Hazrat Usman Ghani RA Ki Khilafat, Seerat aur Karname

خلافتِ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ

        حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ قریش کے خاندان بنو امیہ کے معزز اور شریف ترین فرد تھے۔ عام الفیل کے چھ سال بعد طائف میں  پیدا ہوئے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا اعلان کیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ چونتیس سال کے بھرپور جوان تھے۔ ان کے والد عفان کی وفات ہو چکی تھی اور ترکے میں انہیں خاصی دولت ملی تھی جسے اپنے آبائی پیشے تجارت میں لگا کر وہ ایک خوشحال زندگی بسر کر رہے تھے مگر اسلام کی آواز کانوں میں پڑتے ہی انہوں نے اپنی دولت، مرتبے اور راحت و سکون سے بھرپور زندگی کو داؤ پر لگا کر کلمہ طیبہ پڑھ لیا۔ اس طرح وہ اسلام لانے والی اولین ہستیوں میں شامل ہو گئے۔ ان کے چچا حکم بن العاص نے انہیں سخت زدوکوب کیا مگر وہ دین حق پر جمے رہے۔


        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ عشرہ مبشرہ یعنی ان دس خوش قسمت ترین افراد میں سے ہیں جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری سنا دی تھی۔ وہ ان چھ مخصوص رفقائے نبوت میں سے ہیں جن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آخر دم تک رضا مندی ثابت ہے۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دو باتوں میں خاص الخاص امتیاز حاصل تھا: ایک یہ کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دوہرے داماد تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا ان کے نکاح میں دی تھیں۔ جب وہ بیمار ہو کر وفات پا گئیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دوسری بیٹی حضرت اُم کلثوم رضی اللہ عنہا کو ان کے نکاح میں دیا اور جب ان کا بھی انتقال ہو گیا تو فرمایا: "اگر میری اور کوئی بیٹی ہوتی تو وہ بھی دے دیتا۔" اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دنیا کی تاریخ میں وہ واحد انسان ہیں جن کے نکاح میں کسی نبی کی دو بیٹیاں آئی ہوں، اسی بناء پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا لقب ذوالنورین ہے۔

        یہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کردار کی بلندی کا پروانہ اور ان کی شخصیت پر کامل اعتماد کا اظہار بھی تھا، اس لئے کہ کوئی بھی شریف انسان اپنی  بیٹیاں کسی کم ظرف یا معیوب کردار والے شخص کے نکاح میں دینا گوارا نہیں کرتا۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دوسری غیر معمولی خصوصیت یہ حاصل تھی کہ وہ شرم وحیا میں دنیا کے تمام انسانوں سے بڑھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک بار آرام فرما رہے تھے، پنڈلیاں مبارک کھلی ہوئی تھیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح لیٹے ہوئے ان سے بات چیت کرتے رہے۔ یہ دونوں حضرات چلے گئے تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ دروازے پر آئے اور اندر داخل ہونے کی اجازت مانگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یکدم اٹھ کر بیٹھ گئے اور کپڑے درست کرنے لگے۔ پوچھا گیا: حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے آنے پر آپ نہ چونکے، مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ اٹھ بیٹھے اور کپڑے درست کرنے لگے۔ وجہ پوچھی گئی تو فرمایا:

        "کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔"

        ایک روایت میں ہے کہ فرمایا: عثمان بہت حیادار آدمی ہیں، مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ مجھے اس حالت میں دیکھ کر مجھ سے اپنا مدعا بیان نہ کر پائیں گے۔

        اس شدتِ حیا کی وجہ سے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کبھی باجامہ اتار کر نہیں نہائے حالانکہ بند غسل خانے میں نہاتے تھے۔

        آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام کی خاطر مکہ مکرمہ سے حبشہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ آپ کی زوجہ محترمہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کے ساتھ تھیں۔ کچھ مدت بعد آپ رضی اللہ عنہ مکہ معظمہ لوٹ آئے، پھر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ ہجرت کا حکم دیا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کے ساتھ وہیں تشریف لے گئے۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنا مال و دولت راہِ مولیٰ میں بے دریغ لٹائی۔ مدینہ منورہ میں مسلمانوں کو میٹھے پانی کی فراہمی میں بڑی مشکل پیش آتی تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک یہودی کو منہ مانگے دام دے کر اس سے میٹھے پانی کا کنواں بئر رومہ خرید کر مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا۔ جنگ تبوک کے موقع پر آپ رضی اللہ عنہ نے جہاد کے لئے تین سو اونٹ ساز و سامان سمیت  پیش کئے، اس کے علاوہ ایک ہزار دینار بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جھولی میں لا ڈالے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوش ہو کر فرمایا: "آج کے بعد عثمان کچھ بھی کریں، انہیں کچھ نقصان نہیں۔"

        ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ جبلِ اُحد پر تشریف لے گئے، یکایک پہاڑ لرزنے لگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکار کر کہا: "ٹھہر جا، تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا اور کوئی نہیں۔"


        صلح حدیبیہ سے بھی آپ رضی اللہ عنہ کے مقام کا صحیح اندازہ ہوتا ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو سفیر بنا کر قریش کے پاس بھیجا۔ پھر جب آپ کے شہید کر دیے جانے کی افواہ پھیلی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو جمع فرما کر خونِ عثمان کا بدلہ لینے کے لیے ان سے موت کی بیعت لی جسے  بیعتِ رضوان کہا جاتا ہے کیوں کہ اس میں شریک ہونے والوں کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفتح میں اپنی رضامندی کا پروانہ دیا۔

        یہی وجہ تھی کہ اکثر صحابہ کرام حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہی کو سب سے افضل مانتے تھے۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو اپنے دورِ خلافت میں جس فتنے اور آزمائش سے سابقہ پڑنے والا تھا اس کی طرف خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرما دیا تھا۔ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما  یکے بعد دیگرے تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دربان حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی زبانی دونوں کو جنت کی بشارت دی، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو فرمایا: انہیں جنت کی بشارت دو مگر ان کی آزمائش کے ساتھ جو انہیں پیش آ کر رہے گی۔

        ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے ایک فتنے کا تذکرہ کیا، اس دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ چادر اوڑھے ہوئے قریب سے گزرے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: "یہ اس دن حق پر ہوں گے۔"

خلافت کی ذمہ داریاں:

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خلافت کی ذمہ داری ایسے حالات میں سنبھالی تھی کہ اسلامی خلافت کی حدود مشرق سے مغرب تک پھیل چکی تھیں۔ خراسان، فارس، عراق عجم، عراق عرب، الجزیرہ، شام، مصر، آرمینیا اور آذربائیجان تک کے علاقے چند برس قبل اسلامی قلمرو میں شامل ہوئے تھے، ان علاقوں میں متعدد اقوام بستی تھیں جن کی زبانیں، تہذیبیں اور عادات و نفسیات الگ الگ تھیں۔ ان سب کو ایک لڑی میں پروئے رکھنا، عدل و انصاف مہیا کرنا، حکومتِ اسلامیہ پر ان کا اعتماد متزلزل نہ ہونے دینا اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کی طرح قانون کی بالادستی کا معیار قائم رکھنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ فتوحات کا جو ریلا حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں چلا تھا، ابھی اس کے سامنے وسیع میدان باقی تھے۔ اسلام دشمن طاقتیں بکھرنے کے بعد مسلسل پسپائی کی حالت میں تھیں، ایسے میں اسلام کی شوکت و سطوت کو باقی رکھنے کے لیے لشکروں کی مہم جوئیوں کو رکنے نہ دینا بھی نہایت ضروری تھا۔

ہرمزان کا قتل - ایک نازک قضیہ:

        اگرچہ بظاہر اس زمانے میں مسلمانوں کی دھاک ایسی بیٹھ چکی تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے حکومت  ا نتہائی مسائل پریشانی کا باعث نہیں ہونا چاہیے تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے کچھ ایسے حقائق بھی تھے جن سے انہیں اندازہ ہو چلا تھا کہ اسلام دشمن طاقتیں اب چھپ کر وار کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں اور ان کے آئندہ حملے خفیہ انداز کے ہوں گے۔ مدینہ منورہ میں امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایک مجوسی کے ہاتھوں قتل محض کوئی اتفاقی واقعہ نہیں ہو سکتا تھا۔ اگر ایک بہت بڑی غلطی نہ ہو جاتی تو اس سازش کا راز یقیناً دنیا کے سامنے آ جاتا۔ یہ ایسی غلطی تھی جس سے نہ صرف حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قتل کی سازش کے پس پردہ اصل منصوبہ سازوں کا سراغ ہمیشہ کے لیے گم ہو گیا بلکہ اس کی وجہ سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنتے ہی ایک نہایت نازک فیصلہ کرنا پڑا تھا، اگر وہ اپنی خداداد بصیرت سے کام لے کر مسئلے کا حل نہ نکال لیتے تو سابق خلیفہ کی شہادت کے ساتھ ہی ایک اور فتنہ پھوٹ پڑتا۔

        آپ رضی اللہ عنہ ابھی خلافت کی بیعت لے کر فارغ ہوئے تھے کہ آپ کے پاس حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بیٹے عبید اللہ رضی اللہ عنہ کا مقدمہ پیش کیا گیا کہ انہوں نے ایک مسلمان ہرمزان کو ناحق قتل کر دیا ہے۔ ہوا یہ تھا کہ عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو ان کے دوست حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر حملہ کرنے والے مجوسی ابولؤلؤ کو قاتلانہ حملے سے ایک دن پہلے آلہ قتل سمیت ہرمزان کے ساتھ کھڑے دیکھا تھا۔ اس وقت ہرمزان فیروز کو یہ خنجر دے رہا تھا۔ حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ لیا تو وہ دونوں گھبرا گئے، خنجر چھوٹ کر زمین پر گر پڑا۔ اگلے دن صبح اسی خنجر سے ابولؤلؤ ملعون نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر حملہ کیا۔ عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ پر جب یہ انکشاف ہوا تو اس وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دم لبوں پر تھا۔ باپ کی موت کو یقینی دیکھ کر انہوں نے جوشِ انتقام میں ہرمزان کو قتل کر ڈالا، کیوں کہ ان کی معلومات کے مطابق وہ حملے کی سازش میں شریک تھا مگر اس کا کوئی ثبوت ان کے پاس نہ تھا۔ چنانچہ عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو گرفتار کر کے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مکان میں قید کر دیا گیا۔

        حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد یہ مقدمہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اکابر صحابہ کرام کو جمع کر کے مشورہ لیا، یہاں سیدھی بات یہ تھی کہ عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ایک کلمہ گو کو ناحق قتل کیا ہے، لہذا انہیں قصاص میں قتل کر دیا جائے۔ بعض صحابہ کرام کی رائے بھی یہی تھی۔ ادھر عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قتل میں ہرمزان کی شرکت کا کوئی ثبوت پیش نہیں کر سکتے تھے، اس لیے مقدمے میں ان کا پلہ کمزور پڑ گیا تھا۔ تاہم حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی فقیہانہ نگاہ معاملے کو جس گہرائی سے دیکھ رہی تھی عام لوگ اس سے قاصر تھے۔ عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ کیا تھا، اس یقین کے تحت کیا تھا کہ ہرمزان قتل کی سازش میں شریک ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ان کے سامنے تھا:

        "اگر تمام زمین و آسمان کے لوگ ایک مسلمان کے قتل میں شریک ہوں تو اللہ ان سب کو جہنم میں اوندھا ڈال دے۔"

        حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی مشہور تھا: "اگر صنعاء کے تمام باشندے ایک آدمی کے قتل میں شریک ہوں تو میں اس کے قصاص میں سب کو سزائے موت دے دوں۔"

        چنانچہ عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد کے قتل کا بدلہ لیا تھا، کیوں کہ ان کے خیال میں ہرمزان اس قتل میں برابر کا شریک تھا، لیکن چونکہ انہوں نے محض گمان پر عمل کیا تھا اور ہرمزان کے جرم کا کوئی ثبوت نہیں پیش کر سکتے تھے، نیز قانون کو ہاتھ میں لینے کا اختیار بھی انہیں قطعاً نہیں تھا اس لیے ان کا یہ اقدام غلط اور ان کی سرزنش ضروری تھی، جیسا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو ایک ایسے شخص کے قتل پر ڈانٹا تھا جس نے میدانِ جنگ میں تلوار سر پر دیکھ کر کلمہ پڑھ لیا تھا، مگر حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اس خیال سے اسے مار ڈالا کہ شاید وہ جان بچانے کے لیے ڈھونگ رچا رہا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے فرمایا تھا: "کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا۔"

        مگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو کوئی سزا نہیں دی، کیوں کہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کے ذہن میں اپنے فعل کی ایک وجہ جواز موجود تھی جو انہیں شبہے کا فائدہ دے رہی تھی اور ان پر کسی سزا کے اجراء کو ٹالنے کے لیے کافی تھی۔

        یہی حال حضرت عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا تھا کہ ان کے ذہن میں اپنے فعل کی وجہ جواز موجود تھی۔ اگرچہ ان کا قانون کو ہاتھ میں لینا غلط تھا مگر ان کی تاویل سے انہیں شبہے کا فائدہ مل رہا تھا۔ اسی لیے اس معاملے کو عام مقدمات کی مانند سمجھ کر ملزم کو جان کے بدلے جان' کے اصول پر قتل کر دینا، خود قانون کے ان احتیاطی پہلوؤں کے خلاف تھا جو مدعی علیہ کے لیے گنجائش  پیدا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جس طرح شہید کیا گیا تھا اس کے پسِ پردہ عجمی سازش کے پورے امکانات موجود تھے۔ فیروز کی خودکشی اور ہرمزان کے قتل کے بعد اس تفتیش کے سارے راستے بند ہو گئے تھے مگر غیر ملکی مداخلت کا قوی امکان اپنی جگہ تھا جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی بصیرت سے یقیناً پوشیدہ نہیں ہوگا۔ اس سے ہرمزان کی مظلومیت کا پہلو خود بخود کمزور پڑ گیا تھا۔

        آخر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے غور و فکر کے بعد ایک نہایت مناسب فیصلہ صادر فرمایا جو قانونِ شریعت کے عین مطابق ہونے کے ساتھ ساتھ پیچیدہ حالات اور غیر یقینی کی کیفیت میں سب کے نزدیک قابل تعریف تھا۔ آپ نے حضرت  عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو "قتلِ خطا" کا مجرم قرار دیتے ہوئے انہیں خون بہا کی ادائیگی کا ذمہ دار بنایا اور پھر اپنی جیب سے یہ خطیر رقم حضرت عبید اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے مقتول کے ورثاء کو ادا کر دی۔

        اس طرح ایک طرف تو مدعی خاندان کو انصاف مل گیا، دوسری طرف ان مسلمانوں نے اطمینان کا سانس لیا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت پر پہلے ہی غمزدہ تھے اور ان کے لیے یہ بات بڑی صدمہ انگیز ہوتی کہ باپ کے قتل کے فوراً بعد  بیٹا بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا۔ بعض روایات کے مطابق ہرمزان کے بیٹے نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے بعد خود بھی عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو معاف کر دیا تھا جس پر اہلِ مدینہ نے خوش ہو کر اسے کاندھوں پر اٹھا لیا تھا۔

        جو لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر معترض رہے وہ نہ صرف غیر ملکی سازش کے امکان بلکہ قتلِ خطا کے پہلو کو بھی نظر انداز کر رہے تھے۔ مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے شریعت، حالات، عوامی جذبات، اصولِ سیاست اور میزانِ انصاف سب کو ملحوظ رکھتے ہوئے مناسب ترین فیصلہ دیا جو عادلانہ بھی تھا اور حکیمانہ بھی۔ اسی طرح اپنی خلافت کی ابتدا ہی میں انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک مثالی قائد اور رہنما کی تمام خصوصیات سے مالامال ہیں۔

پہلا خطبہ:

        خلیفہ بننے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو جو پہلا خطبہ دیا اس میں ارشاد فرمایا:

        "لوگو! تم ایک عارضی گھر میں رہ رہے ہو اور اپنی عمر کے باقی ماندہ ایام پورے کر رہے ہو، لہذا جو نیک کام تمہارے بس میں ہے وہ موت سے پہلے کر گزرو، تمہیں صبح جانا ہو گا یا شام۔ خبردار! دنیا کی زندگی فریب میں لپٹی ہوئی ہے۔ کہیں یہ تمہیں دھوکا نہ دے جائے، کہیں فریبی شیطان تمہیں اللہ تعالیٰ کے بارے میں فریب نہ دے جائے۔ گزرنے والوں سے عبرت حاصل کرو۔ کہاں ہیں دنیا دار لوگ، دنیا کے عاشق! جنہوں نے دنیا کو آباد کیا، ترقی دی اور مدتوں لطف اندوز ہوئے۔ کیا دنیا نے انہیں چھوڑ نہیں دیا؟ تم دنیا کو وہی ثانوی حیثیت دو جو اللہ تعالیٰ نے اسے دی ہے اور آخرت کے طلب گار بنو۔"

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتے ہوئے مکہ دور کی جان گسل آزمائشوں، حبشہ اور مدینہ منورہ کی ہجرتوں اور مدینہ منورہ میں نخلِ اسلام کی نشوونما کے مختلف مرحلوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ کاتب وحی اور حافظ قرآن ہونے کی حیثیت سے آپ کلام اللہ کے لفظ لفظ سے واقف تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شب و روز کے گہرے مشاہدے نے آپ کو شریعت کا مزاج شناس بنا دیا تھا۔ آپ نے دورِ صدیق اکبر کے فتنوں کو ابھرتے اور مٹتے بھی دیکھا، سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی فتوحات کا سنہرا دور بھی آپ کا دیکھا بھالا تھا۔ اسلام کی ہر فتح کے پیچھے مرکزِ خلافت میں آپ کے مشورے کارفرما رہتے تھے۔ اس لیے اب عنانِ حکومت سنبھالنے کے بعد خلیفہ کو جو کرنا چاہیے تھا، آپ اس سے اچھی طرح واقف تھے۔

        اگر سرسری نظر سے دیکھا جاتا تو آپ رضی اللہ عنہ کے لیے خلافت کی ذمہ داریاں ذرا بھی گراں نہیں تھیں کیوں کہ یہ اسلام کے عروج کا زمانہ تھا۔ مشرق و مغرب میں اسلام کے خلاف سر اٹھانے والی کوئی طاقت باقی نہیں بچی تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنی بے پناہ انتظامی و احتسابی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ایک مثالی معاشرہ اور ایک مضبوط انتظامی ڈھانچہ امت کو دے گئے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کام صرف اتنا تھا کہ وہ اس بنے بنائے بہتر نظام میں کوئی رخنہ اندازی نہ ہونے دیتے۔

        مگر ساڑھے بائیس لاکھ مر بع میل (36 لاکھ 21 ہزار مر بع کلومیٹر) پر مشتمل اتنی بڑی مملکت کے بنے بنائے نظام کی دیکھ بھال بھی یقیناً ایک بھاری اور توجہ طلب ذمہ داری تھی۔ مسلمانوں کا امیر اللہ کے ہاں بھی جوابدہ تھا اور بندوں کے سامنے بھی۔ یہ اتنا سخت امتحان تھا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے آخری سال میں جبکہ ان کی عمر ساٹھ سال بھی نہیں ہوئی تھی، یہ دعا فرمانے لگے تھے: "اے اللہ! میں بوڑھا ہو گیا ہوں، طاقت کم ہوگئی ہے، رعایا دور دور تک پھیل گئی ہے، پس مجھے اس حال میں دنیا سے اٹھا لے کہ مجھ سے کسی کے حق میں کوتاہی ہوئی ہو نہ کسی پر زیادتی۔"

        ادھر خلافت کے آغاز میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی عمر ستر سال ہو چکی تھی۔ صحت اور جسمانی طاقت کے لحاظ سے بھی وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے برابر نہ تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں مسلمانوں کی دیکھ بھال، ان کے حقوق کے تحفظ اور مرکزِ خلافت کے استحکام کے لیے وقف کر دی تھیں، جس کے پیچھے یقیناً ایک غیر معمولی قوتِ ایمانی، جذبہ ایثار و قربانی، تحمل و برداشت کی صلاحیت اور روحانی توانائی کارفرما تھی۔

فتنوں کا احساس:

        امت کے حالات کو جس بلند نگاہی سے آپ دیکھ رہے تھے، اس سے دو خاص پہلو آپ کے سامنے آ چکے تھے، جن کے لیے تدبیر و انتظام کرنا آپ کی ذمہ داری تھی۔ ایک پہلو یہ کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کسی بہت بڑے فتنے کا پیش خیمہ ہے، جس سے یہ امت دوچار ہو کر رہے گی۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے علم میں حضرت حذیفہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کی وہ گفتگو بھی تھی جس میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا تھا: "اس فتنے کے بارے میں بتائیے جو موجوں کی طرح امت کو بہا لے جائے گا۔"

        حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کا جواب تھا:

        "امیر المومنین! آپ کے اور اس کے درمیان ایک مضبوط دروازہ حائل ہے جو آپ کی حیات تک بند رہے گا۔"
        بعد میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے خود لوگوں کو بتایا کہ "وہ دروازہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود تھے، جن کی موت کے بعد فتنے سر اٹھائیں گے۔"

        خلیفہ ثالث کو اس بارے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اچھی طرح یاد تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں جنت کی بشارت دیتے ہوئے فرمایا تھا: "یہ خوشخبری ایسی آزمائش کے ساتھ ہے جو انہیں پہنچ کر رہے گی۔"


        حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے پہلے ایک بار حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو تنہائی میں بلا کر ان سے کچھ راز کی باتیں کی تھیں جن سے ان کا رنگ اڑ گیا تھا۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا تھا: "عثمان عن قریب اللہ تمہیں ایک کُرتہ (یعنی منصب خلافت) بخشے گا۔ اگر منافق لوگ تم سے وہ کُرتہ چھیننا چاہیں تو تم ہرگز مت اتارنا، یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔"

        حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات پر آنکھوں د یکھے سے زیادہ یقین کرنے والے عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور ان کے مشیر صحابہ کرام کو اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد عن قریب فتنے پھوٹیں گے۔ ان احادیث کے علاوہ خود خلیفہ کا محرابِ مسجد میں شہید ہونا اور تفتیش کی راہوں کا بند ہو جانا ظاہر کر رہا تھا کہ اسلام دشمن طاقتیں میدانِ جنگ سے پسپا ہو کر اب خفیہ جنگ لڑنے پر تل گئی ہیں اور ان کی طرف سے فتنہ و فساد کو ہوا دینے کی سازشیں شروع ہو چکی ہیں۔ پس یہ بات تو طے تھی کہ ان فتنوں کو روکا نہیں جا سکتا۔ ہاں ان سے نبرد آزما ہونے اور ان کے مضرات کو کم سے کم کرنے کی کوشش ضروری تھی، اس میں کامیابی کی امید موجود تھی اور اصحابِ رسول اسی حد تک سعی کے مکلف تھے۔ یہی وہ سب سے بڑا چیلنج تھا جس کا سامنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو کرنا تھا۔ اور بلاشبہ خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ہی وہ ذہنی طور پر ان فتنوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھے۔ انہوں نے اپنی پالیسیوں میں اس دفاعی ہدف کو ہمیشہ ملحوظ رکھا۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic