سانحہ کربلا اور اسیرانِ اہل بیت کا سفرِ مدینہ: حقائق اور مستند روایات

مقتلِ کربلا

        ​میدانِ کربلا میں سرکاری فوج کے افسران عمر بن سعد، شِمر بن ذی الجوشن اور حُصَین بن نمیر کی حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے بات چیت ہوئی۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے ان کو اللہ اور دین کا واسطہ دیا اور کہا:

        "مجھے امیر المؤمنین کے پاس جانے دو، میں اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا۔"

        یہ اتنا معقول اور واضح مطالبہ تھا جس پر حکام کے سارے گلے شکوے دور ہو جانے چاہیے تھے مگر عبیداللہ بن زیاد کی طرف سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو غیر مشروط طور پر گرفتار کرنے کا حکم تھا اس لیے سالارانِ فوج نے جواب دیا:

        "اُس کے سوا اور کوئی صورت نہیں کہ آپ ابنِ زیاد کے فیصلے پر خود کو حوالے کر دیں۔"


​حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا افواجِ کوفہ کو تین اختیارات دینا:

        تمام راستے مسدود دیکھ کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے دوسرے مرحلے میں حکام کے سامنے تین صورتیں رکھیں:

        ● جہاں سے آیا ہوں وہیں واپس جانے کی اجازت دی جائے۔

        ● یزید کے پاس چلے جانے کا موقع دیا جائے۔

        ● کسی سرحد کی طرف نکل جانے دیا جائے۔

        عمر بن سعد مان گیا۔ اس نے عبیداللہ بن زیاد کو اطلاع دی مگر اس نے صاف انکار کر دیا اور غیر مشروط گرفتاری دینے پر اصرار کیا۔

        ​ابو مخنف کے مطابق عبیداللہ بن زیاد حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی اس پیش کش پر راضی ہونے لگا تھا مگر شمر بن ذی الجوشن نے اسے سمجھایا کہ غیر مشروط گرفتاری ہی درست اقدام ہے تاکہ فیصلہ حکومت کے اختیار میں رہے۔

        شمر نے عبیداللہ بن زیاد سے کہا: "اللہ نے دشمن کو آپ کے قابو میں دے دیا ہے، آپ اسے چھوڑ رہے ہیں؟"

        ابنِ زیاد کا پہلا فیصلہ بھی یہی تھا، چنانچہ یہ پیش کش مسترد کر دی گئی۔

        شمر کی رائے پر فیصلہ دینے سے عبیداللہ بن زیاد کا اپنا کردار بے داغ نہیں ہو جاتا۔ دراصل شمر نے اس کے دل کی بات کہہ دی تھی ورنہ وہ کوئی بچہ نہ تھا کہ شمر اسے بہکا لیتا۔

        ایک بار پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو غیر مشروط گرفتاری دینے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر ایسا کرنا نہ صرف خانوادۂ نبوت کی عزت و آن بان کے خلاف تھا بلکہ یہ اس عظیم مقصد کو بھی اپنے ہی ہاتھوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پامال کر دینے کے مترادف تھا جس کے لیے جگر گوشۂ بتول نے اپنی اور اپنے خاندان والوں کی زندگیاں داؤ پر لگائی تھیں۔

        اس لیے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔"

​گرفتاری کیوں نہ دی؟

        ​بعض "محققین" کو اس پر حیرت ہے کہ جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ یزید سے  بیعت پر آمادہ تھے تو بھلا ابنِ زیاد کے ہاتھ پر بیعت سے انہیں انکار کیوں تھا؟ جبکہ عبیداللہ بن زیاد اپنی نہیں، یزید ہی کی اطاعت کی بیعت لینا چاہتا تھا۔

        دراصل ان حضرات نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اصل ہدف کو نظر انداز کر کے انہیں میدانِ اقتدار کا ایک نادان قسمت آزما تصور کر رکھا ہے۔ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی یزید سے بیعت پر آمادگی کو بھی اسی نگاہ سے دیکھتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ نواسۂ رسولؐ اپنی جان بچانے کے لیے آخر میں ایسی چیز پر آمادہ ہو گئے جسے وہ شروع سے اب تک حرامِ قطعی سمجھ رہے تھے حالاں کہ اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو جان کی پروا ہوتی تو انہیں ابنِ زیاد کی چالیس گنا برتر فوج کے سامنے بہرحال جھک ہی جانا چاہیے تھا۔ سچ یہ ہے کہ جہاں اہلِ تشیع نے سادات کو عصمت کے مقام پر فائز کر کے حد سے بڑھا دیا ہے، وہاں ان کی تردید میں بعض خالی قسم کے "محققین" جگر گوشۂ بتول کو ان کے مقام سے گرانے کی تگ و دو میں ہیں۔ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو آج کل کے سیاست دانوں پر قیاس کر کے، ان کی تحریکِ عزیمت کو ایک پست زاویۂ نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اس لیے وہ فکرِ حسین رضی اللہ عنہ کے متعلق جابجا کج فکریوں کا شکار ہوئے ہیں۔

        اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اعلیٰ مقاصد کو سامنے رکھیں تو ان کے ہر فعل کی توجیہ سمجھ آ سکتی ہے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا ہدف سیاسی اصلاحات کا نفاذ تھا، اور آپ ان اصلاحات کے نفاذ کی شرط پر بیعت کرنا چاہتے تھے، چونکہ یہ اختیار صرف یزید کے پاس تھا اس لیے آپ اسی سے براہِ راست مل کر بیعت کرنا چاہتے تھے۔ عبیداللہ بن زیاد کے پاس اصلاحات کا مطالبہ ماننے کا اختیار ہی نہیں تھا، اس لیے اس سے بیعت کرنے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوسکتا تھا، بالخصوص ایسے حال میں جبکہ وہ کسی تحفظ اور یزید کے پاس پہنچانے کی ضمانت دیے بغیر غیر مشروط بیعت لینے پر مصر تھا۔

​جنگ کیسے چھڑی؟

        ​بات چیت ختم ہو جانے کے بعد بھی عمر بن سعد جنگ کو ٹالنا چاہتا تھا مگر عبیداللہ بن زیاد کوفہ میں بیٹھ کر پل پل کی خبریں لے رہا تھا۔ اس نے جویریہ بن بدر تمیمی کو یہ حکم دے کر بھیج دیا کہ عمر بن سعد کو کہو فوراً حسین اور ان کے ساتھیوں سے لڑائی شروع کرے ورنہ اس کی گردن اڑا دی جائے گی۔ عمر بن سعد نے یہ دھمکی سنی تو جلدی جلدی ہتھیار پہنے اور جنگ شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔

        حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے گفت و شنید کا لاحاصل دیکھا تو اپنی صف کی طرف واپس چل دیے۔ اکتوبر کا مہینہ تھا، ہلکی سردی کا موسم تھا اس لیے آپ جبہ پہنے ہوئے تھے۔ عمر بن سعد کی فوج کے ایک شخص عمر طہوی نے آپ کی پشت پر تیر چلا دیا۔ یہ گویا جنگ کا اعلان تھا۔ تیر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے جبے میں دونوں شانوں کے بیچ  پیوست ہوگیا۔

        اس دوران کوفہ کی گھڑ سوار فوج کے سالار حر بن یزید کا ضمیر جاگ اٹھا۔ فوج کو جنگ پر تیار دیکھ کر اس نے دیگر افسران کو ملامت کرتے ہوئے کہا: "کیا تم حسین رضی اللہ عنہ کی درخواست قبول نہیں کرو گے؟ اللہ کی قسم! اگر ایسی درخواست ترکستان اور دیلم کے کفار بھی تم سے کرتے تو اسے مسترد کرنا جائز نہ ہوتا۔"

        مگر ان افسران پر کوئی اثر نہ ہوا۔ تب حر نے اپنے گھوڑے کا رخ پھیرا اور اسے حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے اصحاب کی طرف دوڑا دیا۔ یہ حضرات سمجھے کہ کوئی لڑنے آ رہا ہے۔ حر نے قریب آ کر اپنی ڈھال الٹ دی (جو صلح کا اشارہ تھا) اور سب کو سلام کیا۔ اس کے بعد ابنِ زیاد کی فوج پر حملہ کر دیا۔ ان میں سے دو کو قتل کیا اور خود بھی شہادت پائی۔

​حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی توہین:

        ​اب فریقین ہتھیار تھام کر آمنے سامنے آ گئے۔ ابنِ زیاد کے سپاہیوں نے لڑائی بھڑکانے کے لیے سادات کی توہین شروع کر دی۔ ایک بدبخت نے کھڑے ہو کر آواز لگائی: "کیا تمہارے درمیان حسین ہیں؟"

        جواب ملا: "ہاں"۔ اس شخص نے کہا: "انہیں دوزخ کی خوشخبری دو۔"

        حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "نہیں بلکہ رب معاف کرنے والا، مہربان اور رحیم ہے، جس کی اطاعت کی جاتی ہے۔"

        پھر آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "اچھا تو کون ہے؟" بولا: "میں حُوَیزہ کا بیٹا"۔

        آپ رضی اللہ عنہ نے بے ساختہ کہا: "الٰہی! اسے دوزخ میں کھینچ لے۔"

        اسی وقت اس شخص کی سواری بدک کر بھاگی اور اس کا پاؤں رکاب میں پھنسارہ گیا، بھاگتے بھاگتے پورا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، اور رکاب میں صرف اس کا پاؤں باقی رہ گیا۔

​صاحبزادے عبداللہ کا قتل اور جنگ کا آغاز:

        حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبداللہ نہایت حسین و جمیل تھے۔ ایک کوفی سپاہی نے انہیں دیکھ کر کہا:

        "اسے تو میں ضرور قتل کروں گا۔"

        دوسرے لوگوں نے سمجھایا بھی کہ اسے قتل کرنے سے بچو کیا مطلب! مگر وہ اڑا رہا اور ہتھیار کھینچ کر عبداللہ پر جھپٹا اور دوڑا۔ جب اس نے عبداللہ پر وار کیا تو وہ چلائے: "ہائے چچا!"

        حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے آواز سنی تو بولے: "ایسے شخص کی آواز پر لبیک جس کے مددگار کم ہیں اور دشمن بہت۔"

        یہ کہہ کر آپ نے اس کوفی پر حملہ کیا اور اس کا ہاتھ کاٹ پھینکا۔ پھر دوسرا وار کرتے ہوئے اسے مار ڈالا۔ اس کے بعد عام لڑائی شروع ہوگئی۔

​اہلِ کوفہ کی بے ہمتی:

        ​کوفہ کے کچھ لوگ جنگ کا نظارہ دیکھنے میدانِ جنگ کے قریب ٹیلوں پر پہنچ چکے تھے۔ وہ اشک بار ہو کر یہ مناظر دیکھ رہے تھے اور اللہ کی نصرت اترنے کی دعائیں کر رہے تھے مگر ان کی بے ہمتی کا یہ عالم تھا کہ ذرا نیچے اتر کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مدد کے لیے نہ گئے۔ کسی نے کہا: "اللہ کے دشمنو! تم نیچے اتر کر ان کی مدد کیوں نہیں کرتے؟"

        مگر وہ نہ تو کوئی جواب دے سکے، نہ ہی عملاً کچھ کر پائے۔

        اس وقت حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ سو کے قریب افراد تھے۔ ان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پانچ بیٹوں اور بنو ہاشم کے سولہ افراد کے علاوہ بنو سلیم اور بنو کنانہ کا ایک ایک حلیف بھی تھا۔ ابنِ عمر بن زیاد نامی شخص بھی ان میں شامل تھا۔

​حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت:

        ​آخر کار اس خونریز لڑائی میں سرکاری افواج کے ہاتھوں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے تمام ساتھی قتل ہو گئے۔ ان میں دس سے زیادہ نوجوان ان کے گھر کے تھے۔ ایک تیر آ کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اس معصوم بچے کو لگا جو ان کی گود میں تھا۔ حسین رضی اللہ عنہ اس کا خون پونچھتے جاتے اور کہتے جاتے: "اے اللہ! ہمارے اور ان کے درمیان تو ہی انصاف کر، انہوں نے ہمیں اس لیے بلایا کہ ہماری مدد کریں اور اب یہ ہم لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔"

        حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو یقین ہو گیا کہ یہ لوگ نہ صرف انہیں قتل کر کے رہیں گے بلکہ ان کی لاش سے کپڑے اتارنے میں بھی کوئی توقف نہیں کریں گے۔ آپ نے گھر والوں سے کہا: "مجھے ایسا معمولی کپڑا دے دو جسے چھیننا کوئی پسند نہ کرے، اسے میں لباس کے نیچے پہن لوں گا کہ کہیں میں عریان نہ کر دیا جاؤں۔"

        خواتین نے ایک پرانی چادر دے دی، آپ نے اسے پھاڑ کر لباس کے نیچے پہن لیا۔ پھر تلوار لے کر نکلے۔

        کچھ دیر کشت و خون کا ہنگامہ برپا رہا۔ آخر کار حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی بڑی دلیری سے لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔

        قاتلوں نے اس چادر کے سوا آپ کے باقی کپڑے اتار لیے اور سرِ مبارک کو تن سے جدا کر دیا۔

​اِنا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

​شہدائے کربلا:

        معرکۂ کربلا میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے ساتھ آلِ ابی طالب میں سے "۱۸" افراد شہید ہوئے۔

        ● چھ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے: ① عباس ② جعفر ③ عبیداللہ ④ عثمان ⑤ محمد ⑥ ابوبکر

        ● دو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بیٹے: ① عبداللہ ② علی اکبر

        ● تین حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے لڑکے تھے: ① قاسم ② ابوبکر ③ عبداللہ

        ● تین عقیل بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لڑکے (مسلم بن عقیل رضی اللہ عنہ کے بھائی) تھے: ① جعفر ② عبدالرحمن ③ عبداللہ

        ● دو حضرت عقیل رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے: ① عبداللہ بن مسلم ② محمد بن ابی سعید بن عقیل

        ● دو عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے لڑکے تھے: ① عون ② محمد

        عمر بن سعد کی فوج کے ۸۸ آدمی مارے گئے تھے۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے علی (زین العابدین) اس وقت  بیمار تھے، ان کی عمر ۲۳ سال تھی۔ عمر بن سعد نے سپاہیوں سے کہا: "اس مریض کو کچھ نہ کہنا۔"

​قاتل کے فخریہ اشعار:

        ​قاتل حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا سر لے کر کوفہ کے قصرِ امارت پہنچا اور ابنِ زیاد کو خوشخبری دیتے ہوئے یہ فخریہ اشعار پڑھے:

أَوْقِدْ رِکَابِیْ فِضَّةً وَّذَهَبًا فَإِنِّیْ قَتَلْتُ الْمَلِکَ الْمُحَجَّبَا

قَتَلْتُ خَیْرَ النَّاسِ أُمًّا وَّأَبًا وَخَیْرَهُمْ إِذْ یُنْسَبُوْنَ نَسَبَا

        "میری سواری کو سونے چاندی سے لاد دے کہ میں نے اس بادشاہ کو قتل کر ڈالا جو پہرے میں رہتا تھا۔
میں نے دنیا کے بہترین والدین کی اولاد کو قتل کیا، جو نام و نسب کے شمار کے وقت سب سے اعلیٰ ثابت ہوتا تھا۔"

​سرِ مبارک عبیداللہ بن زیاد کے سامنے:

        سرِ مبارک کو ایک طشت میں رکھ کر عبیداللہ بن زیاد کے سامنے  پیش کیا گیا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بالوں میں خضاب لگا ہوا تھا۔

        عبیداللہ بن زیاد کا دل پتھر کی مانند تھا۔ اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ چھڑی سے ان کے بالوں کو کریدتے ہوئے بولا:

        "دیکھو! ابو عبداللہ کے بالوں میں سفیدی آ گئی۔" پھر چھڑی کو ہونٹوں پر رکھ کر کہا: "دہن تو بڑا خوبصورت ہے۔"

        اس وقت کوفہ کے بزرگ اور شرفاء مجلس میں موجود تھے۔ ان میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ وہ بول اٹھے: "بخدا! میں تمہیں غصہ دلاؤں گا۔ سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہاں بوسے دیتے دیکھا ہے جہاں تم نے چھڑی رکھی ہے۔"

​قافلۂ سادات عبیداللہ بن زیاد کے پاس:

        ​عمر بن سعد نے لڑائی سے فارغ ہو کر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے اہل و عیال کو بھی عبیداللہ بن زیاد کے پاس کوفہ بھیج دیا تھا۔

        عبیداللہ بن زیاد سنگ دل سہی مگر اس نے خواتین سے بدسلوکی نہ کی، انہیں ایک الگ گھر میں ٹھہرا کر ان کے کھانے پینے، خرچے اور لباس وغیرہ کا انتظام کرا دیا۔

        عبیداللہ بن زیاد نے اس معاملے کو بالکل ایک باغی گروہ کے قضیے کی طرح دیکھا تھا۔ اس کے نزدیک بھی باغی کا اطلاق حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے مرد ساتھیوں پر ہی ہوتا تھا، گھر کے بچوں اور خواتین پر نہیں، اس لیے وہ انہیں کسی سزا کا حق دار نہیں سمجھتا تھا۔

حضرت زین العابدین اور عبید اللہ بن زیاد

        قافلے میں شامل خانوادۂ سادات کے تمام مرد شہید کر دیے گئے تھے۔ صرف حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے بیٹے علی بن حسین (جو زین العابدین کے لقب سے مشہور ہوئے) اس لیے زندہ رہ گئے تھے کہ وہ بیمار تھے اور لڑائی  کے لئے  خیمے سے باہر نہیں نکل سکے تھے۔

        جب وہ قافلے کی خواتین کے ساتھ کوفہ پہنچے تو عبید اللہ بن زیاد نے یہ سوچ کر کہ وہ بھی بغاوت میں شامل تھے، سپاہیوں کو حکم دیا کہ اسے بھی قتل کر دو۔ ان کی پھوپھی زینب بنت علی بڑی جرات مند خاتون تھیں۔ وہ زین العابدین سے لپٹ گئیں اور بولیں: ”جب تک مجھے قتل نہ کر دو، اسے نہیں مار سکتے۔“

        عبید اللہ بن زیاد نرم پڑ گیا اور انہیں چھوڑ دیا۔

        پھر اس نے قافلۂ حسینی کا سامان سفر تیار کر کے انہیں یزید کے پاس دمشق بھیج دیا۔ 

        ابو مخنف وغیرہ کی بعض روایات میں سادات سے عبید اللہ بن زیاد اور یزید کی سخت بدسلوکی کا ذکر ہے۔ مثلاً یہ کہ ان خواتین کو کوفہ سے دمشق تک برہنہ سر، پابہ زنجیر اونٹوں پر قیدیوں کی مانند بٹھا کر بھیجا گیا اور یزید نے سرِ دربار ان کی توہین کی اور مغرورانہ باتیں کیں مگر ایسی بدسلوکی کسی معتبر سند سے ثابت نہیں۔

قافلۂ سادات یزید کے ہاں

        جب سادات کا قافلہ دمشق پہنچا تو یزید نے بھی اس سانحے پر سخت افسوس ظاہر کیا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے حضرت زین العابدین رحمہ اللہ کا بیان ہے:

        ”ہمیں یزید کے پاس لے جایا گیا، ہمیں دیکھ کر اس کی آنکھ بھر آئی اور اس نے ہمیں وہ سب دیا جو ہم نے چاہا۔“ 

        یزید کے دربار میں نیلی آنکھوں والا ایک سرخ رنگت آدمی تھا، اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی ایک کم عمر بیٹی کی طرف دیکھا اور کہا: ’امیر المؤمنین! یہ لڑکی مجھے دے دیں۔‘

        یہ سن کر زینب بنت علی کہہ اٹھیں:

        ”اللہ کی قسم! نہ تجھے یہ حق ہے نہ یزید کو۔ سوائے اس کے کہ وہ اللہ کے دین کا منکر ہو جائے۔“

        نیلی آنکھوں والے نے پھر یہی بات کہی۔ یزید نے کہا: ”خاموش رہو۔“ 

        تب فاطمہ بنت حسین نے کہا: ”اے یزید! کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹیاں قیدی بنائی جائیں گی؟“

        یہ سن کر یزید بھی رو پڑا۔ اس کے ساتھ سبھی لوگ اس قدر روئے کہ آوازیں بلند ہوگئیں۔

        اس موقع پر حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ انہوں نے یزید سے کہا:

        "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر انہیں اس حال میں دیکھتے تو وہ جیسا سلوک کرتے، آپ ویسا ہی سلوک کریں۔"

        یہ سن کر یزید نے کہا: "انہیں حمام لے جا کر غسل کراؤ، ان کے لیے بڑا خیمہ لگاؤ۔"

        لوگوں نے ایسا ہی کیا۔ یزید نے ان کے لیے کھانا جاری کرایا، کپڑے فراہم کیے اور بکثرت عطیات دیے۔ پھر کہا:

        "اگر ابنِ زیاد کا حسین رضی اللہ عنہ سے رشتہ ہوتا تو ان کو قتل نہ کرتا۔"

        سادات سے یزید کے حسنِ سلوک کی گواہی ابو مخنف نے اپنی بعض روایات میں دی ہے اور حضرت فاطمہ بنت علی (حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پوتی) کے حوالے سے درج ذیل واقعات نقل کیے ہیں:

        یزید نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے کہا: "نعمان! ان لوگوں کی روانگی کا انتظام مناسب انداز میں کر دیں۔ ان کے ساتھ اہلِ شام کے کسی ایسے فرد کو بھیجیں جو دیانت دار اور صالح ہو، ساتھ میں کچھ گھڑ سوار اور خادم بھی ہوں جو ان سب کو مدینہ منورہ پہنچا دیں۔"

        پھر اس نے خواتین کے لیے حکم دیا کہ انہیں الگ مکان میں ٹھہرایا جائے جس میں ضرورت کی سب چیزیں موجود ہوں اور ان کے بھائی علی بن حسین بھی اس گھر میں رہیں جس میں یہ عورتیں ہوں۔

        یہ خواتین جب یزید کے گھر گئیں تو آلِ معاویہ میں سے کوئی خاتون ایسی نہیں تھی جو روتی اور نوحہ کرتی ان کے پاس نہ آئی ہو۔ تین دن سب نے وہاں سوگ منایا۔ یزید صبح و شام کھانے پر علی بن حسین (زین العابدین) کو ضرور بلایا کرتا تھا۔

        جب یہ لوگ روانہ ہونے کے لیے تیار ہوئے تو یزید نے علی بن حسین کو بلوایا اور ان سے کہا: "ابنِ مرجانہ (عبیداللہ بن زیاد) پر اللہ کی لعنت ہو۔ واللہ! اگر حسین رضی اللہ عنہ میرے پاس آتے تو مجھ سے جو مطالبہ کرتے میں پورا کر دیتا۔ ان کو جس طرح ممکن ہوتا قتل ہونے سے بچا لیتا، چاہے اس میں میری اولاد میں سے کوئی مارا جاتا لیکن اللہ کو یہی منظور تھا جو آپ نے دیکھا۔ آپ کو جس چیز کی ضرورت ہو، مجھے لکھ بھیجا کریں۔"

        یزید نے بنو ہاشم کی خواتین سے فرداً فرداً معلوم کرایا کہ (ہنگامہ و غارت گری میں) کس سے کیا کچھ لوٹا گیا؟ خواتین نے جتنا کچھ بھی بتایا یزید نے اس سے دوگنا ان کو دیا۔

        یزید نے ہاشمی قافلے کو مدینہ منورہ پہنچانے کے لیے بھی نیک سیرت لوگ تعینات کیے۔ ان کے سردار کو سادات کے بارے میں حسنِ سلوک کی وصیت کی۔ چنانچہ وہ انہیں لے کر نکلا۔ انہیں رات کو لے کر سفر کرتا اور آگے رکھتا تاکہ وہ اس کی نظروں سے ایک پل اوجھل نہ ہوں۔

        ​جب وہ کہیں پڑاؤ ڈالتے تو یہ خدام ان سے دور ہٹ جاتے اور ان کے ارد گرد پہرہ دیتے۔ انہیں ایسی جگہ ٹھہراتے جہاں وضو اور دیگر ضروریات میں کوئی زحمت نہ ہوتی۔ وہ ان کی ضروریات کا پورا خیال کرتے اور حسنِ سلوک کرتے ہوئے منزل بہ منزل انہیں مدینہ لے آئے۔

        ان کے اچھے برتاؤ سے متاثر ہو کر فاطمہ بنت علی نے قافلہ سالار کو زیورات وغیرہ حقِ خدمت کے طور پر پیش کیے اور صلے میں کمی پر معذرت بھی کی ۔ اس نے جواب میں کہا:

        "اگر دنیا کے لیے یہ حسنِ سلوک کیا ہوتا تو یہ زیور بلکہ اس سے کم بھی مجھے خوش کرنے کے لیے کافی ہوتا مگر میں نے صرف اللہ کی خاطر اور آپ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ داری کی خاطر ایسا کیا ہے۔"


​حضور صلی اللہ علیہ وسلم  پوچھیں گے تو کیا جواب دو گے؟

        جب یہ قافلہ مدینہ میں داخل ہوا تو استقبال کرنے والوں میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پھوپھی زاد حضرت زینب بنت عقیل بھی تھیں۔ وہ رو رو کر یہ اشعار پڑھ رہی تھیں:

مَاذَا تَقُوْلُوْنَ إِنْ قَالَ النَّبِیُّ لَکُمْ مَاذَا فَعَلْتُمْ وَأَنْتُمْ آخِرُ الأُمَمِ
"لوگو! تم کیا جواب دو گے جب پیغمبرؐ تم سے پوچھیں گے
کہ تم نے آخری امت ہو کر کیا کیا؟"

بِعِتْرَتِیْ وَبِأَهْلِیْ بَعْدَ مُفْتَقَدِیْ مِنْهُمْ أُسَارَیٰ وَقَتْلَیٰ ضُرِّجُوْا بِدَمِ
"میرے بعد میری اولاد اور گھر والوں سے کیا سلوک کیا؟
ان میں سے کچھ قیدی بنے، کچھ مقتول ہو کر خاک و خون میں لٹا دیے گئے۔"

مَا کَانَ هَذَا جَزَائِیْ إِذْ نَصَحْتُ لَکُمْ أَنْ تَخْلُفُوْنِیْ بِسُوْءٍ فِیْ ذَوِیْ رَحِمِیْ
"میں نے تمہاری جو رہنمائی کی تھی اس کا بدلہ یہ تو نہ تھا
کہ میرے بعد میرے اقارب سے بدسلوکی کرو۔"

حضرت ابوالاسود الدؤلی (م ۶۹ھ) تک جب یہ اشعار پہنچے تو فرمایا: "ہم یہی کہیں گے:

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَکُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِینَ۔"


Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic