Jang-e-Siffin ke Baad Sarhadi Jharpen

سرحدی جھڑپیں

        جنگ صفین کے بعد بھی عالم اسلام کا اکثر علاقہ جو حجاز، یمن، عراق، فارس اور خراسان سے بلوچستان تک پھیلا ہوا تھا، خلافت راشدہ کے پرچم تلے تھا۔ حضرت معاویہؓ کی عمل داری صرف ایک صوبے یعنی شام تک محدود تھی۔ شام کے مغرب میں بھی مصر اور اس کے ماتحت سارا افریقہ خلافت راشدہ کے تحت تھا۔


        صفر ۳۷ ھ میں معرکہ صفین کے بعد ہونے والی جنگ بندی، رمضان ۳۷ ھ میں تحکیم کی مجلس تک برقرار رہی۔ اس مجلس میں فریقین کا کوئی باقاعدہ معاہدہ نہیں ہوا۔ بس گفتگو سے ایک دوسرے کے رجحانات اور صلح کے امکانات کا اندازہ لگایا گیا۔ ابوموسیٰ اشعریؓ کے آخری الفاظ نے ظاہر کر دیا کہ وہ اہل شام سے باوقار مصالحانہ تعلقات کا راستہ کھلا رکھیں گے۔ ذی قعدہ ۳۷  ہجری میں حضرت معاویہؓ نے شام میں اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد نو ماہ تک سیاسی منظر نامے پر سکوت طاری رہا۔ فریقین میں کوئی جھڑپ ہوئی نہ صلح کی کوئی گفت و شنید۔

        تاریخ سے واقف حضرات سے مخفی نہیں کہ جب بھی کوئی جنگ ختم ہوتی ہے تو امن کا زمانہ یکدم نہیں آجاتا اور فریقین کے درمیان باہمی معاملات فوراً کسی پختہ مثبت سطح پر قائم نہیں ہو جاتے، بلکہ کچھ زمانہ ایسا گزرتا ہے جس میں جھڑپیں جاری رہتی ہیں، ہر ایک دوسرے کی طاقت اور اثر و رسوخ کا اندازہ لگاتا ہے، دوطرفہ تعلقات کی نئی نوعیت کو سمجھتا اور پھر اپنی حکمت عملی طے کرتا ہے۔ چونکہ اسلامی تاریخ میں ایسے حالات پہلی بار  پیدا ہوئے تھے، اس لیے فریقین کو صلح کے کسی معاہدے تک آتے آتے خاصا وقت لگا۔ ویسے بھی جنگ صفین میں عراقیوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے شامی سپاہیوں کے قبائل کا غصہ یقیناً اتنی جلد ٹھنڈا نہیں ہو سکتا تھا اس لیے شام میں رائے عامہ کا عراقی حکومت کے خلاف رہنا فطری بات تھی۔ اہل شام، اہل عراق کے مقابلے میں خود کو مظلوم تصور کرتے تھے۔

        حضرت معاویہؓ حضرت علیؓ کو افضل اور اشرف ماننے کے باوجود اب بھی سابقہ موقف پر قائم تھے۔ فریقین میں کوئی معاہدہ بھی نہیں تھا اور ہر ایک بدستور دوسرے کو باغی تصور کرتا تھا۔ اسی لیے حضرت معاویہؓ یہ ضروری سمجھتے تھے کہ حضرت علیؓ کے ماتحت علاقوں کو زیر نگیں کرنے کی کوشش کریں۔ لہٰذا انہوں نے حضرت علیؓ کے ماتحت علاقوں پر حملوں اور سرحدی خلاف ورزیوں کا ایک سلسلہ شروع کر دیا، جو لگ بھگ دو سال تک جاری رہا۔ اس دوران ان کی افواج نے مصر پر قبضہ بھی کیا جس کا ذکر آگے آ رہا ہے۔ اس کشمکش کے اہم واقعات کا خلاصہ یہ ہے:

        ➊ شعبان ۳۸ ھ میں حضرت علیؓ کوفہ اور بصرہ کی افواج کو ملا کر خوارج سے لڑائی کے لیے نکلے۔ بصرہ کے گورنر عبداللہ بن عباسؓ بھی حضرت علیؓ کے ساتھ چلے گئے اور شہر فوج سے خالی ہو گیا۔ ایسے میں بصرہ میں موجود عثمانی تحریک کے کارکنوں نے مو قع غنیمت سمجھا اور حضرت معاویہؓ کو بصرہ پر قبضے کی دعوت دے ڈالی۔ حضرت معاویہؓ نے عبداللہ بن عمر والحضرمی کی قیادت میں ایک دستہ وہاں بھیج دیا۔ بصرہ کے نائب گورنر زیاد نے شہر سے فرار ہو کر اپنی جان بچائی اور حضرت علیؓ کو جو خوارج کے خلاف مصروف جہاد تھے، اس مصیبت کی اطلاع دی۔ حضرت علیؓ نے خبر ملتے ہی اپنے مشہور جرنیل جاریہ بن قدامہؓ کو بصرہ بھیج دیا۔ شامی حملہ آور بصرہ کی ایک عمارت "دار سنبیل" میں ٹھہرے ہوئے تھے کہ جاریہ بن قدامہؓ نے انہیں وہیں گھیر لیا اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا۔ جب وہ نہ مانے تو عمارت پر آتش باری کی گئی جس سے تمام حملہ آور جاں بحق ہو گئے۔

        ➋ ۳۹ ھ میں حضرت معاویہؓ نے دو ہزار آدمی عراق کے سرحدی شہر "عین التمر" پر قبضے کے لیے روانہ کیے مگر مقامی لوگوں نے قلت کے باوجود ڈٹ کر مقابلہ کیا اور شامی فوج ناکام واپس ہو گئی۔

        ➌ اسی سال حضرت معاویہؓ نے چھ ہزار افراد کو انبار اور مدائن پر حملے کے لیے بھیجا۔ یہ فوج تاخت و تاراج کے بعد واپس ہو گئی۔ حضرت علیؓ کے حکم سے سعید بن قیس تعاقب میں گئے مگر حملہ آور بہت دور جا چکے تھے۔

        ➍ اسی سال حضرت معاویہؓ نے عبداللہ بن مَسعَدہ فزاری کو سترہ سو سپاہی دے کر جزیرۃ العرب بھیجا تا کہ وہ پہلے تیماء اور پھر مکہ و مدینہ کے لوگوں کو مطیع بنائیں۔ حضرت علیؓ نے جزیرۃ العرب کے دفاع کے لیے مسیب ابن نجبہ فزاریؓ کو روانہ کیا جنہوں نے تیماء میں شامی فوج کو جالیا۔ گھمسان کی جنگ کے بعد شامی پسپا ہو کر ایک قلعے میں محسور ہو گئے، جب کوئی چارہ نہ دیکھا تو رحم کی درخواست کی۔ مسیب ابن نجبہؓ نے نرمی سے کام لیتے ہوئے انہیں شام واپس جانے دیا۔

        ➎ اسی سال حضرت معاویہؓ نے ضحاک بن قیسؓ کو تین ہزار سپاہیوں کے ساتھ عراق کے سرحدی علاقوں: واقصہ اور ثعلبیہ پر حملے کا حکم دیا مگر حضرت علیؓ کی طرف سے حجر بن عدیؓ چار ہزار افراد کے ساتھ سرحدوں کے دفاع کے لیے پہنچ گئے اور تدمُر کے قریب حملہ آوروں سے ٹکرلے  کر انہیں پسپا کر دیا۔

        ➏ ۳۶ ھ سے ۳۸  ہجری تک حج کے موقع پر ہر سال فریقین میں سے ہر ایک مکہ اور مدینہ کے انتظامات سنبھالنے کی کوشش کرتا تھا۔ جس کے دستے پہلے پہنچ جاتے وہی امیر حج کا تقرر کر دیتا۔ اس کشمکش سے لوگوں کو پریشانی ہوتی تھی۔ اس لیے امہات المؤمنین میں سے ام سلمہؓ اور ام حبیبہؓ نے آپس میں کہا:

        "ہم حضرت علیؓ اور حضرت معاویہؓ کو خطوط لکھیں کہ ان لشکروں کو جو لوگوں کو خوفزدہ کر دیتے ہیں، اس وقت تک موقوف رکھیں جب تک امت آپ میں سے کسی ایک پر متفق نہیں ہو جاتی۔"

        ام حبیبہؓ نے اپنے بھائی حضرت معاویہؓ کو اور ام سلمہؓ نے حضرت علیؓ کو سمجھانے کی ذمہ داری لے لی، بعض قریشی و انصاری حضرات کو سفیر بنا کر دونوں حضرات کو خطوط بھیجے گئے۔ نتیجے میں حضرت معاویہؓ امارت حج سے دستبردار ہونے کے لیے آمادہ ہو گئے۔ حضرت علیؓ بھی تیار ہو گئے تھے مگر حضرت حسنؓ نے اسے خلاف مصلحت قرار دے کر انہیں روک دیا۔ غالباً اس کی وجہ یہ تھی کہ امارت حج طے کرنا شروع سے خلیفہ کا حق تھا، اسے ترک کرنا خلافت سے معزولی پر محمول کیا جا سکتا تھا اور منصب خلافت کی ساکھ متاثر ہوسکتی تھی۔

        ➐ ۳۹ ھ میں حج کے مو قع پر حضرت معاویہؓ نے یزید بن شجرہؓ کو حج کے انتظامات سنبھالنے کے لیے بھیجا۔ مگر وہاں حضرت علیؓ کی طرف سے مقرر کردہ امیر حج حضرت قُثم بن عباسؓ ان کے آڑے آئے۔ آخر حضرت ابوسعید خدریؓ کی کوشش سے یہ معاملہ صلح و صفائی کے ساتھ اس طرح طے پا گیا کہ امارت حج حضرت شیبہ بن عثمانؓ کے حوالے کر دی گئی۔

        ➑ ۴۰ ھ میں حضرت معاویہؓ نے اپنے سالار بُسر بن ارطاہ کو ایک بڑی فوج کے ساتھ یمن اور حجاز پر لشکر کشی کے لیے بھیجا۔ اس لشکر نے اہل حجاز کو سرنگوں کرنے کے بعد یمن تک یلغار کی اور حضرت علیؓ کے گورنر عبیداللہ بن عباسؓ کو بے دخل کر کے یمن پر قبضہ کر لیا۔ مگر کچھ دنوں بعد حضرت علیؓ کے سالار جاریہ بن قدامہؓ تازہ دم فوج لے کر آئے تو شامی فوج مقابلے پر نہ ٹھہر سکی اور اسے یمن اور حجاز سے نکلنا پڑا۔ اس کے بعد عبیداللہ بن عباسؓ حضرت علیؓ کی شہادت تک بدستور یمن کے حاکم رہے۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic