Sabai Muhim aur Islami Umara ki Kirdar Kushi | Fitna-e-Abdullah bin Saba

سبائی مہم اور اسلامی امراء کی کردار کشی

        شورش پسند سبائی تحریک جڑ پکڑ چکی تھی۔ خلافت کو کمزور کرنا، پارہ پارہ کرنا اور مسلمانوں کو لڑانا اس کا ہدف تھا۔ ملک کے اہم ترین امراء کی حضرت عثمانؓ سے رشتہ داری کو ان بدبختوں نے اپنے مکر وہ پروپیگنڈے کا بہانہ بنالیا۔

        انہوں نے اول تو اس بات کو ہوا دی کہ حضرت عثمانؓ نعوذ باللہ اقرباء پرور ہیں، اپنوں کو نوازتے اور غیروں کو محروم کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی مشہور کیا کہ اپنے رشتہ داروں کو آگے لانے کے لیے اکابر صحابہؓ کو معزول کر کے بڑی زیادتی کی گئی ہے۔ بعض اوقات ایک بات بالکل سچ ہوتی ہے مگر اسے دیکھنے کا زاویہ نگاہ الگ الگ ہوتا ہے۔ یہ بات درست تھی کہ نو جوانوں کو آگے لایا گیا تھا جس کی وجہ سے ناگزیر طور پراکابیر پیچھے ہو گئے تھے۔
 


        مگر سوال یہ تھا کہ اگر یہ نوجوان صحابہ کرام قابل تھے تو انہیں عہدے دینے میں کونسا بڑا نقصان ہوا۔

        حقیقت یہ ہے کہ یہ نوجوان صحابہ قیادت کی ان تمام عسکری و سیاسی صفات سے بخوبی آراستہ تھے جن میں بنو امیہ دیگر قبائل عرب سے ممتاز سمجھے جاتے تھے۔ اگر طبقاتِ صحابہ اور تاریخ کی کتب اٹھا کر دیکھا جائے تو مؤرخین نے ان سب کو تقی، شجاع، شریف، دور اندیش اور عادل شمار کیا ہے۔ سوائے ولید بن عقبہؓ پر لگائے گئے اس الزام کے جس کا ذکر آگے آ رہا ہے، ان میں سے کسی کا کوئی عیب کسی ضعیف روایت سے پیش کرنا بھی مشکل ہے۔ عبداللہ بن ابی سرحؓ کی شخصیت سے ماضی میں جو ہوا سو ہوا، "الاسلام يهدم ماكان قبله" کے بعد اب انہیں کسی بھی بات پر عار نہیں دلائی جا سکتی تھی۔

        بالفرض امراء کی بعض غلطیوں یا عوامی شکایات کے دو چار الزامات اگر درست مان بھی لیے جائیں تو حضرت عثمانؓ کے بارہ سالہ طویل دور میں ۴۴ لاکھ مر بع میل کی حکومت میں اکا دکا ایسے واقعات پیش آ جانا بجائے خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اگر سبائی تحریک ان کی کردار کشی کر کے فضا خراب نہ کرتی تو ملک میں یقیناً امن و امان بحال رہتا اور لوگ خیر و برکت سے ساتھ خوش و خرم رہتے۔ انہیں اس سے کوئی غرض نہ ہوتی کہ ان پر حکمرانی کرنے والا کون سا امیر کس خاندان اور کس برادری کا ہے؟ یہ انسانی فطرت ہے کہ ہر انسان کو اپنے ضروری حقوق سے غرض ہوتی ہے۔ اگر وہ حقوق اسے کسی غیر نسل یا غیر قوم کے حکمران سے بھی ملیں تو وہ مطمئن رہتا ہے، اور اگر حق تلفی اپنے خاندان والوں سے بھی ہو تو وہ اسے برداشت نہیں کرتا۔ پس ایسے وقت میں جبکہ حضرت عثمانؓ نے چھانٹ کر اچھے اور مستعد افراد کو ان کی خدمت پر مامور کیا تھا، عام لوگوں کو کوئی شکایت نہیں تھی بلکہ خود بعض ایسے بزرگ صحابہ تھے جن کی جگہ نو جوانوں کو لایا گیا تھا، اپنے تبادل کے لیے تعریفی کلمات منقول ہیں۔ جب ابوموسیٰ اشعریؓ کو اطلاع ملی کہ ان کی جگہ بصرہ پر عبداللہ بن عامرؓ کے تقرر کا فیصلہ کیا گیا ہے تو انہوں نے اپنے اہل بصرہ کو کہا: "تمہارے پاس ایسا نوجوان آ رہا ہے جو دادیوں اور پھوپھیوں کے لحاظ سے نہایت شریف النسب ہے۔"


        مگر افسوس کہ سبائیوں نے امن و آشتی کی فضا خراب کرنے کے لیے معمولی باتوں کو اس طرح بڑھا چڑھا کر پیش کیا کہ بہت سے لوگ ان کے جھانسے میں آ گئے اور ایک باقاعدہ تحریک کی بنیاد پڑ گئی۔


        تاریخ سے یہ بھی ثابت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جن نوجوان صحابہ کو آگے بڑھایا، انہوں نے حسبِ توقع اچھی کارکردگی دکھائی۔ حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بصرہ کا گورنر بن کر خراسان میں جو فتوحات حاصل کیں وہ تاریخ کا روشن باب ہیں۔ اسی طرح عبداللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نے مصر اور افریقہ کی آمدن میں غیر معمولی اضافہ کر کے دکھایا اور جہاد کے سلسلے کو بھی خوب آگے بڑھایا جس کی ایک مثال غزوہ ذات الصواری ہے۔


        مگر شر پسند لوگ ان انتظامی فیصلوں کو منفی رنگ دے کر اُمت کو منتشر کرنے کا تہیہ کیے ہوئے تھے۔ لہٰذا عبداللہ بن سبا نے اپنی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی ساتھیوں کے سامنے یہ لائحہ عمل پیش کیا:

        "کام کا آغاز عثمان کے عاملین کی کردار کشی کے ذریعے کرو، ساتھ ساتھ لوگوں کو نیکی کی تلقین اور گناہوں سے پرہیز کی تاکید کرتے رہو تاکہ تم ان کے دل جیت سکو۔ پھر انہیں اس تحریک میں شمولیت کی دعوت دو۔"

        
        چونکہ یہ چند سرکردہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو "وصی" مان چکے تھے اس لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حکومت کا خاتمہ ان کے لیے ایک نیک مقصد تھا اور ان کا ضمیر اس حرکت پر مطمئن تھا۔ ان کا ابتدائی پروپیگنڈا صرف اسی حد تک تھا کہ نوجوان امراء کی تقرریوں کو ایک خاندان کی اجارہ داری اور دوسرے قبیلوں کے استحصال سے تعبیر کر کے لوگوں کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے امراء سے متنفر کریں۔ وہ معاشرہ بھی ایک انسانی معاشرہ تھا۔ اس لیے یہ باتیں چل نکلیں اور فقط عام لوگ نہیں بلکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی گود میں پرورش پانے والے محمد بن ابی حذیفہ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے محمد بھی اس فتنے کی لپیٹ میں آکر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے سخت ناقدین میں شامل ہو گئے۔

ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ کا قضیہ

        انہی دنوں ایک واقعہ ایسا پیش آگیا کہ جسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مخالفین نے ان کے خلاف فضا ہموار کرنے کا بہترین موقع تصور کیا۔ ہوا یہ کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ جو کوفہ کے گورنر تھے، ان پر مے نوشی کا الزام لگا دیا گیا۔ مؤرخین کا اتفاق ہے کہ حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نے حسنِ انتظام اور بہترین اخلاق سے سب کے دل جیت رکھے تھے۔ ان کے گھر پر دروازہ تک نہ تھا۔ ہر وقت ہر کوئی ان سے مل کر اپنی ضروریات بیان کر سکتا تھا۔
  
        ان سے مے نوشی کا ارتکاب بالکل غیر متوقع تھا۔ آج بھی یہ سوال ذہن میں ابھرا ہے کہ آیا واقعی انہوں نے اس معصیت کا ارتکاب کیا تھا؟ یا ان کے خلاف کوئی سازش تیار کی گئی تھی جو اتنی پختہ تھی کہ اُس دور کے اکابر صحابہ کو بھی اس کا یقین آگیا، جیسا کہ صحیح روایات کے مطابق ان کے خلاف شرعی گواہی (جو صرف عادل افراد دے سکتے ہیں) قائم ہوئی تھی اور ان پر حدِ شرعی بھی جاری کی گئی تھی۔

        تاہم انہی روایات سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شروع میں اس الزام کی تصدیق میں تامل ضرور تھا۔ غالباً وہ معاملے کی تحقیق کرتے رہے، جس سے سزا کے نفاذ میں تاخیر ہوئی اور لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں کہ شاید انصاف کا تقاضا پورا نہ ہو گا۔ حالانکہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قصد ہرگز یہ نہ تھا کہ شرعی حکم کو ٹالا جائے۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے شرعی شہادت دیکھتے ہوئے مملکت کے اعلیٰ افسر اور اپنے ماں شریک بھائی کو سزا دلوائی اور ساتھ ہی انہیں معزول کر کے حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو کوفہ کا گورنر بنا دیا۔ یہ واقعہ سن ۲۹ یا ۳۰ ہجری کا ہے۔

براہ راست خلیفہ کی کردار کشی:

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے شریعت کے سامنے قریبی رشتوں کو پس پشت ڈال کر اپنے چچیرے بھائی پر حد جاری کی اور انصاف کا بول بالا کرتے ہوئے سب کو مطمئن کر دیا۔ وہ لوگ بھی چپ ہو گئے جو ان پر خویش نوازی کا الزام دھرتے تھے۔ کیوں کہ اقربا پرور حکمران ایسے مواقع پر آئینی ضابطوں کو ٹھکرا دیتے ہیں اور کسی بھی طرح اپنوں کو بچا لیتے ہیں۔

        حاسدین اب امرائے دولت کی بجائے براہ راست حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی کردار کشی کا کوئی بہانہ تلاش کرنے لگے۔ کچھ دنوں بعد (۳۰ ھ میں) حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ طبرستان کے علاقے میں جہاد کرنے گئے۔ اس سفر میں انہوں نے لوگوں کو الگ الگ طریقے سے قرأت کرتے دیکھا۔ انہوں نے واپس آکر کوفہ کے عمائد کو اس مسئلے پر متفکر کیا اور پھر مدینہ منورہ جاکر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس صورتحال کے عواقب کی طرف متوجہ کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام سے مشورہ کر کے امت کو قرآن مجید کے ایک رسم الخط پر متفق کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ مصحف منگوایا گیا جو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں مرتب کیا گیا تھا اور ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس محفوظ تھا۔ اس کی نقول تیار کر کے عالم اسلام میں نشر کی گئیں اور سرکاری نگرانی میں تیار کردہ تصدیق شدہ نسخے کے سوا کلام اللہ کے تمام نسخے تلف کرا دیے گئے۔ اس اقدام کو اہل فکر و نظر نے خوب سراہا، مگر سازشی عناصر نے اسے توہین قرآن کے مترادف قرار دیا اور اسے ایک گھناؤنے جرم کا رنگ دے کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو جی بھر کے کوسا۔ مگر تمام صحابہ کرام اس مسئلے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہم خیال تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ خود فرماتے تھے:

        "عثمان نے یہ کام ہماری تائید کے ساتھ کیا تھا، اگر یہ معاملہ میرے سپرد ہوتا تو میں بھی حضرت عثمان ہی کی پیروی کرتا۔"

        اس طرح یہ پروپیگنڈا بھی بری طرح ناکام رہا۔

عبداللہ بن سبا شام میں:

        اس دوران ابن سبا فتنے کو بال و پر دینے کے لیے شام پہنچ گیا۔ وہاں پہنچ کر کوشش کی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف آوازیں بلند ہوں اور اس احتجاج کی ابتدا خود صحابہ کرام سے ہو، تاکہ اس کی طرف کسی کا دھیان نہ جائے۔ اس نے شام کے اکابر کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف اکسانے کی پوری کوشش کی۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے اس کا ارادہ بھانپ لیا اور بولے: "تو ہے کون؟ بخدا میرا خیال ہے تو اب بھی یہودی ہی ہے۔"

        اس کے بعد ابن سبا نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی مگر انہیں بھی معلوم ہو چکا تھا کہ یہ شریر آدمی ہے۔ وہ اسے پکڑ کر سیدنا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے، جنہوں نے تنبیہ کر کے اسے چھوڑ دیا کیوں کہ اس کی شرارتوں کا کوئی ظاہری ثبوت موجود نہ تھا۔

سبائی تحریک کے اجزائے ترکیبی:

        سبائی تحریک سے متاثر افراد کے حالات کا گہرا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ اس تحریک کے اجزائے ترکیبی اس طرح تھے:

        1. کچھ لوگ تحریک کے اصل منصوبہ ساز تھے۔ یہ وہ یہودی تھے جو شروع سے اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں مصروف رہے تھے۔ ان میں سے صرف عبداللہ بن سبا کا نام ملتا ہے۔

        2. دوسری قسم کے لوگ وہ تھے جن کی طبیعت باغیانہ تھی۔ یہ لوگ زیادہ تر ان عرب قبائل کے تھے جو قریش کی سیادت سے جلنے لگے تھے۔

        3. تیسری قسم کے لوگ وہ تھے جو دین داری کے غرور و تکبر کا شکار تھے۔ ان میں تنقید کا مادہ بہت زیادہ تھا، اس لیے یہ لوگ بعد میں اس تحریک سے الگ ہو کر "خوارج" کے نام سے مشہور ہوئے۔

        4. تحریک میں شامل چوتھی قسم کے لوگ وہ تھے جنہیں حکومت نے کسی جرم پر سزا دی تھی۔ اب وہ انتقام لینے کے لیے اس تحریک میں شامل ہوئے تھے۔

        5. پانچویں قسم کے لوگ وہ تھے جو دولت کے بھوکے تھے۔ سرکاری خزانوں میں محصولات کی مد میں جمع ہونے والا پیسہ کو اپنی مٹھی میں لینے کے لیے بے تاب تھے۔

        6. کچھ وہ نوجوان تھے جومن پسند عہدہ نہ ملنے کی وجہ سے اس تحریک میں شامل ہو گئے تھے۔

        7. باقی سادہ لوح عوام تھے جو کسی بھی پکار پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان میں کسان، مزدور، غلام وغیرہ شامل تھے۔

        تحریک میں شامل خاص ارکان کو "سبائی" یا "سبئیہ" کہا جاتا تھا۔ اس دور کے حالات میں "سبئیہ" کا لفظ طبری اور دوسری قدیم تواریخ میں کثرت سے آتا ہے۔

        سبائی سازش کا اصل مقصد مسلمانوں میں تفرقہ پھیلانا تھا، اس لیے مختلف قبائل اور مختلف علاقوں کے لوگوں کو بعض صحابہ کی محبت میں غلو اور بعض کے خلاف تعصب میں مبتلا کیا جارہا تھا۔ سبائی مہم کے اثرات فقط رفض کی شکل میں نہیں ابھرے بلکہ اگلے دور میں شام، عراق اور بحرین کے بعض شہروں میں بنو ہاشم اور سادات سے نفرت کی جو فضا قائم ہوئی (جس نے کہیں ناصبیت اور کہیں خارجیت کا رنگ اختیار کیا) وہ بھی سبائی سازش ہی کا بالواسطہ نتیجہ تھی۔


حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے معاملہ:

        اسی سال (۳۰ ھ میں) حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی مبارک جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق اور عمر رضی اللہ عنہما سے ہوتی ہوئی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں آئی تھی، مدینہ طیبہ سے دو میل (لگ بھگ سوا تین کلومیٹر) دور واقع مسجد قباء کے کنویں "بیر اریس" میں گر کر غائب ہوگئی تھی۔ اس کی گم شدگی سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور مسلمان بے حد رنجیدہ ہوئے تھے، اسے کسی خطرے اور فتنے کا پیش خیمہ سمجھا جارہا تھا۔

        اس دوران شام میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنی درویشانہ طبیعت کے باعث لوگوں پر زور دے رہے تھے کہ وہ اپنا سارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کریں۔ اس صورتحال سے معاشرے میں ایک بدمزگی پیدا ہونے لگی۔ ڈر تھا کہ کہیں امیر و غریب کے درمیان طبقاتی کشمکش کی نوبت نہ آجائے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس صورتحال کی اطلاع دے دی۔ عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک طرف ابوذر رضی اللہ عنہ کو خط لکھ کر کہا کہ وہ مدینہ تشریف لے آئیں۔ ساتھ ہی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا:

        
        "فتنے کی جڑیں نمودار ہو چکی ہیں، وہ عنقریب پھیلنے والا ہے، تم اس زخم کو مت کریدنا۔ بس جہاں تک ہوسکے عوام کو سنبھالے رکھو اور خود کو بھی۔ ہاں ابو ذر کو عزت و احترام کے ساتھ راہبر اور سامان سفر دے کر میرے پاس بھیج دو۔"

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حکم کی تعمیل کی۔ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ مدینہ آگئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ چاہتے تھے کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ ان کے پاس مدینہ میں ہی رہیں مگر حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے شہر سے دور "ربذہ" کے نخلستان میں قیام پسند کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں اونٹوں کا ایک ریوڑ اور دو غلام دے دیے تاکہ ان کی اچھی طرح گزر بسر ہوتی رہے۔

        اس طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک مناسب اور متوازن فیصلے کے ذریعے ایک طرف شام میں طبقاتی کشمکش کے خطرے کو دور کر دیا، دوسری طرف ایک جلیل القدر صحابی کی عزت و احترام میں بھی کمی نہ آنے دی۔
 

        مگر سازشی گروہ نے اس بات کو بھی اچھالنا شروع کر دیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک عظیم صحابی سے بدسلوکی کی اور انہیں جلاوطن کرایا۔ (یہ الزام آج تک دہرایا جارہا ہے۔)


ابن سبا کا اثر مصر میں:

        سن ۳۱ ہجری میں سازشی عناصر مصر میں بھی متحرک رہے۔ یہاں مشہور کیا گیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مقرر کردہ حاکمِ مصر عبداللہ بن سعد بن ابی سرح رضی اللہ عنہ نااہل ہیں۔ کچھ شرفاء بھی حقائق سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ ان میں محمد بن ابی حذیفہ اور محمد بن ابی بکر جیسے عالی نسب بھی تھے۔

        سن ۳۲ ہجری میں بحیرہ روم میں ذات الصواری کی خونریز جنگ کے دوران مجاہدین نے محمد بن ابی حذیفہ اور محمد بن ابی بکر کو مسلمانوں سے الگ دیکھا، وجہ پوچھی تو پتا چلا کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے اتنے بدظن ہیں کہ ان کے مقرر کردہ امیر عبداللہ بن سعد کے تحت لڑنا گوارا نہیں کرتے۔


۳۳ ہجری کا آغاز: نئے حوادث

        ۳۳ ہجری اس حال میں شروع ہوا کہ سازشی گروہ اندر ہی اندر خاموشی سے کام کر رہا تھا، خصوصاً کوفہ اور بصرہ میں ان کی سرگرمیاں بڑھ گئی تھیں۔ کوفہ کے گورنر حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ تھے اور بصرہ کے حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ۔

        سن ۳۳ ہجری میں کوفہ اور بصرہ میں دو واقعات ایسے پیش آئے کہ حکام کو خلاف معمول تادیبی اقدامات کرنا پڑے۔ پہلا واقعہ کوفہ میں پیش آیا، وہاں حاکم شہر حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کی مجلس میں چند عرب شہریوں نے ایک نوجوان کو صرف اس لیے زدوکوب کیا کہ اس نے حکام کی تعریف میں کوئی بات کہہ دی تھی۔ یہ اشتعال انگیز حرکت ایسی تھی کہ اسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان لوگوں کو تادیب کے لیے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے پاس شام بھیج دیا گیا۔
    

        سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کی معاشرتی حیثیت کا لحاظ کرتے ہوئے انہیں مہمانوں کی طرح ٹھہرایا۔ وہ سمجھ گئے تھے کہ اصل میں یہ لوگ احساس کمتری اور جلن کے مریض ہیں، قریش کی سیادت سے حسد کر رہے ہیں۔ انہوں نے نرمی سے سمجھانے کے بعد ان سے فرمایا:

        "اچھا جو چاہو کرو مگر اللہ کی شریعت کو ترک نہ کرنا۔ اللہ کی نافرمانی کے سوا تمہاری ہر بات قابل برداشت ہے۔"

        ساتھ ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے بارے میں لکھ بھیجا:

        "یہ بے عقل لوگ ہیں، عدل و انصاف دیکھ دیکھ کر اکتا گئے ہیں۔"

        اس دوران حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے جو حمص کے والی تھے، ان لوگوں کی حرکتوں سے آگاہ ہو کر انہیں اپنے ہاں طلب کر لیا اور ذرا سخت تنبیہ کی۔ انہوں نے اپنی حرکتوں کی معافی مانگی تو حضرت عبدالرحمن بن خالد رضی اللہ عنہ نے انہیں آزاد کر دیا۔

ابن سبا عراق میں:

        کوفی گروہ اپنی بدتمیزیوں سے تائب ہوا تو انصاف پسند حکام کے خلاف بے بنیاد پرو پیگنڈا ناکام ہو گیا۔ عبداللہ بن سبا اس پر بہت جھنجھلایا اور خود بصرہ پہنچ کر خفیہ ذہن سازی شروع کر دی۔ حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی تو عبداللہ بن سبا کو حراست میں لے لیا۔ اس سے پوچھ گچھ کی گئی۔ اس نے باتیں بنا کر اپنی صفائی پیش کی۔ حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے اسے علاقے سے بھگا دیا۔

        ابن سبا اب کوفہ پہنچا۔ وہ یہاں نئے گماشتے تیار کر رہا تھا کہ حاکمِ شہر حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہ کو اس کی موجودگی کا پتا چل گیا۔ انہوں نے بھی اسے شہر بدر کر دیا۔ سنگین کارروائی اس لیے نہیں کی گئی کہ انصاف کا دور تھا، عدالتوں میں ثبوت پیش کیے بغیر ہرگز سزا نہیں دی جاتی تھی۔

        ابن سبا نے مصر واپس آکر کوفہ اور بصرہ میں اپنے حامیوں سے خفیہ خط و کتابت جاری رکھی، ان کا مقصد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عمال کو بدنام کر کے معزول کرانا اور خلافت کو متنازع بنانا تھا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic