Hazrat Usman Par Ilzamat aur Unke Mudallal Jawab: Sabayi Sazish ka Inkishaf

سبائیوں کی منصوبہ بندی

        قرائن اشارہ کناں ہیں کہ ۳۵ ہجری میں سازشی گروہ اُمت کو لڑانے اور خلافت کو پارہ پارہ کرنے کی منصوبہ بندی مکمل کر چکا تھا۔ منصوبے کے چار رُخ تھے۔ تاکہ اگر ایک رُخ پر کامیابی نہ ہو تو دوسرا سہی۔ یہ چار رُخ درج ذیل تھے۔



        1. عراق اور مصر کے لوگوں کو جو بنو ہاشم کی طرف زیادہ مائل ہیں، استعمال کر کے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کی ایسی تحریک اٹھائی جائے گی، جس میں مدینہ کے تین اکابر صحابہ: حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہم بھی ملوث ہو جائیں۔ ان میں سے ہر ایک کو خلافت کا مدعی بنا کر اُمت کو لڑا دیا جائے۔

        2. اگر ایسا نہ ہو سکا، تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے جبری استعفیٰ لیا جائے گا۔ مسندِ خلافت خالی ہوتے ہی اکابر مدینہ اسے پُر کرنے کی کوشش کریں گے، اس موقع پر اتفاقِ رائے کو ناکام بنا کر خانہ جنگی کی کوشش کی جائے گی۔

        3. اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مستعفی نہ ہوئے تو انہیں قتل کر کے الزام حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، عمرو بن العاص اور اُمہات المومنین رضی اللہ عنہم اجمعین سمیت متعدد اکابر پر لگا کر ایسی افرا تفری پھیلائی جائے کہ اُمت کی نگاہ میں یہ اکابر نا قابلِ اعتماد ہو جائیں اور مہاجرین وانصار کسی خلیفہ  پر متفق نہ ہو سکیں۔ مسلمانوں کی طاقت بکھر جائے۔

        4. اگر پھر بھی مہاجرین وانصار کسی شخصیت پر متفق ہو جائیں تو پروپیگنڈہ کیا جائے کہ اسی شخص نے اقتدار حاصل کرنے کے لیے سابق خلیفہ کو مروایا ہے۔ اس بات کو اس قدر بڑھایا جائے کہ سابق خلیفہ کے عقیدت مند امراء کسی طرح بھی نئے خلیفہ پر اعتماد نہ کر سکیں اور جنگ چھڑ کر رہے۔ یوں مسلمانوں میں افتراق کی دیوار کھڑی ہو جائے۔

سبائی قافلہ الزامات کی فہرست کے ساتھ مدینہ میں:

        فتنے کی چنگاری سلگانے اور تخریبی ماحول کو ہوا دینے کے لیے طے کیا گیا کہ ایک وفد کو ان الزامات اور شکایات کے ساتھ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا جائے، جنہیں عوام میں مشہور کیا جا چکا ہے۔ یہ وفد واپس آ کر پرچار کرے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی زیادتیوں کا اعتراف تو کر لیا ہے مگر اپنی روش چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ اس طرح خلیفہ کے خلاف عوام کو مشتعل کیا جائے۔ رجب سن ۳۵ ہجری میں سبائیوں کا وفد مصر سے روانہ ہوا۔ والی مصر عبد اللہ بن سعد رضی اللہ عنہ ان کی حرکات سے باخبر تھے، انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو لکھ بھیجا کہ یہ لوگ آپ کو معزول کرنے کے درپے ہیں۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو مسجد نبوی میں سر عام بات چیت کا موقع دیا۔ صحابہ کرام نے اتفاقِ رائے سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ وفد کے ارکان کو بغاوت کے ارتکاب میں قتل کر دیا جائے مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے شکایت کنندگان کو شک کا فائدہ دے کر ان کے خلاف کسی کارروائی کی اجازت نہ دی، بلکہ خود محاسبے کے کٹہرے میں کھڑا ہونا پسند کیا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ احتساب کے کٹہرے میں:

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کا نسخہ منگوا کر سامنے رکھا، وفد کے الزامات سنے اور ایک ایک بات کا واضح جواب دیا۔ شر پسند لوگ ہر سوال کے ساتھ طنزیہ انداز میں کہتے: "آپ کو اللہ نے اجازت دی تھی یا آپ اللہ  پر جھوٹ باندھ رہے ہیں؟" مگر آپ رضی اللہ عنہ بڑے تحمل کے ساتھ تسلی بخش جواب دیتے اور پھر فرماتے: "اور کوئی بات ہو تو کہو۔"

        گفتگو کی مختلف روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کھلی کچہری تھی جس میں سرکاری اشتہار کے ذریعے مختلف شہروں کے لوگ بلائے گئے تھے۔ جس نے جو چاہا سوال کیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے جوابات پر سبائی گنگ ہو گئے جبکہ عام لوگوں نے کھل کر آپ کی سچائی کا اعتراف کیا۔ اس مجلس میں درج ذیل سوال وجواب ہوئے:

        1. اعتراض کرنے والوں نے کہا: آپ نے "بقیع" کی چراگاہ کو اپنے لیے مخصوص کر کے اسے "حمٰی" (علاقہ ممنوعہ) قرار دے دیا ہے اور عام لوگوں کو اس سے فائدہ نہیں اٹھانے دیتے، جبکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "لا حمٰی الا للہ ولرسولہ" (اللہ اور اس کے رسول کے سوا کسی کو ایسی حد بندی کا اختیار نہیں۔)"

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: "اللہ کی قسم! یہ سلسلہ میں نے شروع نہیں کیا بلکہ پہلے سے چلا آرہا ہے۔ مجھ سے پہلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صدقات کے اونٹوں کے لیے چراگا ہیں مخصوص کیں۔ جب مجھے حکومت ملی تو صدقات کے اونٹ زیادہ ہو چکے تھے۔ لہذا میں نے اونٹوں کی کثرت کی وجہ سے چراگاہوں کا رقبہ بڑھا دیا۔"

        مطلب یہ تھا کہ حدیث "لا حمٰی الا للہ ولرسولہ" میں جو ممانعت ہے وہ اس صورت میں ہے کہ قبیلوں کے سردار اپنے جانوروں کو چرانے کے لیے جنگلات پر قبضہ کر لیں۔ اس حدیث میں "للہ ولرسولہ" سے صاف پتا چلتا ہے کہ اگر مسلمانوں کا سربراہ سرکاری اموال اور مویشیوں کی حفاظت کے لیے جنگلات کو مخصوص کر دے تو یہ کوئی ناروا بات نہیں۔ اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود چراگاہیں مخصوص فرمائی تھیں، پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے رقبے میں اضافہ فرمایا تھا یہ اقدام  بیت المال اور سرکاری اثاثوں میں شامل جانوروں کی عمدہ پرورش کے لیے ضروری تھا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس سلسلے کو ترقی دی کیوں کہ بیت المال میں صدقات وغیرہ کے اونٹوں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ اسی طرح مجاہدین کے لیے گھوڑوں کی بھی مزید ضرورت تھی پس سرکاری چراگاہوں کو ترقی دینا ایک کارنامہ تھا، جرم نہیں۔ اور یہ ترقی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ذاتی مویشیوں کی نہیں، سرکاری اموال کی تھی۔

        جہاں تک ذاتی جانوروں کا تعلق تھا اس بارے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا:
        "خلافت سے پہلے پورے عرب میں مجھ سے زیادہ مویشیوں والا کوئی نہ تھا۔ آج میرے پاس صرف ایک بکری اور حج کے لیے دو اونٹ ہیں۔" یعنی باقی سب صدقہ وخیرات اور عطیات میں خرچ کر دیے تھے۔

        2. دوسرا اعتراض  یہ کیا گیا کہ قرآن مجید کے کئی نسخے تھے، آپ نے انہیں تلف کر کے ایک نسخے کو رائج کیا۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: "قرآن ایک ہے، ایک ذات کی طرف سے آیا ہے، میں نے اس بارے میں جو کیا وہ سب کے اتفاق سے تھا۔"
        
        یہ بھی فرمایا: "حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے مشورے پر میں ایسا کرنے پر آمادہ ہوا تاکہ قرآتِ قرآن میں ویسا اختلاف نہ ہو جائے جیسا کہ اہل کتاب میں ہوا۔"

        3. یہ بھی اعتراض کیا گیا کہ آپ نے حج کے موقع پر منیٰ میں ظہر، عصر اور عشاء چار چار رکعات پڑھانا شروع کر دیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما مسافروں کی طرح دو، دو رکعات (قصر) پڑھایا کرتے تھے۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا:

        "مکہ میں میرا گھر ہے، اہل وعیال ہیں، اس لیے میں وہاں (مقیم کی حیثیت سے) پوری نماز پڑھتا ہوں۔"

        4. اگلا اعتراض  یہ کیا گیا کہ حکم بن العاص کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے شہر بدر کر دیا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہما کی زندگی میں انہیں واپس آنے کی اجازت نہ ملی۔ آپ نے انہیں واپس مدینہ کیوں بلایا۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب میں فرمایا: "حکم بن العاص  مکی ہیں ، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے طائف بھیجا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واپس لانے (یعنی واپسی کی اجازت دے دی تھی) تو کیا میں نے درست نہیں کیا۔"

        سب نے کہا: "بالکل ٹھیک کیا۔"

        5. پھر  یہ اعتراض کیا گیا کہ آپ نے نوجوانوں کو بڑے بڑے عہدے دے دیے اور اکابر صحابہ کو معزول کیا۔

        ابن شَبہ  کی روایت کے مطابق ان لوگوں نے کہا کہ آپ نے اپنے نادان قریشی رشتہ داروں کو حاکم بنایا ہے۔

    اس الزام کے جواب میں خود حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا:
        "میں نے صرف قابل، سمجھ دار اور پسندیدہ نوجوانوں کو عہدے دیے ہیں۔ جن کے اخلاق و کردار اور برتاؤ کے بارے میں ان کے شہر والوں سے پوچھا جا سکتا ہے۔ پھر نوجوانوں کو امیر بنانے کی روایت تو پہلے سے چلی آرہی ہے کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اُسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو امیر نہیں بنایا تھا؟"

        عام حاضرین نے کہا: "بالکل۔ یہ لوگ ایسے اعتراضات کر رہے ہیں جنہیں وہ ثابت نہیں کر سکتے۔"

        پھر بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "تم میں سے ہر شہر کے لوگ کھڑے ہو کر بتائیں کہ وہ کسے گورنر بنانا چاہتے ہیں، میں اسی کو گورنر بنا دوں گا۔ جسے وہ ناپسند کرتے ہیں، اسے معزول کر دوں گا۔"

        یہ سن کر اہلِ بصرہ نے کہا: "ہم عبد اللہ بن عامر رضی اللہ عنہ پر ہی راضی ہیں۔"

        اہلِ شام نے کہا: "ہم معاویہ رضی اللہ عنہ پر ہی راضی ہیں۔"

        اہلِ مصر نے کہا: "عبد اللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ کو معزول کر کے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا تقرر کر دیں۔"

        6. یہ اعتراض بھی کیا گیا کہ آپ نے حضرت عبد اللہ بن ابی سرح رضی اللہ عنہ والی مصر کو افریقہ کے مالِ غنیمت سے پانچواں حصہ انعام کیوں دیا۔

        جواب میں خلیفہ سوم نے فرمایا: "اسے مالِ غنیمت کے پانچویں حصے کا پانچواں حصہ (چار فیصد) دیا تھا (کیوں کہ افریقہ کی مہم سے پہلے ان کی حوصلہ افزائی کے لیے ان سے یہ وعدہ ہو چکا تھا) یہ شرعاً غلط نہیں تھا۔ ایسے انعامات حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی دیتے رہے تھے۔ بہر حال جب سبائیوں نے ناگواری کا اظہار کیا تو میں نے (ان کی دلجوئی کی خاطر) وہ انعام واپس لے کر ان پر تقسیم کر دیا جبکہ وہ ان کا کوئی واجب حق نہ تھا۔"

        7. یہ مضحکہ خیز شکایت بھی کی گئی کہ آپ اپنے اہل خاندان سے محبت کرتے اور انعامات دیتے ہیں۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
        "خاندان والوں سے محبت ضرور کرتا ہوں مگر کسی پر ظلم تو نہیں کرتا، جہاں تک انہیں انعام دینے کا تعلق ہے وہ میں اپنی جیب سے دیتا ہوں۔ بیت المال کی دولت جو عام مسلمانوں کی ہے، میں اپنے لیے، نہ کسی اور کے لیے حلال سمجھتا ہوں۔ اپنی جیب سے تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر وحضرت عمر رضی اللہ عنہما کے زمانے سے عطیے دیتا چلا آرہا ہوں۔ جوانی میں یہ حال تھا تو اب جبکہ زندگی کی شام ہو چکی ہے، میں بھلا کیوں بخل کروں گا۔"

        8. الزامات کی فہرست میں یہ بھی شامل تھا کہ شہر والوں پر مالی بوجھ اور ٹیکس بڑھا دیا۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا:
        "جو یہ الزام لگاتا ہے میں اس شہر کے محصولات کا کام اس کو سونپتا ہوں، وہ جائے اور اس شہر کے محصولات وصول کرے۔ میرے پاس تو  پیداوار کے پانچویں حصے کے سوا کچھ نہیں آتا۔ اس میں سے بھی میں اپنی ذات کے لیے ایک  پیسہ تک حلال نہیں سمجھتا۔ تقسیم کا بھی تمام اختیار دوسرے مسلمانوں کے ہاتھ میں ہے، وہی اس دولت کو عوام پر خرچ کرتے ہیں۔ میں اپنے خرچ کے لیے اس سے کچھ نہیں لیتا۔ اپنی معاش پر انحصار کرتا ہوں۔"

        9. یہ بھی کہا گیا کہ آپ نے (بنو امیہ کے علاوہ بھی) کچھ افراد کو ناجائز طور پر زمینیں ہدیہ کی ہیں۔

        حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے وضاحت فرمائی:

        "یہ مسئلہ مہاجرین وانصار کی ان زمینوں کا ہے جو فتح ہوئیں تو انہیں اس میں حصے ملے۔ ان میں سے کچھ لوگ تو وہیں ان زمینوں میں آباد ہو گئے، کچھ واپس اپنے گھروں کو آگئے ہیں۔ میں نے ان کے مشورے سے وہ زمینیں جوان کی ملکیت میں باقی تھیں، وہاں کے عرب زمینداروں کو فروخت کر دیں۔ قیمت یہاں ان کے حوالے کر دی، اب جو کچھ ہے انہی کے پاس ہے، میں نے اپنے لیے کچھ نہیں رکھا۔"

        10. ایک اعتراض   یہ کیا گیا کہ آپ نے سرکاری اموال سے مروان بن الحکم کو پندرہ ہزار اور عبد اللہ بن خالد کو پچاس ہزار کا عطیہ دے دیا۔ (یہ دونوں اموی تھے، اس لیے آپ رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیا گیا)

        آپ رضی اللہ عنہ نے وضاحت فرمائی کہ یہ عطیے میں نے اپنے ذاتی مال سے دیے ہیں، وہ بھی اس لیے کہ یہ لوگ غریب ہیں۔ آپ نے فرمایا: "میرا خیال ہے کہ مجھے اس کا حق حاصل ہے (کہ اپنے ذاتی مال سے عطیے دوں) لیکن پھر بھی اگر آپ لوگ اسے غلط سمجھتے ہیں تو مجھے ٹوک دیا کریں۔ میری رائے آپ لوگوں کی رائے کے تابع ہے۔"

        آپ کا جواب سن کر سب مطمئن ہو گئے اور کہا: "آپ نے ٹھیک کیا، اچھا کیا۔"

        اپنی برائت ثابت کرنے کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان شرپسندوں کو اصلاحِ احوال کا موقع دے کر واپس جانے دیا، حالانکہ عام لوگ اصرار کر رہے تھے کہ انہیں بغاوت کی سزا میں قتل کیا جائے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic