بحری جنگیں
ایشیائے کوچک اور افریقہ کے رومیوں سے ان بار بار کی جنگوں میں یورپ کسی نہ کسی طرح ضرور دخل انداز رہا۔ وہ ہر اسلام دشمن فوج کی پشت پر خفیہ یا کھلم کھلا موجود رہا۔ بحیرہ روم میں بازنطینیوں کے جنگی بیڑے کی نقل و حرکت مسلمانوں کے لئے بہر حال ایک مستقل خطرہ تھی، اس لئے اب سمندر کو میدان جنگ بنا کر بحیرہ روم میں یورپیوں سے مقابلہ کرنا ناگزیر ہو گیا تھا۔ اس کے لئے بحری فوج کی ضرورت بھی اب ایک ناقابل انکار حقیقت بن گئی تھی۔
شام کے ساحلوں پر حضرت معاویہ بن سفیان رضی اللہ عنہ اور مصر میں حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ آئے دن اس ضرورت کو محسوس کرتے تھے اور خود خلیفہ ثالث بھی ان زمینی حقائق سے آگاہ تھے، چنانچہ رجب سن ۲۸ ہجری میں جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے بحری جہاد کی اجازت طلب کرتے ہوئے یقین دلایا کہ یہ مہم مشکل ثابت نہیں ہو گی تو دربار خلافت سے اس مہم کی منظوری مل گئی۔ تاہم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اسلام کی اس پہلی بحری فوج کا حوصلہ برقرار رکھنے کے لیے نہایت حکمت سے کام لیتے ہوئے یہ شرط عائد کی کہ امراء لشکر اپنی بیویوں کو بھی ساتھ لے کر جائیں گے۔ یہ شرط اس لیے تھی تاکہ امراء لشکر سفر کی مہم کو حتی الامکان محفوظ بنانے کا اطمینان کر کے نکلیں اور محض جوش و جذبے کی بناء پر مسلمانوں کو خطرے میں نہ ڈالیں۔ یہ حکمت بھی ملحوظ تھی کہ عورتوں کی موجودگی میں، وہ مرد جو پہلی بار سمندری مہم پر جا رہے ہیں، طبعی گھبراہٹ کا اظہار کرنے سے کترائیں گے اور یوں ہمت و حوصلے کی فضا قائم رہے گی۔
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اجازت ملتے ہی نئے بہترین بحری جہاز تیار کرائے، اس جہاد کے لیے ایسے حوصلہ مند جوانوں کو بھرتی کیا جو اپنی خوشی سے آگے آئے۔ حضرت معاویہ اور حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہما نے بحیرہ روم کے نقشے اور یورپی جہاز رانوں کی آمد و رفت کے نقاط کا جائزہ لینے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ مصر اور شام کے ساحلی قلعوں کے علاوہ خود بحیرہ روم کے درمیان مسلمانوں کا کوئی جنگی مرکز ہونا ضروری ہے۔اس کے لیے انہوں نے جزیرہ قبرص کو منتخب کیا جو شمالی شام کے ساحلوں کے قریب بازنطینیوں کا اہم عسکری مرکز تھا۔
سن ۲۸ ہجری کے موسم بہار میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے سالار بحر عبادہ بن قیس کے ساتھ شام کے ساحل عکا سے پہلا اسلامی بیڑہ لے کر سمندر کی موجوں میں اترے۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ حضرت فاختہ بنت قُرظہ رضی اللہ عنہا بھی تھیں۔ اسی طرح حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ حضرت اُم حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے ساتھ اس تاریخی مہم میں شامل تھے۔
حضرت ابوطحہ رضی اللہ عنہ عمر رسیدہ ہو چکے تھے۔ ان دنوں تلاوت کرتے ہوئے اس آیت مبارکہ پر پہنچے:
اِنْفِرُوا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
"نکلو اللہ کی راہ میں خواہ ہلکے ہو خواہ بوجھل ہو، اور جہاد کرو اپنے مالوں کے ساتھ اور
اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔"
آیت پڑھتے ہی اس جہاد میں شرکت کے لیے بے چین ہو گئے۔ گھر والوں سے کہنے لگے: میرا خیال ہے میرا رب چاہتا ہے کہ ہم بوڑھے ہوں یا جوان، جہاد میں نکل کھڑے ہوں۔ بچو! میرا سامان تیار کرو، میں بھی جاؤں گا۔
ان کے بچے جوان تھے، انہوں نے کہا: ابا جان! اللہ آپ پر رحم فرمائے آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد کیا، پھر حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں بھی جہاد کیا۔ اب آپ تشریف رکھیے، ہم آپ کی جگہ جہاد کریں گے۔ مگر وہ نہ مانے اور اس مہم میں شریک ہو گئے۔ حضرت ابوطحہ رضی اللہ عنہ اس سمندری سفر کے دوران بحری جہاز میں وفات پا گئے۔ آس پاس کوئی جزیرہ نہ تھا جہاں انہیں دفن کیا جاتا، نو دن بعد ساحل دکھائی دیا، جہاں انہیں دفنایا گیا۔ تب تک ان کی نعش بالکل تر و تازہ تھی۔
یہ وہی جہاد تھا جس کے مناظر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دکھائے گئے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا:
"میں نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کو دیکھا ہے وہ بحری جہازوں پر سمندر میں اس شان سے سفر کر رہے ہیں جیسے بادشاہ اپنے تخت پر بیٹھا ہو۔"
آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خواب سن کر حضرت اُم حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دعا کرائی تھی کہ وہ بھی اس جہاد میں شامل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ تمنا پوری ہونے کی خوشخبری دی تھی، چنانچہ وہ بھی اس بحری قافلے میں شامل تھیں۔ واپسی کے سفر میں ایک جگہ ان کا خچر بدکا، وہ گر پڑیں، گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ وفات پا گئیں۔
اسلامی فوج قبرص کے ساحل پر اتری تو مقامی سپاہ نے لڑے بغیر ہتھیار ڈال دیے اور ان شرائط پر صلح ہو گئی:
۱۔ اہل قبرص سالانہ ستر ہزار دینار جزیہ ادا کیا کریں گے۔
۲۔ مسلمان ان کی پوری حفاظت کریں گے۔
۳۔ اہل قبرص مسلمانوں کے خلاف سمندری مہمات کے لیے آمد و رفت کا موقع فراہم کریں گے۔
۴۔ مسلمانوں کو رومیوں کی نقل و حرکت سے آگاہ کرتے رہیں گے۔
یہ صلح چار سال تک قائم رہی۔ صلح کی مدت ختم ہوتے ہی ۳۲ھ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے قسطنطنیہ کی طرف فوج کشی کر دی۔ وہ ایشیائے کوچک شمال کی طرف پیش قدمی کر کے بحیرہ اسود کے ساحل تک پہنچے۔ پھر وہ آبنائے قسطنطنیہ پر جا کر خیمہ زن ہوئے جہاں سے قیصر کے پائے تخت کی فصیل صاف دکھائی دیتی تھی۔
قیصر روم قسطنطین، افریقہ اور ایشیائے کوچک میں مسلمانوں کی مسلسل کامیابیوں سے سخت مضطرب تھا۔ اسلامی افواج کے خیمے اب وہ اپنے قلعے کے برجوں سے دیکھ سکتا تھا اس نے مسلمانوں کا حملہ روکنے کے لیے اہل قبرص سے ساز باز شروع کر دی۔ اہل قبرص نے عہد شکنی کرتے ہوئے رومیوں کو مسلمانوں کے خلاف مدد دی اور انہیں جنگی کشتیاں فراہم کر دیں۔ یہ خبر ملنے پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے پانچ سو کشتیوں کے ساتھ قبرص پر حملہ کر دیا اور پورا جزیرہ بزور شمشیر فتح کر لیا۔ انہوں نے یہاں بارہ ہزار سپاہیوں کو ان کے اہل و عیال سمیت آباد کر دیا جنہوں نے یہاں مساجد تعمیر کیں۔ اس طرح جزیرہ قبرص بحیرہ روم کا مضبوط اسلامی عسکری مرکز بن گیا۔ قبرص کی فتح سن ۳۳ ہجری کا واقعہ ہے۔
غزوہ ذات الصواری:
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کا سب سے بڑا اور خطرناک ترین معرکہ "ذات الصواری" تھا، جو سن ۳۴ ہجری میں لڑا گیا۔ صواری صاریہ کی جمع ہے جس کا معنی ہے "جہاز کا مستول" چونکہ اس جنگ میں دونوں فوجوں نے اپنے اپنے جہازوں کے مستولوں کو باندھ کر لڑائی کی تھی، اس لیے اس معرکے کو ذات الصواری یعنی مستولوں والی لڑائی کا نام دے دیا گیا۔
ہوا یہ کہ قیصر نے مسلمان فاتحین کا قدم اپنے سینے پر محسوس کرتے ہوئے نہایت سرگرمی کے ساتھ ایک عظیم الشان بحری بیڑہ ترتیب دیا، جس میں شامل جہازوں کی تعداد پانچ سو سے چھ سو تک بتائی جاتی ہے۔ مورخین کا کہنا ہے کہ جب سے رومیوں سے جنگیں شروع ہوئی تھیں اتنی بڑی فوج کبھی مسلمانوں کے مقابلے کے لیے جمع نہیں ہوئی تھی۔ قیصر چاہتا تھا کہ بحیرہ روم میں مسلمانوں کی مداخلت ہمیشہ کے لیے ختم کر دی جائے۔ آخر وہ اس بے پناہ بحری طاقت کے ساتھ بحیرہ روم میں اترا اور ایشیائے کوچک کے مغربی ساحل کے ساتھ ساتھ آگے بڑھا۔ یہ خبر سنتے ہی شام سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور مصر سے حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے اپنی بحری طاقت یکجا کی اور اس سے پہلے کہ بازنطینی اسلامی ساحلوں پر اترتے وہ سمندر کا سینہ چیرتے ہوئے ان کے سامنے جا پہنچے، قبرص اور جزیرہ روڈس کے درمیان موجود ترکی کے ساحل "کیلیکیا" کے پاس رات کے وقت دونوں بحری فوجوں کا آمنا سامنا ہوا۔
مجاہدین اسلام کے جہازوں کی تعداد دو سو کے لگ بھگ تھی۔ اس بحری فوج کی تشکیل کو ابھی بمشکل چند سال ہوئے تھے، اس لیے ملاحوں کو جہاز رانی کا ایسا تجربہ نہ تھا جو سپاہیوں کو سمندری لڑائی کا۔ اس کے برخلاف بازنطینی صدیوں سے سمندروں کے شہوار تھے، ان کی جہاز رانی کی دھاک پوری دنیا پر بیٹھی ہوئی تھی۔ ان کا بحری بیڑہ بھی تقریباً تین گنا بڑا تھا۔ اب تک اسلامی بیڑے کی کارروائیاں اسی حد تک تھیں کہ مسلمان سمندری سفر کر کے کسی ساحل پر اتر جاتے اور وہاں قبضہ کر لیتے مگر اس بار لڑائی کا میدان ہی سمندر کی طوفانی موجوں کے بیچ تھا۔ اس کے باوجود مسلمان اللہ تعالیٰ پر بھروسا کر کے پوری ہمت کے ساتھ مقابلے میں آگے بڑھے۔ طے یہ ہوا کہ رات کو فریقین میں سے کوئی ایک دوسرے پر حملہ نہیں کرے گا، چنانچہ رات بھر مسلمان نماز، دعا اور تلاوت میں مصروف رہے، جبکہ بازنطینی بحریہ نقارے اور باجے بجاتی رہی۔
صبح ہوئی تو امیر مجاہدین حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے جہازوں کے مستولوں کو ایک دوسرے سے باندھ کر صف بنانے کا حکم دیا اور مجاہدین کو تاکید کی کہ وہ مسلسل تلاوت اور ذکر کرتے رہیں۔ مسلمانوں کے لیے ایک تشویش کی بات یہ بھی تھی کہ ہوا کا رخ ان کی طرف تھا، اس لیے دشمن کے جہاز بادبان کھول کر تیزی سے ان کی طرف آ سکتے تھے، جبکہ اسلامی بحریہ اگر آگے بڑھنا چاہتی تو اس کے لیے بادبان کھولنا مزید نقصان دہ تھا، صرف چپو چلا کر معمولی رفتار سے جہاز آگے بڑھائے جا سکتے تھے۔ یہ دیکھ کر امیر لشکر نے جہازوں کے لنگر گرانے کا حکم دیا۔
دشمن کے جہاز آگے بڑھتے آ رہے تھے کہ اچانک اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہوا مسلمانوں کے موافق ہو گئی اور ان کی ہمتیں بڑھ گئیں۔ اس موقع پر حضرت عبداللہ بن سعد رضی اللہ عنہ نے حریف کو پیش کش کی کہ دونوں فوجیں ساحل پر اتر جائیں اور اپنی شمشیر زنی کے جوہر دکھا کر ہار جیت کا فیصلہ کر لیں۔
بازنطینی کمانڈروں نے یہ گمان کر کے کہ مسلمان نا تجربہ کاری کی وجہ سے بحری جنگ سے خوفزدہ ہیں، نخوت بھرے لہجے میں جواب دیا: "معرکہ سمندر میں ہو گا، سمندر میں۔"
یہ جواب سن کر حضرت عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے لنگر اٹھانے اور بادبان کھولنے کا حکم دیا۔ اسلامی بحریہ رومیوں کی طرف بڑھی اور دیکھتے ہی دیکھتے قرونِ اولیٰ کے ان ملاحوں نے اپنے جہازوں کو حریف کے جہازوں سے ٹکرا دیا۔ اس کے ساتھ ہی دونوں طرف کے سپاہی تلواروں اور خنجروں سے ایک دوسرے پر ٹوٹ پڑے۔ مسلمانوں نے ایسی شدید بحری جنگ لڑی جس کی مثال نہیں ملتی۔ ہزاروں آدمی کٹ کٹ کر سمندر میں جا گرے اور سمندر خون سے سرخ ہو گیا، مسلمانوں کے بھی سینکڑوں افراد شہید ہوئے مگر رومیوں کے نقصانات کہیں زیادہ تھے، اس دوران سمندر میں طغیانی آگئی اور دونوں طرف کے بحری جہاز تنکوں کی طرح اچھلنے لگے، تب تک مسلمانوں نے رومیوں کی بڑی تعداد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، اسی اثناء میں خود قیصر قسطنطنیہ بھی زخمی ہو گیا، اس نے بقیہ سپاہیوں کو پسپائی کا حکم دے دیا۔
اس طرح اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو شاندار فتح عنایت کی۔ مسلمان قریبی ساحل پر اترے تو ہلاک شدہ رومیوں کی لاشیں بھی بہہ بہہ کر یہاں جمع ہو گئیں، یہاں تک کہ جگہ جگہ ان کے ڈھیر لگ گئے۔
اس معرکے کے بارے میں ایک قول یہ ہے کہ یہ سن ۳۱ ہجری میں ہوا تھا۔
قسطنطنیہ کی فتح کا منصوبہ:
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کئی برسوں سے قیصر کے پائے تخت قسطنطنیہ پر کارگر حملے کی ممکنہ تدابیر پر غور کر رہے تھے۔ چونکہ اس محاذ پر جہاد کرنے والے لشکر کے لیے حدیث میں مغفرت اور جنت کی بشارت دی گئی تھی، اس لیے صحابہ کرام اس کی فتح کو بہت اہم سمجھتے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ قسطنطنیہ کی خلیج تک یلغار کر چکے تھے مگر یہاں تینوں اطراف سمندر سے گھرے اس شہر کی جغرافیائی قلعہ بندی نے یہ ثابت کر دیا کہ اس سمت سے اس پر حملہ تقریباً ناممکن ہے۔ مگر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا حوصلہ اتنا بلند تھا کہ انہوں نے یہ طے کیا کہ پہلے پورے یورپ کو فتح کیا جائے اور پھر خشکی کے راستے شمال سے آ کر قسطنطنیہ کو گھیرا جائے۔ اس کے لیے آپ نے یہ نقشہ مرتب کیا کہ پہلے مراکش سے اسپین، پھر فرانس اور پھر مغربی یورپ پر حملہ کیا جائے ، اس کے بعد مشرقی یورپ کو زیر نگیں کر کے قسطنطنیہ پہنچا جائے۔ چنانچہ آپ رضی اللہ عنہ نے افریقہ کے سپہ سالار حضرت عقبہ بن نافع کو اپنے منصوبے کی خبر دیتے ہوئے مراسلے میں لکھا: "بلاشبہ قسطنطنیہ اندلس کے راستے سے فتح ہو سکتا ہے۔"
اسلامی افواج اس وقت تک مراکش پر قابض ہو چکی تھیں۔ اسپین اور مراکش کے درمیان صرف سمندری پٹی حائل تھی۔ اس سے قبل حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے حکم سے سن ۲۷ ہجری میں افریقہ کی اسلامی فوج نے خلیج عبور کر کے اندلس پر ایک حملہ کیا تھا اور کامیابی سے واپس لوٹ آئی تھی۔ یہ حملہ باقاعدہ جنگ کے اصول پر نہیں تھا جس میں علاقہ فتح کیا جاتا بلکہ یہ چھاپہ مار کارروائی کی حیثیت رکھتا تھا تاکہ دشمن کی قوت کا اندازہ لگایا جائے۔
یہ یورپ میں مسلمانوں کا پہلا قدم تھا، اگر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اس کے بعد داخلی فتنوں کا سامنا نہ ہوتا تو شاید قسطنطنیہ اور اس سے پہلے پورا یورپ اسی زمانے میں فتح ہو جاتا۔ مگر افسوس کہ ۳۳ھ کے بعد داخلی فتنوں نے اس سلسلہ جہاد و ایثار وکار کا پھر ایک عشرے تک اسلامی سرحدیں وسیع نہ ہونے پائیں۔
مشرقی محاذ
دور عثمانی میں مغرب کے ساتھ مشرق میں بھی فتوحات کا دائرہ بڑھتا رہا۔ ۲۹ھ میں اہل فارس نے بغاوت کی تو خلیفہ ثالث کی طرف سے مقرر کردہ بصرہ کے نئے حاکم حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو اپنی بے پناہ صلاحیتوں کے اظہار کا موقع ملا اور انہوں نے بصرہ سے فارس کے مرکز اصطخر پر یلغار کر کے نہایت چابک دستی اور حوصلہ مندی سے باغیوں کو شکست دی اور فارس پر اسلامی حکومت کی بالا دستی بحال کر دی۔
سن ۳۰ ہجری میں بحیرۂ خزر (کیسپین سی) کے قریب طبرستان کے خطے میں جہاد ہوا۔ کوفہ کے حاکم حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہاں فوج کشی کی تو حضرت حسن، حضرت حسین، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت عبداللہ بن زبیر اور حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہم جیسے صحابہ کرام ہم رکاب تھے، جنہوں نے شدید معرکوں کے بعد طبرستان پر قبضہ کر لیا۔
ادھر یزدگرد کی موت کے بعد حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے پورے خراسان اور گردونواح کو فتح کر کے فارسیوں کی شر انگیزیوں کا قلع قمع کرنے کا فیصلہ کیا اور سن ۳۱ ہجری میں مختلف اضلاع فتح کرتے ہوئے نیشاپور کا محاصرہ کر لیا، آخر ایک ماہ بعد نیشاپور کے حاکم نے صلح کر لی۔
یزدگرد کی موت کیسے ہوئی؟
ساسانی خاندان کا آخری حکمران، سابق شاہِ ایران یزدگرد پانچ برس سے سجستان (جنوبی افغانستان) میں چھپا ہوا تھا۔ دو بار قارون میں نہاوند میں ایرانیوں کی آخری شکست کے بعد وہ اصفہان میں پناہ گزین رہا تھا اور جب وہاں حالات ناسازگار ہوئے تو " رَے" میں جا پڑا تھا جہاں طبرستان کے والی نے حاضر ہو کر اپنے قلعوں میں آنے کی دعوت دی تھی مگر یزدگرد نہ مانا اور سجستان چلا آیا۔ مسلمان سپاہ اب بھی اس کی کھوج میں تھے۔
اس وقت وہ اہل سجستان سے بھی مایوس ہوکر مرو کی طرف جا رہا تھا۔ اس کے ساتھ ایک ہزار افراد کی مختصر سی فوج اور چند امراء تھے۔ مرو پہنچ کر اس نے مقامی مجوسی حاکم ماہویہ اور اس کے امیر سے مالی تعاون طلب کیا مگر یہ لوگ ساسانیوں کے سابقہ مظالم اور جھوٹی سیاست سے اس قدر تلملائے ہوئے تھے کہ انہوں نے نہ صرف کسی بھی قسم کی مدد سے انکار کر دیا بلکہ ترکمانوں کو بلوا کر یزدگرد کے قافلے پر دھاوا بول دیا۔ اس مڈ بھیڑ میں یزدگرد کے سارے ساتھی مارے گئے اور وہ خود گھوڑے کو ایڑ لگا کر تن تنہا بیابانوں کی طرف بھاگ نکلا۔ یہ واقعہ سن ۳۱ ہجری کا ہے۔
زخمی گھوڑے نے راستے میں دم توڑ دیا تو وہ پیدل چلنے پر مجبور ہو گیا، اسی خستہ حالی میں وہ دریائے مرغاب کے کنارے مرو سے دو فرسخ (تقریباً دس کلومیٹر) دور ایک پن چکی پر پہنچا، اس کا شاہی لباس اور تاج دیکھ کر پن چکی کا مالک حیران ہو گیا اور اسے اپنے ہاں پناہ دے دی۔ اس دوران مرو کے حاکم ماہویہ کو یزدگرد کا سراغ مل گیا۔ اس نے کچھ سپاہی بھیج دیے کہ یزدگرد کا سر کاٹ کے لے آئیں،ان سپاہیوں نے پہلے چکی والے کو مار پیٹ کر یزدگرد کا پتا معلوم کیا، پھر اس کو ساتھ لے کر پن چکی کی اس کوٹھری کے پاس پہنچ گئے جس میں یزدگرد روپوش تھا۔
سپاہیوں نے چکی والے کو کہا: "تم ہی اندر جا کر اسے قتل کرو۔"
اس نے اندر جا کر یزدگرد کو جو گہری نیند سو رہا تھا، قابو کرنے کی کوشش کی، وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا اور چکی والے کا ارادہ بھانپ کر بولا: "میری یہ انگوٹھی اور کنگن لے لو، مجھے کچھ نہ کہو۔"
چکی والے کو ان چیزوں کی قیمت معلوم نہ تھی۔ بولا: "چار درہم دے دو، چھوڑ دوں گا۔"
یزدگرد کے پاس درہم نہیں تھے، اپنی ایک بالی اتار کر اسے دے دی۔
اتنے میں باہر کھڑے سپاہی تلواریں سونت کر اندر آ گئے، یزدگرد نے گڑ گڑا کر کہا:
"مجھے قتل مت کرنا، چاہے اپنے حاکم کے حوالے کر دو یا عربوں کے سپرد کر دو۔"
مگر سپاہیوں نے سنی ان سنی کرتے ہوئے اسے وہیں قتل کر دیا اور لاش دریائے مرغاب کی لہروں کے حوالے کر دی۔ یہ لاش ایک مقامی پادری کو دریا کے کنارے جھاڑیوں میں پھنسی ملی جس نے اسے اپنی رسم کے مطابق دفنا دیا۔ اس طرح ساسانیوں کا آخری بادشاہ ایک عبرت ناک موت مر گیا اور شاہان کسریٰ کی داستان ختم ہوکر ایک افسانہ بن گئی جو آج بھی دنیاوی جاہ و جلال اور مادی شان و شوکت کے فانی ہونے کا یقین دلاتی ہے۔
خراسان کی فتوحات:
نیشاپور کے بعد حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے سرخس کو بزور شمشیر اور طوس کو صلح کے ساتھ فتح کیا۔ اس کے بعد ہرات اور بادغیس بھی ان کے آگے سرنگوں ہو گئے۔ مرو کے مجوسی حاکم نے بھی بائیس لاکھ درہم سالانہ جزیہ دینے کی شرط پر صلح کر لی۔ اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے مایہ ناز جرنیل حضرت احنف بن قیس رضی اللہ عنہ کو آگے روانہ کیا، جنہوں نے بلخ، جوزجان، فاریاب، طخارستان اور طالقان جیسے دشوار گزار علاقوں میں جنگجو ترکوں اور مجوسیوں سے خونریز معرکے لڑے اور ہر جگہ فتح یاب ہو کر ان تمام علاقوں میں اسلام کے جھنڈے گاڑ دیے، ان میں سے کچھ علاقے جنگ کے بغیر صلح کے معاہدوں کے ساتھ بھی فتح ہوئے۔ اس طرح کرمان، سجستان، زرنج، قندھار، زابل، غزنی اور کابل بھی یکے بعد دیگرے فتح ہوتے چلے گئے، ان فتوحات میں حضرت اقرع بن حابس، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ، حضرت مُجاشِع بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن خازم رضی اللہ عنہم جیسے اولوالعزم اسلامی سپہ سالار پیش پیش تھے۔
غرض حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ اور ان کے امراء نے ایک ڈیڑھ سال کے اندر اندر مشرق میں اسلامی عمل داری کا دائرہ نہ صرف غزنی اور کابل تک پھیلا دیا بلکہ ہندوستان کی سرحدوں تک جا پہنچے۔
اس طرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بابرکت دور میں خلافت اسلامیہ کی حدود ہندوستان کی سرحدوں سے لے کر شمالی افریقہ کے ساحلوں اور بحیرہ روم میں مشرقی یورپ کی سرحدات تک وسیع ہو گئیں۔
اسلامی حکومت جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں ساڑھے بائیس لاکھ مر بع میل (۳۶ لاکھ ۲۱ ہزار مر بع کلومیٹر) کو محیط تھی، دور عثمانی میں ۴۴ لاکھ مر بع میل (۷۰ لاکھ ۸۱ ہزار مر بع کلومیٹر) تک حاوی ہو گئی۔
اس طرح خلیفہ ثالث کے مبارک زمانے میں ایک وسیع و عریض علاقہ کفر و شرک کی بالا دستی سے آزاد ہو کر قرآن و سنت کے انوارات سے جگمگا اٹھا۔

