خلافتِ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دو اہم سیاسی قضیے
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں دو ایسے اہم سیاسی قضیے پیش آئے جن کی وجہ سے بہت سے لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو طرح طرح کے الزامات دیتے ہیں:
1. حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کا قضیہ
2. یزید کی ولی عہدی
عموماً ان قضیوں کو بالکل ایک طرفہ طور پر دیکھا جاتا ہے۔ حالاں کہ انصاف کی بات یہ ہے کہ تمام روایات اور تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر ان واقعات کو پڑھا اور دیکھا بھالا جائے تاکہ ان واقعات کی صحیح صورت حال سامنے آسکے۔ اگلی سطور میں ہم ان دونوں قضیوں کو انصاف اور احتیاط کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔
1. حُجر بن عدی رضی اللہ عنہ کا قضیہ
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی سیاسی زندگی کا سب سے کٹھن، صبر آزما اور اعصاب شکن امتحان کوفہ کے بعض ایسے بزرگوں کی مرکز گریزی کی شکل میں سامنے آیا جنہیں صحبت نبوی کا شرف بھی حاصل تھا۔ ان میں حضرت عمرو بن الحِمق رضی اللہ عنہ بھی تھے جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوانی کا لطف اٹھاتے رہنے کی دعا دی تھی لہٰذا بڑھاپے کی عمر کو پہنچ کر بھی وہ جوان دکھائی دیتے تھے۔ ان کے رئیس حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ تھے جو علم وفضل اور زہد و عبادت میں ممتاز تھے۔ صحابہ کرام کے حلقے میں ان کا غیر معمولی احترام تھا۔ سازشی گروہ کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہو کر یہ حضرات کوفہ میں بدامنی کے مرتکب ہوئے تھے۔
اس کے ردِ عمل میں کوفہ کے گورنر زیاد نے حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو ان کے کئی ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے کوفہ سے دمشق بھیج دیا۔ حضرت عمرو بن الحمِق رضی اللہ عنہ فرار ہو کر موصل کے پہاڑوں میں روپوش ہوگئے تھے، جہاں سانپ کے ڈسنے سے ان کی وفات ہوگئی تھی۔
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ گرفتار کر کے دارالخلافہ دمشق لے جائے گئے اور وہاں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے بغاوت کے الزام میں انہیں ان کے سات ساتھیوں سمیت سزائے موت دے دی گئی۔ یہ واقعہ سن ۵۱ ہجری کا ہے۔ صحابہ کرام اور اکابر امت کو اس واقعے پر شدید رنج ہوا تھا۔
جہاں تک اس سانحے کے اسباب و علل اور دیگر تفصیلات کا تعلق ہے ان کا بیشتر حصہ ضعیف راویوں سے منقول ہے۔ طبری میں ”ذکر مقتل حُجر بن عدی و اصحابه“ کے عنوان سے پچیس، تیس صفحات کا مواد موجود ہے۔ جس میں سے چند سطروں کے سوا سارا واقعہ ابو مخنف سے مروی ہے۔ ان روایات میں واقعے کو یکطرفہ شکل میں پیش کیا گیا ہے جسے پڑھ کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف شدید جذبات پیدا ہوتے ہیں۔
یہ روایات بتاتی ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو بالکل ناجائز اور ظالمانہ طور پر قتل کرایا تھا۔ حضرت حجر رضی اللہ عنہ کا قصور بس یہ تھا کہ وہ منبر پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گورنروں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر ”سب و شتم“ کرتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ اسی طرح ابن زیاد خطبے کو طویل کر کے نماز میں تاخیر کرتا تھا جس پر حضرت حجر رضی اللہ عنہ نے احتجاج کیا تھا۔ ان حرکات پر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں ان کے ساتھیوں سمیت قتل کرا دیا جو ایک ظلمِ عظیم تھا۔
یہ ابو مخنف کی روایات کا خلاصہ ہے۔ مگر انصاف کی بات یہ ہے کہ حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبے کے اعتراف کے ساتھ ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے موقف کو بھی سمجھنا چاہیے۔
حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہم یہی حسن ظن رکھتے ہیں کہ انہوں نے اپنا دینی اور شرعی فریضہ سمجھ کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے عمال کے خلاف تحریک شروع کی تھی۔ دوسری طرف حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی ہم اس کے سوا کچھ اور نہیں سوچ سکتے کہ انہوں نے شرعی اور قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے حضرت حجر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو سزا دی تھی۔
ضعیف روایات اس واقعے کی ابتدا اور اس کے سبب کا ذکر کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گورنروں کے حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ پر سب و شتم کے نتیجے میں یہ فتنہ پیدا ہوا۔ صحیح اور حسن روایات اس کی نفی کرتی ہیں۔ اصل حالات کیا تھے؟ آئیے ! دستیاب تاریخی مواد کی روشنی میں ان کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیتے ہیں:
1. واقعے کا پس منظر
کوفہ میں حکومت مخالف گروہ کے کارندے حاشیہ بردار بن کر حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو ایک مدت سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکام کے خلاف بھڑکا رہے تھے۔ فطری بات ہے کہ کسی خاص مکتب فکر کے حلقے میں رہنے اور ایک طرفہ باتیں سننے والوں کو اصل حقائق اور صحیح حالات کا پورا علم نہیں ہو سکتا۔
حضرت حجر رضی اللہ عنہ ایسے ہی بزرگ تھے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مبالغہ آمیز محبت رکھنے والے گروہ ’شیعان علی‘ کے زیر اثر چلے آرہے تھے۔ یہ گروہ بنو ہاشم کی جگہ بنو امیہ کا اقتدار گوارا نہیں کرتا تھا۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
”حضرت حجر کے گرد شیعانِ علی کی کئی جماعتیں لپٹی ہوئی تھیں، یہ لوگ انہیں تقویت دے رہے تھے اور ان کے ہاتھوں حالات میں شدت پیدا کر رہے تھے، یہ لوگ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہتے تھے اور ان سے بے زاری کا اظہار کرتے تھے۔“
اس سے صاف پتا چلتا ہے کہ حضرت حجر رضی اللہ عنہ لاشعوری طور پر دوسروں کے ہاتھوں استعمال ہورہے تھے۔
2. صلح سے بے زاری
اسی گروہ کے بھڑکانے کی وجہ سے حضرت حجر رضی اللہ عنہ شروع سے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح سے بے زار تھے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے اس فیصلے پر حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے تاثرات یہ تھے:
”رسول اللہ کے بیٹے! کاش! میں یہ دیکھنے سے پہلے مر گیا ہوتا۔ آپ ہمیں عدل سے نکال کر ظلم میں لے آئے۔“
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو حضرت حجر رضی اللہ عنہ کی یہ بات بہت بری لگی تھی۔ انہوں نے فرمایا تھا:
”میں نے دیکھا کہ اکثر لوگ صلح کے خواہش مند ہیں اور جنگ سے بے زار ہیں۔ میں انہیں ان کی ناپسندیدہ چیز پر ابھارنا اچھا نہیں سمجھتا۔“
حجر بن عدی رضی اللہ عنہ یہاں سے مایوس ہو کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تھے اور انہیں بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف مشتعل کرنے کی کوشش کی اور کوفہ میں اپنے حامیوں کی طرف سے مکمل عسکری تعاون کا یقین دلایا تھا مگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی ان کی سوچ سے بے زار تھے۔ انہوں نے فرمایا تھا:
”ہم (حضرت معاویہ سے) بیعت کر چکے ہیں۔ عہد و پیمان ہوچکا ہے، اسے توڑنے کی کوئی گنجائش نہیں۔“
غرض حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے عہد و پیمان توڑنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ اس لیے اس گروہ کے لوگ ان حضرات سے بھی بددل ہو گئے اور ان میں سے بعض منہ پھٹ لوگوں نے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو ’یا مذل المؤمنین!‘ (اہل ایمان کو ذلیل کرنے والا) تک کہہ کر پکارا۔
3. حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے مکاتبت
حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی وفات تک اس گروہ کو کچھ کرنے کی ہمت نہ ہوئی، مگر سن ۴۹ یا ۵۰ ہجری میں جونہی وہ دنیا سے رخصت ہوئے، سازشی گروہ ”حبِ علی“ کے نام سے ایک بار پھر پر پرزے نکالنے لگا۔ حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ جیسے چند بزرگوں کو وہ ایک بار پھر استعمال کرنے لگے۔ یہ بزرگ اپنی سادہ طبعی، غیر معمولی اخلاص اور ہر کسی سے حسن ظن کی وجہ سے اس گروہ کے لوگوں کو سادات کا عاشق اور مجاہد تصور کرتے تھے چنانچہ حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے ایک رفیق جعدہ بن ہبیرہ مخزومی نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو (جو مدینہ منورہ میں تھے) کوفہ سے خط لکھ کر کہا:
”ہمارے تمام گروہ کی نگاہیں آپ پر مرکوز ہیں۔ وہ آپ کے ہم پلہ کسی کو نہیں سمجھتے، آپ کے بھائی حسن رضی اللہ عنہ نے جنگ کو ٹالنے کی جو کوششیں کیں، یہ لوگ اس سے واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ اپنے دوستوں کے لیے نرم اور دشمنوں کے لیے سخت ہیں اور اللہ کے کام میں بے لچک ہیں۔ اگر آپ یہ چیز (خلافت) چاہتے ہیں تو ہمارے پاس آجائیں۔“
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے جواب میں انہیں سختی سے منع کیا، اس جذباتی سوچ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی اور فرمایا:
”میرے بھائی نے جو روش اپنائی تھی، میرے خیال میں اللہ ہی نے انہیں اس کی توفیق عطا کی تھی اور وہ اپنے اقدام میں بالکل درست تھے۔“
حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یہ بھی لکھا:
”جب تک میں زندہ ہوں، اللہ حضرت معاویہ کو کسی تکلیف میں مبتلا نہیں ہونے دے گا۔“
4. فتنہ پرور لوگوں کے حلقے کے اثرات
اس کے بعد تو حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو بالکل پُر امن ہونا چاہیے تھا مگر وہ ان فتنہ پرور لوگوں کے حلقے سے باہر نہ نکل پائے جن کا مقصد ہی شر انگیزی تھا۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ کے بقول یہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہتے، انہیں ظالم قرار دیتے، حکام اور امراء پر اعتراضات کرتے، کسی بھی بہانے ان کی تردید کے درپے رہتے، ان معاملات میں تشدد اور مبالغہ کرتے، شیعان علی کی حمایت کرتے اور دین میں انتہا پسندی اختیار کرتے۔
گویا یہ مسلمانوں کا وہ سادہ لوح گروہ تھا جو دراصل سبائیوں کے ہاتھوں استعمال ہورہا تھا۔ حضرت حجر اور حضرت عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہما کی حسن ظن اور غلط فہمی کی وجہ سے ان لوگوں کی سرپرستی کر رہے تھے۔ ان بزرگوں کے اخلاص، علم، اور للہیت میں کسی کو کوئی شک نہ تھا، مگر ان کی سرگرمیاں اُمت کی سلامتی کے لیے خطرناک تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ امت کے اکثر صحابہ و تابعین اور خود حضرات حسنین کریمین رضی اللہ عنہما، ان کے لیے محبت اور عزت و احترام کے جذبات رکھنے کے باوجود ان سرگرمیوں میں ان کی حمایت نہ کر سکے۔
5. احتجاجی تحریک کا آغاز
آخر وہ وقت آگیا کہ ان لوگوں نے حکومت کے خلاف کھلم کھلا احتجاجی تحریک کا آغاز کیا۔ کوفہ کے گورنر حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نماز جمعہ کے خطبے میں حسب معمول حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حق میں دعائے رحمت اور ان کے قاتلوں کے خلاف بددعا کر رہے تھے کہ حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ایسا زور دار نعرہ لگایا کہ آواز مسجد کے باہر تک گونج گئی۔ پھر حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو کہنے لگے:
”اے شخص! بڑھاپے کی وجہ سے تجھے یہ بھی شعور نہیں کہ تو کس کی محبت میں مرا جا رہا ہے۔ ہمارے وظیفے جاری کرنے کا حکم دے کہ تو نے ہی انہیں روک رکھا ہے، حالاں کہ تجھے اس کا حق نہیں۔ تجھ سے پہلے کسی نے ہمارے وظیفوں کا لالچ نہیں کیا۔ تجھے امیر المؤمنین (حضرت علی رضی اللہ عنہ) پر تنقید کرنے اور مجرموں (بنو امیہ) کی تعریف کا بڑا چسکا ہے۔“
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تلخ کلامی کو بڑی بردباری سے سنا اور چپ چاپ گھر تشریف لے گئے۔ ساتھیوں نے اصرار کیا کہ انہیں تنبیہ ضرور کرنی چاہیے مگر حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نہایت تحمل مزاج انسان تھے۔ فرمایا:
”میں خطا کرنے والے سے درگزر کیا کرتا ہوں۔“
6. زیاد کا کوفہ میں تقرر اور حجر بن عدی رضی اللہ عنہ سے معاملہ
سن ۵۰ ہجری میں حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوگیا۔ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بصرہ کے حاکم زیاد بن ابی سفیان کو انتظامی معاملات میں غیر معمولی قابلیت دیکھ کر کوفہ کا بھی حاکم بنا دیا۔ اس دوران کوفہ میں حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے گرد باغی گروہ کے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہو گئے تھے، وہ انہیں اپنا ”شیخ“ قرار دیتے تھے اور انہیں حکومت سے مقابلے پر ابھارتے ہوئے کہتے تھے: ”آپ اس بات کے سب سے زیادہ لائق ہیں کہ ان حکام پر تنقید کریں۔“
زیاد کے حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ سے پرانے تعلقات تھے، کیوں کہ ماضی میں دونوں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریبی رفقاء میں شامل تھے۔ زیاد کو حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے رجحانات اور ان کے گرد جمع ہونے والے لوگوں کی سرگرمیوں کا پورا علم تھا۔ اس کی کوفہ تقرری کا اہم ترین مقصد بھی یہی تھا کہ وہ حضرت حجر کو شورش پسندی سے روکے، ورنہ مشرقی سرحدوں کے اس اہم ترین شہر کا ایک بار پھر فتنہ و فساد کا مرکز بن جانا یقینی تھا۔
زیاد نے ابتدا میں حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے اکرام و اعزاز میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور اپنے قریب کرنے کی پوری کوشش کی۔ زیاد کا کہنا تھا: ”آپ میرے اس تخت پر بیٹھا کیجئے، آپ کی تمام ضروریات کا میں ذمہ دار ہوں۔“
مگر حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل حکومت کے ساتھ بدستور جارحانہ رہا۔
7. کوفہ میں زیاد کا پہلا خطاب اور حضرت حجر رضی اللہ عنہ کی ناراضی کی بنیادی وجہ:
اپنے ابتدائی خطاب میں زیاد نے اہلِ کوفہ کو امن پسندی اور اطاعت و فرماں برداری کی تلقین کرتے ہوئے کہا:
”ہم نے آزما لیا اور ہماری آزمائش بھی ہو گئی۔ ہم ماتحت رہے اور حکومت بھی کر چکے۔ ہم نے یہ دیکھا کہ بعد والوں کے حالات اسی اصول کے تحت سدھر سکتے ہیں جس سے پہلے والوں کے حالات درست رہے یعنی ایسی کامل فرمانبرداری جس میں ظاہر و باطن یکساں ہوں، غائب اور حاضر ایک جیسے ہوں، دل اور زبان یکجا ہوں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ لوگوں کی اصلاح کے لیے ایسی نرم خوئی ہونی چاہیے جس سے کمزوری کا شبہ نہ ہو اور ایسی سختی ہونی چاہیے جس میں ظلم نہ ہو۔ اللہ کی قسم! میں آپ لوگوں کے بارے میں جس معاملے کا ذمہ دار بنوں گا اسے بہرحال پورا کر کے رہوں گا۔“
اس کے بعد زیاد نے اموی حکام کے دستور کے مطابق حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تعریف کی، ان کے قاتلین کو بددعا دی اور ان پر لعنت بھیجی۔ اس پر حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہوگئے اور حسب عادت احتجاج کیا۔
دراصل حضرت حجر رضی اللہ عنہ کو یقین تھا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھی حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا قاتل مانتے ہیں اور امرائے بنو امیہ جب بھی قاتلین عثمان پر لعنت کرتے ہیں تو اس سے مراد حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ایک عاشق ایسا یقین کرنے کے بعد قاتلین عثمان کے خلاف بددعا برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ چونکہ حضرت حجر رضی اللہ عنہ کو اس کا یقین تھا، اسی لیے وہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کے خطبے میں بھی قاتلین عثمان کے لیے بددعا میں آڑے آتے رہے اور زیاد سے بھی ان کا یہی رویہ رہا۔
8. زیاد کی طرف سے معاملہ سلجھانے کی کوشش اور فہمائش:
زیاد نے حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی یہ بدگمانی دور کرنے کی کوشش ضرور کی اور انہیں الگ بلا کر کہا: ”ابو عبد الرحمن! آپ جانتے ہیں مجھے حضرت علی سے کتنی محبت ہے۔ میں آپ کو خبردار کرتا ہوں کہ آپ کوئی ناگوار بات نہ کریں۔“
مگر حضرت حجر رضی اللہ عنہ کی بدگمانی دور نہ ہوئی، آخر زیاد نے دوبارہ کوشش کی اور اس بار واضح الفاظ میں دھمکی بھی دی۔ کہا:
”ایک مدت تک میں اور آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیسے (وفادار اور جانثار بن کر) رہے، یہ مجھے بھی معلوم ہے اور آپ کو بھی۔ مگر اب صورت حال کچھ اور ہے۔ آپ کی طبیعت کی تیزی سے میں واقف ہوں۔ آپ اپنی زبان پر قابو رکھیے اور اپنے گھر میں آرام سے بیٹھیے۔ ان جاہلوں سے ہوشیار رہیے، کہیں وہ آپ کو اپنا ہم خیال نہ بنالیں۔ آپ کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ میرے ہاتھوں آپ کے لہو کی ایک بوند بھی نہ بہنے پائے۔“
حضرت حجر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں سمجھ گیا ہوں۔“ مگر جب وہ اپنے گھر گئے اور شرپسند گروہ کے لوگوں نے ان سے مل کر زیاد سے ان کی ملاقات اور گفتگو کا حال سنا تو انہیں دوبارہ زیاد کے خلاف بھڑکا دیا اور کہا:
”اس نے آپ کے ساتھ کوئی خیر خواہی نہیں کی۔“ چنانچہ زیاد کا کہنا سننا اور ڈرانا دھمکانا بے سود رہا۔
9. زیاد کی بصرہ روانگی اور کوفہ میں حالات کا تغیر:
زیاد کا چھ ماہ کوفہ اور چھ ماہ بصرہ میں گزارنے کا معمول تھا۔ جب بصرہ جانے کا وقت آیا تو اسے سب سے زیادہ اندیشہ یہی تھا کہ پیچھے حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کسی شورش کا سبب نہ بن جائیں۔ حقیقت یہ تھی کہ اگر حضرت حجر رضی اللہ عنہ پُر امن رہتے تو باقی لوگوں سے کوئی زیادہ خطرہ نہ تھا؛ کیوں کہ اصل شرپسند لوگ تھوڑے ہی تھے، مگر حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کا حلقۂ اثر بہت بڑا تھا، اس میں حضرت عمرو بن الحمق رضی اللہ عنہ جیسے صحابہ کرام، حضرت رفاعہ بن شداد جیسے درجنوں جلیل القدر تابعین اور ہزاروں صحیح العقیدہ مخلص مسلمان شامل تھے۔ یہ سب ان کے علم و فضل اور زہد و تقویٰ سے بے حد متاثر تھے۔ اگر حضرت حجر رضی اللہ عنہ کسی قسم کا کوئی اقدام کرتے تو ڈر تھا کہ بہت سے لوگ سوچے سمجھے بغیر ان کی تقلید کرلیتے اور یوں مسلمانوں کی اجتماعیت بکھر کر رہ جاتی۔ اس طرح شہادت عثمان غنی رضی اللہ عنہ یا جنگِ جمل و صفین جیسا کوئی سانحہ دوبارہ رونما ہو سکتا تھا۔ اس لیے زیاد نے بصرہ جاتے ہوئے حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ سے تفصیلی بات چیت کی اور ابتدا میں کوشش یہ کی کہ انہیں منا کر اپنے ساتھ بصرہ لے جائے۔ زیاد نے کہا:
”آپ کے ساتھ میرا جو حسنِ سلوک ہے وہ آپ دیکھ چکے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ آپ میرے ساتھ بصرہ تشریف لے چلیں۔ آپ کو پیچھے چھوڑ جانا مجھے اچھا نہیں لگتا، کیوں کہ ممکن ہے وہاں مجھے آپ کے بارے میں کوئی ایسی بات پہنچے جو ناگوار ہو۔ آپ ساتھ رہیں گے تو ایسی کوئی بات میرے دل میں نہیں آسکتی۔ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں آپ کے احساسات سے میں آگاہ ہوں اور میرے بھی بالکل یہی جذبات و احساسات تھے مگر جب میں نے دیکھا کہ اللہ نے حالات کی باگ ڈور حضرت معاویہ کے ہاتھ میں دے دی ہے تو میں اللہ تعالیٰ کو کوئی الزام نہیں دے سکتا، بلکہ میں اللہ کی رضا پر راضی ہوں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کا معاملہ جس نتیجے پر پہنچا میں اسے بھی دیکھ چکا ہوں (یعنی حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے اقتدار حضرت معاویہ کو سونپ دیا) خدارا! آپ ایسے معاملات کے ذمہ دار مت بنیے جن میں ذرا سا ملوث ہونا بھی ہلاکت کا باعث ہوتا ہے۔“ (یعنی حکومت سے ٹکر لینا اور شورش پسندی کی سرپرستی کرنا اکثر جان سے ہاتھ دھونے کا سبب بنا کرتا ہے۔)
حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ نے مرض کا عذر پیش کر کے زیاد کے ساتھ جانے سے معذرت کر لی۔
زیاد کوفہ میں عمرو بن حُریث رضی اللہ عنہ کو نائب بنا کر خود بصرہ روانہ ہوگیا۔ پیچھے وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ شیعان علی کی جتھہ بندی بڑھنے لگی۔ حضرت حجر رضی اللہ عنہ جامع مسجد میں تشریف لاتے تو یہ لوگ کھلم کھلا ان کے ساتھ ہوتے۔
حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ نے یہ رنگ دیکھ کر حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا:
”ابو عبد الرحمن! جہاں تک میں جانتا ہوں آپ اپنے بارے میں امیر (زیاد) کو ضمانت دے چکے ہیں۔ پھر آپ کے ساتھ یہ گروہ کیسا ہے؟“ حضرت حجر رضی اللہ عنہ نے قاصد کو ڈانٹ کر واپس کر دیا۔
اب کوفہ کے بعض قراء بھی ان سرگرمیوں میں شامل ہوگئے۔ اس طرح شورش پسندوں کا زور اتنا بڑھ گیا کہ کوفہ کی ریاستی قوت بے بس ہوگئی۔ نائب حاکم حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کا کوئی حکم نافذ نہیں ہو پاتا تھا۔
10. حضرت حجر رضی اللہ عنہ کا احتجاج اور زیاد کی ہنگامی طور پر کوفہ کی واپسی
ایک دن خطبے کے دوران حضرت حجر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کو بھی ٹوکا اور کنکریاں ماریں۔ آخر حضرت عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ نے تنگ آکر زیاد کو مراسلہ بھیج دیا:
”حضرت حجر اور ان کے اصحاب نے مجھے بے بس کر دیا ہے۔ اب آپ جو بہتر سمجھتے ہیں کر لیں۔“
یہ بھی لکھا: ”اگر آپ کو کوفہ کی کوئی ضرورت ہے تو پھر جو کرنا ہے جلد کریں۔“
یہ پیغام ملتے ہی زیاد تیزی سے کوفہ آگیا۔ زیاد کے آنے پر حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ تین ہزار مسلح افراد کے ساتھ نکلے اور مسجد میں تشریف فرما ہوئے۔ زیاد نے مسجد میں خطبہ دینا چاہا، ابھی اتنا ہی کہا تھا: ”بے شک یہ امیر المؤمنین کا حق ہے.....“ کہ حضرت حجر رضی اللہ عنہ نے ”جھوٹ جھوٹ“ کی آواز لگا کر بات کاٹ دی۔ پھر کنکریوں کی مٹھی پھینک ماری۔ زیاد نے منبر سے اتر کر نماز ادا کی اور گھر چلا گیا۔
11. مذاکرات کی آخری کوشش:
صورت حال نازک ہوگئی تھی۔ چنگاریاں کسی بھی وقت شعلوں میں بدل سکتی تھیں۔ زیاد نے ایک بار پھر مذاکرات کی کوشش کی اور تین صحابہ: حضرت عدی بن حاتم طائی، حضرت جریر بن عبداللہ بجلی اور حضرت خالد بن عُرفطہ رضی اللہ عنہم کو کوفہ کے شرفاء کے ایک وفد کے ساتھ حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ انہیں شورش پسند جماعت کی سرپرستی اور امراء کے خلاف زبان کھولنے سے باز آنے پر آمادہ کریں مگر جب یہ حضرات حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے اور مدعا بیان کرنے لگے تو حضرت حجر رضی اللہ عنہ نے ان کی بات سننے میں کوئی دلچسپی نہ لی۔ آخر یہ حضرات واپس آگئے اور زیاد کو ماجرا سنایا، ساتھ ہی زیاد کو اس معاملے میں نرمی برتنے کی تلقین کی، مگر زیاد ایک سخت گیر اور بے لچک قسم کا منتظم تھا اور ایسے معاملات میں چشم پوشی کا بالکل قائل نہیں تھا۔ اس نے کہا:
”اگر اب بھی میں ان سے نرمی کروں تو میں ابو سفیان کا بیٹا نہیں۔“
12. حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کی گرفتاری کی کارروائی:
زیاد نے حتمی کارروائی سے پہلے کوفہ کے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
”حمد و صلاۃ کے بعد! یاد رکھو! ظلم اور بغاوت کا انجام بہت برا ہے۔ یہ لوگ گروہ بندی کر کے مغرور ہوگئے ہیں۔ انہوں نے مجھے اپنے بارے میں پُر امن پایا تو بے باک ہو گئے۔ اللہ کی قسم! اگر تم سیدھے نہ ہوئے تو میں بیماری کا علاج اسی کی دوا (یعنی علاج بالمثل) سے کروں گا۔“
زیاد کے حکم پر پولیس افسر شداد ہلالی نے سپاہی حسین بن عبداللہ کو حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ انہیں قصر امارت میں لایا جائے۔ حضرت حجر رضی اللہ عنہ نے آنے سے انکار کر دیا۔ شداد ہلالی نے اب گرفتاری کے لیے نفری بھیج دی مگر حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں نے انہیں ڈانٹ ڈپٹ کر واپس کر دیا۔
ادھر زیاد نے کوفہ کے معززین کو جمع کیا اور ایک دھمکی آمیز تقریر کر کے انہیں حکم دیا کہ ان میں سے ہر شخص اپنے اپنے رشتہ داروں کو حجر بن عدی رضی اللہ عنہ سے الگ کرنے کی کوشش کرے۔ یہ ترکیب کارگر رہی تھی اور شرفاءِ کوفہ کے سمجھانے بجھانے سے اکثر لوگوں نے حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کا ساتھ چھوڑ دیا۔ اب پولیس نے حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ فریقین میں جھڑپ ہوئی۔ متعدد افراد زخمی ہوئے۔ پولیس حضرت حجر رضی اللہ عنہ کو تو گرفتار نہ کر سکی، تاہم ان کا حامی مجمع منتشر ہو گیا۔ اس دوران حضرت حجر رضی اللہ عنہ فرار ہو کر اپنے قبیلے کندہ کے محلے میں روپوش ہو چکے تھے۔ زیاد نے پولیس کی ناکامی کے بعد مقامی قبائل پر مشتمل ایک جمعیت تیار کی اور اسے حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے پیچھے کندہ بھیجا۔ وہاں ایک اور جھڑپ ہوئی مگر حضرت حجر رضی اللہ عنہ کو گرفتار نہ کیا جاسکا۔ حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے گرد جمع ہونے والے کوفیوں کی سرشت میں بے وفائی کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ وہ جلد ہی انہیں دغا دے گئے۔ جو باقی ماندہ قریبی ساتھی ان کے ساتھ تھے، انہیں حضرت حجر رضی اللہ عنہ نے خطرے میں ڈالنا مناسب نہ سمجھا اور خود اپنے پاس سے ہٹا دیا۔
13. حضرت حجر رضی اللہ عنہ کی گرفتاری اور فرد جرم کی دستاویز کی تیاری:
آخر ایک دن زیاد کو اتفاقی طور پر حضرت حجر رضی اللہ عنہ کی پناہ گاہ کا پتا چل گیا۔ اس نے ایک معتمد شخص کو بھیج کر انہیں وہاں سے اپنے پاس حاضر ہونے کا کہا۔ حضرت حجر رضی اللہ عنہ کو زیاد کی سخت طبعی کا اندازہ تھا، وہ جانتے تھے کہ زیاد انہیں سزائے موت دیے بغیر نہیں رہے گا۔ اس لیے لوگوں کے مشورے سے انہوں نے حضرت جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کو سفارشی بنا کر بھیجا جنہوں نے زیاد کے سامنے یہ شرط رکھی کہ وہ حضرت حجر رضی اللہ عنہ کو قتل نہیں کرے گا بلکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس معاملے کا فیصلہ کریں گے۔ زیاد نے اس کی ضمانت دے دی اور حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ نے خود کو حکومت کے حوالے کر دیا۔
حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کو شاید اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا، اس لیے انہوں نے پُر امن گرفتاری دینے کے بعد خود بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس جانے کی خواہش ظاہر کی اور زیاد سے کہا:
”میں حضرت معاویہ کی بیعت پر قائم ہوں۔ میں اس سے برگشتہ نہیں ہوا۔“
زیاد نے پہلے دربار خلافت میں حضرت حجر رضی اللہ عنہ کی بغاوت میں شرکت کا ثبوت پیش کرنا ضروری سمجھا۔ اس نے کوفہ کے ستر معزز افراد کو جمع کر کے ان سے حجر رضی اللہ عنہ اور ان کے حامیوں کے خلاف شہادتیں قلم بند کرائیں۔ ان معززین میں حضرت عمرو بن حریث، حضرت خالد بن ابی عرفطہ، حضرت وائل بن حجر اور حضرت کثیر بن شہاب رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے۔ اب زیاد نے گواہوں اور پھر حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس دارالخلافہ دمشق روانہ کر دیا۔ یہ بھی لکھ دیا کہ ان لوگوں کو آپ سے گفتگو تک جان کی امان دی گئی ہے۔
14. حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا مقدمے پر غور و فکر
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سامنے فردِ جرم پر شہادتوں کی دستاویز پڑھی گئی۔ ساتھ ہی گواہوں نے اپنے بیانات دیے۔
حجر رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کو دمشق کی مضافاتی وادی ”مرجِ عذراء“ میں ٹھہرایا گیا۔ یہ علاقہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں حضرت حجر رضی اللہ عنہ نے ہی فتح کیا تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ملزمان سے ملنے آئے تو حجر رضی اللہ عنہ نے ”یا امیر المؤمنین!“ کہہ کر سلام کیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ترش رو ہو کر کہا: ”میں اب بھی (تمہارے نزدیک) امیر المومنین ہوں؟“
حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ نے بیعت پر برقراری کا اعتراف کیا۔ مگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ مطمئن نہ ہوئے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس سزا دینے کا اختیار بھی تھا اور معافی کا بھی۔ سزا سے متعلق یہ حدیث نبوی موجود تھی:
مَنْ اَرَادَ أَنْ يُفَرِّقَ هَذِهِ الْاُمَّةَ وَهِيَ جَمِيعٌ فَاضْرِبُوْا بِالسَّيْفِ كَائِنَا مَا كَانَ.
(جو اس امت کو منتشر کرنا چاہے، جبکہ امت مجتمع ہو تو اسے تلوار سے مار دو، چاہے وہ کوئی بھی ہو۔)
دوسری طرف حضرت حجر رضی اللہ عنہ کا مقام و مرتبہ، ان کا غلط فہمی کا شکار ہو کر تحریک میں شامل ہو جانا اور اب اپنی بیعت پر قائم رہنے کا اقرار انہیں شک کا فائدہ دے کر معافی کا حق دار بناتا تھا۔ مگر ان کا میلان یہی تھا کہ حضرت حجر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی جان بخشی کر دی جائے، تاہم انہیں یہ بھی خدشہ تھا کہ کہیں شرپسند دوبارہ ان کو سر پرست بنا کر شورش نہ کریں، چنانچہ انہوں نے زیاد کو یہ مراسلہ بھیجا: ”حجر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں تمہارے بیان اور گواہوں پر غور کرنے کے بعد بھی مجھے لگتا ہے کہ انہیں قتل کرنا بہتر ہے اور کبھی سوچتا ہوں کہ معاف کر دینا ہی بہتر ہے۔“
اس کے ساتھ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے امراء اور عمائد کو بھی مشورے کے لیے جمع کیا۔ حضرت عمرو بن الاسود، حضرت ابو مسلم خولانی، یزید بن اسد اور حضرت عبداللہ بن محمد کی رائے یہ تھی کہ ان کو سزا دینا برحق ہے، مگر معاف کر دیا جائے تو بہتر ہوگا۔ ان چار کے سوا باقی سب لوگوں نے زور دیا کہ ملزمان کو سزائے موت دی جائے۔
اس دوران زیاد کا جواب بھی آ گیا۔ اس نے بھی سزا دینے پر اصرار کیا تھا اور لکھا تھا:
”مجھے تعجب ہے کہ آپ کو اس معاملے میں تردد کیوں ہے۔ اگر آپ کو اس شہر (کوفہ) کی ضرورت ہے تو حجر اور ان کے ساتھیوں کو میرے پاس واپس نہ بھیجیے گا۔“
سزائے موت کا نفاذ:
تقدیر کی بات کہ آخر میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے علم اور تحمل کے برخلاف اسی رائے کو مان کر حضرت حجر رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی سزائے موت کا حکم جاری کر دیا۔ یہ لوگ مرج عذراء کے مقام پر قید اور اپنے بارے میں فیصلے کے منتظر تھے۔ وہیں ان کو سزائے موت دے دی گئی۔ قتل سے پہلے حضرت حجر رضی اللہ عنہ کا آخری عمل دو رکعت نماز تھا۔
نماز سے فارغ ہو کر انہوں نے کہا: ”میری بیڑیاں مت کھولنا، نہ غسل دینا۔ خون اور زنجیروں سمیت دفن کر دینا، کہ میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے اسی حالت میں ملوں گا۔“ اس کے بعد وہ قتل کر دیے گئے۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا سفارش نامہ:
حضرت حجر رضی اللہ عنہ کی گرفتاری کی خبر سے عراق سے حجاز تک ایک صدمے کی کیفیت طاری تھی۔ ان کی گرفتاری کی اطلاع ملتے ہی ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضرت عبدالرحمن بن حارث کو دمشق روانہ کیا تھا تا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے سفارش کر کے ان کی ساتھیوں سمیت جان بخشی کرائی جائے۔
عبدالرحمن بن حارث ام المومنین رضی اللہ عنہا کا مراسلہ لے کر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے تو جلاد سزائے موت دینے کے قتل گاہ کی طرف جا چکے تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ام المومنین رضی اللہ عنہا کا مراسلہ پڑھتے ہی ہرکارے دوڑائے کہ سب کی جان بخشی کر دی جائے مگر جب تک ہرکارہ وہاں پہنچا، حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ سمیت سات فرد قتل کیے جا چکے تھے۔ باقی چھ پر اس وقت تک سزا جاری نہیں ہوئی تھی اس لیے وہ بچا لیے گئے۔
روایتِ صحیحہ اور ان سے ہم آہنگ ضعیف روایات کی روشنی میں حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے قضیے سے متعلق ایک حقیقت پسندانہ جائزہ تھا، اسے دیکھ کر ہر شخص خود سمجھ سکتا ہے کہ جعلی روایات میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس معاملے میں بدنام کرنے کے لیے کیا کیا اضافے کیے گئے ہیں۔
ابو مخنف کی ناقابل اعتماد روایات:
ابومخنف اور ہشام کلبی کی روایات میں بتایا گیا ہے کہ بچنے والے چھ افراد کو بڑے بڑے لوگوں کی سفارش کی بنا پر چھوڑ دیا گیا تھا، جو سات قتل ہوئے ان کا کوئی سفارشی نہ تھا۔ ان روایات میں یہ بھی ہے کہ جلاد ہر ملزم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پر تبرا بازی کی تلقین کرتے تھے کیونکہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا حکم تھا کہ جو تبرا بازی کرے اسے چھوڑ دو۔
یہ بھی فقط ابو مخنف سے مروی ہے۔ اسی طرح بعض افراد کو تبرا نہ کرنے پر کوفہ بھیج کر زندہ دفن کرانے کی روایت بھی ابو مخنف کی خرافات میں سے ہے۔
حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے قتل پر صحابہ اور تابعین کے تاثرات:
حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے قتل سے عالم اسلام میں سوگ کی سی حالت طاری ہو گئی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان کی خیر خبر پوچھتے رہتے تھے۔ جب قتل کی اطلاع ملی تو روتے روتے ان کی ہچکی بندھ گئی۔ خراسان میں اسدی سردار حضرت ربیع بن زیاد حارثی کو یہ خبر ملی تو اتنے دل برداشتہ ہوئے کہ لوگوں کو جمع کر کے اپنی موت کی دعا کی۔ مجلس سے اٹھنے نہ پائے تھے کہ روح جسم سے پرواز کر گئی۔ حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل پر ان کی ہمشیرہ نے بھی نہایت کرب انگیز اور اشک آور اشعار کہے جو عربی ادب میں فصاحت و بلاغت کا شاہکار سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں سے چند یہ ہیں:
تَرَفَّعْ اَيُّهَا الْقَمَرُ الْمُنِيْرُ تَرَفَّعْ هَلْ تَرَى حُجْرًا يَسِيْرُ
اے چمکتے چاند تو اور بلند ہو جا ..... بلند ہو اور بتا کہ تو حجر کو چلتے دیکھ رہا ہے۔
يَسِيْرُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ حَرْبٍ لِيَقْتُلَهُ كَمَا زَعَمَ الْاَمِيْرُ
وہ معاویہ بن (ابی سفیان بن) حرب کے پاس جا رہے ہیں ..... تا کہ وہ انہیں قتل کر دیں جیسا کہ امیر (زیاد) کا دعویٰ ہے۔
وَأَصْبَحَتِ الْبِلَادُ لَهُ مُحُوْلاً كَاَنْ لَّمْ يُحْيِهَا مُزْنٌ مَطِيْرُ
حجر کے سارے شہر اب بنجر ہو گئے ہیں ..... گویا انہیں کبھی برسنے والے بادل نے زندگی نہ بخشی ہو۔
أَلَا يَا حُجْرُ حُجْرَ بَنِيْ عَدِيٍّ تَلَقَّتْكَ السَّلَامَةُ وَالسُّرُوْرُ
سنو اے حجر، اے حجر بنی عدی ..... تمہیں (آخرت میں) سلامتی اور خوشی نصیب رہے۔
فَإِنْ تَهْلِكُ فَكُلُّ عَمِيْدِ قَوْمٍ إِلَى هَلَكٍ مِنَ الدُّنْيَا يَصِيْرُ
پس اگر تم فنا ہو گئے تو کیا ہوا کہ ہر قوم کے سردار کو ..... دنیا سے فنا ہی کی طرف جانا ہے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا کرب و افسوس:
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو خود بھی جلد ہی احساس ہو گیا تھا کہ سخت طبع مشیران کی ذاتی رائے پر غالب آگئے ورنہ بہتر یہ تھا کہ حضرت حجر رضی اللہ عنہ کو معاف کر دیا جاتا یا زیادہ سے زیادہ قید رکھا جاتا۔ جب حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے سفیر عبدالرحمن بن حارث نے انہیں کہا: ”آپ نے حجر بن عدی کو جیل میں کیوں نہ ڈال دیا کہ وہ طاعون (جیسے کسی مرض) کا شکار ہو کر وفات پا جاتے۔“ تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیوں کہ میرے لوگوں میں تم جیسے موجود نہ تھے۔“
اسی طرح جب بنو امیہ کے ستون مروان بن حکم نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا:
”آپ کی فکر و نظر اور بردباری کہاں چلی گئی تھی جس کی آپ سے توقع کی جا رہی تھی؟“
تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے جواب میں لکھا: ”اس لیے کہ تم میرے پاس نہیں تھے۔“
مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ یہ بھی سوچتے تھے کہ کہیں حضرت حجر رضی اللہ عنہ کو معاف کر دینے سے کشت و خون کا ایک نیا سلسلہ نہ شروع ہو جاتا۔ اس لیے وہ یہ بھی فرماتے تھے: ”ایک لاکھ افراد کے قتل ہونے سے ان کا قتل ہونا بہتر تھا۔“
یعنی انہوں نے اپنے طور پر ملت اسلامیہ کو ایک نئی خانہ جنگی سے بچانے کے لیے ہی یہ تلخ فیصلہ کیا تھا، ورنہ حضرت حجر رضی اللہ عنہ سے انہیں کوئی ذاتی عناد تھا نہ ان کا مقام و مرتبہ ان سے مخفی تھا۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے قتل کو مدتوں یاد کیا کرتے تھے۔ یہ فرض اور تعلق کا سخت امتحان اور قلب و روح کا بڑا گہرا صدمہ تھا۔
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ناراضی اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا اعتذار:
اس سانحے کے بعد (۵۶ ھ میں) جب حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ حج کے لیے گئے اور مدینہ منورہ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضری دی تو ام المومنین رضی اللہ عنہا نے ان کے اس اقدام پر شدید غصے اور رنج کا اظہار کیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”امی جان! ایک آدمی کو قتل کر کے باقی لوگوں کو بچا لینا مجھے اسے چھوڑ کر سب کو تباہ کرنے سے بہتر لگا۔ امی جان! مجھے ڈر تھا کہ معاملہ بڑھ نہ جائے اور کوئی ایسا فتنہ نہ کھڑا ہو جائے جس میں خون ریزی ہوتی اور حلال و حرام کی حدیں مٹ جاتیں۔ آپ حضرت حجر کا اور میرا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں۔“
ام المومنین رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں نے آپ کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔“
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے مرض الوفات میں عبداللہ بن یزید ان کی عیادت کے لیے آئے۔ ان کے والد نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو حضرت حجر رضی اللہ عنہ کے بارے میں درگزر کا مشورہ دیا تھا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس بات کو یاد کر کے کہا:
”اللہ تمہارے والد پر رحمت فرمائے، انہوں نے حجر بن عدی کے معاملے میں مجھے خیر خواہانہ مشورہ دیا تھا اور ان کے قتل سے منع کیا تھا۔“
حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ کے مقام و مرتبے اور ان کے قتل کے صدمہ انگیز واقعے سے متاثر ہو کر علماء نے انہیں شہید کا درجہ دیا خصوصاً اس لیے کہ وہ ایک تاویل کی بنا پر حکومت کے خلاف کھڑے ہوئے تھے اور اپنے طور پر حق کے لیے لڑ رہے تھے۔ پھر وہ اپنی بیعت کی تجدید کر کے گویا اپنی غلطی کا اعتراف کر چکے تھے۔ اس لیے ان کے کردار کی بلندی پر حرف نہیں آسکتا۔ ان کا قتل ایک بڑا سانحہ تھا مگر شاید یہ ان کی لغزشوں کی معافی اور درجات میں بلندی کا سبب ہو۔
حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب تحریر فرماتے ہیں:
”حضرت حجر بن عدی چونکہ ایک عابد وزاہد انسان تھے، اور ان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی تھی کہ انہوں نے حضرت معاویہ کی حکومت کے خلاف جو کچھ کیا، اس کا منشأ طلب اقتدار تھا، اس لیے غالب گمان یہی ہے کہ انہوں نے خروج کا ارتکاب کسی تاویل کے ساتھ ہی کیا ہوگا، اس لیے ان کا ذکر بھی ادب واحترام کے ساتھ ہونا چاہیے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ بعض علماء مثلاً شمس الائمہ سرخسی رحمہ اللہ نے ان کی موت کے لیے شہادت کا لفظ استعمال کیا۔“
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا ان کے ساتھ سختی برتنا اپنے طور پر اسلامی ریاست کے امن وامان کو باقی رکھنے اور فتنہ و فساد سے حفاظت کے لیے تھا۔ لہذا اس قضیے کو بنیاد بنا کر ان پر طعن و تشنیع درست نہیں۔ اس دور کے اکابر نے بھی افسوس کا اظہار ضرور کیا تھا مگر کسی نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلائی کیوں کہ فیصلے کی لغزش اور ظلم و ستم کا فرق وہ اچھی طرح سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما اور حضرت حجر بن عدی رضی اللہ عنہ دونوں سے راضی ہو اور ان کے درجات مزید بلند فرمائے۔ آمین۔

