Misr ka Qaziya: Hazrat Muawiya (R.A) ka Qabza aur Muhammad bin Abi Bakr ka Qatl

مصر کا قضیہ

        حضرت معاویہؓ جب صفین کے بعد اس شرعی دلیل کے تحت کہ ان کے نزدیک عراقی حکومت غیر آئینی تھی، جس سے قتال مشروع تھا، مختلف مہمات کے ذریعے اپنی آزاد حکومت کی توسیع کی کوششیں کرتے رہے مگر انہیں قطعاً کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ ڈیڑھ برس بعد ۳۸ھ میں انہیں پہلی بار مصر پر قبضے کے ذریعے اپنی حکومت کی توسیع کا موقع ملا۔



        مصر میں سیدنا علیؓ کی خلافت بہت مستحکم نہ تھی کیوں کہ جغرافیائی لحاظ سے مصر، شام و فلسطین کے ساتھ لگتا تھا اور وہاں اپنی فوج کو اہل شام کے مقابلے میں مضبوط رکھنا مشکل تھا۔ نیز  وہاں عثمانی تحریک کے لوگ بھی اچھی خاصی تعداد میں موجود تھے جو حضرت علیؓ سے  بیعت کے لیے تیار نہ تھے۔ اس بحرانی کیفیت کے باعث تین برسوں کے دوران مصر میں حضرت علیؓ کے تین حاکم: محمد بن ابی حذیفہ، قیس بن سعدؓ اور اشتر نخعی یکے بعد دیگرے مقرر ہوئے۔

        حضرت معاویہؓ مصر پر قبضہ اس لیے ضروری سمجھتے تھے کہ سیدنا عثمان غنیؓ کے آخری دور میں مصر شر پسندوں کی تحریک کا اہم مرکز بن چکا تھا۔ مفسدین کا بڑا قافلہ مصر ہی سے مدینہ گیا تھا۔ اس وقت حضرت عثمانؓ کی طرف سے مصر کے گورنر عبداللہ بن ابی سرحؓ تھے۔ حضرت عثمانؓ کے خلاف شر پسندوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے وہ ۳۵ھ کے آخر میں عقبہ بن مالک کو اپنا نائب بنا کر مصر سے نکل پڑے تھے، ان کے جاتے ہی باغی تحریک کے رہنما محمد بن ابی حذیفہ نے دارالحکومت فسطاط پر قبضہ کر کے عقبہ بن مالک کو نکال دیا تھا۔ ابن ابی سرحؓ فلسطین  پہنچے تھے کہ پیچھے بغاوت کی اطلاع ملی، وہ پلٹے مگر باغیوں نے انہیں مصر کی سرحد پر روک لیا۔ اس کے بعد وہ عسقلان چلے گئے جہاں انہیں حضرت عثمانؓ کی شہادت کی خبر ملی۔ وہ وہیں گوشہ نشین ہو گئے اور کچھ مدت بعد وہیں فوت ہو گئے۔

حضرت معاویہؓ کا مصر پر  پہلا حملہ اور محمد بن ابی حذیفہ کا قتل:

        اس دوران مدینہ منورہ میں حضرت علیؓ خلیفہ بن چکے تھے۔ انہوں نے جس طرح دیگر باغیوں سے  بیعت لے کر انہیں خدمات سپرد کیں، اسی طرح سیاسی مصلحت کے تحت محمد بن ابی حذیفہ کو بھی مصر کی گورنری پر برقرار رکھا۔ مگر یہ صورت حال حضرت معاویہؓ کے لیے قابل برداشت نہ تھی کیونکہ وہ حضرت عثمانؓ کے مخالفین کو بہر حال کیفر کردار تک پہنچانا چاہتے تھے۔ پس وہ حضرت عمرو بن العاصؓ کو ساتھ لے کر مصر کی سرحد "عریش" پر جا پہنچے۔ حریف کی پیش قدمی کی خبر سن کر محمد بن ابی حذیفہ نے بھی سرحد پر پہنچ کر عریش کے قلعے میں مورچہ بندی کر لی تھی۔ شامی فوج نے قلعے کا محاصرہ کر کے ایسی سنگ باری کی کہ مصری فوج کو ہتھیار ڈالنا پڑے۔ اس کے بعد محمد بن ابی حذیفہ کو ساتھیوں سمیت قتل کر دیا گیا۔ عریش کے بعد دریائے نیل تک صحرائی علاقہ تھا اور فسطاط میں دفاعی انتظامات غیر معمولی تھے۔ اس لیے شامی قائدین نے مزید پیش قدمی کو مناسب نہ سمجھا اور واپس چلے گئے۔

مصر میں قیس بن سعدؓ کی گورنری:

        محمد بن ابی حذیفہ کے قتل کی خبر سن کر حضرت علیؓ نے حضرت قیس بن سعدؓ کو مصر کا گورنر مقرر کر دیا۔ انہوں نے مصر جا کر عوام سے حضرت علیؓ کے لیے  بیعت لے لی، مگر ایک علاقے "خِرِبتا" کے دس ہزار افراد نے  بیعت کو اس وقت تک مؤخر رکھنے کا اعلان کیا جب تک حضرت عثمانؓ کا قصاص نہیں لیا جاتا۔ ان میں حضرت مَسلمہ بن مُخلد اور حضرت مُعاویہ بن خدیجؓ نمایاں تھے۔ قیس بن سعدؓ نے بصیرت سے کام لیتے ہوئے ان کی بیعت کو مؤخر رکھا اور کوئی سختی نہ کی۔

        سبائی عناصر مصر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنا چاہتے تھے مگر حضرت قیس بن سعدؓ کے تدبر و سیاست کی وجہ سے وہ یہ خواہش پوری نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ وہ حضرت علیؓ اور حضرت قیس بن سعدؓ کے درمیان غلط فہمیاں  پیدا کرنے کی سازشیں کرنے لگے۔ حضرت قیس بن سعدؓ نے "خربتا" کے شہریوں کو بیعت نہ کرنے کی چھوٹ دی ہوئی تھی۔ سبائی عناصر اسے قیس بن سعدؓ کی مرکز سے غداری کا نام دینے لگے۔ اس طرح وہ حضرت علیؓ کو قیس بن سعدؓ سے بدگمان کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ وہ یہ چاہتے تھے کہ کسی طرح ان کے من پسند رئیس اشتر نخعی کو وہاں کا حاکم بنا دیا جائے۔

اشتر نخعی کی مصر روانگی اور اچانک موت:

        یہ دیکھ کر حضرت علیؓ کے قابل بھتیجے عبداللہ بن جعفرؓ کو ایک بات سوجھی اور انہوں نے بڑے اصرار کے ساتھ حضرت علیؓ سے عرض کیا: "آپ اشتر کو مصر بھیج ہی دیں۔ اگر اس نے مصر کو سنبھال لیا تو آپ کی منشا پوری ہو جائے گی۔ اگر نہیں، تو آپ کو اس سے نجات مل جائے گی۔" اشتر نخعی کی تیز مزاجی اور خود سری سے حضرت علیؓ بھی تنگ آ چکے تھے۔ اس لیے انہیں بھی اشتر کو مصر بھیجنا ہی بہتر لگا، چنانچہ قیس بن سعدؓ کو مصر کی حکومت سے معزول کر کے اشتر کو حاکم بنا کر روانہ کر دیا گیا۔ اشتر مصر کی سرحد پر ساحلِ قلزم تک پہنچا جہاں اس کا استقبال ہوا۔ خاطر تواضع کرنے والوں نے اسے شہد کا شربت پلایا جس کے بعد اچانک اس کی موت واقع ہو گئی۔

        حضرت علیؓ کو اطلاع ہوئی تو فرمایا: "لِلْیَدَیْنِ وَالْفَم"۔ (منہ کے بل گر کر مرا)

        بعض لوگوں نے حضرت معاویہؓ کو اشتر کی موت میں ملوث قرار دیا ہے مگر اس کا کوئی ثبوت نہیں۔

سیدنا معاویہؓ کا مصر پر قبضہ اور محمد بن ابی بکر کا قتل:

        اشتر نخعی کی موت کے بعد حضرت علیؓ نے محمد بن ابی بکر کو مصر کا حاکم بنا کر بھیجا۔ محمد بن ابی بکر ماضی میں حضرت عثمانؓ کے مخالف گروہ میں  پیش  پیش رہے تھے، اس لیے ان کی شہرت اچھی نہیں رہی تھی، چنانچہ انہیں لوگوں کو مطمئن کرنے میں بڑی مشکلات  پیش آئیں۔ انہوں نے مصر پہنچ کر اہل خربتا کو  بیعت کے لیے ایک ماہ کی مہلت دی اور جب وہ اپنے غیر جانبدارانہ موقف پر قائم رہے تو ان سے جنگ شروع کر دی۔ یہ سن ۳۸ ہجری کا واقعہ ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں مصر میں حالات بہت کشیدہ ہو گئے۔

        دس ہزار جنگجو جو حضرت معاویہ بن خدیج اور مَسلمہ بن مخلدؓ کی کمان میں تھے، محمد بن ابی بکر سے مرعوب نہ ہوئے اور مقابلے پر ڈٹ گئے۔ ان ہم نواؤں کو ساتھ ملا کر حضرت معاویہؓ کو مصر پر قبضے کا بہترین موقع مل گیا۔ انہوں نے حضرت عمرو بن العاصؓ کو لشکر دے کر مصر بھیج دیا۔ محمد بن ابی بکر کے لیے  بیک وقت اندرونی و بیرونی دو محاذوں پر لڑنا مشکل ہو گیا۔ جلد ہی حضرت عمرو بن العاصؓ نے انہیں شکست دے کر مصر پر قبضہ کر لیا۔

        محمد بن ابی بکر اس کشمکش میں گرفتار ہوئے اور قتل کر دیے گئے۔ یہ ۳۸ھ کا واقعہ ہے۔

محمد بن ابی بکر کے حالات پر ایک نگاہ

        (محمد بن ابی بکر  نیک و صالح اور عبادت گزار شخص تھے۔ ان کی والدہ مشہور صحابیہ اسماء بنت عمیس تھیں جن کا پہلا نکاح جعفر بن ابی طالبؓ سے ہوا تھا۔ جن سے محمد بن جعفر  پیدا ہوئے۔ جعفرؓ جنگ موتہ میں شہید ہوئے تو اسماءؓ کا دوسرا نکاح حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ہوا۔حجۃ الوداع کے سفر میں ان کے ہاں محمد بن ابی بکر کی ولادت ہوئی تھی۔ اس بچے کو شیر خوارگی میں درِ نبوی کی ایک ادنیٰ جھلک نصیب ہو گئی۔ محمد بن ابی بکر اڑھائی سال کے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی وفات ہو گئی۔ اب اسماء بنت عمیسؓ کا نکاح حضرت علیؓ سے ہوا اور یہ دونوں یتیم بچے محمد بن جعفر اور محمد بن ابی بکر ان کے ہاں پرورش پانے لگے۔ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ بھی اس بھائی سے بے حد  پیار کرتی تھیں۔

        افسوس کہ ایسے نیک گھرانے کا یہ نوجوان شرپسندوں کے بہکاوے میں آ کر حضرت عثمانؓ کے خلاف تحریک میں شامل ہو گیا۔ تاہم آخری لمحات میں رجوع کی توفیق ہوئی۔ ثقات  کی روایت کے مطابق قاتلانہ حملے میں محمد بن ابی بکر قطعاً شامل نہیں تھے۔ 

        حضرت علیؓ کا انہیں اپنے ساتھ رکھنا اور عہدہ دینا بھی اس بات کی علامت ہے کہ وہ قتل کے مجرم نہیں تھے۔ البتہ بغاوت کے سنگین جرم میں بہر حال وہ شریک ہوئے تھے اور آخر کار خود بھی افسوس ناک انجام سے دوچار ہوئے۔ 


        محمد بن ابی بکر کے قتل کے بعد ان کے یتیم لڑکے قاسم کو حضرت عائشہ صدیقہؓ نے پالا جس کی وجہ سے یہ قاسم بن محمد مدینہ کے نامور علماء و فقہاء میں شمار ہوئے۔ امام بخاریؒ ان کی روایت نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: "وکان افضل اھل زمانہ"  عبداللہ بن زبیرؓ فرماتے تھے: میں نے اس نوجوان سے زیادہ حضرت ابوبکرؓ کے مشابہ کوئی شخصیت نہیں دیکھی۔" امام مالکؒ کہتے تھے: قاسم اس امت کے فقہاء میں سے تھے۔ قاسم بن محمدؒ وضو کرتے ہوئے اکثر بار بار یہ دعا کرتے تھے: "اللھم اغفر لی ابی  من ذنبہ فی عثمان" (اے اللہ! حضرت عثمان کے بارے میں میرے باپ کا گناہ بخش دے)۔

        قاسم بن محمد، حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے دور خلافت تک حیات تھے۔ ان کے کچھ حالات عمر بن عبدالعزیزؒ کی خلافت کے ضمن میں آئیں گے۔)


        حضرت علیؓ کو ان کے قتل کا سخت صدمہ ہوا اور فرمایا:

        "میں انہیں اپنا بیٹا سمجھتا تھا۔ وہ بھائی بھی تھے اور بھتیجے بھی۔ اللہ سے امید ہے کہ وہ صبر کا اجر دے گا۔"

مصر پر قبضے کے اثرات:

        مصر  پر حضرت معاویہؓ  کا قبضہ خلافت علویہ کے لیے عظیم نقصان تھا کیوں کہ اس طرح ایک وسیع علاقہ حضرت علیؓ کے قبضے سے نکل گیا اور شامی حکومت افریقہ تک پھیل گئی تھی۔ مگر دوسری طرف یہ اقدام مقامی مسلمانوں کے لیے امن کا باعث ہوا کیوں کہ وہاں سیاسی استحکام  پیدا ہو گیا اور خانہ جنگی کی کیفیت ختم ہو گئی۔ ویسے بھی مصر زمینی طور پر شام سے ملا ہوا تھا، دونوں کے دفاع کی مضبوطی ایک ہاتھ میں ہونے پر منحصر تھی۔ حضرت معاویہؓ اپنی حکومت کے استحکام کے لیے مصر کو شام کے ساتھ ملانا ضروری تھا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ مصر پر قبضے کے بعد انہوں نے ثابت کیا کہ وہ عالم اسلام کے مغربی حصے کو بخوبی سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

        اس دور میں رومی مصر میں خفیہ طور پر مداخلت شروع کر چکے تھے اور وہاں سبائی گروہ بھی بدستور   پنپ رہا تھا۔ حضرت معاویہؓ کے گورنر عمرو بن العاصؓ نے وہاں نظام کی ابتری کو دور کیا اور غیر ملکی ایجنٹوں کا کھوج لگا کر ان کا سدباب کیا، چنانچہ ایک ایسا قبطی بھی اس دار و گیر میں پکڑا گیا جو یورپی طاقتوں کو خطوط لکھ کر مسلمانوں کی کمزوریوں اور راز کی باتوں سے آگاہ کیا کرتا تھا۔ اس کے پاس سے جو دولت برآمد ہوئی وہ ایک کروڑ تین لاکھ دینار (تقریباً ۲۵ ارب روپے) تھی، جسے بحکمِ سرکار ضبط کر لیا گیا۔

        ایک عام آدمی کے پاس اتنی دولت غیر ملکی عطیات ہی کا کرشمہ ہوسکتی تھی، تاکہ وہ اس سے مقامی لوگوں کے ضمیر اور ایمان کا سودا کرے اور فتنہ و فساد کے شعلے بھڑکائے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic