حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے جانباز میدانِ جہاد میں
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے جانے سے پرچمِ جہاد سرنگوں نہیں ہوا، فتوحات کا سلسلہ برابر جاری رہا۔ علامہ ابن جریر طبری حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور کے تحت عسکری نظام کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’کوفہ کی چھاؤنی میں چالیس ہزار سپاہی تیار رہتے تھے جن میں سے ہر سال دس ہزار سپاہی سرحدوں پر اس طرح تعینات کیے جاتے تھے کہ چھ ہزار ’آذربائیجان‘ میں ہوتے اور چار ہزار ’رے‘ میں۔‘‘
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے پہلے ہی سال حضرت ولید بن عُقبہ رضی اللہ عنہ نے جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور سے الجزیرہ کے گورنر تھے، اپنے سالار سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کو بارہ ہزار کا لشکر دے کر آرمینیا بھیجا جو خاصا علاقہ فتح کر کے بکثرت مالِ غنیمت سمیت واپس آئے۔
رومی سردار کے خیمے میں:
اسی سال مسلمانوں نے شام کی سرحدوں پر رومیوں کو نہ بھولنے والا سبق سکھایا۔ رومی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت سے دل گرفتہ مسلمانوں کو کمزور سمجھ کر شام کی سرحدوں پر دھاوا بولنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جیسے ہی اطلاع ہوئی آپ نے ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کو تاکیدی خط بھیجا کہ ’’آٹھ، دس ہزار سپاہیوں کا لشکر شام والوں کی مدد کے لیے روانہ کریں۔‘‘
حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے فوراً سلمان بن ربیعہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں لشکر تیار کر کے شام کی سرحد پر بھیج دیا جہاں حضرت حبیب بن مسلمہ الفہری رضی اللہ عنہ مقامی سپاہیوں کے ساتھ کمک کے منتظر تھے، ادھر سرحدوں پر رومی سپہ سالار اسی ہزار رومیوں اور ترکوں کے ساتھ خیمہ زن ہو چکا تھا۔ حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ پینترے بدل کر لڑنے کے ماہر تھے، انہوں نے دشمن پر شب خون مارنے کا فیصلہ کیا، جب وہ اپنے خیمے سے نکلنے لگے تو اُن کی اہلیہ محترمہ اُم عبداللہ بنتِ یزید نے پکار کر کہا: ’’پھر کہاں ملاقات ہو گی؟‘‘ بولے: ’’رومی سپہ سالار کی خیمہ گاہ میں یا جنت میں۔‘‘
جب وہ رات کی تاریکی میں رومیوں کی طرف بڑھے تو اُن کی اہلیہ بھی بھیس بدل کر اُن کے جانبازوں میں شامل ہو گئیں، حضرت حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ بجلی کی طرح دشمن پر حملہ آور ہوئے اور لڑتے لڑتے رومی سپہ سالار کے خیمے تک جا پہنچے تو دیکھا ان کی اہلیہ پہلے سے وہاں موجود ہیں اور دشمن سے بھڑی ہوئی ہیں، آخر رومیوں کو شکست فاش ہوئی اور مسلمان فتح کا پرچم لہراتے ہوئے واپس آئے۔
اس شکست کے باوجود بازنطینی رومیوں کو یہ توقع تھی کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بعد مسلمانوں کی قوت و شوکت میں کمی ضرور آئی ہو گی، اس لیے اب ان سے کچھ نہ کچھ سرحدی علاقے واپس لیے جا سکتے ہیں، شام کی سرحدوں پر شکست کھانے کے بعد انہوں نے مصر کے ساحلی شہر اسکندریہ پر قبضے کا منصوبہ بنایا تھا، ان کا سالار منوئیل وہاں ایک بھاری بحری بیڑا لے کر پہنچ گیا، مقامی رومی باشندوں نے اس سے پہلے ہی مسلمانوں کے خلاف اعلان بغاوت کر دیا تھا اس لیے رومی اسکندریہ پر قابض ہو گئے۔
مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے انہیں زیادہ دن تک فتح کا جشن منانے کا موقع نہیں دیا اور ربیع الاول سن ۲۵ھ میں جوابی حملہ کر کے رومی بیڑے کو شکست فاش سے دوچار کیا اور شہر پر دوبارہ اسلامی پرچم لہرا دیا۔
اسکندریہ کے مقامی قبطی باشندے بغاوت میں رومیوں کے ساتھ شریک نہ تھے۔ اس لیے رومیوں نے فرار ہوتے ہوتے انہیں بڑا مالی نقصان پہنچایا تھا۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے حتی الامکان ان کے نقصان کی تلافی کر دی۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو برسوں میں ہونے والے ان دو بڑے معرکوں میں مسلمانوں کی پوزیشن دفاعی تھی جبکہ جارحیت دشمن کی طرف سے تھی، تاہم ان کے علاوہ آپ کی خلافت کے مختلف برسوں میں کئی مہمات سرحدوں کے پار بھیجی گئیں، مگر ان کی حیثیت چھاپہ مار کارروائیوں کی سی تھی۔ مسلمان سرحدوں پر خیمہ زن ہوتے اور تیز رفتار چھوٹے چھوٹے گھڑ سوار دستے دشمن کے علاقے میں پھیلا کر اُن کی خوراک اور رسد لوٹتے اور حفاظتی چوکیوں پر حملے کرتے۔ اسی طرح حریف کو زک پہنچا کر کسی علاقے یا قلعے پر قبضہ کیے بغیر واپس آ جاتے۔ ایسی مہمات کے چار مقاصد تھے:
* اپنی قوت کی دھاک بٹھائے رکھنا
* دشمن کی طاقت کا اندازہ لگاتے رہنا
* دشمن کو اقتصادی طور پر کمزور کرنا
* اپنی فوج کو متحرک رکھ کر سرحدوں کو محفوظ بنانا
مستشرقین مسلمانوں کی ایسی مہمات کو لوٹ مار اور ڈاکازنی سے تعبیر کرتے ہیں حالانکہ اس قسم کی کارروائیاں بازنطینیوں کی طرف سے بھی جاری تھیں۔ پس یہ کش مکش جو دو حکومتوں کے درمیان تھی ’جنگ‘ ہی کہلائے گی، جس کی نوعیت قدرے مختلف تھی۔ اسے لوٹ مار یا ڈاکازنی سے تعبیر کرنا اصولِ سیاست سے ناواقفیت کی علامت ہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فتوحات کا دائرہ پھیلانے کی افادیت کو اچھی طرح سمجھتے تھے، مگر اس سے پہلے عواقب کو مدنظر رکھنا بھی ضروری تھا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی سات برسوں میں اسلامی افواج سیلاب کی طرح چاروں اطراف پھیلتی چلی گئی تھیں مگر خلیفۂ ثانی نے فتوحات کو چند مخصوص جغرافیائی حدود کا پابند رکھا۔ مشرق کی فتوحات کو آپ نے خراسان کے میدانوں میں روک لیا اور افواج کو سطح مرتفع پامیر یا دریائے آمو عبور کر کے ترکوں کے وطن چین اور وسط ایشیا کی طرف بڑھنے نہ دیا۔ غالباً آپ کے سامنے یہ ارشادِ نبوی تھا:
’’اتْرُکُوا التُّرْکَ مَا تَرَکُوْکُم۔‘‘
’’جب تک ترک تمہیں نہ چھیڑیں تم بھی ان سے تعرض نہ کرنا۔‘‘
مغرب میں آپ نے بحیرۂ روم کے ساحلوں تک یلغار پر اکتفا کیا اور سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے اصرار کے باوجود سمندر میں پیش قدمی کی اجازت نہ دی۔ اس احتیاط کی ایک اہم وجہ یہ تھی کہ مسلمانوں کی افواج کے نظم و ضبط اور ہمت و حوصلے کے باوجود حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سمندر کی ہولناکیوں سے تشویش لاحق تھی، انہیں خطرہ تھا کہ مسلمان کسی سمندری طوفان کا شکار نہ ہو جائیں۔اس وقت تک مسلمان سمندری سفر، جہاز رانی اور بحری جنگوں سے واقف بھی نہیں تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے سپاہی اس موت کی وادی میں ضائع کرنے کا خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہ تھے۔ حقیقت بھی یہی تھی کہ بحری جنگ کے لیے جس طرح کے تربیت یافتہ افسران اور سپاہیوں اور جس قسم کے بحری جہازوں اور کشتیوں کی ضرورت تھی، اسلامی فوج اس سے محروم تھی، اس لیے سمندر میں جہاد کرنا خود کو بازنطینی جہاز رانوں کے ہاتھوں غرق کرانے کے مترادف تھا۔
یہی احتیاطی پہلو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے بھی تھے، اس لیے شروع کے چند برسوں میں آپ کی زیادہ توجہ ان کمزوریوں کو دور کرنے اور اپنی افواج کو مضبوط بنانے پر مرکوز رہی۔
تاہم مغرب میں مصر سے متصل افریقہ میں پیش قدمی کے مواقع موجود تھے، اس لیے خلیفۂ ثالث نے اپنی خلافت کے دوسرے سال سن ۲۵ ہجری میں مصری اسلامی افواج کو مغرب کی سمت یلغار کی نہ صرف اجازت دی بلکہ کمک بھیج کر حوصلہ افزائی بھی کی۔
افریقہ کی فتوحات
مصر کی سرحدوں سے متصل شمالی افریقہ کے وسیع علاقے ایک رومی حاکم جُرجِیر (گریگوری) کے قبضے میں تھے۔ پہلے وہ قیصرِ روم کا ماتحت گورنر تھا مگر ایشیا سے رومیوں کی بے دخلی کے بعد حال ہی میں اس نے خود مختاری کا اعلان کیا تھا، اس کی مملکت کی حدود مصر کی سرحدوں سے مراکش تک پھیلی ہوئی تھیں۔ (آج کل یہاں تیونس، لیبیا، الجزائر اور مراکش واقع ہیں)
خلیفۂ ثالث کی اجازت ملنے پر شمالی مصر کے گورنر حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ بیس ہزار کا لشکر لے کر صحرائے اعظم عبور کرتے ہوئے جرجیر کی عملداری کے سرحدی علاقے میں داخل ہوئے، یہاں کئی مقامات پر جنگیں ہوئیں، دشمنوں کی بڑی تعداد گرفتار اور قتل ہوئی، مالِ غنیمت بھی بھاری مقدار میں حاصل ہوا۔ اکثر علاقوں میں ان لوگوں نے جو جرجیر کے ظلم و ستم اور رومیوں کے سخت قوانین سے تنگ آئے ہوئے تھے، جوق در جوق اسلام قبول کیا۔ بعض علاقوں میں لوگوں نے لڑے بغیر صلح کر لی۔ حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کا مقصد بھی اسلام کی اشاعت اور غلبہ تھا جو بڑی حد تک پورا ہو گیا تھا، اس لیے وہ واپس لوٹ آئے۔
جرجیر مسلمانوں کی ان فتوحات کو کہاں برداشت کر سکتا تھا۔ اس نے بڑے پیمانے پر جنگی تیاریاں شروع کر دیں۔ ادھر حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ بھی پورے شمالی افریقہ کو فتح کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ سن ۲۷ ہجری میں انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں اپنے عزائم سے آگاہ کر کے اجازت طلب کی۔ یہ ایک غیر معمولی مہم تھی جس میں کامیابی کے نتیجے میں مراکش تک اسلامی پرچم گڑ سکتے تھے اور ناکامی کی صورت میں مصر بھی ہاتھ سے نکل سکتا تھا۔
گزشتہ خلفاء کی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مسجدِ نبوی میں مسلمانوں کے اہم امور کے لیے مسلسل مشوروں میں مصروف رہتے تھے، اس اہم معاملہ کو بھی مجلسِ شوریٰ میں پیش کیا گیا، اکثر ارکان نے اس مہم کے حق میں رائے دی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مہم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سمیت کئی بڑے بڑے صحابہ کرام کمک کے لیے روانہ کیا۔ یہ حضرات مصر پہنچے تو مسلمان بے چینی سے ان کے منتظر تھے، لشکر نے کوچ کیا اور برقہ پہنچا جہاں حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ سرحدی افواج کے ساتھ موجود تھے۔ یہاں سے طرابلس تک کا علاقہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے دورِ فاروقی میں فتح کر لیا تھا۔ مسلمان جواب بیس ہزار ہو گئے تھے، ان حدود سے آگے نکل کر جرجیر کے علاقے میں داخل ہو گئے، جو اپنے پایہ تخت سُبیطِلہ سے ایک منزل آگے ایک لاکھ بیس ہزار سپاہی رکاب میں لیے مڈبھیڑ کے لیے تیار تھا۔
آخر دونوں فوجوں کا سامنا ہوا۔ جرجیر کی فوج چھ گنا زائد تھی مگر مسلمان ذرا بھی ہراساں نہ تھے کیوں کہ قادسیہ اور یرموک کی جنگوں کے نتائج نے یہ ثابت کر دیا تھا کہ مسلمان تعداد کی کمی یا کثرت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ ایمان اور جذبۂ جہاد کی بنا پر لڑتے ہیں۔ جنگ سے پہلے حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے جرجیر کو اسلام قبول کرنے یا جزیہ ادا کرنے کی پیش کش کی، جو اس نے بڑی نخوت سے مسترد کر دی۔ آخر کار گھمسان کی جنگ چھڑی جو کئی دنوں تک جاری رہی، روزانہ صبح سے دوپہر تک لڑائی ہوتی اور اس کے بعد دونوں فریق اپنے خیمہ گاہوں میں لوٹ آتے۔
اس دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی جانب سے جو اس محاذ کے بارے میں بڑے متفکر تھے، تازہ دم مجاہدین کا ایک دستہ آن پہنچا، جس کی قیادت پچیس سالہ نوجوان حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کر رہے تھے، چونکہ کم عمری ہی سے ان کی برکات مشہور تھیں اس لیے مسلمانوں نے ان کا پرجوش استقبال کرتے ہوئے اس زور و شور سے تکبیر کے نعرے لگائے کہ جرجیر سن کر اپنی جگہ چونک گیا۔ وجہ پوچھی تو بتایا گیا مسلمانوں کو کمک مل گئی ہے۔ جرجیر پریشان ہو گیا مگر اپنی فوج کا حوصلہ بڑھانے کے لیے اس نے اعلان کرا دیا:
’’جو شخص مسلمانوں کے امیر عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو قتل کرے گا، اسے میں اپنی بیٹی کا رشتہ دوں گا اور ساتھ ہی ایک لاکھ اشرفیاں بھی۔‘‘
اس اعلان سے اس کی فوج میں ایک غیر معمولی جوش پیدا ہو گیا۔ ادھر مسلمانوں کو معلوم ہوا تو انہیں اپنے امیر کے بارے میں خدشات لاحق ہو گئے، حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ بھی احتیاط کے طور پر ایک دن میدانِ جنگ سے غائب رہے۔ اس موقع پر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کو حوصلہ دلانے کے لیے امیرِ لشکر کو مشورہ دیا:
’’آپ بھی اعلان کرا دیں کہ جو شخص جرجیر کو قتل کرے گا، ہم جرجیر کی بیٹی سے اس کا نکاح کرا دیں گے، ایک لاکھ اشرفیاں بھی دیں گے اور جرجیر کے علاقے کا حاکم بھی اس کو مقرر کریں گے۔‘‘
امیرِ لشکر کو یہ رائے پسند آئی، جب یہ اعلان کیا گیا تو مسلمانوں میں ایک نئی ہمت پیدا ہو گئی، جبکہ جرجیر اور اس کی فوج خوفزدہ ہو گئی، چونکہ کئی دن سے جاری اس جنگ کا فیصلہ ہونے میں نہیں آ رہا تھا، لہٰذا حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے جنگی حکمتِ عملی میں تبدیلی کی رائے دیتے ہوئے کہا:
’’کل کی جنگ میں ہم کچھ فوج خیموں میں رہنے دیں گے، جب دونوں فریق لڑتے لڑتے بے حال ہو جائیں تو اس تازہ دم فوج کو بھیج کر تھکے ماندے دشمن کو مار بھگائیں گے۔‘‘
سالارانِ فوج کی اتفاقِ رائے کے بعد حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے یہ مشورہ بھی قبول کر لیا۔
حسبِ معمول اگلے دن طلوعِ آفتاب کے ساتھ جنگ شروع ہوئی تو امیرِ لشکر نے منتخب شہ سواروں کو خیموں میں آرام کرنے کا حکم دیا۔ زوال کے وقت جب دونوں لشکر تھک کر واپسی کا ارادہ کرنے لگے، تب بھی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اصرار کر کے جنگ رکنے نہ دی۔ آخر سہ پہر کے وقت دونوں فریق بالکل بے حال ہو گئے۔ تب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کچھ تازہ دم بہادروں کو لے کر دشمن پر ٹوٹ پڑے اور ان کی صفوں کو چیرتے ہوئے عقب میں جا پہنچے جہاں جرجیر اپنے گھوڑے پر سوار تھا اور دو باندیاں اسے مور پنکھ سے ہوا دے رہی تھیں۔ وہ اور اس کے محافظ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو چند سواروں کے ساتھ آتا دیکھ کر سمجھے کہ یہ دشمن کے سفیر وغیرہ آ رہے ہیں، اس لیے بھاگنے یا مزاحمت کی کوشش نہیں کی۔ مگر جب ان کو ہتھیار سونتنے دیکھا تو گھبرا گئے۔ جرجیر نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگا کر بھاگنے کی کوشش کی مگر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اس کے سر پر جا پہنچے اور تلوار سے اس کا سر قلم کر دیا، پھر اسے نیزے میں پرو کر تکبیر کا نعرہ لگاتے ہوئے اسی تیزی سے واپس آ گئے۔
اپنے بادشاہ کے قتل سے کفار کے چھکے چھوٹ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا لشکر بھاگ نکلا، ان کی شہزادی گرفتار کر لی گئی، جو وعدے کے مطابق حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دی گئی۔ اسلامی لشکر نے آگے بڑھ کر ان کے پایہ تخت سُبیطِلہ پر قبضہ کر لیا اور گردو نواح کے کئی قلعے بھی فتح کر لیے۔
ان فتوحات میں مقامی حکمرانوں کے جمع کردہ خزانوں سے جو ساز و سامان غنیمت کے طور پر حاصل ہوا، وہ اتنے تھے کہ فاتح لشکر کے بیس ہزار سپاہیوں میں سے ہر ایک کو کم از کم ایک ہزار دینار ملے(اس لحاظ سے ہر ایک کا حصہ آج کل کے لحاظ سے ایک کروڑ روپے یا ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ تھا) ۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں ابتداءً دمشق کے حاکم تھے، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ترقی دے کر پورے شام کا گورنر مقرر کر دیا، اس طرح ان کی عملداری کی حدود سرحدِ مصر تک پہنچ گئی تھیں۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اس عہدے پر برقرار رکھا۔ یہ بات سب مانتے تھے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شام کے اندرونی معاملات اور سرحدی انتظامات کو جس خوبی سے سنبھالے ہوئے ہیں وہ انہی کا کمال تھا۔ وہ ہر موسمِ گرما میں رومیوں سے جہاد کے لیے لشکر بھیجتے تھے اور انہیں جانی و مالی نقصانات پہنچا کر مسلمانوں کی ہیبت قائم رکھتے تھے۔
افریقہ میں حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کی فتوحات کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی اس جہاد میں شرکت کا ارادہ کیا اور مسلمانوں کی فتوحات کی تکمیل کے لیے حضرت معاویہ بن حُدیج رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا جنہوں نے مراکش کی سرحدوں میں قَمونیہ (سوس) سمیت کئی اہم مقامات فتح کیے۔

