Hazrat Ali RA ke Daur me Islah e Aqaid aur Sabai Fitna

اصلاحِ عقائد

        خوارج کی سرکوبی کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے تو پھر عمر کے باقی دو برس وہیں گزارے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے نزدیک اب اہم ترین ہدف امت کی ایمانی، اعتقادی، علمی اور اخلاقی تربیت تھا۔


        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان نادان دوستوں کی طرف سب سے زیادہ توجہ دی جو عبد اللہ بن سبا کی تحریک سے متاثر ہو کر صراطِ مستقیم سے ہٹتے جا رہے تھے۔ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں مبالغہ آرائی کرتے، انہیں تمام انسانوں سے افضل اور انبیائے کرام کی طرح معصوم تصور کرتے۔ بعض افراد تو انہیں اللہ کے برابر کرنے لگے تھے۔ ابن سبا نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے وصی رسول اللہ ہونے کا نظریہ عام کیا تھا جو بعد میں شیعوں کا عقیدہ امامت بن گیا، اس کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی نبی کے نائب، وارث اور جائز حکمران تھے اور ان کے بعد امامت و حکومت انہی کی اولاد میں چل سکتی تھی، باقی سب خلفاء غاصب تھے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس گمراہی کی تردید کرتے ہوئے ایک بار فرمایا:

        "لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حکومت کے بارے میں ہمیں کوئی وصیت نہیں فرمائی، بلکہ ہم نے خود اپنی رائے سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مانا، پس وہ سیدھے چلے اور ثابت قدم رہ کر چلے، پھر انہوں نے اپنی رائے سے عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ مقرر کیا وہ ثابت قدم اور سیدھے رہے تو دین عروج پا گیا۔ مگر اب ایسے لوگ آئے ہیں جو اس دنیا کے طالب ہیں۔"

        ایک موقع پر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

        "ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور ارشاد فرمایا: 'تمہاری ایک بات عیسیٰ بن مریم جیسی ہے کہ یہودیوں نے تو ان سے اس قدر بغض رکھا کہ ان کی والدہ پر بہتان باندھ دیا اور نصرانیوں نے ان سے محبت کی وجہ سے انہیں اس مقام پر مان لیا جو ان کا نہ تھا (یعنی انہیں خدا کا بیٹا کہا)۔'"

        یہ حدیث سنا کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

        "لوگو! غور سے سنو! میرے بارے میں انتہا پسندی کی وجہ سے دو قسم کے لوگ گمراہ ہوں گے: ایک وہ محبت اور تعریف کرنے والے لوگ جو میری ایسی مدح و توصیف کریں گے جو میرے لیے درست نہیں۔ دوسرے وہ نفرت کرنے والے لوگ جن کی دشمنی انہیں مجھ پر اِلتزام تراشی کے لیے آمادہ کرے گی۔

        یاد رکھو! میں نہ پیغمبر ہوں، نہ مجھ پر وحی آتی ہے۔ بس میں تو اپنی استطاعت کے مطابق کتاب و سنت پر عمل کرتا ہوں؛ لہذا میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مطابق تمہیں جو حکم دوں اس کی تعمیل کرنا تمہاری لیے ضروری ہے، چاہے تم پسند کرو یا ناپسند۔"

        جاہل عقیدت مندوں میں یہ خیال پھیل چکا تھا کہ آپ کے پاس وحی سے حاصل شدہ ایسے علوم ہیں جو دنیا میں کسی کو نہیں دیے گئے۔ آپ اس کی تردید کرتے ہوئے فرماتے تھے:

        "اللہ کی قسم! ہمارے پاس قرآن اور احادیث کے اس نوشتے کے سوا کچھ نہیں جو ہم تمہیں پڑھ کر سناتے ہیں۔"

        سبائیوں نے مشہور کر رکھا تھا کہ آپ رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما کے مخالف رہے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ایسے غلط خیالات سے اپنی بیزاری کا کھل کر اظہار اس طرح فرمایا:

        "اللہ کی  پناہ کہ میں ان بزرگوں کے بارے میں خوش عقیدگی کے سوا کوئی بات دل میں رکھوں۔"

        یہی نہیں بلکہ آپ نے باقاعدہ یہ اعلان کیا:

        "خبردار! اگر مجھے اطلاع ملی کہ کوئی مجھے ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما پر فضیلت دے رہا ہے تو میں اسے اتنے کوڑے لگاؤں گا جتنے جھوٹی تہمت لگانے والے کو لگائے جاتے ہیں۔" (یعنی اسی کوڑے جو حد قذف میں مقرر ہیں)

        بد عقیدگی کی پھیلانے میں سب سے بڑا کردار عبد اللہ بن سبا کا تھا مگر یہ شخص اپنے خلاف کوئی ثبوت نہیں چھوڑتا تھا۔ ایک بار حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گواہ مل گئے کہ وہ حضرت ابو بکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ عنہما کو برا بھلا کہہ رہا ہے، آپ نے اسے بلوایا اور قتل کر دینا چاہا مگر رفقاء نے درگزر کا مشورہ دیا تب آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

        "اچھا مگر میں جہاں رہوں یہ ہرگز وہاں نہ رہنے پائے۔"

        عبد اللہ بن سبا نظروں میں تو آ ہی چکا تھا۔ اس نے چاہا کہ کسی سزا کا شکار ہونے سے پہلے خود ہی کوئی ہنگامہ خیز کام کر جائے۔ قرائن سے واضح ہوتا ہے کہ اس سے پہلے وہ بعض خصوصی مریدوں کو اس حد تک گمراہ کر چکا تھا کہ وہ نہ صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ کو خدا، خالق اور قادرِ مطلق ماننے لگے تھے بلکہ اس عقیدے کا اعلان کرتے ہوئے قتل ہو جانا شہادتِ عظمیٰ تصور کرتے تھے۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک دن خطبہ دینے منبر پر تشریف فرما تھے کہ اچانک عبد اللہ بن سبا کھڑا ہو گیا اور چلایا:

        "جناب! آپ دابۃ الارض ہیں (یعنی قربِ قیامت کی نشانی کے طور پر نکلنے والے جانور ہیں۔)

        حضرت علی رضی اللہ عنہ چپ رہے تو وہ بولا: "حضور! آپ بادشاہ ہیں۔"

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جھلا کر کہا: "اللہ سے ڈرو!"

        مگر عبد اللہ بن سبا بولتا چلا گیا: "آپ نے ہی مخلوق کو  پیدا کیا ہے، آپ ہی رزق تقسیم کرتے ہیں۔"

        حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اب برداشت نہ ہوا۔ حکم دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔

        مگر مجمعے میں موجود اس کے مرید جمع ہو کر ہنگامہ کرنے لگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خیر خواہوں نے کہا:

        "اگر آپ اسے یہاں شہری آبادی میں قتل کرائیں گے تو اس کے عقیدت مند بغاوت کر دیں گے۔"

        یہ سن کر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "لوگو! کیا تم مجھے اس سیاہ فام شخص کو سزا دینے پر مجبور نہیں پاتے۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ باندھا ہے۔ اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ ایک جماعت اس کے قصاص کی دعوت لے کر میرے خلاف بغاوت برپا کرتی رہے گی، تو میں ایسے لوگوں (کی لاشوں) کے ڈھیر لگا دیتا۔"

        اس اعلان اور وضاحت کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے ابن سبا کو شہر بدر کرنے کا حکم دیا، چنانچہ اسے سباطِ مدائن بھیج دیا گیا۔

اعلانیہ کفر کے مرتکب سبائیوں کو سزائے موت:

        اس واقعے کے کچھ دنوں بعد ابن سبا کے کچھ چیلے مسجد کے دروازے پر نعرہ بازی کرنے لگے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو بلوا کر ڈانٹا اور کہا: "تم ہلاک ہو جاؤ، تمہارا مقصد کیا ہے؟"

        وہ بولے: "آپ ہمارے رب ہیں، آپ ہمارے خالق اور رازق ہیں۔"

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "دفع ہو جاؤ، میں علی بن ابی طالب ہوں۔ میرا باپ جانا پہچانا ہے، میری ماں جانی پہچانی ہے۔ میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا چچازاد بھائی ہوں۔" مگر وہ بدستور اسی عقیدے پر اڑے رہے۔

        آپ نے فرمایا: "تمہارا ستیاناس ہو، میں تمہاری طرح ایک بندہ ہوں، تمہاری طرح کھاتا پیتا ہوں، اگر میں اللہ کی اطاعت کروں گا تو وہ چاہے گا تو مجھے ثواب دے گا اور اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو مجھے اس کے عذاب کا خوف ہے۔ تم اللہ سے ڈرو اور باز آ جاؤ۔"

        مگر یہ سب نصیحتیں بے سود رہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں مزید دو دن اصلاح کا موقع دیا مگر وہ نہ مانے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اب میں تمہیں بدترین طریقے سے قتل کروں گا۔"

        یہ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہ نے کوفہ کی جامع مسجد اور اپنی رہائش گاہ کے درمیان گہری خندقیں کھدوا کر ان میں آگ بھڑکانے کا حکم دیا، پھر ان مرتدوں کو پکڑ کر اس آگ میں پھینک دیا گیا۔

        زندہ اور ارتداو کی اس سنگین ترین شکل کو کہ بندے کو خدا اور معبود بنا دیا جائے، حضرت علی رضی اللہ عنہ عبرت ناک سزا کے ذریعے بالکل مسدود کر دینا چاہتے تھے۔ یہ ان کا اجتہادی فیصلہ تھا جس میں وہ اپنی جگہ برحق تھے۔

شرکیہ رسوم اور بدعات کا سدِباب:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ نے شرک و بدعت اور نظریاتی  کج روی کے ہر دروازے کو مسدود کرنے کے لیے ارشاد و نصائح کا سلسلہ جاری رکھا۔ شرکت و بدعت کی بیخ کنی کے لیے آپ رضی اللہ عنہ نے قبروں کو اونچا بنانے کی رسم کو ممنوع قرار دے دیا جو بعض جاہلوں نے ازسرِنو شروع کر دی تھی۔ یہ بھی  پتا چلا کہ بعض لوگ زندیق ہیں جو اسلام کا دعویٰ کرنے اور مسلمانوں جیسے تمام حقوق وصول کرنے کے باوجود خفیہ طور پر گھروں میں بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔

        آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو الہَیّاج اسدیؒ اور بعض دوسرے رفقاء کو اس مہم پر مامور کرتے ہوئے فرمایا:

        "میں تم کو وہ کام سونپ رہا ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سونپا تھا۔ وہ یہ کہ کوئی بھی مجسمہ دیکھو تو اسے توڑ ڈالو اور کوئی بھی اونچی قبر دکھائی دے تو اسے زمین کے برابر کر دو۔"

        یوں مجسموں کی توڑ پھوڑ اور اونچی قبروں کو مسمار کرنے کے ذریعے شرک کے دروازے بند کرنے کی کوشش کی گئی۔ اسی طرح بتوں کو پوجنے والے زندیقوں کو بھی پکڑوایا گیا اور جب وہ تائب نہ ہوئے تو انہیں قتل کر دیا گیا۔

اپنوں سے شکایات:

        آپ رضی اللہ عنہ کی افواج اور آپ کے گرد جمع ہونے والے رؤساء میں زیادہ تر لوگ اہل عراق و فارس تھے، اگرچہ ان میں نیک و صالح اور بہادر اور ایثار  پیشہ رجال کار بھی تھے مگر اہل شام سے مسلسل نبردآزمائی نے انہیں تھکا دیا تھا اور ان میں سے بہت سے اپنی سرحدوں کی حفاظت سے بھی جان چرانے لگے تھے۔ اس کے برعکس کچھ لوگ ایسے تھے جو ضرورت سے زیادہ شدت پسند تھے اور وہ آپ رضی اللہ عنہ کے ان مدبرانہ اقدامات کو جن میں سیاسی لچک پائی جاتی تھی، بے دینی اور منافقت سے تعبیر کرتے تھے۔ خارجیت اور سبائیت کو اسی شدت پسندی کی وجہ سے  پنپنے کا موقع ملا تھا۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بعض خطبات اور ملفوظات میں ایسے لوگوں سے سخت بیزاری ظاہر ہوتی ہے جو خاندانِ رسالت سے محبت و عقیدت کا زبانی کلامی دم تو بھرتے تھے مگر عملی طور پر اطاعت کا مظاہرہ کرنے اور آپ رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی پر بھروسہ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ چاہتے تو ان پر جبر و تشدد کر سکتے تھے مگر آپ کو شریعت کا لحاظ تھا۔

        آپ فرماتے تھے: "میں خوب جانتا ہوں کہ تمہاری اصلاح کس طرح ہوسکتی ہے مگر اللہ کی قسم! میں تمہاری اصلاح کے لیے اپنے آپ کو نہیں بگاڑ سکتا۔"

        آپ رضی اللہ عنہ یہ بھی فرماتے تھے:

        "لوگ اپنے حکمرانوں کے ظلم سے ڈرتے ہیں مگر میرا یہ حال ہے کہ میں اپنی رعایا کے ظلم سے ڈرتا ہوں۔"

        ۳۹ ھ میں جب اہل شام نے سرحد پر حملہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سرحدوں کے دفاع کی ترغیب دیتے ہوئے جو تقریر کی تھی، وہ آپ کے احساسات کی آئینہ دار ہے۔

        آپ رضی اللہ عنہ نے اس خطبے میں فرمایا:

        "اے اہل کوفہ! جب تم یہ سنتے ہو کہ شام کے ہراول دستوں میں سے کسی دستے نے حملہ کر کے تمہارے کسی شہر کا راستہ بند کر دیا ہے تو تم میں سے ہر شخص خوف کے مارے اپنے گھر میں یوں گھس جاتا ہے جیسے گوہ خطرے کے وقت اپنے بل میں یا بجو اپنے بھٹ میں چھپ جائے۔ واقعی وہ شخص دھوکے میں ہے جسے تم دھوکہ دو۔ جو شخص تمہارے ذریعے کامیابی حاصل کرنا چاہے، اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی شخص ٹوٹی ہوئی تیر چلائے۔ تم میں ایسے آزاد مرد نہیں جو کسی کی فریاد سن لیں۔ نہ تم میں ایسے معتبر بھائی ہیں جن کی اعانت پر بھروسا کیا جا سکے۔"

اختلاف سے نفرت:

        حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شدید تمنا تھی کہ امت متحد و متفق ہو جائے اور مسلمان ہر قسم کے اختلافات سے محفوظ رہیں۔ اس لیے آپ کی کوشش یہی رہتی تھی کہ حتیٰ الامکان ایسی بات کی جائے جس پر سب کا اتحاد ہو جائے۔ جب تک بات ناگزیر حد تک نہ پہنچ جاتی، آپ اختلاف نہ کرتے۔ دوسروں کو ان کی اجتہادی رائے پر چلنے دیتے۔ اپنے  پیشرو خلفائے ثلاثہ کی اتباع کو راہِ نجات اور وسیلۂ اتحاد تصور کرتے۔ آپ اہل فِقہ واجتہاد سے فرماتے تھے:

        "تم فیصلے کرتے رہو، جیسا کہ پہلے کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ لوگ ایک بات پر اجماع کر لیں یا میں اسی حال میں مر جاؤں جیسا کہ مجھ سے پہلے میرے رفقاء وفات پا گئے ہیں۔"

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic