سبائی جماعت کا راست اقدام
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے شورش پسندوں کو گفت و شنید کا موقع دے کر صلح و صفائی کے ساتھ واپس بھیجا تھا۔ مگر اس نرم اور باعزت رویے کے بعد بھی یہ لوگ ذرا نہ شرمائے۔ انہوں نے مشہور کر دیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سب کے سامنے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کو قبول کر لیا ہے، جس کے بعد انہیں مستعفی ہو جانا چاہیے مگر وہ نہ تو بہ کرتے ہیں اور نہ ہی عہدے سے مستعفی ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی گروہ کے لوگوں کے دلوں میں یہ بات بٹھا دی گئی تھی کہ خلیفہ بڑھاپے میں حکومتی ذمہ داریاں انجام دینے کے قابل نہیں۔ ان سے حکومت لے کر کسی قابل ترین صحابی کے ہاتھ دے دی جائے تو اس میں مسلمانوں کا بھلا ہے۔
جعلی خطوط:
اس کے فوراً بعد باغیوں نے مدینہ منورہ کے اکابر صحابہ: حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہم اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی جانب سے جعلی خطوط تیار کرا کے راتوں رات کوفہ، بصرہ اور مصر جیسے بڑے شہروں میں پھیلا دیے جن میں اکابر صحابہ کی طرف سے عوام کو دعوت دی گئی تھی کہ اگر انہیں جہاد کرنا ہے تو وہ احتجاجی تحریک کا حصہ بن کر مدینہ طیبہ آ جائیں اور حکومت کی تبدیلی کی کوششوں میں ان کا ساتھ دیں۔
سبائی قافلوں کی روانگی:
اب انقلابی مدینہ جانے کے لیے تیار ہوئے۔ ایک قافلہ کوفہ میں، ایک بصرہ میں اور ایک مصر میں تشکیل دیا گیا۔ مرکزی لیڈروں کے ذہنوں میں کارروائی کا مکمل خاکہ موجود تھا مگر انہوں نے اپنے خاص لوگوں کے سامنے بھی صرف اس حد تک اظہار کیا: "ہم حاجیوں کے بھیس میں نکلیں گے اور مدینہ پہنچیں گے، عثمان کا گھیراؤ کر کے انہیں معزول کر دیں گے، اگر وہ نہ مانے تو انہیں قتل کر دیں گے۔"
لیکن ابھی سازش کے پہلے رُخ پر کام کیا جا رہا تھا۔ یعنی متفقہ اور متحدہ خلافت کو سبوتاژ کرنے کے لیے اقتدار کے متعدد دعوے دار کھڑے کرنا۔ اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ بصرہ کے انقلابیوں میں حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ، کوفہ والوں میں حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اور مصر والوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ زیادہ مقبول تھے۔ چنانچہ بصرہ والوں کو یہ سمجھایا گیا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو معزول کر کے حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا جائے گا۔ کوفہ کے قافلے کو یہ ہدف دیا گیا تھا کہ وہ جا کر حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے ملیں اور انہیں خلیفہ چنیں۔ مصر والے انقلابیوں کو ان کی خواہش کے عین مطابق یہ بتایا گیا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی جائے گی۔
دراصل مدینہ منورہ میں اکابر صحابہ کے درمیان جو مخلصانہ اختلافِ رائے تھا، اس کی خبریں باہر بھی نکل جاتی تھیں۔ جس طرح آج بہت سے لوگ ان باتوں کو صحابہ کی باہمی عداوت پر محمول کرتے ہیں، اس وقت بھی بہت سے لوگوں نے یہی سمجھا۔ کچھ لوگوں کو یہ اطلاعات ملیں تو وہ یہ سمجھے کہ اہلِ مدینہ اور یہ اکابر، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سیادت اور بنو امیہ کی ترقی سے جلتے ہیں۔ اُدھر سبائیوں تک یہ باتیں پہنچیں تو انہیں امید ہونے لگی کہ اکابرِ مدینہ موجودہ خلیفہ کا تختہ الٹنے میں ان کا ساتھ دیں گے۔ حالاں کہ ان کی یہ توقع بالکل غلط تھی۔
شوال ۳۵ھ میں کوفہ، بصرہ اور مصر سے یہ قافلے روانہ ہوئے۔ ہر قافلے میں ایک ہزار کے لگ بھگ افراد تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے گورنر اور دوسرے اکابر ان سرگرمیوں اور ان کے ممکنہ نتائج سے بے خبر تھے۔ کوفہ میں حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے جب پوچھا گیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف لوگ خروج کے لیے نکلے ہیں، اس کا کیا انجام ہوگا تو بلا تأمل فرمایا: "بخدا! یہ لوگ انہیں قتل کر کے چھوڑیں گے، پھر ان کا مقام جنت میں ہوگا اور اللہ کی قسم! ان کے قاتل جہنمی ہوں گے۔"
سبائی قافلوں کی مدینہ آمد: پہلے رُخ پر کوشش ناکام:
مدینہ منورہ اسلامی شہروں کے درمیان واقع تھا، دور دور تک کفار کی کوئی سرحد نہیں تھی، اس لیے یہاں حفاظتی انتظامات کی کوئی ضرورت نہیں تھی، چنانچہ مدینہ میں فوج برائے نام ہی ہوا کرتی تھی۔ شوال کے آخر میں حاجیوں کا بھیس دھارے فسادیوں کے تینوں قافلے مدینہ منورہ سے اڑتالیس میل (ساڑھے ۷۷ کلومیٹر) دور رُکے۔ عام کارکنوں کو یہاں ٹھہرا کر خاص لوگ آگے چل دیے۔
دراصل عام لوگوں کو یہی سمجھا کر لایا گیا تھا کہ مدینہ میں ایک ظالم حکومت مسلط ہے جس سے خود صحابہ بے زار ہیں۔ اس تأثر کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ اپنے آدمیوں کو جب تک ممکن ہو، مدینہ کے حالات سے بے خبر رکھا جائے اور بعد میں بوقت ضرورت یکدم مشتعل کر کے آگے لایا جائے۔
خاص لوگوں نے آگے جا کر پڑاؤ ڈال لیا۔ ان میں سے مصر والے وادی ذی المروہ، بصرہ والے وادی ذی خشب اور کوفہ والے وادی اعوص میں ٹھہرے۔ پھر قافلوں کے قائدین خاص ساتھیوں کو لے کر مدینہ میں داخل ہوئے۔ جب انہوں نے امہات المؤمنین، حضرت علی اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم سے ملاقات کی تو ہر ایک کو اپنی تحریک سے نالاں پایا۔ شرپسندوں نے موقع کی نزاکت دیکھتے ہوئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی معزولی کا مطالبہ کرنے کی بجائے صرف اتنا کہا:
"ہم کچھ گورنروں کو معزول کرانے کا مطالبہ لے کر آئے ہیں۔"
مگر اکابر صحابہ میں کسی نے ان کو منہ نہ لگایا۔
مدینہ کے باہر صحابہ کرام کا پہرہ:
حضرت علی، حضرت طلحہ اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہم کو اندازہ ہو گیا تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف فضا بنانے کے لیے ان کا نام استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ حضرات مدینہ کے باہر الگ الگ دستوں کے ساتھ کھڑے ہو گئے؛ کیوں کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی حفاظت کے لیے بہت فکرمند تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے حضرت حسن رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبد اللہ کو اور اسی طرح حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اپنے دونوں بیٹوں کو ذمہ داری سونپ دی تھی کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ذاتی حفاظت کے لیے چوکنا رہیں۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خود بھی مدینہ کی حفاظت کے لیے ضروری انتظامات سے غافل نہیں تھے، آپ نے حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی قیادت میں پچاس گھڑ سواروں کا دستہ ذی خشب کی طرف بھیج دیا تھا۔ اس لیے باغی اس وقت بزورِ قوت شہر میں گھسنے کی جرات نہ کر سکے۔
باغیوں کی اکابر صحابہ سے الگ الگ ملاقاتیں:
مصری باغیوں کے سرکردہ لوگ اب حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے جو مدینہ کے باہر فوجی دستے سمیت موجود تھے، باغیوں نے پیش کش کی کہ وہ انہیں خلیفہ ماننے کے لیے تیار ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو ڈانٹ کر بھگا دیا اور فرمایا: " نیک لوگ جانتے ہیں کہ ذی مروہ اور ذی خشب میں ٹھہرنے والے قافلوں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے لعنت کی گئی ہے۔"
بصرہ کے لیڈر حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس یہی پیش کش لے کر پہنچے، مگر انہیں بالکل یہی جواب ملا۔ کوفہ کے بانی سرداروں کو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی طرف سے بعینہ یہی جواب ملا۔
غرض حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی کے علم، فطری حزم و احتیاط اور اپنی ایمانی بصیرت کی وجہ سے اکابر صحابہ سازش کے جال میں نہ آئے اور امت کو تین ٹکڑوں میں بانٹنے کی سبائی سازش کو ناکام بنا دیا۔
اکابر صحابہ کی ڈانٹ ڈپٹ کے بعد یہ لوگ نرم پڑ گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ان کی مکمل تسلی کے لیے بھیجا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اطمینان دلاتے ہوئے کہا:
"تمہیں اللہ کی کتاب کے مطابق حقوق دیے جائیں گے۔"
قافلے میں عام لوگ سیدھے سادے تھے جنہیں بہکا کر لایا گیا تھا۔ وہ آپس میں کہنے لگے: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد اور امیر المؤمنین کے نمایندے اللہ کی کتاب کے مطابق بات کر رہے ہیں، اسے قبول کر لینا چاہیے۔"
قضیے کو حتمی طور پر نمٹانے کے لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے خود مدینہ سے باہر ایک بستی میں آکر ان لوگوں سے ملاقات کی۔ قرآنِ مجید کھولا گیا۔ باغی رہنما مختلف آیات پڑھ کر خلیفہ ثالث کے بعض اقدامات پر اعتراضات کرتے رہے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہر بات کا تسلی بخش جواب دیتے گئے۔
باغی بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی معزولی کے مطالبے سے دست بردار ہو کر صرف گورنروں کی تبدیلی پر راضی ہو گئے تھے، چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں پیش کش کی:
"آپ لوگ جس عامل کو پسند کریں گے میں اس کا تقرر کر دوں گا، جسے ناپسند کریں گے اسے ہٹا دوں گا۔"
بدلے میں آپ نے ان سے وعدہ لیا کہ وہ انتشار نہیں پھیلائیں گے اور جب تک حکومت اپنے عہد پر قائم ہے وہ بھی امت کے اجتماعی دھارے میں شامل رہیں گے۔ ان لوگوں نے خوشی سے یہ باتیں مان لیں۔
مصریوں کو ان کی خواہش کے مطابق محمد بن ابی بکر کی گورنری کا پروانہ بھی لکھ دیا گیا تھا۔
یہ معاہدہ یکم ذی قعدہ ۳۵ ہجری کو ہوا تھا۔
قافلوں کی واپسی:
معاہدے کی اطلاع سے عالمِ اسلام کے دیگر شہروں میں ایک اطمینان کی لہر دوڑ گئی اور تشویش کے شکار مسلمانوں نے چین کا سانس لیا۔ شورش کی آگ بظاہر ٹھنڈی پڑ گئی اور باغی تحریک کے کارکن اپنے علاقوں کے لیے واپس روانہ ہونے لگے۔ البتہ مالک بن اشتر نخعی اور حُکیم بن جَبلہ کسی نامعلوم مصلحت کے تحت مدینہ منورہ ہی میں رہ گئے۔
سازش کا دوسرا رُخ: جعلی خط اور باغیوں کا دوبارہ حملہ:
اگر یہ فطری شورش ہوتی تو اس متفقہ معاہدے کے بعد ختم ہوجاتی مگر شورش کی اصل باگ ڈور جن عیاروں کے ہاتھ میں تھی وہ طے کیے ہوئے تھے کہ فساد کی آگ کسی نہ کسی بہانے بھڑکا کر رہیں گے۔
مصر واپس جانے والا قافلہ راستے میں تھا کہ کچھ فاصلے پر ایک شخص دکھائی دیا، وہ انہیں دیکھ کر بھاگا، پھر قریب آیا اور دوبارہ فرار ہو گیا۔ قافلے کے لوگوں کو شک ہوا تو تعاقب کر کے پکڑ لیا اور پوچھا: "تم کون ہو؟" کہنے لگا: "میں حاکمِ مصر کی طرف امیر المؤمنین کا قاصد ہوں۔" تلاشی لی گئی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی زبانی لکھوائی گئی ایک تحریر برآمد ہوئی جس میں مصر کے گورنر کو حکم دیا گیا تھا کہ جب یہ قافلے والے مصر پہنچیں تو انہیں قتل کر دیا جائے۔
قافلے والے یہ تحریر دیکھ کر غصے سے بے حال ہو گئے۔ تکبیر کے نعرے لگاتے ہوئے اس تیزی سے مدینہ واپس پہنچے کہ مقامی لوگ حیران و پریشان رہ گئے۔ اس بار اہل قافلہ میں سے کسی کو پیچھے نہ رکھا گیا۔ سبھی باغی شہر میں گھس گئے۔
آناً فاناً بصرہ اور کوفہ جانے والے بھی لوٹ آئے اور اس باغیانہ کارروائی میں شریک ہو گئے۔ شہر کے راستوں اور ناکوں پر قبضہ کر کے انہوں نے اہل شہر کو بے بس کر دیا۔ پھر چند باغی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور بولے:
"آپ ہمارے ساتھ عثمان کے خلاف کھڑے ہو جائیں۔"
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بے زاری سے کہا: "اللہ کی قسم! میں تمہارا ساتھ نہیں دوں گا۔"
وہ بولے "تو پھر آپ نے ہمیں وہ خطوط کیوں لکھے (جن میں انقلاب کی دعوت دی گئی تھی)؟"
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اللہ کی قسم! میں نے تمہیں کوئی خط نہیں لکھا۔" یہ سن کر عام بلوائی ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے اور کہنے لگے: "ارے! تم اس شخص کی خاطر لڑ رہے ہو، اس کے لیے غصہ کر رہے ہو۔"
دراصل عام باغیوں کو پتا ہی نہیں تھا کہ صحابہ کی جانب سے انقلاب کی دعوت پر مشتمل خطوط جعلی تھے۔
یہی باتیں کوفہ والوں نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے اور بصرہ والوں نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے کیں۔ صحابہ نے باغیوں کو یہ بھی کہا: "آخر تم کو دوسرے قافلوں کے ساتھیوں کا حال معلوم کیسے ہوا؟ تم لوگ الگ الگ سمتوں میں کوچ کر چکے تھے، تمہارے درمیان کئی دنوں کا فاصلہ تھا۔ ہو نہ ہو، یہ پہلے سے طے شدہ سازش ہے۔"
اب باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر پوچھا: "آپ نے ہمارے بارے میں یہ مراسلہ لکھا ہے؟"
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدھی اور اصولی بات کی، فرمایا: "دو باتوں میں سے ایک اختیار کر لو، یا تو اس پر دو مسلمانوں کی گواہی لے آؤ کہ یہ مراسلہ میں نے لکھوایا ہے یا مجھ سے اللہ کی قسم لے لو کہ میں نے نہ یہ لکھا ہے نہ لکھوایا"ہے، نہ اس کے بارے میں کچھ جانتا ہوں؛ کیوں کہ مہر جعلی بھی لگائی جاسکتی ہے۔"
باغی کوئی شرعی گواہی پیش نہ کر سکے نہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے حلف لینے پر آمادہ ہوئے۔ ایک انتہا پسندانہ سوچ کے ساتھ ان کی ایک ہی رٹ تھی "تم نے عہد کی خلاف ورزی کی ہے۔"
باغیوں نے یہ بھی کہا کہ اگر یہ آپ کا خط نہیں تو پھر یہ کیا دھرا مروان کا ہے۔ اسے ہمارے حوالے کیا جائے۔ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی رائے بھی یہی تھی کہ یہ سازش مروان نے کی ہے۔ مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو خدشہ تھا کہ یہ بپھرے ہوئے لوگ مروان کو قتل ہی نہ کر ڈالیں، اس لیے انہوں نے مروان کو ان کے سپرد نہ کیا۔
مشہور ہے کہ خط لے جانے والا شخص حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کوئی غلام تھا جسے ان کے کاتب مروان نے بھیجا تھا مگر صحیح بات یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا کوئی غلام اس سازش میں استعمال نہیں ہوا تھا۔ سازشیوں نے جھوٹ موٹ یہ مشہور کر دیا کہ ان کا غلام پکڑا گیا ہے۔
کیا خفیہ خط کی سازش کا مجرم مروان تھا؟
مشہور ہے کہ خفیہ خط کی سازش حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کاتب مروان نے کی تھی مگر سوال یہ ہے کہ مروان کو اندازہ نہ تھا کہ یہ حرکت پکڑی گئی تو کس قدر مہنگی پڑے گی جس کے نتیجے میں سنگین بغاوت برپا ہوسکتی ہے اور حکومت گر سکتی ہے۔ مروان کو اس سے کیا حاصل ہوسکتا تھا اس کا موجودہ منصب اور خود زندگی بھی خطرے میں پڑ سکتی تھی۔
حقیقت یہ ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور مروان دونوں اس الزام سے بری تھے۔ ان کی برات اور خط کے جعلی ہونے کی ناقابلِ تردید دلیل یہ ہے کہ مکتوب الیہ (جن کو خط لکھا گیا تھا) عبد اللہ بن سعد ابی سرح رضی اللہ عنہ اس وقت مصر میں تھے ہی نہیں بلکہ مصری باغیوں کی روانگی کے بعد وہ بھی ان کے پیچھے مصر سے نکل کر شام و حجاز کی سرحد کے قریب آ ٹھہرے تھے تا کہ اگر ضرورت پڑے تو مدینہ پہنچ جائیں۔ ضرورت نہ ہو تو مصر واپس چلے جائیں۔ درج ذیل تاریخی عبارات اسے ثابت کرتی ہیں:
( لَمَّا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَعْدٍ خَرَجَ إِلَى عُثْمَانَ فِي آثَارِ المِصْرِيِّينَ، وَقَدْ كَانَ كَتَبَ إِلَيْهِ يَسْتَأْذِنُهُ فِي القُدُومِ عَلَيْهِ، فَأَذِنَ لَهُ، فَقَدِمَ ابْنُ سَعْدٍ حَتَّى إِذَا كَانَ بِأَيْلَةَ بَلَغَهُ أَنَّ المِصْرِيِّينَ قَدْ رَجَعُوا إِلَى عُثْمَانَ وَأَنَّهُمْ قَدْ حَصَرُوهُ.
"عبد اللہ بن سعدؓ مصریوں کے پیچھے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو مراسلہ بھیج کر ان کے پاس آنے کی اجازت لے چکے تھے اور وہ انہیں آنے کی اجازت دے چکے تھے۔ پس عبد اللہ بن سعد آکر جب ایلہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ مصریوں نے لوٹ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو محصور کر لیا ہے۔"
فَخَرَجَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ مِنْ مِصْرَ فَنَزَلَ عَلَى تُخُومِ أَرْضِ مِصْرَ إِلَى فِلَسْطِينَ فَانْتَظَرَ مَا يَكُونُ مِنْ أَمْرِ عُثْمَانَ.
"عبد اللہ بن سعد مصر سے نکل کر فلسطین سے ملحقہ علاقے میں آ گئے اور منتظر رہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا پیش آتا ہے۔"
كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ الْقُرَشِيُّ أَمَّرَهُ عُثْمَانُ عَلَى مِصْرَ فَخَرَجَ عَلَى عُثْمَانَ هُنَاكَ وَتَكَلَّمَ النَّاسُ فِي عُثْمَانَ ثُمَّ ذَكَرَ الرَّاوِي خُرُوجَ ابْنِ أَبِي حُذَيْفَةَ وَغَلَبَتَهُ عَلَى مِصْرَ وَمُرَاجَعَةَ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَعْدٍ إِلَى مِصْرَ وَمَنْعَ ابْنِ أَبِي حُذَيْفَةَ إِيَّاهُ عِنْدَ جِسْرِ بُحَيْرَةِ الْقُلْزُمِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى عَسْقَلَانَ وَكَرِهَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى عُثْمَانَ وَقُتِلَ عُثْمَانُ وَهُوَ بِعَسْقَلَانَ.
"عبد اللہ بن سعد قرشی کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مصر کا امیر بنایا تھا۔ جب لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر اعتراض کیے تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ملنے روانہ ہوئے۔ (اس کے بعد) ان کی غیر موجودگی میں مصر میں ابن ابی حذیفہ کی بغاوت اور عبد اللہ بن سعد کی مصر کی طرف مراجعت اور بحیرہ قلزم پر باغیوں کے پہرے کی مہم سے آگے نہ بڑھنے کا ذکر ہے، راوی کہتا ہے: پس وہ عسقلان لوٹ گئے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف لوٹنا پسند نہ کیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے وقت وہ عسقلان ہی میں تھے۔")
حاکمِ مصر اپنے صوبے میں تھے ہی نہیں، ایک سرکاری خبر تھی جس کی اطلاع حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور مروان کو (جو ساری خط و کتابت، حساب کتاب اور دفتری امور کا نگران تھا) ہو چکی تھی۔ پس یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ وہ عبد اللہ بن ابی سرح کے نام پر مراسلہ بھیجیں کہ جب یہ قافلہ مصر پہنچے تو تم انہیں قتل کروا دینا؛ کیوں کہ انہیں تو معلوم تھا کہ مکتوب الیہ مصر سے باہر آ چکا ہے۔ یہ مراسلہ جس نے بھی بنایا تھا وہ کوئی ایسا آدمی تھا جو اس سرکاری راز سے ناواقف تھا۔ غالب گمان یہ ہے کہ حکیم بن جبلہ نے جو قافلوں کی روانگی کے باوجود مدینہ ہی میں پیچھے رہ گیا تھا، جعلی خط کا کھیل کھیلا تھا۔ اشتر نخعی پر بھی شک ہو سکتا ہے مگر کم کیونکہ اس کی طبیعت میں سازش کی بجائے حماقت، جوش اور تیز مزاجی کی کار فرمائی زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اس لیے زیادہ گمان یہ ہے کہ یہ کام حکیم بن جبلہ نے کیا ہو گا جسے بعض روایات میں "لص من لصوص عبد القیس" یعنی عبد القیس کے چور سے تعبیر کیا گیا ہے۔
باغی مسجد نبوی میں:
باغی چند دنوں تک مدینہ میں دندناتے رہے۔ مدینہ کے لوگ فساد کے ڈر سے گھروں میں بیٹھ گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اس دوران مسجد نبوی میں نمازیں پڑھاتے رہے...... جمعے کا دن آیا تو آپ نے منبر پر خطبہ دیا۔ اس دوران باغیوں نے ہنگامہ کر دیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر کنکروں کی بارش کر دی۔ آپ رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے اور غشی طاری ہو گئی، صحابہ کرام آپ کو اٹھا کر گھر لے گئے۔ حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپ کی عیادت کے لیے آئے اور اس صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔
محاصرہ:
پہلے باغیوں نے آپ کے نماز پڑھانے اور خطبہ دینے پر پابندی لگائی۔ پھر نماز باجماعت کے لیے مسجد میں داخلہ بند کیا، اور پھر کچھ دنوں بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مکان کا محاصرہ کر لیا۔
باغیوں کا مطالبہ تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلافت سے استعفیٰ دے دیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا اس بارے میں پہلا اور آخری فیصلہ یہ تھا: "میں اس قمیص کو نہیں اتاروں گا جو اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے"۔ دراصل حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آپ کو تاکید تھی کہ اللہ کی طرف سے خلافت کی ذمہ داری ملے تو اس سے دست بردار نہ ہونا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک تھا: "اے عثمان! اگر اللہ تمہیں کسی دن یہ منصب عطا کرے پھر منافقین چاہیں کہ اللہ نے تمہیں جو کرتا پہنایا ہے اسے اتار دیں تو تم اسے مت اتارنا۔" نطقِ رسالت سے یہ ارشاد بطورِ پیش گوئی تین بار دہرایا گیا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ جب اشتر نخعی نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مل کر انہیں خلافت سے دستبرداری پر مجبور کرنے کی کوشش کی تو دامادِ مصطفیٰ نے فرمایا: "اللہ نے مجھے جو قمیص پہنائی ہے، میں اسے نہیں اتاروں گا۔ اگر میری گردن بھی کٹ جائے تو یہ مجھے پسند ہے مگر یہ گوارا نہیں کہ امت کا یہ حال کر جاؤں کہ وہ ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں۔"
اشتر نے مطالبہ نہ ماننے کی صورت میں کھلم کھلا لڑائی کی دھمکی دی۔ آپ نے فرمایا: "اگر تم نے ایسا کیا تو آئندہ کبھی آپس میں باہم محبت نہیں کر سکو گے، کبھی سب ایک ساتھ نماز نہ پڑھ سکو گے، کبھی اکٹھے جہاد نہیں کر سکو گے۔"
باغیوں کا مطالبہ کیوں نہ مانا گیا؟
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس فتنے کی تفصیل سے بھی آگاہ کر دیا تھا جس کی انتہا، آپ رضی اللہ عنہ کی شہادت تھی۔ رہی یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت نہ چھوڑنے کی اتنی سخت تاکید کیوں کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ گروہ جو آپ کی معزولی کا مطالبہ کر رہا تھا، امت کی رائےِ عامہ کا ترجمان ہرگز نہیں تھا۔ وہ محض امت کو لڑوانا چاہتا تھا۔ اگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ایک ایسے گروہ کے مطالبے پر جو امت کا صحیح نمائندہ نہیں تھا، خلافت چھوڑ دیتے تو قیامت تک یہ روایت بن جاتی کہ جب کسی عادل حکمران، یا دیندار امیر کو گرے پڑے لوگوں کی شورش اور احتجاج سے واسطہ پڑتا اسے عہدے سے مستعفی ہونا پڑتا۔ اسی لیے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بھی باغیوں کا مطالبہ نہ ماننے کی رائے پر جمے رہنے کا مشورہ دیا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: "اگر آپ خلافت چھوڑ دیں تو کیا آپ ہمیشہ دنیا میں رہیں گے؟ اور اگر آپ خلافت نہ چھوڑیں تو کیا یہ لوگ آپ کو قتل کرنے سے زیادہ کچھ کر سکتے ہیں؟ مجھے کوئی گنجائش نظر نہیں آتی کہ آپ اس قمیص کو اتاریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہنائی ہے۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو ایک روایت چل پڑے گی کہ جب بھی کسی جماعت کو اپنا خلیفہ یا امیر پسند نہیں آئے گا وہ اسے معزول کر دیں گی۔"
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے تلوار نہ اٹھانے کا فیصلہ کیوں کیا؟
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا مزید سخت امتحان یہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں شورش پسندوں کے خلاف تلوار اٹھانے کی جگہ صبر و تحمل اور برداشت کا حکم دیا تھا۔ جب لوگوں نے باغیوں کے خلاف مسلح کارروائی کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک وعدہ لے رکھا ہے۔ پس میں اپنی جان کو اسی پر کار بند رکھتے ہوئے صبر کروں گا۔"
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے لڑائی پر اصرار کیا تو خلیفہ ثالث نے فرمایا:
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تابعین میں سے وہ پہلا شخص نہیں بننا چاہتا جو امت کا خون بہائے۔"
حضرت عبد اللہ بن زبیر، کعب بن مالک اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہم جیسے حضرات نے پیش کش کی کہ اجازت ہو تو دشمن کو مار بھگائیں۔ فرمایا: "مجھے اس کی بالکل ضرورت نہیں۔"
ممانعت کی دوسری وجہ یہ تھی کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر کو کشت و خون کا مقام نہیں بنانا چاہتے تھے۔ آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد تھا: "مدینہ سرزمینِ محترم ہے، نہ اس کا درخت کاٹا جائے، نہ اس میں کسی شرانگیزی کا ارتکاب کیا جائے۔ جو اس میں شرانگیزی کرے گا، اس پر اللہ کی، تمام فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت۔"
دیگر شہروں کے مسلمانوں کی بے چینی اور سبائیوں کی غلط خبر رسانی:
خلیفہ کے گھیراؤ کی خبر سن کر مختلف شہروں سے مسلمان مدینہ کی طرف روانگی کی تیاری کرنے لگے۔ بعض لوگ اس مہم کے لیے نکل بھی پڑے تھے۔ اس دوران خبر آئی کہ معاملہ صلح و صفائی سے حل ہو گیا ہے۔ شورش پسند کوفہ، بصرہ اور شام تک غلط خبریں پہنچانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔ انہوں نے مدینہ کی صحیح صورتحال ان شہروں کے وفادار مسلمانوں تک نہ پہنچنے دی۔ چنانچہ امن بحال ہونے کی اطلاع ملنے پر لوگ سفر کا خیال چھوڑ کر اپنے معمولات میں مشغول ہو گئے۔
کھانے اور پانی کی بندش، حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے مدد کی کوششیں:
گرمی شدید ہوئی تو باغیوں نے محاصرے کی سختی بھی بڑھا دی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر اشیائے خورد و نوش اور پانی لے جانے پر بھی پابندی لگا دی۔ پہلے پہل حضرت علی رضی اللہ عنہ کچھ نہ کچھ ضروریات کا سامان پہنچا دیتے تھے مگر پھر باغیوں نے انہیں بھی روک دیا، چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر سے کھانے پینے کا ذخیرہ ختم ہونے لگا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو باغیوں سے کہا: "تمہاری یہ حرکت مسلمانوں جیسی ہے نہ کافروں جیسی۔ رومی اور ایرانی کافر بھی قیدیوں کو کھلاتے پلاتے ہیں۔ اس شخص نے تمہیں کیا نقصان پہنچایا ہے جو تم اس کے گھیراؤ اور قتل پر تلے ہوئے ہو۔"
مگر یہ پکار صدا بہ صحرا ثابت ہوئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ مایوس ہو کر لوٹنے لگے تو اپنا عمامہ کھول کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں پھینک دیا تا کہ انہیں پتا چل جائے کہ علی رضی اللہ عنہ آئے ضرور تھے مگر کچھ نہ کر پائے۔
امہات المؤمنین کی طرف سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی نصرت کی کوشش:
ایک دن ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا ایک خچر پر کھانے پینے کا سامان لاد کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف تشریف لائیں مگر باغیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کی لاج بھی نہ رکھی، ان سے بدتمیزی کی، سامان چھین لیا اور خچر کو اس طرح مار کر بھگایا کہ ام المؤمنین گر کر زخمی ہوتے ہوتے بچیں۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے محاصرے کے بقیہ دن بڑی تکلیف میں گزارے، آپ کے پڑوسی حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ بہت چھپ چھپا کر تھوڑا بہت کھانا پینا اپنے گھر سے آپ کے پاس بھیج دیتے تھے جس سے کچھ نہ کچھ گزارا ہوتا رہا۔ ایک دن ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے نکلیں مگر راستے ہی میں اشتر نخعی نے ان کی سواری کو تماچا مار کر واپس کر دیا۔
ایک دن اشتر نخعی نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کے بارے میں رائے معلوم کرنا چاہی۔ وہ سخت لہجے میں بولیں: "معاذ اللہ! میں مسلمانوں کا خون بہانے اور ان کے خلیفہ کو قتل کرنے اور حرام کو حلال کرنے کی اجازت کیسے دے سکتی ہوں۔"
خلیفہ ثالث کو جان سے زیادہ حج کے انتظامات کی فکر:
حج کے ایام آ گئے تھے۔ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ حجاج کے قافلے کی قیادت کرتے ہوئے مکہ مکرمہ روانہ ہو جائیں۔ انہوں نے عرض کیا: "امیر المؤمنین! اللہ کی قسم، ان شرپسندوں سے جہاد کرنا میرے نزدیک حج سے بڑھ کر ہے۔" مگر خلیفہ ثالث نے قسم دے کر انہیں اس حکم کی تعمیل کا کہا تا کہ حج کا عظیم الشان اسلامی رکن حسبِ معمول پورے اہتمام سے ادا ہو۔
بعض اکابر مدینہ شہر چھوڑ گئے:
حج کے لیے قافلہ تیار ہوا تو ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بھی قافلے کے ساتھ حج پر روانگی کا ارادہ کر لیا تھا، کیوں کہ باغیوں کے تسلط کے بعد آپ کو شدید خطرہ لاحق ہو چکا تھا کہ کہیں یہ شرپسند حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد امہات المؤمنین کو بھی نشانہ نہ بنائیں۔ ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ اور صفیہ رضی اللہ عنہما کی سرِ عام توہین کے بعد یہ خدشہ ہرگز بے بنیاد نہیں تھا۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ جیسے اکابر ان غیر یقینی حالات میں اپنے گھروں میں بند ہو گئے۔
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جیسے سیاسی ماہر بھی اس بحران کی تاب نہ لا سکے اور شدید ندامت کے عالم میں شہر سے روانہ ہونے لگے۔ روانگی سے قبل انہوں نے اہلِ شہر کو مخاطب کر کے کہا:
"مدینہ والو! ہر وہ شخص جو یہاں موجود ہے اور اس کے سامنے عثمان رضی اللہ عنہ قتل ہو گئے تو اللہ اسے ذلت و خواری میں مبتلا کر کے چھوڑے گا۔ لہذا جو شخص عثمان کی مدد کی سکت نہیں رکھتا وہ یہاں نہ رہے۔"
یہ کہہ کر وہ اپنے دونوں بیٹوں عبداللہ اور محمد کے ساتھ مدینہ چھوڑ کر فلسطین چلے گئے۔ حسان بن ثابتؓ اور بہت سے لوگ اسی طرح شہر چھوڑ گئے۔
حضرت زبیرؓ بھی دل برداشتہ ہو کر مدینہ سے باہر چلے گئے، باغی انہیں اپنی تحریک کا سرپرست مشہور کر رہے تھے۔ غالباً حضرت زبیرؓ اس طرح ان بدبختوں سے دور جا کر ان سے اپنی لاتعلقی ظاہر کرنا چاہتے تھے۔
حضرت زبیرؓ کا پیغام:
مدینہ کے نواح میں بنو عمرو بن عوف ایک بڑا قبیلہ تھا جو حضرت زبیرؓ کی قیادت میں حضرت عثمانؓ کے دفاع کے لیے اپنی خدمات پیش کرنے کے لیے تیار تھا، چنانچہ حضرت زبیرؓ نے حضرت عثمانؓ کو پیغام بھیجا:
"میں آپ کا تا بع دار ہوں، آپ چاہیں تو آپ کے گھر آپ کے ساتھ رہوں اور ذاتی حیثیت میں ساتھ دوں۔ فرمائیں تو ابھی میں جہاں ہوں وہیں ٹھہرا رہوں۔ بنو عمرو بن عوف کے لوگ مشورہ کر چکے ہیں کہ یہاں میرے پاس جمع ہو جائیں۔ میں جو کہوں گا وہ کریں گے۔"
حضرت عثمانؓ نے انہیں جواب دیا کہ وہ وہیں مقیم رہیں اور بنو عمرو بن عوف کے وعدے کے ایفاء کا انتظار کریں، شاید اللہ ان کے ذریعے اس قضیے کو نمٹا دے۔
اصلاحی خطاب:
حضرت عثمانؓ نے اس دوران پوری ہمدردی کے ساتھ کوشش کی کہ شرپسندوں میں سے جو لوگ غلط فہمی کا شکار ہو کر اس بغاوت میں شریک ہیں وہ تائب ہو جائیں۔ آپ نے مکان کے بالا خانے پر کھڑے ہو کر ان سے خطاب کیا، جس میں فرمایا: "میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں یہ معلوم نہیں کہ میں نے ہی رومہ کا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کیا۔"
سب نے کہا: "جی ہاں"
آپؓ نے فرمایا: "اس کے باوجود تم نے اس کا پانی مجھ پر کیوں بند رکھا ہے؟"
پھر فرمایا: "تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم نہیں میں نے ہی آس پاس کی زمین خرید کر مسجد نبوی کی توسیع کرائی تھی۔۔۔ بتاؤ میرے علاوہ کسی اور کو جانتے ہو، جسے اس سے پہلے مسجد میں نماز سے روک دیا گیا ہو"۔
یہ باتیں ایسی لرزہ دینے والی تھیں کہ خود باغیوں میں سے کچھ لوگ کہنے لگے:
"ہمیں امیر المؤمنین پر دست درازی نہیں کرنی چاہیے، انہیں موقع دینا چاہیے۔"
خلیفہ ثالث نے حق اور باطل کو دو اور دو چار کی طرح واضح کرنے کے لیے مزید فرمایا:
"تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نہیں جانتے کہ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حرا پہاڑ پر تشریف فرما تھے۔ اچانک پہاڑ لرزنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ٹھوکر مار کر فرمایا: ٹھہر جا۔ تیرے اوپر نبی، صدیق اور شہید کے سوا کوئی نہیں۔ اس دن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تھا۔" یہ حدیث یاد دلا کر دامادِ رسول نے باغیوں پر واضح کر دیا کہ اگر وہ قتل ہوئے تو شہید ہوں گے، جس کا مطلب یہ تھا کہ قتل کرنے والے اہل باطل اور ظالم ہوں گے۔
پھر آپؓ نے فرمایا: "تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تم نہیں جانتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان کے دن جبکہ وہ مجھے مشرکین کے پاس مکہ بھیج چکے تھے، اپنے ہاتھ کے بارے میں فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے"۔
پھر فرمایا: "تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ تبوک کی تنگ دستی کے وقت فرمایا تھا: کون ہے جو اللہ کے راستے میں مقبول خیرات کرے۔ تو میں نے آدھے لشکر کا ساز و سامان مہیا کیا تھا۔"
آپؓ ہر بات قسم دے کر پوچھتے رہے۔ باغیوں اور اہل مدینہ میں سے کئی افراد آپ کی ہر بات کی تصدیق کرتے رہے۔
انہی ایام میں آپ نے ایک موقع پر یہ بھی فرمایا:
"تم مجھے کس جرم میں قتل کرو گے؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسلمان کا قتل صرف تین صورتوں میں جائز ہے: جب وہ شادی شدہ ہوتے ہوئے بدکاری کا مرتکب ہو یا وہ کسی کو ناحق قتل کرے یا مرتد ہو جائے۔ اللہ کی قسم! میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں کبھی بدکاری کی اور نہ اسلام میں۔ میں نے کسی کو قتل بھی نہیں کیا کہ مجھ سے قصاص لیا جائے۔ جب سے اسلام قبول کیا ہے، کبھی دین سے برگشتہ نہیں ہوا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ پھر یہ لوگ مجھے کیوں قتل کرنے پر آمادہ ہیں۔"

