(۳) عالمِ اسلام کا دفاع اور نئی فتوحات
حضرت معاویہؓ کا ایک اہم ہدف عالمِ اسلام کے دفاع کے ساتھ فتوحات کے اس سلسلے کو دوبارہ آگے بڑھانا تھا جو خانہ جنگی کے سبب کئی برس سے رکا ہوا تھا۔ آپؓ کے دورِ خلافت میں جہادی سلسلہ ایک بار پھر پوری آب وتاب سے شروع ہوا۔ آپؓ ایک نہایت کُہنہ مشق سپہ سالار اور عسکری منصوبہ ساز تھے۔ آپ نے حضرت عثمانؓ کے دور میں رومیوں کو پے در پے شکستیں دی تھیں۔ اسلامی بحری فوج کا آغاز آپ ہی کی ہمت اور منصوبہ بندی کی بدولت ہوا۔ حضرت عثمانؓ کے دور میں آپ قبرص اور مالٹا جیسے اہم عسکری جزیروں کو رومیوں سے چھین چکے تھے۔
حضرت معاویہؓ کے حکومت سنبھالتے وقت عالمِ اسلام جن بیرونی طاقتوں کے مدمقابل تھا، وہ تین تھیں:
(۱) وہ بت پرست قومیں جو وسطِ ایشیاء سے خراسان اور ہندوستان تک پھیلی ہوئی تھیں۔ یہ درجنوں چھوٹی چھوٹی ریاستیں تھیں۔ ان میں سے بعض قبائل بارہا شکست کھا کر مغلوب ہوتے مگر موقع ملتے ہی بغاوت کر دیتے۔ اس وقت بھی وہ آمادۂ پیکار تھے۔
(۲) افریقہ کے غیر متمدن قبائل جن کی طاقت شمالی افریقہ میں زیادہ تھی۔ یہ بھی بار بار بغاوت کرتے تھے۔
(۳) رومی سلطنت جسے زیر نگیں کرنا سب سے زیادہ اہم تھا۔
مگر سیدنا معاویہؓ نے وقتی مصلحت کے تحت رومیوں سے محدود وقت کے لیے صلح کر لی تا کہ پہلے یکسوئی سے دیگر محاذوں کو نمٹایا جائے۔ آپ نے حضرت عمرو بن العاصؓ کو مصر اور حضرت عبد اللہ بن عامرؓ کو بصرہ کا حاکم مقرر کر دیا یا تھا جو مانے ہوئے سپہ سالار اور سیاست دان تھے۔
ان دونوں حضرات نے عہد و منصوبہ بندی کے ساتھ مشرق و مغرب میں اسلامی افواج کو آگے بڑھایا جن کے نتیجے میں خراسان اور افریقہ سے شورش پسندوں کا صفایا ہوا اور وہاں اسلامی افواج کے قدم جم گئے۔ ہندوستان کی سرحدوں، سندھ اور بلوچستان میں بھی کئی جہادی مہمات پیش آئیں اور فتوحات نصیب ہوئیں۔
اگلے اوراق میں ہم ان تمام خطوں کی فتوحات کا الگ الگ جائزہ لے رہے ہیں۔
برصغیر میں جہاد
عام طور پر برصغیر میں مسلمانوں کی آمد کا ذکر ۹۲ ہجری میں محمد بن قاسمؒ کی مہم سے شروع کیا جاتا ہے، مگر صحیح یہ ہے کہ مسلمان حضرت عمرؓ کے دور میں سندھ کے ساحل دِیبل پر چھاپہ مار حملہ کر چکے تھے اور حضرت علیؓ کے دور میں ان کے دھاوے ”قیقان“ تک ہو رہے تھے۔
برصغیر میں فوج کشی کی ضرورت اس لیے تھی کہ یہاں کے جنگجو اچانک حملے کر کے مسلم امراء اور سپاہیوں کو شہید کر دیتے تھے۔ حضرت علیؓ کی طرف سے اس محاذ کے کمانڈر حضرت حارث بن مرہؒ کئی معرکے جیت چکے تھے مگر حضرت معاویہؓ کی خلافت کے دوسرے سال سن ۴۲ ھ میں انہیں اسی محاذ پر اکثر ساتھیوں سمیت شہید کر دیا گیا۔ ان کے بعد بصرہ کے گورنر حضرت عبد اللہ بن عامرؓ نے یہ مہم راشد بن عمرو جدیدی کے سپرد کی۔ وہ ۴۲ ھ میں افواج لے کر ہندوستان میں داخل ہوئے اور مکران سے ہوتے ہوئے سندھ میں دور تک یلغار کرتے چلے گئے۔
بنو اور لاہور کی مہمات:
۴۴ ھ میں امویوں کے نامور سالار حضرت مُہَلَّب بن ابی صفرہؒ نے دوسری سمت سے پیش قدمی کی اور بنہ (بنوں) کو فتح کیا۔ اس مہم میں مُہَلَّب بن ابی صفرہ ایک موقع پر تنہا تھے کہ دشمن کے اٹھارہ گھڑ سواروں نے اچانک انہیں گھیر کر شہید کرنے کی کوشش کی مگر حضرت مُہَلَّب نے اکیلے سب کو مار ڈالا۔ اس کے بعد وہ یلغار کرتے ہوئے ”الاہور“ (لاہور) کے قریب جا پہنچے۔ یہاں ایک بڑی خونریز جنگ ہوئی جس میں ہندوؤں کو شکست فاش ہوئی اور حضرت مُہَلَّبؒ شہر پر قبضہ کیے بغیر بھاری مقدار میں مالِ غنیمت لے کر لوٹے۔
قیقان (کوہِ کھیر تھر ) کی دوسری مہم:
حضرت معاویہؓ نے عبد اللہ بن سوار ؒ کو قیقان میں پیش قدمی کا حکم دیا۔ یہ بڑے سخی اور مشہور رئیس تھے۔
فوج لے کر چلے تو اعلان کر دیا کہ کسی خیمے میں چولہا جلنے نہ پائے، سب کا کھانا پینا میرے ذمے ہے۔ ایک شب انہیں خیمہ گاہ میں کہیں آگ جلتی دکھائی دی۔ پوچھ گچھ کی تو پتا چلا کہ ایک خاتون کو اولاد کی نعمت نصیب ہوئی ہے۔ اس کے لیے حلوہ پکایا جا رہا ہے۔ یہ سن کر حکم دیا: ”تین دن تک میری طرف سے سب کو حلوہ کھلایا جائے۔
قیقان کا کوہستان بہت دشوار گزار تھا پھر بھی حضرت عبد اللہ بن سوار نے یہاں کامیاب جہاد کیا اور واپسی پر بہت سے قیقانی گھوڑے حضرت معاویہؓ کی خدمت میں تحفے کے طور پر پیش کیے۔ یہاں ایک دن موقع پا کر قبائلی جنگجوؤں نے انہیں ان کے ساتھیوں سمیت گھیر کر شہید کر دیا۔
سیدنا حضرت معاویہؓ نے سن ۴۸ ہجری میں حضرت سنان بن سلمہؒ کو بلوچستان کی مہم کا سپہ سالار بنا کر بھیجا۔ وہ اپنی مہمات میں مصروف تھے کہ نامور سالار راشد بن عمرو جدیدیؒ سن ۵۰ ہجری میں سندھ و بلوچستان میں جہاد کے دوران شہید ہو گئے۔ یوں مکران سمیت خاصا علاقہ پھر مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکل گیا۔ عبد اللہ بن سوار اور حارث بن مرہؒ کے بعد ان تیسرے اسلامی سپہ سالار کی شہادت، بڑی فکر کی بات تھی۔ حضرت سنان بن سلمہ اس صورتحال کے تدارک کے لیے بلوچستان آئے تو حریف بھاری لاؤ لشکر کے ساتھ سامنے آ دھمکا۔ حضرت سنان بڑے اللہ والے بزرگ تھے۔ انہوں نے اپنے مجاہدین کو قسم کھلا رکھی تھی کہ جو لڑائی سے بھاگا اس کی بیوی کو طلاق۔ دشمن کی کثرت دیکھ کر انہوں نے اپنے ساتھیوں کو ہمت دلائی اور فرمایا:
”بشارت ہو! تمہیں دو میں سے ایک کامیابی ضرور ملے گی: یا جنت یا فتح۔“ پھر انہوں نے سات پتھر اٹھائے اور مجاہدین کے سامنے آ کر کہا:
”جب مجھے حملہ کرتے دیکھو تو تم بھی ٹوٹ پڑنا۔“
حضرت سنانؒ نے فوج کو تیار حالت میں رکھا۔ جب سورج عین سر پر آیا تو تکبیر کہتے ہوئے یکے بعد دیگرے چھ پتھر دشمن کی طرف پھینکے۔ اس کے بعد مزید انتظار کیا، جب سورج ذرا ڈھلنے لگا تو ساتواں پتھر اچھالتے ہوئے نعرہ لگایا: ”حم لا ینصرون۔“ پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے بت پرستوں پر حملہ آور ہو گئے۔
مسلمان بھی اپنے قائد کے پیچھے دشمن پر پِل پڑے۔ تھوڑی ہی دیر میں مشرکین کی لاشوں کے ڈھیر لگ گئے، باقی بھاگ نکلے۔ مسلمانوں نے بارہ میل (ساڑھے ۱۹ کلومیٹر) تک ان کا تعاقب کیا۔ آخر کار فرار ہونے والے ایک قلعے میں جا چھپے۔ مسلمانوں نے قلعے کو گھیرا تو مقامی لوگوں نے اندر سے کہلوایا: ”اللہ کی قسم! ہمیں تم نے نہیں مارا بلکہ چتکبرے گھوڑوں پر سوار سفید عمامہ پوشوں نے ہمیں مارا ہے۔“ مسلمانوں نے کہا: ”یہ اللہ کی نصرت تھی۔“
اس جنگ میں مسلمانوں کا صرف ایک فرد شہید ہوا۔ بعد میں کسی سپاہی نے حضرت سنان بن سلمہؒ سے دشمن
پر حملے میں تاخیر کی وجہ پوچھی۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی کیا کرتے تھے۔“
حضرت سنان بن سلمہؒ نے اس مہم میں مکران کو بزو ر شمشیر دوبارہ فتح کیا اور اس پورے علاقے کو ازسرنو آباد اور منظم کیا۔ وہ دو سال تک یہاں ٹھہرے رہے اور یہاں بڑی خوبی سے حکومت کرتے رہے۔
