سانحہ کربلا کا ذمہ دار کون؟ اہلِ کوفہ، ابنِ زیاد اور یزید کے کردار کا تاریخی حقائق کی روشنی میں تجزیہ

سانحۂ کربلا کا ذمہ دار کون؟

        یہ سوال بڑے شدومد سے اپنی جگہ برقرار ہے کہ آخر سانحۂ کربلا کا ذمہ دار کون تھا؟ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کے پچاس برس بعد ہی ان کے خاندان کو خاک و خون میں تڑپانے والے آخر کون تھے؟

        واقعۂ کربلا کا بغور جائزہ لینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی ایک فرد کو اس سانحے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس کے ذمہ دار کئی گروہ اور مختلف لوگ تھے۔ ان میں سے کسی کی سازش، کسی کی نادانی، کسی کی ضد اور کسی کے جوشیلی انتقام نے حالات کو یہاں تک پہنچایا کہ امت کے ہاتھ اپنے ہی نبی کی اولاد کے خون میں رنگے گئے۔ ذیل میں ہم ان ذمہ دار گروہوں یا افراد کا ذکر کرتے ہیں۔


اہلِ کوفہ:

        اگر غور کیا جائے تو سانحۂ کربلا کی ذمہ داری سب سے پہلے اہلِ کوفہ پر عائد ہوتی ہے جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ہزاروں وعدے کر کے بلایا اور پھر دھوکا دے کر اکیلا چھوڑ دیا۔ صحابہ کرام اور اکابرِ امت کے اس سانحے پر منقول تأثرات پڑھنے سے پتا چلتا ہے کہ ان کو زیادہ غصہ اہلِ کوفہ پر ہی تھا۔

        حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر ملی تو فرمایا:

"اللہ ان لوگوں کو ہلاک کرے، انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو دھوکا دیا۔ ان پر اللہ کی لعنت ہو۔"

        عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کسی عراقی نے احرام کی حالت میں مچھر مارنے کا مسئلہ پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے حاضرین کی طرف رخ کر کے کہا: "اسے دیکھو تو سہی! مجھ سے مچھر کے خون کا مسئلہ پوچھ رہا ہے جبکہ ان لوگوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند کو قتل کیا ہے اور میں نے خود حضور علیہ السلام سے سنا ہے کہ یہ دونوں (حسن و حسین) دنیا میں میرے دو پھول ہیں۔"

        جنگ کے دوران حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ قابلِ غور ہیں: "اے اللہ! تو ہی ہمارا اور ان لوگوں کا انصاف فرما۔ انہوں نے ہمیں بلایا کہ ہماری مدد کریں اور اب ہمیں قتل کر رہے ہیں۔"

        ان الفاظ کا مصداق عبیداللہ بن زیاد اور عمر بن سعد وغیرہ نہیں ہو سکتے؛ کیوں کہ انہوں نے آپ کو ہرگز نہیں بلایا تھا۔

        اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کوفہ کے افسران اور سپاہیوں میں شیعانِ علی کے ایسے لوگ شامل تھے جنہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو خطوط لکھے تھے مگر اب وہ غداری کر کے ان کے خلاف شمشیر بکف ہو گئے تھے۔

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف حملے میں شریک شیعانِ علی:

        تاریخی روایات سے کوفہ کی حملہ آور فوج میں درج ذیل شیعانِ علی کی موجودگی کا ثبوت ملتا ہے:

        ● عمرو بن حجاج: یہ وہ شخص تھا جس نے ہانی بن عروہ کی گرفتاری پر جا کر قصرِ امارت کے دروازے پر چڑھائی کی تھی۔ یہی عمرو بن الحجاج کربلا میں ابنِ زیاد کی فوج میں شامل ہو کر کہہ رہا تھا:

        "لوگو! اس شخص کے قتل میں تردد نہ کرنا جس نے دین چھوڑ دیا اور حاکم کی مخالفت کی۔"

        ● شمر بن ذی الجوشن: جنگِ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھا اور اس لڑائی میں زخمی بھی ہوا تھا۔ ابنِ زیاد کے لشکر کا یہ نائب سالار ہی تھا اور اسی نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر مہلک وار کرنے کا حکم دیا تھا۔

        ● عبداللہ بن زہیر بن سلیم: کوفہ کی فوج کا ایک حصہ عبداللہ بن زہیر بن سلیم کی قیادت میں تھا۔ یہ شخص مشہور شیعہ مؤرخ ابو مخنف لوط بن یحییٰ کا پڑنانا تھا۔

        ● قیس بن الاشعث: فوج کا ایک حصہ قیس بن الاشعث کی کمان میں تھا۔ اس کے والد اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ جنگِ صفین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سپہ سالار تھے۔

        ● سِنان بن انس نخعی: اس نے شمر کے حکم پر نیزے کا کاری وار کیا تھا، قبیلۂ نخع سے تھا جس میں شیعانِ علی کا غلبہ تھا۔

    ● خولی بن یزید الاصبحی: اس نے سرِ مبارک تن سے جدا کیا تھا۔ یہ قبیلۂ حمیر سے تعلق رکھتا تھا جو یمنی قبیلہ تھا جہاں سے عبداللہ بن سبا نے جنم لیا تھا اور وہاں تشیع کے اثرات گہرے تھے۔

        رہی یہ بات کہ ان لوگوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کرنے کی کیوں ٹھان رکھی تھی؟ وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے رفقاء کو زخمی کر کے یا زندہ حالت میں بھی کوفہ لے جا سکتے تھے۔ انہیں قتل کر کے کیا حاصل ہوا؟ اگر غور کیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں ڈر تھا کہ اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ زندہ رہے تو کہیں ان کے راز فاش نہ ہو جائیں۔ ان کے لکھے ہوئے خطوط بھی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ اگر یہ خطوط عبیداللہ بن زیاد یا یزید تک پہنچ جاتے تو ان لوگوں کا بچنا مشکل تھا۔ انہیں سخت ترین سزائیں مل سکتی تھیں مگر غالباً لوٹ مار کے بہانے وہ خطوط ضائع کر دیے گئے؛ کیوں کہ تاریخ میں کوئی ایسی روایت نہیں کہ جنگ کے بعد وہ خطوط کہیں سامنے آئے ہوں اور ان کی بنا پر کوئی گرفتاریاں ہوئی ہوں۔ اس طرح حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بلا کر دھوکا دینے والوں کے خلاف کوئی ثبوت نہ رہا۔ فتنہ پرور لوگ صاف بچ گئے اور ایک اعلیٰ مقصد کے لیے آنے والے حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ کا خاندان سمیت شہید ہو گئے۔

اِنا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ

عمر بن سعد:

        عمر بن سعد کا نام بھی حادثۂ کربلا کے ذمہ داروں سے خارج نہیں کیا جاسکتا؛ کیوں کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ پر حملہ آور فوج کی کمان اس کے ہاتھ میں تھی۔ اگرچہ شروع میں وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے خلاف کسی کارروائی میں شریک نہیں ہونا چاہتا تھا مگر عبیداللہ بن زیاد کی دھمکیوں اور 'رے' کی گورنری کے لالچ نے اسے اس مہم پر آمادہ کر دیا۔ ممکن ہے کہ اسے توقع ہو کہ وہ کشت و خون کے بغیر معاملہ سلجھا لے گا۔ ابو مخنف کی روایت سے پتا چلتا ہے کہ عمر بن سعد نے آخر تک مسئلہ لڑائی کے بغیر سلجھانے کی کوشش کی۔ اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی پیش کش کو قبول کر کے ابنِ زیاد کو لکھ دیا تھا: "اللہ نے آگ کا شعلہ بجھا دیا، اختلاف دور کر دیا اور امت کے معاملے کو سلجھا دیا۔" عبیداللہ بن زیاد نے آمادہ ہو کر یہ کہہ دیا تھا کہ میں نے قبول کیا۔ لیکن شِمر نے اس کی رائے تبدیل کر کے پھر جنگ کا ماحول  پیدا کر دیا۔

        ابو مخنف کا بیان ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل پر عمر بن سعد کو اتنا دکھ ہوا کہ روتے روتے اس کی ڈاڑھی تر ہو گئی۔ بہرحال عمر بن سعد چاہے دل سے نہ سہی، مگر اس کارروائی میں شریک تو تھا بلکہ حملہ آور فوج کی کمان اسی کے ہاتھ میں تھی لہٰذا اسے ہرگز بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عبیداللہ بن زیاد:

        عبیداللہ بن زیاد کے بارے میں صحیح روایت شاہد ہیں کہ اس نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو ایک باغی مجرم کی حیثیت دی اور کسی رعایت کا مظاہرہ کیے بغیر ان کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا کٹا ہوا سر دیکھ کر بھی اس کا دل نہ پسیجا بلکہ اس کے تأثرات ایسے تھے جیسے کوئی روز کا معمول انجام دیا گیا ہو۔ اس سانحے کا اصل ذمہ دار وہی تھا۔

        یہاں یہ سوال ضرور ابھرتا ہے کہ اگر حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم یزید نے نہیں دیا تھا تو عبیداللہ بن زیاد یا عمر بن سعد کو اتنی جُرأت کیسے ہوگئی کہ وہ اتنی بڑی شخصیت کو یزید سے پوچھے بغیر قتل کر دیں۔ خصوصاً عبیداللہ بن زیاد کو تو ضرور اندازہ ہونا چاہیے تھا کہ اس اقدام سے حکومت خوش ہو گی یا ناراض۔ کیا وہ یزید کی ناراضی کا خطرہ مول لے سکتا تھا؟

        غور کریں تو صاف پتا چلتا ہے کہ اسے یزید سے کسی ناراضی کا خدشہ نہیں تھا؛ کیوں کہ یزید نے نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی جگہ اسے کوفے کی حکومت اسی لیے دی تھی کہ یزید کے خیال میں نعمان رضی اللہ عنہ کی نرم خوئی سے اہل عراق بے قابو ہو رہے تھے۔ پس عبیداللہ بن زیاد اپنی تقرری کا مقصد اس کے سوا اور کیا سمجھتا کہ یزید کو کوفے کے لیے ٹھیک ٹھاک سخت آدمی چاہیے۔ چنانچہ ابنِ زیاد نے ویسی ہی سختی دکھائی جیسی اس کے خیال میں یزید کو مطلوب تھی، تاکہ اس کا عہدہ برقرار رہے بلکہ ترقی ہو۔

         دوسرے الفاظ میں یزید کی طرف سے دیے گئے اعتماد اور اختیار نے ہی ابنِ زیاد کو حوصلہ بخشا کہ وہ اتنا گھناؤنا کام کرے کہ جس کی کوئی تلافی ممکن نہ تھی۔ ابنِ زیاد کے گمان کے عین مطابق دارالخلافہ سے اس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی ہوئی نہ بازپرس۔ البتہ یزید نے ابنِ زیاد کے ظالمانہ اقدام پر خوشی ظاہر نہیں کی بلکہ کہا: "ابنِ زیاد نے حسین رضی اللہ عنہ کے معاملے میں جلد بازی کی، ان کو قتل کر دیا۔ اللہ اسے ہلاک کرے۔"

سانحۂ کربلا اور یزید کا کردار:

        مشہور یہی ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو یزید نے قتل کرایا تھا یعنی عبیداللہ بن زیاد کو اس کا حکم یزید ہی نے دیا تھا مگر کسی روایت میں یہ صراحت نہیں ہے کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دیا ہو۔ ثابت شدہ بات اتنی ہے کہ عبیداللہ بن زیاد نے اپنے اختیار پر یہ ستم ڈھایا تھا۔ امام ابنِ تیمیہ لکھتے ہیں:

        "اہلِ نقل کا اتفاق ہے کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم نہیں دیا تھا۔"

        ابنِ صلاح فرماتے ہیں: "ہمارے نزدیک یہ بات صحیح نہیں کہ یزید نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے قتل کا حکم دیا تھا۔ ثابت شدہ بات یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے اس جنگ کا حکم جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا سبب بنی، عبیداللہ بن زیاد حاکمِ عراق نے دیا تھا۔"

        مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ یزید کو سانحۂ کربلا سے بری الذمہ اور لا تعلق سمجھ لیا جائے۔ اگر مقتولینِ کربلا کا مقدمہ دنیا کی کسی عدالت میں پیش ہوتا تو یقیناً عدمِ ثبوت کی بناء پر یزید بری ہو جاتا مگر اخلاقی اور عرفی لحاظ سے عوام کی عدالت میں اس کا بری الذمہ ہونا ممکن نہ تھا۔ (اور آخرت کی عدالت کا فیصلہ اللہ کے علم میں ہے۔)

        اگر یہ مان لیا جائے کہ یزید حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو قتل کرنا نہیں چاہتا تھا تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ عقل و خرد سے بالکل بے گانہ تھا؛ کیوں کہ اس پورے قضیے میں اس کی حکمتِ عملی بالکل غلط رہی۔ اگر وہ عبیداللہ بن زیاد کو صاف الفاظ میں اتنی ہدایت کر دیتا کہ بنو ہاشم کو عزت و احترام سے دمشق بھیج دیا جائے، تو ہرگز یہ سانحہ رونما نہ ہوتا۔ عبیداللہ بن زیاد حکومت کا پکا وفادار تھا۔ وہ جان بوجھ کر یزید کے حکم سے سرتابی نہیں کر سکتا تھا۔

        ایک حکمران کو ملک میں ہونے والے ہر اچھے برے کا ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ اگرچہ قانونی لحاظ سے کسی گلی محلے میں ہونے والے قتل کے بدلے حکمران کو پھانسی دی جاتی ہے نہ کسی کی نمازوں اور نفلوں کا ثواب حکمرانوں کو ملتا ہے مگر جب لوگوں کی جان و مال اور عزت و آبرو لٹتی ہے تو وہ حکمران ہی کو مجرم ٹھہراتے ہیں اور اس الزام تراشی میں وہ بالکل برحق ہوتے ہیں۔ باضمیر اور دردمند حکمران بھی ایسے میں خود کو ضمیر کی عدالت میں مجرم تصور کرتے ہیں اور فکرِ آخرت سے کانپ جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فرات کے کنارے اونٹ بھی  پیاسا مرے گا تو اس کا وبال میرے سر ہو گا۔

        یزید اس سانحے کے وقت حکومت کے مقتدر ترین عہدے پر تھا۔ مسلمانوں نے اسے ہدفِ تنقید بنانا ہی تھا اور وہ اس میں حق بجانب تھے۔ خاص طور پر اس لیے کہ یزید نے اس سانحے پر بس اظہارِ غم ہی کیا، عبیداللہ بن زیاد اور کوفہ کے حکام کو پیٹھ پیچھے برا بھلا کہنے کے سوا کچھ نہ کیا۔ بالفرض مان لیا جائے کہ عبیداللہ بن زیاد جیسے اعلیٰ افسر پر فوراً جرم اس لیے عائد نہیں ہوسکتی تھی کہ وہ اپنے طور پر ایک سرکاری آپریشن میں مصروف تھا اور ایک بغاوت کو کچل رہا تھا، اور اس بات سے قطع نظر کر لیا جائے کہ معاملہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے سے تھا، تب بھی یہ سوال باقی رہے گا باغیوں کے ساتھ سلوک کے جو شرعی اصول و ضوابط ہیں، سرکاری افسران اور فوج نے کیا اس کا کوئی لحاظ کیا؟ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سمجھوتے پر آمادہ تھے اور ان کا موقف سن کر خود اموی افسر حر بن یزید پکار کر کہہ رہا تھا کہ اگر ایسی پیش کش کفار بھی کریں تو انہیں امان دینا واجب ہے مگر اس کے باوجود انہیں ایسے بدترین سلوک کا نشانہ بنایا گیا جو کفار سے بھی روانہیں۔

        پس میدانِ کربلا میں جو کچھ ہوا وہ یقیناً کھلا ظلم و ستم تھا جس کی شریعت میں کوئی گنجائش نہ تھی۔ ایسے ظلم کے مرتکب کو سرزنش کے طور پر کم از کم معطل تو کیا جاسکتا تھا تاکہ مظلوموں کے ورثاء اور صدمے سے بے حال عوام کو کچھ تسلی ہو جاتی مگر افسوس کہ یزید سے اتنا بھی نہ ہوا۔

        پس اس تساہل کی وجہ سے لوگوں میں یزید کے خلاف جتنی بھی نفرت پھیلتی کم تھی؛ کیوں کہ اس کا مطلب عام لوگ یہی لے سکتے تھے کہ وہ قتلِ حسین پر راضی ہے۔ اسی وجہ سے عالمِ اسلام میں بنو امیہ کے خلاف نفرت پھیلی اور لوگ بار بار ان کے خلاف کھڑے ہوئے۔ خود یزید کو اس غلطی کا نتیجہ ایسی بدنامی کی صورت میں بھگتنا پڑا جس سے نجات ممکن نہ تھی۔

مسئلے کا حل کیا تھا؟

        اب تک کے مطالعے سے یہ ثابت ہے کہ دو طرفہ سیاسی اختلاف موجود تھا، حکومت کو جو غلط فہمیاں تھیں ان کا ازالہ آمنے سامنے بات چیت ہی سے ہو سکتا تھا۔ حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی جب کربلا کے میدان میں دیکھا کہ مسئلہ حل ہونے کی بجائے بالکل بند گلی میں پہنچ گیا ہے تو یزید کے پاس چلے جانے کی خواہش ظاہر کی۔ یزید نے بھی سانحہ رونما ہو جانے کے بعد بار بار اس حسرت کا اظہار کیا کہ کاش! وہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلا لیتا اور ان کے مطالبات مان لیتا۔ اگر یزید واقعی حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا موقف سننے کے لیے انہیں عزت و احترام سے اپنے ہاں بلا لیتا یا ان سے روبرو بات چیت کے لیے خود حجاز کا سفر کر لیتا اور وسعتِ قلبی سے کام لیتا تو شاید مسئلہ حل ہو جاتا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل بھی رہا تھا کہ براہِ راست بات چیت کر لیتے تھے۔ مذاکرات کے لیے کبھی خود تشریف لے جاتے، کبھی دوسروں کو مدعو کر لیتے مگر یزید کو اس کی بھی توفیق نہ ہوئی۔ بعد میں پشیمان ہو کر وہ کہا کرتا تھا:

        "میرا کیا بگڑ جاتا اگر میں کچھ تکلیف گوارا کر لیتا اور حسین رضی اللہ عنہ کو اپنے گھر میں ٹھہرالیتا اور جو وہ چاہتے، ان کو اس کا اختیار دے دیتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق اور رشتداری کے احترام کا بھی تقاضا تھا۔ چاہے اس سے میری حکومت کی قوت اور شوکت کم ہو جاتی۔ اللہ ابنِ مرجانہ پر لعنت کرے کہ اس نے حسین رضی اللہ عنہ کو دھتکارا اور (لڑنے پر) مجبور کیا حالاں کہ حسین رضی اللہ عنہ نے یہ پیش کش کر چکے تھے کہ وہ ان کا راستہ چھوڑ دے تا کہ وہ لوٹ جائیں مگر اس نے ایسا نہ کیا یا یہ کہ حسین رضی اللہ عنہ اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں دے دیں یا کسی اسلامی سرحد پر چلے جائیں وہیں مرتے دم تک (جہاد میں مشغول) رہیں مگر ابنِ زیاد نے ایسا بھی نہ کیا۔ اس نے انکار کر دیا، ان کی بات مسترد کر کے انہیں قتل کر ڈالا۔ اس نے انہیں قتل کر کے مسلمانوں کے نزدیک مجھے قابلِ نفرت بنا دیا۔ مسلمانوں کے دلوں میں میری دشمنی کا بیج بو دیا۔ نیک ہوں یا بدکار سب مجھ سے بغض رکھنے لگے۔ کیوں کہ حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت لوگوں کے نزدیک بہت بڑا سانحہ ہے۔ مجھے ابنِ زیاد سے کیا سروکار، اللہ اس پر لعنت کرے، اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔"

        بہر حال یزید کی یہ پشیمانی بے سود رہی۔ اسے توفیق نہ ہوئی کہ ابنِ زیاد، عمر بن سعد اور شمر وغیرہ کے خلاف کچھ کرتا۔ اس کا یہ ارادہ دل ہی میں رہا اور اس کا عملی طور پر کوئی اظہار نہیں ہوا۔ اس لیے یزید کی حسرت و ندامت اس کے دامن کے داغ نہ دھو سکی بلکہ اس کے بعد اس نے پے در پے سنگین جرائم کا ارتکاب کیا۔ مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ پر فوج کشی کرائی، ان خونی مہمات میں اس کی فوج نے جو کچھ کیا، وہ اس کی بدنامی میں مزید اضافے کا سبب بنا۔

Post a Comment

0 Comments
* Please Don't Spam Here. All the Comments are Reviewed by Admin.

Search your Topic