دورِ یزید اور سفرِ عراق: حضرت حسینؓ کے مؤقف کا حقیقی پس منظر

دورِ یزید بن معاویہ

رجب ۶۰ھ۔۔۔۔۔۔تا۔۔۔۔۔۔ ربیع الاول ۶۴ھ
اپریل ۶۸۰ء۔۔۔۔۔۔تا۔۔۔۔۔۔ اکتوبر ۶۸۳ء

        امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا جانشین چونتیس سالہ یزید، ان کی وفات کے وقت حمص کے مضافاتی قلعے "حوارِین" میں تھا۔ اس سانحے کی خبر سن کر وہ تیزی سے دارالخلافہ آیا تب تک حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی تدفین بھی ہو چکی تھی۔

یزید کا پہلا خطبہ:

        یزید نے مملکت کے عمائد اور اہل دمشق سے تعزیتی خطاب کرتے ہوئے حمد وثنا کے بعد کہا:

        "معاویہ رضی اللہ عنہ بلا شبہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے تھے، اللہ نے ان پر انعام واکرام کیا اور پھر اپنے پاس بلا لیا۔ وہ بعد والوں سے بہتر اور پہلے والوں سے فروتر ہیں۔ میں انہیں اللہ کے یہاں معصوم قرار نہیں دیتا کہ وہی ان کا حال بہتر جانتا ہے۔ اگر ان کی بخشش ہوگی تو اللہ کی رحمت سے، اور اگر پکڑ ہوگی تو ان کی اپنی لغزش کی وجہ سے۔ ان کے بعد ذمہ داری مجھے سونپی گئی ہے۔ میں نے خود اس کی کوشش نہیں کی مگر جو اللہ کو منظور ہوتا ہے وہ ہوتا ہے۔ آپ اللہ کا ذکر اور استغفار کریں۔"


بیعت کے لیے قاصدوں کی روانگی:

        امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے آخری ایام میں کوفہ میں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ، بصرہ میں عبیداللہ بن زیاد اور مدینہ میں ولید بن عتبہ گورنر تھے۔ یزید نے اس وقت انہی کو برقرار رکھا۔ تخت نشینی کے بعد اس نے پورے عالم اسلام میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی اطلاع اور اپنی بیعتِ خلافت کے لیے قاصد اور نمائندے روانہ کر دیے۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کیوں نہ کی؟

        حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی ہی سے یہ موقف تھا کہ موروثی حکومت سے اجتناب کرتے ہوئے خلفائے راشدین کے دور کی وسیع البنیاد شورائیت کو اسی شکل میں واپس لانا چاہیے اور امت کی زمامِ اقتدار افضل فرد کے حوالے ہونی چاہیے۔ اسی لیے انہوں نے یزید کی ولی عهدی کی بیعت سے بھی اجتناب کیا تھا۔ ان دونوں کا یزید کی بیعت کر لینا رخصت کے زمرے میں تو آ سکتا تھا مگر عزیمت کی بات یہی تھی کہ اس نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی جس کے سبب آگے چل کر متعدد مفاسد پھیلنے کا اندیشہ تھا۔

        اس کے لیے پہلا درجہ یہ تھا کہ یہ حضرات اپنے اختلافِ رائے پر برقرار رہ کر اسلامی سیاست کے صحیح مفہوم کو اجاگر کرتے، بیعت کر کے یزید کے حلقہ بگوشوں میں شامل نہ ہوتے۔

کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ شورش پر تلے ہوئے تھے؟

        قرائن سے محسوس ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سوچ اور فکر ابتدا میں اتنی ہی تھی کہ وہ یزید سے  بیعت نہ کریں اور اپنی دیانت دارانہ رائے کے خلاف کسی قول و فعل کے مرتکب نہ ہوں۔ ایسی کوئی صحیح روایت نہیں ملتی جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ یہ حضرات کوئی شورش برپا کرنے پر تلے تھے۔ ورنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی زندگی میں ہی اہل کوفہ کے خطوط ملنے لگے تھے جن میں انہیں کوفہ آ کر امت کی قیادت کی دعوت دی جاتی رہی تھی مگر کسی مستند روایت سے یہ ثابت نہیں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اس دعوت کو سراہا ہو بلکہ قرائن بتاتے ہیں کہ یزید کی تخت نشینی پر بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کوفہ جانے کا فیصلہ نہیں کیا تھا اور شاید وہ عمر بھر مدینہ میں ہی رہتا پسند کرتے تھے اور ایک فتوے کی حیثیت سے اپنی رائے پر قائم رہنا کافی سمجھتے۔ مگر جب انہیں جبری بیعت سے بچنے کے لیے گھر سے بے گھر ہونا پڑا تو اس وقت وہ کوفہ جانے کے امکان پر غور کیے بغیر نہ رہ سکے۔

 یزید کی پہلی سیاسی غلطی:

        یزید کے لیے مناسب یہ تھا کہ وہ ان حضرات کو اپنی بیعت پر مجبور کرنے کی کوشش نہ کرتا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں بہت سے حضرات کو غیر جانب دار رہنے دیا اور ان کے احترام میں کوئی کمی نہ کی۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی یزید کی بیعت و ولی عهدی نہ کرنے والے اکابر کو ان کے ضمیر کے خلاف چلنے پر مجبور نہیں کیا۔ یہ یزید کی پہلی سیاسی غلطی تھی کہ اس نے ان بزرگوں پر فوری بیعت کے لیے دباؤ ڈالا اور اپنے والدِ گرامی کی وہ وصیت نظر انداز کر دی جس میں اسے شرفاء کے ساتھ سختی نہ برتنے اور اپنی رائے پر اصرار نہ کرنے کی تاکید کی گئی تھی۔

        اس وصیت کو فراموش کر کے یزید سے غلط فیصلہ سرزد ہوا جس نے مزید دشوار حالات کو جنم دیا جن سے نمٹنے میں یزید نے مزید غلط فیصلے کیے اور یوں حالات قابو سے باہر ہوتے چلے گئے۔

        مستند روایت کے مطابق یزید نے تخت نشین ہونے کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام زُرَیق کو مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ کی طرف یہ حکم دے کر بھیجا کہ وہ حسین بن علی رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلوائے اور ان سے بیعت لے۔ یہی قاصد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر بھی لے کر جا رہا تھا۔

        قاصد جب مدینہ پہنچا تو رات ہو چکی تھی۔ اس نے دربان سے اصرار کر کے گورنر ولید بن عتبہ سے فوری ملاقات کی اور یہ اہم  پیغام دے دیا۔

عبداللہ بن زبیر اور حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی مدینہ سے مکہ روانگی:

        ولید بن عتبہ نے اسی وقت پہلے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قصرِ امارت میں بلوایا اور بیعت کا مطالبہ کیا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا:

        " نہ تو یہ بیعت کا وقت ہے اور نہ مجھ سا آدمی یوں تنہائی میں بیعت کرسکتا ہے۔ آپ کل منبر پر بیٹھ کر بیعت لیں۔"

        اسی دوران حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے۔ چوں کہ ولید بن عتبہ نرم دل انسان تھا اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی دلیل سے مطمئن ہو چکا تھا اس لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر بھی بیعت کے لیے زور نہ ڈالا اور اس وقت دونوں حضرات کو جانے دیا۔ البتہ نگرانی  کے لیے کچھ آدمی پیچھے بھیج دیے۔ یہ حضرات حکومت کا رویہ دیکھ کر اندازہ لگا چکے تھے کہ بیعت نہ کرنے کی صورت میں ان پر سختی کی جائے گی جبکہ بیعت کرنا ان کے ضمیر کے خلاف تھا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ رات کے آخری  پہر شہر سے نکل کر ایک غیر معروف راستے سے مکہ روانہ ہوگئے۔

        ولید کو صبح ان کی عدم موجودگی کا علم ہوا تو تیس یا اسی سوار ان کے تعاقب میں روانہ کیے مگر یہ ہاتھ نہ آئے۔

        ایک دو دن بعد حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی خاندان سمیت مدینہ سے مکہ کی طرف کوچ کرنے کی تیاری کی۔

        ان حضرات کے مکہ جانے کی وجہ یہ تھی کہ مدینہ شام سے نسبتاً قریب تھا۔ مکہ اس سے دوگنا مسافت پر اور پہاڑوں میں گھرا ہوا تھا۔ اس لیے یہاں حکام کا ان پر گرفت کرنا مشکل تھا۔ پھر حرم کی تقدس کے  پیش نظر حکومت سے توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ وہاں کوئی کارروائی کر کے بدنامی مول نہیں لے گی۔ ان پہلوؤں سے دیکھا جائے تو ان حضرات کا مدینہ کی نسبت مکہ میں محفوظ ہونا آسانی سے سمجھ آ جاتا ہے۔

حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی مدینہ سے روانگی سے قبل عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ملاقات:

        حضرت حسین رضی اللہ عنہ روانگی سے قبل الوداعی ملاقات کے لیے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھی گئے تھے۔ وہ ان کا ارادہ سن کر بولے: "مت جائیے۔" مگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ قائل نہ ہوئے۔

        انہوں نے گفتگو کے دوران ابن عمر رضی اللہ عنہ کو خطوط کے وہ پلندے بھی دکھائے جو اہل عراق نے انہیں بھیجے تھے۔

        ابن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ دیکھ کر فرمایا: "ان لوگوں کے پاس مت جائیے۔"

        رخصت کرتے ہوئے ابن عمر رضی اللہ عنہ انہیں گلے لگا کر خوب روئے اور فرمایا:

        "اے شہید! تجھے اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔"

            حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو مکہ کے راستے میں عبداللہ بن مطیع رضی اللہ عنہ ملے۔ پوچھا: "کہاں کا ارادہ ہے؟"

        آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ابھی تو مکہ جا رہا ہوں۔ پھر وہاں جا کر آئندہ کے لیے استخارہ کروں گا۔"

        اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اہل کوفہ کی ترغیب کے باوجود اس وقت کوفہ جانے کا فیصلہ نہیں کیا تھا؛ کیوں کہ اگر وہ کوفہ جانا چاہتے تو مدینہ سے سیدھے وہاں چلے جاتے میں نسبتاً کم مسافت طے کرنا پڑتی۔

        مشهور روایت کے مطابق اتوار ۲۷ یا ۲۸ رجب کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ مدینہ سے نکلے اور تیزی سے سفر کر کے جمعہ ۳ یا ۴ شعبان کو مکہ مکرمہ پہنچے۔ یہاں آپ چار مہینے ۵ دن (۸ ذی الحجہ ۶۰ھ تک) مقیم رہے اور اس دوران حالات پر غور وفکر کرتے رہے۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی تحریک کا اصل پس منظر:

        حضرت حسین رضی اللہ عنہ وہ ہستی ہیں جنہوں نے آغوشِ رسول میں پرورش پا کر اعلیٰ ایمانی و اخلاقی اقدار کی گھٹی لی اور حضرت ابوبکر صدیق، عمر فاروق اور عثمان غنی رضی اللہ عنہم کی نہ صرف بیش از بیش شفقتیں سمیٹیں بلکہ ان سے اکتسابِ فیض بھی کرتے رہے۔ وہ پوری امت میں سب سے عالی نسب اور حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے علم و عرفان، اور ان کی سیاست و فقاہت کے امین تھے۔ دینی بصیرت، علمی رسوخ اور دور اندیشی کے لحاظ سے وہ اُمت کے ممتاز ترین فرد تھے۔ پھر وہ کوئی نا تجربہ کار جوشیلے نوجوان نہیں بلکہ زمانے کے سرد و گرم چشیدہ تھے اور اس وقت وہ اپنی عمر کی چھٹی دہائی پوری کرنے والے تھے۔ ایسی ہستی کے بارے میں یہ گمان کر لینا بہت سطحی بات ہوگی کہ وہ محض یزید کی ذاتی کمزوریوں یا اس کے متعلق فسق و فجور کی شہرت کو بنیاد بنا کر بیعت سے اجتناب کر رہے ہوں گے۔

        حقیقت یہ ہے کہ ان کی نگاہ اسلامی نظامِ سیاست میں پڑنے والے اس رخنے پر تھی جو بظاہر معمولی اور فی الحال قابلِ تحمل لگتا تھا مگر وہ ایک غیر معمولی دور اندیش مدبر کی طرح مستقبل کو گویا کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے، جہاں اس معمولی انحراف کے اثرات، چند نسلوں بعد نہایت منفی انداز میں برآمد ہونے کو تھے۔

        جس طرح دریا کے بند میں پڑنے والی دراڑ سے پانی رستا دیکھ کر ایک تجربہ کار آدمی یقینی طور پر خطرہ محسوس کر لیتا ہے اور ساری مصروفیات چھوڑ کر اپنی پوری جان اس معمولی سے شگاف کو پُر کرنے میں لگا دیتا ہے اور ان لوگوں کے اعتراضات کی بالکل پروا نہیں کرتا جو خطرے کا پوری طرح اندازہ نہ لگا پانے کے باعث، اس کی تگ و دو کو کارِ عبث سمجھ رہے ہوں، بالکل اسی طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے کل کے مضمرات کو آج ہی پوری طرح بھانپتے ہوئے، جان کی پروا کیے بغیر، ایک موقف اختیار کرلیا اور پھر اس بارے میں کسی کی نصیحت و فہمائش کو خاطر میں نہ لائے۔

        رہی یہ بات کہ کیا حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اس فکر و سعی کو خروج یا بغاوت کا اطلاق ہوسکتا تھا؟ تو در حقیقت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی تحریک اپنے اُس آخری مرحلے تک پہنچ کر بھی جس میں جاں نثاری اور جانبازی کا رنگ نمایاں ہو چکا تھا، اس قدر محتاط اور حدِ اعتدال کے اندر تھی کہ اس پر خروج کا اطلاق کر دینا آسان نہیں۔

        اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے تجزیے اور اجتہاد کے مطابق ابھی یزید کی خلافت منعقد نہیں ہوئی تھی، کیوں کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں یزید کے لیے ولی عهدی کی جو بیعت لی گئی تھی، اس کی حیثیت محض ایک مشورے کی تھی اور اس سے یزید کی خلافت ثابت نہیں ہوجاتی تھی۔ جیسا کہ اسلامی سیاست کے ماہرین میں سے ایک بلند پایہ ہستی قاضی ابو یعلیٰ الفراء رحمہ اللہ تحریر فرماتے ہیں:

    "خلافت محض ولی عہد بنا دینے سے منعقد نہیں ہوجاتی بلکہ مسلمانوں کے قبول کرنے سے منعقد ہوتی ہے۔"

        اس وقت صورتحال  یہ تھی کہ یزید مسندِ خلافت پر براجمان تو ہوچکا تھا مگر شام کے سوا کہیں بھی اسے مسلمانوں کی حمایت میسر نہ تھی۔ دمشق کے علاوہ عالمِ اسلام کی سیاست کے بڑے مراکز : مکہ، مدینہ، کوفہ اور بصرہ تھے۔ اہلِ حجاز کو یزید کی حکومت ہرگز گوارا نہ تھی۔ چند برس پہلے جب یزید کی ولی عهدی کا مسئلہ درپیش ہوا تھا تو سب سے زیادہ تحفظات اکابرِ حجاز ہی کو لاحق تھے جیسا کہ اس وقت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی میں سرِ عام اس جدت کو قیصر و کسریٰ کی رسم کہا تھا، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے بھی مجلسِ بیعت میں حاضر نہ ہو کر اپنی بیزاری ظاہر کر دی تھی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بھی بیعت کو ٹالتے آ رہے تھے۔ اہلِ حجاز جو ان اکابر کے عاشق تھے، یزید کو مسلمانوں کی رضا اور اتفاقِ رائے کے بغیر زبردستی مسلط ہو جانے والے حکمران کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ بعض جلیل القدر تابعین یزید کی بیعت سے بچنے کے لیے نقل مکانی کر گئے تھے۔

         اُدھر عراق کے لوگ بھی یزید کی حکومت قبول کرنے پر تیار نہیں تھے، اور ان کی طرف سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو موصول ہونے والے خطوط یہ ظاہر کر رہے تھے کہ یزید کی حکومت وہاں قائم نہیں ہوسکتی۔ خود یزید کے بعض گورنروں کو بھی یقین نہ تھا کہ یہ نئی حکومت قائم رہ پائے گی یا نہیں۔ ان کا اپنا دلی رجحان حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرف تھا جیسا کہ کوفہ کے گورنر نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ، واضح طور پر فرماتے تھے: "بحدل کے نواسے کی بنسبت ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے زیادہ محبوب ہیں۔"

        ان حالات میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا یہ خیال زمینی حقائق کے خلاف نہ تھا کہ یزید کی حیثیت ایک ایسے سیاست دان کی سی ہے جو اُمت کی رضا و رغبت کے بغیر جبراً مسلط ہونے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کی خلافت ابھی منعقد نہیں ہوئی لہٰذا اس کا غلبہ ثابت ہونے سے پہلے پہلے ایک مثالی حکومت کے قیام کی سعی کرنا، اُس خروج میں داخل نہیں ہوگا جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ یہ کسی بنی ہوئی حکومت کو توڑنا نہیں بلکہ ایک متنازع حکومت کے قیام کی کوشش کو روک کر مسلمانوں کو خلفائے راشدین کے طریقے کے مطابق ایک متفقہ اور مقبول حکومت فراہم کرنے کی سعی تھی۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سامنے وہ فرامینِ نبویہ بھی تھے جن میں کسی برائی کو دل سے برا کہنے کو سب سے کم درجے کا ایمان بتایا گیا ہے اور حسبِ قدرت اسے ہاتھ یا زبان سے روکنے کا حکم دیا گیا ہے۔

        حضرت حسین اور حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے تجزیے کے مطابق ابھی قدرت و استطاعت موجود تھی، اس لیے مکہ پہنچنے کے بعد دونوں اس امر پر متفق ہو گئے کہ یزید کی حکومت کا قیام روکنے کی کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ اگرچہ اس راستے میں سخت خطرات بھی تھے اور ان حضرات کو پورا اندازہ تھا کہ یہ جان کی بازی ہے مگر ان دونوں حضرات کی فقاہت فیصلہ دے رہی تھی کہ جان پر کھیل کر عزیمت کی یہ راہ اختیار کرنا کم از کم ان کے حق میں واجب ہو چکا ہے۔

مدینہ منورہ میں پکڑ دھکڑ ، ولید بن عتبہ کی معزولی اور عَمرو بن سعید کا تقرر:

        ولید نے حضرت حسین اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے نکل جانے کے بعد عبداللہ بن مطیع العدوی رضی اللہ عنہ اور مُصْعَب بن عبدالرحمن بن عوف کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے عقیدت مند تھے۔ اہلِ مدینہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے فریاد کی کہ وہ حکام کو اس طرح کی سختیوں سے روکیں۔

        حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے مروان بن حکم اور ولید بن عتبہ سے ملے اور اسے کہا:

        "اپنی حکومت کے استحکام کے لیے حق پر استقامت اختیار کرو، ظلم مت کرو۔ جنہیں گرفتار کیا ہے وہ بے قصور ہیں انہیں چھوڑ دو۔" ولید بن عتبہ نے معذرت ظاہر کی کہ امیر المؤمنین یزید کا حکم یہی ہے۔

            اہلِ مدینہ نے جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جیسی ہستی کی سفارش کو بھی ناکام جاتے دیکھا تو خود قید خانے پر حملہ کر دیا۔ اس کاروائی میں عبداللہ بن مطیع رضی اللہ عنہ آزاد ہو گئے اور فرار ہو کر مکہ میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے جا ملے۔

        حضرت حسین اور ابنِ زبیر رضی اللہ عنہما کے مدینہ سے نکل جانے کی خبر سے یزید کی تشویش بڑھ گئی۔ اس نے  بیعت لینے میں ناکامی کی ساری ذمہ داری ولید بن عتبہ پر ڈال دی اور اسے کمزور سمجھتے ہوئے معزول کر دیا۔ اس کی جگہ عَمرو بن سعید الاشدق کا تقرر کیا جو سختی میں مشہور تھا۔ وہ رمضان میں مدینہ پہنچا اور آتے ہی قسم کھا کر مکہ معظمہ پر چڑھائی کا عزم ظاہر کیا جہاں یہ حضرات پناہ لیے ہوئے تھے مگر عمرو بن سعید کے لیے فوری طور پر مکہ پر حملہ ممکن نہ تھا؛ کیوں کہ ماہِ شوال کی آمد تھی اور حجاج کے قافلے کعبہ کا رخ کرنے والے تھے۔ فرزندانِ توحید اس مقدس سرزمین پر، ایسے مبارک ایام میں، رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم اور صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کے نواسوں جیسی عظیم ہستیوں کے خلاف کاروائی کو کیسے برداشت کر سکتے تھے۔ پس یزید کی حکومت کے پاس ماہِ ذوالحجہ کے اختتام اور حاجیوں کی واپسی تک انتظار کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عراق جانے کا عزم کیوں کیا؟

        اس دوران حالات کے اتار چڑھاؤ پر غور کرتے کرتے حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جو موقع بموقع مشوروں میں مصروف رہتے تھے، اس نتیجے تک پہنچ گئے تھے کہ کسی مناسب مقام کو مرکز بنا کر اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانا چاہیے مگر جدوجہد کے مرکز کے تعیین میں دونوں کی رائے الگ الگ تھی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مکہ کو سب سے محفوظ اور مناسب سمجھتے تھے جو عالمِ اسلام کا ایمانی و روحانی مرکز تھا اور وہاں ان کے حامی قریشیوں کے علاوہ اہلِ صلاح و تقویٰ کی بڑی تعداد آباد تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی مکہ ہی کو مرکز بنائیں۔

        لیکن جس طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس کوفہ سے مسلسل خطوط اور وفود آ کر اپنی پختہ حمایت کا یقین دلا رہے تھے، اس کے پیشِ نظر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے عراق جانے پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کر دیا تھا۔

        اس کی پہلی وجہ یہ تھی کہ آپ کے نزدیک تحریک میں عوام کے جان ومال کا تحفظ بہت اہم تھا۔ حجاز کی بہ نسبت عراق میں افرادی قوت زیادہ تھی، اس لیے وہاں کم نقصان کے ساتھ غلبے کی امید کی جا سکتی تھی۔

        دوسرے یہ آپ کو اپنی جان سے زیادہ حرمین کا تقدس عزیز تھا جس کی خاطر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے صبر و تحمل کا وہ گراں بن کر جان دی تھی اور جس کی وجہ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دیارِ رسول کو چھوڑا تھا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ اگر وہ موسمِ حج کے بعد بھی مکہ میں ٹھہرے رہے تو ان کے خلاف سرکاری کارروائی ضرور ہوگی جو چاہے کامیاب نہ ہو، مگر اس کے نتیجے میں مقدس سرزمین مسلمانوں کے خون سے داغ دار ہوگی۔ چنانچہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ مکہ میں قیام کے دوران عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے فرماتے تھے: "اگر میں کہیں اور قتل کر دیا جاؤں تو یہ مجھے پسند ہے، مگر یہ گوارا نہیں کہ میری وجہ سے اس سرزمین کی عظمت پامال ہو۔"

        اس سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اپنی جان کو لاحق اس خطرے سے بے خبر نہیں تھے جو اہلِ عراق کے مُکر نے، حسبِ وعدہ حمایت نہ کرنے اور بنو امیہ کی طرف سے سختی برتنے کی صورت میں پیش آ سکتے تھے۔

        پس وہ اہلِ عراق کی تلون مزاجی سے ناواقف نہیں تھے، انہیں اہلِ عراق پر ایسا اندھا اعتماد نہیں تھا جیسا کہ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے عراق جانے میں کوئی جلدی نہ کی۔

اکابر کی اکثریت یزید سے  بیعت پر آمادہ کیوں ہوئی؟

        اس دوران یزید کی جانب سے بھی اپنی حکومت کا انعقاد ثابت کرنے اور جگہ جگہ بیعتِ خلافت لینے کا سلسلہ جاری تھا جسے دیکھتے ہوئے ایک دوسرے نقطۂ نگاہ کے مطابق اس کی خلافت منعقد ہو چکی تھی۔ مختلف شہروں میں گورنروں نے لوگوں سے بیعت لے لی تھی۔

        سوال یہ ہے کہ اگر یزید کی خلافت کا انعقاد خلفائے راشدین کے طریقے کے مطابق نہیں ہوا تھا یا اس کا کردار قابلِ اعتراض تھا تو ان حضرات نے جن میں صحابہ کرام اور تابعین بھی شامل تھے، بیعت کیوں کی؟

        حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے کچھ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دلائل اور اجتہاد سے متفق تھے اور کچھ نے شریعت کے ایک دوسرے حکم کی  پیروی میں بیعت کر لی تھی۔ وہ حکم ہے اتحاد و اتفاق کو برقرار رکھنا اور افتراق سے گریز کرنا۔ یہ حکم قرآن و حدیث کی متعدد نصوص میں موجود ہے۔ اس اہم حکم کو پورا کرنے کے لیے بعض حالات میں معمول سے ہٹ کر کسی کم تر یا غیر افضل صورت کو ناگواری کے باوجود اختیار کر لیا جاتا ہے۔ بیعت کرنے والے اکابر کا یہی خیال تھا۔

        حمید بن عبدالرحمن کی روایت ہے کہ یزید کے خلیفہ بننے کے وقت وہ ایک صحابی کے پاس گئے تو انہوں نے فرمایا:

        "تم کہتے ہو کہ یزید امتِ محمدیہ کا بہترین فرد نہیں، علم و فقاہت اور مرتبے میں سب سے اعلیٰ نہیں، میں بھی یہی کہتا ہوں۔ مگر اللہ کی قسم! میں امتِ محمدیہ کے متحد رہنے کو اس کے منتشر ہونے پر ترجیح دیتا ہوں۔"

        اکابر کی بیعت پر آمادگی کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اس وقت یزید کی شہرت ویسی نہیں تھی جیسے بعد میں سانحۂ کربلا، واقعۂ حرہ اور حصارِ کعبہ جیسے اندوہناک واقعات کے دامن پر لگ جانے کے بعد ہوئی بلکہ تخت نشینی کے وقت تو وہ اپنے بعض عیوب کے باوجود ایک صحابی کا بیٹا، ایک نیک و صالح خاندان کا فرد اور ایک اعلیٰ نسب شہزادہ سمجھا جاتا تھا، اس لیے بہت سے اکابر خدشات کو نظر انداز کر کے نیک امیدیں وابستہ کرنے کی گنجائش سمجھ رہے تھے۔

عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یزید کی بیعت پر کیا فرمایا؟

        چنانچہ یزید کا نمائندہ  بیعت لینے جب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس مکہ پہنچا تو انہوں نے حاضرین سے کہا:

        "اللہ کی قسم! معاویہ اپنے سے پہلے خلفاء کی طرح نہیں تھے مگر ان کے بعد ان جیسا بھی کوئی نہیں آئے گا۔ یقیناً ان کا بیٹا یزید ان کے نیک کنبے کا فرد ہے۔ لہٰذا آپ سب اپنی اپنی جگہ آرام سے بیٹھے رہیے۔ یزید کی بیعت کر کے اطاعت کیجیے گا۔" اس کے بعد خود بھی بیعت کر لی۔

    حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا موقف یہ تھا کہ اگر سب لوگ  بیعت کر لیں گے تو میں بھی کرلوں گا۔ اسی لیے جب انہوں نے دیکھا کہ اکثریت نے بیعت کر لی ہے تو انہیں یزید کی مخالفت میں کامیابی کی امید کی بجائے اُمت کے افتراق اور خونریزی کا خطرہ محسوس ہوا، لہٰذا انہوں نے بھی بیعت کر لی۔ ظاہر ہے یہ بیعت رغبت اور مسرت کے ساتھ نہیں تھی، اسی لیے انہوں نے  بیعت کے موقع پر یہ تبصرہ کیا تھا: 
اِنْ کَانَ خَیْرًا رَضِیْنَا، وَاِنْ کَانَ بَلَاءً صَبَرْنَا۔
        (اگر اس میں خیر ہوئی تو ہم راضی ہیں، آزمائش ہوئی تو صبر کریں گے۔)

کیا یزید کی طرف سے رعایت کا معاملہ کیا جا رہا تھا؟

        بعض حضرات کا خیال ہے کہ یزید نے پوری طاقت اور اختیار رکھنے کے باوجود حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے بڑی رعایت اور چشم پوشی کا برتاؤ کیا اور اسی لیے اس نے چار پانچ ماہ تک ان کی "باغیانہ سرگرمیوں" کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ مگر در حقیقت یہ رائے یزید کے حق میں بے بنیاد خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں۔

یزید کی طرف سے کاروائی میں فقط ناگزیر حد تک تاخیر ہوئی اور اس کی بھی کچھ وجوہ تھیں:

        پہلی بات یہ تھی کہ جب تک حضرت حسین رضی اللہ عنہ مکہ میں تھے، تب تک یزید کی حکومت پوری طرح قائم و مستحکم نہیں ہوئی تھی اسی لیے جزیرۃ العرب پر اس کا بس نہیں چل رہا تھا اور یہی وجہ تھی کہ دمشق کی سرکار چار پانچ ماہ تک حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف کسی مؤثر کاروائی کا انتظام نہ کر پائی۔

        ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان دنوں اکابر کے مدینہ سے مکہ پہنچنے کے دو ماہ بعد شوال میں موسمِ حج شروع ہو گیا تھا، یوں اگلے تین مہینوں میں بھی حاجیوں کے رش کی وجہ سے کاروائی ممکن نہ تھی۔

        تاہم جونہی حاجی واپس ہوئے اور یزید کی حکومت کو سنبھالا ملا تو ۶۱ھ میں یزید کے گورنر عمرو بن سعید کے دو ہزار سپاہیوں نے مکہ پر حملہ کر دیا، یہ الگ بات ہے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ کے شہریوں کی مدد سے انہیں مار بھگایا۔

        اگر حکومت کو نواسۂ ابوبکر صدیق کا کچھ لحاظ ہوتا تو مکہ پر اس فوج کشی کا بھلا کیا مطلب تھا؟ اور اگر نواسۂ رسول سے رعایت کا برتاؤ سرکاری پالیسی ہوتی، تو یہ 'رعایت' صرف چند ماہ تک مکہ اور جزیرۃ العرب ہی میں محدود نہ رہتی بلکہ کوفہ کی سرحد پر اور میدانِ کربلا میں بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے اعزاز واکرام کا برتاؤ کیا جاتا۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف دو بار فوج کشی نہ کی جاتی بلکہ ان دونوں حضرات سے جبری بیعت کا مطالبہ کر کے انہیں اپنا گھر بار اور دیارِ رسول چھوڑنے پر مجبور ہی نہ کیا جاتا۔

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے نام یزید کا خط:

        حضرت حسین رضی اللہ عنہ مکہ میں ہی تھے کہ یزید نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو ایک خط بھیجا جس سے ظاہر ہوتا تھا وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور اسے ان سے بغاوت کا قوی خدشہ ہے۔ اس مراسلے میں حسد کی واضح جھلک دکھائی دیتی ہے۔ یزید نے لکھا تھا:

            "حسین رضی اللہ عنہ کے پاس مشرق کے لوگ آکر انہیں خلافت کی امید دلا رہے ہیں۔ آپ حالات سے باخبر تجربہ کار انسان ہیں۔ اگر حسین رضی اللہ عنہ نے ایسا کیا تو قرابت داری کے بندھن ٹوٹ جائیں گے۔ آپ خاندان کے بڑے اور معزز آدمی ہیں، ان کو اس شورش پسندی سے روکیں۔"

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں تحریر فرمایا:

        "مجھے امید ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ کی روانگی کسی ایسے کام کے لیے نہیں ہوگی جو آپ کو ناگوار ہو۔"

        الغرض دربارِ دمشق میں اضطراب کی فضا تھی اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا اہل کوفہ سے رابطہ دیکھ کر یزید کو خوف تھا کہ وہ  بغاوت کرنے والے ہیں۔ اُدھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ یزید یا اس کے حکام ان کے موقف پر غور کیے بغیر انہیں بغاوت کا مرتکب سمجھ کر قتل بھی کر سکتے ہیں۔ اس لیے اس وقت حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یزید سے مل کر اپنا موقف  پیش کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ عراق جا کر اپنے حامیوں کی مدد سے تبدیلی لانے کی کوشش کو سود مند سمجھا۔

اہل عراق کے خطوط:

        اہل کوفہ کے لگاتار خطوط اور وفود آرہے تھے اور اطلاعات یہ تھیں کہ پورا عراق یزید کے کنٹرول سے باہر ہے، صرف کوفے میں ایک لاکھ مسلح آدمی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی حمایت کے لیے تیار ہیں۔ اور یہ کہ لوگوں نے مقامی گورنر حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازِ جمعہ تک میں شریک ہونا ترک کر دیا ہے۔ لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے وفادار ہیں اور ان کے سوا کسی پر بھروسہ نہیں کر سکتے۔

        حالات کا یہ منظر نامہ بتا رہا تھا کہ اگر فوری طور پر عراق کا سفر نہ کیا گیا تو وہاں زبردست قتل وغارت شروع ہوسکتی    ہے کیوں  کہ وہاں کے کم حوصلہ اور عجلت پسند لوگ کسی بھی وقت اندھا دھند بغاوت برپا کر سکتے تھے۔

        حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے والدِ ماجد کے طرزِ عمل کا برسوں مشاہدہ کیا تھا کہ انہوں نے نادان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑنے کی بجائے شفقت و محبت سے اپنے ساتھ ملا کر ان کی تربیت کی کوشش کی تھی۔ اس وقت ایسے ہزاروں عقیدت مند مضطرب و بے قرار ہو کر آپ رضی اللہ عنہ کو بلا رہے تھے اور آپ رضی اللہ عنہ کے سوا ایسا کوئی نہ تھا جو ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر ان کی رہنمائی کرتا۔ اگر انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا تو ایک بے مقصد خانہ جنگی شروع ہو جانا بعید نہ تھا۔

        جبکہ ایک قائد کی موجودگی میں عوام کی تنظیم کر کے ان کے دباؤ کے ذریعے پُرامن طور پر یا کم نقصان کے بدلے مقاصد حاصل کیے جاسکتے تھے۔ اس لیے آپ نے خطرہ مول لے کر عراق جانا ضروری سمجھا۔ آپ امید کرتے تھے کہ وہاں آپ کو لوگوں کی رضا و رغبت کے ساتھ اُمت کی قیادت کا موقع مل جائے گا، اُدھر اہلِ حجاز بھی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی سرکردگی میں حمایت کریں گے۔ اتنی مضبوط عوامی تائید مل جانے کے بعد اہلِ شام پر جو دباؤ پڑے گا، اس کے باعث یا تو وہ مفاہمت کر کے نظام کی اصلاح پر تیار ہوجائیں گے اور بلا جنگ و جدل ایک مثالی حکومت قائم کی جاسکے گی۔ اور اگر اہلِ شام نہ مانے تو عراق اور حجاز کی مشترکہ طاقت کسی بڑے جانی و مالی اتلاف کے بغیر انہیں مغلوب کر لے گی۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic