حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی بہترین پالیسی
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے پیش آمدہ فتنوں کے مقابلے اور استحکامِ خلافت کے لیے جو پالیسی اپنائی، اس میں نرمی اور گنجائش کا پہلو غالب نظر آتا ہے جسے مستشرقین اور سیکولر مؤرخین نے محض ضد کی بنا پر ہدفِ تنقید بنایا ہے۔ خلیفہ ثالث کی پالیسی کو سمجھنے کے لیے ہمیں اس بنیادی بات پر غور کرنا ہو گا کہ کوئی بھی حکومت فتنوں کا سدِ باب دو طرح کر سکتی ہے:
* سخت گیری اور قلع قمع کی پالیسی اپنا کر
* نرمی، عفو و درگزر اور کھلے احتساب کا انداز اختیار کر کے
سخت گیر پالیسی اپنانے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مخالفین اور فتنہ پرور لوگوں کا جڑ سے صفایا کر دیا جائے۔ انہیں چن چن کر گرفتار، قید اور قتل کیا جائے تاکہ دوسرے لوگ بھی ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں اور فتنہ و فساد میں شرکت سے گریز کریں۔
یہ پالیسی بعض مواقع پر کامیاب ہو جاتی ہے۔ کئی حکمرانوں نے یہ انداز اپنا کر طویل عرصے تک تاج و تخت برقرار رکھا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ دارو گیر، پکڑ دھکڑ اور عبرت ناک سزاؤں کی پالیسی کسی حکومت اور مملکت کو مستقل پائیداری نہیں بخشتی، بلکہ اس کے نتیجے میں حکومتیں زوال کی کھائی میں گرتی چلی جاتی ہیں، کیوں کہ فتنہ و فساد جب اپنے شہریوں کی طرف سے ظاہر ہوتا نہیں کچلنے اور روندنے کی پالیسی کے ردِ عمل میں بہت سے بے قصور لوگ بھی لپیٹ میں آ جاتے ہیں، شہریوں کے حقوق کی پامالی عام ہو جاتی ہے بہت سے افراد معمولی شرانگیزی کی بڑی سزا پا جاتے ہیں تو حکومت کے پکے مخالف بن کر باغیانہ سرگرمیوں کو زندگی کا نصب العین بنا لیتے ہیں۔ پھر حکومت کی طرف سے جواب میں مزید تشدد ہوتا ہے اور ردِ عمل میں باغیانہ کارروائیوں کا دائرہ بھی پھیلتا ہے، جس کے نتیجے میں آخر ملک تباہ ہو جاتا ہے۔
اس کے برعکس نرمی، عفو و درگزر اور قانون کے مطابق احتساب کا انداز اپنانے سے وقتی طور پر تو فسادی لوگوں کو کچھ چھوٹ مل جاتی ہے مگر انہیں عوام کو مشتعل کرنے میں زیادہ کامیابی نہیں ہوتی کیوں کہ ہر شخص جب اپنے حقوق محفوظ دیکھتا ہے تو خواہ مخواہ کسی پرخطر سرگرمی میں کودنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ فسادی لوگوں میں سے بھی بہت سے افراد جو غلط فہمی کا شکار ہو کر حکومت سے ٹکرانے کی کوشش کرتے ہیں جواب میں حکام کو مخلص و ہمدرد، اپنے حقوق کا محافظ، عفو و درگزر کا دروازہ کھلا اور احتساب کو صاف و شفاف پا کر اپنی غلط روش سے باز آ جاتے ہیں۔ جو لوگ عادی سرکش یا غیر ملکی ایجنٹ ہوتے ہیں وہ قانون کے مطابق سزا پاتے ہیں اور اگر بچ بھی جائیں تو معاشرے پر زیادہ اثر انداز نہیں ہوتے۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اپنی معاملہ فہمی، تدبر اور فراستِ ایمانی کی بناء پر یہی طرزِ اختیار کیا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ چھپے ہوئے فسادی لوگ جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی شہادت کے فوراً بعد فتنہ و فساد برپا کر سکتے تھے، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارہ برسوں میں سے دس سال تک ذرہ برابر بھی کامیاب نہ ہوئے۔ انہیں اس تمام عرصے میں ایسا کوئی موقع نہ مل سکا جس سے وہ فساد کی چنگاریاںبھڑکاتے اور مسلمانوں کو خلافت کا باغی بناتے۔
دورِ حاضر کے بعض نام نہاد محققین کا یہ دعویٰ سراسر خلافِ حقیقت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نرم خوئی اور درگزر نے خلافتِ اسلامیہ میں فتنوں کو سر ابھارنے کا موقع دیا۔ ایسے لوگ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ اگر عمر فاروق رضی اللہ عنہ ہوتے تو ان فتنوں کو سختی سے کچل دیتے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جو پالیسی اپنائی وہ زمانے کے لحاظ سے موزوں تھی اور اس میں اکابر صحابہ کی مشاورت بھی شامل تھی۔ اگر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی حکومت مزید دس بارہ سال رہتی تو پیش آمدہ حالات کو دیکھ کر شاید ان کا طرزِ عمل بھی اس سے بہت زیادہ مختلف نہ ہوتا۔
پالیسی کی امتیازی خوبیاں:
یہ خیال بھی بالکل غلط ہے کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے طرزِ سیاست کو یکسر ترک کر دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فاروقی نظمِ حکومت کو برقرار رکھتے ہوئے انہی کی طرزِ سیاست کی پیروی کی تھی۔ مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا، علم و معرفت کے مراکز آباد رہے، لوگ اسلام میں داخل ہوتے رہے، رعایا کو تمام حقوق برابر ملتے رہے، گورنروں اور افسران کی نگرانی ہوتی رہی، عہدے داروں کی کمی کوتاہی پر باز پرس جاری رہی، اپنے فرائض میں غفلت برتنے والوں کو برطرف کیا جاتا رہا۔
مگر ان تمام انتظامی و سیاسی اقدار کی بقا کے ساتھ اُمت نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ میں جو نئی چیز دیکھی وہ رویے کی تبدیلی تھی جس کا اظہار تین طرح سے ہوا:
* حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا رویہ سخت تھا کیوں کہ ان کی طبیعت میں جلالِ الٰہی کا غلبہ تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا رویہ نرم اور شائستہ تھا۔ ان کا مزاج جمالِ نبوی کا عکس تھا۔ طبعی طور پر وہ بڑے نرم گفتار، رحم دل اور وضع دار انسان تھے۔ اس شائستہ گفتاری اور نرم خوئی میں آپ کی تاجرانہ زندگی اور لین دین کے تجربے کا دخل بھی تھا، آپ کسی کو جِھڑکنے یا ڈرانے کے عادی نہ تھے۔ ضرورت کی بات صاف لہجے، مختصر الفاظ اور شریفانہ انداز میں کہہ دیتے تھے۔
* حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما لوگوں کو انعام و اکرام سے نوازنے کے عادی نہیں تھے، جس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ذاتی طور پر اتنے خوشحال نہ تھے اور بیت المال سے ایسے خرچے ان کے نزدیک خلافِ احتیاط تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ داد و دہش کو اچھا سمجھتے تھے، ایک کامیاب تاجر ہونے کے ناطے ان کے پاس دولت کی کوئی کمی نہیں تھی اور وہ اسے جمع کر کے رکھنے کی بجائے خرچ کرنے کو ترجیح دیتے تھے، چنانچہ صدقہ و خیرات بھی کثرت سے کرتے تھے اور آنے جانے والے کو اس ذاتی سرمائے سے تحائف سے بھی نوازتے تھے۔
(مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بیت المال سے بے جا خرچ کرتے تھے۔ ہرگز نہیں، بیت المال سے وہ ایک درہم بھی ذاتی طور پر نہیں لیتے تھے، نہ اپنے کسی مقصد کی خاطر کسی کو دیتے تھے۔ یہاں تک کہ گزشتہ دو خلفاء بیت المال سے جو وظیفہ اپنی گزر اوقات کی خاطر لیتے تھے، خلیفہ ثالث نے اسے بھی اپنے لیے جاری نہ کروایا۔)
* رویے میں تبدیلی کا تیسرا مظاہرہ یہ تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اُمتِ مسلمہ میں عوام و خواص سب کے لئے معیار زندگی کو بہتر بنانے کی گنجائش رکھی۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے زمانے میں فتوحات کی اتنی کثرت نہیں ہوئی تھی کہ دولت کی ریل پیل ہوتی۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں قیصر و کسریٰ کے خزانے قدموں میں آ پڑے تھے مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور کو نمونہ قرار دیتے ہوئے مسلمانوں، خصوصاً اپنے گورنروں اور افسران کے لیے سادگی کو پسند فرمایا اور کوشش کی کہ مسلمان دولت کی کثرت کے باوجود عرب کے بے تکلف بدویانہ تمدن کو اپنائے رکھیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ خود اس بارے میں سب سے زیادہ محتاط تھے اور فقیرانہ زندگی گزارتے تھے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نہایت حکمت و تدبر کا ثبوت دیتے ہوئے اُمت کو یہ گنجائش دی کہ لوگ اللہ کے دیے ہوئے حلال مال میں سے مباح اور جائز سہولیات کو اختیار کر سکتے ہیں، کیوں کہ آپ کی نگاہ صرف ان احادیث پر نہیں تھی جن میں دنیا داری اور آرام پسندی کی مذمت آئی ہے بلکہ آپ کی فقیہانہ نگاہ ان نصوصِ قرآنیہ اور فرامینِ نبویہ پر بھی تھی جن میں حلال نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے۔
قرآنِ مجید میں ارشاد ہے:
قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِيْنَةَ اللّہ الَّتِيْٓ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَالطَّيِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ
”آپ کہہ دیجئے کس نے حرام کیا ہے اللہ کی دی ہوئی زیب و زینت کی چیزوں کو اور پاکیزہ رزق کو۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
”اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر انعام اکرام فرماتے ہیں تو یہ بات پسند کرتے ہیں کہ ان نعمتوں کا اثر آدمی پر ظاہر ہو۔“
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اگرچہ مسلمانوں کو اچھی پوشاک اور زیب و زینت سے منع کرتے تھے مگر ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ مسلمان ان میں منہمک نہ ہو جائیں ورنہ بذاتِ خود ان نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے جواز کو وہ اچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے، یہی وجہ تھی کہ جب انہوں نے بیت المقدس کی فتح کے موقع پر اپنے بعض افسران کو بیش قیمت لباس پہنے ہوئے دیکھا تو انہیں ملامت کی لیکن جب جواباً کہا گیا: ”یہاں اس قسم کا لباس پہننے کی ضرورت پڑتی رہتی ہے“ تو حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار کر لی۔
اس پالیسی کی ایک اہم وجہ یہ بھی تھی کہ اگر مباح آسائش اور سہولیات پر پابندی لگا دی جاتی تو اس دولت کا کیا مصرف ہوتا جس کے انبار بیت المال میں لگے رہتے تھے اور جب لوگوں کو حصے تقسیم کیے جاتے تو ان کے ہاں بھی غلے کی طرح دولت کے ڈھیر لگ جاتے تھے۔
بیت المال کی یہ آمدن، استعماری طاقتوں کی مشرق میں لوٹ مار کی مانند نہیں تھی بلکہ اس میں بڑا حصہ اس خراج کا تھا جو سالانہ عراق، فارس، خراسان اور مصر سے آتا تھا اور جس کی مالیت آج کل کے حساب سے اربوں ڈالر بنتی ہے۔ اس وقت اسلامی دنیا کی کل آبادی غالباً ایک کروڑ افراد سے بھی کم تھی جن کے لیے یہ وسائل ضرورت سے بہت زیادہ تھے۔ ضروریات کی حد ویسے بھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں طے کردہ وظائف کے نظام سے بڑی فراغت سے پوری ہو رہی تھی۔ اس کے باوجود جب بیت المال میں عوام کو مزید دینے کی گنجائش تھی تو کیوں نہ دیا جاتا۔
اب ظاہر ہے کہ کسی کو اس کی ضرورت سے زائد رقم دے کر اگر پابند کر دیا جائے کہ وہ ضروریات سے ہٹ کر خرچ نہ کرے تو پھر اس فیاضی کا کوئی مطلب نہیں رہے گا اور اسے ایک غیر سنجیدہ رویہ ہی کہا جائے گا جو اسلامی حکومت کے شایانِ شان ہرگز نہ تھا۔ اس لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مناسب سمجھا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے غنائم اور مفتوحہ علاقوں کی پیداوار کے محصولات بڑی مقدار میں مل رہے ہیں اسی انداز سے حکومت کو بھی عوام پر کھل کر خرچ کرنا چاہیے اور انہیں مباحات کے دائرے میں پُرآسائش زندگی گزارنے کی چھوٹ دینی چاہیے۔
چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد جو ابتدائی اقدامات کیے، ان میں ایک اہم فیصلہ یہ تھا کہ فی کس سالانہ وظیفے میں سو درہم (آج کل کے لحاظ سے تقریباً 25 ہزار روپے) کا اضافہ کر دیا گیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ ماہِ رمضان المبارک میں لوگوں کو سحر و افطار کرانے کے لیے ایک ایک درہم تقسیم کیا کرتے تھے۔ جب ان سے کسی نے کہا کہ ”کیوں نہ آپ اجتماعی کھانے کا انتظام کرا دیں۔“ تو فرمایا: ”میں لوگوں کو گھر بیٹھے شکم سیر کرنا چاہتا ہوں۔“
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی طرح رقم تقسیم کرنے کے طریقے کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سحر و افطار کے اجتماعی دستر خوان کا نظام بھی شروع کرا دیا اور فرمایا: ”یہ مسافروں، اجنبیوں اور مساجد میں عبادت کے لیے جمع رہنے والوں کے لیے ہے۔“
اس معقول، ہمدردانہ اور فیاضانہ طرزِ عمل کے مثبت اثرات ظاہر ہوئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے رعایا پرور رویے نے دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کے دل جیت لیے۔ مؤرخین تسلیم کرتے ہیں کہ ان اقدامات کے نتیجے میں رعایا انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی زیادہ چاہنے لگی کیوں کہ کامل عدل وانصاف اور عمدہ و مستحکم نظام تو ویسا ہی تھا مگر ساتھ میں فیاضی، سخاوت اور نرمی بھی تھی جو دشمنوں کو بھی گرویدہ و بنا لیا کرتی ہے۔
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
”میں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو خطاب کرتے دیکھا، اس وقت میں بالغ ہونے کے قریب تھا، میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے زیادہ حسین اور تر و تازہ چہرہ کسی مرد کا دیکھنا تھا نہ کسی عورت کا۔ میں نے سنا، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: ”حضرات! آئیے اور اپنے وظائف لے جائیے۔“ پس لوگ آ کر بھرپور انداز میں مال وصول کرتے۔ ارشاد ہوتا: ”حضرات! آئیے، کپڑے اور ملبوسات لے جائیے۔“ پس لوگ آتے، ملبوسات لاکر لوگوں میں بانٹ دیے جاتے۔
اللہ کی قسم! میرے کانوں نے یہاں تک سنا:
”حضرات! آئیے، گھی اور شہد وصول کر لیجئے۔“ لوگوں میں گھی اور شہد تقسیم کیا جاتا۔ لوگ آتے اور مشک و عنبر جیسی خوشبوئیں لے لے کر جاتے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں لوگوں کے مابین دشمنیوں کا نام و نشان تک نہ تھا۔ عطیے اور انعامات کی بارش برستی تھی۔ روئے زمین پر کوئی مسلمان ایسا نہ تھا جسے دوسرے مسلمان سے کوئی خدشہ ہو۔ جو کسی بھی شہر میں کسی بھی مسلمان سے ملتا اسے اپنا بھائی، دوست، مددگار اور خیر خواہ محسوس کرتا۔“

