سازشی تحریک کا تیسرا رخ : سانحۂ شہادت
ایام حج کے بعد مدینہ میں اطلاعات آنے لگیں کہ حاجی واپس آ رہے ہیں۔ یہ خبر بھی مشہور تھی کہ کوفہ، بصرہ اور شام سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی امداد کے لیے افواج آنے کو ہیں۔
باغی خلیفہ سے استعفاء لینے میں بھی ناکام ہو چکے تھے۔ اس لیے سازشی منصوبے کے تیسرے رخ کو آزمانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ طے ہوا کہ مکان پر اچانک دھاوا بول کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا جائے۔
اشتر نخعی جیسا صف اول کا بانی بھی سازش کے اس بھیا نک حصے سے متفق نہ تھا، اس نے اُم المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو بھیج کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو ان کے گھر سے کہیں اور منتقل کرنا چاہا مگر دوسرے باغی سرداروں نے اشتر کو جھڑک دیا اور اس تدبیر کو کامیاب نہ ہونے دیا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آخری ایام میں ایک دن بالا خانے سے جھانک کر باغیوں سے آخری بار خطاب کیا جس میں فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر تم نے مجھے قتل کیا تو پھر کبھی اکٹھے نمازیں نہیں پڑھ سکو گے، کبھی مل کر دشمن سے جہاد نہیں کر پاؤ گے، تم اختلافات کی انتہا کی وجہ سے یوں گتھم گتھا ہو جاؤ گے۔“ یہ کہہ کر آپ نے انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر دکھائیں۔
آخری خطبے میں لوگوں سے کہا:
”مدینے والو! تمہیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ اللہ تمہیں میرے بعد اچھی حکومت عطا فرمائے۔“
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نیابت کی طرف واضح اشارے اور آخری پیغام:
ان آخری ایام میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:
”خلافت کا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ملنا مجھے کسی اور کے خلیفہ بننے سے زیادہ پسند ہے۔“
ایک دن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی وساطت سے صحابہ کرام کو پیغام بھیجا:
”میرے نزدیک تم میں سے سب سے امانت دار اور بہتر وہ ہے جو اپنا ہاتھ روک کر رکھے مگر میرے گھر میں جمع کچھ لوگ اپنی جان نچھاور کرنا چاہتے ہیں۔ مجھے ان کا خون بہنا گوارا نہیں۔ آپ حضرات حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں اور ان سے کہیں کہ لوگوں کا معاملہ اب آپ کے حوالے ہے۔ آپ دعا کریں جو اللہ تعالیٰ آپ کے دل میں ڈالیں۔ پھر زبیر رضی اللہ عنہ اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس جائیں، انہیں بھی یہ بات بتا دیں۔“
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اس رائے کو پسند کیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملنے گئے مگر ان کے گھر کے باہر ایک ہجوم تھا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ دروازہ بند کر کے بیٹھے تھے؛ اس لیے ملاقات نہ ہوسکی۔ پھر یہ حضرات، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ انہوں نے یہ رائے سن کر کہا:
”امیر المومنین نے انصاف کی بات کی ہے۔“
اب یہ حضرات، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا یہ پیغام سن کر زار و قطار رونے لگے۔
آخری دن: دشمنوں سے جھڑپ، حفاظتی انتظامات کا خاتمہ:
۱۸ ذوالحجہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا روزہ تھا، اس دن آپ نے بیس غلام آزاد کیے۔ عادت کے خلاف پاجامہ منگوا کر زیب تن کیا کہ کہیں حملے کی زد میں آتے ہوئے ستر نہ کھل جائے، پھر تلاوت میں مصروف ہو گئے۔ گزشتہ رات آپ کو خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: ”عثمان! افطار ہمارے ساتھ کرنا۔“
اس وقت مکان کے دروازے پر صحابہ اور تابعین کا ایک مجمع دامادِ رسول کی حفاظت کے لیے سربکف تھا، جن میں حضرت ابو ہریرہ، حضرت حسن و حضرت حسین، حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت سعید بن العاص رضی اللہ عنہم اور محمد بن طلحہ اور مروان بن حکم جیسے جری افراد شامل تھے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دوہری زرہ پہنے موجود تھے۔
باغیوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔ انہوں نے گھر کے دروازے پر دھاوا بولا تو ان حضرات نے بھرپور دفاع کیا، اس طرح دست بدست لڑائی شروع ہوگئی۔
حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بھی اس وقت زرہ پہنے امیر المومنین کے دفاع کے لیے آن پہنچے اور تیر چلانے لگے۔
مگر اسی دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قسم دے کر اپنے حامیوں کو کہلوایا کہ سب لوگ اندر آجائیں، چنانچہ یہ حضرات واپس آ گئے اور مکان کا پھاٹک بند کر دیا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اب اپنے محافظوں کو حتمی طور پر کہہ دیا کہ وہ پہرہ ختم کر کے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ یہ واضح فرما دینا چاہتے تھے کہ خلافت کو آپ نے اللہ اور رسول کی امانت کے طور پر سنبھالا ہوا ہے، یہ کوئی بادشاہی نہیں جسے سرمائے اور عیش و آرام کے سامان جمع کرنے کے لیے چھینا چھپٹاجاتا ہے اور اپنے مفادات کے لیے عوام کا خون بے در یغ بہایا جاتا ہے۔ آپ نے ساتھیوں سے فرمایا:
”تم میں سے جو بھی میرے حکم کی تعمیل ضروری سمجھتا ہے وہ اپنا ہاتھ روک لے اور اسلحہ رکھ دے۔“
حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما سب سے آخر میں دارِ عثمان سے نکلے:
حکم کی تعمیل میں سب لوگ چلے گئے مگر حضرت حسن رضی اللہ عنہ نہ اٹھے۔ آپ نے قرآن منگوایا اور پڑھنے لگے، اس دوران حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تم کو قسم دیتا ہوں کہ چلے جاؤ۔“ پھر دو آدمیوں کو بلا کر بیت المال کی حفاظت کی ذمہ داری انہیں سونپ دی۔ گویا آخری وقت میں بھی فکر تھی تو امت کے حقوق کی۔
آپ نے ایک ایک کر کے سب کو پہرے سے ہٹا دیا۔ حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما سب سے آخر میں نکلے۔ صحابہ کرام اور تابعین نے آخری وقت میں آپ کے گھر کی حفاظت صرف اس لیے ترک کی تھی کہ وہ آپ کے حکم کے پابند تھے ورنہ وہ دل و جان سے کٹ مرنے کو تیار تھے۔
آپ رضی اللہ عنہ گھر کے مردانہ حصے میں تنہا تلاوت میں مشغول ہو گئے۔ زنان خانے میں اہل و عیال کے سوا کوئی نہ تھا۔ گھر کا دروازہ کھلا پڑا تھا، کوئی بھی اندر آ سکتا تھا۔
محمد بن ابی بکر اور کچھ بلوائیوں کی ندامت:
باغیوں نے مطلع صاف دیکھا تو ایک پستہ قد شخص کو گھر کے اندر کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا۔ وہ بھیڑیے کی طرح دبے پاؤں گیا، اندر جھانک کر دیکھا کہ کوئی پہرہ نہیں ہے۔
اب باغیوں نے بے فکر ہو کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کے لیے ایک شخص کو بھیجا، یہ انہی نادان لوگوں میں سے ایک تھا جو غلط فہمیوں میں مبتلا کیے گئے تھے، اسے یکدم حملہ کرنے کی جرات نہ ہوئی، بس اتنا کہہ پایا:
”آپ خلافت چھوڑ دیں۔ ہم آپ کو کچھ نہیں کہیں گے۔“
آپ نے فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ قمیص کو کیسے اتار سکتا ہوں۔ میں اسی حال میں رہوں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سعادت مندوں کو معزز اور بد بختوں کو ذلیل کر کے دکھائے گا۔“
وہ شخص لرز گیا اور باہر نکل کر کہنے لگا: ”ان کا قتل ہمارے لیے حلال نہیں۔“
ایک اور شخص آیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: ”میرے اور تمہارے درمیان یہ اللہ کا کلام موجود ہے۔“
اس شخص کے ضمیر میں بھی کچھ رمق باقی تھی۔ وہ بھی ہچکچایا اور باہر نکل گیا۔
باغیوں نے یکے بعد دیگرے آدمی بھیجے مگر ہر ایک نادم ہو کر واپس پلٹتا رہا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بیٹے محمد بن ابی بکر بھی غلط فہمی کا شکار ہونے والوں میں سے تھے، وہ اندر آئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں کہا:
”کیا تمہارا یہ غیظ و غضب اللہ کی عطا کے خلاف تو نہیں؟ (کہ اس نے مجھے خلافت کیوں بخشی؟) میں نے تمہارا کون سا جرم کیا ہے، سوائے یہ کہ حق لے کر حق دار کو دیا ہے۔“ پھر کہا: ”تم میرے قاتل نہیں ہو سکتے۔“
ایک روایت میں ہے کہ محمد بن ابی بکر نے آپ کی ڈاڑھی مبارک پکڑ لی تو آپ نے فرمایا:
”تم مجھ سے ایسا برتاؤ کر رہے ہو جو تمہارے والد دیکھتے تو کبھی پسند نہ کرتے۔“
محمد بن ابی بکر یہ سن کر کانپ اٹھے اور ندامت کے مارے اپنا چہرہ کپڑے سے چھپائے ہوئے باہر نکل گئے اور باغیوں کو بھی واپسی کا مشورہ دینے لگے مگر قتل پر آمادہ لوگوں نے ان کی بات پر توجہ نہ دی۔
غرض حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی اس حکمت عملی کے باعث، نادانی کے سبب اس تحریک کا حصہ بن جانے والے بہت سے لوگ دست درازی سے باز آگئے اور تائب ہوتے دکھائی دیے۔تب سازش کے مرکزی کرداروں اور بد بخت ترین افراد نے بلا تاخیر اپنے گھناؤنے عزائم کو خود پایہ تکمیل تک پہنچانے کا فیصلہ کیا۔
سبائیوں کا قاتلانہ حملہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت:
یہ لوگ اندر گھس گئے۔ امیر المومنین گھر کے مردانہ حصے میں اسی طرح اللہ سے لو لگائے ہوئے، اپنی جان سے بالکل بے نیاز ہو کر قرآن مجید سامنے رکھے سورۃ البقرہ کی تلاوت میں مشغول تھے۔ باغیوں میں سے ایک شخص رومان نے لوہے کی بھاری لاٹھی دے ماری۔ عبدالرحمن بن غافقی نے بھی آہنی ہتھیار سے ضرب لگائی۔
پھر ایک شخص جو ’الموت الاسود‘ کہلاتا تھا، آگے بڑھا اور پوری طاقت سے آپ کا گلا گھونٹ دیا۔ آپ تڑپنے لگے، ادھر اس نے تلوار نیام سے نکالی اور آپ پر وار کیا، خون کے چھینٹے قرآن مجید پر پڑے اور آیت فَسَيَكْفِيكَهُمُ اللَّهُ سرخ ہوگئی۔
ایک بد بخت نے نیزے کا وار کیا، آپ کی زبان مبارک سے نکلا: ”بِسْمِ اللَّهِ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللَّهِ“
ساتھ ہی خون کی دھار اُبل پڑی۔
گھر کے زنانہ حصے تک اس ہنگامے کی آوازیں پہنچیں تو اہلیہ محترمہ حضرت نائلہ اور آپ کی بیٹیاں آپ کو بچانے کے لیے چیخ و پکار کرتی ہوئی دوڑ کر آگئیں۔
حضرت نائلہ نے وفاداری کی انتہا کر دی اور بچانے کے لیے آپ پر گر گئیں۔ جب سودان بن حمران نامی ظالم، تلوار کھینچ کر آگے بڑھا، حضرت نائلہ نے تلوار کی دھار پکڑنے کی کوشش کی تو ان کی انگلیاں کٹ گئیں۔
مصر کے ایک شخص نے تلوار کی نوک آپ کے سینے پر رکھ کر اپنا پورا وزن اس پر ڈال دیا۔ تلوار جسم سے آر پار ہوگئی اور دامادِ پیغمبر، خلیفۂ ثالث، ذوالنورین سید نا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روح پاک جسدِ خاکی سے پرواز کر گئی۔
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
۱۸ ذوالحجہ ۳۵ ہجری کے غروبِ آفتاب سے ذرا پہلے کا وقت تھا، سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ افطار کرنا حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کا مقدر تھا۔
یہ سب کچھ چند لمحوں میں ہو گیا۔ اس دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے کچھ غلام جنہیں آپ نے اس روز اس شرط کے ساتھ آزاد کیا تھا کہ وہ ہتھیار نہ اٹھانے کا وعدہ کریں، دوڑتے ہوئے اس طرف آگئے۔ ان میں سے ایک غلام نے سودان بن حمران پر تلوار کا وار کیا اور اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔ دوسرے غلام نے قُتیرہ نامی باغی کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ تیسرے نے کلثوم بن تُجیب نامی ظالم کو جو حضرت نائلہ سے دست درازی اور فحش کلامی کر رہا تھا، مار ڈالا۔ پھر ان میں سے دو غلام وہیں دوسرے باغیوں سے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔
حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت حسن و حسین اور مروان بن حکم، ہنگامے کی آواز سن کر گھر میں واپس گھس گئے اور باغیوں سے لڑتے لڑتے شدید زخمی ہو گئے۔ بعد میں مدینہ کے لوگوں نے ان تینوں کو لہولہان حالت میں اٹھایا۔
باغیوں نے گھر کی ہر چیز لوٹ لی، برتن بھی نہ چھوڑے۔ پھر بیت المال کی طرف لپکے اور اسے بھی لوٹ لیا۔ ان کا یہ پست کردار گواہ تھا کہ وہ دنیا پرست اور فتنہ پرور لوگ ہیں۔
نمازِ جنازہ اور تدفین:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح مدینہ منورہ میں پھیل گئی۔ اسی رات حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت حسن، حضرت زید بن ثابت، حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہم اور عام صحابہ جوق در جوق حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لے آئے۔ جنازے میں شرکت کے لیے مدینہ منورہ کی خواتین اور بچے تک شہر کی جنازہ گاہ میں جمع ہو گئے۔
جنازے میں تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ آخری دیدار کرنے والوں کا ہجوم تھا۔ جنازہ قصر عثمان میں رکھا گیا اور لوگ گروہ در گروہ اندر جا کر زیارت کرتے رہے۔ ایک بد بخت باغی نے یہ ٹھان رکھی تھی کہ وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کوتمانچہ ضرور مارے گا۔ جنازے کی چار پائی کے پاس آ کر اس نے چہرہ مبارک پر دست درازی کرنا چاہی، اسی وقت ہاتھ مفلوج ہو گیا۔
شہید کو غسل نہیں دیا گیا، کپڑے ہی کفن قرار پائے، جنازے کی چار پائی لائی گئی۔ مروان بن حکم نے نمازِ جنازہ پڑھائی، اس کے بعد جنازے کو بقیع کے قبرستان میں لے جایا گیا۔ عفت و حیا کا یہ آفتاب بقیع کی خاکِ پاک میں روپوش ہو گیا۔
یہ بات طے ہے کہ شہادت کے وقت مدینہ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حامی صحابہ اور تابعین بڑی تعداد میں موجود تھے، وہ آپ کے دفاع پر قدرت رکھتے تھے۔ ان کا ہاتھ روکے رکھنا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قسم دینے کی وجہ سے تھا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قسم دینا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے باعث تھا۔ باغی مدینہ منورہ پر اس طرح قابض نہیں تھے کہ صحابہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حامی بالکل بے بس ہوتے۔ اس لیے ضعیف روایات میں منقول یہ باتیں مشکوک ہیں کہ جنازہ بے گور و کفن پڑا رہا، بس چند افراد نے نماز جنازہ پڑھی اور چھپ چھپا کر کسی گمنام گوشے میں تدفین کر دی۔ البتہ یہ ظاہر ہے کہ فتنے، ہنگامے اور خوف کی فضا کے باعث نماز جنازہ میں اتنے لوگ شریک نہیں ہوئے ہوں گے جتنے امن و امان کی حالت میں شریک ہوتے۔ ان ضعیف روایات کو اگر مانا جائے تو اسے اسی قدر پر محمول کیا جائے گا۔
دورانِ تدفین کرامت:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بقیع کے قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ تدفین میں شریک ایک صاحب ابو خنیش کا بیان ہے کہ ہمیں ایک بہت بڑا مجمع اپنے پیچھے آتا دکھائی دیا، ہم حیران ہوئے تو آواز آئی:
”گھبرائیں نہیں، ہم آپ کے ساتھ شریک ہونے آئے ہیں۔“
یہ فرشتے تھے جو جنازے اور تدفین میں شامل ہوئے تھے۔
اس سانحے پر اکابر کے تاثرات:
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ صحیح قول کے مطابق بیاسی سال کی عمر میں ایسی مظلومانہ حالت میں دنیا سے رخصت ہوئے کہ ہر مسلمان کا دل صدمے سے پارہ پارہ ہوا جاتا تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے اللہ! میں تیرے سامنے عثمان کے خون سے اپنی برأت ظاہر کرتا ہوں، میں نے نہ انہیں قتل کیا، نہ کسی کو اس پر آمادہ کیا۔“
یہ بھی فرمایا: ”جس دن عثمان شہید ہوئے اس دن میری عقل مأوف ہوگئی۔ میں اپنے آپ کو اجنبی محسوس کرنے لگا۔“
حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کو پتا چلا تو إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ پڑھا اور فرمایا:
”اللہ حضرت عثمان پر رحمت نازل کرے اور اُن کے خون کا بدلہ لے۔“
بالکل یہی تاثرات حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے ظاہر فرمائے۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
”الٰہی! ان لوگوں کو ندامت میں مبتلا کر اور پھر اپنی پکڑ میں لے لے۔“
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے اس حادثے پر فرمایا: ”اسلام ایک مضبوط قلعے میں محفوظ تھا مگر ان لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر کے اس قلعے میں شگاف ڈال دیا ہے جو قیامت تک بند نہ ہوگا۔“
بدری صحابی حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اب میں مرتے دم تک نہیں ہنسوں گا۔“
حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ عنہ فرماتے تھے:
”اگر احد پہاڑ کسی سانحہ پر ریزہ ریزہ ہوسکتا تو حضرت عثمان کی شہادت پر ہو جانا چاہیے تھا۔“
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذکر آتا تو بے ساختہ کہہ اٹھتے:
”ہائے ہائے!“ اور پھر زار و قطار رونے لگتے۔
ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے اس حادثے کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا:
”جس نے عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں بد گوئی کی، اس پر بھی اللہ کی لعنت ہے۔“
حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مدینہ میں باغیوں کی آمد پر بے بسی اور صدمے کے عالم میں فلسطین چلے گئے تھے، وہاں انہیں جب یہ خبر ملی تو بے اختیار منہ سے نکلا: ”وَا عثمانَاہُ!“
پھر یہ درد بھرے اشعار پڑھے:
يَا لَهْفَ نَفْسِى عَلَىٰ مَالِكٍ وَهَلْ يَصْرِفُ اللُّهْفُ حِفْظُ الْقَدَرُ
أَتُزَعُ مِنَ البَحْرِ اَوْدِي بِهِمُ فَاَعْذِرُهُمْ اَمْ بِقَوْمٍ سَكِرُ
”ہائے!میری جان، مالک پر قربان۔ مگر کیا یہ آہ بکا تقدیر کو بدل سکتی ہے۔ کیا اس طرح میں انہیں (جنگ کی) گرمی سے بچا سکتا ہوں۔ کیا میں ان لوگوں کو معذور سمجھوں یا میری قوم نشے میں دھت تھی۔“
پھر فرمایا: ”اللہ عثمان پر رحم فرمائے اور ان کی مغفرت کرے۔“
ساتھ ہی انہوں نے پیش گوئی کی:
”اب جنگ تو ہوگی کیوں کہ جو کسی دانے کو کریدے وہ اسے پھاڑ کر ہی چھوڑے گا۔“
مطلب یہ تھا کہ جن سازشی عناصر نے اس فتنے کا آغاز کیا ہے وہ آگے مسلمانوں میں با قاعدہ جنگ بھی کروا کے چھوڑیں گے۔
پورے عالم اسلام میں اس المیے پر سوگ کی حالت طاری تھی۔ لوگ زار و قطار روتے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خوبیوں کو یاد کرتے تھے۔ ایک صحابی کلیب جرمی رضی اللہ عنہ جو بصرہ میں رہتے تھے، فرماتے ہیں:
”میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کی خبر پر بزرگوں کو جس قدر روتے دیکھا اس کی کوئی اور مثال کبھی نہیں دیکھی۔ لوگ اتنا رو رہے تھے کہ ڈاڑھیاں بھی آنسوؤں سے تر ہوگئی تھیں۔“
قیصر کا اچانک حملہ اور اللہ کی غیبی مدد:
اس دوران جب کہ مسلمان مرکز خلافت میں ایک شدید بحران سے گزر رہے تھے، قیصر روم، قسطنطین بذات خود عالم اسلام کی سرحدوں پر آدھمکا۔ ایک ہزار بحری جہازوں کے ساتھ وہ فلسطین کے ساحل پر اترنے کو تھا کہ اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد سمندری طوفان اور تیز ہواؤں کی شکل میں نازل ہوئی، جس نے دشمن کی فوج کو تہہ و بالا کر دیا۔ قیصر جان بچا کر بمشکل سسلی پہنچا جہاں خود اس کے درباریوں نے اسے فوج کی تباہی کا ذمہ دار گردانتے ہوئے حمام میں قتل کر ڈالا۔
اگر رومی اس آسمانی آفت کا شکار نہ ہوتے تو شدید خطرہ تھا کہ انتشار کی اس حالت میں کفر کی یلغار سے عالم اسلام پر قیامت ٹوٹ پڑتی۔
قیصر ان حالات میں اتنی زبردست فوج کے ساتھ خود عالم اسلام پر حملہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ یہ الگ بات کہ مؤرخین نے اسے زیادہ اہمیت نہیں دی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ حملہ کئی سوالات پیدا کرتا ہے؟ مثلاً کیا قیصر کو پتا تھا کہ مسلمان کسی سیاسی بحران سے گزر رہے ہیں؟ مدینہ میں بد امنی کی زیادہ سے زیادہ مدت چالیس دن تھی، اتنے سے وقت میں قیصر کو اطلاع بھی پہنچ گئی اور وہ فوج تیار کر کے دو تین ماہ کی مسافت بھی طے کر آیا، یہ کیسے ممکن ہے؟ اگر اسے پہلے سے اندازہ یا علم تھا کہ مسلمانوں میں ایک سیاسی بحران پیدا ہونے والا ہے تو کیا اس سے یہ امکان نہیں نکلتا کہ عالم اسلام کے اس سیاسی بحران کے پیچھے خود قیصر کا بھی ہاتھ تھا یعنی وہ پردہ سازشی عناصر سے تعاون کر رہا تھا؟
یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اتنی بڑی تحریک بہت بڑی مالی امداد کے بغیر نہیں چل سکتی تھی۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں یہ بات معلوم نہیں کی جاسکی کہ باغیوں کے مالی اخراجات کہاں سے پورے ہوتے تھے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ نے مصر میں ایک خفیہ کارروائی کے دوران ایک نصرانی جاسوس کو گرفتار کیا جس سے ایک کروڑ تیس لاکھ دینار (آج کل کے تقریباً دو کھرب ساٹھ ارب روپے) بر آمد ہوئے۔ یہ رقم اسے قیصر روم نے فراہم کی تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شورش پسندوں کو بیرونی قوتیں رقم مہیا کر رہی تھیں اور وہ بھی بے پناہ۔ تاکہ کم عقل لوگوں کے دین و ایمان کو خرید لیا جاسکے۔
قیصر کے اس حملے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ خود فوج کے ساتھ تھا۔ عام مہمات میں بادشاہ خود قیادت نہیں کرتا۔ وہ کسی غیر معمولی فتح یا فیصلے کن جنگ کے لیے ہی نکلتا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ قیصر کو اس وقت کسی بڑی فتح کی پوری توقع تھی۔ اس قدر پر امید ہونے کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتی تھی کہ مسلمان اس وقت اندرونی شورش کا شکار تھے اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے اُس بحران کی خبروں کو دبانے کی کوشش کے باوجود قیصر کو اس کی ساری تفصیلات کا علم تھا، جس کی وجہ یہی ہوسکتی ہے کہ وہ خود سازش کے اصل بانیوں کے ساتھ رابطے میں تھا۔
ان امکانات پر غور کریں تو صاف دکھائی دے گا کہ اندرونی اور بیرونی دشمنوں نے ایک ہی وقت میں دو طرفہ وار کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ سازشی عناصر اندر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور قیصر اس دوران سرحدوں پر فوج لے آیا۔
اسلام کا محافظ اللہ ہے۔ اس نے اپنی غیبی قدرت کا اظہار کر کے دکھا دیا کہ وہ اپنے دین کی حفاظت کے لیے کسی کا محتاج نہیں۔ اس کا حکم ہوا تو قیصر کا لشکر سمندری طوفان کی نذر ہو گیا اور چراغِ اسلام کو مکمل طور پر بجھانے کی آرزو ابلیس اور اس کے کارندوں کے دل کی پھانس بن کر رہ گئی۔
قاتل کون کون تھے؟
یہ بات تو ظاہر ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے والے عام باغی نہیں تھے بلکہ وہ لوگ تھے جن کے دل پتھر سے زیادہ سخت تھے۔ یہ بات بھی ثابت ہے کہ قتل کے لیے حملہ کرنے والے کئی افراد تھے جنہوں نے مختلف ہتھیاروں سے آپ رضی اللہ عنہ کو مارا مگر عجیب بات یہ ہے کہ آپ پر جان لیوا وار کرنے والے زیادہ تر افراد کے احوال و کوائف، قبیلہ، سکونت وغیرہ کی کوئی تفصیل نہیں مل پاتی۔
مؤرخین اور رواۃ اس بارے میں خاموش ہیں۔ دراصل اس بارے میں روایات اتنی مختلف ہیں کہ حد نہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قتل کے فوراً بعد سبائی گروہ نے جان بوجھ کر فرضی واقعات اور غیر معروف ناموں کی روایتیں بکثرت پھیلا دیں تاکہ حقیقت بالکل چھپ جائے۔
اس بارے میں واقدی کی روایت سب سے مشہور ہے جو سند اور متن دونوں لحاظ سے بہت کمزور ہے۔ اس میں تین افراد کے نام لیے گئے ہیں:
۱۔ کنانہ بن بشر تُجیبی
۲۔ سودان بن حمران
۳۔ عمرو بن الحَمِق
واقدی کے مطابق پہلے کنانہ بن بشر نے لوہے کی وزنی چیز مار کر سر پھاڑ دیا تھا۔ پھر سودان نے قاتلانہ وار کیا تھا اور آخر میں عمرو بن الحمق نے سینے پر چڑھ کر نو زخم لگائے تھے۔
یاد رکھیے عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ ایک مشہور صحابی تھے۔ واقدی کی اس کمزور روایت اور ابو مخنف کذاب کی ایک روایت کے سوا عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں شریک ہونا کہیں مذکور نہیں۔
ایسی فاسد روایات سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں کسی صحابی کی شرکت ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی۔ پس حضرت عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ کو قاتلوں میں شمار کرنا سراسر تہمت ہے۔
قاتلانہ حملے کی قیادت کس نے کی تھی؟
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں ایک انتہائی پراسرار شخص کا ذکر آتا ہے جسے "الموت الاسود" کہا جاتا تھا۔ غالباً یہ اس کا خفیہ نام تھا جو اسے اس کی بے رحمی اور سخت دلی کی بنا پر دیا گیا ہو گا۔ مگر وہ حقیقت میں کون تھا؟ اس کی حتمی تحقیق تو ممکن نہیں مگر ہم کچھ کچھ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اتنی بات طے ہے کہ:
1. وہ مصر سے آیا ہوا ایک سیاہ فام آدمی تھا جس نے قاتلانہ حملے کی قیادت کی تھی اور شہادت کے بعد دونوں ہاتھ بلند کر کے کارروائی کی تکمیل کا اعلان کیا تھا۔
2. اس کے دو لقب تھے: "الموت الاسود" یعنی سیاہ موت۔ اور "جبلہ" یعنی کالا آدمی۔
3. اس کا نسبی تعلق بنی سدوس سے تھا۔
اب اگر غور کریں تو یہ حیرت انگیز بات سامنے آئے گی کہ یہ تمام علامات سازش کے مرکزی کردار، منافقین کے سردار عبداللہ بن سبا پر منطبق ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ وہ رنگت کے لحاظ سے سیاہ فام تھا۔ اس زمانے میں مصر میں تھا۔ اس کی کنیت "ابن السوداء" (کالی عورت کا بیٹا) تھی۔ یہ لفظ قاتل کے لقب "الموت الاسود" سے ملتا جلتا ہے۔
قاتل کا ایک لقب "جبلہ" تھا، یہ نام یمن کے یہودی رکھا کرتے تھے۔ اور عبداللہ بن سبا بھی یمن کا یہودی تھا۔ پھر اس حقیقت کو بھی ساتھ ملائیں کہ بنی سدوس یمنی قبیلے کہلان بن سبا کی اولاد تھے۔ اور عبداللہ بن سبا بھی یمنی تھا۔ اس سے بھی ابن سبا کی طرف سراغ جاتا نظر آتا ہے۔
سب جانتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف سب سے زیادہ اشتعال پھیلانے والا اور ان سے شدید ترین بغض رکھنے والا عبداللہ بن سبا تھا۔ ایک غیر ملکی ایجنٹ ہی ایسا سنگدل اور بے رحم ہو سکتا ہے کہ اس بے دردی کے ساتھ ایک بیاسی سالہ بزرگ انسان کو قتل کر ڈالے۔ قتل کے لیے بھیجے جانے والے دوسرے لوگ اندر آ کر شرمسار ہو رہے تھے اور چپ چاپ واپس جا رہے تھے، ابن سبا پورے ہنگامے کے دوران پس منظر میں رہا مگر ظاہر ہے کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھا تھا بلکہ وہ اپنا کھیل خفیہ انداز میں، دوسروں کو آگے رکھ کر کھیلتا رہا تھا۔ ممکن ہے کہ اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شروع میں دوسروں کے ہاتھوں قتل کرانے کی کوشش کی ہو مگر جب دیکھا ہو کہ اس فرشتہ سیرت و نورانی صورت بزرگ پر کسی کا ہاتھ نہیں اٹھتا تو کیا بعید ہے کہ وہی اپنے چند بد بخت ترین ساتھیوں کو لے کر اندر گھس گیا ہو اور قاتلانہ کارروائی خود انجام دی ہو۔ اس کے لیے کوئی مشکل نہ تھا کہ اس مہم میں اپنا اصل نام چھپا کر کوئی اور لقب اختیار کر لیتا۔ ممکن ہے اسی لیے شہادت عثمان رضی اللہ عنہ کی تاریخی روایات میں اس کا نام نہیں آ سکا ہو، مگر کئی سراغ اس کی طرف جاتے دکھائی دیتے ہیں۔
کیا عبداللہ بن سبا کا وجود ایک مفروضہ ہے؟
دور حاضر میں مستشرقین، سیکولر تاریخ دانوں اور شیعہ مورخین کی اکثریت ابن سبا کے وجود سے انکار کر رہی ہے۔ ان کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ابن سبا کا ذکر صرف سیف بن عمر کی روایات میں ملتا ہے جو نہایت ضعیف راوی ہے، حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ ابن سبا کے کرتوتوں کا ذکر تاریخ کی صحیح اور معتبر روایات میں بھی ہے۔ دیکھئے:
1. حافظ ابن حجرؒ ثقہ راویوں اور صحیح سند کے ساتھ نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے عبداللہ بن سبا کا ذکر کیا گیا تو وہ بولے مجھے اس خبیث کالے کلوتے سے کیا غرض۔
2. ابن عساکر بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن سبا کو جلاوطن کیا اور اس کے پیروکاروں کو جو "سبئیہ" کہلاتے تھے، جلا کر قتل کیا۔
3. حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پتا چلا کہ ابن سبا انہیں حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فوقیت دے رہا ہے تو اسے قتل کرنے کے لیے تلوار منگوائی۔
4. ابن عساکر، امام شعبی سے جو سن 20 ہجری میں پیدا ہوئے تھے، روایت کرتے ہیں کہ سب سے پہلے جھوٹ کا پرچار کرنے والا عبداللہ بن سبا ہے۔ یہ روایت حسن ہے۔
5. شیعہ علماء کا ابن سبا کے وجود سے انکار کرنا فضول ہے کیوں کہ خود صدیوں پہلے ان کے اکابر اس کا اقرار کر چکے ہیں۔ اہل تشیع کے امام علامہ سعد بن عبداللہ قمی (م 329ھ) لکھتے ہیں:
"عبداللہ بن سبا پہلا شخص ہے جس نے حضرت علی کی امامت اور دنیا میں ان کی واپسی کا عقیدہ پیش کیا۔"
6. رجال پر شیعوں کی مشہور ترین کتاب 'رجال کشی'' میں جو چوتھی صدی ہجری میں محمد بن عمر الکشی نے لکھی، درج ذیل روایت منقول ہے:
"عبداللہ بن سبا یہودی تھا، اس نے اسلام قبول کیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اظہارِ محبت کیا، جب وہ یہودی تھا تو یوشع بن نون کو حضرت موسیٰ کا وصی کہتا تھا، اسلام لایا تو یہی عقیدہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے پیش کیا۔ وہ پہلا شخص ہے جس نے حضرت علی کی امامت کے لازم ہونے کا پرچار کیا، ان کے دشمنوں سے بے زاری ظاہر کی، ان کے مخالفین کے پردے کھولے اور ان کو کافر قرار دیا۔"
7. تیسری صدی ہجری کے شیعہ عالم نوبختی کا بیان ہے:
"عبداللہ بن سبا ان لوگوں میں سے تھا جنہوں نے ابوبکر و عمر و عثمان اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی کردار کشی کی۔"
غرض اہل سنت اور اہل تشیع دونوں کی معتبر کتب عبداللہ بن سبا کے کرتوتوں کی گواہ ہیں۔ اس کے بعد بھی کوئی شخص اس کے وجود سے انکار کرتا ہے تو اسے سنیوں اور شیعوں کی تمام تواریخ سے یکسر دست بردار ہو جانا چاہیے۔

