سانحہ کربلا اور اسباقِ تاریخ: حکمتِ الٰہیہ، تکوینی حقائق اور فکری و روحانی اسباق

سانحۂ کربلا...... اسباقِ تاریخ

        ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ کی ذات علیم و حکیم اور قادر و مقتدر ہے۔ ہر چیز اس کی قضا و قدر اور لوحِ تقدیر کے مطابق ہے۔ کوئی واقعہ، حادثہ یا سانحہ اس کے امر کے بغیر انجام نہیں پاتا اور اس کے ہر امر میں کوئی گہری حکمت ضرور ہوتی ہے۔

        حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے سانحۂ شہادت سے جہاں دل صدمے سے پارہ پارہ ہوتے ہیں وہاں قضا و قدر اور تکوینی حکمتوں کا عقیدہ ہمیں صبر و برداشت کا سبق دیتا ہے۔ اس حادثے کے پسِ پردہ کیا حکمتیں تھیں؟ اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہم ان کا احاطہ نہیں کر سکتے۔ تاہم غور و فکر سے چند حکمتیں بہت واضح دکھائی دیتی ہیں:


        ❶ اللہ جانتا تھا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے خاندان کو کمزور ایمان والے مسلمان مافوق الفطرت ہستیاں گمان کر لیں گے، انہیں غیب دان، حاجت روا اور مشکل کشا ماننے لگیں گے۔ واقعۂ کربلا ان میں سے حق کے طالب کی آنکھیں کھولنے کے لیے ایک دلیل بن سکے گا کہ اگر حسین رضی اللہ عنہ غیب دان ہوتے تو کوفہ کا رخ نہ کرتے۔ اگر وہ حاجت روا اور مشکل کشا ہوتے تو اس طرح مظلومانہ حالت میں شہید نہ کر دیے جاتے بلکہ ان کے ایک اشارے سے تمام معاملات حل ہو جاتے۔

        ❷ یہ واقعہ انسان کو ہر حال میں صبر اور راضی بہ رضا رہنے کا عجیب درس دیتا ہے۔ اللہ نہ کرے کوئی سخت حادثہ پیش آئے، ناکامی بار بار دامن گیر ہو، قرض نا قابلِ برداشت ہو جائے، گھر بار کو آگ لگ جائے، اپنے  پیارے قتل ہوجائیں، بیماری لاچار کر دے، کچھ بھی ہو تو سوچ لیں کہ اللہ کی آزمائش ہے۔ اس کے امر کے سامنے حسین رضی اللہ عنہ جیسے عالی مرتبہ انسان کو قتل ہونا پڑا تو ہم کیا چیز ہیں۔

        ❸ سیاسی معاملات اور امور کئی پہلو اور درجوں احتمالات رکھتے ہیں۔ بندہ شرعی حدود میں رہے تب بھی انتظامی لغزش کا احتمال ہوتا ہے۔ ان گنت لوگوں کے حقوق کے لیے بندہ جواب دہ رہتا ہے۔ قدم قدم پر غلطی اور اللہ کے ہاں مؤاخذے کا خطرہ رہتا ہے۔ بہت کم حکمران ایسے ہوتے ہیں جو اپنا دامن بچا پاتے ہیں۔ بدنامی کا خوف الگ رہتا ہے۔ حاکم صحیح نیت سے صحیح رخ پر کام کرے تب بھی بعض اوقات عوام حکمران کی تدبیر و مصلحت نہیں سمجھ پاتے اور اسے بدنام کر کے چھوڑتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو منظور تھا کہ سادات ہمیشہ معزز و محبوب، با قیامت نیک نام اور سدا نیک شہرت رہیں، اس لیے حکمتِ الٰہیہ نے اس حادثے کو رونما کر کے اکثر ساداتِ عالی شان کو سیاستِ زمانہ سے الگ کر دیا۔

        ❹ اللہ تعالیٰ کو سادات سے امت کی علمی و روحانی تربیت کا کام لینا تھا اس لیے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بعد بنو فاطمہ کے بعض بزرگوں نے خروج کی کوششیں کیں مگر کوئی تحریک بار آور نہ ہوسکی اور رفتہ رفتہ یہ حضرات سیاسیات سے ہٹ کر پوری طرح علمی و روحانی خدمات میں مشغول ہو گئے جو اللہ کا امرِ تکوینی تھا۔

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا ارشاد:

        یہاں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا ارشاد یاد رکھنے کے قابل ہے:

``"بنو ہاشم ہی کے ذریعے اس دین کا آغاز ہوا تھا اور بنو ہاشم ہی کی حکومت پر اس کا اختتام ہو گا۔ (جیسا کہ احادیث میں ظہورِ مہدی کو قربِ قیامت کی علامت بتایا گیا ہے) پس جب تم دیکھو کہ کوئی ہاشمی برسرِ اقتدار آ گیا تو سمجھو کہ وقت کا اختتام ہے۔"

عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا کلمۂ حق اور یزید کی طرف سے روک ٹوک:

        بیشتر صحابہ کے نزدیک موجودہ حالات میں بہتر صورت یہی تھی کہ کوئی سیاسی انقلاب لانے کی بجائے حق بات بیان کرنے پر اکتفا کیا جائے اور لوگوں کو احادیثِ نبویہ کی روشنی میں سچائی سے آگاہ کیا جائے اور بتایا جائے کہ ایسے حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کیا ہیں۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بھی انہی صحابہ میں شامل تھے۔

        وہ شام میں رہائش پذیر تھے۔ اپنے محلے کی مسجد میں درسِ حدیث دیتے تھے اور اسی ضمن میں اعلائے کلمۂ حق کرتے ہوئے حکمرانوں کی برائیوں پر چوٹ بھی کرتے تھے۔ وہ فرمایا کرتے تھے:

        "قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ بُرے لوگوں کو ترقی دی جائے گی، نیک لوگ پست کر دیے جائیں گے۔"

        یزید کی طرف سے ان پر کڑی نگاہ رکھی جاتی تھی اور انہیں حدیث سنانے سے روک ٹوک کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ایک بار حدیث سنا رہے تھے کہ یزید کا سپاہی آ کر سر پر کھڑا ہو گیا۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے طلبۂ حدیث سے مخاطب ہو کر کہا: "دیکھو! یہ اسی لیے آیا ہے تاکہ مجھے احادیثِ رسول سنانے سے روک دے۔"
☆☆☆

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic