مسلم بن عقیل کا قتل اور کربلا روانگی: کوفیوں کی سازش کا سچا تاریخی سچ

۶۰ ہجری کے کوفی

        ۶۰ھ میں جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کوفہ جانے کا سوچ رہے تھے، تشیع اپنی ابتدائی شکل میں تھا۔ روافض کا اتنا چرچا تھا، نہ وہ کوئی الگ شناخت رکھتے تھے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جن لوگوں کی دعوت پر کوفہ جانا چاہتے تھے وہ صحیح العقیدہ  مسلمانوں کے طور پر معروف تھے اور ان میں بعض بڑے نیک نام اور مخلص لوگ بھی تھے۔ عام مسلمانوں سے ان کے نظریے کا فرق فقط اتنا تھا کہ یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر فضیلت دیتے تھے۔ تاہم بعد کے حالات بتاتے ہیں کہ کوفہ کے ایسے بعض نیک اور مخلص لوگ بھی کسی سازش کے آلہ کار بن گئے تھے۔ سازش بہت پختہ اور طے شدہ تھی اور اس کا مقصد مسلمانوں میں خانہ جنگی شروع کرانے کے سوا کچھ نہ تھا۔


سازشی عناصر کیا کرانا چاہتے تھے؟

        سازشی عناصر جانتے تھے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ محض امت کی خیرخواہی کے لیے کوفہ تشریف لائیں گے۔ دوسری طرف انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ یزید اور اس کے حکام حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بدگمان ہیں اور انہیں شورش پسند یقین کیے ہوئے ہیں۔ تیسرے یہ بھی عیاں تھا کہ کوفہ کے سادہ لوح عوام بنو ہاشم سے محبت ضرور کرتے ہیں مگر امتحان کے وقت یہ ہمیشہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ سازشی عناصر کا لائحۂ عمل یہ تھا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کسی طرح کوفہ کا رخ کرلیں۔ اس سے پہلے کوفہ میں کچھ نہ کچھ ہنگامہ آرائی کرا کے حکومت کو پختہ یقین دلا دیا جائے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء آمادۂ  پیکار ہیں۔ نتیجے میں حکومت کسی مدبر کا ثبوت دیے بغیر سخت کارروائی کر بیٹھے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیے جائیں۔ ان عناصر کو یقین تھا کہ اگر حکومت کی طرف سے سخت کارروائی ہوئی تو اس وقت اہلِ کوفہ اپنی سرشت کے  مطابق مدد میں پہلو تہی کریں گے اور کوئی بڑا سانحہ رونما ہو کر رہے گا۔

            یہ درست ہے کہ ہمارے پاس سازش مرتب ہونے کا کوئی ایسا تاریخی ثبوت نہیں ہے جس میں لکھا ہو کہ فلاں نے اس قسم کا منصوبہ ترتیب دیا مگر بعد کے حیرت ناک واقعات کا تسلسل یہ بتاتا ہے کہ سب کچھ اتفاقاً نہیں ہوتا چلا گیا بلکہ پسِ پردہ کچھ ہاتھ تھے جو معاملے کو بدترین صورت تک لے جانا چاہتے تھے اور بلا شبہ وہ کوفے کے بعض لوگ تھے۔

        اسی وجہ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ سانحۂ کربلا پر اہلِ کوفہ کو مطعون کیا کرتے تھے۔ ہم اس سازش میں شریک کسی فرد کا نام یقین سے نہیں لے سکتے مگر اندازہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے خطوط بھیجے تھے یہ انہی میں سے کچھ کی سازش تھی۔ اگرچہ خطوط بھیجنے والے کئی کوفی رؤساء نیک سیرت تھے اور خانوادۂ علی رضی اللہ عنہ سے سچی عقیدت رکھتے تھے۔ انہیں بلا ثبوت اس سازش میں شریک نہیں سمجھا جا سکتا۔ مگر سازشی لوگ بھی ان میں ضرور شامل تھے۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کا مشورہ:

        اکابرِ حجاز اہلِ کوفہ کی تاریخ سے اچھی طرح واقف تھے، اس لیے جب سفر کا ارادہ کرتے ہوئے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے دیگر اکابر سے مشورے ہوئے تو سب نے کوفہ کو خطرناک قرار دے کر آپ کو حجاز ہی میں رہنے کا مشورہ دیا۔ ان خیر خواہوں میں عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ انہیں جب آپ کا عزمِ معلوم ہوا تو بے اختیار بولے:

"آپ کہاں جائیں گے؟ ان لوگوں کے پاس جنہوں نے آپ کے والد کو قتل کیا، آپ کے بھائی کا ساتھ نہ دیا۔"

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "اگر میں ادھر اُدھر قتل بھی کر دیا جاؤں تو یہ مجھے پسند ہے، مگر یہ گوارا نہیں کہ میری وجہ سے اس سرزمین کی عظمت پامال ہو۔"

        اس روایت سے چند اہم باتیں ثابت ہوتی ہیں:

        حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو حجاز میں اپنے مقصد کے لیے سازگار مواقع کی امید نہ تھی۔

        انہیں ڈر تھا کہ حکومت انہیں ان کے موقف سے انحراف پر مجبور کرے گی۔ اپنی رائے پر ثابت قدمی کی پاداش میں قتل کا خدشہ بھی لاحق تھا۔

        یہ خدشہ کسی اور جگہ چلے جانے میں بھی موجود تھا مگر آپ کو یہ گوارا نہ تھا کہ حرم میں خونریزی ہو۔

        عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے انتہائی مخلص تھے اور انہوں نے آپ کو کوفہ جانے سے خیرخواہانہ طور پر منع  کیا تھا۔ اس کے برعکس جن روایات میں آیا ہے کہ انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو عراق جانے پر اکسایا تھا، تا کہ حجاز پر خود قبضہ جمالیں وہ انتہائی ضعیف ہیں اور ثقہ راویوں کی روایت سے تعارض کے باعث نا قابلِ قبول ہیں۔

مسلم بن عقیل کی کوفہ روانگی:

        جب خطوط اور وفود کا تانتا بندھ جانے سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو محسوس ہوا کہ کوفہ جا کر آپ رضی اللہ عنہ کے نیک عزائم  پورے ہو سکتے ہیں تو آپ رضی اللہ عنہ نے وہاں جانے کا عزم فرمایا مگر خود جانے سے قبل احتیاط سے کام لیتے ہوئے اپنے چچازاد بھائی مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کر دیا تا کہ وہ اپنی آنکھوں سے وہاں کی صورتِ حال دیکھ بھال لیں۔

مسلم بن عقیل سے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا رویہ:

        مسلم بن عقیل کوفہ پہنچ کر شہر کے ایک مخلص مسلمان ہانی بن عروہ کے ہاں مہمان ہوئے۔ اہل کوفہ بڑی تعداد میں ان  کے گرد جمع ہو گئے۔ کوفہ کے گورنر نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ ایک عالم فاضل صحابی تھے۔ وہ  ۲ ھ میں   پیدا ہوئے۔ ۱۱۴ حدیثوں کے راوی اور بہترین خطیب تھے۔ مسلم بن عقیل کی آمد اور ان کی سرگرمیوں سے واقف ہونے کے باوجود نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ان پر کوئی روک ٹوک نہ کی۔ کوفہ کے بعض سخت مزاج افسران نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی اس کشادہ روی پر تنقید کی اور انہیں کمزوری کا طعنہ دیا۔ انہوں نے فرمایا:
        "اللہ کی اطاعت کی حدود میں رہ کر کمزور کہلانا مجھے پسند ہے، مگر یہ گوارا نہیں کہ اللہ کی نافرمانی کر کے طاقتور کہلاؤں۔"

        ابومخنف کی روایت میں نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کا مسلم بن عقیل کے اصحاب کے لیے یہ فقرہ بھی موجود ہے:
        "میں شک و شبہے یا الزام کی بنیاد پر گرفت نہیں کروں گا۔ ہاں اگر یہ ظاہر ہوا کہ تم نے خلیفہ کی بیعت توڑ دی ہے اور سربراہ کی مخالفت کی ہے تو اللہ کی قسم! میں تلوار سے کام لینے میں کسر نہ چھوڑوں گا۔"

        اس سے ظاہر ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بھی مسلم بن عقیل اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی سرگرمیوں کو فتنہ و فساد  نہیں سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ گورنر تھے۔ ان کے پاس ساری اطلاعات پہنچ رہی ہوں گی۔ اگر حقیقت میں مسلم بن عقیل کسی مسلح بغاوت کی تیاری کر رہے ہوتے تو یہ بات ان سے چھپی نہیں رہ سکتی تھی اور وہ اس پر ضرور قدغن لگاتے۔

مسلم بن عقیل کا اطمینان بخش مراسلہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا عزمِ سفر:

            مسلم بن عقیل نے ان حالات میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اطلاع بھیج دی کہ بارہ ہزار افراد بیعت کر چکے ہیں، آپ تشریف لے آئیں۔

        ایک روایت میں ہے: "تمام کوفے والے آپ کے ساتھ ہیں، آپ جونہی میرا خط پڑھیں تشریف لے آئیں۔"

        یہ مراسلہ گیارہ ذی قعدہ ۶۰ ھ کو روانہ کیا گیا تھا۔

 کوفہ میں حالات کی تبدیلی: عبیداللہ بن زیاد کا تقرر:

        مسلم بن عقیل کا مراسلہ پہنچنے میں تین چار ہفتے لگے اور اس دوران کوفہ کے حالات خاصے بدل گئے۔ جن سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ بے خبر رہے۔ ہوا یہ کہ کوفے کے بعض شدت پسند امراء نے مسلم بن عقیل کے بارے میں گورنر حضرت  نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی نرم خوئی کو ناپسند کیا۔ پہلے انہیں برا بھلا کہا، جب وہ اپنی کشادہ دلی پر قائم رہے تو یزید کو سارا حال نمک مرچ لگا کر لکھ بھیجا۔ اس نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ جیسے پختہ عمر اور بصیرت مند انسان کو معزول کر دیا۔ اپنے حکم نامے میں عبیداللہ بن زیاد سے رضامندی اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بصرہ کے ساتھ کوفہ کی حکومت بھی اس کے سپرد  کردی۔ ساتھ ہی حکم دیا کہ مسلم بن عقیل کو تلاش کرو مل جائیں تو قتل کر ڈالو۔

        اس طرح عراق کے سارے معاملات ایک ایسے شخص کے اختیار میں آگئے جس کی افتادِ طبع کسی وقت کسی بھی ناگوارواقعے کو جنم دے سکتی تھی۔ عبیداللہ بن زیاد یزید کا حکم ملتے ہی بصرہ سے سیدھا کوفہ پہنچ گیا۔ مسلم بن عقیل اس وقت شہر کے ایک ممتاز سرکاری امیر ہانی بن عروہ کے ہاں قیام پذیر تھے۔ عبیداللہ بن زیاد کو خبر مل گئی۔ اس نے ہانی کو بلا کر پوچھ گچھ کی۔ جب انہوں نے مسلم بن عقیل کا پتہ نہ بتایا تو سخت زدوکوب کے بعد قلعے میں بند کر دیا۔

مسلم بن عقیل کا قتل:

        اس موقع  پرمسلم بن عقیل سے بھی ایک سخت لغزش ہوگئی جس نے واقعات کا رخ بالکل ہی موڑ دیا۔ وہ اپنے میزبان ہانی بن عروہ کو چھڑانے کے لیے چار ہزار مسلح افراد کے ساتھ میدان میں آگئے۔

        جب اس مجمعے نے کوفہ کے قصرِ امارت کی طرف بڑھے تو شروع میں عبیداللہ بن زیاد خوف زدہ ہو گیا مگر جلد ہی اہل کوفہ کی پرانی سرشت کا ایک بار پھر اظہار ہوا۔ مسلم بن عقیل ابھی آگے بڑھ ہی رہے تھے کہ تیس تیس، چالیس چالیس افراد ان کا ساتھ چھوڑ کر دائیں بائیں نکلنے والی گلیوں میں فرار ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ جب مسلم بن عقیل عبیداللہ بن زیاد کے مقابلے میں آئے تو گنتی کے چند لوگ (تقریباً پچاس آدمی) ان کے ساتھ رہ گئے تھے۔ جو چالیس پچاس افراد مسلم بن عقیل کے ساتھ رہ گئے تھے ان کی اکثریت کو عبیداللہ بن زیاد نے چالاکی اور دھونس سے کام لیتے ہوئے میدان سے ہٹا دیا۔اس کے بعد مسلم بن عقیل کو گرفتار کرنے کے لیے سپاہیوں کو آگے بڑھایا۔ اس جھڑپ میں مسلم بن عقیل زخمی ہو کر تاریکی میں فرار ہو گئے۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ شہر کی گلیوں کا راستہ بتانے کے لیے کوئی ایک فرد بھی ساتھ نہ تھا۔ خانوادۂ بنی ہاشم کا یہ چشم و چراغ زخمی حالت میں بھوکا پیاسا اکیلا کوفہ کی گلیوں میں بھٹکتا رہا۔آخر ایک خاتون نے پانی پلایا اور یہ جان کر کہ وہ مسلم بن عقیل ہیں، پناہ دی۔ مگر اس عورت کا بیٹا عبیداللہ بن زیاد کے دستِ راست محمد بن اشعث کا ساتھی تھا۔ اس نے مخبری کر دی۔مسلم بن عقیل اس گھر سے گرفتار کر لیے گئے۔ عبیداللہ بن زیاد نے انہیں بڑی بے دردی سے قتل کر کے لاش محل کی چھت سے نیچے پھنکوادی۔ ہانی بن عروہ کو بھی قتل کر دیا گیا۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کوفہ جانے سے منع کیا:

        حضرت حسین رضی اللہ عنہ ان حالات سے بے خبر تھے۔ مسلم بن عقیل کی اطمینان دہی پر آپ رضی اللہ عنہ نے اہل وعیال سمیت کوفہ جانے کی تیاری کر لی تھی۔ یہ طے ہے کہ آپ ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں نکلے تھے۔ جب آپ مکہ سے کوفہ کے لیے نکلنے لگے تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اجازت چاہی تو وہ بولے:
        "آپ کہاں جا رہے ہیں؟ ان لوگوں کے پاس جنہوں نے آپ کے والد کو قتل کیا، جس نے آپ کے بھائی کو
زخم لگایا۔ اگر میرے اور آپ کے لیے عیب کی بات نہ ہوتی تو میں آپ کو سر کے بالوں سے پکڑ کر روک لیتا۔"

        حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے انہیں بھی وہی جواب دیا جو عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو دیا تھا، فرمایا:

        "مجھے کہیں اور قتل ہو جانا، اللہ اور رسول کے مقدس شہروں میں خون ریزی برپا ہو جانے سے زیادہ عزیز ہے۔"

        جابر بن عبداللہ، ابوسعید خدری اور ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہم نے بھی عراق جانے سے روکا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ذکر پیچھے آچکا ہے کہ انہوں نے بھی منع کیا تھا۔ بعد میں وہ فرمایا کرتے تھے: "حسین رضی اللہ عنہ نے نکلنے کے معاملے میں ہماری نہ چلنے دی۔ میری جان کی قسم! انہوں نے اپنے والد اور بھائی کے جو عبرتناک حالات دیکھے اور لوگوں کی ان سے جو بے وفائی دیکھی، اس کے بعد تو انہیں زندگی بھر کوئی نقل و حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی بلکہ انہیں اس صلح میں داخل ہو جانا چاہیے تھا جس میں سب داخل ہوئے تھے کہ اجتماعیت میں ہی خیر ہوتی ہے۔"

        عبداللہ بن عمر بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے تھے: "تقدیر کی بات کہ حسین رضی اللہ عنہ نے جلدی کر دی ورنہ اگر میں ان تک پہنچ جاتا تو ان کو نکلنے نہ دیتا۔ سوائے اس کے کہ وہ مجھے لاچار کر دیتے۔"

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو منع کرنے کے باوجود کیوں نہ رکے؟

        اتنے برگزیدہ حضرات اور مخلص احباب کے منع کرنے کے باوجود حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو عراق جانے پر کیوں اصرار تھا؟ کیا وہ اقتدار کے حریص تھے؟ ہرگز نہیں۔ اصل بات یہ تھی کہ ایک طرف تو وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ ان کے کوفہ جائے بغیر مقصد اور ہدف کے حصول کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی۔ دوسرے حجاز میں انہیں حکامِ بنو امیہ سے خطرہ لاحق تھا کہ وہ موقع ملتے ہی انہیں بیعت پر مجبور کرنے کی کوشش کریں گے۔ بیعت نہ کرنے کی صورت میں جو کشمکش ہوتی اس سے حرمین میں خون ریزی کا خدشہ تھا۔ بلاشبہ دیگر صحابہ کے مشورے کے مطابق فتنے کے اس زمانے میں آپ رضی اللہ عنہ بیعت کر کے گھر میں بیٹھے رہتے تو شرعاً اس کی رخصت نکلتی تھی، یہی پُر سکون اور محفوظ شکل تھی مگر آپ کو عضوِ معطل بن کررہنا گوارا نہ تھا۔ اپنے اجتہاد کے مطابق کم از کم آپ پر عزیمت کی راہ اختیار کرنا واجب تھا تا کہ حکومت پر ایک خاندان کی اجارہ داری کا ماحول ختم کر کے اسلامی شورائیت کا نظام واپس لایا جائے۔ یہی وجہ تھی کہ سب کے منع کرنے کے باوجود آپ کا ضمیر مطمئن تھا۔ آپ کی نیت رضائے مولا اور فلاحِ امت کے سوا کچھ نہ تھی۔

خطوط ساتھ کیوں لیے؟

        یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے چلتے ہوئے وہ خطوط ساتھ لے لیے تھے جو کوفیوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو لکھے تھے۔ وجہ غالباً یہ تھی کہ اگر اہلِ کوفہ وفاداری کا وعدہ پسِ پشت ڈال دیں تو انہیں وفاداری کے وعدوں والے یہ خطوط دکھا کر عار دلائی جاسکے۔

        مشہور قول کے مطابق حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روانگی ۸ ذی الحجہ کو ہوئی تھی مگر راجح یہ ہے کہ اس سے قبل ہوئی تھی۔

یزید کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی روانگی کی اطلاع اور مروان کا ابنِ زیاد کو خط:

        اس دوران حجاز کے حاکم عَمرو بن سعید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے نکلنے کی خبر دارالخلافہ دمشق اور کوفہ روانہ کر دی تھی۔ اس نے عبیداللہ بن زیاد کو لکھا تھا: "حسین تمہاری طرف آرہے ہیں۔"

        یہی خبر مروان بن حکم نے بھی ابنِ زیاد کو بھیجی تھی مگر ساتھ ہی اس مسئلے کو احتیاط سے حل کرنے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے مقام ومرتبے کا خیال رکھنے کی نصیحت کی تھی، مگر یہ کوئی سرکاری حکم نہیں محض مشورہ تھا۔ مروان نے لکھا تھا:
        "یہ حسین رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہیں۔ اللہ کی قسم! ہمیں حسین سے زیادہ کوئی محبوب نہیں۔ خبردار! جوش میں آکر کچھ ایسا نہ کر بیٹھنا جس کی تلافی نہ ہو سکے اور لوگ اسے فراموش نہ کرسکیں۔"

        مروان کے اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ بنو امیہ کے سنجیدہ و جہان دیدہ لوگ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا احترام کرتے تھے، مگر افسوس کہ عبیداللہ بن زیاد نے ایسے لوگوں کے مشورے پر کان نہ دھرے؛ کیوں کہ بڑوں کا احترام اس کے خمیر میں نہ تھا۔ وہ فوجی نظام میں ڈھلا ہوا ایک مشینی قسم کا انسان تھا۔ اسے حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے کوئی عقیدت تھی نہ مروان جیسے کہنہ سال اموی امیر کی بات اس کے نزدیک کوئی حیثیت رکھتی تھی۔

یزید کا خط عبیداللہ بن زیاد کے نام:

        اس دوران یزید نے عبیداللہ بن زیاد کو ایک مراسلے میں لکھ بھیجا تھا:

        "مجھے خبر ملی ہے کہ حسین کوفہ کی طرف آرہے ہیں۔ حسین رضی اللہ عنہ کے معاملے میں سارے زمانوں میں
تمہارے زمانے کو، سارے شہروں میں سے تمہارے شہر کو اور سارے حکام میں سے تم کو امتحان آپڑا ہے۔
ایسے ہی امتحانات میں پڑ کر لوگ ترقی پاتے ہیں یا غلاموں کی طرح پست درجہ ہو جاتے ہیں۔"

        یزید نے اسے مسلم بن عقیل کے قتل پر شاباشی دیتے ہوئے یہ احکام بھی دیے تھے:

        "جاسوس اور مسلح  پہرے دار تعینات کر دو۔ جن لوگوں پر شک ہو انہیں گرفتار کرلو۔ جس پر کوئی الزام ہو اسے  پکڑ لو مگر قتل اسی کو کرنا جو تم سے جنگ کرے۔ مجھے پیش آمدہ حالات کی اطلاع دیتے رہنا۔"

یزید کے مراسلے پر تبصرہ:

اس مراسلے سے ثابت ہوتا ہے کہ یزید کی طرف سے ابنِ زیاد کو قافلۂ حسینی پر دست درازی کرنے کی اجازت
نہیں دی گئی تھی بلکہ ایسی کاروائی کو ناگزیر حالت کے ساتھ مشروط کیا گیا تھا۔ ممکن ہے یزید نے اپنے خیال میں اس تدبیر کو کافی سمجھا ہو، مگر حالات نے ثابت کیا کہ یہ ہدایات بالکل ناکافی تھیں۔اسی مراسلے میں مسلم بن عقیل کے قتل پر ابنِ زیاد کی جو حوصلہ افزائی کی گئی تھی، وہ اس سخت مزاج شخص کو اس خبط میں مبتلا کرنے کے لیے کافی تھی کہ حریف کا قلع قمع کرنے کی ذرا بھی گنجائش ملے تو اسے غنیمت سمجھنا چاہیے اور یہ کہ قافلۂ حسینی سے رعایت نہیں برتنی چاہیے۔

        اگر یزید اس کی جگہ عبیداللہ بن زیاد کو یہ ہدایت دیتا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو احترام کے ساتھ دمشق بھیج دیا جائے تو سازشی عناصر کی امیدیں بر نہ آتیں۔ بلا شبہ یہ یزید کی سنگین ترین غلطی تھی جس نے معاملے کو انتہائی حد تک بگاڑنے دیا۔

عبیداللہ بن زیاد کی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بے خبر رکھنے کی بھرپور کوشش:

        مسلم بن عقیل کے قتل کے بعد عبیداللہ بن زیاد کی پہلی کوشش یہ تھی کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو کوفہ کی صورتِ حال سے بالکل بے خبر رکھا جائے۔ اس نے کوفہ سے بصرہ اور شام تک تمام شاہراہوں پر اتنی سخت ناکہ بندی کرائی کہ تقریباً پورے مہینے کوئی شخص یہ علاقے عبور کر کے حضرت حسین رضی اللہ عنہ تک نہ پہنچ سکا اور نہ ہی عرب سے آنے والا کوئی شخص  پوچھ گچھ اور تلاشی کے بغیر عراق کی حدود میں داخل ہوسکا۔ مسلم بن عقیل ۸ ذی الحجہ کو قتل کیے گئے تھے اور اس سے دو تین دن قبل حضرت حسین رضی اللہ عنہ مکہ سے نکلے تھے۔ انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا کہ کوفہ میں اب نرم دل نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نہیں سخت گیر عبیداللہ بن زیاد مسلط ہے۔ اگر راستے بند نہ ہوتے تو کوفے سے نکلنے والا کوئی خبر رساں انہیں جزیرۃ العرب کی سرحد کے آس پاس یہ اطلاعات دے دیتا مگر لا علمی کی وجہ سے کاروانِ حسینی کے مسافر آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا واپسی پر آمادہ ہونا اور برادرانِ مسلم بن عقیل کا آگے بڑھنے پر اصرار:

        عراق کی سرحد کے قریب پہنچ کر آپ کو خبر ملی کہ مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کوفہ میں قتل کر دیے گئے ہیں۔
    
        حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اندازہ لگایا کہ اب ان کو حکام کی طرف سے سخت سلوک اور عوام کی جانب سے بے وفائی کے سوا کچھ نہیں ملے گا اور عبیداللہ بن زیاد آپ کو مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ جیسے سلوک کا نشانہ بنائے گا۔ اس لیے آپ کو یہی بہتر لگا کہ واپس حجاز چلے جائیں مگر مقدر میں جو لکھا ہو وہ ہو کر رہتا ہے۔ جب آپ رضی اللہ عنہ نے واپسی کا خیال ظاہر کیا تو مسلم بن عقیل کے بھائیوں نے جو آپ کے ہمراہ تھے جوش میں آکر کہا:

        "اللہ کی قسم! ہم جب تک مسلم کے خون کا بدلہ نہیں لیں گے واپس نہیں جائیں گے چاہے خود سب قتل ہو جائیں۔"

        یہ سن کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "تمہارے بغیر جینے کا کیا لطف۔"

        ان نوجوانوں نے یہ بھی کہا: "آپ واپس کیوں لوٹ رہے ہیں جبکہ ہمارا بھائی وہاں مارا گیا ہے اور آپ کے پاس ان لوگوں کے خطوط موجود ہیں جن پر آپ کو وثوق ہے۔"

        آپ پھر کچھ پرامید ہوئے اور المغیثہ سے کچھ آگے ضلع کوفہ کی سرحد تک پہنچ گئے جہاں عبیداللہ بن زیاد کے حکم سے پہرے لگائے گئے تھے۔ یہیں ابنِ زیاد کے سالار حُر بن یزید سے ملاقات ہوئی۔

حُر بن یزید کا مشورہ، حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا دمشق جانے کا فیصلہ اور اس کی وجہ:

        حُر بن یزید ایک شریف آدمی تھا۔ اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خیرخواہی کی، پوچھا:

        "کہاں تشریف لے جارہے ہیں؟" جب آپ نے کوفہ کا ارادہ بتایا تو حُر نے سختی سے منع کیا اور کہا:

        "واپس چلے جائیے۔ وہاں آپ کے لیے خیر کی کوئی امید نہیں۔"

        ان حالات میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یزید کے پاس دمشق جانے کا فیصلہ کیا، یہ فیصلہ اتنا اٹل تھا کہ آپ کسی تردد کے بغیر فوراً اس پر عمل  پیرا ہو گئے اور شام کا راستہ اختیار کر لیا۔

        لائحۂ عمل میں تبدیلی کی وجہ یہ تھی کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی فقاہت و بصیرت کی بدولت مسئلے کی نوعیت بدلتے دیکھ لی تھی۔ آپ سمجھ چکے تھے کہ یزید کی حکومت قائم و مستحکم ہو چکی ہے، لہٰذا ایک قائم شدہ حکومت کو ختم کرنے کی کوشش اب خروج اور بغاوت کے زمرے میں آئے گی، لہٰذا آپ نے شرعی حدود میں رہتے ہوئے متبادل راستے کو ترجیح دی اور چاہا کہ دمشق جا کر یزید سے ملاقات کی جائے، شاید کہ روبرو مذاکرات سے اصل مقصد حاصل ہو جائے۔ آپ کا یہ طرزِ عمل بتاتا ہے کہ یزید کی حکومت کے متعلق اپنی عزیمت پر مبنی رائے کے باوجود آپ ان صحابہ کے نقطۂ نگاہ کا بھی احترام کرتے تھے جنہوں نے شرعی گنجائش دیکھتے ہوئے یزید کی حکومت کو بعض بنیادی انتظامی کمزوریوں کے باوجود قبول کر لیا تھا۔ 

        حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے کوفہ جانے کا مقصد بھی حصولِ اقتدار نہیں بلکہ انہی کمزوریوں کی اصلاح تھا۔ کوفہ میں اپنے عقیدت مندوں کو جمع کر کے بھی غالباً آپ یہی کرنا چاہتے تھے مگر اب چونکہ صورتِ حال بالکل بدلی ہوئی تھی تو آپ نے براہِ راست یزید سے بات کرنا ضروری سمجھا کہ اسی میں امت کی فلاح تھی اور اس کے سوا کوئی اور راستہ بھی نہیں تھا۔

        اگرچہ یہ بات ظاہر تھی کہ دمشق اور کوفہ میں حکومتی پالیسی یکساں ہوگی اور حکومتی حلقے میں ہر جگہ آپ کو باغی گمان کیا جا رہا ہوگا، مگر ابنِ زیاد کی سخت مزاجی کو دیکھتے ہوئے اسے سمجھانا بہت مشکل تھا جب کہ یزید سے آپ کو یہ توقع تھی ابنِ زیاد جیسا سخت سلوک نہیں کرے گا اور کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے کم از کم آپ کا موقف ضرور سنے گا۔

        آپ دمشق کے راستے پر تقریباً ۴۵ میل (ساڑھے ۷۲ کلومیٹر) سفر کر کے آخرِ کار کربلا تک جا پہنچے، جو کوفہ سے دمشق جانے والی شاہراہ پر واقع ہے۔ یہاں دریائے فرات کا کنارہ قریب تھا جسے "اَلطّفْ" کہا جاتا تھا۔

ابنِ زیاد کیا چاہتا تھا اور کیوں؟

        عبیداللہ بن زیاد چاہتا تھا قافلۂ حسینی کو شام کی طرف جانے دیتا مگر افسوس کہ اس نے ذرا بھی مروت کا مظاہرہ نہ کیا اور کربلا میں اسے روک کر اصرار کیا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ بیعتِ یزید کی گرفتاری دے کر اس کے پاس کوفہ حاضر ہوں۔

        سوال یہ  پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس نے ایسا کیوں کیا؟ کیا اس پر دمشق کی طرف سے دباؤ تھا؟ یہ بات طے ہے کہ قافلۂ حسینی کے سرحدِ عراق پر پہنچنے کے بعد ۱۰ محرم تک کوفہ اور دمشق میں کوئی تازہ  پیام رسانی ممکن نہ تھی۔

        دمشق سے موصولہ ہدایات کے مطابق اس کا فرض منصبی عراق کے حالات کو قابو میں رکھنا تھا۔ وہاں کے لوگ اس سے مرعوب ہوچکے تھے اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی اب کوفہ سے دور جا رہے تھے۔ ایسے میں عبیداللہ انہیں جانے کی گنجائش کیوں نہیں دے رہا تھا؟ اُسے تو خوش ہونا چاہیے تھا کہ ایک آزمائش سے جان چھوٹ رہی ہے۔ 

        ہم ابنِ زیاد کے رویے کو ایک جرنیل کی ضد اور ہٹ دھرمی ہی کہہ سکتے ہیں۔ یہ ماننا پڑے گا کہ عبیداللہ بن زیاد نے نواسۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک خطرناک باغی اور ایک بدترین مجرم شمار کیا تھا۔ شاید وہ اپنی انا کو تسکین دینا اور اپنا دبدبہ قائم کرنا چاہتا تھا۔ اس نے جس طرح مسلم بن عقیل اور ہانی بن عروہ کو مجبور اور لاچار بنا کر قتل کیا تھا اسی قسم کا سلوک وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی کرنے کی تھانے ہوا تھا تاکہ سب پر حکام کی دہشت بیٹھ جائے اور لوگ صدیوں تک حکومت کے خلاف سر اٹھانے کا خیال تک ذہن میں نہ لائیں۔

        اگر ابنِ زیاد صرف کوفہ میں شورش پسندی کی روک تھام چاہتا تو اس کے لیے بہت آسان تھا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ تک نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی معزولی، اپنی تقرری، اہلِ عراق پر قابو اور مسلم بن عقیل کے دردناک انجام کی خبریں جلد از جلد پہنچا دیتا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاعات پہلے مل جاتیں تو وہ راستے سے با آسانی واپس جا سکتے تھے۔ مگر ابنِ زیاد نے سرحدوں پر اتنی سخت ناکہ بندی کر دی تھی کہ مقامی دیہاتی بھی صوبے کی حدود سے نہیں نکل سکتے تھے چنانچہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ تک کوئی اطلاع نہیں پہنچ سکی اور وہ بے خبری کے عالم میں حدودِ عراق میں داخل ہو گئے۔ یہی ابنِ زیاد چاہتا تھا کہ انہیں آنے دے اور یکدم گرفتار کر لے۔ یہ ثابت کر ے کہ  میں اتنا بڑا سیاست دان ہوں کہ حسین رضی اللہ عنہ جیسے بڑے لیڈر کو اپنے جال میں پھانس لیا۔ یہی وجہ تھی کہ عبیداللہ بن زیاد کی طرف سے سرحدی سپاہ کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ قافلۂ حسینی کو سیدھا کوفہ لے آئیں۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے اس حکم کو ماننے سے انکار کر دیا اور کوفہ کا افسرحُر بن یزید بھی نرمی اور شرافت کی وجہ سے آپ کو روکنے سے گریزاں رہا۔

عمر بن سعد کی کربلا روانگی:

        اس صورتِ حال سے ابنِ زیاد ششدر رہ گیا۔ اس نے عمر بن سعد کو "رے" (تہران) کی گورنری کے وعدے کے ساتھ یہ مہم سونپ دی کہ وہ جا کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بیعت لے، یعنی انہیں کسی امان کے وعدے کے بغیر غیر مشروط طور پر گرفتار کر کے کوفہ لے آئے اور اگر وہ خود کو حوالے نہ کریں تو انہیں قتل کر دے۔ چوں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ جیسی باعظمت شخصیت پر ہاتھ ڈالنا، تا قیامت بدنامی مول لینے کے مترادف تھا اس لیے عمر بن سعد نے معذرت کی مگر ابنِ زیاد نے عہدہ چھیننے، گھر منہدم کرانے اور گردن اڑانے کی دھمکی دی۔

        عمر بن سعد نے صبح تک کی مہلت مانگی اور رات بھر سوچتا رہا۔ دل و دماغ کی جنگ میں دماغ فتح یاب ہوا۔ صبح آ کر اس نے آمادگی ظاہر کی اور فوج کو ساتھ لے کر کربلا جا پہنچا۔


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic