی کا ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے۔ عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ دو افراد کے درمیان کوئی اختلافی بات بحث اور گالی گلوچ سے بڑھ کر ہاتھا پائی تک پہنچ جائے اور اس اشتعال میں اچانک ایک کے ہاتھوں دوسرے کا خون ہو جائے مگر ایسے جھگڑوں کے دوران اگر پیچ بچاؤ ہو جائے تو سو میں سے ننانوے مثالوں میں معاملہ جان لینے تک نہیں پہنچتا۔ معمولی باتوں سے مشتعل ہو کر قتل کرنے کی نوبت تب آتی ہے جب بیچ میں سوچنے سمجھنے کا وقفہ نہ ملے، اگر وقفہ میسر آ جائے تو انسان کو اپنی حماقت کا احساس ہو جاتا ہے اور وہ انتہائی قدم اٹھانے سے گریز کرتا ہے۔
اب زیرِ بحث واقعے کا جائزہ لیں تو یہاں فیروز کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس بات چیت اور پھر اقدامِ قتل کے واقعے میں پورے تین دن کا وقفہ ہے۔ اتنا بڑا وقفہ سوچ بچار کے لیے بہت کافی تھا۔ کوئی بھی شخص جو کسی معمولی بات پر برافروختہ ہوا ہو، اتنی دیر تک مشتعل نہیں رہ سکتا سوائے اس کے کہ وہ نفسیاتی مریض ہو، جبکہ فیروز کے نفسیاتی مریض ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا، بلکہ اس کی ہنرمندی اس کی ذہانت اور ہوشیاری کے ثبوت کے لیے کافی ہے۔ پھر خاص طور پر ہم اس گفتگو کو دیکھتے ہیں جو فیروز اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان ہوئی، اس میں بھی امیر المؤمنین کی طرف سے تحقیر، ڈانٹ پھٹکار یا سختی کا کوئی تأثر نہیں ملتا۔ اس مکالمے میں کوئی ایسی بات سرے سے نہیں تھی کہ فیروز مشتعل ہوتا۔
ظاہر ہے وہ بازار کا پیشہ ور آدمی تھا، اسے خوب معلوم تھا کہ غلاموں سے لیے جانے والے خراج کی شرح کیا ہوتی ہے۔ اگر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کوئی غیر معمولی سخت لگان مقرر کیا ہوتا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ضرور چونکتے کہ وہ بھی بازار کے معاملات سے آگاہ تھے، مگر چونکہ لگان مناسب تھا اس لیے بجا طور پر فرمایا کہ تمہارے کاموں کی آمدن کے لحاظ سے یہ خراج زیادہ مقرر نہیں کیا گیا۔ یہ بات زمینی حقیقت کے عین مطابق تھی۔ ممکن ہے فیروز، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ تصور کر کے آیا ہو کہ وہ بازار اور صنعتوں کے معاملات سے ناواقف ہوں گے اور اس کی بے جا شکایت کو درست مان کر اس کے حق میں فیصلہ کر دیں گے، مگر اس صورت میں بھی اس کا ردِ عمل شرمندگی یا زیادہ سے زیادہ مایوسی کی شکل میں نکلتا۔ یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ جان لینے کے درپے ہو جاتا۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی کہے کہ مزدور نے سیٹھ پر اس لیے قاتلانہ حملہ کر دیا کہ اس کو پوری مزدوری مل رہی تھی، جبکہ وہ دو گنا معاوضہ چاہتا تھا یا ملازم نے فیکٹری کے مالک کو اس لیے قتل کر دیا کہ اسے وقت پر تنخواہ ملتی تھی جبکہ وہ وقت سے پہلے وصول کرنے کا خواہاں تھا۔ ظاہر ہے ایسا نہیں ہوتا۔
غرض سارے معاملے کو غور سے دیکھنے سے یہ امکان بہت واضح ہو جاتا ہے کہ فیروز نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا تہیہ پہلے سے کیا ہوا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے آخر کیوں؟ غور کیا جائے تو لگتا ہے کہ اس عزم کے پیچھے کوئی بہت قوی محرک موجود تھا، جس کی اشتعال انگیزی اتنی تھی کہ فیروز نے اپنی جان جانے کا یقینی خطرہ مول لیتے ہوئے، مجمعِ عام میں امیر المؤمنین پر حملہ کیا۔ نفسیات سے واقف لوگ جانتے ہیں کہ عموماً ایسے انتہائی جارحانہ اقدام پر برانگیختہ کرنے والا محرک مذہبی اور قومی ہوا کرتا ہے۔ حکمرانوں پر حملوں کے درجنوں واقعات تاریخ میں ملیں گے، تقریباً سب کے پسِ پردہ کوئی قومی، وطنی یا مذہبی دشمنی کا فرما نظر آئے گی۔ ذاتی دشمنی کے تحت کی گئی انتقامی کارروائیوں میں ایسا شدید جذبہ نہیں ہوتا بلکہ حملہ آور چھپ کر وار کرتا ہے اور جائے فرار محفوظ رکھتا ہے مگر فیروز کا حملہ بڑی حد تک خودکش قسم کا تھا جو قومی، وطنی اور مذہبی اشتعال پر ہی مبنی ہوسکتا ہے۔ اس قومی جذبے کا پتا اس سے چلتا ہے کہ فیروز مدینہ میں لائے جانے والے کم سن مجوسی قیدیوں کے سروں پر ہاتھ پھیرتا اور روتے ہوئے کہتا تھا: ’’عربوں نے میرا کلیجہ چھلنی کر دیا ہے۔‘‘
ہمیں فیروز کا دھمکی آمیز جملہ بھی یاد رکھنا چاہیے: ’’ایسی پَون چکی بنا کر دوں گا کہ مشرق و مغرب والے دیکھتے رہ جائیں گے۔‘‘ اس معنی خیز فقرہ وہی کہہ سکتا ہے جو پہلے سے کچھ ٹھان چکا ہو اور اپنی ہدفی منصوبہ بندی کرچکا ہو۔ فوری اشتعال میں آنے والا ایسے گہرے فقرے نہیں کہتا بلکہ عام طور پر وہ کھلم کھلا کہہ دیتا ہے کہ چھوڑوں گا نہیں، جان سے مار دوں گا۔
ایک سوال رہ جاتا ہے، وہ یہ کہ فیروز نے جو کچھ کیا، اپنی صوابدید سے کیا یا اس کے پیچھے کوئی طاقت بھی کارفرما تھی؟ دونوں باتیں ہوسکتی ہیں، مگر کسی بیرونی طاقت کی پشت پناہی کے امکانات زیادہ ہیں، اس کی دو وجوہ ہیں:
فیروز جیسے غلام کو جیسے اسلامی معاشرے میں ہر سہولت کے ساتھ زندگی گزارتے ہوئے، دو سال ہونے والے تھے، دیگر غیر مسلموں کی طرح اسلامی خلافت اور مملکت کا وفادار بن جانا چاہیے تھا مگر نہ صرف یہ کہ وہ اس معاشرے سے ہم آہنگ نہیں ہوا، بلکہ اس مملکت اور حکومت کا غدار ثابت ہوا۔ ایسا کردار عموماً انہی لوگوں کا ہوتا ہے جو کسی بیرونی طاقت کے آلہ کار یا جاسوس ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ امکانات موجود ہیں کہ شروع سے فیروز کسی بیرونی طاقت کا ایجنٹ ہو۔ اب وہ طاقت کونسی ہو سکتی تھی!! مدینہ منورہ میں رہائش پذیر ایرانی شہزادے ہرمزان سے فیروز کے گہرے تعلقات اور خود فیروز کا سابق مجوسی ہونا ان امکانات کو وزنی کرتا ہے کہ مجوسیوں کا شکست خوردہ شاہی خاندان اسے آلہ کار بنائے ہوئے ہو اور انہی لوگوں کی طرف سے اسے موقع ملتے ہی قاتلانہ وار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہو۔
ان امکانات تک پہنچنے کے بعد یہ بھی قرینِ قیاس ہے کہ فیروز کا حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے جا کر ملنا، درحقیقت فریاد سنانے کے لیے نہیں تھا بلکہ اس کا اصل مقصد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ لینا تھا۔ تاریخ سے اس کی حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے یہی ایک دو ملاقاتیں ثابت ہیں۔ ظاہر ہے کوئی غیر مسلم غلام کسی خاص ضرورت کے بغیر امیر المؤمنین کے پاس آتا جاتا تو اس پر شبہ کیا جاسکتا تھا۔ ہاں اپنے مسائل کے حل کے لیے مسلم و غیر مسلم سبھی حاضر ہوتے رہتے تھے۔ فیروز نے بھی اس بہانے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور حفاظتی انتظامات سمیت تمام موقع محل اچھی طرح دیکھ لیا۔
یہ بات بھی ذہن میں رکھی جائے کہ فیروز نے قاتلانہ حملے کے لیے ایک خاص قسم کا خنجر حاصل یا تیار کیا تھا جو مدینہ طیبہ یا عرب معاشرے میں نئی چیز تھی۔ اس کے دو پھل تھے، اور دستہ درمیان میں تھا۔ خنجر کو زہر آلود بھی کر لیا گیا تھا کہ حملہ ناکام رہنے کا امکان کم سے کم ہو۔ یہ انتظامات بھی کسی غیر معمولی منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
قاتلانہ حملہ:
بدھ ۲۷ ذوالحجہ کو امیر المؤمنین معمول کے مطابق فجر کی نماز پڑھانے محراب میں تشریف لائے، جیسے ہی آپ نے تکبیرِ تحریمہ کہی، ایک کونے میں چھپا ہوا فیروز باہر آیا اور ان کی پشت پر خنجر سے پے در پے چھ وار کیے۔ ہمت و برداشت کے پیکر عمر فاروق رضی اللہ عنہ کسی چیخ و پکار کے بغیر شدید زخمی ہو کر گر پڑے۔ حملہ اتنا اچانک ہوا تھا کہ پچھلی صفوں کے لوگوں کو کچھ پتا نہ چل سکا کہ کیا ہوا ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی قرأت کی آواز نہ آئی تو پچھلی صفوں کے لوگ کچھ دیر تک سبحان اللہ! سبحان اللہ! کہہ کر لقمہ دیتے رہے۔ اس دوران قاتل بھاگنے لگا۔ کچھ لوگوں نے معاملہ بھانپ کر اس کو پکڑنے کی کوشش کی مگر اس دن پتا چلا کہ وہ خنجر زنی میں نہایت مشاق ہے، آناً فاناً اس نے اپنی طرف بڑھنے والے تیرہ آدمیوں کو خون میں لت پت کر دیا جن میں سے نو آدمی زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہو گئے۔ آخر ایک شخص نے چادر پھینک کر اسے جکڑ لیا مگر فیروز نے گرفتاری دینے کی بجائے اس وقت اپنے گلے پر خنجر پھیر کر خودکشی کر لی۔
خنجر زنی میں فیروز کی حیرت انگیز مہارت بھی اس کے غیر ملکی ایجنٹ ہونے کے امکان کو پختہ کرتی ہے، کیوں کہ اتنی سخت تربیت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جن کو حکومتیں یا دہشت گرد گروہ خصوصی اہداف کے لیے تیار کرتی ہیں۔
قاتل کی خودکشی بھی سوالیہ نشان تھی جس سے تحقیق کے راستے بند ہو گئے تھے کہ حملے کے پسِ پردہ قوتیں کون سی ہیں۔ مگر اس سے اتنا اشارہ ضرور مل جاتا ہے کہ کسی بہت ہی گھناؤنی سازش کے بعد اتنی بڑی کارروائی ہوئی تھی۔ چونکہ تفتیش کی صورت میں اس سازش کے بانیوں کے چہروں سے نقاب اتر جاتا۔ اس لیے فیروز کو پہلے ہی تیار کر لیا گیا تھا کہ ایسے موقع پر وہ اپنے آقاؤں کو بچانے کے لیے کیا کرے؟
زخم کھا کر امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ محراب میں گر ے ہوئے تھے مگر ہوش باقی تھا، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں آگے کر دیا کہ نماز پڑھائیں۔ انہوں نے مختصر سی دو رکعتیں پڑھا دیں۔ دو دھارے خنجر نے خلیفۂ المسلمین کا شکم چیر دیا تھا، مگر ہمت کا یہ عالم تھا کہ تمام حواس قابو میں تھے۔ لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو امیر المؤمنین کی آواز ابھری: ’’ابن عباس! جا کر دیکھو مجھے مارنے والا کون ہے؟‘‘
وہ دیکھ کر آئے اور بتایا: ’’مغیرہ بن شعبہ کا غلام!‘‘
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ’’اچھا وہی کاریگر؟‘‘ عرض کیا ’’جی ہاں، وہی۔‘‘
فرمایا ’’اللہ اسے ہلاک کرے، میں نے تو اس کے بارے میں انصاف کا معاملہ کیا تھا۔‘‘
پھر فرمایا: ’’حمد و ستائش ہے اس اللہ کی جس نے میری موت کسی اسلام کا کلمہ پڑھنے والے کے ہاتھوں نہیں ہونے دی۔‘‘
آخری وصیتیں:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر گھر لایا گیا۔ زخموں کی شدت کی وجہ سے خون رکنے میں نہیں آ رہا تھا، اسی لیے بار بار غشی طاری ہورہی تھی۔ آپ رضی اللہ عنہ کو غذا کے طور پر پہلے نبیذ اور پھر دودھ دیا گیا مگر سب کچھ پیٹ کے زخم کے راستے خارج ہو گیا، یہ دیکھ کر طبیب نے بھی زندگی سے مایوسی ظاہر کر دی، مگر اس حالت میں بھی نماز کے وقت انہیں ہوشیار کیا جاتا تو بار بار آپ فرماتے: ’’ہاں، ہاں، اس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں جو نماز ترک کر دے۔‘‘
اصلاحِ خلق کے ولولے کا یہ عالم تھا کہ اس حالت میں بھی عیادت کے لیے آنے والے ایک نوجوان کی شلوار ٹخنوں سے نیچے دیکھی تو بڑی شفقت سے فرمایا: ’’بیٹا! شلوار اوپر رکھنا، کپڑا صاف رہے گا اور یہ خوفِ خدا کی علامت ہے۔‘‘
اپنے اوپر چڑھنے والے قرض کا اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے حساب لگوایا جو چھیاسی ہزار درہم بنے۔ بیٹے کو ان کی ادائیگی کی ترتیب سمجھائی۔
اس موقع پر کسی نے تعریف کی کہ آپ اتنے بڑے صحابی اور عادل حکمران ہیں، اب شہادت کا مرتبہ پا رہے ہیں۔ آپ نے تعریف کا کوئی اثر لیے بغیر حسرت کے ساتھ فرمایا: ’’کاش حساب برابر ہو جائے، نہ کوئی سزا ملے نہ جزا۔‘‘
اس وقت آپ کی جانشینی کا مسئلہ واقعی سب سے اہم تھا، رفقاء نے مشورہ دیا کہ کسی کو جانشین مقرر فرما دیں۔ آپ نے فرمایا:
’’اَکْرَہُ اَنْ اَتَحَمَّلَھَا حَیًّا وَّ مَیِّتًا۔‘‘ (مجھے گوارا نہیں کہ زندگی میں بھی یہ بوجھ اٹھاؤں اور مر کر بھی)
تاہم آپ کو خلافت کی منتقلی کی فکر ضرور لاحق تھی، چنانچہ آپ نے نہایت معقول فیصلہ کرتے ہوئے چھ بزرگ صحابہ: حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم پر مشتمل ایک جماعت کو نامزد کر دیا اور فرمایا: ’’میری موت کے بعد تین دن کے اندر اندر یہ حضرات باہم مشورہ کر کے آپس میں سے کسی ایک کو امیر چن لیں۔‘‘
حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے بعد یہی چھ حضرات پوری امتِ مسلمہ میں سب سے افضل اور صحابہ کرام میں سب سے عظیم المرتبت تھے، جن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری دم تک خوش رہنا مشہور و معروف تھا، ان کی زندگی ہی میں جنت کی خوشخبری حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے مل چکی تھی۔ عشرہ مبشرہ کے ساتویں فرد جو اس وقت تک حیات تھے، حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ تھے مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ انہیں اس شوریٰ سے الگ رکھا کیوں کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے بہنوئی بھی تھے اور چچازاد بھی۔ اپنے بیٹے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو شوریٰ میں فقط اس طور پر شرکت کی اجازت دی کہ وہ صرف مشورہ دے سکتے ہیں، خلافت کے لیے نامزد نہیں ہو سکتے۔
وصیت:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آخری لمحات سے قبل فرمایا: ’’میں اپنے بعد مقرر ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ:
۱۔ وہ مہاجرینِ اولین کے حقوق کو پہچانے اور ان کی حرمت ملحوظ رکھے۔
۲۔ میں اسے انصار کے ساتھ جو دارالاسلام اور ایمان میں پہلے سے قرار پکڑے ہوئے ہیں، خیر کا معاملہ کرنے، ان کے اچھا کرنے والوں کی اچھائی قبول کرنے اور بُرا کرنے والوں کی برائی سے درگزر کرنے کی وصیت کرتا ہوں۔
۳۔ میں شہریوں سے بھلائی کرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ یہ لوگ اسلام کا حصار، محصولات کا ذریعہ اور کفار کے لیے باعثِ غیظ ہیں۔ ان سے ان کی رضامندی کے ساتھ اتنا ہی محصول لیا جائے جو زائد ہو۔
۴۔ میں وصیت کرتا ہوں کہ دیہاتی باشندوں کے ساتھ خیر کا معاملہ کرنا کہ یہ اصل عرب ہیں، اسلام کا خمیر ہیں۔ ان کے زائد از ضرورت اموال میں سے محصول لیا جائے اور انہی کے فقراء پر خرچ کیا جائے۔
۵۔ میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ داری میں آنے والے غیر مسلم شہریوں کا خیال رکھے، ان سے عہد کی پابندی کی جائے، ان کی حفاظت کے لیے جنگ کی جائے، ان پر برداشت سے زائد بوجھ نہ ڈالا جائے۔‘‘
آخری خواہش:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شدید خواہش تھی کہ اپنے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں دفن ہوں۔ آپ نے یہ درخواست اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجی۔ انہوں نے فرمایا:
’’یہ جگہ میں نے اپنی تدفین کے لیے پسند کی تھی، مگر عمر فاروق کو اپنے اوپر ترجیح دیتی ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر اجازت دے دی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو فرمایا: ’’اس سے بڑھ کر کوئی تمنا نہ تھی۔‘‘
جان کنی کا وقت آیا تو امیر المؤمنین نے اپنے بیٹے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
’’میرا سر تکیے سے ہٹا کر زمین پر رکھ دو۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میری حالت پر رحم آ جائے۔ واللہ! آج کے دن کسی ہولناکی سے بچنے کے لیے اگر ممکن ہوتا تو میں ساری دنیا قربان کر دیتا۔‘‘
وفات:
تین دن زخمی حالت میں گزار کر یکم محرم ۲۳ھ کو دنیا کی تاریخ کے اس بے مثال حکمران نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ نے جو آپ کی جگہ تین دن تک مسجد نبوی کے امام رہے، نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ اپنی آخری خواہش کے مطابق حجرۂ عائشہ (رضی اللہ عنہا) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پہلو میں مدفون ہوئے۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
جانشینی:
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وفات سے پہلے اپنے جانشین کے انتخاب کے لیے حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت طلحہ بن عبید اللہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہم پر مشتمل جو کمیٹی بنائی تھی، اس کے ارکان ایک مکان میں الگ بیٹھ کر مشورہ کرتے رہے۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ باہر مسلح پہرہ دے رہے تھے، کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔ فیصلہ ہونے میں دیر ہوتی چلی گئی۔ حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ’’اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ شوریٰ کے ارکان منصبِ خلافت کے خواہش مند تھے بلکہ ان میں سے ہر کوئی یہ منصب دوسرے کو سونپنا چاہتا تھا۔‘‘
ان کا خیال درست تھا کیوں کہ مشورے کے اگلے مرحلے میں حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اور حضرت سعد رضی اللہ عنہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے حق میں دست بردار ہو گئے۔ اب خلافت کے لیے صرف تین افراد: حضرت عثمان، حضرت علی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہم رہ گئے۔
اس صورتحال میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما سے فرمایا: ’’آپ دونوں میں سے کوئی ایک اپنے حق سے دستبردار ہو جائے اور معاملے کا فیصلہ اس کے ہاتھ میں دے دیا جائے، وہ اللہ کو اور اسلام کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے دل میں جسے سب سے بہتر سمجھتا ہے، اس کے بارے میں فیصلہ کر دے۔‘‘
حضرت عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کو خاموش دیکھ کر پھر وہ خود ہی بولے: ’’اچھا تو کیا آپ فیصلے کرنے کا اختیار مجھے سونپیں گے؟ اللہ کی قسم! میں آپ میں سے بہترین شخص کے انتخاب میں کوئی کسر نہ چھوڑوں گا۔‘‘
حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما نے اس پیش کش کو بخوشی قبول کرلیا۔
اب حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہما کے درمیان فیصلہ ہونا تھا، جس کا اختیار حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پاس آ چکا تھا۔ یہ دونوں حضرات امت کے بہترین فرد، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دیرینہ رفیق اور اعلیٰ ترین صلاحیتوں کے مالک تھے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شوریٰ کی تشکیل دیتے ہوئے خود فرما چکے تھے کہ ’’میرے خیال میں لوگ عثمان اور علی میں سے کسی کو ترجیح دیں گے۔‘‘
ظاہر ی بات تھی کہ ان دونوں میں سے جسے بھی منتخب کیا جاتا امت کے لیے خیر ہی خیر تھی۔ ادھر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ذاتی صوابدید پر فوری فیصلے کا اختیار مل چکا تھا۔ مگر انہوں نے اسلامی سیاست کے مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ صائب الرائے لوگوں کو انتقالِ اقتدار کی مشاورت میں شریک کیا۔
یہ بات تو طے ہو چکی تھی کہ امت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے افضل اور زیادہ قابل اس وقت کوئی نہیں یہاں تک کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے جب حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تنہائی میں دریافت کیا:
''اگر آپ کے سوا کسی کو خلیفہ بنایا جائے تو کون بہتر ہوگا؟'' تو وہ بلا توقف بولے: ''عثمان''۔
یہی سوال انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کیا تو وہ بولے: ''علی''۔
اس ذمہ داری کی نزاکت اور اہمیت کے پیش نظر حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تین دن رات تک مسلسل استصوابِ رائے میں مشغول رہے، اس دوران سوائے نماز اور مختصری نیند کے وہ کسی وقت فارغ نہ بیٹھے، ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا اور استخارے کا اہتمام بھی کیا۔ انہوں نے اکابر صحابہ کے علاوہ مہاجرین وانصار اور ارباب فکر و نظر سے گھر گھر جا کر الگ الگ ملاقاتیں کر کے پوچھا کہ حضرت عثمان یا حضرت علی میں سے کن کو منتخب کیا جائے؟ اس بارے میں عام مجمعوں کے افراد، چھاؤنیوں کے مجاہدین، دیہاتوں کے بدوؤں اور مدینہ آنے جانے والے قافلوں کے سربراہ سے ملاقاتیں کر کے رائے معلوم کی، سب کی متفقہ رائے یہ تھی کہ اس منصب کے لئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ زیادہ بہتر ہیں۔
رائے عامہ کا یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات مبارکہ ہی میں عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں خلافت کی خوشخبری دے دی تھی۔ صحابہ جانتے تھے کہ جب مسجد نبوی کی تعمیر شروع ہوئی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی اینٹ اٹھائی تو دوسری حضرت ابوبکر اور تیسری حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اٹھائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر فرمایا تھا:
''ھٰؤُلَآءِ الْخُلَفَآءُ مِنْ بَعْدِیْ'' ''یہ میرے بعد خلفاء ہوں گے۔''
صحابہ کرام کا کہنا تھا: ''ہم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حضرت ابوبکر کے برابر کسی کو نہیں سمجھتے تھے، ان کے بعد حضرت عمر کو اور ان کے بعد حضرت عثمان کو سب سے افضل سمجھتے تھے۔''
ہر طرف سے اطمینان کر کے آخر عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ چوتھے دن نماز فجر کے بعد منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھام کر کہا: ''آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ داری اور ابتدا میں اسلام لانے کا شرف حاصل ہے۔ میں آپ سے اللہ کے نام کا حلفیہ عہد لیتا ہوں کہ اگر خلافت کا فیصلہ آپ کے حق میں کروں تو آپ ضرور عدل و انصاف کریں گے اور اگر میں عثمان کو امیر بناؤں تو آپ ان کی بات بخوشی سنیں گے اور مانیں گے۔'' پھر یہی بات انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے کہی۔ دونوں حضرات نے یہ عہد کیا۔
تب انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ''اے علی! میں نے لوگوں کو اچھی طرح دیکھا بھالا۔ وہ عثمان کو ترجیح دیتے ہیں۔ لہذا آپ ذرا بھی ناگواری محسوس نہ فرمائیے گا۔''
پھر فرمایا: ''عثمان ہاتھ بڑھائیے۔'' اور ان کا ہاتھ تھام کر یہ کہتے ہوئے ان سے بیعت کی:
''ہم آپ سے اللہ کے حکم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اور ان کے دو سابق خلفاء کی سنت پر بیعت کرتے ہیں۔''
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی بیعت کی اور اسی مجمع عام میں مہاجرین وانصار سمیت سب لوگوں نے جمع ہو کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
بیعت کا یہ پورا واقعہ دو صحیح روایات سے لیا گیا ہے جو واضح کرتی ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں کسی کو اختلاف نہیں تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بھی اسے بخوشی قبول کیا تھا۔
یہی وجہ ہے کہ امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
''حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بیعت جیسی مضبوط و مستحکم بیعت کسی اور خلیفہ کی نہیں ہوئی، جس میں سب کا اتفاق تھا۔''

