Tahkeem-e-Siffin aur Hazrat Ali o Muawiya ke Darmiyan Ahd-nama: Haqaiq o Halat

 تحکیم کے لیے عہد نامہ

        جنگ بندی کے ایک ہفتے بعد ۱۷ صفر سنہ ۳۷ ہجری کو حضرت علی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما کے درمیان یہ عہد نامہ تشکیل پایا:


بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

        ”یہ عہد نامہ ہے علی بن ابی طالب، معاویہ بن ابی سفیان اور ان کے ساتھیوں کا، کتاب و سنت کے حکم پر رضامندی کے ساتھ:
        * حضرت علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ تمام اہل عراق اور حضرت معاویہ کا فیصلہ تمام اہل شام پر لاگو سمجھا جائے گا، چاہے وہ حاضر ہیں یا غائب ہیں۔

        * حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے حامی عبداللہ بن قیس، (ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) کو اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو (مسئلے کا فیصلہ کرنے کے لیے) حَکم (ثالث) بنانے پر راضی ہیں۔

        * دونوں حَکم حلف اٹھائیں گے کہ وہ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ دیں گے اور جس چیز کا حکم کتاب اللہ سے نہ ملے، اسے سنتِ رسول میں تلاش کریں گے۔

        * دونوں نمائندوں اور ان کے اہل و عیال کے جان و مال کا تحفظ کیا جائے گا۔

        * فریقین کے درمیان جنگ بند ہے۔ بات چیت جاری رہے گی۔

        * دونوں حَکم عراق اور شام کے درمیان کوئی جگہ طے کریں گے۔

        * فیصلے کے لیے ماہِ رمضان کے آخر تک وقت طے ہے...... لیکن دونوں حَکم چاہیں تو اس سے پہلے یا بعد کا وقت بھی طے کر سکتے ہیں۔

        * اس دوران لوگوں کی جانیں، اموال، اہل و عیال اور بچے، سب مامون رہیں گے۔ اسلحہ بند اور راستے کھلے رہیں گے۔“

        اس عہد نامے پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت حسن و حضرت حسین، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت اشعث بن قیس، حضرت سہل بن حُنیف، حضرت رافع بن خدیج، اور حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہم نے اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے حضرت حبیب بن مسلمہ فہری، حضرت معاویہ بن خدیج، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص، حضرت عبداللہ بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہم نے دستخط کیے۔ 

 مذاکرات کی کامیابی کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی سنجیدگی:

        اس دستاویز پر شروع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ امیر المؤمنین لکھا گیا تھا، مگر جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے اسے مٹانے پر اصرار کیا گیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پوری وسعتِ ظرفی سے اس کی جگہ "علی بن ابی طالب" لکھوانے پر اکتفا کر لیا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ مذاکرات کو کامیاب بنانے میں کتنے مخلص تھے اور اسی لیے وہ فریقِ ثانی کے قانونی اعتراضات کو کسی 'ڈیڈ لاک' کا سبب نہیں بننے دینا چاہتے تھے۔

        اسی جذبے کے تحت حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حَکمین کو وصیت کی: ”تم دونوں کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کرنا، جو قرآن کا حکم ہے اسے زندہ کرنا اور جس سے قرآن نے منع کیا ہے اسے مٹانا۔“

جنگ بندی نامے کے مثبت اثرات، شرپسندوں میں پھوٹ:

        کتاب اللہ پر ثالثی کا یہ فیصلہ سب کے لیے تسلی بخش تھا۔ عراق اور شام کی افواج اپنی اپنی چھاؤنیوں کو لوٹ گئیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے دارالخلافہ کوفہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے مرکز دمشق واپس چلے گئے۔ عالمِ اسلام میں معمول کی زندگی پھر سے بحال ہوگئی۔ اس کے برعکس خود شرپسند عناصر میں پھوٹ پڑ گئی اور رنج و حسرت سے ان کا برا حال ہو گیا۔ خود شیعہ مؤرخ ابومخنف کے  بیان کے مطابق جب یہ لوگ لشکرِ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ صفین جا رہے تھے تو باہم شیر و شکر اور ایک دوسرے کے یار و مددگار تھے مگر جب تحکیم کا واقعہ  پیش آیا تو واپسی میں یہ سب ایک دوسرے سے بغض و عداوت میں مبتلا ہوچکے تھے اور گالم گلوچ کر رہے تھے۔

        ظاہر ہے یہ لڑنے جھگڑنے والے لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے گرد موجود صحابہ اور تابعین نہیں تھے بلکہ یہ وہی فسادی لوگ تھے جو مختلف اغراض و مفادات کے لالچ میں اکھٹے ہو کر خلافتِ اسلامیہ کو کمزور اور مسلمانوں کو منتشر کرنا چاہتے تھے۔ جب ان کے مفادات حاصل نہ ہوئے تو فطری طور وہ مایوسی اور تلملاہٹ کا شکار ہو کر باہم جھگڑ پڑے۔

        ان عناصر کی سوچ سے متاثر مفکرین آج بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے پر برافروختہ ہیں اور اسے خلافِ حکمت گردانتے ہیں۔ بعض حضرات اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی نادانی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مکاری کا نتیجہ بتاتے ہیں۔حالانکہ حضرت علی و حضرت معاویہ رضی اللہ عنہما اور اکابر صحابہ کرام کا ثالثی نامے پر اتفاق اس آیتِ مبارکہ کی تعمیل میں تھا:

وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا
(اگر اہل ایمان کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو تم ان میں صلح کرا دیا کرو۔)

        اسی میں مسلمانوں کی مصلحت اور بھلائی تھی۔ قرآن مجید تو حربی کفار کی طرف سے بھی صلح کی پیش کش کو قبول کرنے کی ہدایت کرتا ہے:

وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا
(اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی اس طرف مائل ہو جائیں۔)

        مگر افسوس کہ شرپسندوں کو یہ بھی گوارا نہیں ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے کلمہ گو مسلمان بھائیوں سے صلح کر لیں۔

 بیرونی طاقتوں کی ناکام حسرتیں:

        جنگِ جمل اور جنگِ صفین میں مسلمانوں کو باہم دست و گریباں دیکھ کر طاغوتی طاقتیں عالمِ اسلام کو نئے زخم لگانے کے لیے مستعد ہونے لگیں۔ فارس و ایران میں کئی مفتوحہ علاقوں کے غیر مسلموں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خلاف بغاوت کر دی اور بعض علاقوں کے لوگ مرتد ہو گئے۔

        ان بغاوتوں کو فرو کرنے کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بہترین سالار زیاد بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا جو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے باپ شریک بھائی تھے۔ انہوں نے جا کر تیزی سے بغاوت کے شعلے سرد کر دیے اور ان علاقوں پر اسلام کا پرچم از سر نو نصب کر دیا۔

        اس طرح طاغوتی طاقتیں اپنی حسرتوں پر دل مسوس کر رہ گئیں۔

 تحکیم کا واقعہ: کیا درست اور کیا غلط

        حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان تصفیے کے لیے حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما صفین کی جنگ کے آٹھ ماہ بعد رمضان ۳۷ھ میں عراق اور شام کی سرحد "اَذْرُح" کے قریب دُومۃ الجندل کے مقام پر جمع ہوئے تھے تاکہ امت کے دونوں گروہوں کے درمیان تنازعے کا حل تلاش کیا جائے۔ جس اجتماع میں یہ گفتگو ہوئی اسے "مجلسِ تحکیم" کہا جاتا ہے، اور ان دونوں حضرات کو حَکَمین۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ تحکیم کی مجلس میں کیوں نہ تشریف لے گئے؟

        حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ تحکیم کے لیے شام سے عراق کی سرحد پر تشریف لے آئے مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نہ گئے۔ وجہ یہ تھی کہ آپ کے نئے مخالفین خوارج نے بڑے  پیمانے پر بغاوت کی تیاری کر رکھی تھی۔ اگر آپ رضی اللہ عنہ ایک دن کے لیے بھی کوفہ سے غائب ہوتے تو یہ فتنہ پرور لوگ خلافتِ اسلامیہ کا تختہ الٹ دینے کی کوشش کرتے۔ درج ذیل روایت سے اس صورتِ حال پر روشنی پڑتی ہے:

        ”جب رمضان ۳۷ھ کا چاند طلوع ہوا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ چار سو افراد کے ساتھ دمشق سے نکلے اور دُومۃ الجندل  پہنچے اور یزید بن حر العبسی کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس کوفہ بھیج کر اپنی آمد کی اطلاع پہنچائی اور انہیں حسبِ قرارداد تشریف آوری کی دعوت دی۔ یزید بن حر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مل کر ان سے اس اجتماع میں شرکت کی درخواست کی اور کہا: ”آپ کی موجودگی اس معاملے کے سلجھنے، جنگ کے خاتمے اور فتنے کی آگ بجھنے کا سبب ہوگی۔“ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ابنِ حر! میں ان لوگوں کے سانس تھامے بیٹھا ہوں۔ میں انہیں چھوڑ کر یہاں سے نکل گیا تو اس شہر میں اہل شام سے بھی زیادہ بڑا فتنہ پھیل جائے گا۔ میں اپنی جگہ ابو موسیٰ کو بھیج رہا ہوں۔ لوگ ان کی تقرری پر راضی ہیں۔ عبداللہ بن عباس کو بھی بھیج رہا ہوں۔ وہ میرے نائب ہیں۔ جو معاملہ ان کے سامنے ہوگا وہ گویا میرے سامنے ہی ہوگا۔“

        پھر آپ رضی اللہ عنہ نے بصرہ سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو بلوایا، اسی طرح ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو بھی بلوایا اور انہیں گھڑ سواروں کے ساتھ بھیج دیا۔ خود کوفہ میں ٹھہرے رہے۔

        اس اجتماع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف سے بھیجے گئے وفد میں چار سو گھڑ سوار تھے جن کے قائد حضرت شریح بن ہانیؒ تھے، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ وفد میں پانچ وقتہ نمازوں کے امام تھے۔

        ادھر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے بھی چار سو افراد آئے تھے، جن میں حضرت عمرو بن العاص اور ان کے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہما سرفہرست تھے۔ غیر جانب دار صحابہ میں سے عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر، مغیرہ بن شعبہ، عبدالرحمن بن عبدیغوث، حضرت عبدالرحمن بن حارث اور حضرت ابو جہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہم بھی شریک تھے۔

حَکَمین کی مجلس میں کیا گفتگو ہوئی؟

        معتبر روایات میں اس اجتماع کی گفت و شنید کا بہت مختصر احوال ملتا ہے۔ تفصیل کسی معتبر سند کے ذریعے ہم تک نہیں پہنچ سکی۔ دوسری طرف ضعیف راوی اصل واقعے کو خرافات کی دھول میں چھپا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت عمرو بن العاص اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہما نے اپنے فرائض کو درست طور پر انجام نہ دیا اور آخر میں ایک طوفانِ بدتمیزی پر مجلس ختم ہوئی۔ ان راویوں نے تحکیم کے واقعے میں ثالثوں کو شروع سے آخر تک قصاصِ عثمان رضی اللہ عنہ کی جگہ خلافت کے حق دار پر بحث کرتے دکھایا ہے۔ اگرچہ یہ بات صحیح سند سے ثابت ہے کہ مسئلہ خلافت بھی زیرِ بحث آیا تھا اور یہ منصب کسی تیسرے فرد کے حوالے کرنے پر بھی غور ہوا تھا مگر یہ بات بعید ہے کہ حَکَمین کی پوری گفتگو میں بنیادی تنازعے مسئلے پر بحث ہی نہ ہوئی ہو۔ پس یہ ظاہر ہے کہ راویوں نے گفتگو کی اصل اور مرکزی بحث کا بیشتر حصہ حذف کر کے اس کی جگہ فرضی باتیں شامل کر دی ہیں۔

        حَکَمین کی مجلس کا اصل مقصد امتِ مسلمہ کو متحد کرنا تھا اور چونکہ یہ اتحاد قصاصِ عثمان کے نفاذ کا متفقہ فقہی طریقہ کار طے کرنے پر موقوف تھا اس لیے تحکیم کا بنیادی موضوع یہی تھا کہ کسی طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ کی  بیعت اور قاتلینِ عثمان کے خلاف کارروائی کا کوئی لائحہ عمل بالاتفاق طے پا جائے۔ اگرچہ اس گفتگو کی رُوداد کسی صحیح روایت میں منقول نہیں، مگر ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بات چیت ابتدا میں اسی نکتے کے گرد دائر رہی ہوگی کہ قصاص کیسے لیا جائے۔ قصاصِ عثمان کے مسئلے نے ہی حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو اہل شام کے نزدیک ناقابلِ قبول بنایا ہوا تھا۔ اہل شام حضرت علی رضی اللہ عنہ پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں کی سرپرستی کا الزام عائد کر رہے تھے اور ان کے نزدیک حضرت علی رضی اللہ عنہ پر لازم تھا کہ اس الزام کی نفی کے لیے تمام باغیوں کو قصاصاً قتل کرتے یا انہیں شامی قیادت کے حوالے کر دیتے۔ جب تک وہ ایسا نہ کرتے، ان کی حیثیت اپنے تمام تر مناقب کے باوجود باغیوں کے سرپرست کی تھی لہٰذا انہیں شرعی حکمران تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔

        حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے جو آئینی و فقہی اور سیاسی و سماجی رکاوٹیں تھیں، ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یقیناً انہیں مدلل طور پر پیش کیا ہوگا۔ بہرحال حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ اگر علم و فقاہت کے  پیکر تھے تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سفارتی مہارت اور منطق و استدلال میں اپنی مثال آپ تھے۔ اس لیے کوئی بھی ایک دوسرے کو قائل نہ کر سکا۔ 

        اہل شام کی بہت بڑی تعداد کو یہ بھی یقین تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اقتدار کی خاطر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو قتل کرایا ہے۔ اسی بناء پر صفین میں اہل شام نے پورے جوش و خروش سے اہل عراق کے خلاف تلواریں بے نیام کرنا جائز سمجھا تھا۔ اس ذہن کے ساتھ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی  بیعت پر کسی طرح تیار نہیں ہو سکتے تھے جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی امارت و قیادت پر انہیں پورا اعتماد تھا۔ غرض مسئلہ قصاص نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شخصیت اور خلافت ہی کو اہل شام کے ہاں متنازع بلکہ ناقابلِ قبول بنا دیا تھا۔ حَکَمین کو بھی اس مسئلے کا کوئی حل نہیں مل سکا۔

        ایسے میں متفقہ خلافت کے احیاء کے لیے حَکَمین نے ایک اور پہلو پر غور کرنا شروع کیا، وہ یہ کہ کسی ایسے تیسرے فرد کو خلیفہ مقرر کر دیا جائے جس کے فیصلے تمام متنازعہ امور میں قابلِ قبول ہوں۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عالمِ اسلام کی ایسی محبوب و مقبول ہستی تھے جن پر امت کے اتفاق کی امید کی جا سکتی تھی لہٰذا حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

”لاَ أَرَى لِهٰذَا الْأَمْرِ غَيْرَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ“
 (مجھے عبداللہ بن عمر کے سوا، اس کے لیے کوئی اور موزوں نہیں لگتا۔)

        عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بھی اس رائے سے اختلاف ظاہر نہ کیا۔ مگر ان کی خواہش  یہ تھی کہ اگر عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما یہ منصب لے لیں تو وہ اپنی خوشی سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو منتقل کر دیں۔

        تاہم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس میں کوئی رغبت ظاہر نہ کی اور معذرت کرتے ہوئے فرمایا:

”وَلَا أُعْطِیْ وَلَا أَقْبَلُهَا إِلَّا عَنْ رِضٰی مِّنَ الْمُسْلِمِيْنَ.“
(یہ عہدہ مجھے دیا جا سکتا ہے نہ میں اسے قبول کر سکتا ہوں،
 سوائے اس کے کہ امتِ مسلمہ اس پر راضی ہو جائے۔)

عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے امرِ خلافت سے معذرت کی وجوہ:

        ممکن ہے کسی کو خیال گزرے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اگر یہ پیش کش قبول کر لیتے تو امت متحد ہو جاتی۔ لیکن اگر ہم درج ذیل حقائق پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ان کا فیصلہ بالکل درست تھا:

        ۱۔ یہ بات ثابت ہے کہ فریقین کا اصل تنازعہ خلافت کے استحقاق پر نہیں، قصاص پر تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو فی الحال خلیفہ نہ ماننے کے باوجود (صحیح روایت کے مطابق) انہیں خلافت کا اہل ضرور تسلیم کرتے تھے اور برملا کہتے تھے کہ میرا ان سے کوئی جھگڑا نہیں، وہ مجھ سے بڑے عالم اور زیادہ فضیلت والے ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ”علی، قاتلینِ عثمان کو ہمارے حوالے کر دیں، میں سر تسلیم خم کر دوں گا۔“

        اب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما خلیفہ بن جاتے تو بھی کوئی فرق نہ پڑتا؛ کیوں کہ فقہی  پیچیدگی کے باعث قصاصِ عثمان رضی اللہ عنہ پر غالبًا وہ بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہٹ کر کوئی اور لائحہ عمل نہ اپنا سکتے۔ اس لیے اہل شام کا وہی اعتراض پھر بھی باقی رہتا۔

        ۲۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی پیش کش سے یہ اندازہ لگا لیا تھا کہ اہل شام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کو پسند نہیں کرتے۔ ایسے میں کسی نئے شخص کا متفقہ خلیفہ بننا ممکن نہیں تھا بلکہ یہ خطرہ تھا کہ نئے شخص کی نامزدگی پر فریقین میں سے بہت سے لوگ مزید اعتراض کریں گے، اس طرح انتشار ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جائے گا۔ امت دو کی جگہ تین یا چار ٹکڑوں میں بٹ جائے گی۔

        ۳۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما طبعی طور پر بھی سیاسی امور سے لاتعلق رہنا پسند کرتے تھے۔

        ۴۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جانتے تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت برحق ہے، ان کے متعلق پھیلائے گئے شکوک و شبہات غلط ہیں، وہ خلیفہ راشد ہیں اور فی الواقع ان سے بہتر کوئی سربراہ امت کو میسر نہیں آ سکتا۔ ایسے میں ان کی جگہ لینا، ہرگز کسی برکت و رحمت یا اتفاقِ امت کا باعث نہیں بن سکتا تھا۔

 گفتگو کا آخری دور:

        حَکَمین میں بات چیت کا سلسلہ بند گلی میں پہنچ گیا تھا۔ یہ صورتِ حال حَکَمین کے لیے بھی تکلیف دہ تھی اور دیگر حاضرین کے لیے بھی۔ کیوں کہ ہر ایک امت کا خیر خواہ تھا اور تہہ دل سے چاہتا تھا کہ امت کے یہ دونوں نیک گروہ جن کی قیادت اکابر صحابہ کرام کے ہاتھ میں تھی، متحد ہو جائیں مگر اب یہ تلخ حقیقت قبول کرنے پر مجبور تھے کہ امت میں فی الحال اتحاد نہیں ہو سکتا۔ اس نئی صورتِ حال میں اب یہ طے کرنا تھا کہ اب فریقین کی حیثیت کیا ہوگی؟

        ظاہر ہے جنگ بندی کی وجہ سے دونوں فریق متحارب نہیں رہے تھے مگر جس اتحاد کی امید کی جا رہی تھی فی الحال اس کا بھی امکان نہ تھا۔ تو یہ سوال خود بخود   پیدا ہو رہا تھا کہ آئندہ باہمی معاملات پر فریقین کی حیثیت کیا ہوگی؟ اس سوال کو اس مجلس میں طے کرنا حَکَمین کی ذمہ داری تھی۔ چونکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ علمی لحاظ سے فوقیت رکھتے تھے، اس لیے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے آخر کار انہی سے دریافت کیا:

مَا تَرٰی فِیْ هٰذَا الْأَمْرِ؟
 (آپ اس معاملے میں کیا فرماتے ہیں؟)

        جواب میں حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حیثیت واضح کرتے ہوئے کہا:

”أَرٰی أَنَّهٗ مِنَ النَّفَرِ الَّذِيْنَ تُوُفِّيَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ.“
”حضرت علی میرے علم کے مطابق ان ہستیوں میں سے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اپنی وفات تک راضی تھے۔“ (مطلب صاف تھا، یعنی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے راضی تھے تو اگر آپ بھی غیر مشروط طور پر حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بیعت پر راضی ہو جاتے تو بہتر تھا۔)

        ہرشخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ شرعی اعتبار سے یہ جواب کس قدر مضبوط، مدلل اور لاجواب تھا۔

        اب حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے معاملے کے دوسرے پہلو کی وضاحت کے لیے دریافت کیا:

فَأَيْنَ تَجْعَلُنِيْ أَنَا وَمُعَاوِيَةَ؟
 (تو اس صورتِ حال میں آپ مجھے اور معاویہ کو کیا حیثیت دیتے ہیں؟)

        (یعنی اگر ہم اپنے موقف پر برقرار رہیں تو ہماری کیا حیثیت ہوگی اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے تعلق کس نوعیت کا ہوگا؟ آیا ہمیں آپ باغی اور متحارب گروہ شمار کریں گے یا ایک الگ حکومت و ریاست کی حیثیت دیں گے؟)

        حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر نہ صرف شرعی دلائل اور زمینی حقائق سے آگاہ بلند پایہ فقیہ کا کردار پیش کیا بلکہ ایک ذہین سفارت کار ہونے کا بین ثبوت بھی فراہم کیا۔ انہوں نے ایک طرف خلیفہ راشد کے غالب مرتبے کا بھی دفاع کیا، اور دوسری طرف فریقِ ثانی کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے امکان کو بھی رد نہیں کیا۔ ساتھ ہی دوستانہ تعلقات کا اشارہ بھی دے دیا۔ ان کے انتہائی نپے تلے اور جامع الفاظ یہ تھے:

”إِنْ يَسْتَعِنْ بِكُمَا فَفِيْكُمَا مَعُوْنَةٌ وَإِنْ يَسْتَغْنِ عَنْكُمَا فَطَالَمَا مَا اسْتَغْنَی اَمْرُ اللهِ عَنْكُمَا.“
”اگر حضرت علی تم سے تعاون طلب کریں تو تمہار اندر تعاون کی صلاحیت ہے۔ اگر وہ تم سے بے نیاز رہیں تو بھی (کوئی بات نہیں) کہ بہت عرصہ (یعنی تمہارے اسلام لانے سے قبل) اللہ کا نظام تمہارے بغیر بھی چلتا رہا۔“

آخری اعلامیہ: مجلسِ تحکیم کے بعد فریقین کی حیثیت:

        حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ گویا تحکیم کی مجلس کا مختصر اعلامیہ تھے جسے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی خاموش تائید حاصل تھی۔ اس کا حاصل یہی تھا کہ جب تک متنازعہ مسئلے کا حل طے نہیں ہو جاتا، تب تک فریقین دو الگ الگ علاقوں پر قابض رہیں گے۔ دو طرفہ تعلقات کی نوعیت آئندہ کے حالات پر منحصر ہوگی۔

        اس مختصر اعلامیے کے بعد فریقین کسی ہنگامہ آرائی کے بغیر دُومۃ الجندل سے اپنے اپنے علاقوں کو لوٹ گئے۔

 ڈاکٹر اکرام ضیاء عمری تحکیم کے بے نتیجہ ہونے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:

        ”تحکیم کے بے نتیجہ ہونے کی وجہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی شخصیت نہ تھی، بلکہ اس کی وجہ تنازعے کا حل مشکل ہونا، فریقین کا اپنے سابقہ موقف پر اصرار کرنا تھا۔“

 غلط روایات کیسے مشہور ہوئیں؟

        سازشی عناصر کو فریقین کے اختلافات برقرار رہنے کے باوجود اس قسم کے اعلامیے کی ہرگز توقع نہ تھی۔ اس لیے جھلاہٹ سے ان کا برا حال ہو گیا۔ انہوں نے اپنے غم و غصے کا سارا زور حضرت ابو موسیٰ اشعری اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر کے نکالا۔

        اس مہم کے تحت پھیلائی گئی روایات کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نمائندے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سادہ لوح انسان تھے، جبکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے نمائندے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ جھوٹے اور دغا باز شخص تھے۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے کہنے پر حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے مجمع عام میں حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو برطرف کرنے کا اعلان کیا، جس کے بعد حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے دھوکا بازی کرتے ہوئے غیر متو قع طور پر یہ آواز لگا دی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو تو انہی کے نمائندے نے برطرف کر دیا ہے مگر میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو باقی رکھتا ہوں۔ اس دغا بازی پر وہاں موجود صحابہ اور تابعین میں باہم لعن طعن، گالم گلوچ اور مار  پیٹ ہوئی اور فریقین کے دل نفرت و عداوت سے بھر گئے۔


اکابر صحابہ کرام نے واقعے کی تحقیق کی!

        اس جھوٹے پروپیگنڈے کی گونج اکابر صحابہ کرام اور تابعینِ عظام تک بھی پہنچ گئی تھی، چنانچہ انہوں نے اس کی تحقیق کی تو پتا چلا کہ تحکیم کے اجتماع میں ایسی بد مزگی نہیں ہوئی تھی۔

        چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مصاحب حضرت حُصَین بن منذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

        ”میں عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے کہا: ’مجھے اس فیصلے سے آگاہ فرمائیے جس کا ذمہ دار آپ اور ابوموسیٰ اشعری کو بنایا گیا تھا۔ آپ نے اس معاملے میں کیا طے کیا تھا؟‘ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ’اس بارے میں لوگوں نے جو کہنا تھا، وہ کہہ چکے ہیں، مگر اللہ کی قسم! بات اس طرح نہیں ہوئی جس طرح لوگوں نے کہی ہے۔‘“

        معلوم ہوا کہ اکابرِ امت نے جھوٹے پروپیگنڈے کی تردید کی تھی۔ نیز ان میں سے کسی سے بھی قضیہ تحکیم کی بابت کوئی ایسی روایت منقول نہیں جو مذکورہ قسم کی مشکوک روایات کی تائید کرتی ہو۔

حَکَمین اور قوتِ نافذہ رکھنے والی عدالت یا مقتدر حکومت میں فرق:

        یاد رہے کہ تنازعات دور کرنے کا اولین اور معیاری طریقہ متنازعہ امر کو غیر جانب دار اور قوتِ نافذہ رکھنے والی عدالت یا بااختیار مقتدر حکومت کے سامنے  پیش کرنا ہے۔ پیغمبرِ عالم  صلی اللہ علیہ وسلم  کی رحلت کے بعد عالمِ اسلام میں ملکی و بین الاقوامی اعلیٰ ترین عدالت فقط خلیفہ کی تھی اور قانونی و سیاسی لحاظ سے اس سے اونچا مرتبہ کوئی اور نہ تھا۔ اب چونکہ یہاں خود خلیفہ راشد کو فریق بنا دیا گیا تھا اور اس سے بلند کوئی بارگاہ یا قوتِ نافذہ تھی ہی نہیں، جہاں قضیہ  پیش کیا جاسکتا۔ لہٰذا ایسے معیاری طریقے سے تصفیے کا کوئی سوال ہی  پیدا نہیں ہوتا تھا جس سے مسئلہ قطعی طور پر حل ہوسکتا۔


        عقلاً، نقلاً اور عرفاً یہ ثابت ہے کہ ایسے ناگزیر حالات میں متحارب فریقین کی طرف سے مصالحتی نمائندے بھیجے جاتے ہیں جو مل کر فریقین کے لیے مسئلے کا قابل قبول حل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کام اپنا موقف سمجھانا، دوسرے کا موقف سمجھنا اور مسئلے کا کوئی مناسب حل نکالنا ہوتا ہے۔ یہاں بھی ایسی ہی صورت حال تھی۔ پس ناگزیر حالات میں حکمین کا طریقہ ہی اختیار کیا جا سکتا تھا اور ایسا ہی کیا گیا۔ مگر ثالثوں یا حکمین کی اصل حیثیت اتنی ہی ہوتی ہے کہ وہ صلح کا طریقہ تجویز کرنے کا اختیار رکھنے والے نمائندے ہوتے ہیں۔ اس کوشش میں یہ امکان بھی ہوتا ہے کہ وہ کسی حل پر متفق نہ ہوسکیں۔ اور تقدیر کی بات کہ یہاں ایسا ہی ہوا۔ اس لیے کوئی شخص حکمین کو قوت نافذہ رکھنے والی عدالت پر قیاس کر کے یہ اعتراض نہ کرے کہ آخر حکمین کے کل بیٹھنے کے باوجود مسئلہ حل کیوں نہ ہوا۔

شام میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خودمختار حکومت کا قیام:

        تحکیم کے بے نتیجہ ہونے سے، عراق اور شام کے ایک پرچم تلے آنے کے امکانات بظاہر ختم ہو گئے۔ لہذا دو ماہ بعد ذی قعدہ ۳۷ھ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے باقاعدہ ایک حکمران کے طور پر اہل شام سے  بیعت لی اور اپنی باضابطہ حکومت کا اعلان کر دیا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic