دورِ یزید کی عسکری مہمات

دورِ یزید کی مہمات

        سانحہٴ کربلا نے یزید کے دور کو اس طرح داغ دار کیا کہ اس کے زمانے کی دیگر مہمات پسِ منظر میں چلی گئیں۔ حالاں کہ اس دور میں بھی افریقہ، خراسان اور ترکستان میں مہمات کا سلسلہ جاری رہا۔ یہاں مرکزی عہدوں پر اکثر وہی جرنیل تھے جو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور سے چلے آ رہے تھے۔ ان میں مسْلِمَہ بن مُخَلَّدْ رضی اللہ عنہ، جنادہ بن امیہ رضی اللہ عنہ، منذر بن جارود، سنان بن سلمہ، عقبہ بن نافع، زہیر بن القیس اور ابو المہاجر دینار ؒ  قابلِ ذکر ہیں۔ اندرونی مہمات میں سرکاری افواج نے جو زیادتیاں کیں وہ اپنی جگہ قابلِ مذمت ہیں مگر بیرونی محاذوں پر بعض سپائیوں کے ساتھ بعض کامیابیاں بھی ہوئیں۔ ذیل میں ان واقعات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔


یورپ پر یلغار ملتوی:

        امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کو وصیت کی تھی کہ رومیوں کا گلا گھونٹ کر رکھو مگر یزید نے اپنی عسکری حکمتِ عملی میں رومیوں کے خلاف جہاد کو مؤخر کر دیا۔ اس نے خلیفہ بن کر اپنے پہلے خطاب میں کہا تھا:

        ’’معاویہ رضی اللہ عنہ تمہیں سمندری مہمات کے لیے بھیجا کرتے تھے، میں نہیں بھیجوں گا۔ وہ موسمِ سرما میں بھی روم کی سرحدوں پر لشکر تعینات رکھتے تھے، میں موسمِ سرما میں کسی کو وہاں تعینات نہیں کروں گا۔‘‘

        امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے یونان کے جزیرے رَوڈْس پر جنادہ بن امیہ رضی اللہ عنہ مجاہدین کو لے کر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے۔ یہ جزیرہ ۵۳ھ میں فتح کیا گیا تھا۔ مسلمان یہاں ایک بہت بڑے قلعے میں مورچہ بند تھے، وہ سمندر میں کارروائیاں کر کے یورپی بحری افواج کو زک پہنچاتے، ان کی نقل و حرکت اور منصوبہ بندیوں سے آگاہ رہتے اور کمک ورسد حاصل کرلیتے۔

        روڈس میں آباد مسلمان بڑے زرعی رقبوں اور مال و جائیداد کے مالک بھی ہو گئے تھے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس مورچے کو بہت اہمیت دیتے تھے اور ان مجاہدین پر خطیر رقم خرچ کرتے تھے، انہیں خوراک، لباس، اسلحے اور نقد  پیسے سمیت ہر چیز بھیجا کرتے تھے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری ایام میں انہیں حکم بھیجا تھا کہ موسمِ سرما بھی وہیں گزاریں اور اس کے انتظامات کر لیے جائیں۔ ایسے میں کسی کو توقع نہیں تھی کہ واپسی کا سفر ہوگا۔

        کعب احبار رحمتہ اللہ علیہ کے سوتیلے بیٹے نُبیْع بن عامر اس لشکر میں تھے، ان کا کہنا تھا کہ موسمِ سرما سے پہلے واپسی ہو جائے گی مگر کسی کو ان کی بات کا یقین نہیں تھا۔ ایک دن ایک کشتی جزیرے سے آ لگی۔ آنے والا یزید کا نمائندہ تھا۔ اس نے بتایا کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ وفات پا گئے ہیں۔ نمائندے نے نئے خلیفہ کی بیعت لی اور اطلاع دی کہ خلیفہ نے افواج کو واپسی کی اجازت دے دی ہے۔ چنانچہ مسلمان روڈس خالی کر کے واپس چلے آئے۔

        بحیرہٴ روم میں رومیوں سے مقابلے کے لیے دوسرا اہم ترین مرکز جزیرہٴ قربص تھا جو وسعت اور آبادی میں روڈس سے بڑھ کر تھا۔ وہاں مسلمانوں کی گنجان آبادی بھی تھی۔ اسے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ۳۳ھ میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی سرپرستی میں فتح کیا تھا مگر یزید نے خلیفہ بنتے ہی یہ جزیرہ بھی خالی کرا دیا۔

        مؤرخین نے روڈس اور قربص سے افواج واپس بلانے کی وجوہ  بیان نہیں کیں۔ ممکنہ طور پر دو وجوہ ہو سکتی ہیں:

            ① یزید کی خلافت متنازع تھی، لوگ دلی طور پر مطمئن نہیں تھے، عراق و حجاز قابو سے باہر تھے، ایسے میں انعقادِ خلافت طاقت کے بغیر نہیں ہوسکتا تھا۔لہٰذا اندرونی علاقوں میں اضافی فوج درکار تھی تاکہ مخالفین پر قابو پایا جا سکے۔

        ② یزید فوج سے مشقت کم کر کے افسران و سپاہ کا دل جیتنا چاہتا تھا۔

افریقہ میں عقبہ بن نافع کی فتوحات:

        یزید کے دور میں مشہور تابعی عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ افریقہ میں تعینات رہے۔ افریقی قبائل بڑے سرکش اور دغا باز تھے۔ بار بار بغاوت کرتے تھے۔ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں عقبہ رضی اللہ عنہ نے افریقہ کا بیشتر حصہ فتح کرلیا تھا۔ مصر اور افریقہ اس زمانے میں ایک ہی صوبہ شمار ہوتے تھے۔ افریقہ کی مہمات کا مرکز مصر تھا جہاں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ گورنر تھے اور عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ انہی کے ماتحت کے طور پر جہاد کر رہے تھے۔

        ۵۵ھ میں امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مصر میں معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کی جگہ مسْلِمَہ بن مُخَلَّدْ رضی اللہ عنہ کا تقرر کر دیا، جنہیں اپنے آزاد کردہ غلام ابو المہاجر دینارؒ پر زیادہ اعتماد تھا، اس لیے عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کی جگہ افریقہ کا محاذ ابو المہاجر ؒکے سپرد کر دیا گیا۔ عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ جو مزید آگے بڑھنا چاہتے تھے، اس فرمان کے تحت محاذ سے واپس چلے آئے۔

        امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات تک افریقہ کا علاقہ ابو المہاجرؒ کے تحت رہا۔ اس دوران بربر قبائل کی بغاوت سے کئی مفتوحہ علاقے ہاتھ سے نکل گئے۔ جب یزید نے حکومت سنبھالی تو عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کے سابقہ کارناموں کو دیکھتے ہوئے ۶۲ھ میں انہیں براہِ راست افریقہ کا والی بنا دیا اور مزید فتوحات کی اجازت دے کر روانہ کیا۔

        جیسے ہی وہ یزید کی طرف سے افریقہ میں دوبارہ تقرری کا حکم نامہ لے کر روانہ ہوئے تو مصر میں عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے ملاقات ہوئی، وہ بولے: ’’امید ہے کہ آپ ایسے لشکر میں ہیں جس کے لیے جنت کی توقع ہے۔‘‘

        عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے شمالی افریقہ میں مسلمانوں کے مرکز قیروان کو جو بربروں کی وجہ سے ویران پڑ گیا تھا، دوبارہ آباد کیا۔ اس کے گرد چکر لگا کر دعا کی: ’’الٰہی! اسے عبادت گزاروں اور اطاعت شعاروں سے بھر دے اور اسے اپنے دین کی عزت اور کافروں کی ذلت کا ذریعہ بنا۔‘‘

        پھر فوج کا ایک حصہ یہاں تعینات کر کے زہیر بن قیس کو ذمہ دار بنایا اور اولاد کو جمع کر کے کہا:

        ’’میں نے اپنی جان اللہ کو بیچ دی ہے، میں نے قسم کھائی ہے کہ اب مرتے دم تک جہاد کرتا رہوں گا۔ معلوم نہیں اب پھر ملاقات ہو کہ نہیں۔‘‘ یہ عزم اس لیے کیا کہ بربروں کی سرکشی ٹوٹنے میں نہ آتی تھی۔

        عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے اولاد کو آخری وصیت کے طور پر کہا: ’’حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم صرف ثقہ راویوں سے لینا، قرض مت لینا چاہے بوسیدہ کپڑے پہننا پڑیں، ایسی کوئی چیز لکھنے میں منہک نہ ہونا جو قرآنِ مجید سے غافل کر دے۔‘‘

        عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے پہلے قلعہ لیمس پھر ’’کوہ‘‘ اور اس کے بعد شہر ’’باغانہ‘‘ کو فتح کیا۔ پھر ’’بلاد الجرید‘‘ کے علاقے پر قبضہ کرتے ہوئے ’’زاب‘‘ تک یلغار کی اور دشمنوں کو کچلتے ہوئے ’’تاہرت‘‘ تک جا پہنچے جہاں رومیوں اور افریقی بربروں کا لشکرِ جرار اکٹھا ہو چکا تھا۔ یہاں مجاہدینِ اسلام اور کفار کے مابین گھمسان کا رن پڑا۔ مسلمان ابتدا میں شکست کے قریب ہو گئے مگر آخر میں نصرتِ الٰہی شاملِ حال ہوئی، مسلمان فتح سے ہمکنار ہوئے اور بے شمار مالِ غنیمت ہاتھ آیا۔ اس مہم جوئی کے دوران ’’غمارہ‘‘ کے عیسائی حاکم نے صلح کر لی۔

        عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ یہاں سے مراکش کے مشہور شہر طنجہ پہنچے جو بحیرہٴ روم کے کنارے شمالی افریقہ کا آخری شہر اور مقامی بادشاہ یلیان کا پایہٴ تخت تھا۔ مراکش کے تمام حاکم اس کو خراج دیتے تھے۔ عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے محاصرے کے بعد صلح کے ساتھ یہاں قبضہ کر لیا۔ یلیان نے انہیں بیش قیمت تحائف دیے۔

        عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ اب خلیج عبور کر کے اندلس میں داخل ہونا چاہتے تھے اور پہلا حملہ ’’جزیرۃ الخضراء‘‘ پر کرنے کا منصوبہ طے کر چکے تھے کہ یلیان نے کہا: ’’پسِ پشت بربر اور دوسرے دشمنوں کے ہوتے ہوئے سمندر عبور کر کے فرنگیوں سے جا ٹکرانا مناسب نہیں اس طرح کمک کا راستہ بند ہوسکتا ہے۔‘‘

        عقبہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ’’یہاں اور کون سے کفار قبیلے ہیں؟‘‘ یلیان نے کہا: ’’سوس کے علاقے میں طاقت ور قبائل موجود ہیں جن کا کوئی دین نہیں۔ حیوانوں کی طرح ہیں۔ ان کے عقیدے مجوسیوں جیسے ہیں۔ وہ اللہ کو نہیں مانتے۔‘‘

        عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ یہ سن کر واپس مڑ گئے۔ سوس کا علاقہ بہت وسیع تھا۔ یہاں کوہِ زرہون کے پاس دو دریاؤں ’’سبو‘‘ اور ’’ورغہ‘‘ کے درمیان مراکش کا سب سے بڑا شہر ’’ولیلی‘‘ تھا جسے آج کل ’’قصر فرعون‘‘ کہا جاتا ہے۔ عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے خون ریز جنگ کے بعد اسے بھی فتح کر لیا۔ اس کے بعد ’’درعہ‘‘ اور ’’سوس‘‘ کی طرف یلغار کی جہاں بربروں کی بے پناہ طاقت سے پالا پڑا۔ گھمسان کی جنگوں اور جان توڑ لڑائیوں کے بعد عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے ان کی قوت پاش پاش کر کے انہیں پسپا کر دیا۔ مسلمان تعاقب کے دوران ان کی لاشوں کے ڈھیر لگاتے چلے گئے اور بڑھتے بڑھتے صحرائے لمتونہ تک پہنچ گئے۔ راستے میں آنے والی مزاحمت کی ہر دیوار گرتی چلی گئی۔ عقبہ رضی اللہ عنہ افریقہ کے مغربی کنارے ’’آسفی‘‘ (مالیان) میں بحرِ اوقیانوس کے ساحل تک پہنچ گئے جہاں سمندر کی سرکش موجیں ٹھاٹھیں مار رہی تھیں۔ عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ گھوڑے کو ایڑ لگا کر اپنے جانبازوں سمیت پانی میں گھس گئے۔ کچھ دیر بعد پلٹ کر ساتھیوں سے کہا: ’’دعا کے لیے ہاتھ اٹھاؤ۔‘‘ سب دست بدعا ہوئے تو اس مستجاب الدعوات مجاہد نے والہانہ انداز میں کہا:

        ’’الٰہی اگر یہ سمندر حائل نہ ہوتا تو جہاں تک زمین ملتی جہاد کرتا چلا جاتا۔ یا اللہ! تو جانتا ہے ہم کسی غرور و سرکشی کی بناء پر یہاں تک نہیں آئے۔ ہم اسی مقصد کے لیے نکلے ہیں جو تیرے بندے ذوالقرنین کو مطلوب تھا کہ صرف تیری عبادت کی جائے اور تیرے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ یا اللہ! ہم کفر کے مخالف اور اسلام کے محافظ ہیں۔ پس تو ہمارا حامی بن جا، ہمارے خلاف نہ ہو۔‘‘

        یہ دعا کرتے ہوئے عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ واپس ہوئے۔ غالباً اسی منظر سے متاثر ہو کر علامہ اقبال نے کہا:

دشت تو دشت دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحرِ ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے

        واپسی کے سفر میں عقبہ کا گزر ایک لق و دق صحرا سے ہوا، مسلمان پانی کی شدید قلت کا شکار ہو گئے تھے۔ قریب تھا کہ ساری فوج ہلاک ہوجاتی۔ عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے دو رکعت نماز ادا کر کے اللہ سے پانی ملنے کی دعا کی۔ اچانک ان کے گھوڑے نے ایک جگہ جا کر اپنے سموں سے زمین کو کریدنا شروع کر دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے میٹھے پانی کا ایک چشمہ پھوٹ نکلا۔ عقبہ رضی اللہ عنہ نے پکار کر سب کو جمع کیا، مجاہدین نے پانی پیا اور مشکیں بھر لیں۔ یہ جگہ آج بھی ’’ماء الفرس‘‘ (گھوڑے کا چشمہ) کے نام سے مشہور ہے۔

        چوں کہ اب مصر سے مراکش تک تمام شمالی افریقہ فتح ہوچکا تھا اس لیے بظاہر خطرے کی کوئی بات نہ تھی۔ اس لیے قیروان سے آٹھ منازل دور ’’طَبنَہ‘‘ تک آ کر عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ نے افواج کو آگے روانہ کر دیا اور خود تھوڑے سے سپاہیوں اور خواص کے ساتھ پیچھے رہ گئے۔ اس دوران کُسَیْلَہ نامی ایک نصرانی سردار نے جو عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کے ساتھ تابع دار بن کر چل رہا تھا، غداری کر دی اور مقامی لوگوں کو ملا کر اچانک حملہ کر دیا۔ بچ کر نکلنے کی کوئی صورت نہیں تھی۔ عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کے ساتھ ابو المہاجر زیرِ حراست چلے آ رہے تھے، کیوں کہ عقبہ کو اپنے پیچھے ان کی کارکردگی سے شکایت تھی مگر اس موقع پر عقبہ رضی اللہ عنہ نے انہیں آزاد کر کے کہا: ’’آپ یہاں سے نکل جائیں اور مسلمانوں کے پاس (قیروان) جا کر ان کی قیادت سنبھالیے۔ میں شہید ہونے تک لڑوں گا۔‘‘ ابو المہاجرؒ  بولے: ’’مجھے بھی شہادت مطلوب ہے۔‘‘

        دونوں تلواروں کی میانیں توڑ کر آگے بڑھے اور دشمنوں پر ٹوٹ پڑے۔ آخر کار لڑتے لڑتے دونوں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ ان کے ساتھ شہید ہونے والوں میں تین سو کے لگ بھگ جلیل القدر تابعین شامل تھے۔

        دو صحابہ کرام محمد بن اوس الانصاری، یزید بن خلف رضی اللہ عنہما اور چند افراد گرفتار ہو گئے۔ مسلمانوں نے فدیہ دے کر انہیں بعد میں آزاد کرایا۔ یہ تمام واقعات ۶۲ھ اور ۶۳ھ کے ہیں۔

افریقہ میں بغاوت:

        ۶۳ھ کے اواخر میں ایک طرف یزید کا سپہ سالار مسلم بن عقبہ مدینہ پر لشکر کشی کر رہا تھا اور دوسری طرف افریقہ میں ایک بار پھر بغاوت کی آگ پھیل رہی تھی۔ عقبہ بن نافع کو شہید کرنے والے نصرانی سردار کسیلہ نے مقامی بربر قبائل کو جمع کر کے بہت سے اسلامی مقبوضات چھین لیے اور بڑھتے بڑھتے قیروان تک آن پہنچا۔ یہاں کے امیر زہیر بن قیس کو کمک نہ مل سکی اور وہ شہر خالی کر کے ’’برقہ‘‘ چلے گئے۔ یوں محرم ۶۴ھ میں قیروان نصرانیوں کے قبضے میں آ گیا۔

خراسان اور وسطِ ایشیا کی مہمات:

        مشرق کے محاذوں پر بھی فوجی مہمات جاری رہیں۔ معمول یہ تھا کہ موسمِ گرما میں اسلامی افواج دریائے آمو عبور کر کے مہمات پر جاتیں اور موسمِ سرما میں واپس آ کر ’’مرو‘‘ میں قیام کرتیں۔ اس دوران خوارزم کے ایک نواحی شہر میں مقامی سردار جمع ہو کر مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہو جاتے۔

        ان کا زور توڑنے کے لیے ۶۲ھ میں مسلم بن زیاد نے، جسے یزید نے ۶۱ھ میں خراسان و سجستان کا والی مقرر کیا تھا، موسمِ سرما میں عرب کے چیدہ جرنیلوں کو ساتھ لے کر یلغار کی۔ اس چھ ہزار کے لشکر میں عمران بن فضیل، مُہَلَّبْ بن ابی صفرہ، عبداللہ بن خازم، طلحہ بن عبداللہ الخزاعی، صلہ بن اشیم، حنظلہ بن عرادہ اور یحییٰ بن یعمر جیسے حضرات شامل تھے۔

        اسلامی لشکر نے اس شہر کا محاصرہ کرلیا جہاں مقامی سردار سازشوں کے لیے جمع تھے۔ انہوں نے گھبرا کر معافی مانگی اور ۵۰ کروڑ تک کے اموال دے کر جان بخشی کرائی۔ اس کے بعد مسلم بن زیاد نے غداری کی سزا دینے کے لیے سمرقند پر حملہ کیا۔ مقامی لوگوں نے یہاں بھی صلح کر لی۔ مسلم نے ایک لشکر خُجَنْدَہ کی طرف روانہ کیا جس نے دشمنوں کو شکستِ فاش دی۔ مسلم بن زیاد نے اپنے بھائی یزید بن زیاد کو وسطی و جنوبی افغانستان کا والی بنا دیا تھا۔ ۶۲ھ میں یہاں اہل کابل نے بغاوت کر دی اور ابو عبیدہ بن زیاد کو گرفتار کر لیا۔ یہ خبر ملتے ہی یزید بن زیاد لشکر لے کر کابل پہنچا مگر اسے شکست ہوئی۔

        مسلمان بڑی تعداد میں شہید ہوئے جن میں خود یزید بن زیاد، نمر و بن قتیبہ، ہُذَیل بن نعیم، عثمان بن آدم، یزید بن عبداللہ بن ابی ملیکہ اور صلہ بن اشیم بھی شامل تھے۔ جب اس حادثے کی اطلاع مسلم بن زیاد کو ملی تو طلحہ بن عبداللہ کو جو طلحۃ الطلحات کے لقب سے مشہور تھے، کابل بھیجا۔ انہوں نے پانچ لاکھ درہم دے کر ابو عبیدہ بن زیاد کو آزاد کرا لیا۔

        ۶۲ھ میں عبداللہ بن اسد بن کرز نے قیساریہ کی سمت جہاد کیا۔ اسی سال موسمِ گرما کے جہاد میں حُصَین بن نُمَیر نے سوریا پر چڑھائی کی۔ اسی سال عبیداللہ بن زیاد نے مُنذر بن جارود کو قَند ابیل کے محاذ پر تعینات کیا۔ منذر اس مہم میں فوت ہو گئے، ان کے بیٹے نے مہم جاری رکھی اور قند ابیل پر قبضہ کرلیا۔ عبیداللہ بن زیاد نے اس کے بعد سنان بن سلمہ کو موقان کی مہم پر روانہ کیا۔ کچھ مدت بعد یزید بن معاویہ نے اس محاذ پر عبدالرحمن بن یزید ہلالی کو تعینات کر دیا۔

        مجموعی طور پر یزید کے دورِ اسلامی خلافت کا رقبہ کم ہوا، کیونکہ روڈس اور قبرص ازخود خالی کر دیے گئے تھے جبکہ عقبہ بن نافع نے جو علاقے فتح کیے تھے، وہ یزید کے آخری ایام میں دشمن نے واپس لے لیے تھے۔

ایک قابلِ غور نکتہ:

        بعض حضرات کے خیال میں ان مہمات کا سہرا یزید کے سر باندھنا درست نہیں، کیوں کہ یہ مہمات عقبہ بن نافع جیسے بہادر امراء کی ذاتی قابلیتوں کا نتیجہ تھیں مگر ہمیں اس سے اتفاق نہیں۔ دور دراز کے محاذوں کے جرنیل بھی بہر حال مرکز سے ہدایات اور مصارف لیتے تھے اور امراء کی تعیناتی اور مہم کی منظوری بھی خلیفہ کی جانب سے ہوتی تھی، اس لیے ان مہمات میں یزید کا حصہ ضرور ہے مگر اسی حقیقت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ سانحہٴ کربلا سے لے کر وقوعہٴ حرہ تک ملک میں فوج کے ہاتھوں جو فساد ہوا، اس بارے میں یہ کہنا بھی غلط ہے کہ یہ امرائے فوج کی ذاتی سیاہ کاریاں تھیں اور یزید پر اس کا کوئی الزام نہیں۔ اگر جہاد، مہمات اور فتوحات کا خراج تحسین صرف افواج کو دینا اور سربراہِ حکومت کو لا تعلق سمجھنا خلافِ عقل ہے تو انہی افواج کے ہاتھوں برپا ہونے والے مظالم سے حکمران کو بالکل بری الذمہ کیسے کہا جا سکتا ہے۔

تعمیری و ترقیاتی کام:

        یزید کو حساب اور تعمیرات سے دلچسپی تھی۔ اس نے کچھ ترقیاتی کام بھی کرائے۔ جبلِ قاسیون کی وادی میں ایک چھوٹی سی نہر تھی جس سے کچھ اراضی سیراب ہوتی تھی۔ یزید نے وسعت دے کر اسے ساڑھے چار فٹ چوڑا اور ساڑھے چار فٹ گہرا کر دیا جس سے غوطہ کا وسیع علاقہ قابلِ کاشت ہوگیا۔ یہ نہر ’’نہرِ یزید‘‘ کہلانے لگی۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic