Sazishi Tehreek ka Aghaz aur Abdullah bin Saba ka Fitna

سازشی تحریک کا زیر زمین دور

28ھ تا 33ھ
        مسلمانوں کی فتوحات اور خوشحالی کا جو قابل رشک ماحول دکھایا گیا ہے، وہ دور صدیق اکبرؓ اور دور فاروق اعظمؓ سے حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت کے گیارہویں سال تک اسی طرح برقرار رہا۔ یہ چوبیس برس اسلامی خلافت کا دور عروج تھے، ہر طرف امن و امان تھا اور فتوحات کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ عوام خوشحال اور امراء امانت دار تھے۔ امت متحد تھی، کہیں کوئی ہنگامہ نہیں تھا۔ حضرت عثمانؓ نے بذات خود آخر تک ایک نہایت مثالی حکمران کا کردار  پیش کیا تھا... البتہ آخری برسوں میں کچھ شرپسندوں نے ان کی حکومت گرانے کی سر توڑ کوششیں شروع کیں جو آخر میں حضرت عثمانؓ کی مظلومانہ شہادت کے دردناک سانحے کا باعث بنیں، یہ وہ فتنہ تھا جس کی پیش گوئی احادیث میں کر دی گئی تھی... اور یہ وہ موڑ تھا جہاں سے امت داخلی فتنوں کے دور میں داخل ہو رہی تھی۔


        توحید کا ہمہ گیر بول بالا، شرک کا استیصال، اللہ تعالیٰ کے نظام کا نفاذ اور اسلام کا غلبہ شیطان کو ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ اس نے بنی نوع انسان کی دنیا و آخرت تباہ کرنے کے لیے ہزاروں برس تک جو محنت و سعی کی تھی، اس کے رائیگاں جانے پر اب وہ تلملا رہا تھا۔ وہ اسلام کے گلشن کو اُجاڑ دینا چاہتا تھا، مگر کیسے؟ عالم اسلام کے باہر کی جو بھی قوتیں تھیں وہ فرزندانِ توحید سے شکست کھا چکی تھیں اور عالم اسلام کی حدود کے اندر انسان ابلیس کی بندگی سے نکل کر خدا کی بندگی میں جا چکے تھے!! اب شیطان کرتا تو کیا کرتا۔ وہ خود تو سامنے آ کر مقابلہ کرنے سے رہا! اس کی عادت تو ہمیشہ دوسروں کو استعمال کرنے کی رہی ہے۔

        ایسے میں کچھ ایسے لوگ شیطان کے آلہ کار بنے جو اسلامی خلافت کی رعایا تو تھے مگر ان کے دل قبائلی تعصب سے آزاد نہیں ہوئے تھے۔ وہ اسلام کی سطوت کو دیکھ کر دب گئے تھے اور کلمہ بھی پڑھ لیا تھا مگر ان کو مہاجرین و انصار اور قریش کی ترقی سے شدید جلن محسوس ہوتی تھی۔ اسلامی خلافت کو وہ خدا کے نظام کے طور پر نہیں قریش کی بادشاہت کی شکل میں دیکھتے تھے، ان کے لیے یہ بات زیادہ خوشی کا باعث ہو سکتی تھی کہ کسی طرح خلافتِ اسلامیہ کو ملیامیٹ اور کمزور ہوتی۔ اور اس کی جگہ ان کے اپنوں کا اقتدار قائم ہوتا۔ ان میں سے بعض وہ تھے جن کے دلوں میں ایمان داخل ہی نہیں ہوا تھا۔ اس ملے  جلے  گروہ میں عرب بھی تھے اور عجمی بھی۔ یہودی بھی تھے اور عیسائی بھی۔ یہی لوگ تھے جو آئندہ اسلام کی جڑوں کو کاٹنے کے لیے شیطان کے گماشتوں کا کردار ادا کرنے پر آمادہ تھے۔

        جس طرح زمین کی تہہ میں چھپے  بیج کے پھوٹنے کا وقت نامعلوم ہوتا ہے، اسی طرح  یہ بات پورے یقین سے نہیں بتائی جا سکتی کہ سازشی تحریک کا آغاز کب ہوا تھا۔ تاہم ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جو تحریک 33ھ میں ایک کانٹے دار جھاڑی کی طرح پھیلی اس کا بیج حضرت عثمانؓ کے دور سے پہلے بویا گیا تھا۔ آج مواصلات اور نقل و حمل کے تیز ترین ذرائع کی موجودگی میں بھی ایسی تحریکیں منظرِ عام پر آنے سے پہلے آٹھ دس سال کا وقت لے لیتی ہیں، اس قدیم دور میں کسی حکومت مخالف تحریک کی آبیاری میں بیس پچیس برس لگ جانا بالکل قرین قیاس ہے۔ اس کے برعکس یہ بات بالکل سطحی ہے کہ شورش پسند جماعت نے حضرت عثمانؓ کے آخری چند سالوں میں یکا یک جنم لیا، راتوں رات اپنی جڑیں دور دور تک پھیلا دیں اور اتنی تیزی سے ابھری کہ نہ صرف خلیفہ کو شہید کرنے میں کامیاب ہوگئی بلکہ اس کے بعد بھی کئی عشروں تک خلفائے اسلام کے لیے دردِ سر بنی رہی۔ چونکہ شورش پسند جماعتوں کے سرغنے اور اصل ماسٹر مائنڈ افراد ہمیشہ پسِ پردہ کام کرتے ہیں، لہٰذا اس سازشی جماعت کی اصل قیادت بھی روپوش اور گمنام رہی۔ ہم اس تحریک کے جھانسے میں آنے والے عام شہریوں اور دیہاتیوں کو باغی، فسادی، شورش پسند اور بلوائی جبکہ ان غیر مرئی شخصیات کو "سازشی عناصر" کہہ کر یاد کریں گے۔ یاد رہے کہ یہ ہیولے کسی وہم کی تخلیق نہیں بلکہ واقعی ایسے لوگوں کا وجود تھا۔ اسی لیے ان میں سے ایک شخص کا نام وثوق سے لیا جا سکتا ہے۔ یہ عبداللہ بن سبا تھا۔

عبداللہ بن سبا

        حضرت عثمان غنیؓ کو خلیفہ بنے چند برس گزرے تھے کہ یمن کے صدر مقام صنعاء کے ایک کالے بھجنگ یہودی نے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور عبداللہ بن سبا کے نام سے اس کی پہچان ہوئی۔ اسلام قبول کرنے کا اعلان کرنے کے بعد ابن سبا نے کسی صحابی کی خدمت میں وقت نہیں گزارا۔ اس نے یمن سے اپنی مہم کا آغاز کیا اور چند برسوں میں حجاز، کوفہ، بصرہ اور شام تک کے سفر کر ڈالے۔ وہ بزرگی کا لبادہ اوڑھ کر مشہور ہوا۔ اس لیے خود کو ایسے مصلح کے طور پر پیش کیا جو نیکی کا حکم دیتا اور گناہوں سے منع کرتا تھا۔

        جس طرح پولس نے حضرت عیسیٰؑ کے بارے میں مبالغہ آمیز محبت پر مبنی نئے عقائد کا اظہار کر کے عیسائیوں میں مقبولیت حاصل کی تھی اسی طرح ابن سبا نے بھی یہی داؤ آزما کر جاہلوں میں مذہبی پیشوا کا مرتبہ حاصل کر لیا۔ سادہ لوح قسم کے بہت سے لوگ اسی کو اسلام کا سب سے بڑا معلم و مرشد تصور کرنے لگے۔

        یہودیوں کے اس گماشتے کو معلوم تھا کہ مسلمانوں کے عروج کا راز ان کے اتحاد میں مضمر ہے اور یہ اتحاد صحابہ سے امت کی عقیدت و محبت، صحابہ کے باہمی تعلق اور خلفائے اسلام پر ان کے غیر متزلزل اعتماد کی وجہ سے مستحکم ہے۔ چنانچہ اس نے لوگوں کو صحابہ سے بد اعتماد کرنے اور منصبِ خلافت ہی کو متنازعہ بنانے کی کوشش شروع کر دی۔


نئے عقائد کی ترویج:

        ابن سبا نے اپنے نظریات کے پرچار کا آغاز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  سے غیر معمولی اظہارِ محبت کی شکل میں یوں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقیناً عیسیٰؑ سے افضل ہیں۔لہٰذا وہ دنیا میں ضرور واپس آئیں گے۔

        اس من گھڑت عقیدے کی دلیل میں وہ یہ آیت پڑھتا: 

"اِنَّ الَّذِیۡ فَرَضَ عَلَیۡکَ الۡقُرۡاٰنَ لَرَآدُّکَ اِلٰی مَعَادٍ"
"بے شک جس نے تم پر قرآن نازل کیا ہے وہ ضرور تمہیں تمہاری منزل پر لوٹائے گا۔"

        یہ آیت حضورصلی اللہ علیہ وسلم  کی مکہ سے ہجرت کے وقت نازل ہوئی تھی، یہ بتا رہی تھی کہ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس شہر میں عزت کے ساتھ واپس لے آئے گا، مگر تفسیر سے ناواقف لوگ آیت کا وہی مطلب مان لیتے جو ابن سبا انہیں بتاتا۔

        ابن سبا اگلا سبق یہ پڑھاتا: "ہر نبی کا ایک وصی یعنی جانشین ہوتا ہے اور حضورصلی اللہ علیہ وسلم  کے وصی حضرت علیؓ ہیں۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم  خاتم الانبیاء ہیں اور علیؓ خاتم الاوصیاء۔"

        اگلے مرحلے میں وہ اپنے ہم خیال لوگوں کو حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت پر اکساتے ہوئے کہتا:

        "اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم  کی وصیت پر عمل نہ ہونے دے اور نبی کے وصیت کردہ فرد کا حق غصب کر لے اور خود امت کے معاملات کا مالک بن جائے۔"

        جب یہ نادان لوگ حضرت عثمانؓ کو خلافت کا غاصب ماننے لگتے تو انہیں بھڑکاتے ہوئے کہتا: "نبی کے وصی کی موجودگی میں عثمان نے خلافت پر ناحق قبضہ کیا ہوا ہے، اب اس تحریک کو لے کر اٹھو اور حرکت میں آ جاؤ۔"

فتنے کے مراکز:

        اسلامی معاشرے میں جنم لینے والے اس پہلے سیاسی و نظریاتی فتنے کے علانیہ مراکز تین شہر تھے: کوفہ، بصرہ، اور مصر کا صدر مقام فسطاط۔ ان شہروں کو آباد ہوئے تقریباً بیس برس ہوئے تھے۔ مختلف نسلوں اور قبیلوں کے لوگ نقل مکانی کر کے یہاں آ گئے تھے اور ایک ملی جلی معاشرت وجود میں آ گئی تھی۔ پھر یہ شہر تجارتی مراکز بھی تھے اس لیے ہر وقت ہر قسم کے لوگوں کی آمد و رفت ہوتی رہتی تھی۔ تجارت کی وجہ سے یہ تینوں شہر بہت جلد گنجان ہو گئے۔ تاریخی تجربات سے ثابت ہے کہ نئے شہروں میں جہاں مخلوط اور گنجان آبادی ہو اور تجارتی نقل و حرکت جاری رہتی ہو، بہت سے  پیچیدہ مسائل  پیدا ہو جاتے ہیں، وہاں جرائم  پیشہ افراد یا کسی تحریک کے کارکنوں کا آ کر بسیرا کرنا اور اپنی سرگرمیاں انجام دینا آسان ہوتا ہے۔ کوفہ، بصرہ اور فسطاط ایسے ہی نئے شہر تھے جہاں شرپسندوں کو قدم جمانے کا مو قع مل گیا۔

        کوفہ اور بصرہ کے متعلق یہ بات ذہن میں رہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے ایام میں جبکہ یہ شہر ابتدائی نشوونما کے دور سے گزر رہے تھے، یہاں کے لوگوں میں امراء کی اطاعت سے انحراف کا مرض  پیدا ہو چکا تھا۔

        حضرت عمرؓ نے اس بات کو بھانپ کر بصرہ میں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کا تقرر کرتے ہوئے کہا تھا:

        "میں آپ کو ایسی جگہ کا ذمہ دار بنا کر بھیج رہا ہوں جہاں شیطان انڈے دے چکا اور چوزے بھی نکل آئے ہیں۔"

        بصرہ کی طرح کوفہ میں بھی یہی کیفیت تھی جس کی آبادی ایک لاکھ تک پہنچ چکی تھی۔ اہل کوفہ حکام کو بدلواتے رہتے تھے۔ حضرت عمرؓ اپنے دور میں پریشان رہے کہ ایک لاکھ افراد ہیں جو کسی امیر سے خوش نہیں رہتے۔

        دورِ فاروقی میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ بھی کوفہ کے گورنر رہے جو عشرہ مبشرہ میں سے تھے۔ انہیں بھی ہدفِ تنقید بنایا گیا۔ بعض لوگوں نے حضرت عمر فاروقؓ کو شکایت لگائی کہ وہ نماز صحیح نہیں پڑھاتے۔

        ایک شخص نے انہیں یہاں تک کہہ دیا: "نہ تم انصاف کرتے ہو، نہ برابر مال تقسیم کرتے ہو، نہ جہاد کرتے ہو۔"

        حضرت عمرؓ نے سعدؓ کی جگہ نرم مزاج عمار بن یاسرؓ کو تعینات کیا تو اہل کوفہ نے سیاسی سمجھ بوجھ میں کمزور قرار دے کر انہیں بھی ہٹوا دیا۔ حضرت عمرؓ نے مضطرب ہو کر فرمایا: "ان لوگوں پر مضبوط حاکم مقرر کرتا ہوں تو یہ اس کی بُرائی کرتے ہیں۔ نرم آدمی کو متعین کرتا ہوں تو یہ اس کی تحقیر کرتے ہیں۔"

        ان تین شہروں کے علاوہ ایک چوتھا شہر بھی غیر محسوس طور پر فتنے کا مرکز بننے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ یہ شہر دمشق تھا جو مزاج و ترکیب میں پہلے تینوں مراکز سے مختلف ایک قدیم شہر تھا۔ یہ ایک مضبوط عرب خاندان بنو امیہ کا عسکری و سیاسی مرکز تھا۔ یہاں رہنے والے لوگ منظم، جیالے اور اپنے امراء سے وفاداری کے عادی تھے۔ ان کے بیچ میں مقامی حکام کے خلاف لب کشائی کرنا ممکن نہ تھا۔ اس لیے دمشق کے لیے ابن سبا کی پالیسی بھی بالکل الگ رہی جو نہایت خفیہ اور بڑی آہستہ روی پر مبنی تھی، اسی لیے حضرت عثمانؓ کے دور میں آخر تک یہاں کچھ بھی نہ ہوا۔

        بہرکیف یہ حقائق بتاتے ہیں کہ سرکش اور مرکز گریز عناصر کی تحریک نے گزشتہ خلفاء کے دور ہی میں زیر زمین کام کرنا شروع کر دیا تھا اور کوفہ و بصرہ جیسے شہروں میں اس کے اثرات اسی وقت سے دکھائی دینے لگے تھے۔

حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمانؓ کی پالیسی میں فرق اور اس کے اثرات:

        عام طور پر مورخین لکھتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ کی خلافت کے ابتدائی چھ سالوں میں حضرت ابوبکر و عمرؓ کی سیرت پر چلتے رہے مگر اس کے بعد وہ بدل گئے۔ اس تبدیلی کو ایک طبقہ اس معنی میں لیتا ہے کہ چھ سال بعد معاذ اللہ وہ ظلم و ستم، بددیانتی اور خیانت میں ملوث ہو گئے تھے جس کی وجہ سےقوم ان کی مخالفت پر اتر آئی۔ کچھ حضرات اس کے بالکل برعکس یہ کہتے ہیں کہ سرے سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تھی۔

        ان دونوں آراء میں سے پہلی تو بالکل غلط اور سراسر کذب و افتراء پر مبنی ہے۔ جہاں تک دوسری رائے ہے وہ ان معنوں میں درست ہے کہ حضرت عثمانؓ پہلے چھ سالوں کی طرح آخری چھ سالوں میں بھی عادل، امین، ملک و قوم کے خیر خواہ اور ایک سربراہِ مملکت کی حیثیت سے شرعی احکام اور قومی مفاد ہی کو سامنے رکھ کر چلتے رہے تھے۔

        تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ۲۷ ھ سے ۲۹ ھ تک عالمِ اسلام کے منظر نامے میں ایک فرق آ گیا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ اس دور میں دنیائے اسلام کے آٹھ صوبے تھے:

جزیرۃ العرب میں:  مکہ، مدینہ، یمن اور بحرین۔ 
مشرق میں: کوفہ اور بصرہ۔
مغرب میں: دمشق اور مصر۔

        مدینہ سمیت جزیرۃ العرب کے کسی بھی صوبے یعنی مکہ، یمن، بحرین میں فوجی چھاؤنی قائم نہیں تھی۔ یہاں کے گورنروں کے پاس صرف انتظامی امور ہوتے تھے۔ فوجی چھاؤنیاں دمشق، مصر، کوفہ اور بصرہ تھے۔ رقبے، آمدن اور آبادی میں بھی بڑے صوبے یہی تھے۔ ملک کی عسکری قوت بھی انہی چاروں صوبوں کے گورنروں کے پاس رہتی تھی۔

        ۲۷ھ تک صورتحال یہ تھی کہ ان چار بڑے صوبوں میں سے دو کے گورنر حضرت عثمانؓ کے رشتہ دار تھے۔ یعنی شام میں حضرت معاویہؓ اور کوفہ میں حضرت ولید بن عقبہؓ۔ جبکہ باقی دو صوبوں کے گورنر دیگر قبائل کے تھے۔ یعنی بصرہ میں ابوموسیٰ اشعریؓ اور مصر میں حضرت عمرو بن العاصؓ۔

        ۲۷ ھ میں حضرت عثمانؓ نے مصر سے حضرت عمرو بن العاصؓ کو معزول کر کے اپنے رضاعی بھائی عبداللہ بن ابی سرحؓ کو گورنر بنا دیا۔ ۲۹ ھ میں بصرہ سے ابوموسیٰ اشعریؓ کو بھی ہٹا دیا گیا اور ان کی جگہ اپنے ماموں زاد بھائی عبداللہ بن عامرؓ کا تقرر کر دیا۔

        ان تقرر یوں کے پیچھے کوئی ذاتی غرض تھی نہ خاندانی، البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عثمانؓ کی طبیعت میں نرمی، فیاضی اور مروت بہت زیادہ تھی، اس لیے وہ صلہ رحمی میں بھی عام صحابہ کرام سے ممتاز تھے۔ اسی صلہ رحمی کے جذبے کے تحت انہوں نے پہلے بھی ایک دو کام ایسے کیے تھے جو بلاشبہ جائز بلکہ ایک لحاظ سے مستحسن تھے مگر عام لوگوں نے انہیں عجیب تصور کیا۔ اس کے علاوہ اپنے خاندان اور برادری کے مفلس لوگوں کو اپنی جیب سے دل کھول کر بڑے بڑے عطیات دیتے تھے۔ ان کی مالی حالت بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ وہ انہیں معاشرے میں بھی ترقی اور عزت دلانا چاہتے تھے اور ان میں سے قابلِ اعتماد جوانوں کو عہدے دے کر ان سے امت کی خدمت لینا بھی انہیں پسند تھا۔

        اس پس منظر میں اپنے اقارب کو غالب کرنے کی کسی شعوری یا سوچی سمجھی کوشش کے بغیر گورنروں کی تبدیلی کرتے کرتے عالمِ اسلام میں اہم ترین عہدوں کا منظر نامہ یہ بن گیا:

(۱)مدینہ منورہ: مرکزِ خلافت تھا، پورے عالمِ اسلام کو یہاں سے احکام جاری ہوتے تھے۔ تمام اہم امور کا فیصلہ یہیں سے ہوتا تھا۔ یہاں دیوانِ خلافت کا انتظام اموی نوجوان مروان بن حکم کے ہاتھ میں تھا۔

(۲) دمشق: یہاں سے پورے شام، لبنان، فلسطین، اردن اور ایشیائے کو چک کو سنبھالا جاتا تھا۔ گزشتہ دور سے یہاں کے گورنر حضرت امیر معاویہؓ تھے جو اموی تھے۔

(۳) مصر: یہاں سے پورے افریقہ کا انتظام کیا جاتا تھا۔ ۲۷ ھ میں یہاں عبداللہ بن ابی سرحؓ کو گورنر بنایا گیا جو امیر المومنین حضرت عثمانؓ کے رضاعی بھائی تھے۔

(۴) بصرہ: یہاں سے پورے ایران، خلیج فارس اور خراسان کا نظام سنبھالا جاتا تھا۔ ۲۹ ھ میں یہاں حضرت عبداللہ بن عامرؓ کا تقرر کیا گیا، جو حضرت عثمانؓ کے ماموں زاد بھائی تھے۔

(۵)  کوفہ: یہاں سے عراق اور الجزیہ کو کنٹرول کیا جاتا تھا۔ ۲۵ ھ سے ۲۹ ھ تک یہاں ولید بن عقبہؓ گورنر رہے۔ ۲۹ ھ میں ان کی جگہ سعید بن العاصؓ کو لایا گیا۔ وہ ۳۴ ھ تک اس عہدے پر رہے۔ دونوں اموی تھے۔

        اس طرح ملک کے چاروں بڑے صوبوں کی گورنری اور مرکز کی وزارت ایک ہی خاندان کے افراد کے پاس آگئی۔

        پھر چونکہ حضرت عثمانؓ اموی تھے، اس لیے نادان لوگوں میں یہ تاثر  پیدا ہونے لگا کہ انہوں نے قومی خیر خواہی کے لیے نہیں، بلکہ اپنے خاندان کو بالا دست کرنے کے لیے یہ تقرریاں کی ہیں۔ اگرچہ یہ سراسر بدگمانی اور نہایت غلط سوچ تھی مگر لوگوں کو ایسی باتوں پر یقین کرنے سے نہیں روکا جا سکتا تھا۔ حضرت عثمانؓ کے آخری چھ سالوں میں اگر واقعی کوئی تبدیلی آئی تھی تو وہ یہی تھی اور اسی قدر تھی۔ چونکہ یہ حدِ  جواز کے اندر تھی، اس لیے اکابر صحابہؓ نے بھی اس پر خاموشی اختیار کی۔

        اگر معاملہ جواز کی حدود سے متجاوز ہوتا تو وہ یقیناً اس کی اصلاح کی بھرپور کوشش کرتے۔

        یہ تو حالات کا ایک قابلِ اطمینان پہلو تھا، مگر اس کے ساتھ دوسرا رُخ جو یقیناً تشویش ناک تھا، یہ تھا کہ سبائی گروہ اب تک زیر زمین تھا، اسے ان ایک دو باتوں کے ساتھ سو افسانے ملا کر مسلمانوں کو لڑانے کے لیے ایک باقاعدہ تحریک اٹھانے کا بہانہ ہاتھ آ گیا۔ خیر و برکت کے اس دور میں کوئی بھی شورش بالکل ہوائی باتوں کے ذریعے نہیں  پنپ سکتی تھی۔ قدرتی اور فطری بات ہے کہ ہر حکومت مخالف تحریک کو کچھ نہ کچھ ایسے شوشے درکار ہوتے ہیں جن کو بڑھا کر وہ لوگوں کو مشتعل کرتی ہے۔ حضرت عثمانؓ کی خلافت کے چھٹے ساتویں سال سبائیوں کو یہی ایک حرف ایسا ملا جسے انہوں نے اپنی داستان کا نقطہ آغاز بنا لیا۔ یہاں ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کی دور بینی اور غیر معمولی عاقبت اندیشی کا۔ جس طرح وہ دیگر فضائل و مناقب میں حضرت عثمانؓ سمیت اپنے تمام جانشینوں سے فائق تھے، اسی طرح وہ حکمت و تدبر میں بھی بہت آگے تھے۔

        ان کی حکمت عملی کا ایک اہم نکتہ یہ بھی تھا کہ اپنے اعزہ و اقارب اور ہم قبیلہ افراد کو حتیٰ الامکان اعلیٰ عہدوں اور بڑے مناصب سے دور رکھا جائے۔ مقصد یہ تھا کہ کسی بدخواہ کو یہ غلط فہمی پھیلانے کا موقع ہی نہ ملے کہ خلافت پر ایک خاندان کی اجارہ داری ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ نے اپنی وفات سے پہلے حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کو بطورِ خاص یہ نصیحت کی تھی کہ اگر تمہیں خلیفہ بنا دیا جائے تو اپنے اعزہ و اقارب کو لوگوں کا حاکم نہ بنانا۔

        مگر حضرت عثمانؓ  یہ سمجھتے تھے کہ اگر اپنے رشتہ داروں کو عہدے دینا ملک و ملت کے لیے مفید ہو، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ حضرت عمر فاروقؓ کی وصیت کوئی شرعی حکم نہ تھا کہ اسے بہر صورت ماننا واجب ہوتا۔ اس لیے حضرت عثمانؓ نے انتظامی ضروریات کے تحت بعض رشتہ داروں کو اعلیٰ عہدے دے بھی دیے۔ یہ قطعاً گمان نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے اپنے فرائضِ منصبی سے لاپرواہی اور امت سے بددیانتی کرتے ہوئے ایسا کیا ہوگا۔ انہوں نے جو کیا، ایک سربراہ حکومت کی حیثیت سے وہ اس کو قومی مفاد میں سمجھتے تھے۔ پھر ان عہدے داروں سے رعایا کو کوئی شکایت بھی نہیں تھی۔ عام حالات میں کسی کو موقع نہیں مل سکتا تھا کہ ان حضرات کے خاندان یا قبیلے کو لے کر کوئی مسئلہ کھڑا کرے۔


        مگر شورش پسند گروہ پہلے ہی فتنہ برپا کرنے کے لیے تیار تھا، چنانچہ اس نے اس پس منظر میں جھوٹی باتیں پھیلا کر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لیے وہ کچھ کیا جس کا ذکر اگلی قسط میں  تفصیل سے آ رہا ہے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic