لیلة الہریر
منگل ۷ صفر سے جمعرات ۹ صفر تک تین دن تک دونوں لشکر میدان جنگ میں اپنی قوت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ اس دوران ہزاروں افراد کام آئے۔ دونوں فریق جنگ کا حتمی فیصلہ چاہتے تھے، اس لیے حضرت عمارؓ کی شہادت کے بعد جمعرات کو شام کا اندھیرا چھا جانے کے باوجود لڑائی نہ رکی، سپاہی لڑتے لڑتے بے حال ہو چکے تھے مگر رات گئے تک جنگ کا ہنگامہ برپا رہا، تھکے ماندے سپاہیوں کے بری طرح ہانپنے، ایک دوسرے کو للکارنے اور کثرت سے نعرے لگنے کی وجہ سے تاریخ میں یہ شب "لیلة الہریر" کے نام سے یاد کی گئی، جس کا معنی غُرانے اور چیخنے چلانے کی شب ہے۔
حضرت علیؓ نے اس شب نماز مغرب "صلاة الخوف" کے طرز پر ادا کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک سنت کی عملی مشق کرائی۔ حضرت علیؓ جنگ کی شدت کی وجہ سے اپنے مسنون وظائف وقت پر ادا نہ کر سکے، مگر رات کے آخری پہر آپ نے ذرا مو قع ملتے ہی ذکر کا یہ معمول پورا کر لیا۔
جنگ کا اختتام:
جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ حضرت علیؓ کا اصل مقصد اتحادِ ملت تھا اور فوج کشی کے باوجود پہلا ہدف حریف پر دباؤ ڈال کر اسے منانا تھا۔ یہ کوشش کامیاب نہ ہونے پر جنگ کا فیصلہ کیا گیا۔ اندازہ یہ تھا کہ اہل شام معمولی مزاحمت کے بعد ہتھیار ڈال دیں گے۔ مگر جنگ کی غیر معمولی شدت دیکھنے کے بعد حضرت علیؓ نے اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے فرمایا: "اگر مجھے معلوم ہوتا کہ معاملہ یہاں تک پہنچ جائے گا تو میں کوفہ سے ہرگز نہ نکلتا"۔
لیلة الہریر کے آخری پہر مقتولین اور زخمیوں کی تعداد بہت بڑھ چکی تھی، تلواریں ٹوٹ چکی تھیں اور نیزے دُہرے ہو گئے تھے۔ سپاہی تھکن سے چور ہو کر لڑنے سے عاجز ہو رہے تھے۔ اس طرح جنگ رک گئی۔
حضرت علیؓ نے باضابطہ وقفے کے لیے شامی سپہ سالار حضرت عمرو بن العاصؓ کو پیغام بھیجا:
"مقتولین بہت زیادہ ہو چکے ہیں، جنگ روک کر مقتولین کی تدفین کرنی چاہیے۔"
حضرت عمرو بن العاصؓ نے مثبت جواب دیا۔ اس کے بعد دونوں فریق باہم گھل مل گئے۔
یہ عارضی جنگ بندی رات کے آخری حصے میں ہوئی تھی۔ صبح کو دونوں فریق تلواریں نیام کر کے ایک دوسرے کے پاس آ جا رہے تھے اور اپنے اپنے زخمیوں اور مقتولین کو تلاش کر کے لے جا رہے تھے۔
صحابہ کی نگاہ میں فریق مخالف کی دینی حیثیت:
عمرو بن العاصؓ اس خندق کے کنارے بیٹھے تھے جس میں لاشیں دفن کی جا رہی تھیں۔ حضرت علیؓ کی فوج کے ایک شخص کی لاش دفن کے لیے لائی گئی تو حضرت عمرو بن العاصؓ رو پڑے اور فرمایا:
"یہ شخص بڑا مجاہد تھا۔ کتنے ہی لوگ جو اللہ کے احکام پر سختی سے عمل پیرا تھے، مارے گئے۔"
مقتولین کے بارے میں صحابہ کرام کی مجموعی رائے یہ تھی کہ وہ جنتی ہیں، چاہے کسی بھی صف میں ہوں۔ حضرت علیؓ جنگ بندی ہونے پر مقتولین کو دیکھنے نکلے تو اپنے اور حضرت معاویہؓ کے مقتول سپاہیوں کے لیے یکساں طور پر دعائے رحمت کی۔ کسی نے پوچھا: "آپ نے ان کا خون بہانا حلال قرار دیا، پھر ان کے لیے دعائے رحمت کر رہے ہیں۔" فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ نے ان کے قتل کو ان کے گناہوں کا کفارہ بنا دیا ہے۔"
اشتر نخعی نے شامی لشکر کے مقتولین میں حابس یمانی نامی ایک صاحب کو دیکھا تو انا للہ پڑھی حضرت علیؓ نے وجہ پوچھی تو اشتر نے کہا: "میں اسے مومن سمجھتا تھا مگر آج یہ گمراہی پر مرا۔"
حضرت علیؓ نے جواب دیا: "یہ اب بھی مومن ہی ہے۔"
پھر فرمایا: "ہم میں سے اور ان میں سے جو بھی اللہ کی رضا کا طلب گار تھا، وہ نجات پا گیا۔"
یہ بھی فرمایا: "ہمارے اور ان کے مقتولین جنتی ہیں، معاملے کی تمام ذمہ داری مجھ پر اور معاویہ پر عائد ہوتی ہے۔"
کسی نے اہل شام کے بارے میں زبان درازی شروع کی تو حضرت علیؓ نے فرمایا: "ایسا مت کہو! وہ سمجھے کہ ہم نے بغاوت کی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے بغاوت کی ہے۔ پس ہم نے باہم جنگ کی۔"
جنگ کے دوران بھی حریف کے بارے میں اس قدر خیر جذ باتی اور منصفانہ بات کرنے سے حضرت علیؓ کی بے پناہ وسعت ظرفی ظاہر ہوتی ہے۔ ایسا منصفانہ کلام ایک خلیفہ راشد ہی کے شایان شان تھا۔
خوابوں میں بشارت:
خوابوں میں بھی دونوں جماعتوں کے جنتی ہونے کی بشارتیں مل رہی تھیں، ایک تابعی نے خواب دیکھا کہ وہ جنت میں داخل ہو رہے ہیں، سامنے ایک خیمہ لگا ہے، پوچھا کس کا ہے؟ جواب ملا "ذو الُکلاع" کا (جو حضرت معاویہؓ کے ساتھ شامل ہو کر صفین میں قتل ہوئے تھے)۔
خواب دیکھنے والے نے پوچھا: "عمارؓ اور ان کے ساتھی (حضرت علیؓ کے لشکر کے مقتولین) کہاں ہیں؟"
جواب ملا "تمہارے آگے" (یعنی جنت میں مزید اعلیٰ مقام پر)
پوچھا: "یہ کیسے ہوا؟ یہ حضرات تو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے رہے (یعنی جو فریق حق پر تھا اسے جنتی اور دوسرے فریق کو دوزخی ہونا چاہیے!) جواب ملا: "جب وہ اللہ سے ملے تو اسے وسیع مغفرت والا پایا۔"
جنگ میں شریک سپاہ اور مقتولین کی تعداد:
عراقی سپاہ اصح قول کے مطابق ایک لاکھ تھی جن میں بہت سے بدری اور بیعت رضوان میں شامل صحابہ بھی تھے۔ شامی سپاہیوں کی تعداد ستر ہزار سے کم نہ تھی۔ جنگ کے دوران جاں بحق ہونے والوں کی تعداد اصح قول کے مطابق ستر (70) ہزار تھی جن میں ۴۵ ہزار شامی اور ۲۵ ہزار عراقی تھے۔
لیلة الہریر کے بعد فریقین کی نفسیاتی حالت:
عارضی جنگ بندی لیلة الہریر میں حضرت علیؓ کے پیغام پر ہوئی تھی تاکہ مقتولین کی تدفین کی جا سکے۔ اگلی صبح فریقین نفسیاتی کشمکش کا شکار تھے۔ عراقی لشکر کے نقصانات کم نہیں تھے جس کی وجہ سے بہت سے عراقی افسران اور امراء کا صبر و تحمل جواب دینے لگا تھا۔ لیکن دوسری طرف لشکرِ شام کی حالت کہیں زیادہ تشویشناک تھی۔ ایک دن جنگ مزید جاری رہتی تو شاید جنگ کا فیصلہ اہل عراق کے حق میں ہو جاتا۔ حضرت معاویہؓ نے فرار کی نوبت آ جانے کے خدشے سے ایک نہایت برق رفتار گھوڑا بھی منگوا لیا تھا۔ مگر عراقیوں کو شامی لشکر کی کیفیت کا پورا اندازہ نہیں تھا جبکہ شامی قیادت کو عراقی لشکر کے کسی شخص نے بتا دیا کہ میں عراقیوں کو سخت اضطراب کی حالت میں چھوڑ کر آ رہا ہوں۔
ویسے یہ تو قع مشکل تھی کہ اہل عراق فتح کے قریب پہنچ کر بھی صلح پر آمادہ ہو جائیں گے مگر چونکہ شامی قیادت کو عراقیوں کی اندرونی کیفیت کا اندازہ ہو چکا تھا اور وہ خود اپنی حالت کو ان سے چھپانے میں کامیاب تھے، اس لیے انہیں صلح کا دروازہ کھل جانے کی غالب امید ہوئی۔ صلح کا پیغام بھیجنے سے قبل حضرت معاویہؓ نے مزید احتیاط کی کہ اپنی فوج کو جس کے مقتولین بہت زیادہ ہو چکے تھے، پیچھے ہٹا کر ایک پہاڑ کے دامن میں پڑاؤ ڈال دیا۔
کتاب اللہ پر فیصلے کی پیش کش:
اب ضروری سمجھا گیا کہ مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور فیصلے کا مدار شریعتِ محمدیہ پر رکھا جائے۔ چونکہ شریعت کی اساس قرآن مجید ہے، اس لیے اسے "کتاب اللہ" کی طرف دعوت کا عنوان دیا گیا تاکہ دونوں طرف کے مسلمان قرآن کریم سے ایمانی و جذباتی وابستگی کے باعث جنگ بندی پر آسانی سے تیار ہو جائیں۔ حضرت عمرو بن العاصؓ نے حضرت معاویہؓ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: "قرآن مجید کا نسخہ حضرت علیؓ کے پاس بھیج کر انہیں کتاب اللہ کی طرف دعوت دیں وہ اس پیش کش کو مسترد نہیں کریں گے۔"
ایک صاحب یہ پیش کش لے کر حضرت علی المرتضیٰؓ کے پاس گئے اور کہا:
"ہمارے اور آپ کے درمیان یہ اللہ کی کتاب (مسئلے کا فیصلہ کرنے کے لیے) موجود ہے۔"
پھر ان صاحب نے یہ آیت پڑھی:
اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْکِتٰبِ یُدْعَوْنَ اِلٰی کِتٰبِ اللہِ لِیَحْکُمَ بَیْنَہُمْ ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیْقٌ مِّنْہُمْ وَہُمْ مُّعْرِضُوْنَ۔
"بھلا تو نے دیکھا ان لوگوں کو جنہیں کتاب کا ایک حصہ عطا کیا گیا، انہیں اللہ کی کتاب کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے پھر بھی ان میں سے ایک گروہ منہ پھیر لیتا ہے اور توجہ نہیں دیتا۔"
حضرت علیؓ نے مثبت جواب دیتے ہوئے فرمایا:
"ہاں ہاں! میں تو اس پیش کش کو سب سے پہلے قبول کرنے والا ہوں۔ ہمارے درمیان اللہ کی کتاب ہے۔"
حضرت علیؓ نے مذاکرات کی پیش کش کیوں قبول کی؟
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضرت علیؓ نے جنگ پر گرفت مضبوط ہونے کے باوجود، مذاکرات کی پیش کش کیوں قبول کر لی۔ اور اگر صلح ہی کرنی تھی تو پہلے جنگ پر اصرار کیوں کیا؟ دراصل اس کی دو وجوہات تھیں:
1۔ افرادی قوت کے بے پناہ ضیاع نے عراقی فوج کے بہت سے امراء کو مضطرب اور جنگ سے بیزار کر دیا تھا۔ چنانچہ حضرت علیؓ عراقی فوج میں افتراق کے آثار دیکھ کر غم زدہ تھے اور انہیں ملامت کرتے ہوئے فرما رہے تھے:
"کاش! میرے ساتھ تمہاری جگہ بنو فراس کے فقط ایک ہزار افراد ہوتے۔"
2۔ حضرت علیؓ شرع کے مطابق تلوار کو فقط ناگزیر حد تک استعمال کرنے کے قائل تھے۔ اب چونکہ اہل شام کی طرف سے قرآن کے فیصلے کو ماننے کی یقین دہانی کرائی جا رہی تھی لہذا حضرت علیؓ نے یہ پیش کش قبول کرلی۔
جنگ بندی کی اس گفتگو کو ابومخنف کو اپنے تعصب کے باوجود اقرار کرنا پڑا۔ اس کا بیان ہے:
(سالار عراق) اشعث بن قیس حضرت علیؓ کے پاس آئے اور کہا: میرا خیال ہے کہ قرآن مجید کے حکم پر چلنے کی جو دعوت دی گئی ہے اب لوگ اسے قبول کرنے پر مطمئن اور خوش ہیں۔ اگر آپ چاہیں تو میں معاویہ کے پاس جا کر ان کا ارادہ معلوم کروں تاکہ آپ ان کے سوالات پر غور کر سکیں۔
حضرت علیؓ نے فرمایا: "اگر آپ کا یہ خیال ہے تو جا کر ان سے دریافت کر لیں۔"
اَشعثؓ نے حضرت معاویہؓ کے پاس آئے اور پوچھا: "معاویہ! آپ نے قرآن کو کیوں پیش کیا؟"
وہ بولے: " تاکہ ہم اور آپ ان احکام پر چلیں جو اللہ نے اس میں دیے ہیں۔ آپ اپنا ایک شخص پیش کریں جس پر ہم راضی ہوں اور ہم بھی ایسا ایک شخص تجویز کریں۔ فریقین پر یہ لازم ہوگا کہ وہ اللہ کی کتاب میں پائیں اس پر عمل کریں، اس سے سرِمو انحراف نہ کریں۔ یہ دونوں شخص جو طے کر دیں، دونوں فریقوں کے لیے اس پر عمل لازم ہو گا۔" اشعث نے بولے: "یہ انصاف کی بات ہے۔" اور آکر حضرت علیؓ کو اطلاع دی۔ حضرت علیؓ کے ساتھیوں نے کہا: "ہم نے یہ بات منظور کی، ہم راضی ہیں۔"
مفسدین کی طرف سے جنگ بندی کی مخالفت:
مگر عراقی لشکر کے جن لوگوں کا خیال تھا کہ ایک دن مزید جنگ لڑ کر ہم فتح حاصل کر سکتے ہیں، وہ جنگ بندی کے حق میں نہیں تھے۔ ان میں کچھ لوگ تو مخلص تھے اور ایک رائے کے درجے میں ایسا کہہ رہے تھے۔ اپنے لشکر کی اکتاہٹ کا بھی انہیں اندازہ تھا اور حضرت علیؓ کی فراست اور فقاہت پر بھی انہیں کوئی شک نہ تھا، لہٰذا رائے کے اختلاف کے باوجود ان کے ہر فیصلے پر وہ سر جھکانے کے لیے تیار تھے۔
مگر ان میں کچھ لوگ محض شر پسند تھے اور چاہتے تھے کہ جنگ کی آگ تیز سے تیز تر ہو اور مسلمان لڑتے لڑتے کمزور ہو جائیں۔ ان میں سے بعض وہ تھے جو مدینہ منورہ میں شر انگیزی اور فساد کے مرتکب ہوئے تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ جنگ بندی کے بعد امن و صلح کے ماحول میں ان کے خلاف کوئی مشترکہ و متفقہ عدالتی فیصلہ نہ ہو جائے۔ چنانچہ ایسے لوگ فوری طور پر جنگ بندی میں رخنے ڈالنے لگے۔ ابو مخنف بھی تسلیم کرتا ہے کہ جنگ بندی کی مخالفت میں وہ لوگ پیش پیش تھے جو حضرت عثمانؓ کے خلاف تحریک میں شامل رہے تھے۔ مثالیں ملاحظہ ہوں:
● اشتر نخعی جو اس وقت ہراول دستے کا قائد تھا، حضرت علیؓ کی طرف سے جنگ بندی کے حکم پر بڑا جھنجھلایا، اس نے جواباً کہلوایا کہ یہ جنگ روکنے کا وقت نہیں، ہم فتح یاب ہونے والے ہیں۔ جب حضرت علیؓ کی طرف سے اسے تاکیدی حکم بھیجا گیا کہ جنگ بندی کی جائے تو اس نے حضرت علیؓ کے حکم پر احتجاج کرتے ہوئے باقی لوگوں کو بھی بھڑکانے کی کوشش کی اور انہیں حضرت علیؓ کا حکم ماننے پر خوب برا بھلا کہا۔
● بہر حال جب حضرت علیؓ کے حکم کے مطابق جنگ بندی ہوگئی اور جنگ بندی کا مسودہ لکھا جانے لگا تو اشتر نخعی نے اس میں شرکت کی دعوت کو مسترد کرتے ہوئے کہا: "اگر میں اس دستاویز پر دستخط کروں تو اللہ کرے میرا دایاں ہاتھ سلامت رہے نہ بایاں۔ کیا میں اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر نہیں اور کیا مجھے اپنے دشمن کی گمراہی کا یقین نہیں؟ ارے! اگر تم اس ظلم پر اتفاق نہ کر لیتے تو فتح ملنے ہی والی تھی۔"
یہ سن کر جنگ بندی میں اہم کردار ادا کرنے والے اشعث بن قیسؓ نے کہا:
"اللہ کی قسم! تم نے نہ کوئی فتح دیکھی نہ کوئی علم۔ ہمارے ساتھ ہو جاؤ، ہمیں تم سے کوئی عداوت نہیں۔"
اشتر جھلا کر بولا: "عداوت کیوں نہیں، میں تم سے دنیا میں دنیا کی خاطر اور آخرت میں آخرت کی خاطر دشمنی رکھتا ہوں۔ اللہ نے میری اس تلوار کے ذریعے بہت سے لوگوں کا خون بہایا ہے، تم میرے نزدیک ان سے بہتر نہیں ہو، میں تمہارا خون بھی حرام نہیں سمجھتا۔" یہ سن کر حضرت اشعث بن قیسؓ کا طیش سے برا حال ہو گیا۔
اس کے بعد حضرت علیؓ کی طرف سے حضرت اشعث بن قیسؓ جنگ بندی کا مسودہ لے کر فوج کے مختلف حلقوں کو سناتے ہوئے بنو تمیم کے پاس پہنچے تو ان کے ایک سردار عُروہ بن اُدیّہ نے نہ صرف اسے ماننے سے انکار کر دیا بلکہ "لا حُکْمَ اِلاَّ لِلّٰہِ" کا نعرہ لگاتے ہوئے حضرت اشعثؓ کے گھوڑے کے کولہے پر تلوار ماری۔
یہ تین مثالیں محض تائید کی غرض سے ضعیف روایات سے پیش کی گئی ہیں جن سے پتا چل رہا ہے کہ کچھ شر پسند لوگ عراقی لشکر میں موجود تھے جو جنگ بندی کے متعلق حضرت علیؓ کا فیصلہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔
صحیح بخاری کی روایت:
اب ایک بار پھر صحیح روایات میں جنگ بندی پر شر پسندوں کے اعتراضات اور اکابر صحابہ کے سمجھانے کا منظر ملاحظہ ہو۔ جنگ صفین کے عینی شاہد حضرت ابو وائلؓ کہتے ہیں:
"جب حضرت علیؓ نے (حضرت معاویہؓ کی پیش کش کا مثبت جواب دیتے ہوئے) کہا: 'ہاں میں کتاب اللہ کی بات پر زیادہ عمل کرنے والا ہوں۔' تو وہ قاری صاحبان آگئے جو بعد میں خارجی بنے۔ ہم انہیں اس وقت قاری حضرات کہا کرتے تھے۔ ان کی تلواریں ان کے کندھوں پر ہوتی تھیں۔ وہ کہنے لگے: 'امیر المومنین! ہم اس قوم (اہل شام) کے بارے میں کس چیز کے منتظر ہیں؟ کیوں نہ ہم اپنی تلواریں سونت کر ان کی طرف چلیں، یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کر دے۔'"
یہ سن کر حضرت سہل بن حنیفؓ کھڑے ہوگئے اور (اس خودرائی کے رجحان سے منع کرتے ہوئے) فرمانے لگے: "لوگو! اپنے آپ کو یعنی اپنی رائے کو مشکوک سمجھا کرو۔ ہمیں اپنا عہدِ حدیبیہ والا دن یاد ہے۔"
حضرت سہل بن حنیفؓ کی پُر اثر تقریر:
پھر حضرت سہل بن حنیفؓ نے بتایا کہ حدیبیہ والے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو جندلؓ کو کفار کے حوالے کرنے کا حکم دیا جس پر بعض صحابہ کو شبہ ہوا کہ ہم حق پر ہیں تو پھر کفار سے یہ مصالحت اور نرمی کیسی؟ مگر بعد میں ثابت ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے پر عمل میں ہی خیر تھی اور صحابہ کرام نے سمجھ نہ آتے ہوئے بھی اسی بات پر عمل کیا جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔
حضرت سہل بن حنیفؓ نے فرمایا:
"مجھے ابوجندل والے واقعے کے دن اپنی کیفیت یاد ہے۔ اگر اس دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو تبدیل کروا سکتا تو ضرور کروا دیتا مگر اللہ اور اس کا رسول زیادہ علم رکھتے ہیں۔"
پھر سہل بن حنیفؓ نے موجودہ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لوگوں سے کہا:
"موجودہ قضیے سے پہلے ہمیشہ ایسا ہی ہوا کہ جب بھی کسی ہولناک معاملے کے لیے ہم نے اپنے کاندھوں پر تلواریں لٹکائیں تو تلواروں نے ہمارے لیے راستہ ہموار کر کے ہمیں جانی پہچانی منزل تک پہنچایا۔"
مطلب یہ تھا کہ موجودہ قضیے کی صورت حال بالکل الگ ہے، اسی لیے تلوار سے ہی مسئلہ حل کرنے پر اصرار نہ کریں۔ حضرت سہل بن حنیفؓ کی تقریر کے بعد حضرت علیؓ نے یہ کہتے ہوئے جنگ بندی کو قبول فرمایا:
اَیُّہَا النَّاسُ! اِنَّ ہٰذَا فَتْحٌ
(لوگو! بلا شبہ یہ جنگ بندی فتح ہی ہے۔)
مگر شر پسند تو تفرقہ بازی کا بہانہ چاہتے تھے۔ انہوں نے اکابر کے سمجھانے بجھانے پر کان نہ دھرا۔ اس طرح حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے مابین جنگ بندی کو مسترد کرنے کی بنیاد پر جو گروہ وجود میں آیا، وہ "خارجی" کہلایا۔ یہ لوگ "لا حُکْمَ اِلاَّ لِلّٰہِ" کا نعرہ لگاتے ہوئے دونوں لشکروں سے الگ ہو گئے۔
کیا حضرت علیؓ جنگ بندی سے انکار کر رہے تھے؟
بعض روایات میں ہے کہ حضرت معاویہ اور عمرو بن العاصؓ نے دھوکہ دینے کے لیے جنگ بندی کی تھی، اگر روایات کا حاصل فقط اتنا سمجھا جائے کہ شامی لشکر نے خود کو بچانے کے لیے صلح کی پیش کش کی تھی تو یہ ایک فطری بات تھی کہ جنگ میں ہر فریق شکست فاش سے بچنا چاہتا ہے۔ مگر بعض روایات میں اس معاملے کو یوں پیش کیا گیا ہے جیسے شامی صحابہ نے لوگوں کے جذبات سے کھیلنے کے لیے قرآن مجید کو بیچ میں لانے کا ڈرامہ کیا ہو۔ انہی روایات میں حضرت علیؓ کے اس پیش کش سے انکار کرتے ہوئے اسے نہ صرف اہل شام کی مکاری گرداننے بلکہ شامی قائدین کو منافق قرار دینے کا ذکر بھی ہے۔ یہ روایات سنداً انتہائی ضعیف اور متن کے لحاظ سے اضطراب و تضاد سے بھرپور ہیں۔ ان میں سے بعض روایات ابومخنف جیسے کذاب راوی کی وضع کردہ ہیں، باقی روایات میں بھی اسی قسم کے ضعیف ترین راوی موجود ہیں۔ کوئی صحیح روایت ان ضعیف روایات کی تائید میں نہیں۔
شیعوں کے مستند ماخذ "نہج البلاغہ" میں اعلانِ جنگ بندی کے متعلق حضرت علیؓ کا ایک تبلیغی مراسلہ نقل کیا گیا ہے جس سے حضرت علیؓ کی جنگ بندی پر آمادگی کے علاوہ حضرت علیؓ اور معاویہؓ دونوں کا ہم مذہب و ہم مسلک ہونا اور تمام کشمکش کی بنیاد صرف قصاصِ عثمان کے طریقہ کار پر اختلاف رائے ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ مراسلہ درج ذیل ہے:
"ہمارے معاملے کا آغاز اس طرح ہوا کہ ہم اہل شام کے ساتھ میدان میں اکٹھے ہوئے، ظاہر ہے کہ ہمارا اور ان کا رب ایک، نبی ایک، ہماری اور ان کی اسلام کے بارے میں دعوت ایک۔ اللہ پر ایمان اور اس کے رسول کی تصدیق کے بارے میں نہ ہم ان سے بڑھ کر تھے نہ وہ ہم سے بڑھ کر۔ صرف ایک بات میں ہمارا تنازعہ ہوا یعنی خونِ عثمان ۔ ہم اس سے بری ہیں۔ ہم نے اس کا یہ حل پیش کیا کہ جو مقصد آج حاصل نہیں ہو سکا اس کا عارضی حل یہ ہے کہ جنگ کی آگ کو ساکت کیا جائے اور لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا ہو جانے دیا جائے۔ جب حکومت مستحکم ہو جائے گی اور حالات سازگار ہوں گے تو ہم اتنے قوت والے ہو جائیں گے کہ حق قصاص کو اس کا مقام دے سکیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ اس کا حل صرف جنگ ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہر طرف جنگ نے پاؤں پھیلا دیے اور جڑیں پکڑ لیں، شعلے بھڑک کر پائیدار ہو گئے۔ جب سب نے دیکھا کہ لڑائی نے دونوں فریقوں کو دانتوں سے کاٹنا شروع کر دیا ہے اور ان میں اپنے پنجے گاڑ دیے ہیں تو وہ میری بات ماننے پر آمادہ ہو گئے۔ میں نے بھی ان کی بات کو مانا اور تیزی سے جنگ بندی کی پیشکش منظور کرلی۔"
خارجیت: خوارج کے پس پردہ کون تھا؟
جس لمحے حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہوا، اچانک بہت سے افراد نے جماعت کا ساتھ چھوڑ دیا اور "لا حُکمَ اِلَّا لِلّٰہ" کا نعرہ لگاتے ہوئے الگ ہو گئے۔ حضرت علیؓ ، حضرت معاویہؓ اور تمام مسلمانوں کے خلاف یہ کھلی بغاوت محض کسی اتفاقی غلط فہمی کا نتیجہ معلوم نہیں ہوتی۔
اس کا پورا امکان ہے کہ جو شر پسند لوگ جنگ جمل میں تھوڑی سی مہلت مل جانے پر اپنے بچاؤ کے لیے فریقین کو لڑوانے میں کامیاب ہو گئے تھے، وہ صفین میں بھی کوئی نئی سازش ترتیب دے رہے ہوں۔ یعنی وہ اس کے لیے پہلے سے تیار ہوں کہ اگر اتحاد و اتفاق کا راستہ ہموار کرنے والا کوئی اقدام ہونے لگا تو اسے خلافِ دین و ایمان اقدام مشہور کر کے لوگوں کو ورغلایا جائے گا اور انہیں الگ کر کے حضرت علیؓ کے خلاف ایک نیا محاذ کھول دیا جائے۔
تاریخ میں واضح ہے کہ جونہی جنگ بندی کا اعلان ہوا، شدت پسندوں نے مشہور کر دیا کہ حضرت علیؓ اللہ کے حکم کے خلاف فیصلہ دے رہے ہیں۔ بہت سے نادان لوگوں نے سوچے سمجھے بغیر اس پر یقین کر لیا، انہیں "لاحُکمَ اِلَّا لِلّٰہ" (حاکمیت صرف اللہ کی ہے) کا خوبصورت نعرہ بھی دے دیا گیا جس نے سطحی ذہن رکھنے والے ہزاروں لوگوں کو سوچنے سمجھنے سے محروم کر دیا اور وہ اس فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ جو مسلمانوں کے لیے امن و امان کا ذریعہ تھا۔ احتجاجاً الگ ہونے والے یہ لوگ "خوارج" کہلائے۔ ان کی علیحدگی کے پیچھے یہی منصوبہ کار فرما تھا کہ شر پسند خود کو محفوظ اور خلافت راشدہ کو کمزور کرنا چاہتے تھے۔
ہمیں خارجیوں کے سرکردہ لوگوں میں کئی ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو حضرت عثمانؓ کے دور سے سبائی تحریک کے سرغنہ تھے جن میں حرقوص بن زہیر اور عبداللہ ابن الَکوّاء کے نام نمایاں ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد قرائن بتاتے ہیں کہ جنگ بندی کے بعد بہت سے سبائی خصوصاً وہ لوگ جو حضرت عثمانؓ کے خلاف بغاوت کی تحریک میں شریک اور حضرت معاویہؓ کو مطلوب تھے، عراقی لشکر سے کھسک کر خوارج میں گھل مل گئے تھے اور عراقی لشکر میں سبائیوں کے آثار مزید مدہم ہو گئے تھے۔
تحکیم کے لیے ثالثوں کی تقرری:
حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کے درمیان باہمی اختلاف کی وجہ کو دور کرنے کے لیے یہ طے ہوا کہ فریقین اپنا ایک ایک "حکم" یا ثالث (فیصلے کا اختیار رکھنے والا نمائندہ) مقرر کر دیں۔ دونوں ثالث مل کر بیٹھیں اور امت کے درمیان اختلاف کی وجہ دور کریں، مستقل اور پائیدار امن کا کوئی طریقہ وضع کریں۔ ان کا فیصلہ کتاب و سنت کے مطابق اور امت کے وسیع تر مفاد میں ہو جسے دونوں فریق قبول کریں گے۔
حضرت علیؓ کے لشکر میں شامل شر پسند عناصر یہ چاہتے تھے کہ اشتر نخعی کو ثالث بنایا جائے، اسی طبقے کے ابو مخنف جیسے لوگوں نے بعد میں یہ مشہور کیا کہ یہ خواہش خود حضرت علیؓ کی تھی، یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔ ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ جبکہ دونوں فریق پہلے ہی یہ طے کر چکے تھے کہ ہر فریق اپنی طرف سے ایسا ثالث پیش کرے گا جس پر دوسرے فریق کو بھی اطمینان ہو۔اشتر نخعی پر تو حضرت علیؓ کے مخلص سالاروں کو بھی اطمینان نہ تھا، اسی لیے عراقی سپہ سالار اشعث بن قیسؓ کا اس موقع پر کہا گیا یہ جملہ بہت مشہور ہوا:
"ھَلْ سَعَّرَ الْاَرْضَ اِلَّا الْاَشْتَرُ"
(زمین میں جنگ کی آگ اشتر ہی نے تو بھڑکائی ہے۔)
اشعث بن قیسؓ نے یہ بھی کہا: "اشتر تو یہ چاہتا ہے کہ ہم ایک دوسرے پر تلواریں لے کر پل پڑیں۔"
صحیح روایات کے مطابق حضرت علیؓ نے اس اہم کام کے لیے عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباسؓ کو بھی چھوڑ کر اپنی رائے سے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو منتخب فرمایا اور انہیں فیصلے کا بھرپور اختیار دیتے ہوئے یہاں تک فرما دیا تھا:
"اُحْکُمْ وَ لَوْ بِجَرِّ عُنُقِی"
(تم فیصلہ کر دینا، چاہے میری گردن کٹ جائے۔)
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کے انتخاب کی وجہ:
ابو موسیٰ اشعریؓ کے چناؤ کی وجہ یہ تھی کہ وہ عمر، عقل، علم اور تجربے میں بھی ممتاز تھے اور ساتھ ساتھ سیاسی مناقشوں میں غیر جانبدار رہنے کی وجہ سے وہ فریقین کے لیے قابل قبول تھے۔ ان کی ذکاوت، دور اندیشی، علم و فضل اور معاملہ فہمی کے سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زبید اور عدن کا عامل بنایا تھا۔
پھر سیدنا عمر فاروقؓ اور سیدنا عثمان غنیؓ کے زمانے میں بھی وہ بصرہ اور کوفہ میں گورنر اور قاضی کے عہدوں پر رہے، ظاہر ہے اتنے بڑے مناصب پر علم و دانش سے آراستہ شخص ہی فائز ہو سکتا ہے۔ حضرت علیؓ کی شوریٰ کے اکابر بھی اس انتخاب پر مطمئن تھے، چنانچہ جب حضرت احنف بن قیسؓ نے حضرت علیؓ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: "آپ نے دہی علاقوں کے ایک نرم دل انسان کو مقرر کیا ہے۔ ان کی جگہ مجھے بھیج دیں تو میں معاملے کو آپ کی مرضی کے مطابق طے کر سکوں گا۔" تو جواب میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے فوراً کہا:
"اُخْفُ! ہمیں چھوڑ دیں۔ ہم اپنے معاملات کو آپ سے بہتر سمجھتے ہیں۔"
افسوس کہ خانہ ساز شیعی روایات میں ایسے عالم فاضل صحابی کو (نعوذ باللہ) "مغفل" (احمق) مشہور کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ابو مخنف اور نصر بن مزاحم کی روایات میں یہ جھوٹا دعویٰ بھی ہے کہ حضرت علیؓ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ پر اعتماد نہیں کرتے تھے بلکہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ کو اپنا نمائندہ بنانا چاہتے تھے مگر عراقی لشکر کے خود سر امراء کے اصرار کی وجہ سے وہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو یہ اختیار دینے پر مجبور ہو گئے تھے۔
یہ روایات سنداً انتہائی ضعیف ہونے اور صحیح روایات سے ٹکرانے کی وجہ سے ناقابل قبول ہیں۔
حضرت عمرو بن العاصؓ کے تقرر کی وجہ:
حضرت امیر معاویہؓ کی طرف سے مسئلہ تحکیم کے لیے حضرت عمرو بن العاصؓ مقرر کیے گئے۔ وہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قابل اعتماد فقہاء میں سے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ ذات السلاسل میں انہیں کو امیر بنایا تھا۔ شیعہ راویوں نے انہیں لالچی اور دنیا پرست مشہور کرنے کی پوری کوشش کی ہے جبکہ ان کے متعلق ارشاد نبوی ہے: "عمرو بن العاص قریش کے صالحین میں سے ہیں۔"
ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاصؓ کو ایک جہادی مہم سپرد کی اور فرمایا: "عمرو! میں تمہیں ایک مہم میں بھیجنا چاہتا ہوں، اللہ تمہیں سلامت رکھے گا اور مال غنیمت بھی عطا کرے گا، پھر ہم بھی تمہیں اس سے مال دیں گے۔" انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے مال و دولت کے لالچ میں اسلام قبول نہیں کیا بلکہ اللہ کی راہ میں جہاد اور آپ کی رفاقت میرا مقصد ہے۔" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "عمرو! صالح آدمی کے لیے پاک مال اچھا ہوتا ہے۔"
اس سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ عمرو بن العاصؓ دنیا سے بے رغبت اور آخرت کے طلب گار تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں صالح انسان سمجھتے تھے۔ افسوس کہ خانہ ساز راویوں نے جہاں حضرت ابوموسیٰ اشعریؓ کو کم عقل اور نااہل ثابت کرنے والی روایات گھڑی ہیں، وہیں حضرت عمرو بن العاصؓ کو انتہائی مکار اور دھوکا باز آدمی قرار دینے کی کوشش بھی کی ہے حالانکہ ان دونوں حضرات کو پوری امت کے اکابر کی طرف سے باہمی اتحاد جیسے اہم ترین کام کی ذمہ داری سونپ دینا خود بتاتا ہے کہ یہ حضرات نہایت قابل اور مخلص تھے۔
حضرت علیؓ کی کوفہ واپسی:
جنگ صفین، مذاکرات اور دیگر مہمات و معاملات سے فارغ ہو کر حضرت علیؓ ۱۲ رجب ۳۷ ھ کو اپنے پایہ تخت کوفہ واپس پہنچے۔ اس سے قبل کوفہ میں طویل قیام کا موقع نہیں مل سکا۔ اب آپ کو ذرا فارغ دیکھ کر لوگوں نے کہا: "امیر المومنین! کیا آپ قصر امارت میں قیام فرمائیں گے؟" فرمایا: "نہیں! کیونکہ حضرت عمرؓ اسے ناپسند کرتے تھے۔"

