34 Hijri: Hazrat Usman Ghani ke Khilaf Sazish aur Sabayi Fitna

۳۴ ہجری: جب سازشی عناصر منظرِ عام پر آئے

        سن ۳۴ ہجری کا آغاز ہوا تو کوفہ کی شر پسند جماعت اپنے حاکم حضرت سعید بن العاصؓ کے خلاف احتجاج کے لیے تیار تھی۔ حاکمِ شہر حضرت سعید بن العاصؓ حضرت عثمانؓ سے مشورے کے لیے مدینہ منورہ گئے ہوئے تھے۔ اس دوران مقامی شورش پسند لوگ حضرت عثمانؓ کے عمال کو معزول کرنے کا مطالبہ لے کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کا ایک ٹولہ اپنے مطالبات لے کر مدینہ منورہ روانہ ہوا، راستے میں سعید بن العاصؓ واپس آتے ہوئے ملے۔ اس  گروہ نے کہا: "اللہ کی قسم! ہماری ان تلواروں کے ہوتے ہوئے سعید کوفہ میں داخل نہیں ہونے پائے گا۔" حضرت سعید بن العاصؓ نے کوفیوں کو راستہ روکنے پر مُصر پایا تو بولے:



       "اس کام کے لیے ایک نمائندے کو امیر المؤمنین کی طرف اور ایک کو میرے پاس بھیج دینا کافی تھا
۔"

        یہ کہہ کر وہ واپس مدینہ منورہ پہنچے اور امیر المؤمنین کو ساری صورتِ حال بتائی۔

        حضرت عثمانؓ نے مفاہمت کا پہلو اختیار کیا اور احتجاج کرنے والوں کے مطالبے کے مطابق سعید بن العاصؓ کی جگہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو کوفہ کا گورنر مقرر فرما دیا۔

قاتلانہ حملے کی ناکام کوشش:

        اسی زمانے میں کمیل بن زیاد نامی ایک کوفی مدینہ پہنچا اور لباس میں خنجر چھپا کر حضرت عثمانؓ پر حملے کے لیے آگے بڑھا مگر حضرت عثمانؓ نے چہرے سے اس کا ارادہ بھانپ لیا اور دھکا دے کر اس کا حملہ ناکام بنا دیا۔ لوگ جمع ہو گئے۔ کمیل نے قسم کھا کر کسی غلط ارادے کی تردید کی۔ لوگ کہنے لگے: "ہم اس کی تلاشی لیں گے۔"

        مگر پیکرِ حیا و شرافت نے فرمایا: "میں نہیں چاہتا کہ یہ جھوٹا ثابت ہو۔" پھر یہ کہہ کر اسے چھوڑ دیا۔

        "اگر تم سچے ہو تو اللہ تمہیں اجرِ عظیم دے اور اگر جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں ذلیل کرے۔"

حضرت عثمانؓ کی اکابر صحابہ سے مشاورت:

        ان ایام میں حضرت عثمانؓ نے اپنے عمال کو مدینہ منورہ طلب کر کے عالمِ اسلام کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں مشورہ کیا، سب کا اتفاق تھا کہ ایک گروہ مذموم مقاصد لے کر ان کے پیچھے پڑا ہے اور بھولے بھالے عوام کو بھڑکا رہا ہے۔ مجلسِ مشاورت میں کسی گورنر نے حضرت عثمانؓ کے فیصلوں، اقدامات اور رویے کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا۔ صرف حضرت عمرو بن العاصؓ نے کچھ تنقید کی مگر پھر تنہائی میں خود ہی وضاحت کر دی کہ مقصد صرف یہ تھا کہ جو لوگ حکومت کے مخالف ہیں وہ میرے سامنے اپنے دل کی باتیں کھول دیں اور ان کی اصلاح کی جا سکے۔

        بصرہ کے گورنر حضرت عبداللہ بن عامرؓ نے کہا:

        "لوگوں کو جہاد میں مشغول کر دیں تا کہ کسی اور طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہ رہے۔"

        شام کے والی حضرت معاویہؓ نے رائے دی: "آپ افواج کے امراء سے کام لیں کہ ہر ایک اپنے علاقے کے لوگوں کو قابو میں رکھے۔ شام والوں کا ذمہ میں لیتا ہوں۔"

        مصر کے گورنر عبداللہ بن سعدؓ نے مشورہ دیا: "لوگوں پر خوب خرچ کر کے ان کی ہمدردیاں جیت لیں۔"

        حضرت سعید بن العاصؓ کا مشورہ تھا: "مرض کی جڑ کاٹ ڈالی جائے، یعنی عوام کو مشتعل کرنے والے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کر کے انہیں نشانۂ عبرت بنا دیا جائے، باقی لوگ خود تتر بتر ہو جائیں گے۔"

        حضرت عثمانؓ نے اس رائے کو سن کر کہا:

        "اگر کچھ اندیشے لاحق نہ ہوتے تو یہی کرنا چاہیے تھا۔"

        دراصل حضرت عثمانؓ جانتے تھے کہ جب حکومت کے خلاف زیرِ زمین سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے آہنی ہاتھ استعمال کیا جائے گا تو پکڑ دھکڑ میں ثبوت اور یقینی شہادتوں کا وہ معیار قائم نہیں رکھا جا سکے گا جو عدالت اور آئین سے مطابقت رکھتا ہے، بلکہ ایسے میں مخبری اور خفیہ اطلاعات پر ہی ہر قسم کی کارروائی کرنا ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مجرموں کے ساتھ ساتھ بہت سے بے گناہ بھی لپیٹ میں آ جاتے ہیں، اس طرح تشدد، تشدّد کو اور آئین سے ماورا اقدامات لاقانونیت کو جنم دیتے ہیں۔ ان پہلوؤں کے پیشِ نظر امیر المؤمنین نے کسی سخت اقدام کی اجازت نہ دی اور عمال کو اس تائید کے ساتھ رخصت کر دیا کہ لوگوں کو جہاد کے لیے بھیجنے کی تیاری کی جائے۔

        اس پالیسی کے مطابق اس سال کوفہ سے سرکردہ امراء و فوجیں لے کر ہر طرف نکلے، بہت کم صحابہ کوفہ میں باقی رہے۔ اس لیے شہر اکابر سے خالی لگتا تھا۔

پروپیگنڈہ اور تین جھوٹے الزام:

        منافقین نے اسلامی معاشرے میں حضرت عثمانؓ کے خلاف فضا عام کرنے کے لیے تین الزامات بہت مشہور کر دیے تھے:

        ۱۔ انہوں نے غزوۂ بدر میں شرکت نہیں کی۔

        ۲۔ غزوۂ احد سے فرار ہو گئے تھے۔

        ۳۔ بیعتِ رضوان میں شرکت نہیں کی تھی۔

        ان اشکالات کی تردید میں عبداللہ بن عمرؓ جیسے عالم فاضل صحابی کے مدلل جوابات صحیح بخاری میں موجود ہیں۔ جب کسی شخص نے حضرت عثمانؓ پر یہ الزامات عائد کیے تو عبداللہ بن عمرؓ نے واضح فرمایا کہ حضرت عثمانؓ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے حکم سے غزوۂ بدر میں ساتھ نہیں تھے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کی صاحبزادی (اپنی اہلیہ) حضرت رقیہؓ کی تیمارداری کے لیے روک دیے گئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کے حکم کی وجہ سے رکنا ان پر لازم ہو گیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مہم میں شریک مجاہدین کے برابر مالِ غنیمت سے حصہ بھی دیا تھا۔

        غزوۂ احد سے فرار ہونے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے عبداللہ بن عمرؓ نے وضاحت کی کہ اس خطا کی معافی کا اعلان خود قرآن مجید نے کر دیا تھا۔ اس لیے کسی کو اعتراض کا کوئی حق نہیں رہتا۔

        رہی بات  بیعتِ رضوان میں شرکت نہ کرنے کی، تو یہ بات جہالت کی بدترین مثال ہے کیوں کہ بیعتِ رضوان کا انعقاد ہی حضرت عثمانؓ کی خاطر ہوا تھا۔ انہیں قریش نے نظر بند کر رکھا تھا اور ان کی شہادت کی افواہ پھیل گئی تھی، جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   نے صحابہ کرام سے  بیعت لی کہ ہم عثمان کے خون کا بدلہ لے کر رہیں گے، حضرت عثمانؓ کے ہاتھ کی جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم   نے خود اپنا ہاتھ رکھا۔

ابنِ سبا کا نیا کھیل:

        اگلے مرحلے میں عبداللہ بن سبا کے گروہ نے "میڈیا مہم" چلائی۔ ہر شہر کے سازشیوں نے دوسرے شہروں کے لوگوں کے نام جھوٹے خطوط لکھے جن میں حکومت کے جبر و تشدد اور عوام کی مظلومیت کے افسانےتھے۔

        حکومت کی زیادتیوں کے یہ افسانے اس شدت اور مہارت سے پھیلائے گئے کہ ہر شہر کے لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے کہ ہمارے علاقے کو چھوڑ کر باقی عالمِ اسلام میں ظلم و ستم کا بازار گرم ہے۔ چونکہ یہ محض پروپیگنڈہ تھا اس لیے کسی صوبے یا شہر کے لوگوں کو خود حکومت کی جانب سے کسی زیادتی کا تلخ تجربہ نہیں ہوا تھا مگر ہر کوئی  یہ تصور کر رہا تھا کہ باقی ملک میں نظام بگڑ چکا ہے، اور لوگ بڑی تکلیف میں ہیں۔

حضرت عثمانؓ کی تحقیقاتی ٹیم:

        یہ افواہیں سن کر اہل مدینہ نے حضرت عثمانؓ سے وضاحت چاہی۔ آپ نے تردید کی اور فرمایا: "ہر جگہ امن و سلامتی ہے۔" مزید تسلی کے لیے آپؓ نے صحابہ کرام کی ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے کر ہر صوبے کے حالات کی تفتیش کرائی۔ یہ حضرات ہر صوبے میں عوام و خواص سے مقامی حکام کے کردار اور رویے کے بارے میں پوچھ گچھ کر کے واپس آئے اور بتایا: "ہم نے کوئی کجی نہیں دیکھی، کسی کو کوئی شکایت نہیں۔"

        اس دوران حضرت عثمانؓ کو گورنروں نے تحقیقات کر کے یہ بھی بتا دیا کہ کس کس شہر میں کون کون لوگ شر انگیزی کے ذمہ دار ہیں۔ چنانچہ مصر سے عبداللہ بن سعدؓ نے لکھ بھیجا کہ فتنے کے سرغنہ یہاں عبداللہ بن سبا، خالد بن ملجم، سودان بن حمران اور کنانہ بن بشر ہیں۔

        حضرت عثمانؓ نے تحقیقاتی وفد کی رپورٹ پر اکتفا نہیں کیا بلکہ پورے عالم اسلام میں منادی کرا دی کہ اس سال (۳۴ ہجری) حج کے موقع پر وہ تمام لوگ مجھ سے روبرو ملاقات کریں جنہیں مجھ سے یا میرے نائبین سے کسی قسم کی کوئی شکایت ہو۔ پھر وہ چاہیں تو بدلہ لے لیں چاہیں تو معاف کر دیں۔"

        جب یہ اعلان عالمِ اسلام کے گلی کوچوں میں سنایا گیا تو لوگ جو پہلے ہی حضرت عثمانؓ اور ان کے افسران کے عدل و انصاف کے گرویدہ تھے، رو پڑے اور حضرت عثمانؓ کے لیے دعائیں کرنے لگے۔

        حضرت عثمانؓ اس دوران حکام کو مزید تاکید کرتے رہے: "تم لوگ عوام کا خیال رکھو، ان کے حقوق ادا کرتے رہو۔ ہاں اگر اللہ کے حقوق پامال ہوں تو خاموش مت رہنا۔"

حضرت معاویہؓ کے خدشات اور حضرت عثمانؓ کی اہل مدینہ کے لیے خیر خواہی:

        مستقبل کے خطرات کو بھانپ کر حضرت معاویہؓ نے حضرت عثمانؓ سے درخواست کی کہ وہ شام تشریف لے چلیں۔ حضرت عثمانؓ نے فرمایا:

        "میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم   کا پڑوس کسی قیمت پر ترک نہیں کر سکتا، چاہے میری گردن کٹ جائے۔"

        حضرت معاویہؓ نے عرض کیا:

        "میں آپ کی حفاظت کے لیے شام سے فوج بھیج دیتا ہوں جو مدینہ منورہ میں رہ کر آپ کی حفاظت کرے گی۔"

        فرمایا: "میں فوج کی خوراک اور رسد اور مصارف کی وجہ سے مدینہ والوں کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، جنہوں نے مہاجرین کو ٹھکانہ دیا تھا اور نصرت کی تھی۔"

        حضرت معاویہؓ نے کہا: "مجھے آپ پر ناگہانی حادثے کا ڈر ہے۔"

        فرمایا: حَسْبِیَ اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ

        یہ حضرت عثمان غنیؓ کی دور اندیشی تھی کہ آپ نے شروع سے مدینہ منورہ کے مسلمانوں کے حقوق کے خیال میں اتنی باریک بینی سے کام لیا۔ آپؓ بخوبی جانتے تھے کہ فوج کی موجودگی کا مطلب ایک مستقل چھاؤنی کا قیام ہوا کرتا ہے جہاں فوج کے مفادات اصل اور شہریوں کے حقوق ثانوی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ حضرت عثمانؓ اہل مدینہ کو ان تکالیف سے بچائے رکھنا چاہتے تھے، اس لیے فوج طلب کرنے کا مشورہ مسترد کر دیا۔

اکابر صحابہ کی جماعت کا معتدل طرزِ عمل

        جیسا کہ بتایا جا چکا ہے کہ سبائی جماعت مسلمانوں میں تفرقہ پھیلانے کے لیے حضرت عثمانؓ اور ان کے امراء کو بدنام کرنے میں بڑی شدت سے مشغول تھی جسے عام سمجھ دار مسلمان سخت تشویش کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ اس کے ساتھ شام کے لوگوں کو بنو ہاشم اور سادات کے خلاف بغض و نفرت میں مبتلا کرنے کی بھی مہم جاری تھی۔

        شام میں ایک طویل عرصے سے اموی امراء کی گورنری چلی آ رہی تھی اور بنوامیہ کے سینکڑوں خاندان، اپنے موالی اور خدام سمیت یہاں شہروں اور چھاؤنیوں میں آباد تھے۔ عربوں کا یہ خاندان نہایت جنگجو اور سیاست دان تھا۔ عوام بھی اس کے گرویدہ تھے۔ اس صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے سبائی تحریک نے شام میں الگ انداز سے کام کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ شرکا بیج اسی وقت بو دیا گیا تھا جب عبداللہ بن سبا شام میں تھا۔ شر انگیزی کی اس مہم کے تحت بنو ہاشم کی کردار کشی کی گئی اور حضرت عثمانؓ، ان کے عمال اور اموی امراء کی عقیدت و محبت میں مبالغے کا سبق پڑھایا گیا۔ نیز بعض شہروں میں حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ کو خلیفہ بنانے کی حمایت میں ذہن سازی کی گئی۔

        یہ تھے سبائی تحریک کے ابتدائی اثرات جو شکلوں میں ظاہر ہو رہے تھے۔ جیسے غلط چیز جسم میں داخل ہو کر ری ایکشن کرتی ہے، اسی طرح اذہان میں اتارے جانے والے منفی خیالات بھی منفی جذبات ابھارتے ہیں۔ بدی کی طاقت کا ہدف ایک تھا یعنی اسلامی جذبے کی جگہ تعصب کو ابھارنا جس کے مظاہر الگ الگ عظیم المرتبت شخصیات کی محبت و عقیدت کے رنگ میں نمایاں ہوئے۔ یہی نہیں بلکہ عوام میں تفاخر و مباہات کا وہ مزاج عام ہو گیا جسے اسلام نے کبھی پسند نہیں کیا۔ بہت سے سادہ لوح، پُر جوش اور دلیر نوجوان اپنے صوبوں کو اپنی شمشیروں کا خراج اور خاندانی جاگیر تصور کرنے لگے اور اپنے قبیلے کو عرب کے تمام قبائل پر فائق سمجھتے ہوئے مہاجرین و انصار کی حکومت کو ناپسند کرنے لگے۔

        اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ جن قبائلی تعصبات کو اسلامی جذبے نے دبا دیا تھا، سبائیت نے غیر شعوری انداز میں اسے دوبارہ جگا دیا۔ کسی علاقے کے عوام  یہ سوچنے لگے کہ خلافت بنو ہاشم کو ملنی چاہیے۔ کسی صوبے کے لوگ حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت کو اس نگاہ سے دیکھ کر خوش ہونے لگے کہ وہ بنوامیہ کی خلافت ہے اور انہیں یہ امکان بھی ناگوار لگنے لگا کہ خلافت بنو امیہ سے نکل کر کسی اور خاندان میں جائے۔ یہ تو مسلم معاشرے پر سبائی تحریک کے ابتدائی اثرات تھے، آگے چل کر اس نے جو مفاسد  پیدا کیے، وہ اس سے بھی کہیں زیادہ بھیانک تھے۔

        حضرت عثمانؓ کی خلافت کے آخری سالوں میں ایک طرف تو سبائی تحریک حضرت عثمانؓ اور ان کے گورنروں کو قطعاً نا اہل قرار دے رہی تھی اور ان پر جھوٹے الزامات لگانے میں بھی اسے کوئی باک نہ تھا۔

        دوسری طرف ان کے ردِ عمل میں کچھ لوگوں نے یہ موقف اختیار کر لیا کہ حکومتی نظام میں کسی اصلاح کی طرف توجہ دلانا بھی گویا غداری کے مترادف ہے اور حضرت عثمانؓ پر اعتراض کرنے والا قابلِ گردن زدنی ہے۔

        ایسے میں مدینہ منورہ کے اکابر صحابہ کرام نے درمیانی راہ اختیار کی۔ انہوں نے حضرت عثمانؓ کے فضائل و مناقب کو بھی تسلیم کیا۔ ان کے خلاف جھوٹے الزامات کی بھی تردید کی مگر ساتھ ہی حکومتی انتظامات میں اصلاح کی گنجائش کو بھی مانا اور کوشش کی کہ وہ ان دونوں طبقات کے درمیان ثالث کا کردار ادا کر سکیں اور مفاہمت کی کوئی بہترین شکل نکل آئے۔ 

        جن تاریخی روایات میں مذکور ہے کہ مدینہ کے اکابر صحابہ خصوصاً حضرت علیؓ، حضرت طلحہؓ اور حضرت زبیرؓ حضرت عثمانؓ سے ناراض بلکہ ان کے دشمن تھے، ان میں بہت کچھ مبالغہ ہے اور ثابت شدہ بات اسی قدر ہے کہ ان حضرات کو اعلیٰ عہدوں پر کسی ایک قبیلے کے غلبے سے عوام میں غلط فہمیاں  پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔ اور جب واقعی غلط فہمی کی فضا عام ہونے لگی تو ان حضرات نے امیر المؤمنین کو نیک مشورے دیے۔ اس دوران بعض مواقع پر ان حضرات میں بحث و مباحثہ بھی ہوا، اختلافِ رائے کی نوبت بھی آئی اور بشر ہونے کے ناطے بعض اوقات کچھ تلخ کلامی بھی ہوئی مگر یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ اخلاص اور خیر خواہی پر مبنی تھا۔ چنانچہ تھوڑی ہی دیر بعد وہ آپس میں شیر و شکر ہو جاتے تھے۔ ان حضرات کے کہنے سننے پر حضرت عثمانؓ نے لوگوں کو تشویش سے بچانے کے لیے ان معاملات میں بھی لچک اختیار کر لی۔ غرض ان تمام معاملات میں مدینہ کے اکابر صحابہ حضرت عثمانؓ کے مددگار رہے۔ جیسا کہ آگے سارا واقعہ تفصیل سے آ رہا ہے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic